The Old Testament of the Holy Bible

Genesis 1

1 ابتداء میں خدا نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا ۔ 2 زمین پوری طرح خالی اور ویران تھی ؛اور زمین پر کوئی چیز نہ تھی ۔ سمندر کے اُوپر اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔خدا کی روح پانی کے اوپر متحرک تھی ۔ 3 تب خدا نے کہا کہ " روشنی ہوجا" تو روشنی ہوگئی ۔ 4 خدا نے روشنی کو دیکھا خدا کو روشنی بڑی بھلی معلوم ہوئی ۔ تب خدا نے اندھیرے کو روشنی سے علیحٰدہ کردیا۔ 5 خدا نے روشنی کو "دِن"اور اندھیرے کو "رات کا نا م دِیا۔ شام ہوئی اور پھر صبح ہوئی ۔ یہ پہلا دن تھا۔ 6 تب خدا نے کہا ،" پانی کو دو حصّوں میں تقسیم کرنے کے لئے ذخیرہٴ آب کے درمیان ہوا پیدا ہونی چاہئے ۔" 7 اِس طرح خدا نے فضاء کو پیدا کرکے پانی کو علیحٰدہ کردیا ۔ پانی کا کچھ حصّہ ہوا کے اوپر تھا اور کچھ حصّہ ہوا کے نیچے تھا ۔ 8 خدا نے اُس ہوا کو "آسمان " کانام دیا ۔ اِس طرح شام اور صبح ہوئی اور یہ دُوسرا دِن تھا ۔ 9 تب خدا نے کہا ، " آسمان کے نیچے پایا جانے والا پانی ایک جگہ جمع ہوکر خشک زمین نظر آئے ۔ " تو ایسا ہی ہوا ۔ 10 خدا نے سوکھی زمین کو "خشکی "اور ایک جگہ جمع ہوئے ذخیرہٴ آب کو "سمندر " کانام دیا ۔ اور خدا نے دیکھا یہ سب اچھا ہے ۔ 11 پھر خدا نے کہا ،" زمین گھاس اور دانوں کو پیدا کرنے والے پودے اور میوے کے درخت اُگائے اور میوے کے درخت بیج والا پھل پیدا کرے ۔ اور ہر ایک درخت اپنی ہی نسل کا بیج پیدا کرے ۔ " اور ایسا ہی ہوا ۔ 12 زمین نے گھاس اور اناج پیدا کرنے والے پودوں کو اُ گایا اور بیج والے پھل کے درختوں کو اگایا اور ہر ایک درخت نے اپنی ہی نسل کا بیج پیدا کیا ۔ خدا نے دیکھا کہ یہ سب اچھا ہے ۔ 13 اسی طرح شام سے صبح ہوکر تیسرا دن بنا ۔ 14 تب خدا نے کہا ، " آسمان میں روشنی پیدا ہو ۔ اور یہ روشنی دن سے رات کو الگ کرے ۔ اور یہ روشنی خاص قسم کی نشانی قرار پائے ۔ اور یہ خاص اوقات ، دنوں اور سالوں کو ظاہر کرے ۔ 15 اور کہا کہ یہ روشنی (نور) آسمان ہی میں رہکر زمین پر اپنے اُجالے کو پھیلائے ۔"اور ایسا ہی ہوا ۔ 16 اِس لئے خدا نے دو بڑی روشنی پیدا کی ۔ دِن پر حکمرانی کرنے کے لئے خدا نے بڑی روشنی کو پیدا کیا۔ ٹھیک اسی طرح رات پر حکمرانی کرنے کے لئے اس سے قدرے چھوٹی روشنی پیدا کی۔اِس کے علاوہ خدا نے ستاروں کو بھی پیدا کیا ۔ 17 زمین کو روشن کرنے کے لئے خدا نے اِن روشنیوں کو آسمان میں قائم کیا ۔ 18 رات اور دن پر حکو مت کرنے کے لئے اس نے ان روشنیوں کو آسمان میں قائم کیا ۔ یہ روشنی کو اندھیرے سے الگ کیا ۔ خدا نے دیکھا یہ اچھا ہے ۔ 19 اِس طرح شام سے صبح ہوکر چوتھا دِن بنا۔ 20 پھر خدا نے کہا ، "پانی میں آبی جانور بھر جائے، زمین پر فضاء میں پرندے اُڑتے پھریں ۔" 21 پھر اسی طرح خدا نے سمندر میں بڑی جسامت و حجم رکھنے والے جانوروں کو پیدا کیا ۔ سمندر میں تیرنے وا لے ہر قسم کے جانداروں کو اور بازووپرَ رکھنے وا لے ہر قسم کے پرندوں کو خدا نے پیدا کیا ۔ اور خدا کو یہ ساری (مخلوق) بھلی لگی ۔ 22 خدا نے انہیں برکت دی اور کہا ، " پھُولو پھَلو اور اپنی نسلوں کو بڑھا ؤ اور سمندروں کو بھر دو ۔ اور زمین پر بہت سے پرندے ہو جا ئیں۔" 23 اس طرح شام سے صبح ہو کر پانچواں دن بنا ۔ 24 تب خدا نے کہا ، " زمین مختلف قسم کے جانداروں کو اُن کی ذات کی مناسبت سے پیدا کرے ۔ ہر قسم کی بڑی جسامت وا لے جانور اور رینگنے والے چھو ٹے جا نور پیدا ہو کر ان میں اِضافہ ہو ۔" اور ایسا ہی ہوا ۔ 25 اِسی طرح خدا نے ہر قسم کے جانور پیدا کئے۔ خدا نے وحشی جانوروں اور پالتو جانوروں اور رینگنے وا لے جانوروں کو پیدا فرما یا ۔ اور خدا نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے ۔ 26 تب خدا نے کہا ، " اب ہم انسان کو ٹھیک اپنی مُشابہت پر پیدا کریں گے ۔ اور انسان ہم جیسا ہی رہے اور انسان سمندر میں پا ئی جانے وا لی تمام مچھلیوں پر ، اور فضاء میں اُ ڑنے وا لے تمام جانوروں پر، بڑے جانوروں پر اور چھو ٹے جانوروں پر اپنی مرضی چلا ئے۔" 27 اِس لئے خدا نے انسان کو اپنی ہی صورت پر پیدا کیا ۔ اور خدا نے اپنی ہی مُشابہت پر انسان کو پیدا کیا ۔ اور خدا نے ان کو مرد اور عورت کی شکل و صورت بخشی ۔ 28 خدا نے ان کو خیر و برکت دی ۔ اور خدا نے ان سے کہا ، "تم اپنی افزائشِ نسل کرو اور زمین میں پھیل جا ؤ اور اُس کو اپنی تحویل میں لے لو ۔ اور کہا کہ سمندر میں پا ئی جانے وا لی مچھلیوں پر اور فضا ء میں اُ ڑنے وا لے پرندوں پر اور زمین پر چلنے پھِر نے وا لے ہر ایک جاندار پر اپنا حکم چلا ؤ ۔" 29 اِس کے علا وہ خدا نے ان سے کہا ، "اناج اُگا نے وا لے تمام پو دے اور بیج سے پیدا ہو نے وا لے تمام میوؤں کے درخت تم کو بطور غذا دیا ہو ں۔ 30 اور ہری بھری گھا س کے انبار جانوروں کو بطور غذا دیا ہوں۔ اور کہا کہ زمین پر بسنے وا لے ہر ایک چو پا ئے اور آسمان کی بلندیوں میں اُڑ نے و ا لے ہر ایک پرندے اور زمین پر متحرک ہر ایک اس کو بطور غذا کھا ئے گا ۔" اور ایسا ہی ہوا ۔ 31 خدا نے ان تمام چیزوں کو جن کو اس نے پیدا فرما یا تھا دیکھا تو وہ سب اُ س کو بہت ہی بھلی لگیں۔ اِس طرح شام سے صبح ہو کر چھٹا دِن ہوا ۔

Genesis 2

1 اِس طرح زمین و آسمان اور ا ن کی ہر چیز تکمیل پا ئی ۔ 2 خدا نے اپنی تخلیق کے کام کو پو را کر دیا ۔ اس لئے اس نے ساتویں دن آرام کیا ۔ 3 خدا نے ساتویں دن کو برکت دی اور اُس کو مقدس دن قرار دیا ۔ اس نے اپنی تخلیق کے کام کو پوُرا کر کے اسی دن آرام کیا اس لئے خدا نے اس دن کو ایک خاص دن بنا یا ۔ 4 یہ زمین و آسمان کی تا ریخ ہے ۔ خداوندخدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اُس وقت جو حالات پیش آئے وہی اس کی تا ریخ ہے ۔ 5 یہ اُس وقت کی بات ہے جب زمین پر کو ئی درخت یا پو دا نہیں اُگتا تھا ۔ یہ اس لئے تھا کیو نکہ خداوند خدا نے زمین پر پانی نہیں برسایا تھا ۔ اور کھیتی باڑی کرنے کے لئے زمین پر کو ئی انسان بھی نہ تھا ۔ 6 زمین سے پانی کا چشمہ اُبل پڑا اور ساری زمین کو سیراب کیا ۔ 7 ایسی صورت میں خداوند خدا نے زمین سے مٹی لی اور انسان کو بنا یا اور ناک میں زندگی کی سانس پھونک دی تب انسان ایک ہی ذی روح بن گیا ۔ 8 خداوند نے مشرقی سمت میں ایک باغ لگا یا جو کہ عدن میں ہے ۔ اور خود کے بنا ئے ہو ئے اِنسان کو اس باغ میں رکّھا ۔ 9 خداوند خدا نے اس باغ میں ہر قسم کے خوشنُما درخت او ر بطور غذا ہر قسم کے ثمر آور درخت بھی لگا یا ۔ اس کے علا وہ باغ کے بیچوں بیچ زندگی دینے وا لا درخت بھی اُگا یا ۔ اور اچھے اور بُرے ( نیکی وبدی ) کا شعور پیدا کر نے وا لا درخت بھی لگوا یا ۔ 10 عدن سے ایک ندی بہتی اور باغ کے درختوں کو سیراب کر تی ۔ پھر وہی ندی شا خوں میں منقسم ہو کر چاربڑے ندیو ں کا منبع بن گئیں۔ 11 پہلی ندی کا نام فیسون ہوا ۔ اور سارے حویلہ ملک میں یہی ندی بہتی ہے ۔ اس ملک میں سونا تھا ۔ 12 حویلہ کا سو نا کا فی اچھا ہے۔ اِس کے علا وہ وہاں پر موتی ، سنگِ سلیمانی بھی تھا ۔ 13 دوسری ندی کا نام جیحو ن تھا ۔ ملک ایتھو پیا کے ہر حصّہ میں بہنے وا لی یہی ندی ہے ۔ 14 اور تیسری ندی کا نام دجلہ تھا ۔ جنوبی اسُور کے ملک میں بہنے وا لی یہی ندی ہے ۔ اور چوتھی ندی کا نام فرات تھا ۔ 15 خداوند خدا نے اس آدم کو عدن با غ میں کھیتی باڑی کر نے کے لئے اور اس کی دیکھ بھا ل کے لئے لے گیا اور اس کو عدن باغ ہی میں ٹھہرا یا ۔ 16 خداوند خدا نے آدم سے کہا ،" تو باغ کے کسی بھی درخت کا میوہ کھا سکتا ہے ۔ 17 لیکن نیکی اور بدی کی جانکا ری دینے وا لے درخت کے پھل کو تو ہر گز نہ کھا نا ۔ اور وہ یہ بھی حکم دیا کہ اگر تو کسی بھی وجہ سے درخت کا پھل کھا ئے گا تو تُو مر جا ئے گا ۔" 18 تب خداوند خدا نے کہا ، " آدم کا اکیلا رہنا اچھا نہ ہو گا اور اس لئے میں اسی کی مانند اس کا ایک مددگار بنا ؤں گا ۔" 19 خداوند خد انے زمین کی مٹی سے سطح زمین پر بسنے وا لے ہر جانور اور آسمان میں اُڑنے وا لے ہر پرندے کو بنا یا ۔ اور خداوند خدانے ان تمام کو آدم کے پا س لا یا یہ دیکھنے کے لئے کہ آدم ان کا کیا نام دیگا ۔ آدم نے اِن میں سے ہر ایک کا نام دیا ۔ 20 سطح زمین پر رہنے وا لے تمام جانوروں اور آسمان کی بُلندی میں اُڑنے وا لے تمام پرندوں اور جنگل میں رہنے وا لے تمام جنگلی جانوروں کا نام آدم نے رکھا ۔ آدم نے بے شُما ر جانوروں اور پرندوں کو دیکھا ۔ لیکن ان تمام میں سے اس نے کسی کو بھی اپنے لئے لا ئق مددگار نہ پا یا ۔ 21 اِس وجہ سے خداوند خدا نے آدم کو گہری نیند میں سُلا دیا اور اس کے جسم کی ایک پسلی کو نکال لیا اور پسلی کے اس خالی جگہ کو گوشت سے پُر کر دیا ۔ 22 اس نے آدم کی اس پسلی سے عورت کو پیدا کیا اور اس کو آدم کے پاس بلا یا ۔ 23 تب انہوں نے اس عورت کو دیکھ کر کہا ، " اب ٹھیک ہے ، یہ تو بس میری ہی مانند ہے ۔ اور اس کی ہڈیاں تو میری ہی ہڈیوں سے بنی ہیں۔ اور اس کا جسم میرے ہی جسم سے آیا ہے ۔ اوراس کو میں عورت کا نام دیتا ہوں۔ او ر کہا کہ یہ مرد سے پیدا ہو ئی ہے ۔" 24 اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کا ہو جا تا ہے ۔ اور وہ دو نوں ایک ہی جسم بن جا تے ہیں۔ 25 وہ دو نوں بر ہنہ تھے لیکن وہ شرمندہ نہیں ہو ئے ۔

Genesis 3

1 خداوند خدانے جن تمام حیوانا ت کو پیدا کیا اور ان میں سے سانپ ہی چا لاک اور عیار رینگنے وا لا ہے ۔ سانپ نے اس عورت سے پو چھا ، " کیا یہ صحیح ہے کہ خدا نے تجھے باغ کے کسی بھی درخت کا میوہ کھا نے سے منع کیا ہے ؟" 2 عورت نے کہا ، نہیں " ہم لوگ باغ کے کسی بھی درخت سے پھل کھا سکتے ہیں۔ 3 لیکن ایک ایسا درخت ہے جس کا پھل ہم لوگوں کو نہیں کھانا چا ہئے ۔ خدا نے ہم سے کہا ہے ، " باغ کے بیچ وا لے درخت کا پھل تمہیں نہیں کھا نا چا ہئے ! تمہیں ا س د رخت کو چھو نا بھی نہیں چا ہئے ورنہ تم مر جا ؤ گے ۔ 4 اِس بات پر سانپ نے عورت سے کہا ، " تم نہیں مرو گی ۔ 5 خدا جانتا ہے کہ اگر تم اُس درخت کا پھل کھا ؤ گی تو تم میں خدا کی طرح اچھے اور بُرے کی تمیز کا شعور پیدا ہو جا ئے گا ۔" 6 عورت کو وہ درخت بڑا ہی خوشنُما معلوم ہوا ۔ اور اس نے دیکھا کہ اس درخت کا پھل کھا نے کے لئے بہت ہی مو زوں و مُناسب ہے ۔اس نے سوچا کہ اگر وہ اس درخت کا پھل کھا تی ہے تو وہ عقلمند ہو جا ئیگی ۔ اس لئے اس نے اس درخت کے پھل کو تو ڑ کر کھا یا ۔ اور اس کا تھو ڑا حصّہ اپنے شوہر کو بھی دیا اور اس نے بھی اسے کھا یا ۔ 7 ان کی آنکھیں کھل گئیں ان لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ برہنہ تھے ۔ انہوں نے کچھ انجیر کے پتے لئے اسے ایک دوسرے سے جو ڑ کر اپنے اپنے جسموں کو ڈھک لئے ۔ 8 اس دن شام کو ٹھنڈی ہوا ئیں چل رہی تھیں، خداوند خدا باغ میں چہل قدمی کر رہا تھا ۔ جب آدم ا ور اس کی عورت نے اس کی چہل قدمی کی آوا ز سُنی تو باغ کے درختوں کی آڑ میں چھپ گئے ۔ 9 خداوند خدا نے پکا ر کر آدم سے پو چھا ، " تو کہا ں ہے ؟" 10 اس بات پر آدم نے جواب دیا ، " باغ میں تیری چہل قدمی کی آواز تو میں نے سُنی ۔ لیکن چونکہ میں برہنہ تھا اس لئے ما رے خوف کے چھُپ گیا ۔" 11 خداوند خدا نے آدم سے کہا ، " تجھ سے یہ کس نے کہا کہ تو ننگا ہے ؟ اور کیا تو نے اس ممنوعہ درخت کا پھل کھا یا جس درخت کا پھل کھا نے سے میں نے منع کیا تھا ؟۔" 12 اس پر آدم نے جواب دیا ، " تو نے میرے لئے جس عورت کو بنا یا اسی عورت نے اس درخت کا پھل مجھے دیا اس وجہ سے میں نے اس پھل کو کھا یا ۔ 13 تب خداوند خدا نے عورت سے پو چھا ، " تو نے کیا کیا ؟" اس عورت نے جواب دیا ، " سانپ نے مجھ سے مکرو فریب کیا اور میں نے وہ پھل کھا لیا ۔ 14 اس وقت خداوند خدا نے سانپ سے کہا ، " تو نے یہ بہت ہی بُرا کام کیا ہے ۔ اس لئے تیرے وا سطے بڑی خرابی ہو گی ۔ دیگر حیوانا ت کے مقابلے تیری حالت گھٹیا اور کمتر ہو گی ۔ تجھے اپنے ہی پیٹ کے بل رینگتے ہو ئے زندگی بھر مٹی ہی کھا نی ہو گی ۔ 15 میں تجھے اور اس عورت کو ایک دوسرے کا دُشمن بنا ؤں گا ۔ تیرے بچے اور اس کے بچے آپس میں دُشمن بنیں گے ۔ اس کا بیٹا تیرے سر کو کچلے گا ، اور تو اس کے پیر میں کا ٹے گا ۔" 16 تب خداوند خدا نے عورت سے کہا ، " جب تو حاملہ ہو گی تو بہت تکلیف اٹھا ئے گی ۔ اور تجھے وضع حمل کے وقت دردِزہ ہو گا ۔ اور تو مرد سے بہت محبت کرے گی ۔ لیکن وہ تجھ پر حکمرانی کرے گا ۔" 17 تب خداوند خدا نے آدم سے کہا ، " میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اُس ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھا نا ۔ لیکن تو نے اپنی بیوی کی بات سُن کر اس درخت کے پھل کو کھا یا ۔ تیری وجہ سے میں زمین پر لعنت کرتا ہو ں۔ زمین سے اناج اُگا نے کے لئے تجھے زندگی بھر محنت و مشقت سے کام کرنا ہو گا ۔ 18 اور زمین تیرے لئے کانٹے اور گھاس پھوس اُگا ئے گی ۔ اور کھیت میں اُگنے وا لی اسی گھا س پھوس کو تو کھا ئے گا ۔ 19 اور تو غذا کے لئے اس وقت تک تکلیف اٹھا کر محنت کرے گا جب تک تیرے چہرے سے پسینہ نہ بہے ۔ اور تو مرتے دم تک تکلیف اٹھا کر کام کرتا رہے گا ۔ اس کے بعد تو مٹی بن جا ئے گا ۔ اس لئے کہ میں نے تیری تخلیق میں مٹی ہی کا استعمال کیا ہے ۔ اور کہا کہ جب تو مرے گا تو مٹی ہی بنے گا ۔" 20 آدم نے اپنی بیوی کا نام حوّا رکھا ۔ آدم کا اس کا نام حوّا رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں پیدا ہو نے وا لے ہر ایک کے لئے وہی ماں ہے ۔ 21 خداوند خدا نے حیوان کے چمڑے سے پو شاک بنا کر آدم کو اور اس کی بیوی کو پہنا یا ۔ 22 خداوند خدا نے کہا ، " وہ ہم جیسا ہو گیا ہے وہ اچھا ئی اور بُرا ئی کے بارے میں جانتا ہے ۔ اب ہو سکتا ہے کہ وہ اس درخت حیات کا پھل کھا لے ۔ اگر وہ اس درخت کا پھل کھا لیتا ہے تو ہمیشہ جیتا رہے گا ۔" 23 اس لئے خداوند خدا نے آدم کو عدن کے باغ سے نکال دیا اور اسے اس زمین پر جس سے کہ اسے بنا یا گیا تھا کھیتی باڑی کر نے کے لئے مجبور کیا گیا ۔ 24 خداوندخدا نے آدم کو عدن کا باغ چھو ڑ نے کے لئے مجبور کیا اور اس نے ایک خاص فرشتے کو باغ کے مشرقی حصّہ میں مقرر کیا اس کے علا وہ اس نے آ گ کی تلوار کو وہاں رکھا ۔ یہ تلوار درخت ِ حیات کی طرف وا لے راستہ کی حفا ظت کر نے کے لئے ہر طرف آگے پیچھے شعلہ زن ہو ئی ۔

Genesis 4

1 آدم اور حوّا کا ملا پ ہوا ۔ جس سے حوّا کو ایک بچہ پیدا ہوا ۔ حوّا نے کہا ، " میں نے خداوند کی عنایت اور نظر کرم سے ایک نرینہ اولا د پا ئی ہے اور اس نے اس کا نام قابیل رکھا ۔" 2 اس کے بعد حوّا کو دوسرا ایک اور بچہ پیدا ہوا ۔ یہی بچّہ قابیل کا چھو ٹا بھا ئی ہا بیل تھا ۔ ہا بیل چروا ہا بنا ۔ اور قابیل کِسان بنا ۔ 3 فصل کی کٹا ئی کے وقت قابیل نے خداوند کے لئے نذرانہ لا یا ۔ قابیل اپنے کھیت میں اُگا ئے ہو ئے اناج کی چند چیزیں لا یا ۔ 4 اور ہا بیل اپنی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سے پہلو ٹھی اور فربہ بھیڑوں اور اُن میں سے اچھے حصّوں کو لا یا ۔ خداوند نے ہا بیل کے نذرانہ کو قبول کیا ۔ 5 مگر خداوند نے قابیل کے نذرانہ کو قبول نہ کیا ۔ اس بات پر قابیل ا َ فسردہ خاطر ہوا اور غیض و غضب سے بھر گیا ۔ 6 خداوند نے قابیل سے پو چھا " تو کیوں غضبناک ہے ؟ اور تیرا چہرہ ما یوس کیوں نظر آرہا ہے ؟ 7 اگر تو خیر وبھلا ئی کے کام کرے گا تو میری نظر کے سامنے ہمیشہ رہے گا ۔ تب تو میں تجھے قبول کر لوں گا ۔ اور اگر تو نے بُرے کام و بد افعال کئے تو وہ گناہ تیرے ہی سر ہو گا ۔ اور تیرا گناہ یہ چاہتا ہے کہ تجھے اپنی گرفت میں رکھے اور کہا کہ تو اس گناہ کو اپنی گرفت میں رکھ ۔" 8 قابیل نے اپنے بھا ئی ہا بیل سے کہا ، " ہمیں کھیت کو جانا چا ہئے ۔" اس لئے قابیل اور ہا بیل کھیت کو چلے گئے ۔ اور وہاں پر قابیل نے اپنے بھا ئی ہا بیل پر حملہ کیا اور اس کو قتل کر دیا ۔ 9 پھر بعد میں خداوند نے قابیل سے پو چھا ، " تیرا بھا ئی ہا بیل کہا ں ہے؟ اِس پر قابیل نے کہا کہ مجھے تو معلوم نہیں اور کہا کہ کیا میرے بھا ئی کی نگرانی اور اس کی دیکھ بھا ل کی ذمہ داری میری ہے ؟" 10 اِس پر خداوند نے کہا ، " آخر تو نے کیا کیا ہے ؟ اور تو ہی اپنے بھا ئی کا قا تل ہے ! اس کا خون زمین سے پکار کر مجھ سے کہہ ر ہا ہے ۔ 11 تم نے ہی اپنے بھا ئی کا قتل کیا ہے ۔ تیرے ہا تھ سے بہا یا ہوا اس کے خون کو پینے کے لئے زمین اپنا منہ کھو لی ہے جس کی وجہ سے تو اب لعنتی ہو گیا ہے ۔ 12 گذرے ہو ئے دِنوں میں جب تو نے پو دے لگا ئے تھے تو وہ پو دے اچھی طرح پھو لے پھلے ۔ لیکن اگر اب تو پو دوں کو لگا ئے گا بھی تو زمین اچھی فصل نہ دے گی ۔ اور تیرے لئے زمین پر رہنے کے لئے کو ئی گھر تک بھی نہ ہو گا ۔ اور کہا کہ خانہ بدوش کی طرح تو ایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتا پھرتا رہے گا ۔" 13 اِس پر قابیل نے خداوند سے کہا ، "میں تو اس سزا کو برداشت کر نے کے قابل نہیں ہوں۔ 14 اگر تو مجھے اس زمین سے دور بھیج دیگا تو میں تیرا چہرہ کبھی نہیں دیکھوں گا ۔ میرا گھر بھی نہیں ہے ! اور مجھے زمین پر ایک جگہ سے دوسری جگہ زبردستی نقل مکانی کرنا ہو گا ۔ اور جو لوگ بھی مجھے پا ئیں گے مار ڈا لیں گے ۔" 15 اس پر خداوند نے قابیل سے کہا ، " میں ایسا ہو نے نہ دوں گا ! اے قابیل اگر کسی نے تجھے قتل بھی کیا تو میں اس کو اس سے سات گنا زیادہ سزا د و ں گا ۔" پھر اس کے بعد خداوند نے قابیل پر ایک علامتی شناخت رکھی تا کہ کو ئی اسے پا کر اس کا قتل نہ کرے ۔ 16 قابیل خداوند کے حضور سے کا فی دور چلا گیا اور عدن کے مشرق میں نود نام کے ملک میں رہا ۔ 17 قابیل اور اس کی بیوی کو ایک نرینہ اولا د پیدا ہو ئی ۔ اور انہوں نے اس بچے کا نام حَنو ک رکھا ۔ اور قابیل نے ایک گاؤں کو بسایا ۔ اور اس گا ؤں کو اس نے اپنے بیٹے ہی کا نام دیا ۔ 18 حنوک عیراد نام کا ایک بیٹا پا یا ۔ اور عیراد نے محو یا ایل نام کا بیٹا پا یا ۔ اور محویا سے متو سا ایل پیدا ہوا ۔ اور متو سا ایل سے لمک پیدا ہوا ۔ 19 اور لِمک نے دوعورتوں سے شادی کی ۔ پہلی بیوی کا نام عدہ تھا اور دوسری بیوی کانام ضلّہ تھا ۔ 20 عدہ کو یا بل نام کا لڑ کا پیدا ہوا ۔ خیموں میں رہتے ہو ئے اور جانوروں کو پالتے ہو ئے زندگی گذار نے وا لے لوگوں کے لئے یا بل ہی جدِّ اعلیٰ قرار پا یا ۔ 21 عدہ کو ایک اور بچہ پیدا ہوا ۔ وہی یوبل تھا ۔ اور یو بل ہی بینڈ باجا اور بانسری بجانے وا لی قوم کے لوگوں کا جدِّ اعلیٰ تھا ۔ 22 ضلّہ کو تو بل قائن نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا ۔ لو ہے اور کانسے سے سازو سامان بنا نے وا لے لوگوں کا تو بل قائن ہی جدّ اعلیٰ تھا ۔ اور نعمہ تو بل قائن کی بہن تھی ۔ 23 لِمک نے اپنی بیویوں سے یوں کہا ، " عدہ ، ضلّہ میری باتیں سنو ! اے لِمک کی بیویو! میری بات سُنو۔ ایک نے مجھے زخمی کر دیا ۔ اس وجہ سے میں نے اسے قتل کر دیا ۔ ایک نوجوان نے مجھے پیٹا اس وجہ سے میں نے اسے قتل کر دیا ۔ 24 قابیل کے قاتل کو سات گنا زیادہ سزا ہو گی ! اس وجہ سے مجھے قتل کر نے وا لوں کو ستّر گنا زیادہ سزا ہو گی ۔ " 25 آدم اور حوّا سے ایک اور لڑکا پیدا ہوا ۔ حوّا نے کہا ، "خدا نے مجھے ایک اور بیٹا دیا ہے ۔ قابیل نے ہا بیل کو قتل کیا تو اس کے عوض خدا نے مجھے ایک بیٹا دیا ہے ۔ اور اس نے اس کا نام سیت رکھا ۔" 26 سیت نے ایک بیٹے کو پا یا ۔ اس نے اس بچے کا نام انوش رکھا ۔ اس دور میں لوگ خداوند کے اوپر یقین رکھنے لگے تھے ۔

Genesis 5

1 یہ آدم کے خاندان کی تا ریخ ہے ۔ خدا نے انسان کو ٹھیک اپنی صورت پر پیدا کیا ہے ۔ 2 خدا نے اُن میں نر اور ما دہ کو پیدا کیا ہے ۔ اور اسی دن جس دن اس نے ان کو پیدا کیا ، وہ ان کو دُعا کے ساتھ برکت دی اور ان کو " آدم " کا نام دیا ۔ 3 جب آدم ایک سو تیس سال کے ہو ئے تو اسے ایک اور لڑکا پیدا ہو ا ۔ اور وہ لڑکا شکل و صورت میں بالکل آدم جیسا تھا ۔ اور آدم نے اس کا نام سیت رکھا ۔ 4 سیت پیدا ہو نے کے بعد آدم آٹھ سو سال زندہ رہے ۔ اس دوران ان سے دوسرے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہو ں ئیں۔ 5 اس طرح آدم کُل نوسو تیس برس زندہ رہ کر موت کے حوا لے ہو ئے ۔ 6 سیت جب ایک سو پانچ برس کا ہوا تو انوش نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا ۔ 7 انوش جب پیدا ہوا تو سیت آٹھ سو سات سال زندہ رہا ۔ اس مدت میں سیت کو کچھ لڑکے اور لڑکیاں پیدا ہو ئیں۔ 8 اِس طرح سیت کُل نوسو بارہ سال زندہ رہنے کے بعد مرے ۔ 9 انوش جب نوّے برس کا ہوا تو اسے قینان نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا ۔ 10 قینان پیدا ہو نے کے بعد انوش آٹھ سو پندرہ برس زندہ رہا ۔ اس مدت میں اسے دیگر لڑکے اور لڑکیاں بھی پیدا ہو ئیں۔ 11 اس طرح انوش کل نو سو پانچ برس زندہ رہنے کے بعد مرے ۔ 12 قینان جب ستّر برس کا ہوا تو اسے محلل ایل نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا ۔ 13 محلل ایل کی پیدا ئش کے بعد قینان آٹھ سو چالیس برس زندہ رہا ۔اُس مدت میں قینان کو دُوسرے لڑکے اور لڑ کیاں پیدا ہو ئیں ۔ 14 اِس طرح قینان کُلنو سو دس سال زندہ رہنے کے بعد مرگئے۔ 15 محلل ایل جب پینسٹھ برس کا ہوا تو اس کو یارد نام کا لڑ کا پیدا ہوا ۔ 16 یارد کی پیدا ئش کے بعد محلل ایل آٹھسو تیس برس زندہ رہا ۔ اور اس مدت میں اس کو چند لڑ کے اور لڑکیاں پیدا ہو ئیں ۔ 17 اس طرح محلل ایل کل آٹھ سو پچانوے برس زندہ رہنے کے بعد مر گئے ۔ 18 یارد جب ایک سو باسٹھ برس کا ہوا تو اس نے حنوک نام کے ایک بیٹے کو جنم دیا ۔ 19 حنوک پیدا ہو نے کے بعد یارد آٹھ سو برس زندہ رہا ۔اور اس مدت میں اس سے دیگر لڑکے اور لڑکیاں پیدا ہو ئیں۔ 20 اس طرح یارد نو سو باسٹھ برس جینے کے بعد مر گئے ۔ 21 حنوک جب پینسٹھ برس کا ہوا تو اسے متوسلح نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا ۔ 22 متوسلح کی پیدا ئش کے بعد حنوک خدا کی سر پرستی میں خدا کے ساتھ تین سو سال اور رہا ۔اِس دوران اسے دوسرے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہو ئے ۔ 23 اس طرح حنوک کل تین سو پینسٹھ سال زندہ رہا۔ 24 حنوک جب خدا کی سر پرستی میں رہ رہا تھا تو خدا نے اسے اپنے پاس بلا یا ۔اس دن سے وہ زمین پر اور نہیں رہا ۔ 25 متوسلح جو ایک سو ستاسی برس کا تھا تو اسے لمک نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا ۔ 26 لمک کے پیدا ہو نے کے بعد متوسلح سات سو بیاسی برس تک زندہ رہا اس مدت میں اُسے دوسرے لڑکے اور لڑکیاں پیدا ہو ئیں ۔ 27 اِس طرح متوسلح کل نو سو اُنہتّر برس زندہ رہنے کے بعد مر گئے ۔ 28 اور لمک جب ایک سو بیاسی برس کا ہوا تو اس کو ایک لڑکا پیدا ہوا ۔ 29 لمک نے کہا ، "ہم کسان بن کر سخت محنت و مشقت سے کام کر تے ہیں ۔ کیوں کہ خدا نے زمین پر لعنت فرمائی ہے ۔ لیکن وہ بیٹا ہے جو کہ ہم کو سکون و آرام پہنچائے گا ۔"یہ کہتے ہو ئے اس نے اُس لڑ کے کا نام نوح رکھا ۔ 30 نوح کی پیدائش کے بعد ،لمک بانچ سو پچانوے برس زندہ رہا ۔ اس مدت میں اس کو دوسرے لڑکے اور لڑکیاں پیدا ہوئیں ۔ 31 اس طرح لمک کل ۷۷۷ برس زندہ رہنے کے بعد مر گیا۔ 32 جب نوح کی عمر پانچ سو برس ہو ئی تو سم ،حام ،اور یافت تین لڑ کے پیدا ہو ئے ۔

Genesis 6

1 سطح زمین پر انسانی آبادی بڑھ رہی تھی۔ انسان کو لڑکیا ں پیدا ہو ئی تھیں۔ 2 خدا کے بیٹوں نے دیکھا کہ لڑکیاں خوبصورت ہیں اسلئے ان لوگوں نے لڑکیوں کو چُنا اور ان سے شادی کر لئے ۔ ان عورتوں سے بچے پیدا ہو ئے۔ اس وقت کے دوران اور اس کے بعدنفیلم اس علاقے میں آباد تھے۔ اور وہ بہت مشہور بھی تھے ۔ اور قدیم زمانے سے یہ بہادُر سمجھے جا تے تھے ۔ تب خداوند نے سمجھا ،" لوگ تو صرف انسان ہی ہیں اور میری رُوح اُن میں ہمیشہ نہ رہے گی اور وہ ایک سو بیس برس تک زندہ رہیں گے۔" 3 4 5 زمین پر بسنے وا لے ظالم لوگوں کے بُرے منصوبے کو خدا نے دیکھا ۔ 6 خداوند کو بہت افسوس ہوا کہ اس نے لوگوں کو زمین پر پیدا کیا تھا ۔ اس کی وجہ سے اس کے دِل میں بہت دُکھ ہوا ۔ 7 خداوند نے کہا ،" میں نے جن تمام انسانوں کو اس کرہٴ ارض پر پیدا کیا ہے اُن سب کو مٹا دوں گا ہر ایک انسان ، ہر ایک حیوان، اور زمین پر رینگنے وا لے ہر ایک جانور کو پھر آسمان میں اُڑنے وا لے ہر ایک پرندوں کو ملیا میٹ کر دوں گا ۔ اس لئے کہ ان سب کو پیدا کر کے مجھے افسوس ہوا ۔" 8 لیکن خداوند کے حکم کے مطا بق زندگی گذارنے وا لا ایک آدمی تھا ۔ وہی نوُح کہلا تا ہے ۔ 9 یہ نوح کے خاندان کی تا ریخ ہے : نوُح نے زندگی بھر راست گوئی، حق پرستی اور اچھّی زندگی گذاری ۔ نوُح نے ہمیشہ خدا کی مرضی کو مقدم رکھا۔ 10 نوُح کی تین نرینہ اولاد سم، حام، اور یافت تھی۔ 11 جب خدا نے زمین پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگوں نے اسے تباہ و بر باد کر دی ہے۔ زمین ظلم و زیادتی اور تشدُّد سے بھر گئی تھی۔ لوگ ظالم و جابر ہو کر اپنی زندگیوں کو بگاڑ لئے تھے۔ 12 13 اِس وجہ سے خدا نے نوُح سے کہا ،" میں تمام لوگوں کا خاتمہ کر نا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ وہ غصّہ، جبر و تشدُّد سے زمین کو بھر دئیے ہیں۔ اس لئے میں تمام جانداروں کو تباہ کر نے والا ہوں۔ 14 تو اپنے لئے سرو کی لکڑی سے کشتی بنا ۔ اور اس کشتی میں الگ الگ کمرے بنا ۔ اور کشتی کے اندرونی و بیرونی حصّوں میں رال( ایک قسم کا گوند) لگانا ۔ 15 " یہ کشتی کی جسامت ہے : اس کی لمبائی ۴۵۰ فیٹ، چوڑائی ۷۵فیٹ اور ا و نچائی ۴۵ فیٹ ہو نی چاہئے۔ 16 کھڑکی چھت سے ۱۸ انچ نیچے رہے ۔ کشتی کے پہلو میں دروازے رہے ۔ اور کشتی میں نچلی درمیانی اور اوپری تین منزل بنانا ۔ 17 " میں تجھ سے جو کچھ کہہ رہا ہوں تو اسے سمجھ لے ۔ میں زمین پر ایک زبردست طو فان لا نے والا ہوں ۔ اور آسمان کے نیچے بسنے والے تمام جانداروں کو میں تباہ کر نے والا ہوں ۔ اور زمین پر رہنے والے ہر ایک فنا ہو جائے گا ۔ 18 " میں تیرے ساتھ ایک خاص قسم کا معاہدہ کروں گا ۔ وہ یہ کہ تجھے اور تیری بیوی تیرے بیٹے اور انکی بیویوں کو کشتی میں جانا ہو گا ۔ 19 اس کے علا وہ زمین پر رہنے والے ہر ایک جاندار کا ایک نر اور ایک مادہ کشتی میں ساتھ لینا ۔ اور اپنے ساتھ انکی بھی جانوں کی حفاظت کر نا ۔ 20 زمین پر رہنے والے ہر قسم کے پرندوں کا ایک جوڑا اور ہر قسم کے جانوروں کا ایک جو ڑا اور رینگنے والے جانوروں کا ایک جو ڑا تلاش کر لینا ۔ زمین پر رہنے والے ہر قسم کے جانوروں کے نر اور مادہ تمہارے ساتھ رہیں گے ۔ کشتی میں انہیں زندہ رکھنا ۔ 21 اور کہا کہ زمین پر میسر آنے والا ہر قسم کا اناج اپنے لئے اور ان تمام حیوانات کے لئے کشتی میں فراہم کر لینا ۔ " 22 خدا کے حکم کے مطا بق نوح نے ہر کچھ ایسا ہی کیا ۔

Genesis 7

1 پھر خدا وند نے نوح سے کہا ،"اس زمانے کے لوگوں میں توُ تنہا راست باز ہے ۔ اس وجہ سے تو اپنے تمام اہل خاندان کو ساتھ لے کر کشتی میں سوار ہو جا ۔ 2 ہر قسم کے تمام پاک جانوروں میں سے سات جو ڑے یعنی سات نر و سات مادہ کو لے لے ۔اور زمین پر کے دوسرے حیوانات میں سے ایک ایک جو ڑا لے لے ۔ 3 ہر قسم کے پرندوں میں سات سات جوڑے لے لے ۔ بقایا تمام حیوانات کے تباہ ہو جانے کے بعد یہ جو ڑے اپنی اپنی نسل کی افزا ئش کریں گے ۔ 4 سات دن گزر نے کے بعد میں موسلا دھار بارش زمین پر بر سا نے والا ہوں ۔ اور یہ بارش چالیس دن اور چالیس رات مسلسل بر سے گی ۔ اور کہا کہ میں نے ان تمام جانداروں کو جنہیں میں نے اس زمین پر پیدا کیا ہے ان سب کو مٹا دوں گا ۔ " 5 خدا وند کے دیئے گئے حکم کے مطا بق نوح نے ویسا ہی کیا ۔ 6 جب طوفان آیا تو اس وقت نوح کی عمر چھ سو برس تھی ۔ 7 پانی کے طو فان سے نجات پا نے کے لئے نوح اپنی بیوی اپنے بیٹوں اور انکی بیویوں کے ساتھ چلے گئے ۔ 8 تمام پاک حیوانات اور زمین پر بسنے والے دوسرے تمام جانور اور پرندے اور زمین پر رینگنے والے تمام جاندار ، 9 دو دو کر کے ،ایک نر ایک مادہ آئے اور نوح کے ساتھ کشتی میں سوار ہو ئے جیسا کہ خدا نے اسے حکم دیا تھا ۔ 10 سات دنوں بعد پا نی کا طوفان شروع ہوا ۔ اور زمین پر بارش برسنے لگی ۔ 11 نوح کی عمر کے چھ سوویں سال کے دوسرے مہینے کے سترہویں دن زمین کے اندر سے سبھی سوتے پھوٹ پڑے جو کہ سمندر سے نیچے تھے ۔ اور زمین پر موسلا دھار بارش برسنے لگی ۔ ایسا معلوم ہو تا تھا کہ گویا آسمانی طو فان کا پھا ٹک کھل گیا ہے ۔ اور چالیس دن اور چالیس رات مسلسل بارش برستی رہی ۔ اس دن نوح اور اسکی بیوی اور اسکی نرینہ اولاد میں سم ،حام اور یافت اور انکی بیویاں سب کشتی میں سوار ہو گئے ۔ تب نوح چھ سو سال کا بوڑھا تھا ۔ 12 13 14 وہ لوگ اور زمین پر بسنے والے ہر قسم کے چوپائے بھی کشتی میں تھے ۔ ہر قسم کے جانور اور زمین پر رینگنے والے جانور اور ہر قسم کے پرندے کشتی میں سوار تھے ۔ 15 یہ سب چوپا ئے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔ سانس لینے والے ہر قسم کے جانور سے دودو جو ڑی آ گئے ۔ 16 " خدا کے حکم کے مطا بق ہر قسم کے جانوروں کے نر اور مادہ کشتی میں سوار ہو گئے ۔ تب خدا وند نے کشتی کا دروازہ بند کر دیا ۔ 17 پا نی کا یہ طو فان زمین پر چالیس دن تک رہا ۔ پا نی چڑھتا گیا اور وہ کشتی کو اوپر اٹھا لیا اور وہ پا نی پر تیرنے لگی ۔ " 18 پا نی اور اوپر چڑھنے لگا کشتی زمین سے بہت اوپر تیر نے لگی ۔ 19 پا نی کی سطح غیر معمولی بڑھنے کی وجہ سے بلند ترین پہاڑ بھی پانی سے ڈھک گئے ۔ 20 پہاڑوں کے اوپر بھی پانی بڑھنے لگا ۔ اونچے اونچے پہاڑوں سے بھی بیس فُٹ زیادہ اور اونچا ہو کر ان کو گھیر لیا ۔ 21 زمین پر بسنے والے سب جاندار مر گئے اور تمام مرد و عورتیں بھی مر گئیں ۔ تمام پرندے، چو پائے ، جاندار اور ہر قسم کے رینگنے والے جانور بھی مر گئے ۔ 22 23 اس طرح خدا نے زمین پر رہنے والے ہر ایک جاندار کو تباہ کر دیا اور ہر ایک انسان بھی بر باد ہو گیا ۔ ہر ایک چو پا یہ اور رینگنے والا اور ہر ایک پرندہ بھی تباہ ہو گیا ۔ اب جو جاندار باقی رہ گئے تھے وہ نوح اور وہ سب جو اس کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔ 24 اور ایک سو پچاس دنوں تک پا نی زمین کو گھیرے ہو ئے تھا ۔

Genesis 8

1 خدا نے نوح کو اور جو کشتی میں سوار تھے اُن سب جانداروں کو یاد کیا ۔ اور خدا نے زمین پر ہوا کو چلایا ۔ اور پا نی اتر نے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ 2 آسمان سے مسلسل برسنے والی بارش تھم گئی ۔اور زمین کے جھر نوں سے ابلنے والا پا نی بھی رک گیا ۔ 3 زمین کو گھیرے ہو ئے پا نی ایک سو پچاس دن گزرنے کے بعد دھیرے دھیرے کم ہو نے لگا ۔ ساتویں مہینے کے سترہویں دن کشتی اَراراط پہاڑی پر ٹک گئی ۔ 4 5 پا نی کی سطح اترنے کی وجہ سے دسویں مہینہ کے پہلے دن میں پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آنے لگیں۔ 6 چالیس دن گزر نے پر نوح نے کشتی میں خود کی بنائی ہو ئی کھڑ کی کو کھول کر دیکھا ۔ 7 نوح نے ایک کوّے کو باہر چھو ڑ دیا ۔ زمین کا پا نی خشک ہو نے تک وہ کوّا ایک جگہ سے دوسری جگہ پر اُڑ تا تھا ۔ 8 زمین کے خشک یا نم رہنے کے بارے میں جاننے کے لئے نوح نے ایک کبوتر کو بھی باہر اُڑا یا۔ 9 پا نی ابھی تک رہنے کی وجہ سے وہ کبوتر لوٹ کر آگیا ۔ نوح نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کو پکڑ لیا اور اُس کو کشتی میں ساتھ لے لیا۔ 10 نوح سات دنوں تک انتظار کر نے کے بعد پھر دوبارہ کبوتر کو باہر چھو ڑا ۔ 11 اُسی شام کبوتر لوٹ کر نوح کے پاس آ گیا ۔اس وقت اس کی چونچ میں زیتون کے درخت کی ایک تازہ پتی تھی ۔ اس سے نوح کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ زمین میں خشکی آگئی ہے ۔ 12 سات دنوں کے بعد نوح نے پھر کبوتر کو باہر چھو ڑے ۔ لیکن اس مرتبہ وہ واپس لوٹ کر نہ آیا ۔ 13 اس وجہ سے نوح نے کشتی کا دروازہ کھول دیئے ۔اور نوح اطراف و اکناف دیکھنے لگے کہ زمین سوکھ گئی ہے ۔ اُس دن پہلے سال کا پہلا مہینہ اور پہلا دن تھا ۔ تب نوح چھ سو ایک سال کے ہو گئے تھے ۔ 14 دُوسرے مہینے کے ستائیسویں دن زمین پو ری طرح سوکھ گئی ۔ 15 پھر اس کے بعد خدا نے نوح سے کہا ، 16 " تُو اور تیری بیوی اور تیری نرینہ اولاد اور اُن کی بیویوں کو لیکر کشتی سے باہر آؤ۔ 17 اور کہا کہ تمہارے ساتھ وہ سب کے سب جو کشتی میں سوار ہیں یعنی تمام پرندے چو پا ئے اور زمین پر رینگنے والے جانور باہر آجائیں ۔ اور ان کی نسل خوب بڑھے اور ساری زمین میں پھیلے ۔ اور روئے زمین پر وہ بھر جائیں ۔" 18 اس وجہ سے نوح اپنی بیوی اپنے بیٹوں اور اپنی بہوؤں سمیت کشتی سے باہر آئے ۔ 19 تمام حیوانات ،پرندے اور رینگنے والے جاندار سب کشتی سے باہر آگئے ۔ 20 پھر اس کے بعد نوح نے خدا وند کے لئے ایک قربان گاہ بنائی اور پاک و حلال چند جانوروں اور پرندوں کو لے لیا اور اُن کو قربان گاہ پر لے جا کر قربان کر دیا ۔ 21 ان قربانیوں کی خوشبو خدا وند کو بہت پسند آئی ۔تب خدا وند اپنے آپ سے کہا ، " زمین کو لعنت دیکر لوگوں کو اور کبھی سزا نہ دونگا ۔ لوگ بچپن ہی سے بُرے ہیں ۔ اِس وجہ سے میں زمین پر رہنے والے ہر ایک جاندار کو تباہ نہ کروں گا ۔ پھر کبھی میں ایسا نہ کروں گا ۔ 22 زمین جب تک رہے گی تخم ریزی اور فصل کاٹنے کا زمانہ ہو گا ،سردی،گر می،موسمِ گر ما اور موسمِ سر ما، رات اور دن تو ہمیشہ ہی ہو تے رہے گا ۔ "

Genesis 9

1 خدا نے نوح اور اُس کے بیٹوں پر فضل عطا کیا ۔ اور کہا کہ کثیر اولاد ہو کر زمین پر پھیل جاؤ۔ 2 زمین پر بسنے وا لے تمام حیوانات تم سے خوفزدہ ہوں گے ۔ اور آسمان کی فضاء میں اُڑ نے وا لے تمام پرندے بھی تم سے خو فزدہ رہیں گے۔ زمین پر رینگنے وا لے تمام جانور اور سمندر میں رہنے والی تمام مچھلیاں بھی تم سے ڈریں گی۔ کیوں کہ ان سب کے اوپر تم قوّت رکھّو گے۔ 3 پہلے پہل تمہا ری غذا کے لئے میں نے سبزی و نباتات کو دیا ہے ۔ اور تمہا رے لئے تمام جانور کو بطور غذا دیا ہے ۔ بلکہ روئے زمین کی ہر چیز کو میں نے تمہا ری خاطرہی بنا یا ہے ۔ 4 لیکن میں نے تمہیں جس بات کا حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم وہ گوشت مت کھا نا جس میں جان (خون) اب تک موجود ہی ہو۔ 5 اگر کو ئی تمہا را قتل کرے تو میں اُس سے قتل کا بدلہ لوں گا ۔ اور اگر کو ئی حیوان انسان کو مار ڈالے تو میں اُس حیوان کی جان نکال لوں گا ۔ 6 " اِس لئے کہ خدا نے انسان کو اپنی مُشابہت پر پیدا کیا ہے ۔ اس لئے جو کو ئی بھی کسی شخص کا خون بہا تا ہے تو دوسرا شخص اس کا خون بہا ئے گا ۔ 7 " اور کہا کہ اے نوح تیری اور تیری اولا د کا سلسلہ کثرت سے بڑھے اور پو ری زمین میں پھیل جا ئے ۔" 8 " پھر بعد میں خدا نے نوح اور اسکی اولاد سے کہا ، 9 " میں تم سے اور تمہارے بعد پیدا ہو نے والے لوگوں سے معاہدہ کر تا ہوں ۔ " 10 کشتی سے باہر آ نے والے پرندوں اور تمام حیوانات سے چو پا یوں سے بھی میں معاہدہ کر تا ہوں اور زمین پر بسنے والے ہر جاندار سے میں معاہدہ کر تا ہوں ۔ 11 میں تم سے جس بات کا معاہدہ کر نا چا ہتا ہوں وہ یہ ہے کہ زمین پر جتنے جاندار تھے وہ سب پا نی کے طو فان سے تباہ ہو گئے ۔ لیکن اس کے بعد ایسا پھر کبھی نہ ہو گا اور کہا کہ اب اس کے بعد زمین پر رہنے والے کسی جاندار کو پا نی کا طو فان کبھی تباہ نہ کرے گا ۔ " 12 اس کے علا وہ خدا نے کہا ،" میں اپنے معاہدہ کے ثبوت کے لئے تمہیں ایک نشا نی دونگا ۔ یہ نشا نی معاہدے کو ثا بت کرے گی جو کہ میرے اور تمہارے بیچ اور اس زمین پر رہنے والے ہر جاندار کے بیچ ہوا ہے ۔ اور یہ معاہدہ ہمیشہ کے لئے رہیگا ۔ 13 میں نے بادلوں میں جس قوس و قزح کو رکھا ہے وہ میرے اور زمین کے درمیان ہو ئے معا ہدہ کے لئے علا مت ہے ۔ 14 جب بادل آسمان پر چھا جائیں گے تو بادلوں میں تم قوس و قزح کو دیکھو گے ۔ 15 جب میں اس قوس و قزح کو دیکھتا ہو ں تو مجھے تم سے اور زمین کے اوپر بسنے والے تمام جانداروں سے جو معاہدہ ہوا ہے اسکو یاد کر لیتا ہوں ۔ اب اس کے بعد پا نی کا طو فان زمین پر بسنے والے تمام جانداروں کو تباہ نہ کر نے کا یہی معاہدہ ہے ۔ 16 میں بادلوں میں جب قوس و قزح کو دیکھتا ہوں تو قائم و دائم ہو ئے اس معاہدہ کو یاد کر لیتا ہوں اور کہا کہ مجھ میں اور زمین کے اوپر رہنے والے تمام جانداروں میں ہو ئے معاہدہ کو یاد کر لیتا ہوں ۔ " 17 اور خدا وند نے نوح سے کہا کہ زمین پر رہنے والے تمام جاندار اور میرے بیچ جو معاہدہ ہوا ہے ۔ اس کے لئے یہ قوس و قزح بطور نشا نی ہے ۔ 18 نوح کے بیٹے نوح کی کشتی سے باہر نکلے ۔ اور ان کے نام یہ ہیں :سم،حام اور یافت ۔ حام ،کنعان کا باپ تھا ۔ 19 نوح کے صرف تین بیٹے تھے ۔ اور زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کے لئے یہ تین ہی جدّ اعلیٰ تھے ۔ 20 نوح کسان بنا ۔ اور اس نے ایک انگور کا باغ لگایا ۔ 21 ایک مرتبہ اس نے مئے پی لی ۔ اور اس کو نشہ ہوا جس کی وجہ سے وہ اپنے خیموں میں بر ہنہ ہو کر سو گئے ۔ 22 کنعان کا باپ حام نے جب اپنے باپ کو عریاں ہو کر سو ئے دیکھا تو خیمہ کے باہر آکر اپنے بھا ئیوں سے اس بات کا ذکر کیا ۔ 23 تب سم اور یافت دونوں ایک کمبل اپنی پیٹھوں پر ڈا لے ہو ئے پیٹھ کی طرف الٹے چلنے لگے اور خیمہ میں آکر اپنے باپ کو اڑھا دیئے ۔ اور وہ لوگ باپ کی بر ہنگی کو نہ دیکھے ۔ 24 پھر بعد جب نوح نیند سے اٹھے اور چھو ٹا بیٹا حام نے جو کیا تھا اس کو معلوم ہوا ۔ 25 اس لئے نوح نے کہا ، " کنعان پر لعنت ہو ! وہ اپنے بھا ئیوں کا نوکر ہو ۔ " 26 اس کے علا وہ نوح نے کہا ، "سم کے خدا وند خدا کی حمد و تعریف ہو ۔ کنعان سم کا ایک نوکر بن کر رہے ۔ 27 خدا یافت کو بہت ساری زمین کے حصہ کا مالک بنائے ۔ سم کے خیموں میں خدا کا قیام ہو ۔ اور کہا کہ کنعان اُن کا نوکر بن کر رہے ۔ " 28 پا نی کے طو فان کے بعد نوح تین سو پچاس برس زندہ رہے ۔ 29 نوح کل نو سو پچاس برس زندہ رہنے کے بعد وفات پا گئے ۔

Genesis 10

1 نوح کے بیٹے سم ، حام اور یافت تھے۔ پانی کے طوفان کے بعد یہ تینوں آدمیوں سے کئی بیٹے پیدا ہو ئے ۔ 2 یافت کے بیٹے جُمر، ما جوج ، ما دی، یا وان، توبل، مسک اور تیراس۔ 3 جُمر کے بیٹے، اَ شکناز، ریفت اور تجرمہ۔ 4 یا وان کے بیٹے۔ الیشہ، ترسیس، گتّی اور دودانی۔ 5 ساحلی علاقوں کے تمام لوگ یافت کے بچوں کی نسل میں شُما ر ہو تے ہیں۔ اس کے ہر بیٹے کے لئے خاص زمین تھی۔ اُن سب کے قبیلے ترقی کر کے الگ الگ قومیں بنیں۔ ہر ایک قوم کی الگ الگ زبان تھی۔ 6 حا م کے بیٹے کوش،مصرا یم ، فوط، اور کنعان۔ 7 کوش کے بیٹے سبا، حویلہ، سبتہ، رعماہ اور سبتیکہ۔ رعماہ کے بیٹے سبا اور ددان۔ 8 کوش کا ایک نمرود نام کا لڑکا تھا۔ نمرود اس دُنیا میں بہت بڑا طا قتور تھا۔ 9 خداوند کے سامنے وہ ایک بڑا چالاک شکا ری تھا۔ اِس وجہ سے لوگ دوسروں کو اُس سے موازانہ کر کے کہتے تھے کہ وہ نمرود جیسا ہے ۔ اور خداوند کے سامنے چالاک شکا ری کا نام دیتے۔ 10 نمرود کی حکومت ملک سنعار کے بابل میں اور اِرک میں اور اکاّدمیں اور کلنہ نام کے شہروں سے شروع ہو ئی ۔ 11 نمرود اسور گیا ۔ اور اسور میں نینواہ اور رحو بوت عیر، قلح اور رسن نام کے شہر تعمیر کر وائے ۔ رسن ایک بڑا شہر تھا نینوں اور کلح کے درمیان تھا ۔ 12 13 مصر ایم لودی ،عنامی ،لہابی ،نفتوحی اور فتروسی ،کسلوحی ،کفتوری کا باپ تھا (اور کسلوحی فلسطینیوں کا باپ تھا )۔ 14 15 کنعان صیدون کا باپ تھا ۔ صیدون اس کا پہلو ٹھا بیٹا تھا ۔ کنعان حت کا بھی باپ تھا ۔ 16 کنعان ،یبوسیوں،اموریوں ،جرجاسیوں ،حوِّیوں ،عرقیوں ،سینیوں،اَروادیوں، صماریوں حمایتوں کا باپ تھا ۔ کنعان کے خاندان پھیل گئے تھے ۔ 17 18 19 کنعان کی حدود شمال میں صیدا سے لیکر جنوب میں جرار تک ،غزّہ سے لیکر مشرقی سدوم اور عمورہ کے شہروں تک ،ادمہ اور ضبیاں سے لیکر لسع تک پھیلی ہوئی تھی ۔ 20 وہ سب حام کی نسل والے تھے ۔ وہ تمام قبائل کے لوگ اپنی خاص زبانیں اور اپنے خاص علا قے پا ئے تھے ۔ اور وہ سب الگ الگ قومیں قرار پا ئیں ۔ 21 سم یافت کا بڑا بھا ئی تھا ۔ عبر سم کی نسل میں ایک تھا ۔ عبر عبرانی لوگوں کا جدّ اعلیٰ تھا ۔ 22 سم کے بیٹے عیلام ،اسور،ارفکسد لُود اور ارام تھے ۔ 23 ارام کے بیٹے عوج ،حول،جتر،اور مَش تھے ۔ 24 ارفکسد سلح کا باپ تھا ۔ اور سلح عبر کا باپ تھا ۔ 25 عبر کے دو بیٹے تھے ۔ پہلا بیٹا جب پیدا ہوا تھا تو اس زما نے میں زمین پر بسنے والی قو میں منقسم تھیں جس کی وجہ سے اسے فلج کا نام رکھا گیا ۔ اور اسکے دوسرے بھا ئی کا نام یقطان تھا ۔ 26 یقطان کے بیٹے یہ ہیں الموداد ،سلف ،حصارمادت ،اِراخ، 27 ہدورام ،اُوزال،دِقلہ، 28 عوبِل،ابی ما ئیل ،سبا، 29 اُوفیر، حویلہ اور یُوباب۔ 30 یہ سب میسا اور سفار کی طرف جا تے ہو ئے مشرقی پہاڑی ملک کے درمیان کے علا قے میں بس گئے ۔ 31 یہ سب کے سب سم خاندان سے ہیں ۔ انہیں اپنے اپنے خاندانوں کے اعتبار سے ،ملکوں کے اعتبار سے اور قوموں کے اعتبار سے ترتیب دیئے گئے تھے ۔ 32 نوح کے بیٹوں سے چلنے والی نسل کے سلسلے کی فہرست یہ ہے ۔ وہ اپنی قوم کا اعتبار کر تے ہو ئے پھیل گئے تھے ۔ پا نی کے طو فان کے بعد ساری زمین پر آباد ہو نے والے انہی قبائل کے لوگ تھے ۔

Genesis 11

1 پا نی کے طو فان کے بعد تمام دُنیا کے لوگ ایک ہی زبان بولتے تھے ۔اور تمام لوگ ایک ہی زبان کے الفاظ کو استعمال کر تے تھے ۔ 2 لوگ مشرقی سمت سے سفر کر تے ہو ئے ملک سنعار کی ایک کھلی جگہ میں آئے ۔ وہ وہیں آباد ہو ئے ۔ 3 انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کر تے ہو ئے اِس بات کا فیصلہ کیا کہ اچھی جلی ہو ئی اینٹ بنائیں گے ۔ وہ اپنے گھروں کی تعمیر کے لئے پتھروں کے بجائے اِینٹ اور گارے کے بجائے کو لتار کا استعمال کئے ۔ 4 تب اُنہوں نے کہا ، "ہم لوگ اپنے لئے ایک شہر تعمیر کریں ، اور آسمان کو چھو تی ہو ئی ایک لمبی میناربنائیں ۔جس کی وجہ سے ہم شہرت پا جائیں گے ۔اور تب ہمارے لئے زمین میں پھیل جانے کے بجائے ایک ہی جگہ قیام پذیر ہو نا ممکن ہو سکے گا ۔ " 5 خدا وند شہر کو اور مینار کو جسے کہ یہ لوگ بنا رہے تھے دیکھنے کے لئے نیچے اتر آئے ۔ 6 خدا وند نے کہا ، "یہ سب لوگ ایک ہی زبان بولتے ہیں ۔"اور کہا ، "اگر یہ لوگ ابتداء ہی میں ایسے کار نامے کر سکتے ہیں تو مستقبل میں جسے وہ کر نا چاہتے ہیں انکے لئے کچھ بھی نا ممکن نہ ہو گا ۔ 7 اِس وجہ سے ہم نیچے جاکر اُن کی زبان میں ہیر پھیر اور اختلاف پیدا کریں اور کہا کہ اگر ہم ایسا کریں تو وہ ایک دوسرے کی بات کو سمجھ نہ سکیں گے ۔ " 8 اسی طرح خدا وند نے زمین پر رہنے والے لوگوں کو مُنتشر کر دیا ۔ اِس لئے شہر کی مکمل تعمیر کرنا اُن سے ممکن نہ ہو سکا۔ 9 خدا وند نے دُنیا کی تمام زبانوں کو جس جگہ ہیر پھیر کیا یہ وہی جگہ ہے ۔ اِس وجہ سے اُس جگہ کا نام بابل ہوا اس طرح خدا وند نے اُس جگہ سے لو گوں کو ساری زمین پر منتشر کر دیا ۔ 10 یہ سم کے خاندا ن کی تاریخ ہے ۔ طوفان کے دو سال بعد جب سم سو سال کا ہوا تھا تُو اُسے اَرفکسد نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 11 اُس کے بعد سم پانچ سو سال زندہ رہا ۔ اور پھر اُسے دوسرے کئی لڑ کے اور لڑکیاں پیدا ہو ئیں ۔ 12 اَرفکسد جب پینتس برس کا ہوا تو اُسے سِلح نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا ۔ 13 سلح پیدا ہو نے کے بعد اَرفِکسد چار سو تین برس زندہ رہا ۔ اُس مدت میں اسے اور دوسرے کئی لڑکے اور لڑ کیاں پیدا ہو ئیں ۔ 14 سَلح جب تیس برس کا ہوا تو اُسے عبر نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا ۔ 15 عبر جب پیدا ہوا تو اُس کے بعد سلح چار سو تین برس زندہ رہا ۔ اس دوران اس کو مزید لڑکے اور لڑ کیاں پیدا ہو ئیں ۔ 16 عبر جب چوتیس برس کا ہوا تو فَلج نام کا بیٹا پیدا ہوا ۔ 17 فلج پیدا ہو نے کے بعد چار سو تیس برس سے بھی زیادہ مدّت تک زندہ رہا ۔ اور اس دور میں اس کو دوسرے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہو ئیں ۔ 18 فلج جب تیس برس کا ہوا تو اسے رعو نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔ 19 رعو پیدا ہو نے کے بعد فلج دو سو نو برس زندہ رہا ۔ اس مدت میں اسے اور دیگر لڑ کے اور لڑ کیاں پیدا ہوئیں ۔ 20 جب رعو بتیس برس کا ہوا تو اسے سروج نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا ۔ 21 سروج پیدا ہو نے کے بعد رعو دو سو سات برس زندہ رہا ۔ اس مدت میں اس سے اور بھی دیگر لڑکے اور لڑ کیاں پیدا ہو ئیں ۔ 22 سروج جب تیس برس کا ہوا تو اسے نحور نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا ۔ 23 نحور کی پیدائش کے بعد سروج دوسو برس زندہ رہا اور اس دوران اس کو مزید لڑ کے پیدا ہو ئے ۔ 24 نحور جب انتیس برس کا ہوا تو اس سے تارح پیدا ہوا ۔ 25 تارح پیدا ہو نے کے بعد نحور ایک سو انیس برس زندہ رہا ۔ اس دوران وہ دیگر لڑ کے اور لڑ کیاں پا ئے ۔ 26 تارح جب ستّر برس کا ہوا تو اسے ابرام نحور اور حاران نام کے لڑ کے پیدا ہو ئے ۔ 27 یہ تارح کے خاندان کی تاریخ ہے ۔ تارح ابرام نحور اور حاران کا باپ ہے ۔ اور حاران لوط کا باپ ہے ۔ 28 حاران بابل کے علا قے میں اپنے خاص گاؤں اُور میں مرے ۔ اور حاران جب مرے تو اس کا باپ اس وقت تک زندہ تھے ۔ 29 ابرام اور نحوط دونوں نے شادیاں کرلیں ۔ ابرام کی بیوی کا نام سارا ئی ۔ اور نحور کی بیوی کا نام ملکہ تھا ۔ اور یہ حاران کی بیٹی تھی ۔ اور حاران ملکہ اور اسکہ باپ تھا ۔ 30 سارائی کی کو ئی اولاد نہ تھی ۔ اس لئے کہ وہ بانجھ تھی ۔ 31 تارح اپنے خاندان کو ساتھ لے کر بابل کے اپنے خاص گاؤں اُور سے نکل کر کنعان کی طرف راہ سفر اختیار کیا ۔ تارح اپنے بیٹے ابرام کو اور اپنے پو تے لوط کو (حاران کا بیٹا ) اور اپنی بہو سارائی کو ساتھ لیکر حاران شہر کو نکلا اور وہیں پر سکونت اختیار کر نے کا فیصلہ کر لیا ۔ 32 تارح دوسو پانچ برس زندہ رہ کر حاران میں مر گئے ۔

Genesis 12

1 خدا وند نے ابرام سے کہا، "تو اپنے ملک اور اپنے لوگوں کو چھو ڑ کر چلا جا ۔ تو اپنے باپ کے خاندان کو چھو ڑ کر اس ملک کو چلا جا جسے میں دکھا ؤنگا ۔ 2 میں تجھے خیر و برکت عطا کروں گا ۔ اور تجھے ایک بڑی قوم بنا ؤں گا۔ پھر تیرے نام کو خوب شہرت دوں گا ۔ لوگ تیرے نام کا استعمال دوسرے لوگوں کو دُعا دینے کے لئے کریں گے۔ 3 اور کہا کہ تیرے ساتھ بھلا ئی کرنے وا لوں کے لئے میں برکت دوں گا۔ اور وہ جو تیری بُرائی چاہنے وا لے ہیں میں اُن کو سزا دوں گا ۔ تیری معرفت سے اہل دُنیا بر کت پا ئیں گے۔" 4 ابرام نے ویسا ہی کیا جیسا کہ خداوند نے اسے کہا ۔ اور وہ شہر حاران کو چھو ڑ کر چلے گئے۔ اور اُس کے ساتھ لوط بھی چلے گئے ۔ اس وقت ابرام کی عُمر پچھتّر سال تھی ۔ 5 ابرام اپنی بیوی سارائی اور اپنے بھتیجہ لوط کو اپنے ساتھ لے گئے۔ جب وہ حاران شہر چھوڑ رہے تھے تو خو د کی ذاتی جائیداد کو وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ ابرام کے حاران شہر میں جو غلام تھے وہ بھی اُس کے ساتھ چلے گئے ۔ ابرام اور اُس کے ساتھی حاران کے شہر کو چھوڑ کرسر زمین کنعان چلے گئے۔ 6 ابرام نے ملک کنعان سے اپنے سفر کو آگے بڑھا یا ۔ اور وہ سکم قصبہ کو پہنچ گئے اور پھر وہاں سے مورہ کے شاہ بلوط درختوں تک پہنچے۔ اُس زمانے میں کنعانی لوگ وہاں آباد تھے۔ 7 خداوند ابرام کو نظر آیا اور اُس سے کہا ،" میں تیری نسل کو یہی ملک دوں گا۔" اُس جگہ اَبرام نے خداوند کو دیکھا۔ اس وجہ سے ابرام نے خداوند کی عبادت کر نے کے لئے وہاں پر ایک قربان گاہ بنا ئی۔ 8 اُس کے بعد ابرام اُس جگہ سے نکل کر بیت ایل کے مشرق میں پہا ڑی علا قوں کا سفر کیا۔ اور وہاں ابرام نے اپنے خیمے کو نصب کیا۔ مغربی جانب بیت ایل تھا۔ اور مشرق کی سمت میں عی شہر تھا۔ اُس جگہ پر اس نے خداوند کے لئے ایک قربانگاہ بنا ئی ۔ وہاں پر اس نے خداوند کی عبادت کی ۔ 9 پھر اُس کے بعد اُس نے اپنے سفر کو جا ری رکھا، اور نیگے مقام کی طرف چلے گئے۔ 10 اِس زمانے میں زمین سوکھ گئی تھی۔ اور بارش نہ تھی۔ اور وہاں اناج ا ُ گانا ممکن نہ تھا۔ اِس وجہ سے ابرام سکونت اختیار کر نے کے لئے مصر کو چلے گئے۔ 11 اَبرام کو یہ بات معلوم تھی کہ اُس کی بیوی سارا ئی حسین و جمیل ہے ۔ اِس لئے مصر کو جانے سے پہلے اَبرام نے سارا ئی سے کہا کہ تیرا خوبصورت ہو نا مجھے معلوم ہے ۔ 12 مصر کے مَرد تجھے دیکھ کر کہیں گے ' یہ اِس کی بیوی ہے '۔ یہ سمجھ کر تجھے حاصل کر نے کے لئے وہ مجھے قتل کریں گے اور تجھے زندہ چھو ڑیں گے۔ 13 اس لئے تو لوگوں سے کہہ کہ تو میری بہن ہے ۔ تب وہ مجھے تیرا بھا ئی سمجھ کر اور مجھے قتل کر نے کے بجائے میرے ساتھ ہمدردی کا مظا ہرہ کریں گے ۔ اور کہا کہ اِس طرح تو میری جان بچانے کا ذریعہ بنے گی ۔ 14 اُس کے فوراً بعد اَبرام مصر کوآئے ۔ مصر کے لوگوں نے دیکھا کہ سارائی بہت خًوبصورت ہے ۔ 15 مصر کے چند معزز قائدین نے اس کو دیکھا۔ اور انہوں نے فرعون کے پاس جا کر اُس کے غیر معمو لی حسن و جمال کے با رے میں تفصیلات سنا ئے ۔ پھر وہ قائدین سارا ئی کو فر عون کے پاس بلا لے گئے۔ 16 اَبرام کو سارا ئی کا بھا ئی جان کر فرعون اَبرام سے ہمدردی جتانے لگا ۔ اور فرعون نے اَبرام کو جانور بکریاں اور گدھے بھی دئیے اور اِس کے علا وہ نوکر اور لونڈیوں کے ساتھ اُونٹ بھی دیئے۔ 17 فرعون چونکہ اَبرام کی بیوی کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے خداوند فرعون کو اور اس کے گھر وا لوں کو خوف ناک قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ۔ 18 تب فرعون نے اَبرام کو بلا کر کہا کہ تو نے تو میرے حق میں بہت ہی بُرا کیا ہے ۔ اور تو نے یہ بات مجھ سے کیوں چھپا ئی کہ سارا ئی تیری بیوی ہے ؟ 19 اور مجھ سے تو نے یہ کیوں کہا ،' یہ میری بہن ہے ؟'تمہا رے ایسا کہنے کی وجہ سے میں نے اُس کو اپنی بیوی بنا لیا ۔ لیکن اب تو میں تیری بیوی کو پھر سے تیرے ہی حوالے کرتا ہوں۔ اور کہا کہ توُ اُ س کو ساتھ لے کر چلا جا ۔ 20 پھر اُس کے بعد فرعون نے اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ اَبرام کو مصر سے باہر نکال دیا جا ئے ۔ جس کی وجہ سے اَبرام اور اس کی بیوی اُس جگہ سے نکل گئے۔ اور وہ اپنے ساتھ ساری چیزوں کو لے کر چلے گئے جو اُن کے پاس تھیں ۔

Genesis 13

1 اَبرام نے مصر چھو ڑا۔ ا َبرام اپنی بیوی اور اپنی ساری چیزوں کو لے کر بَراہ نیگیو اپنا سفر کیا ۔ اور لوطو بھی اُس کے ہمراہ تھے۔ 2 اور اُس وقت اَبرام مالدار ہو گئے تھے اُس کے پاس کئی جانور اور بہت سارا سونا اور چاندی تھی۔ 3 اَبرام اپنے سفر کو آگے بڑھا تے ہو ئے نیگیوں سے آگے بیت ایل کو وا پس لوٹ گئے ۔ اور وہ بیت ایل شہر سے عی شہر کے درمیانی مقام کو چلے گئے۔ اَبرام اور اُس کے خاندان وا لے جس جگہ اُترے تھے وہ یہی مقام تھا۔ 4 یہی وہ جگہ ہے جہاں اَبرام نے پہلے ایک قربانگاہ بنا ئی تھی۔ اور وہاں اُس جگہ پر اَبرام نے خداوند کی عبادت کی تھی۔ 5 اِس زمانے میں لو ط بھی اَبرام کے ساتھ سفر کر تے تھے۔ لوط کے پاس بھی بکریوں کا ریوڑ اور جانوروں کا گلّہ اور ڈیرے وغیرہ بھی تھے۔ 6 اَبرام اور لوط کے پاس کثرت سے جانور تھے جس کی وجہ سے اُن کی دیکھ بھال کے لئے وہ جگہ نا کا فی تھی۔ 7 اَبرام اور لوط کے چروا ہے تکرار کر نے لگے ۔اُس زما نے میں کنعا نی اور فرزّی بھی اسی جگہ زندگی گزارتے تھے ۔ 8 اس وجہ سے ابرام نے لوط سے کہا کہ تجھ میں اور مجھ میں کسی بھی قسم کی بحث اور اَن بن نہ ہو ، اور تیرے اور میرے لوگوں میں کسی بھی قسم کی رنجش نہ ہو ، کیوں کہ ہم سب آپس میں بھا ئی ہیں۔ 9 اس لئے ہم جدا ہو جائیں اپنی پسند کی جگہ کا تو انتخاب کر لے ۔ اگر تو بائیں طرف جانا چاہتا ہے تو میں داہنی طرف چلا جاؤں گا اور اگر تو داہنی طرف جانا چاہتا ہے تو میں بائیں طرف چلا جاؤں گا۔ 10 جو لوط نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو اسے یردن کی گھا ٹی نظر آئی ۔ اور اس نے وہاں ضرورت سے زیادہ پا نی کو دیکھا ( یہ اس وقت کی بات ہے جب خدا وند سدوم اور عمورہ شہروں کو بر باد نہ کیا تھا ۔ اس زمانے میں یردن کی گھا ئی ضُغر تک خدا وند کے چمن کی طرح تھا ۔ اور زمین مصر کی زمین کی طرح زر خیز بھی تھی ۔ ) 11 اس وجہ سے لوط نے یردن کی ساری گھا ٹی کو اپنے لئے منتخب کر لی۔اور دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو ئے ۔اور لو ط نے مشرق کی طرف سفر کیا ۔ 12 اور ابرام ملک کنعان میں ہی رہ گئے ۔اور لوط نے گھا ٹی میں پا ئے جانے والے شہروں کے درمیان سکونت اختیار کی ۔وہ اپنے خیمہ کو آگے بڑھا تے رہے جب تک کہ اس نے سدوم کے نزدیک خیمہ نہ لگا لیا ۔ 13 سدوم کی رعایا بہت بُری تھی ۔اور وہ ہمیشہ خدا وند کے حکم کے خلاف گناہوں کے کام کیا کر تی تھی ۔ 14 لوط کے جانے کے بعد خدا وند نے ابرام سے کہا ، "چاروں طرف نظر دوڑا شمال اور جنوب کی طرف ، اور مشرق و مغرب کی طرف دیکھ ۔ 15 تو جس ملک کو دیکھ رہا ہے ،اسے تجھے اور تیرے بعد آنے والی تیری نسل کو عطا کروں گا ۔ اور یہ ہمیشہ کے لئے تیرا ہی ہو گا ۔ 16 میں تیرے لوگوں کو مٹی کے ذرّروں کی مانند بڑھا ؤں گا ۔ اگر کسی کے لئے مٹی کے ذرّروں کو گننا ممکن ہے تو ٹھیک اسی طرح تیری نسل کے لوگوں کو بھی گننا ممکن ہو گا۔ 17 اس وجہ سے تو چلا جا اور اپنی ساری زمین میں گھو م پھر ۔ اور اس کے طول و عرض میں چل پھر ۔ اور اسکی لمبائی اور چورائی میں پھر لے ،کیوں کہ میں اسے تجھے دے رہا ہوں ۔" 18 اس لئے ابرام نے اپنے خیموں کو اٹھا لیا ۔ اور شاہ بلوط کے مَمرہ مقام کے قریب سکو نت اختیار کی ۔ اور یہ حبرون شہر کے قریب تھا ۔ اس جگہ ابرام نے خدا وند کی عبادت کے لئے ایک قربان گاہ بنائی ۔

Genesis 14

1 امرافل سنعار کا بادشاہ تھا ، اور اَریوک الاسر کا بادشاہ تھا ، اور کدر لاعمر عیلام کا بادشاہ تھا اور تِد عال جو ئیم کا بادشاہ تھا ۔ 2 یہ تمام بادشا ہوں نے سدوم کے بادشاہ برع۔عمورہ کے بادشاہ برشع ،ادمہ کے بادشاہ سُنیاب ،ضبو ئیم کے بادشاہ شمیبر اور بالع کے بادشاہ سے جنگ لڑیں ۔ ( بالع کو ضفر بھی کہا جاتا ہے ۔ ) 3 ان تمام بادشاہوں نے سِدّیم گھا ٹی میں اپنی فوجوں کو اکٹھا کیا ۔ (سدّیم گھا ٹی اب کھارا سمندر ہے ۔ ) 4 یہ تمام بادشاہ بارہ برس تک کدرلاعمر 5 اس لئے چودھویں برس میں بادشاہ کدر لا عمر اور اس کے حامی بادشاہوں نے رفائیم کے لوگوں کو عستارات قرنیم میں اور زوزیوں کو ہام میں اور ایمیم کو سویقریتیم میں شکست دیئے ۔ 6 اس کے علا وہ وہ حوریوں کو پہاڑی سرحد سے یل فاران تک ان کو پسپا کئے ۔ (ایل فاران ریگستان کے قریب میں ہے ۔ ) 7 پھر اس کے بعد کدر لا عمر بادشاہ شمالی علا قے میں واپس لو ٹا اور عین مصفات کو قادس پہنچ کر تمام عما لیقیوں کو شکست دی۔ اِ س کے علا وہ حصیصون تمر میں رہنے وا لے اموریوں کو بھی شکست دی۔ 8 اُس زمانے میں سدوم کا بادشاہ، عمورہ کا بادشاہ ادمہ کا باد شاہ، ضبو ئیم کا بادشاہ اور با لع کا بادشاہ( جو ضفر بھی کہلا تا ہے ۔) سب ایک ساتھ جمع ہو کر اپنے دُشمن کے خلا ف لڑ نے کے لئے سدوم کی گھا ٹی میں گئے۔ 9 انہوں نے عیلام کے بادشاہ کدر لا عمر اور جو ئیم کے بادشاہ تد عال اور سنعار کے بادشاہ امرا فل اور الا سر کے بادشاہ اریوک کے خلا ف جنگ کی۔ اِس طرح اِن چار بادشاہوں نے ہانچ بادشاہوں کے خلاف جنگ کی۔ 10 سدّیم گھا ٹی کو لتار کے گڑھے سے بھرے ہو ئے تھے۔ سدوم اور عمورہ کے بادشاہ اور ان کی فوج بھاگ گئے اور بھاگتے ہو ئے ان گڑھوں میں گِر گئے ، اور جو زندہ رہے وہ پہا ڑوں میں بھا گ گئے ۔ 11 جو فتحیاب ہو ئے ان لوگوں نے سدوم اور عمورہ کے لوگوں سے ان کے تمام اناج اور کپڑے سمیت سبھی چیزوں کو حاصل کر لئے ۔ 12 اَبرام کے بھا ئی کا بیٹا لوط سدوم میں قیام پذیر تھا۔ دُشمنوں نے اسے قید کر لیا۔ اور اُس کی تما م اشیاء کو بھی چھین لے گئے ۔ 13 اُن میں ایک جو بھاگنے میں بچ نکلا تھا ، اَبرام عبرانی کے پاس گیا اور پیش آئے ہو ئے اُن تمام واقعات کو اُسے سُنا یا ۔ اَبرام اَموری کے ممر ے کے درختوں سے قریب رہتا تھا۔ممرے، اسکال اور عانیر ایک دُوسرے کی مدد کر نے کے لئے آپس میں ایک معاہدہ کیا۔ ان لوگوں نے اَبرام کی مدد کر نے کے لئے بھی ایک معاہدہ کیا ۔ 14 اَبرام کو لوط کے قید میں رہنے کی بات معلوم ہو ئی۔ اِس وجہ سے اَبرام نے اپنے گھر میں پیدا ہو نے وا لے نو جوانوں کو جمع کیا۔ اُن میں تین سو اٹھا رہ تربیت یافتہ فوجی تھے ۔ اَبرام نے اُن کو ساتھ لے کر دُشمنوں پر حملہ کر تے ہو ئے دان کے گاؤں تک پیچھے ڈھکیل دیا۔ 15 اُس رات وہ اُس کے نوکر اچانک دُشمنوں پر حملہ کر کے اُن کو شکست دیئے۔ پھر دمشق کے شمال میں واقع خوبہ تک پیچھے ڈھکیل دیا ۔ 16 اُس کے بعد وہ تمام چیزیں جن کو دُشمنوں نے چھین لی اور لوط کے سارے اَ ثا ثہ کو بھی اَبرام نے حاصل کر کے لوط کے ساتھ وا پس آیا ۔ اس کے علا وہ وہ عورتیں جن کو کہ قیدی بنا یا گیا تھا اور دیگر لوگوں کو بھی ساتھ لے کر واپس آ گیا ۔ 17 اَبرام کدر لا عمر کو اور اُس کے حامی بادشاہوں کو شکست دینے کے بعد اپنے گھر کو واپس لو ئے۔ تب سدوم کا بادشاہ اَبرام سے ملا قات کر نے کے لئے سوی گھا ٹی تک گیا۔( اب اس کو بادشاہ کی گھا ٹی کے نا م سے پُکا رتے ہیں۔) 18 سا لم کا بادشاہ ملک صدق بھی اَبرام سے ملنے کیلئے چلا گیا ۔ جو خدائے تعالیٰ کے کاہن تھے وہ روٹی اور مئے لئے ہو ئے آئے۔ 19 اور ابرام کو اس طرح دعا دی ، " اے اَبرام خدائے تعالیٰ تجھے برکت دے ۔ آسمان اور زمین کوپیدا کرنے وا لا و ہی ہے ۔ 20 اَبرام ، ہم لوگ خدائے تعالیٰ کی حمد کر تے ہیں جو کہ تیرے دُشمنوں کو شکست دینے کے لئے تیرا مددگار ہے ۔" اَبرام جو کچھ بھی جنگ سے لے آیا اس کا دسواں حصّہ ملک صدق کو دیا۔ 21 تب سدوم کا بادشاہ اَبرام سے کہا کہ اِن تمام چیزوں کو توُ ہی رکھ لینا۔ اور میرے اُن لوگوں کو جن کو دُشمنوں نے اپنے قبضہ میں کر لیا ہے صرف اُن کو مجھے دے دے۔ 22 لیکن اَبرام نے اُس سے کہا ،"میں خداوند، خدائے تعالیٰ کے نام پر وعدہ کر تا ہوں جں نے آسمان و زمین بنایا۔ 23 تیری جو بھی چیزیں ہیں میں اُن کو اپنے لئے نہ رکھوں گا ۔ اگر چہ وہ ایک دھا گہ ہو یا کسی جوتی کا تسمہ ہو ۔ میں اپنے پاس نہ رکھوں گا ۔ اس طرح سے تم یہ کہنے کے لا ئق نہیں ہو گے، میں نے اَبرام کوا میر بنایا۔ 24 میرے نوجوانوں نے جو غذا کھا ئی ہے اُس کے سِوا میں کسی اور چیز کو قبول نہیں کروں گا ۔ لیکن آپ دوسرے لوگوں کو اُن کا حصّہ دے دیجئے۔ عانیر، اسکال اور ممرے نے مجھے جنگ میں مدد کی ۔ ان کو اپنا حصّہ لینے دو۔"

Genesis 15

1 اِن واقعات کے پیش آنے کے بعد خواب میں اَبرام کو خدا کا پیغام آیا۔ خدا نے ان سے کہا کہ اے اَبرام ، تو خوفزدہ نہ ہو ، میں تیرا ڈھال ہوں اور میں ہی تجھے عظیم اجر وبدلہ دوں گا ۔ 2 اُس پر اَبرام نے کہا کہ اے خداوند خدا تو مجھے کُچھ بھی دے لیکن مجھے سکون و چین نہ ملے گا ۔ کیوں کہ مجھے کو ئی بیٹا ہیں نہیں ہے۔ اور کہا کہ جب میں مرجا ؤں تو میری تمام جائیداد میرے نوکر دمشق کے اِلیعزر کے حوالے ہو گی ۔ 3 پھر اَبرام نے کہا کہ تُو نے تو مجھے بیٹا ہی نہیں دیا ہے۔ اِس وجہ سے وہ نوکر جو میرے گھر میں پیدا ہو ا ہے وہی میری تمام چیزوں کا مالک ہو گا ۔ 4 تب خداوند نے اَبرام سے کہا کہ تیری ساری جائیدادو ملکیت کا مالک ہو نے وا لا تیرا نوکر نہیں ہے ۔ اِس لئے تُو ہی بیٹے کو پا ئے گا ۔ اور کہا کہ تیرا بیٹا ہی تیری ساری مِلکیت کا مالک ہو گا ۔ 5 تب خدا نے اَبرام کو باہر بُلا یا اور اُس سے کہا کہ آسمان کی طرف نظر اُ ٹھا کر سِتاروں کو دیکھ ۔ اِ تنے تا رے ہیں کہ تُو گنتی نہ کر سکے گا ۔ اور کہا کہ آنے وا لے زمانے میں تیرا قبیلہ بھی اُسی طرح ہو گا ۔ 6 اَبرام نے خدا پر یقین کیا ۔ خدا نے اُس ایمان کی بنیاد پر اَبرام کو نیک و راستبازوں میں شُمارکیا۔ 7 خدا نے اَبرام سے کہا کہ میں نے تجھے کلدِ یوں کے اُٰ و ر شہر سے بُلوا یا ہے ۔ تجھے یہ شہر دینے کے لئے اور اِس شہر کو پا لے نے کے لئے ہی تو میں نے تجھے بُلا یا ہے۔ 8 اِس بات پر اَبرام نے خداوند سے پو چھا کہ اے میرے مالک، مجھے یہ ملک یقینی طور پر ملنے کی بات کیسے جانوں؟۔ 9 خداوند نے اَبرام سے کہا کہ ہم آپس میں ایک معاہدہ کر لینگے۔ وہ یہ کہ تین سال کی ایک گا ئے، اور تین سال کی ایک بکری اور تین برس کا ایک مینڈھا ، لیتے ہوئے آنا اور کہا کہ اِس کے علا وہ ایک فاختہ اور ایک کبوتر بھی ساتھ لیتے ہو ئے آنا۔ 10 اَبرام خدا کے لئے اُن تمام کو لیتے آئے۔ اَبرام اُن سب کو قربان کئے اور ہر ایک کے دو دو ٹکڑے کر ڈالے اس کے بعد اَبرام نے ایک آدھے ٹکڑے کو دوسرے آدھے ٹکڑے کے مدّ مقابل رکھا۔ البتہ اَبرام نے پرندوں کے دو ٹکڑے نہ کئے ۔ 11 کچھ وقت گذرنے کے بعد بڑے پرندے ان جانوروں کا گوشت کھا نے کے لئے اُڑ کر آئے ۔ لیکن اَبرام نے ان پرندوں کو اُڑا دیا۔ 12 شام ہو گئی، سورج غُروب ہو نے لگا ۔ اور اِدھر اَبرام کو گہری نیند آئی۔ جب وہ سو گئے تو ہولناک اندھیرا چھا گیا ۔ 13 تب خداوند نے اَبرام سے کہا کہ تجھے یہ تمام با تیں معلوم ہو نی چاہئے۔ تیری نسل کے لوگ جا ئیں گے اور غیروں کے ملک میں سکونت اختیار کریں گے۔ اور وہاں کے لوگ انہیں غلام بنا لیں گے۔ اور وہ وہاں چار سو برس تک تکلا لیف اٹھا ئیں گے۔ 14 لیکن چار سو برس گذرنے کے بعد اُن پر حکومت کر نے وا لے اُس ملک کو میں سزا دوں گا ۔ اور تیری قوم اُس ملک کو چھو ڑ کر چلی جا ئے گی ۔ تیرے لوگ جب اُس ملک کو چھوڑ نے لگیں گے تو اپنے سرما یہ و پونجی کو ساتھ لیتے جا ئیں گے ۔ 15 " تو بہت ہی بوڑھا و ضعیف ہو نے تک زندہ رہے گا اور پھر بعد میں بہت ہی اطمینان و سکون سے مَرے گا ۔ اور تم اپنے خاندان وا لوں کے پاس ہی دفنا ئے جا ؤگے۔ 16 پھر چار پُشتوں کے گذرنے کے بعد تیرے لوگ اِس ملک کو وا پس لو ٹیں گے۔ لیکن اب تک اموریوں کے گناہ پو رے نہیں ہو ئے ہیں۔" 17 جوں ہی سورج غروب ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا۔ جانوروں کو کاٹ دئیے گئے دو دو ٹکڑے ابھی زمین پر ہی تھے کہ اُس وقت آ گ اور دُھویں سے پُر مشعلیں اُن ٹکڑوں کے درمیان سے ہو کر گذر گئیں۔ 18 اِس وجہ سے اُس دِن خداوند نے ایک وعدہ کر کے اَبرام سے ایک معاہدہ کر لیا۔ اور خداوند نے اُس سے کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک دوں گا ۔ میں اُن کو دریائے مصر سے دریائے فرات تک کے علاقے کو دوں گا ۔ 19 یہ فینیوں کا ، قینزیوں کا ، قدمو نیوں کا، 20 اور حِیتیوں کا ، فِریّزیوں کا، رفا ئیم کا ، 21 اموریوں کا ، کنعانیوں کا ، جِر جا سیوں کا ، اور یبو سیوں کا ملک ہے ۔

Genesis 16

1 سارا ئی اَبرام کی بیوی تھی۔ اُس کی کو ئی اولاد نہ تھی۔ سارائی کی ایک مصری خادمہ تھی۔ اُس کا نام ہاجرہ تھا۔ 2 سارائی نے اَبرام سے کہا ،" خداوند نے مجھے اولاد ہو نے کا موقع ہی نہ دیا ۔ اس لئے میری لونڈی ہاجرہ کے پاس جا۔ اور اُس سے جو بچہ پیدا ہو گا میں اسے اپنے ہی بچے کی مانند قبول کر لوں گی ۔" تب اَبرام نے اپنی بیوی سارائی کا شکریہ ادا کیا ۔ 3 اَبرام کا کنعان میں دس برس رہنے کے بعد یہ وا قعہ پیش آیا تھا۔ اَبرام کی بیوی سارا ئی نے ہا جرہ کو ، اَبرام کو اس کی بیوی بننے کے لئے دیا۔( ہا جرہ مصر کی لونڈی تھی۔) 4 اَبرام نے ہاجرہ سے جسمانی تعلقات قائم کیا اور وہ حاملہ ہو ئی۔ اس کے بعد ہا جرہ اپنی مالکہ کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگی ۔ 5 تب سارا ئی نے اَبرا م سے کہا کہ اس کے نتیجہ میں جو بھی ناساز گار حالات پیدا ہو ئے ہیں۔ اُس کی تمام تر ذمّہ داری تیرے سر ہے ۔ میں نے اُس کو تیرے حوا لے کر دی ہے ۔ اور وہ اب حاملہ ہے ۔ اور مجھے حقیر جان کر دُھتکار دیتی ہے ۔ اور سوچتی ہے کہ وہ مجھ سے بہتر ہے۔ اب خداوند ہی فیصلہ کر ے گا کہ ہم میں کون صحیح ہے ۔ 6 اِس بات پر اَبرام نے سارائی سے کہا ،" تُو تو ہاجرہ کی مالکہ ہے ۔ تو جو چاہے اُس کے ساتھ کر سکتی ہے ۔" اِس لئے سارائی نے ہاجرہ کو ذلیل کی۔ اور وہ بھاگ گئی۔ 7 خداوند کا فرشتہ ہا جرہ کو ریگستان میں چشمہ کے پاس دیکھا۔ اور وہ چشمہ شور کی طرف جانے وا لے راستے کے کنا رے تھا۔ 8 فرشتے نے اُس سے کہا کہ اے ہاجرہ تو سارائی کی لونڈی ہو نے کے باوجود یہاں کیوں ہے ؟ اور پو چھا کہ تُو کہاں جا رہی ہے ؟ ہاجرہ نے کہا کہ میں مالکہ سارائی کے پاس سے بھا گ رہی ہوں۔ 9 خداوند کا فرشتہ ہاجرہ سے کہا کہ سارائی تو تیری مالکہ ہے ۔ تُو اُس کے پاس لوٹ کر جا اور اُس کی بات مان ۔ 10 اِس کے علاوہ خداوند کا فرشتہ ہاجرہ سے کہا ،" میں تیری نسل کے سلسلہ کو بہت بڑھاؤں گا ۔ وہ اتنی ہو نگی کہ گِنی نہیں جا ئیں گی۔" 11 مزید فرشتے نے اُس سے کہا ،" اے ہاجرہ اب توُ حاملہ ہو گئی ہے ۔ اور تجھے ایک بیٹا پیدا ہو گا ۔ تو اس کا نام اِسمٰعیل رکھنا۔ اِس لئے کہ خداوندنے تیری تکا لیف کو سُنا ہے ۔ اور وہ تیری مدد کرے گا ۔ 12 " اِسمٰعیل جنگلی گدھے کی طرح مضبوط اور آ زا د ہو گا۔ اور وہ ہر ایک کا مخا لف ہو گا اور ہر ایک اُس کا مخالف ہو گا۔ وہ اپنے بھا ئیوں کے قریب خیمہ زن ہو گا ۔" 13 خداوند نے خود ہاجرہ کے ساتھ باتیں کیں۔ اس وجہ سے ہاجرہ نے کہا ،" اِس جگہ بھی خدا مجھے دیکھ کر میرے بارے میں فِکر مند ہو تا ہے ۔" اس لئے اس نے اس کا نیا نام دیا ،" خدا مجھے دیکھتا ہے " ہاجرہ نے کہا ،" میں نے خدا کو یہاں دیکھا ہے لیکن میں اب تک زندہ ہوں! اس لئے انہوں نے خدا کا نیا نام دیا،" خدا جو مجھے دیکھتا ہے ۔" 14 اِس وجہ سے اُس کنواں کا م نام بیر لحی روئی ہوگیا ۔ وہ کنواں قادِس اور بِرد کے درمیان ہے ۔ 15 ہا جرہ نے اَبرام کے بیٹے کو جنم دیا ۔ اور اَبرام نے اُس بیٹے کا نام اِسمٰعیل رکھا۔ 16 اَبرام جب چھیا سی برس کے ہو ئے تو ہاجرہ سے اِسمٰعیل پیدا ہو ئے ۔

Genesis 17

1 جب اَبرام کی عمر ننانوے برس کی ہو ئی تو خداوند اُس پر ظا ہر ہوا اور اُس سے کہا ،" میں خدا قادر مطلق ہوں۔ میرے سامنے صحیح راستے پر چلو۔ 2 میں تجھ سے ایک معاہدہ کر تا ہوں اور کہا کہ میں تجھے ایک بڑی قوم بنا نے کا وعدہ کر تا ہوں۔" 3 اُس کے فوراً بعد اَبرام نے خدا کو سجدہ کیا ۔ 4 تب خدا نے اُس سے کہا ،" میں تجھ سے جو وعدہ کیا ہوں وہ یہ ہے : تو بہت ساری قوموں کا باپ ہو گا ۔ 5 تیرا نا م اَبرام کے بجائے ابراہیم رکھتا ہوں۔ اب اِس کے بعد تجھے اِبراہیم ہی پُکا ریں گے ۔ ا سلئے کہ اِس کے بعد کئی نسلوں کے لئے تیری حیثیت جدِّ اعلیٰ کی ہو گی ۔ 6 میں تمہیں بہت ساری نسلیں دوں گا ۔ پو ری قوم اور تمام بادشاہ تم ہی میں سے آئینگے۔ 7 تیرے ساتھ ایک معاہدہ کروں گا ۔ اور یہ معاہدہ تیری تمام نسلوں کے لئے ہو گا ۔ یہ معاہدہ ہمیشہ کے لئے رہیگا۔ میں تیرا اور تیری نسلوں کا خدا ہوں گا ۔ 8 تُو جس کنعان کی طرف سفر کر رہا ہے وہ تجھے تیری ساری نسلوں کو ہمیشہ کے لئے دُوں گا۔ اور کہا کہ میں ہی تمہا را خدا ہوں۔" 9 اِس کے علا وہ خدا نے ابراہیم سے کہا ،" ہما رے معاہدے کے مُطا بق تُو اور تیری نسل کو ہمارے تمام معاہدے کا شکر گذار ہو نا چاہئے۔ 10 تو اور تیری نسل اس معاہدے کا ضرور پالن کرے کہ ہر ایک مَرد کا ختنہ ضرور کیا جانا چاہئے۔ 11 تم اپنے چمڑے کو کاٹ ڈالو گے یہ دکھا نے کیلئے کہ تم معاہدہ کا پالن کر تے ہو۔ 12 آج کے بعد سے تمہا رے پاس پیدا ہو نے وا لے ہر نرینہ بچے کو پیدا ئش کے آٹھ دِن بعد ختنہ کر وانا ہو گا ۔ یہ قاعدہ و قانون تمہا رے گھر میں پیدا ہو نے وا لے خادِموں کیلئے اور غیر ممالک سے خرید کر لا ئے گئے نوکروں کے لئے بھی لا زمی ہو گا۔ میرے اور تیرے درمیان ہو ئے معاہدہ کیلئے یہ بطور نشانی ہو گا ۔ 13 اس طرح ہر ایک لڑکا کا ختنہ کیا جانا چاہئے۔ تمہا رے گھر میں پیدا ہو نے وا لے ہر ایک لڑکے یا پھر خریدے گئے ہر ایک لڑکے کے ساتھ یہی کیا جانا چاہئے ۔ جو معاہدہ میں نے تیرے ساتھ کیا ہے ہمیشہ کیلئے رہیگا۔ 14 کو ئی بھی نرینہ اولا د جس کا ختنہ نہ کیا گیا ہو اسے اپنے لوگوں سے کاٹ دیا جا ئے گا ۔ کیو نکہ اس طرح کی اولاد میرے معاہدہ کی نا فرمانی کر رہی ہے ۔" 15 خدا نے ابراہیم سے کہا کہ تیری بیوی سارا ئی کا میں ایک نام دیتا ہوں۔ اور اب اُس کا نیا نام سارہ ہو گا۔ 16 اُس کے حق میں برکت دوں گا اور اُس کو ایک بیٹا عطا کروں گا ۔ اور تُو ہی اُس کا باپ ہو گا ۔ اور کہا کہ بہت سی قوموں کے لئے اور بہت سے بادشاہوں کے لئے وہی اصل ماں ہو گی ۔ 17 ابراہیم اپنا چہرہ نیچے کر کے زمین پر گِرے اور ہنسے اور بولے ،" میں سو سال کا ہو گیا ہوں۔ اِس لئے مجھے اولاد ہو نا ممکن نہیں۔ سارہ کی عمر نوّے برس ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اُس کے لئے بھی ممکن نہیں ہے کہ اولاد ہو۔ 18 تب ابراہیم نے خدا سے پو چھا، " برائے مہر بانی اپنی ہمدردی اسمٰعیل پر دکھا۔" 19 اِس پر خدا نے اُس سے کہا کہ نہیں بلکہ تیری بیوی سارہ کو بھی ایک بچّہ ہو گا ۔اور تُو اُس کا نام اسحاق رکھنا میں اُس سے ایک معاہدہ کروں گا ۔ اور وہ معاہدہ ہی اُس کی نسل میں قائم و دائم رہے گا ۔ 20 "تُو نے اسمٰعیل کے حق میں جو معروضہ کیا اس کو میں نے سُن لیا ہے۔اور میں اس کو برکت دونگا اور وہ کئی بچّوں کے باپ ہو ں گے ۔اور وہ بارہ بڑے بڑے سرداروں کا باپ ہو گا ۔اور اُس کی نسل ایک عظیم قوم بن کر ابھرے گی۔ 21 لیکن میں اپنا معاہدہ اسحاق سے کر لوں گا اور سارہ سے پیدا ہو نے والا بچّہ ہی اِسحاق ہو گا ۔ اور کہا کہ اگلے برس اِسی وقت اسحاق پیدا ہوگا ۔" 22 خدا ابراہیم سے بات کر نے کے بعد آسمانی دنیا میں چلا گیا۔ 23 اسی دن ابراہیم نے اسمٰعیل کا ،اہل خانہ کے تمام نرینہ کا ،چا ہے وہ ان کے گھر پیدا ہو ئے نوکر ہوں یا زر خرید غلام ہو،خدا کے حکم کے مطا بق ختنہ کر وایا ۔ 24 ابراہیم کا جب ختنہ ہوا تو وہ ننانوے برس کے تھے ۔ 25 اور جب اسمٰعیل کا ختنہ ہوا تو وہ تیرہ برس کے تھے ۔ 26 ابرا ہیم کا اور اس کے بیٹے اسمٰعیل کا ختنہ ایک ہی دن ہوا ۔ 27 ابراہیم کے اہل خا نہ کے تمام نرینہ چاہے وہ اس کے گھر میں پیدا ہو نے والے نوکر ہوں یا غلام ہوں سب کا ختنہ کر وادیا گیا ۔

Genesis 18

1 ابراہیم ممرے کے شاہ بلوط کے درختوں کے نزدیک جب رہے تھے تو خدا وند اُسے دکھا ئی دیا ۔ ایک مر تبہ دھوپ کی شدّت کی وجہ سے ابراہیم اپنے خیمے کے دروازے کے پاس بیٹھے ہو ئے تھے ۔ 2 جب ابراہیم نے غور سے دیکھا تو اپنے سامنے تین آدمیوں کو کھڑے ہوئے پایا ۔ جب ابراہیم نے ان آدمیوں کو دیکھا تو ان لوگوں کے پاس دوڑ کر گئے اور ان لوگوں کو سجدہ کیا ۔ 3 ابراہیم نے کہا ، "اے حضور ، اپنے خادم کے ساتھ کچھ دیر ٹھہر یئے۔ 4 آپ کے پیروں کو دھو دینے کے لئے میں پا نی لا دیتا ہوں ۔ اور آپ درخت کے نیچے تھو ڑی دیر آرام کر لیں ۔ 5 اور کہا کہ میں آپ کو کھا نا لا دوں گا ۔ اور آپ سیر ہو کر کھا نا کھا نے کے بعد اپنے سفر کو جاری رکھ سکتے ہیں ۔"اُن تینوں آدمیوں نے کہا کہ تب تو ٹھیک ہے اور تُو جو کہتا ہے سو کر ۔ 6 ابراہیم جلدی سے خیمہ میں گئے اور سارہ سے کہنے لگے کہ ۔۲۰ کوارٹ آٹالو اور روٹی بناؤ ۔ 7 پھر وہ اپنے جانوروں کے رہنے کی جگہ گیا اور ایک عمدہ قسم کا کم عمر بچھڑا لا یا اور نو کر کو دیکر کہے کہ جلدی سے بچھڑے کو ذبح کر اور کھا نا تیار کر ۔ 8 ابراہیم نے ان تینوں کے لئے کھا نے کا دستر خوان چُنا ۔ بچھڑے کا گوشت پیش کیا ،مکھن اور دودھ بھی رکھا ۔ جب وہ کھا نا کھا رہے تھے تو ابراہیم ان کے پاس ایک درخت کے نیچے کھڑے تھے ۔ 9 اُن لوگوں نے ابراہیم سے پو چھا کہ تیری بیوی سارہ کہاں ہے ؟ابراہیم نے اُن کو جواب دیا کہ وہ تُو اس خیمہ میں ہے ۔ 10 تب خدا وند نے اس سے کہا کہ میں پھر موسمِ بہار میں آؤں گا۔ اور اس وقت تیری بیوی سارہ کے ایک بچہ رہے گا ۔اور سارہ اس وقت خیمہ میں رہکر ہی ان تمام باتوں کو سُن رہی تھی ۔ 11 ابراہیم اور سارہ دونوں بہت ہی ضعیف ہو گئے تھے ۔ اور سارہ کے لئے بچے پیدا ہو نے کی عمر نہ رہی تھی ۔ 12 اس لئے سارہ ہنسی ا ور اپنے دل میں کہنے لگی ، " کیا سچ مُچ میری اتنی عمر ہو نے کے بعد بھی یہ ہو سکتا ہے اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہو چکا ہے ؟"۔ 13 تب خدا وند نے ابراہیم سے کہا کہ سارہ یہ کہہ کر کیوں ہنسی کہ وہ اتنی بوڑھی ہو گئی ہے اسے بچہ نہیں ہو گا ۔ 14 کیا خدا وند کے لئے بھی کو ئی چیز نا ممکن ہو تی ہے ؟ میں تو موسمِ بہار میں پھر آؤنگا اور کہا کہ تب تیری بیوی سارہ کو ایک بچہ ہو گا ۔ 15 لیکن سارہ نے کہا کہ میں تو ہنسی نہیں ۔ اس پر خدا وند نے کہا کہ نہیں بلکہ تو جو ہنسی وہ تو سچ ہے ۔ 16 تب وہ لوگ جا نے کے لئے اٹھ کھڑے ہو ئے ۔ اور انہوں نے سدوم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا ۔ اور اسی سمت میں جانا شروع کر دیئے ۔ ان کو وداع کر نے کے لئے ابراہیم ان کے ساتھ تھو ڑی دور تک چلے گئے ۔ 17 خدا وند اپنے آپ میں یوں سوچنے لگا کہ مجھے اب جس کام کو کر نا ہے کیا وہ ابراہیم پر ظا ہر کروں ؟ 18 ابراہیم سے ایک بڑی زبردست قوم پیدا ہو گی ۔ اس کی معرفت سے اس دنیا کے تمام لوگ بر کت پائیں گے ۔ 19 میں نے اس کے ساتھ ایک خاص قسم کا معاہدہ کر لیا ہوں ۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ وہ اپنی اولادوں اور اپنی نسلوں کو حکم دیگا کہ اس راستہ پر قائم رہے جسے خدا وند چاہتا ہے ۔ وہ راستبازی اور عدل کے راستے پر چلیں گے تا کہ خدا وند ابراہیم کے لئے وہ ساری چیزیں کریں گے جس کا کہ اس نے اس سے وعدہ کیا ہے ۔ 20 تب خدا وند نے کہا ،" سدوم اور عمورہ سے زبردست چیخ و پکار کی آواز آرہی ہے ۔ ضرور ان لوگوں کا گناہ بہت برا ہے ۔ 21 اس وجہ سے میں وہاں جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ جس بات کو میں نے سُنا ہے اگر صحیح ہے تب میں جان جاؤں گا کہ یہ صحیح ہے یا غلط۔" 22 اس وجہ سے ان لوگوں نے سدوم کی طرف جانا شروع کردیا ۔ لیکن ابراہیم خدا وند کے سامنے کھڑے ہو گئے ۔ 23 ابراہیم نے خدا وند کے قریب آکر کہا ،" اے خدا وند جب تو بُروں کو تباہ کر تا ہے تو کیا نیک و راستبازوں کو بھی بر باد کر تا ہے ؟۔ 24 اگر کسی وجہ سے ایک شہر میں پچاس آدمی راستباز ہوں تو تُو کیا کرے گا ؟ کیا تو اس شہر کوتباہ کریگا ؟ ایسا ہر گز نہ ہو گا۔ وہاں کے پچاس زندہ نیک و راستبازوں کے لئے کیا تو اس شہر کو بچا کر اس کی حفاظت کریگا ۔ 25 یقیناً تم برے لوگوں کے ساتھ اچھے لوگوں کو مار نے کے لئے ایسا نہیں کریگا ۔ اگر ایسا ہو تا ہے تو یہ ظا ہر کر تا ہے کہ اچھے اور برے دونوں برابر ہیں ۔ اور تو پوری دُنیا کا حاکم ہے اور تجھے وہی کر نا چاہئے جو صحیح ہے ۔ " 26 تب خدا وند نے کہا کہ میں سدوم میں اگر پچاس نیک لوگوں کو دیکھ لوں تو میں پو رے شہر ہی کو بچا کر اس کی حفاظت کروں گا ۔ 27 تب ابراہیم نے خدا وند سے کہا کہ اگر تجھ میں اور مجھ میں مماثلت پیدا کی جائے تو میں تو صرف دھول و گرد اور راکھ کے برابر ہوں گا ۔ اور مجھے موقع دے کہ میں اس سوال کو پوچھوں ۔ 28 اور پوچھا کہ اگر کسی وجہ سے ان میں سے پانچ آدمی کم ہوکر صرف پینتالیں آدمی راستباز ہوں تو کیا تو اس شہر کو تباہ کریگا ؟اس پر خدا وند نے اس سے کہا کہ اگر میں پینتالیں نیک آدمیوں کو دیکھوں تو اس شہر کو تباہ نہ کروں گا ۔ 29 پھر ابراہیم نے خدا وند سے کہا کہ اگر تو صرف چالیس نیک لوگوں کو دیکھے تو کیا تو اس شہر کو تباہ کر دیگا ؟خدا وند نے اس سے کہا کہ اگر میں چالیس نیک آدمیوں کو دیکھوں تو اس شہر کو تباہ نہ کروں گا ۔ 30 تب ابراہیم نے خدا وند سے کہا کہ مجھ پر غصہ نہ ہو ۔ اور میں اس سوال کو پوچھوں گا ۔ اگر کسی شہر میں صرف تیس نیک آدمی ہوں تو کیا تو اس شہر کو تباہ کریگا ؟خدا وند نے اس سے کہا کہ اگر وہاں تیس آدمی بھی نیک ہوں تو میں ان کو تباہ نہ کروں گا ۔ 31 پھر ابراہیم نے کہا کہ میرا خدا وند کچھ بھی کیوں نہ سمجھے ۔ لیکن میں تو ایک اور سوال ضرورکروں گا۔ پوچھا کہ اگر بیس آدمی راستباز ہوں تو کیا کریگا ؟خدا وند نے اس سے کہا کہ اگر میں وہاں بھی بیس نیک آدمیوں کو پاؤں تو اس کو تباہ نہ کروں گا ۔ 32 پھر ابراہیم نے خدا وند سے کہا ، " برائے مہر بانی مجھ پر غصہ نہ کر ۔ صرف ایک مرتبہ اور سوال پوچھوں گا ۔ اگر تو صرف میں دس نیک آدمی دیکھے ،تو تُو کیا کریگا ؟" خدا وند نے اس سے کہا کہ اگر اس شہر میں صرف دس نیک آدمیوں کو پاؤں تو میں اس کو تباہ نہ کروں گا ۔ 33 خدا وند نے جب ابراہیم سے باتیں کر نا ختم کیں تو وہاں سے چلا گیا ۔ اور ابراہیم بھی خود وہاں سے اپنے گھر کو واپس چلے گئے ۔

Genesis 19

1 اُس روز شام کو دونوں فرشتے سدوم شہر کو آئے۔ شہر کے دروازوں کے قریب بیٹھا ہو ا لوط نے فرشتوں کو دیکھا اور سوچا کہ یہ لوگ شہر سے گذر رہے ہیں۔ اُن کے قریب جا کر اُن کو سلام کیا۔ 2 لوط نے اُن سے کہا ،" اے جناب مہربانی فرما کر میرے گھر تشریف لا ئیں اور میں آپ کی خاطر تواضع کروں گا ۔ آپ اپنے ہاتھ پیر دھو کر ہما رے گھر میں مہمان ہو جا ؤ۔ اور پھر کل صبح آپ اپنے سفر پر نکل سکتے ہیں۔" فرشتوں نے جواب دیا کہ اِس چوراہا میں ہم رات گذار دیں گے۔ 3 لیکن لوط نے اُن سے اصرار کیا کہ وہ اُس کے گھر چلیں تو وہ اُس کے گھر گئے۔ لوط نے اُن کے لئے کھانا تیار کروا یا ۔ اور روٹیاں ڈلوایا ۔ فرشتوں نے کھانا کھایا۔ 4 اُس رات سونے سے قبل سدو م کے جوان اور بوڑھے مَرد آئے اورلو ط کے گھر کے اطراف محاصرہ کر کے لوط سے پو چھا، 5 تیرے گھر آئے ہو ئے وہ دو آدمی(فرشتے) کہاں ہیں؟ اُن کو باہر بھیجو تا کہ ہم لوگ صحبت کر سکیں۔ 6 لوط با ہر آیا، اور دروازے کو بند کر دیا ۔ 7 اُن مردوں سے کہا کہ اے میرے بھا ئیو! میں تم سے گذارش کر رہا ہوں کہ یہ بُرا فعل نہ کرو۔ 8 دیکھو! میری دو بیٹیاں ہیں۔ وہ اِس سے قبل کسی مرد کے ساتھ نہیں سوئیں۔ تم اُن سے جو چاہو سو کرو لیکن مہربانی کر کے اِن مردوں کو ہا تھ نہ لگا ؤ۔ یہ میرے مہمان ہیں۔ اور کہا کہ ان کی پو ری حفاظت میری ذمّہ داری ہے ۔ 9 گھر کو گھیرے ہو ئے مردوں نے اُس سے کہا ،" تم یہاں آؤ!" وہ زوردار آواز میں پکا رے۔ تب اُس کے بعد وہ آپس میں کہنے لگے کہ یہ لوط ہما رے شہر کو ایک مسافر کی طرح آیا تھا اور ہم کو ہی نصیحت کی باتیں سکھا رہا ہے کہ کیسے زندگی گذارنا چاہئے۔ اُس کے بعد اُنہوں نے لو ط سے کہا کہ اُن مردوں سے بڑھ کر ہم تیرے ساتھ بُرا سلوک کریں گے۔ اِس طرح کہتے ہو ئے لو ط کے قریب آئے اور دروازہ توڑ ڈالنے پر تُل گئے۔ 10 لیکن گھر میں جو آدمی تھے اُنہوں نے دروازہ کھو لا اور لو ط کو گھر میں کھینچ لے گئے اور دروازہ بند کر لئے ۔ 11 اُن دو آدمیوں نے ا ن تمام مردوں کو جو گھر کے باہر کھڑے تھے جوان سے بوڑھا بنا دیا اور اندھا بنا دیا گیا ۔ جس کی وجہ سے وہ گھر کی تمیز نہ کر سکے ۔ 12 ان دونوں آدمیوں نے لوط سے کہا کہ کیا تیرے خاندان کے دیگر لوگ اس شہر میں ہیں ؟تیرے کوئی داماد یا کو ئی لڑ کے یا کو ئی بیٹیاں یہاں رہتے ہیں ؟اگر تیرے خاندان کے کوئی افراد اس شہر میں ہیں تو ان سے کہہ دینا کہ فوراً یہاں سے چلے جائیں۔ 13 ہم اس شہر کو نیست و نابود کر دیں گے ۔ اس لئے کہ اس شہر کی بُرائی کو خدا وند نے دیکھا ہے ۔ اس وجہ سے اس شہر کو نیست و نابود کر نے کے لئے اسی نے ہم لوگوں کو بھیجا ہے ۔ 14 اس لئے لوط باہر گئے اور اپنے دامادوں سے جنہوں نے ان کی بیٹیوں سے شادی کی تھی بولے ، " فوراً اس شہر کو چھو ڑ کر چلے جاؤ ، اس لئے کہ خدا وند اس شہر کو تباہ کر نے والا ہے ۔ " لوط کی یہ بات ان کے لئے صرف مذاق معلوم ہو ئی ۔ 15 طلوع آفتاب سے پہلے فرشتوں نے لوط کو شہر چھوڑ نے پر اصرار کیا اور کہا یہ شہرا ب تباہ ہو رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے تو اپنی بیوی اور اپنی دونوں بیٹیوں کو ساتھ لیکر اس جگہ سے بھاگ جا تب توتُو ان شہر والوں کے ساتھ تباہ ہو نے سے بچ جائے گا ۔ 16 لیکن لوط شہر کو چھوڑ نے میں دیر کیا تو وہ دونوں آدمی نے لوط کو اور اس کی بیوی کو اور اسکی دونوں بیٹیوں کو پکڑ کر محفوظ طریقے سے شہر کے باہر لا چھو ڑا ۔ اس طرح خدا وند نے لوط پر اور اس کے خاندان والوں پر مہربان ہوا ۔ 17 جب وہ شہر کے باہر آ ئے تو ان دو آدمیوں میں سے ایک نے کہا کہ اب بھاگ جاؤ اور اپنی جان بچا کر اس کی حفاظت کرو ۔ اور شہر کی طرف مُڑ کر بھی نہ دیکھو ۔ اور گھا ٹی کی کسی جگہ بھی نہ ٹھہر نا ۔ وہاں سے چھٹکارہ پا کر پہاڑوں میں بھاگ جاؤ ۔ اور کہا کہ اگر ایسا نہ کرو گے تو تم بھی شہر والوں کے ساتھ تباہ ہو جاؤ گے ۔ 18 لیکن لوط نے اُن لوگوں سے کہا ، " اے آقاؤ و رہنماؤ! مہر بانی کر کے دور بھا گے جانے پر ہمیں جبر نہ کرو ۔ 19 تو نے مجھ پر رحم کی ہے ۔ میں تیرا خادم ہوں تو نے میری حفاظت کی ہے لیکن میں پہاڑوں تک اتنا دور دوڑ کر نہیں جا سکتا ۔ اگر میں کافی دھیرے جاؤں تو مصیبتیں مجھ پر آئیگی اور میں مر جاؤں گا ۔ 20 وہ دیکھو !وہاں پر ایک چھو ٹا سا گاؤں ہے جو اتنا نزدیک ہے کہ بھاگ کر جا سکتا ہوں ۔ مجھے وہاں پر بھاگ کر جانے کی اجازت دو ۔ اگر میں وہاں بھاگ کر جاؤں تو میں محفوظ ہو جاؤں گا ۔ " 21 فرشتوں نے لوط سے کہا کہ ٹھیک ہے تجھے اس بات کی اجازت ہے ۔ اور میں اس گاؤں کو تباہ نہ کروں گا ۔ 22 لیکن تو وہاں جلدی سے بھا گ جا ۔ اور کہا کہ تو اس مقام کو خیریت سے پہنچنے تک سدوم کو تباہ نہ کیا جائے گا ۔ (اس گاؤں کو صغر کے نام سے پکارا گیا کیوں کہ وہ ایک چھو ٹا گاؤں تھا ۔ ) 23 سورج کے طلوع ہو تے وقت لوط صغر میں داخل رہے تھے ۔ 24 تب خدا وند نے سُدوم اور عمورہ شہروں پر آسمان سے گندھک اور آ گ کی بارش بر سائی ۔ 25 اس طرح خدا وند نے ان دونوں شہروں کو تباہ کر دیا ۔ مکمل گھا ٹی کو اور اس میں کی ہری بھری فصلوں اور شہروں میں بسنے والے تمام لوگوں کو تباہ و تاراج کر دیا ۔ 26 جب وہ بھا گ رہے تھے تو لوط کی بیوی شہر کی طرف مڑ کر دیکھی تو فوراً ہی وہ نمک کا ڈھیر بن گئی ۔ 27 اس دن صبح ابراہیم اٹھ کر اسی جگہ گیا جہاں وہ خدا وند کے سامنے پہلے کھڑے تھے ۔ 28 ابراہیم نے سُدوم اور عمورہ شہروں کی طرف ،اور گھا ٹی والے علا قے کی طرف دیکھا تو ان علا قوں سے دھواں بلندی کی طرف اٹھ رہا تھا ۔ یہ بھٹی سے اٹھتے ہو ئے دھوئیں کی مانند تھا ۔ 29 خدا نے ان حدود میں پڑ نے والے شہروں کو تباہ کر نے کے بعد بھی ابراہیم کو یاد کر کے لوط کی جان بچائی ۔ لیکن وہ شہر کہ جس میں لوط رہتے تھے اس کو تباہ کر دیا ۔ 30 صغر میں سکونت اختیار کئے ہو ئے رہنے پر لوط کو خوف ہو نے لگا ۔جس کی وجہ سے وہ اور اس کی بیٹیاں پہاڑوں میں جاکر ایک غار میں رہنے لگے ۔ 31 ایک دن بڑی بہن چھو ٹی بہن سے کہنے لگی کہ یہاں پر کو ئی بھی مرد بچا ہوا نہیں ہے جو ہمیں دُنیا کے دستور کے مطا بق بچہ دے سکے ۔ اور ہمارا باپ بھی بوڑھا ہو چکا ہے ۔ 32 لیکن ہم تو اولاد کو باپ سے ہی پالیں گے ۔ تب نسل محفوظ ہو جائے گی ۔ آؤ ہم اپنے باپ کو نشہ میں چور کر کے اس کے ساتھ ہمبستری کریں گے ۔ 33 اسی رات وہ اپنے باپ کو مئے پلا کر نشہ میں مد ہوش کیا ۔ تب بڑی بیٹی اپنے باپ کے بستر پر گئی ۔ اور اس کے ساتھ ہمبستر ہو ئی ۔ چونکہ لوط نشہ میں مست تھا جس کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ ہمبستر ہو نے کو محسوس نہ کیا ۔ 34 دوسرے دن بڑی لڑکی اپنی چھو ٹی بہن سے کہنے لگی ، "گزری رات میں اپنے باپ کے ساتھ ہمبستر ہو ئی ۔ آج کی رات بھی اس کو مئے پلا کر نشہ میں لاؤں گی ۔ تب تو بھی اس کے ساتھ ہمبستر ہو سکے گی ۔ اور اس طرح ہماری نسل محفوظ ہو جائے گی ۔ " 35 اس رات بھی انہوں نے اپنے باپ کو مئے پلا کر نشہ میں مدہوش کئے ۔ تب اس کی چھو ٹی بیٹی اس کے ساتھ ہم بستر ہو ئی ۔ اس کے سو نے کی خبر لوط کو نہ ہو ئی ۔ 36 اس طرح لوط کی دونوں بیٹیاں باپ ہی سے حاملہ ہو ئیں ۔ 37 پہلو ٹھی بیٹی سے ایک بیٹا پیدا ہوا اس نے اس کا نام موآب رکھا ۔ اب تمام موآبیوں کے لئے موآب ہی جدّ اعلیٰ ہے ۔ 38 چھو ٹی بیٹی سے بھی ایک لڑ کا پیدا ہوا ۔ اس نے اپنے لڑ کے کا نام بن عمّی رکھا اب جو بنی عمّون ہیں ان کے لئے بن عمّی ہی جدّ اعلیٰ ہے ۔

Genesis 20

1 ابراہیم وہاں سے نکلے اور نیگیو کے لئے سفر شروع کئے۔ قادس اور شور کے درمیان واقع جِرار میں سکونت اختیار کی۔ 2 ابراہیم جب جِرار میں مقیم تھے تو وہاں سارہ کو اپنی بہن کا رشتہ بتاتا تھا۔ جِرار کا بادشاہ ابی ملک اِس بات کو سُن کر کچھ نوکروں کو سارہ کو لینے کے لئے بھیجا۔ 3 لیکن اُس رات خدا نے ابی ملک کے ساتھ خواب میں باتیں کیں اور کہا کہ تو مر جا ئیگا ۔ اور تو نے جس عورت کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے وہ تو شادی شدہ عورت ہے ۔ 4 ابی ملک اب تک سارہ کے ساتھ ہم بستر نہ ہوا تھا۔ اِس وجہ سے ابی ملک نے خداوند سے کہا کہ میں مجر م ہوں۔ اور کہا کہ کیا تو ایک بے گناہ کو قتل کرے گا ؟۔ 5 خود ابراہیم نے کہا ہے کہ یہ میرا بھا ئی ہے ۔ میں تو معصوم اور بے گناہ ہوں اور کہا کہ میرا نا کر دہ گناہ مجھے سمجھ میں نہ آیا ۔ 6 تب خدا نے ابی ملک سے خواب میں کہا کہ ہاں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تو بے گناہ ہے ۔ اور تیرے نا کردہ گناہ کا تجھے احساس نہ ہونے کی بات کابھی مجھے علم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے تیری حفاظت کی ہے ۔ میری مرضی کے خلاف تجھے گناہ کر نے کا میں نے موقع ہی نہ دیا ۔ 7 اس وجہ سے ابراہیم کو اس کی بیوی اس کے حوالے کر دے ۔ ابراہیم چونکہ نبی ہیں اور وہ تیرے لئے دُعا کریں گے اور تو زندہ رہے گا ۔ اور اگر تو نے سارہ کو ابراہیم کے حوالے نہ کیا تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تُو اور تیرا سارا خاندان ہلاک ہو جائیں گے ۔ 8 اس وجہ سے دُوسرے دن صبح ابی ملک نے اپنے تمام نوکروں کو بلا کر ان سے اپنا خواب سُنایا ۔ اور ان سبھوں کو بہت خوف ہوا ۔ 9 تب ابی ملک نے ابراہیم کو بلایا اور کہا کہ تُو نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟اور میں نے تیرے خلاف کیا کیا ہے ؟اور تو نے اس سے بہن ہو نے کا جھو ٹا رشتہ کیوں بتا یا ؟ اور تُو نے میری حکومت کے لئے مصیبت کو دعوت دی ہے ۔ اور تجھے ایسا نہ کر نا چاہئے تھا ۔ 10 تو کس لئے خوف زدہ ہوا ؟اور پوچھا کہ تُونے مجھ سے ایسا کیوں کیا ؟ 11 ابراہیم نے اس سے کہا کہ مجھے خوف دامن گیر ہوا ۔ اور میں سمجھ گیا کہ اس جگہ کسی کو بھی خدا کا خوف نہیں ہے ۔ اور میں نے یہ بھی سوچا کہ کو ئی بھی قتل کر کے سارہ کو حاصل کر لے گا ۔ 12 یہ بات سچ ہے کہ وہ میری بیوی تو ہے ،لیکن اس کے با وجود وہ میری بہن بھی تو ہے ۔ اور وہ میرے باپ کی بیٹی ہے ۔ لیکن میری ماں کی بیٹی نہیں ۔ 13 خدا نے مجھے میرے باپ کے گھر سے نکال دیا ہے، اور دوسرے مقامات کا دورہ کر نے والا بنایا ہے جس کی وجہ سے میں نے سارہ سے کہا کہ تیری جانب سے مجھ پر ایک احسان ہو ۔ وہ یہ کہ تم جہاں کہیں بھی جاؤ لوگوں سے کہنا کہ میں ان کی بہن ہوں ۔ 14 تب ابی ملک نے ان سارے واقعات کو جو پیش ہو ئے تھے سمجھ لیا اور سارہ کو ابراہیم کے حوالے کر دیا ۔ اس کے علاوہ بکریوں کو ،جانوروں کو ،نوکروں اور لونڈیوں کو اسے دیا ۔ 15 ابی ملک نے ابراہیم سے کہا کہ دیکھو یہ میرا ملک ہے ۔ اس میں تیرا جی جہاں چاہے سکونت اختیار کر ۔ 16 ابی ملک نے سارہ سے کہا میں تیرے بھا ئی ابراہیم کو ایک ہزار چاندی کے سکّے دوں گا ۔ پیش آئے ہوئے ان واقعات کے لئے یہ بطور فدیہ ہو گا ۔ اور کہا کہ تیرا بے عیب ہو نا ہر ایک کے لئے گواہ بنے ۔ 17 خدا وند نے ابی ملک کے خاندان میں پا ئی جانے والی تمام عورتوں کو بانجھ بنادیا۔ خدا نے ایسا کیا کیوں کہ ابی ملک نے سارہ کو لے لیا تھا ۔ جب ابراہیم نے خدا سے دُعا کی تو خدا نے ابی ملک کو ،اس کی بیوی کو اور اسکی خادمہ لڑ کیوں کو شفاء بخشا ۔ 18

Genesis 21

1 خداوند نے سارہ سے جو وعدہ کیا تھا اُس کو با قاعدہ پوُرا کیا۔ 2 سارہ عمررسیدہ ابراہیم سے حاملہ ہو ئی اور ایک بیٹا کو جنم دیا۔ یہ سب کچھ ٹھیک اسی وقت ہوا جس کے بارے میں خدا نے کہا تھا کہ ہو گا ۔ 3 سارہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ابراہیم نے اس کا نام اسحاق رکّھا۔ 4 جب اِسحاق کو پیدا ہو ئے آٹھ دِن ہو ئے تھے، خدا کے حکم کے مُطابق ابراہیم نے اس کا ختنہ کر وایا ۔ 5 جو ان کا بیٹا اِسحاق پیدا ہو ئے تو ابرا ہیم کی عمر سو سال تھی۔ 6 سارہ نے کہا ،"خدا نے مجھے خوشی بخشی ہے اور ہر کو ئی جو اس کے با رے میں سنیں گے وہ مجھ سے خوش ہونگے۔ 7 کو ئی بھی سوچ نہیں سکتا تھا کہ ابراہیم کو سارہ سے کو ئی بیٹا ہو گا ۔ اور اُس نے کہا کہ ابرا ہیم کے ضعیف ہو نے کے با وجود اب میں اُس کو ایک بیٹا دیا ہوں۔" 8 جب اِسحاق بڑا ہو کر کھا نا کھانے کی عمر کو پہنچا ۔ تب ابراہیم نے ایک بڑی ضیافت کر وا ئی ۔ 9 پہلے پہل مصر کی لونڈی ہا جرہ کے یہاں ایک لڑ کاپیدا ہوا تھا۔ اور ابرا ہیم اُس کا باپ تھا ۔ سارہ دیکھی کہ ہاجرہ کا بیٹا کھیل رہا ہے ۔ 10 سارہ نے ابراہیم سے کہا کہ اُس لونڈی کو اور اُس کے بچے کو کہیں دُور بھیج دے ۔ تا کہ جب ہم دونوں مر جا ئیں تو ہما ری تمام تر جائیداد کا وارث صرف اِسحاق ہی ہو گا ۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتی ہوں کہ لونڈی کا بیٹا اِسحاق کے ساتھ وراثت میں حصّے دار ہو۔ 11 ابرا ہیم کو بہت دُکھ ہو ا ۔ اور اپنے بیٹے کے بارے میں فکر مند ہو ئے ۔ 12 لیکن خدا نے ابرا ہیم سے کہا ،" تو اس بچے یا اُس لونڈی کے بارے میں پریشان نہ ہو اور سارہ کی مرضی کے مُطابق ہی کر۔ اِسحاق ہی تیرے خاندانی سلسلہ کو جا ری رکھے گا۔ 13 لیکن میں تیری لونڈی کے بیٹے کے خاندان سے ایک بڑی قوم بنا ؤں گا ۔ کیوں کہ وہ تمہا را بیٹا ہے ۔" 14 دُوسرے دِن صبح ابراہیم نے تھو ڑا سا اناج اور تھو ڑا سا پانی لیا اور ہاجرہ کو دے دیا۔ اور اُسے دُور بھیج دیا ۔ ہاجرہ نے اُس جگہ کو چھو ڑدی اور بیرسبع کے ریگستان میں بھٹکنے لگی ۔ 15 تھو ڑی دیر بعد پانی بھی ختم ہو گیا اور پینے کے لئے کچھ با قی نہ رہا ۔اِس وجہ سے ہاجرہ نے اپنے بیٹے کو جھا ڑی میں سُلا دیا۔ 16 ہاجرہ تھوڑی سی دُور، لگ بھگ ایک تیر کی دُور ی یعنی جتنی دُور جا کر وہ گرتی ہے گئی اور بیٹھ گئی اور رونا شروع کر دی۔ اُس نے کہا ،" میں اپنے بیٹا کو مرا ہوا دیکھنا نہیں چاہتی ہوں۔" 17 لڑکے کی آواز خدا کو سُنا ئی دی ۔ تب جنت کا فرشتہ اُسے بُلا یا ۔ اور کہا کہ اے ہاجرہ تجھے کیا ہوا ہے ؟ تو گھبرا مت اس لئے کہ لڑکے کی آوا ز کو خداوند نے سُن لیا ہے ۔ 18 اٹھو، لڑکے کو لو اور اُس کے ہا تھ کو کس کر پکڑو۔ میں اُس کو وہ کروں گا جس سے ایک بڑی قوم کا سلسلہ جا ری ہو گا ۔ 19 اُس کے بعدخدا نے ہاجرہ کو پانی کے ایک کنواں کی طرف رہنما ئی کی۔ تو ہاجرہ پانی کے اُس کنواں پر گئی اور مشکیزہ کو پانی سے بھر دیا اور اُس نے اُس لڑکے کو پانی دیا ۔ 20 خدا اُس بچے کے ساتھ تھا اور وہ بچہ بڑا ہوا ۔ بیابان میں زندگی گذارنے کی وجہ سے وہ بہترین تیر انداز ہو گیا تھا۔ 21 اُس کی ماں نے اُس کے لئے مصر سے ایک لڑکی لا ئی اور اُس سے شادی کر وا ئی۔ اور اُس نے فاران کے ریگستان میں اپنی سکونت کو جا ری رکھا۔ 22 تب ابی ملک او رفیکل نے ابراہیم سے گفتگوکی ۔ فیکل ابی ملک کا سپہ سالار تھا۔ ابی ملک نے ابرا ہیم سے کہا کہ تُو جو کام بھی کر تا ہے اُس میں خدا تیرے ساتھ ہے ۔ 23 جس کی وجہ سے تو میرے ساتھ اور میرے بچوں کے ساتھ ایمان داری سے رہنے پر خدا کی قسم کھا ۔ اور اِس بات کی بھی قسم کھا کہ تو میرے ملک کا جہاں کہ تو رہا ہے وفادار ہو گا ۔ اور اس بات کی بھی قسم کھا کہ جس طرح میں نے تیرے ساتھ عنایت کی ہے اُسی طرح تُو بھی میرے ساتھ محبت کرے گا ۔ 24 اُس پرابراہیم نے کہا ، " میں وعدہ کر تا ہوں ۔" 25 تب ابراہیم نے ابی ملک سے شکایت کی کہ تیرے نوکروں نے تو پا نی کے ایک چشمہ پر اپنا قبضہ جما لیا ہے ۔ 26 اس پر ابی ملک نے کہا کہ وہ کام کس نے کیا ہے اُس بات کا علم نہیں ہے ۔ اور نہ ہی تُو نے آج تک اِس بات کو میرے علم میں لا یا ۔ 27 تب ابراہیم اور ابی ملک نے ایک معاہدہ کیا ۔ ابراہیم نے اس کو چند بکریاں اور جانور معاہدہ کی علا مت کے طور پر دے دیئے ۔ 28 اس کے علا وہ ابراہیم نے غول سے سات مادہ بکری کے بچوں کو الگ کر دیا ۔ 29 ابی ملک نے ابراہیم سے پو چھا ، " تو یہ سات مادہ میمنہ اپنے پاس کیوں رکھا ہے ؟" 30 ابراہیم نے جواب دیا کہ جب تو بکریوں کے ان بچوں کو قبول کرو گے تو یہ اس بات کی گواہی ہو گی کہ اس چشمہ کو کھد وانے والا میں ہی ہوں ۔ 31 وہ ایسی جگہ پر معاہدہ کر نے کی وجہ سے اُس چشمہ کا نام "بیر سبع "ہوا ۔ 32 بیر سبع میں معاہدہ ہو نے کے بعد ابی ملک اور اسکے فوج کا سپہ سالار فیکل فلسطینیوں کے ملک میں واپس چلا گیا ۔ 33 ابراہیم نے بیر سبع میں ایک خاص قسم کا درخت لگا یا ۔ اور وہ اُسی جگہ پر ہمیشہ رہنے والے خدا وند خدا سے دُعا کیا ۔ 34 اور وہ ایک عرصہٴ دراز تک فلسطینیوں کے ملک میں قیام پذیر تھا ۔

Genesis 22

1 ان تمام باتوں کے بعد خدا نے ابراہیم کو آزمایا ۔ خدا نے آواز دی " ابراہیم !" ابراہیم نے جواب دیا ، " میں یہاں ہوں ۔ " 2 تب خدا نے اس سے کہا کہ تیرا بیٹا یعنی تیرا اکلوتا بیٹا اسحاق کو جسے تو پیار کر تا ہے موریاہ علاقے میں لے جا ۔ میں تجھے جس پہاڑ پر جانے کی نشاندہی کروں گا وہاں جاکر اپنے بیٹے کو قربان کر دینا ۔ 3 صبح ابراہیم اٹھا اور اپنے گدھے پر زین کسا ۔ اسحاق کے ساتھ مزید دو نوکروں کو لیا ۔ اور قربانی پیش کر نے کے لئے لکڑی جمع کی اور خدا کی بتلائی ہوئی جگہ کے لئے روانہ ہو گئے ۔ 4 اس نے تین دن تک مسلسل سفر کئے ۔ ابراہیم نے جب غور سے دیکھا تو مطلوبہ جگہ ان کو دور سے دِکھا ئی دی ۔ 5 اس کے بعد ابراہیم نے اپنے نوکروں سے کہا کہ یہیں پر گدھے کے ساتھ رُکو ۔ میں اور میرا بیٹا دونوں جاکر اس جگہ پر عبادت کریں گے ۔ پھر اس کے بعد ہم واپس لوٹ کر تمہارے پاس آئیں گے ۔ 6 ابراہیم قربانی کے لئے لکڑیاں جمع کر کے ان کو اپنے بیٹے کے کندھوں پر لا دا ۔ ابراہیم خاص قسم کی چھُری اور انگارہ ساتھ لئے وہ دونوں ساتھ ساتھ آگے چلے گئے ۔ 7 اِسحاق اپنے باپ ابراہیم کو کہا ، "ابّا" ابراہیم نے جواب دیا اور پوچھا ، "کیا بات ہے بیٹے "اِسحاق نے کہا ، "لکڑیاں اور آ گ تو مجھے نظر آرہی ہے ۔ لیکن قربانی کے لئے میمنہ (بھیڑ کا بچّہ) کہاں ہیں ؟" 8 ابراہیم نے کہا کہ بیٹے !قربانی کے لئے مطلوبہ میمنہ کو خدا ہی فراہم کر تا ہے ۔ 9 خدا کی رہنمائی کردہ جگہ پر آئے وہاں پر ابراہیم نے ایک قربان گاہ بنائی ۔ اور پر لکڑیوں کو ترتیب دیا ۔ اس کے بعد وہ اپنے بیٹے اسحاق کے ہاتھ پیر جکڑ کر قربان گاہ کے اوپر جو لکڑیاں ترتیب دی گئی تھیں اس کے اوپر لِٹا دیا۔ 10 تب اس نے اپنے بیٹے کو قربان کر نے مے لئے چُھر ی کو اوپر اٹھا ئی ۔ 11 خدا وند کا فرشتہ جنت سے ابراہیم کو پکارا ، " ابراہیم ،ابراہیم !" ابراہیم نے جواب دیا ، "میں یہاں ہوں ۔ " 12 خدا کے فرشتے نے کہا کہ تُو اپنے بیٹے کو قربان نہ کر اور نہ ہی اسے کسی قسم کی تکلیف دے ۔ اب میں جانتا ہوں کہ تم خدا سے ڈرتے ہو ، کیوں کہ تم نے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کر نے میں پس و پیش نہیں کیا ۔" 13 جب ابراہیم نے آنکھ اُٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک مینڈھا نظر آیا۔ اُس مینڈھے کا سینگ ایک جھا ڑی میں پھنس گیا تھا۔ وہ فوراً وہاں گیا۔ اور اُس مینڈاھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کی جگہ اُس مینڈھے کو قربان کر دیا ۔ 14 جس کی وجہ سے اُس جگہ کا نام " یہوہ یری " ہوا ۔ آج بھی لوگ کہتے ہیں،" اس پہا ڑ پر خداوند کی رویا دیکھی جا سکتی ہے ۔" 15 خداوند کا فرشتہ ابراہیم کو آسمان سے دوسری مرتبہ آکر بلا یا ،۔ 16 اور کہا ،" خدا یہ کہتا ہے :کیوں کہ تم یہ کرنے کے لئے تیار تھے ۔ میں بھی یقین کے ساتھ وعدہ کروں گا ۔ کیوں کہ تم نے اپنے اکلوتے بیٹے کو مجھ سے نہیں رو کا ۔ 17 میں یقینی طور پر تجھے بر کت دونگا ۔ تیری نسل کے سلسلے کو بھی بڑھا ؤنگا ۔ تیری قوم اور نسل آسمان میں تاروں کی طرح اور سمندر کے ساحل پر ریت کے ذرّوں کی طرح لا تعداد ہوں گی ۔ اور وہ اپنے دُشمنوں کے شہروں کو اپنے قابو میں کر لیں گے ۔ 18 اور کہا ، "کیوں کہ تو نے میری فرماں برداری کی ۔ اور ساری قوم تیری نسل کے وسیلے سے برکت پائے گی ۔ " 19 پھر اس کے بعد ابراہیم اپنے نوکروں کے پاس واپس لوٹ گیا ۔ اور وہ سب کے سب لوٹ کر بیر سبع کا دوبارہ سفر کئے ۔ اور پھر ابراہیم وہیں پر مقیم ہوئے ۔ 20 ان تمام واقعات کے پیش آنے کے بعد ابراہیم کو ایک پیغام ملا۔ اور وہ پیغام یوں ہے کہ تیرے بھا ئی نحور اور اسکی بیوی مِلکاہ صاحبِ اولاد ہو گئے ہیں ۔ 21 پہلوٹھے بیٹے کا نام عُوض تھا ۔ اور دوسرے بیٹے کا نام بُوز تھا ۔ اور تیسرے بیٹے کا نام قموایل تھا ۔ اور یہ ارام کا باپ تھا ۔ 22 اِن کے علا وہ کسد ،حزو،ُفلداس،اور اِدلاف،بیتوایل،وغیرہ بھی ہیں ۔ 23 اور بیتو ایل ،رِبقہ کا باپ تھا ۔ اور ملکاہ اِن آٹھ بچّوں کی ماں تھی ۔ اور نحور اُن کا باپ تھا ۔ اور نحور ابراہیم کا بھا ئی تھا ۔ 24 ان کے علا وہ نحور کو اُس کی خادمہ عورت رَومہ سے چار لڑکے تھے ۔ وہ لڑکے کون تھے ۔ طبخ،جاحم،تخص اور معکہ۔

Genesis 23

1 سارہ ایک سو ستا ئیں برس زندہ رہی۔ 2 وہ ملک کنعان کے قریت اربع(حِبرون) میں وفات پا ئی ۔ ابراہیم اُس کے لئے وہاں بہت روئے۔ 3 تب وہ اُس کی میت کے پاس سے اُٹھ کر حِیتوں کے پاس گئے۔ 4 " اُ ن سے کہا کہ میں اس خطہ کا رہنے وا لا نہیں ہوں ۔ اور میں یہاں صرف بحیثیتِ مسافر ہوں۔ اور کہا کہ میری بیوی کی قبر کے لئے تھو ڑی سی جگہ چاہئے۔" 5 حِیتوں نے ابراہیم سے کہا، 6 " اے آقا آپ ہما رے درمیان زبردست قائد ہیں۔ آپ کی مرحومہ بیوی کی قبر کے لئے ہمارے قبرستانوں میں سب سے اچھّی جگہ کا انتخاب کر لے ۔ اور ایسا کرنے کیلئے ہم میں سے کو ئی نہیں روکے گا ۔" 7 ابراہیم اُٹھے اور لوگوں کو سلام کئے۔ 8 اور اُن سے کہا ، " میری مرحومہ بیوی کی تدفین کے لئے اگر حقیقی معنوں میں آپ لو گ میری مدد کرنا چاہتے ہیں تو صحر کے بیٹے عِفرون سے میری خاطر سفارشی بات چیت کیجئے۔ 9 مکفیلہ کے غار کو خریدنے کی میری آرزو ہے ۔ اور وہ عفرون کی ہے ۔ اور وہ اُس کی زمین سے متصل ہے ۔ اور اُس کی جو قیمت ہو سکتی ہے اُس کو میں پوری ادا کر د وں گا۔ اور کہا کہ میں نے اُس کو قبرستان کی جگہ کیلئے خریدا ہے اس بات پر تم سب گواہ رہنا ۔" 10 عفرون شہر کے صدر درواز ے کے نز دیک حتِّیوں کے ساتھ بیٹھا ہو ا تھا۔ اس نے ابراہیم سے اونچی آواز میں بات کی تا کہ ہر کو ئی جو وہا ں حاضر ہے اس کی آواز سُن سکے ۔ اس نے کہا ، 11 " اے میرے آقا! میں اُس جگہ کو اور اُس غار کو اپنے لو گوں کی موجود گی میں تجھے دیدوں گا ۔ اور کہا کہ اُس جگہ پر تو اپنی مرحومہ بیوی کو دفن کر نا ۔" 12 تب ابراہیم نے حِتّیوں کے سامنے اپنا سر جھکا کر اُن کو سلام کیا ۔ 13 ابراہیم تمام لوگوں کے سامنے عفرون سے کہا تا کہ ہر کو ئی سُن سکے،" میں اُس زمین کی پوری قیمت تجھے دیتا ہوں۔ اگر تو رقم لے لے گا تب ہی میں اپنی مرحومہ بیوی کو وہاں دفن کروں گا۔ 14 عفرون نے ابرہیم سے کہا ، 15 " اے میرے آقا ، میری بات تو سُن۔ اُس جگہ کی قیمت تو صرف چارسو مثقال چاندی ہے ۔ اس رقم کی میرے لئے ہو یا تیرے لئے کچھ بھی حیثیت نہیں ہے ۔ لیکن پہلے جگہ کو حاصل کر لے اور اپنی مرحومہ بیوی کودفن کر دے ۔" 16 تب ابراہیم نے اُس جگہ کیلئے چار سو چاندی کے سکّے عفرون کو گِن کر دئیے۔" 17 یہ زمین ممرے کے نز دیک مکفیلہ میں تھی۔ ابراہیم اُس زمین اور اس کے غار کا ، اور اُس زمین میں پا ئے جانے تمام درختوں کا مالک ہو گیا ۔ جب عفرون اور ابراہیم کے بیچ معاہدہ ہو ا تھا تو تمام اہلیان شہر گواہ بن گئے تھے۔ 18 19 تب ابراہیم نے اپنی مرحومہ بیوی سارہ کو ملک کنعان کے ممرے (حبرون ) کے قریب مکفیلہ میں واقع کھیت کے غار میں دفن کیا ۔ 20 ابراہیم اُس زمین اور اُس میں پا ئے جانے وا لے غار کو حِتّیوں سے خرید لی۔ اور وہ اُس کی جا ئیداد قرار پا ئی۔ اور وہ اُس کو قبرستان کی جگہ کے طور پر استعمال کرنے لگے۔

Genesis 24

1 جب ا براہیم بہت ضعیف ہو ئے۔ خداوندنے ابراہیم کے ہر کام میں برکت دی۔ 2 ابراہیم کی تمام جائیداد کی نگرانی کے لئے ایک نوکر مقر ر تھا۔ ابراہیم نے اُ س نوکر کو بُلا کر کہا، " میری ران کے نیچے تُو اپنا ہاتھ رکھ کر مجھ سے وعدہ کر۔ 3 دیکھو ملک کنعان کے جہاں کہ میں اب رہ رہاہوں کسی لڑکی سے میرے بیٹے کی شادی نہیں ہو نی چاہئے۔ 4 میرے ملک میں میرے لوگوں کے پاس جا کر میرے بیٹے اِسحاق کے لئے ایک لڑکی ڈھونڈ کر لاؤ۔ زمین و آسمان کے خداوند کے سامنے وعدہ کر کہ تم یہ کرو گے۔" 5 نوکر نے اُس سے کہا اگر وہ دوشیزہ میرے ساتھ اِس ملک میں آنے کے لئے راضی نہ ہو تو کیا میں آ پ کے بیٹے کو اپنے ملک میں بلا لے جا ؤں۔؟ 6 ابراہیم نے اُس سے کہا کہ میرے بیٹے کو اُس ملک میں ساتھ نہ لے جانا ۔ 7 آسمانی خداوند خدانے مجھے اپنے ملک میں اِس جگہ پر بلا لایا ہے ۔ جبکہ وہ ملک میرے باپ اور میرے خاندان وا لوں سے ملا ہوا ہے ۔ لیکن خداوند نے اِس ملک کو میرے خاندان کے حق میں دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ میرے بیٹے کیلئے دوشیزہ ڈھونڈکر ساتھ لا نے کو ممکن بنانے کے لئے خداوند اپنے فرشتے کو تیرے لئے رہنما بنائے ۔ 8 اور اگر وہ دوشیزہ ساتھ آنا پسند نہ کرے تو اِس وعدے سے تجھے چھٹکا را ملے گا ۔ لیکن تو میرے بیٹے کو میرے اپنے ملک میں ساتھ نہ لے جانا ۔ 9 تب اُس نوکر نے اپنے مالک ابراہیم کی ران کے نیچے ہاتھ رکھ کر قسم کھا ئی۔ 10 اُس نوکر نے ابراہیم کے دس اُونٹوں کو تیار کیا، نوکر نے سب سے اچھے قسم کا تحفہ لا یا ۔ وہ میسو پٹا میہ کو گیا اس شہر کو جہاں نحور رہتا تھا۔ 11 اُس نے گاؤں کے باہر ایک کنواں کے قریب اُونٹو ں کو بٹھا دیا۔ ہر روز شام کو عورتیں پانی لینے کے لئے اُس کنواں پر آیا کر تی تھیں۔ 12 اُس نو کر نے کہا کہ اے ہمارے خدا وند تُو میرے مالک ابراہیم کا خدا ہے ۔ برائے مہر بانی آج تو میرے مشن کو کامیاب بنا ۔ میرے مالک ابراہیم کی خا طر سے یہ ایک احسان کر ۔ 13 میں اس کنواں کے قریب کھڑا رہوں گا ۔ اِس گاؤں کی لڑکیاں پا نی لینے کے لئے یہاں آئینگی۔ 14 اسحاق کے لئے مناسب و موزو ں لڑ کی دیکھنے کے لئے میں ایک سے کہوں گا کہ مہر بانی کر کے تو اپنا پا نی کا گھڑا نیچے اُتار اور پینے کے لئے تھو ڑا سا پا نی دے ،تو شاید وہ مجھ سے کہے گی تُو پی لے ۔ اور میں تیرے اونٹوں کو بھی پا نی دونگی۔ وہی تیری منتخب کر دہ لڑ کی ہو گی ۔ اور میں یہ سمجھوں گا کہ تُو نے اپنے خادم اِسحاق کے لئے مہر بانی کی ۔ 15 نو کر کا دُعا کر کے فارغ ہو نے سے پہلے ہی رِبقہ نام کی ایک حسینہ کنواں کے پاس آئی ۔ اور یہ رِبقہ ،بیتو ایل کی بیٹی تھی ۔ اور بیتو ایل ،مِلکا اور نحور کا بیٹا تھا ۔اور نحور، ابراہیم کا بھا ئی تھا ۔ رِبقہ اپنے کندھے پر پا نی کا گھڑا لئے ہو ئے کنواں کے پاس آئی ۔ 16 وہ بہت ہی حسین و جمیل تھی ۔ وہ ایک کنواری تھی ۔ اس نے کنواں کے نزدیک جاکر اپنا گھڑا پا نی سے بھر لیا ۔ 17 تب وہ نوکر اُس کے پاس بھاگ کر گیا ،اور اُس سے پو چھا کہ مہر بانی کر کے پینے کے لئے اپنے گھڑے میں سے تھو ڑا سا پا نی دے دے ۔ 18 رِبقہ نے فوراً اپنے گھڑے کو کندھے سے اُتار ا اور اُس کو پینے کے لئے پا نی دیتے ہو ئے کہا ، " جناب پا نی پی لو ۔" 19 جب وہ پا نی پی لیا تو کہنے لگی ، " میں تیرے اونٹوں کے لئے بھی پا نی لاؤں گی اس وقت تک جب تک کہ وہ پی نہ لے ۔" 20 اس نے تمام تر پا نی کو حوض میں اُنڈیل دیا اور مزید پا نی لا نے کے لئے تیز چلتی ہو ئی کنواں کے پاس چلی گئی ۔ اور اِس طرح اس کے تمام اُونٹوں کو پانی پلا ئی ۔ 21 نو کر خاموشی سے بغور اس لڑ کی کو دیکھا اور تعجب کیا کہ خدا نے اس کی دعا کا جواب دیا یا نہیں ۔ 22 اونٹ جب پا نی پی لیا تو اُس نے رِبقہ کو آدھے تو لے سو نے کی انگوٹھی دی ۔ اور اِس کے علا وہ اُس نے اُس کو چار تو لے سو نے کے دو کنگن بھی دیئے ۔ 23 اُس نو کر نے پو چھا کہ تیرا باپ کون ہے ؟اور کیا ہم لوگوں کے لئے تیرے باپ کے گھر میں قیام کے لئے جگہ ہے ؟ 24 رِبقہ نے اُس سے کہا کہ ،میرے باپ کا نام بیتو ایل ہے اور وہ ملکاہ اور نحور کا بیٹا ہے ۔ 25 تب اُس نے کہا کہ ہاں ،تیرے اونٹوں کے لئے گھاس پات ہمارے پاس ہے اور تمہارے قیام اور ٹھہر نے کے لئے جگہ بھی ہے ۔ 26 تب اُس نو کر نے اپنے سر کو جھکا یا اور خدا وند کی عبادت کی ۔ 27 پھر اُس نے اُس سے کہا کہ میرے مالک ابراہیم کے خدا وند خدا فضل و کرم ہو ۔ وہ تو میرے مالک کا بڑا ہی مہر بان اور بھروسے کے قا بل ہے ۔ اس نے میرے مالک کے بھا ئی کے گھر تک مجھے جانے میں میری رہنمائی کی ۔ 28 تب رِبقہ نے تیزی سے جا کر اِن تمام واقعات کو اپنی ماں کے اہل خا نہ سے سنائی ۔ 29 رِبقہ کا ایک بھا ئی تھا ۔اور اس کا نام لا بن تھا ۔ پیش آئے ہو ئے تمام واقعات کو رِبقہ نے اپنے بھا ئی کو سنایا ۔ جب لابن نے انگو ٹھی اور کنگن دیکھا اور اس آدمی نے جو کچھ رِبقہ سے کہا تھا سنا تو وہ دوڑ کر کنواں کے پاس گیا ۔ کنواں کے نزدیک نو کر اپنے اپنے اونٹوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔ 30 31 لا بن نے اُس سے کہا کہ اے خدا کی بر کت پا نے والے ،اندر آجا ۔تجھے باہر ٹھہر نے کی ضرورت نہیں ۔ اور کہا کہ تیرے رہنے کے لئے کمرے اور تیرے اونٹوں کے لئے جگہ کا انتظام کر دیا ہوں ۔ 32 اِس وجہ سے ابرا ہیم کا نوکر لابن کے گھر گیا ۔ اور اونٹوں پر لدا ہوا بوجھ اُتار نے کے لئے لا بن نے اُس کی مدد کی ۔ اور او نٹو ں کے رہنے کے لئے جگہ بنادی اور اُن کو گھاس ڈا لی گئی ۔اس کے بعد اس کے نوکر اور اس کے ساتھیوں کو ،پیر دھو نے کے لئے پا نی دیا ۔ 33 پھر اس کے بعد لا بن نے اس کو کھا نا کھا نے دیا ۔لیکن وہ نو کر کھا نا کھا نے سے انکار کر دیا اور ان سے کہا ، " میں جس مقصد سے آیا ہوں وہ بتا ئے بغیر کھا نا نہ کھا ؤں گا ۔"اُس پر لابن نے کہا کہ ٹھیک ہے جو کہنا ہو وہ کہو۔ 34 اُس نوکر نے کہا کہ میں ابراہیم کا نوکر ہوں۔ 35 حداوند نے میرے مالک کو ہر معاملہ میں برکت سے نوازا ہے ۔ میرا مالک ایک غیر معمولی اور عظیم الشان آدمی ہے۔ خداوند نے ابراہیم کو بھیڑوں کا گلّہ اور مویشیوں کا ریوڑ وغیرہ دیا ہے ۔اور ابراہیم کے پاس ضرورت سے زیادہ سونا چاندی بھی ہے۔ اور کئی نوکر چاکر ہیں۔ اور بہت سارے اوُنٹ اور گدھے بھی ہیں۔ 36 سارہ میرے مالک کی بیوی ہے ۔ وہ کا فی بوڑھی ہو گئی تھی اس کے با وجود بھی اُس نے ایک بچے کو جنم دیا ۔ اور میرے مالک نے اپنی تمام تر جا ئیداد کو اپنے بیٹے کو دیدیا۔ 37 میرے مالک نے مجھ سے کہا کہ میں اُس کے ساتھ وعدہ کروں۔ اور کہا ،' دیکھو میرے بیٹے کی شادی کسی بھی کنعانی لڑ کی جن لوگوں کے درمیان ہم لوگ رہتے ہیں نہیں ہونی چاہئے۔ 38 اور کہا کہ تم میرے ہی ملک کو جا کر میرے اپنے ہی لوگوں میں سے میرے بیٹے کیلئے ایک دوشیزہ کا اِنتخاب کر لینا ۔' 39 میں نے اپنے مالک سے کہا کہ اگر وہ لڑکی میرے ساتھ اس ملک میں آنے کے لئے راضی نہ ہو ئی تو کیا کرنا چاہئے۔ 40 لیکن میرے مالک نے کہا ، " خداوند جس کی میں خدمت کر تا ہوں اپنے ایک فرشتے کو وہاں رہ رہے میرے باپ کے خاندان سے میرے بیٹے کیلئے ایک لڑکی کھوج نے میں تمہا ری مدد کرنے کے لئے بھیجے گا ۔ 41 اور کہا کہ جب توُ میرے باپ کے ملک کو جا ئے گا اور اگر وہ میرے بیٹے کے لئے کو ئی لڑکی دینے سے انکار کرے تو توُ اُس وعدہ کے مطا بق چھٹکارا پا ئے گا ۔ 42 " آج جب کہ میں اِس کنواں کے پاس آیا اور کہا کہ اے میرے مالک ابرا ہیم کا خداوند خدا اپنے کرم سے میرے سفر کو کامیاب کر ۔ 43 میں کنواں کے قریب میں کھڑا ہو کر پانی لینے کے لئے آنے وا لی ایک دوشیزہ کے انتظار میں رہوں گا ۔ تب میں اُس سے کہوں گا کہ مہربانی کر کے پینے کے لئے اپنے گھڑے سے پانی دے ۔ 44 وہ مجھ سے کہے گی کہ تو پانی پی لے ، اور تیرے اُونٹوں کے لئے بھی پانی لا دوں گی، اگر وہ ایسا کہے گی تو میں سمجھوں گا کہ میرے مالک کے بیٹے کے لئے خداوند نے جس دوشیزہ کو چُن لیا ہے وہ لڑ کی یہی ہے اور اِس بات کی دُعا میں کر رہا تھا۔ 45 " میں دُعا کو ختم کر ہی رہا تھا کہ رِبقہ پانی کے لئے کنواں پر آئی ۔ اور وہ اپنے کندھے پر گھڑا اُٹھا ئی ہو ئی تھی۔ اور وہ کنواں میں جاکر پا نی بھر لی۔ تب میں نے اُس سے پو چھا کہ مہربانی کر کے تھوڑا سا پانی دیدے۔ 46 اُس کے فوراً بعد وہ گھڑے کو اپنے کندھے سے نیچے اُتاری اور مجھے پانی دی اور کہا کہ پانی پی لے ۔ اور تیرے اُونٹوں کو بھی پانی لا کر دوں گی ۔میں جب پا نی پینے سے فارغ ہوا تو وہ میرے اونٹوں کو بھی پا نی لا دی ۔ 47 پھر میں نے اس سے پو چھا ، ' تیرا باپ کون ہے ؟' اس نے جواب دیا کہ میرے باپ کا نام بیتو ایل ہے ۔ اور کہا کہ وہ مِلکاہ اور نحور کا بیٹا ہے ۔ تب میں نے اس کو انگو ٹھی اور ہاتھ کے کنگن دیئے ۔ 48 اس وقت میں نے اپنے سر کو جھکا کر خدا وند کا شکر اداکیا ۔ اور میرے مالک ابراہیم کے خدا وند خدا کی تعریف بیان کی ۔ اور میں نے یہ جانا کہ سچ مُچ میں خدا وند نے میرے مالک کے بھا ئی کی بیٹی کو اُس کے بیٹے کی بیوی ہو نے میں میری رہنمائی کی ۔ 49 اب آپ اپنا اظہارِ خیال کیجئے ۔اب اگر آپ میرے مالک کے لئے مہر بانی اور وفاداری دکھا ؤ تو مجھے کہو اور اگر نہیں تو بھی مجھے کہو تا کہ میں آپ کے جواب کے مطا بق اگلے کام کے بارے میں غور کروں گا ۔ " 50 اس پر لابن اور بیتو ایل نے کہا کہ تجھے خدا وند ہی نے بھیجا ہے ۔ اور اب جو کچھ بھی چل رہا ہے اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا ہمیں کو ئی حق نہیں ہے ۔ 51 یہ رہی رِبقہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ اور خدا وند کی مرضی کے مطا بق اپنے مالک کے بیٹے سے اسکی شادی کرادے ۔ 52 ابراہیم کا نوکر ان باتوں کو سن کر خدا وند کے سامنے زمین تک سر جھکا کر سجدہٴ شکر بجا لا یا ۔ 53 پھر اس کے بعد وہ نوکر اپنے ساتھ جن تحفوں کو لا یا تھا وہ اسے رِبقہ کو دے دیا ۔ اور اس نے رِبقہ کو سو نے چا ندی کے زیورات اور اعلیٰ درجہ کے ملبوسات بھی دے دیئے ۔ اس کے علا وہ اس نے قیمتی تحفے اس بھا ئی کو اور اسکی ماں کو دیئے ۔ 54 نو کر اور اس کے ساتھوں نے وہاں پر ان کے ساتھ کھا نا کھا ئے پئے اور وہیں پر رات گزا رے ۔ پھر وہ دوسرے دن صبح اٹھے اور کہے کہ اب ہم لوگوں کو ہمارے مالک کے پاس جانا چاہئے ۔ 55 رِبقہ کی ماں اور اس کے بھا ئی نے ان سے کہا کہ رِبقہ کو چند دنوں کے لئے کم سے کم دس دنوں تک کے لئے ہمارے ساتھ رہنے دے ۔ اور پھر اس کے بعد وہ اسے لے جا سکتے ہو ۔ 56 لیکن نوکر نے جواب دیا ، " مجھے مت رو کو اس لئے کہ خدا وند نے میرے سفر کو کامیاب کیا ہے ۔ اب مجھے میرے مالک کے پاس بھیج دو ۔ 57 رِبقہ کا بھا ئی اور اس کی ماں نے اس سے کہا کہ ہم رِبقہ کو بلا کر اس کی مرضی دریافت کریں گے ۔ 58 انہوں نے رِبقہ کو بلا یا ، اور پوچھا کہ کیا تجھے اسی وقت اس آدمی کے ساتھ جانا پسند ہے ؟ رِبقہ نے کہا ، " ہاں میں جاؤں گی ۔ " 59 اس وجہ سے انہوں نے ربقہ کو ابراہیم کے نوکر کے ساتھ اور اسکے ساتھیوں کے ساتھ بھیج دیا ۔ اور رِبقہ کی خادمہ بھی اس کے ساتھ چلی گئی ۔ 60 رِبقہ کے خاندان والوں نے اسے دُعائیں دیں اور کہا ، " اے ہماری بہن ، تو لاکھوں لوگوں کی ماں بنے ۔ تیری خاندان اور نسلوں کے لوگ دشمنوں کو شکشت دیں اور انکے شہروں کو اپنے قبضہ میں لے لے ۔ " 61 پھر اس کے بعد رِبقہ اور اسکی خادمائیں اونٹ پر سوار ہو گئی اور اس نوکر اور اسکے ساتھیوں کے پیچھے ہو لیں ۔ اس طرح وہ نو کر رِبقہ کو ساتھ لیکر گھر کے لئے سفر پر نکلا ۔ 62 اس وقت اسحاق بیرلحی روئی سے جاکر آیا تھا ۔ کیوں کہ وہ نیگیو میں مقیم تھا ۔ 63 بوقت شام اِسحاق کھیت کو چلا گیا ۔جب اسحاق نے نظر اُٹھا ئی تو دور سے آتے ہو ئے اونٹوں کو دیکھا ۔ 64 جب رِبقہ نے چاروں طرف نگاہ کی تو اِسحاق پر نظر پڑی تو فوراً اونٹ پر سے نیچے اُتر آئی ۔ 65 اس نے اس نوکر سے پو چھا ، " وہ نو جوان کون ہے جو کھیت میں ہم لوگوں سے ملنے آ رہا ہے ؟"اس نوکر نے جواب دیا ،"میرے مالک کا بیٹا ہے ۔" اس کے فوراً بعد رِبقہ نے اپنے چہرے پر نقاب ڈال لیا ۔ 66 اس نو کر نے پیش آئے ہو ئے سارے واقعات کو اسحاق کے علم میں لا یا ۔ 67 تب اسحاق نے اس کو ساتھ لیکر اپنی ماں کے خیمے میں آیا ۔ اس دن ربقہ اسحاق کی بیوی بنی ۔ اور اسحاق اس سے بہت محبت کیا ۔ ماں کی موت کے وقت اسحاق بہت ہی غمزدہ تھا لیکن اب اس میں کمی ہو ئی اور اسے اطمینان و تسلّی ملی ۔

Genesis 25

1 ابراہیم نے دوبارہ شادی کی ۔ اُس کی نئی بیوی کا نام قطورہ تھا ۔ 2 قطورہ سے زُمران ،یُقسان،مدیان ،مدان ،اِسباق،اور سوخ پیدا ہو ئے ۔ 3 یُقسان ،سِبا اور ددان کا باپ تھا ۔ اور ددان کی نسل سے یہ ہیں ۔اَسوری ،لطوسی ،اور لُومی تھے ۔ 4 مدیان کے بیٹے عیفاہ ،عفر،حُنوک ، ابیداع اور الدوعا تھے اور یہ سب قطورہ کی نسل سے تھے ۔ 5 ابراہیم اپنی موت سے قبل اپنی خادمہ عورت کی نرینہ اولاد کو چند تحفے اور نذرانے دیکر اسے مشرقی ملکوں میں اسحاق سے دور بھیج دیئے پھر اس کے بعد اپنی تمام تر جائیداد کا مالک اسحاق کو بنا دیئے ۔ 6 7 ابراہیم ایک سو پچہتّر سال زندہ رہے ۔ 8 وہ لمبی عمر کے بعد بوڑھا ہو کر وفات پا ئے اور اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ دفن ہو ئے ۔ 9 اُس کے بیٹے اِسحاق اور اسمٰعیل نے ممرے کے نزدیک مکفیلہ کے غار میں اُس کی قبر بنائی ۔ یہ غار حتی صحر کے بیٹے عِفرون کے کھیت میں ہے ۔ 10 ابراہیم کی حتیوں سے خریدی ہو ئی اِس جگہ ہی میں ابراہیم کو اور اُس کی بیوی سارہ کے پاس دفن کر دیا گیا ۔ 11 ابراہیم کے انتقال کے بعد ،خدا نے اسحاق کو بر کت دی ۔اور اِسحاق بیر لحی روئی میں اپنی زندگی کے دن گزار نے لگے ۔ 12 یہ اسمٰعیل کا سلسلہٴ نسب ہے ۔ اسمٰعیل ،ابراہیم اور ہاجرہ کا بیٹا تھا ۔ (مصر کی ہاجرہ ،سارہ کی خادمہ تھی ۔) 13 اِسمٰعیل کی نرینہ اولاد کے نام یہ ہیں۔ پہلا بیٹا نبایوت تھا۔ اس کے بعد پیدا ہو نے وا لے یہ ہیں:قیدارا، ادبیئل، مِبسام، 14 مِشماع، دومہ اور مسّا، 15 حدد، تیما، یطور ، نفیس اور قدمہ۔ 16 ہر ایک نے اپنا خاندان بنا لیا۔ اور آگے وہی خاندان چھو ٹے شہر بن گئے۔ یہ بارہ لڑکے ہی اپنے اپنے لوگوں کے لئے خاندان کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے تھے۔ 17 اِسمٰعیل ایک سو سینتیس برس زندہ رہے۔ اُس کے مرنے کے بعد اُس کو اُس کے آبائی قبرستان میں دفنایا گیا۔ 18 اسمٰعیل کی نسلیں ریگستانی علاقے میں خیمہ زن تھے۔ یہ علا قہ حویلہ سے مصر سے قریب شور تک تھا اور پھر شور سے شروع ہو کر اسُور تک تھا ۔ اسمٰعیل کی نسلیں ایک دوسرے کے قریب خیمہ زن ہو ئے۔ 19 یہ اِسحاق کی تا ریخ ہے ۔ اِسحاق ابراہیم کا بیٹا تھا۔ 20 اِسحاق جب چالیس برس کے ہو ئے تو رِبقہ سے شادی کی ۔ رِبقہ، فدّام ارام کی رہنے وا لی تھی۔ اور وہ بیتو ایل کی بیٹی اور آرامی لابن کی بہن تھی۔ 21 اِسحاق کی بیوی اولا د سے محروم تھی۔ اِس لئے اِسحاق اپنی بیوی کیلئے خداوند سے دُعا کر نے لگا ۔ خداوند نے اِسحاق کی دُعا کو سُنی اور رِبقہ حاملہ ہو ئی۔ 22 رِبقہ جب حاملہ تھی تو اُس کے پیٹ میں بچے ایک دوسرے کے ساتھ دھّکا دھکّی کر تے تھے۔ جس کی وجہ سے اُسے بڑی تکلیف اٹھا نی پڑتی تھی ۔ ربقہ نے خداوند سے دعا کی اور پو چھا ، " اے خدا ایسا مجھے کیوں ہو تا ہے ؟" 23 خداوند نے اُس سے کہا ، " تیرے پیٹ میں دو قومیں ہیں۔ دو خاندانوں پر حکومت کر نے وا لے تیرے پیٹ سے پیدا ہو نگے۔ اور وہ منقسم ہو نگے۔ ایک بیٹا دوسرے بیٹے سے زیادہ طاقتور ہو گا۔ اور بڑا بیٹا چھو ٹے بیٹے کی خدمت کرے گا ۔" 24 دِن پورے ہو نے پر رِبقہ سے جُڑواں بچے پیدا ہو ئے۔ 25 پہلا بچہ سُرخ تھا۔ اور اُس کی جِلد بالوں سے بھرا چغہ کی طرح تھا۔ اِس وجہ سے اُس کا نام عیساؤ رکھا گیا ۔ 26 جب دوسرا بچہ پیدا ہو ا تو وہ عیساؤ کی ایڑی کو مضبوطی سے پکڑا ہو ا تھا ۔ جس کی وجہ سے اُس بچے کانام " یعقوب " رکھا گیا ۔ یعقوب اور عیساؤ جب پیدا ہو ئے تو اِسحاق کی عُمر ساٹھ سال کی تھی۔ 27 وہ دونوں بچے بڑے ہو ئے۔ عیساؤ ایک بہترین شکا ری بنا اور کھیتوں میں رہنا اُ سے پسند آیا۔ اور یعقوب سنجیدہ مزاج کا آدمی تھا۔ اور وہ اپنے خیمہ میں زندگی بسر کر نے لگے ۔ 28 اِسحاق ،عیساؤ سے بہت محبت کر تا تھا۔ عیساؤ شکار کھیلتا تھا اور شِکار کا گوشت اِسحاق کو بہت پسند تھا۔ لیکن رِبقہ ، یعقوب کو چاہتی تھی ۔ 29 ایک مرتبہ عیساؤ جب شِکار سے واپس لو ٹا تو بھوک سے نڈھال تھا اور کمزدر ہو گیا تھا۔ جبکہ یعقوب ایک برتن میں سالن اُبال رہے تھے۔ 30 تب عیساؤ نے یعقوب سے کہا کہ بھوک سے میں نِڈھال ہوں اِس لئے پو چھا کہ مجھے تھوڑا لال دال دے۔( اِس وجہ سے لوگ اُسے ایدوم بھی کہتے ہیں۔) 31 لیکن یعقوب نے کہا ، " پہلے تو مجھے اپنا پہلوٹھے پن کا حق بیچ دے۔" 32 عیساؤ نے کہا کہ میں تو بھوک سے مر نے کے قریب ہوں۔ اور اگر میں مرجاؤں تومیرے باپ کی دولت میرے کو ئی کام کی نہ رہیگی۔ 33 تب یعقوب نے کہا، " مجھے تو اپنا پیدائشی حق دینے کا وعدہ کر ۔" اِس وجہ سے عیساؤ نے یعقوب کو اپنا حصّہ دینے کا وعدہ کیا ۔ اِس طرح عیساؤ نے اپنا پہلوٹھے پن کا حق یعقوب کو بیچ دیا ۔ 34 تو یعقوب نے عیساؤ کو روٹی کے ساتھ اُبلے ہو ئے دال کی پھلی دیئے۔ پھر عیساؤ وہاں سے کھا پی کر چلا گیا ۔ عیساؤ اپنے پہلو ٹھے پن کے حق کے بارے میں کتنا کم خیال کیا ۔

Genesis 26

1 جس طرح ابراہیم کے زمانے میں قحط سالی پھیلی ہو ئی تھی اِسی طرح کنعان میں بھی ایک قحط سالی ہو ئی۔ جس کی وجہ سے اِسحاق نے فلسطینیوں کے بادشاہ ابی ملک کے پاس گیا ۔ ابی ملک جرار شہر میں رہتا تھا۔ 2 خداوند اِسحاق پر ظاہر ہوا اور کہا ، "تو مصر کو نہ جا ۔ میں تجھے جس ملک میں رہنے کا حکم دیتا ہوں وہیں قیام کر ۔ 3 میں تیرے ساتھ رہوں گا ، اور تجھے برکت دوں گا پھر تجھے اور تیرے قبیلے کو یہ سارا علاقہ عطا کروں گا۔ اور میں نے تیرے باپ ابراہیم سے جو وعدہ کیا تھا اُس کو پو را کروں گا ۔ 4 میں تیری نسل کو آسمان کے تاروں کی طرح بڑھاؤں گا اور اُن کو یہ تما م علاقہ دوں گا۔ اور زمین پر بسنے وا لی تمام نسلیں تیری نسل سے برکت پا ئیں گی ۔ 5 میں ہی اِس کو پو را کروں گا ۔ کیوں کہ تیرا باپ ابراہیم میری ان باتوں پر فرمانبردار تھا اور کہا کہ میرے کہنے کے مُطا بق کرتا تھا، میری شریعت، احکامات، اور اُصولوں کی پابندی کر تا تھا۔" 6 اِس وجہ سے اِسحاق جرار میں آکر مقیم ہو گئے ۔ 7 اِسحاق کی بیوی رِبقہ بہت ہی حسین و جمیل تھی۔ وہاں کے مقامی لوگوں نے رِبقہ کے بارے میں اِسحاق سے پو چھا، تو اِسحاق نے اُن سے کہا کہ وہ تو میری بہن ہے ۔ اگر اُن کو یہ معلوم ہو جا ئے کہ رِبقہ اُس کی بیوی ہے تو وہ اُس سے اُس کو چھین لیں گے اور خود کو قتل کر نے کے خوف سے اِسحاق نے ایسا کہا ہے ۔ 8 اِسحاق کو وہاں رہتے ہو ئے ایک لمبی مدّت گذر چکی تھی۔ ایک مرتبہ فلسطینیوں کا بادشاہ ابی ملک اپنی کھڑ کی سے دیکھ رہا تھا کہ اِسحاق اور اُس کی بیوی خوشی سے ہنس کھیل رہے تھے۔ 9 ابی ملک نے اِسحاق کو بُلا کر کہا کہ یہ عورت تو تیری بیوی ہے ۔ لیکن توُ نے ہم سے یہ کیوں کہا کہ یہ تیری بہن ہے ۔ اِسحاق نے اُس سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ تُو اُس کو حاصل کر نے کے لئے مجھے قتل کر دے اِس خوف سے میں نے ایسا کیا ہے ۔ 10 ابی ملک نے اُس سے کہا کہ توُ نے ہمارے ساتھ بُرا ئی کی ہے ۔ ہما رے پاس رہنے وا لے کسی بھی آدمی کے لئے تیری بیوی کے ساتھ ہم بستر ہو نے کے لئے تُو نے ہی موقع فراہم کیا ۔ اگر ایسی کو ئی بات پیش آئی ہو تی تو وہ بہت بڑا گناہ ہوتا ۔ 11 تب ابی ملک نے اپنی رعایا سے کہا ، "اگر کو ئی بھی اِسحاق کو یا اُس کی بیوی کو نقصان پہنچائے گا تو اس شخص کو قتل کر دیا جا ئے گا ۔" 12 اِسحاق نے اُس علاقے میں تخم ریزی کیا ۔ اُسی سال اُسے سو فیصد فصل ہوئی۔ اِس لئے کہ خداوند نے اُسے بہت زیادہ خیر و برکت دی تھی ۔ 13 اُس کی دولت میں اضافہ ہی ہو تا گیا ۔اور وہ بہت دولت مند ہو گئے ۔ 14 اُن کے پاس کئی جانوروں ،بکریوں کے غول ،اور چو پائے بھی تھے ۔اس کے علا وہ اُن کے پاس کئی نو کر چا کر بھی تھے ۔اِن تما م باتوں کو دیکھ کر فلسطینی لوگ اُس سے حسد کر نے لگے ۔ 15 اِس وجہ سے کئی سال قبل ابرا ہیم اور اُس کے نوکروں نے جن کنوؤں کو کھو دا تھا اُن کو فلسطینیوں نے مٹی ڈال کر بند کر دیا ۔ 16 ابی ملک نے اسحاق سے کہا کہ ہمارے ملک کو چھو ڑ کر چلا جا ۔کیوں کہ تو ہم سے زیادہ قوّت والا اور زور آور ہے ۔ 17 اِس لئے اسحاق اُس جگہ سے نکال کر جرار کی چھوٹی ندی کے پاس قیام پذیر ہو ئے۔اور وہیں سکو نت اختیار کر لی ۔ 18 اِس سے ایک عرصہ پہلے ابراہیم بھی کئی کنوئیں کھو دے تھے ۔ابراہیم جب وفات پا ئے تو فلسطینیوں نے اُن کنوؤں کو مٹی ڈال کر بند کر دیا ۔اسحاق نے ان کنوؤں کو دوبارہ کھو دا اور اُن کو پھر وہی نام دیا جو اُن کے باپ نے دیا تھا ۔ 19 اسحاق کے نوکروں نے چھو ٹی ندی کے قریب ایک کنواں کھو دا اُس کنوئیں میں پانی کا ایک سوتا ملا ۔ 20 لیکن جرار میں رہنے والے چرواہوں نے اسحاق کے لوگوں کے ساتھ بحث و تکرار کیا اور کہا کہ یہ پا نی تو ہمارا ہے ۔اِس وجہ سے اسحاق نے اُس کنوئیں کا نام "عسق " رکھا ۔ کیوں کہ ان لوگوں نے پا نی کے لئے بحث کی تھی ۔ 21 پھر اس کے بعد اسحاق کے خادموں نے ایک اور کنواں کھو دا ۔ وہاں کے مقا می لوگ اُس کنویں کے بارے میں تکرار کر نے لگے ۔ اِس لئے اِسحاق نے اس کنویں کا نام "ستنہ" رکھا ۔ 22 اِسحاق نے وہاں سے نکل کر ایک دوسرا کنواں کھو دا ۔ اُس کنویں سے متعلق تکرار کر نے کے لئے کو ئی نہ آئے ۔ اِس وجہ سے اسحاق نے کہا ، "اب تو خدا وند نے ہمارے لئے یہاں کمرہ (جگہ )بنادیا ہے ۔"اِس جگہ میں ہم ترقی پائیں گے اس طرح سے اس نے اِس کنویں کا نام "رحوبوت " رکھا۔ 23 اِسحاق اس جگہ سے بیر سبع کو گئے ۔ 24 اُس رات خدا وند اِسحاق پر ظا ہر ہوا اور کہا کہ میں تیرے باپ ابراہیم کا خدا ہوں ۔تو خوف نہ کھا میں تیرے ساتھ ہوں ۔اور میں نے تیرے لئے خیر و بر کت دے رکھی ہے ۔ اور میں تیرے خاندان کو تر قی پر پہنچاؤں گااور کہا کہ میں اپنے بندے ابراہیم کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہوں ۔ 25 اس لئے اس جگہ پر اسحاق نے قربان گاہ بنائی اور خدا وند کی عبادت کی ۔ اور اسحاق اس جگہ پر سکو نت پذیر ہو ئے ۔اور اُس کے نوکروں نے اُس جگہ پر ایک کنواں کھو دا ۔ 26 ابی ملک ،اسحاق کو دیکھنے کے لئے جرار سے آ گیا ۔ ابی ملک اپنے ساتھ اپنے مشیر اَخوزت اور اپنے سپہ سالار فیکل کو ساتھ لیکر آیا ۔ 27 اِسحاق نے کہا کہ تو مجھے کیوں ملنے آیا ہے ؟جبکہ تو میرے ساتھ دوستی و ہمدردی کے ساتھ نہ رہا ۔ اور کہا کہ تُو نے مجھ پر اِس بات سے جبر کیا کہ میں تیرا ملک چھو ڑ کر چلا جاؤں ۔ 28 انہوں نے اس سے کہا ، " اب ہم کو معلوم ہوا کہ خدا وند تیرے ساتھ ہے ۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ساتھ ایک معاہدہ کریں اور تجھے بھی ہمارے ساتھ وعدہ کر نا چاہئے ۔ 29 اور ہم نے تیری کو ئی برائی نہیں چاہی ۔ ٹھیک اسی طرح تُو بھی ہماری کسی قسم کی بُرائی نہ کر نے کا وعدہ کر ۔اگر چہ کہ ہم نے تجھے دُور ضرور بھیجا ہے ۔ لیکن بہت ہی سکون و اطمینان سے بھیجا ہے ۔ اور کہا کہ خدا وند نے تیرے حق میں جو خیر و برکت لکھ دی ہے وہ اب ظا ہر ہو چکی ہے ۔" 30 اِس لئے اِسحاق نے ان کے لئے ایک ضیافت کا اہتمام کیا ۔ اور وہ سب کے سب سیر ہو کر کھا نا کھا ئے ۔ 31 دُوسرے دن صبح ،وہ سب آپس میں ایک دُوسرے سے وعدے اور قسمیں لے کر اطمینان سے چلے گئے ۔ 32 اُس دن اِسحاق کے نوکر آئے اور خود کے کھو دے ہو ئے کنویں کے بارے میں یہ کہا کہ کنویں میں ہم کو پانی کا ایک سو تا ملا ہے ۔ 33 جس کی وجہ سے اِسحاق نے اُس کا نام سبع رکھا ۔ آج بھی اس شہر کو بیر سبع کے نام سے یاد کر تے ہیں۔ 34 عیساؤ کی عمر جب چالیس سال کی ہو ئی تھی تو اُس نے حتیوں کی دو عورتوں سے بیاہ کیا ۔ ایک تو بیری کی بیٹی یہودتھ،اور دوسری اِیلون کی بیٹی بشامتھ تھی ۔ 35 اِن شادیوں سے اِسحاق اور ربقہ کو بہت دُکھ اور افسوس ہوا ۔

Genesis 27

1 جب اِسحاق ضعیف ہو ئے تو اُس کی آنکھیں اتنی کمزور ہو گئی کہ وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں سکتے تھے۔ ایک دِن وہ اپنے پہلو ٹھے بیٹے عیساؤ کو انپے پاس بُلا کر اُس سے کہا کہ اے بیٹے! عیساؤ نے جواب دیا کہ میں حاضر ہوں۔ 2 اِسحاق نے اُس سے کہا ، " میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ اِس لئے میں نہیں جانتا کہ میں کب مر جا ؤں۔ 3 اس لئے مناسب ہے کہ تو اپنی تیر کمان لے کر شکار کو جا اور میرے لئے ایک جانور کا شکار کر کے لا ؤ۔ 4 اور میرے لئے میری پسند کا لذیذ کھانا تیار کر کے لا ؤ تا کہ میں اُس کو کھا ؤں۔ اور کہا کہ میں مر نے سے پہلے ہی تجھے دعاء خیر و برکت دوں۔" 5 اِس وجہ سے عیساؤ شکار کے لئے چلا گیا ۔ 6 رِبقہ اپنے بیٹے یعقوب سے کہنے لگی کہ سُن ! تیرے باپ نے تیرے بھا ئی عیساؤ کے ساتھ جو باتیں کیں میں نے اُن کو سُن لی۔ 7 تیرے باپ نے اُس سے کہا کہ میرے لئے ایک جانور کا شکار کر کے لا اور اُ س سے میری پسند کا ایک لذید کھانا تیار کر کے لا دے۔ اور کہا کہ میں مرنے سے پہلے ہی تجھے دعاء خیر و برکت دوں گا ۔ 8 اِس وجہ سے اے میرے بیٹے میری بات مان اور میں جو کہوں سو کر گذر۔ 9 ہماری بکریوں کے جھنڈ کے پاس جا ، اور بکریوں کے دو بچوں کو اٹھا لا ۔ اور میں تیرے باپ کے لئے اُس کی پسند کا لذیذ کھانا اُ سسے تیار کروں گی۔ 10 اور وہ لذیذ کھانا اپنے باپ کے لئے اٹھا لے جا۔ وہ اسے کھا ئینگے اور مرنے سے پہلے تجھے دعاء خیر دینگے۔ 11 اُس بات پر یعقوب نے اپنی ماں رِبقہ سے کہا میرے بھا ئی عیساؤ کا سار ا جسم بالوں سے بھرا ہو ا ہے ۔ لیکن میرا جسم اُس کے جیسا بالوں سے بھرا ہوا نہیں ہے ۔ 12 اگر میرا باپ مجھے چھُولے تو اُسے یہ آسانی سے معلوم ہو جا ئیگا کہ میں عیسا ؤ نہیں ہوں۔ تب تو وہ مجھے برکت بھی نہ دینگے۔ اور یہ بھی کہا کہ میرا اسے دھوکہ دینے کی کو شش کی وجہ سے وہ مجھ پر لعنت بھی کرینگے۔ 13 اِس بات پر رِبقہ نے اُس سے کہا کہ اگر وہ تجھ پر لعنت کرے تو، وہ لعنت مجھ پر پڑے گی ۔ اِس لئے میں تجھ سے جو کہوں سو کر۔ اور کہی کے میرے لئے بکریوں کو لا ۔ 14 اِس وجہ سے یعقوب دو بکریوں کو ساتھ لا یا ۔ تب اُس نے اِسحاق کی پسند کی لذیذ غذا اُس کے گوشت سے تیار کی ۔ 15 پھر رِبقہ نے اپنے پہلو ٹھے بیٹے عیساؤ کے لئے عمدہ لباس جو کہ گھر میں تھا اُسے لے لیا۔ اور رِبقہ نے اُ س عمدہ لباس کو اپنے چھو ٹے بیٹے یعقوب کو پہنایا۔ 16 اور بکریوں کے چمڑے کو یعقوب کے ہاتھوں اور اُس کے گلے سے لپیٹ دی۔ 17 تب وہ اپنے تیار کئے ہو ئے لذیذ کھانا اور کچھ روٹی یعقوب کو دے دی ۔ 18 یعقوب اپنے باپ کے پاس گیا اور پُکارا کہ اے ابّاجان، اُس کے باپ نے پو چھا کہ کیا بیٹے اور تو کون ہے ؟ 19 یعقوب نے اپنے باپ سے کہا ، " میں عیساؤ تیرا پہلو ٹھا بیٹا۔ تیرے کہنے کے مُطابق میں ویسا ہی کر لا یا ہے۔ میں تیرے لئے شکار کے جانور کا گوشت لا یا ہوں بیٹھ کر کھا لیجئے۔ اور کہا کہ اُس کے بعد آپ مجطے خیر و برکت سے نواز سکتے ہیں۔" 20 تب اِسحاق نے اپنے بیٹے سے پوچھا کیا توُ اتنی جلدی شکا ر کر کے واپس لو ٹ آیا۔ اِس پر یعقوب نے جواب دیا، " کیونکہ خداوند تیرے خدا نے جانور کو جلدی پانے میں میری مدد کی ۔" 21 پھر یعقوب نے اِسحاق سے کہا ، "میرے نزدیک آجا تا کہ میں تجھے چھُو سکوں میرے بیٹے ، اور تجھے چھُو نے کے بعد میں آسانی سے معلوم کر سکتا ہوں کہ تو میرا بیٹا عیساؤ ہے یا نہیں۔" 22 اِس لئے یعقوب اپنے باپ اِسحاق کے پاس گیا ۔ اِسحاق اُس کو چھُوا اور کہا کہ تیری آواز تو یعقوب کی آواز جیسی ہے ۔ مگر تیرے ہاتھ تو عیساؤ کے ہاتھ کے جیسے بالوں سے پُر ہیں ۔ 23 وہ یعقوب کو پہچان نہ سکا کیوں کہ اُس کے ہاتھ عیساؤ کے ہاتھوں جیسے بالوں سے پُر تھے۔ اِس وجہ اُس نے یعقوب کو دعا ء خیر سے نوا ز۔ 24 اِسحاق نے اُس سے پوچھا کہ توُ کیا حقیقت میں میرا بیٹا عیساؤ ہے ؟ تب یعقوب نے جواب دیا کہ ہاں میں ہی ہوں۔ 25 تب اسحاق نے کہا کہ تو کھا نا لا ۔میں کھا نا کھا نے کے بعد تجھے دعاء خیر سے نوازوں گا۔ اس لئے یعقوب کھا نا لا کر دیا تو اُس نے کھا نا کھا لیا ۔اور مئے بھی پی لی ۔ 26 پھر اسحاق نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میرے نزدیک آ اور مجھے پیار سے چوم لے ۔ 27 اُس کے کہنے کے مطا بق یعقوب اپنے باپ کے پاس گیا اور اُسے پیار سے چو ما ۔جب اِسحاق نے یعقوب کے کپڑوں کی خوشبو سونگھا،تو اُس کو یہ کہتے ہو ئے دعاء خیر سے نوازا ۔ "میرے بیٹے کی خوشبو اسی کھیت کی طرح ہے جسے خدا وند نے خیر و برکت سے سرفراز کیا ۔ 28 خدا وند تیرے لئے ضرورت سے زیادہ بارش برسائے ۔ تجھے فصلوں سے ڈھیروں ڈھیر انا ج ملے او ر انگوری مئے بھی ملے ۔ 29 سب لوگ تیری خدمت کرے ۔قومیں تیرے سامنے اپنے سروں کو جھکا ئے اور تو اپنے بھائیوں پر حکمرانی کرے ۔ تیری ماں کے بیٹے تیرے سامنے سر جھکا کر تیری فرمانبرداری کریں ۔ تجھ پر لعنت کر نے والا خود لعنتی ہوگا۔اور ہر ایک جو تیرے لئے مہر بانی دکھا ئے اور تجھے دعاء دے اور وہ دعاء اور مہربانی حاصل کریگا ۔ 30 اِسحاق نے یعقوب کو خیر و برکت کی دعاء سے نوازااس کے بعد یعقوب اپنے باپ اِسحاق کے پاس سے نکلنے ہی کو تھا کہ عیساؤ شکار سے واپس لو ٹا ۔ 31 عیساؤ بھی اپنے باپ کی پسند کی مطابق خاص قسم کا کھا نا تیار کر واکر اپنے باپ کے پاس لا کر حاضر کیا اُس نے اپنے باپ سے کہا ،ابّا جان! اُٹھئے،اور تمہارے لئے تمہارے بیٹے نے شکار کے جانور کا گوشت پکا کر لا یا ہے اُس کو کھا لیجئے ۔ اور کہا کہ پھر اُس کے بعد تو مجھے دعاء خیر و برکت کے کلمات سے نواز۔ 32 اِسحاق نے اس سے پو چھا کہ تو کون ہے ؟اُس نے جواب دیا کہ میں تیرا بیٹا عیساؤ ہوں ۔ 33 تب اسحاق کو بہت غصّہ آیا اور کہا کہ تیرے آنے سے پہلے کھا نا تیّار کر کے مجھے لا کر دینے والا کون تھا ؟میں وہ سب کُچھ کھا نے کے بعد اُس کو دعاء خیر و برکت سے نوازا۔ اور کہا کہ اب میں نے جو خیر و برکت کی دُعا کی ہے اسکے لئے وہ واپس نہیں لی جاسکتی ۔ 34 عیساؤ اپنے باپ کی باتیں سُن کر غصّہ ہوا ۔اور بے چین ہو تے ہو ئے فکر مند ہوا ۔اور چیخ وپکار کر نے لگا ۔اور اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو اے ابا جان مجھے خیر و برکت کی دُعا دو ۔ 35 اِسحاق نے کہا کہ تیرے بھا ئی نے تو مجھے فریب دیا ہے ۔وہ آیا اور تیرے حق کی خیر و برکت کو لے لیا ۔ 36 عیساؤ نے کہا کہ اس کا نام یعقوب ("دھوکہ باز ")ہے ۔اور وہی اُس کے لئے مناسب و موزو ں نام ہے ۔وہ تو میرے ساتھ دو مرتبہ دھو کہ کیا ہے ۔اور وہ میرے پہلو ٹھے پن کا حق بھی لے لیا ہے ۔اور کہا کہ میرا خیر و برکت بھی لے لیا ہے ۔پھر عیساؤ نے پوچھا کہ کیا میرے لئے خیر و برکت سے کو ئی حق باقی ہے ؟ 37 اِسحاق نے کہا ، "نہیں،میں نے تجھ پر حکو مت کر نے کا حق تو یعقوب کو دیا ہے ۔ اور اُس کے تمام بھا ئی اُس کے خادم ہوں گے میں نے یہ بات اسے بتادی ہے ۔ اور میں نے اُس کے لئے زیادہ سے زیادہ اناج،دال دانہ،اور انگوری مئے کو پا نے کی دُعا کی ہے۔تب اُس نے کہا اے میرے بیٹے میں تجھے کیا دے سکتا ہوں ؟" 38 لیکن عیساؤ نے اپنے باپ سے عاجزی کر نا جاری رکھا ،" کیا آپ کے پاس صرف ایک ہی دعا ہے ؟عیساؤ رو نا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ ابّا جان !میرے لئے بھی دُعاء خیر کیجئے ۔" 39 تب اِسحاق اِس طرح اس سے کہنے لگے، " تو اچھّے علا قے میں زندگی گزار نہ سکے گا ۔اور تیرے لئے ضرورت کے مطا بق بارش میسر نہ ہو گی۔ 40 تو تلوار کی بدولت زندہ رہے گا ۔ اور تُو اپنے بھا ئی کا خادم بن کر رہے گا ۔ لیکن جب تم تیاّر رہو گے تو تم اپنے آپ کو اس کی گرفت سے آزاد کر لو گے ۔" 41 اُس دن عیساؤ،یعقوب سے بحث کر نے لگا ، "میرا باپ تو بہت جلد ہی مر جائے گا ۔اور جب ماتم پر سی کا دن گزر جائے گا تو اسکے بعد میں یعقوب کو قتل کر دوں گا ۔" 42 عیساؤ کا یعقوب کو قتل کر نے کی بات جب رِبقہ کو معلوم ہو ئی ۔تو اُس نے یعقوب کو بلا یا اور اُس سے کہا کہ سن لے تیرا بڑا بھا ئی عیساؤ تجھے قتل کرنا چاہتا ہے ۔ 43 اِس وجہ سے اے میرے بیٹے ،تو میرے کہنے کے مطا بق کر ۔میرا بھائی لابن ،حاران کے مقام پر سکو نت پذیر ہے ۔اُس کے پاس جا کر چھپ جا ۔ 44 اور اُس کے پاس ایک مختصر مدت قیام کر ۔اور اپنے بڑے بھا ئی کا غصہ ٹھنڈا ہو نے تک تو اسی کے پاس رہ ۔ 45 کچھ وقت گزرنے پر تیری غلطی کو تیرا بھا ئی بھُلا دیگا ۔ تب میں وہاں تجھے بُلا نے کے لئے ایک نوکر کو بھیجوں گی۔ اور کہا کہ ایک ہی دن میں تم دونوں کو کھو نا نہیں چاہتی ہوں ۔ 46 تب ربقہ نے اسحاق سے کہا ، "میں حتّی عورتوں کے بیچ رہنے سے نفرت کر تی ہوں ۔ اگر یعقوب بھی ایسی عورتوں میں سے کسی سے شادی کرے تو میرے لئے زندہ رہنے سے میرا مرنا ہی بہتر ہو گا ۔ "

Genesis 28

1 اِسحاق نے یعقوب کو بُلا کر اُس کے لئے دُعا دی اور اُ س سے کہا کہ تو کسی کنعانی عورت سے ہر گز شادی نہ کر نا ۔ 2 اِس وجہ سے اِس جگہ کو چھوڑ کر فدّان ارام کو چلا جا وہاں سے اپنی ماں کے بیتو ایل کے گھر کو چلا جا ۔ اور تیری ماں کا بڑا بھا ئی لابن وہاں پر رہتا ہے ۔ اور وہاں پر اُس کی بیٹیوں میں سے کسی ایک سے شادی کر لے ۔ 3 خدا قادر مطلق تیرے حق میں خیر و برکت دے۔ اور تیری بہت سی اولاد ہو گی اور میں تیرے لئے بہت بڑی قوم موُرث اعلیٰ بننے کی دُعا کروں گا۔ 4 جس طرح خدا نے ابراہیم کے حق میں خیر و برکت دی تھی ٹھیک اُسی طرح میں بھی تیرے اور تیری اولاد کے لئے دُعا کی اور تیری اِقامت وا لی زمین پر خاص زمین کو حاصل کر نے کے لئے بھی میں دُعا کروں گا۔ خدا نے ابراہیم کو جو زمین دی ہے وہ وہی ہے ۔ 5 اُسی طرح یعقوب ، فدّان ارام پر رِبقہ کے بڑے بھا ئی لابن کے پاس گئے۔ جبکہ بیتو ایل، لابن اور رِبقہ کا باپ ہے ۔ اور رِبقہ، یعقوب اور عیساؤ کی ماں ہے ۔ 6 ا ن کے باپ اِسحاق نے یعقوب کو جو دُعا دی ، اور شادی کر لینے کے لئے فدّان ارام کو بھیجا اور کنعان کی کسی عورت سے یعقوب کو شادی نہ کر نے کا جو حکم دیا یہ سب کچھ عیساؤ کو معلوم ہوا ۔ 7 اِس کے علاوہ یعقوب اپنے ماں باپ کا فرمانبردار ہو کر فدّان ارام کو جانے کی بات عیساؤ کو معلوم ہو ئی۔ 8 عیساؤ کو یہ بات بھی معلوم ہو ئی کہ اُس نے بیٹوں کو کنعانی عورتوں سے شادیاں رچانا اپنے باپ کو پسند نہیں۔ 9 جبکہ عیساؤ کو فی ا لوقت دو بیویاں تو تھی ہی۔ اِسکے باوجود وہ اِسمٰعیل کے پاس جا کر اس کی بیٹی مہلت سے شادی کر لی۔ جبکہ اِسمٰعیل، ابراہیم کا بیٹا ہے ۔ اور مہلت، نبایوت کی بہن ہے ۔ 10 یعقوب ، بیر سبع کو ترک کر کے حاران کو چلے گئے ۔ 11 جب یعقوب سفر کر رہے تھے تو سورج غروب ہو گیا ۔ اِسوجہ سے یعقوب اُس رات کو گذارنے کے لئے کسی نا معلوم جگہ چلے گئے۔ یعقوب نے اُس جگہ سے ایک پتھر لیا اور اُس پر سر رکھ کر سو گئے ۔ 12 یعقوب کو ایک خواب نظر آیا۔ اُس خواب میں اُس نے دیکھا کہ ایک سیڑھی زمین پر کھڑی ہے ۔ اور وہ آسمان کو چھو تی ہے۔ اور یعقوب نے یہ دیکھا کہ خدا کے فرشتے اُس سے اوُپر چڑھتے اور نیچے اُتر تے ہیں۔ 13 یعقوب نے خداوند کو سیڑھی کے ایک سِرے پر کھڑے ہوئے دیکھا اور خداوند نے اُس سے کہا ، " میں تیرا دادا ابراہیم کا خداوند خدا ہوں۔میں اِسحاق کا بھی خدا ہوں۔ اب تو جس خطہء ارض پر سویا ہوا ہے ۔ وہ ملک میں تجھے عطا کروں گا۔ میں اِس ملک کو تجھے اور تیری اولاد کو دے رہا ہوں۔ 14 زمین پر پا ئے جانے وا لے ریت کے ذرّوں کی طرح تیری بے شُمار نسل ہو گی ۔ اور وہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں پھیل جا ئے گی ۔ تیری معرفت اور تیری ذریّت و نسل کے توسط سے زمین پر بسنے وا لی تمام قومیں اور ذاتیں فیض و برکت پا ئیں گی ۔ 15 " میں تیرے ساتھ رہوں گا ، اور جہاں کہیں بھی تُو جا ئے گا میں تیری حفاظت کروں گا ۔ اِس جگہ پر تجھے پھر دوبارہ لا ؤں گا ۔ اور کہا کہ میں اُس وقت تک تجھے چھوڑ کر نہ جا ؤں گا جب تک کہ میرا کیا ہوا وعدہ پو را نہ ہو ۔" 16 تب یعقوب نیند سے بیدار ہو ئے اور کہا کہ یقینًا اِس جگہ پر خداوند ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ بات مجھے معلوم نہ تھی۔ 17 کہ یعقوب کو ڈر محسوس ہوا تھا ۔ اور اُس نے کہا کہ یہ تو بہت ہی اہم جگہ ہے ۔ اور یہ خدا کا گھر ہے ۔ اور کہا کہ یہ تو جنت کا دروازہ ہے ۔ 18 دوسرے دِن یعقوب صبح سویرے جلد اٹھے اور جس پتھر پر تکیہ لگا کر سوئے ہو ئے تھے اُس کو اٹھا لئے اور اُس کو زمین پر ایک کھمبے کی طرح کھڑا کر دیئے۔ پھر اُس کے بعد اس پتھر پر تیل اُنڈیل دیئے ۔ 19 اُس جگہ کا نام لُوز تھا ۔ لیکن یعقوب نے اُس کانام بیت ایل رکھا ۔ 20 تب یعقوب نے یہ وعدہ کیا کہ خدا میرے ساتھ رہے گا ، اور میں جہاں جا ؤں وہ میری حفاظت کرے گا اور کھانے کے لئے غذا کا اور پہننے کے لئے کپڑوں کا انتظام کرے گا ۔ 21 میں سکون و اطمینان سے اپنے باپ کے گھر کو لوٹ کر واپس آؤں تو خداوند ہی میرا خدا ہو گا ۔ 22 میں نے جس پتھر کو کھمبے کی طرح کھڑا کیا ہے وہ خدا کا گھر ہو گا ۔ اور اِس کے علا وہ خدا مجھے جو کچھ بھی عطا کرے گا ، تو اُس کا دسواں حصّہ میں خدا کو دے دوں گا ۔

Genesis 29

1 تب پھر یعقوب نے اپنے سفر کو جا ری رکھا۔ وہ مشرقی سمت میں پا ئے جانے وا لے ملک کو چلے گئے۔ 2 جب یعقوب نے غور سے دیکھا تو کھیت میں اُسے ایک کنواں نظر آیا ۔ کنوئیں کے قریب میں بھیڑوں کے تین ریوڑ سوئے ہو ئے تھے۔ اور اُن بھیڑو ں کو اُسی کنو ئیں کا پانی پلا تے تھے۔ کنو ئیں کے اُوپر بڑا سا چوڑا پتھر رکھا گیا تھا ۔ 3 بھیڑوں کے تمام ریوڑ جب جمع ہو تے تو چرواہے کنوئیں کے منھ پر کے اُس پتھّر کو لڑ ھکا دیتے تھے ۔تب تمام بھیڑیں کنویں کا پانی پیتے تھے ۔بھیڑیں جب پا نی پی لیتے تھے تو چرواہے پھر سے پتھر کو کنوئیں کے منھ پر رکھ دیتے ہیں۔ 4 یعقوب نے وہاں پر موجود چرواہوں سے پو چھا کہ اے بھائی!تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم حاران کے رہنے والے ہیں ۔ 5 تب یعقوب نے ان سے پو چھا کہ کیا تم نحور کے بیٹے لا بن کو جانتے ہو ؟ چرواہوں نے جواب دیا کہ ہم واقف ہیں ۔ 6 یعقوب نے اُن سے پو چھا کہ ہاں کیا وہ خیر و عافیت سے ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ خیریت سے ہے ۔وہ دیکھو!اُن بھیڑو ں کے ساتھ آنے والی اُس کی بیٹی راخل ہی ہے ۔ 7 یعقوب نے اُن سے کہا کہ دیکھو ابھی دن ہی ہے رات کے لئے بھیڑوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا وقت نہیں ہوا ہے پا نی پلا ؤ اور ان کو چراؤ ۔ 8 ان چرواہوں نے کہا کہ جب تک بھیڑوں کے ریوڑ جمع نہ ہونگے تب تک ہم کنویں کے منھ سے پتھّر کو ہٹا کر ان بھیڑوں کو پا نی پِلا نہ سکیں گے ۔ اور کہے کہ وہ ایک ساتھ جمع ہو کر آئیں تو ہم ان کو پانی پلا ئیں گے۔ 9 یعقوب جب چرواہوں سے باتیں کررہا تھا تو ،اپنے باپ کے بھیڑوں کے ساتھ آئی ۔(جبکہ بھیڑوں کی دیکھ بھال و نگرانی راخل کی ذمہ داری تھی )۔ 10 راخل،لا بن کی بیٹی تھی اور لابن،یعقوب کی ماں رِبقہ کا بڑا بھا ئی تھا ۔جب یعقوب نے راخل کو لا بن کے بھیڑوں کے جھنڈ کے ساتھ دیکھا تو کنوئیں کے منھ پر سے پتھر کو ہٹا یا اور لا بن کی بھیڑ وں کو پا نی پلا یا ۔ 11 تب یعقوب نے راخل کو چو ما اور رونے لگا ۔ 12 یعقوب نے راخل سے کہا کہ وہ خود کو اُس کے باپ کے خاندان والا اور رِبقہ کا بیٹا بتا یا ۔پھر راخل گھر کودوڑتی ہو ئی گئی اپنے باپ سے یہ سارا ماجرا کہہ دی ۔ 13 لا بن جب اپنی بہن کے بیٹے یعقوب کے بارے میں سُنا تو ملا قات کے لئے دوڑتے ہو ئے آیا ۔ لا بن نے اُس کو گلے سے لگا یا اور پیار کیا اور اسے گھر کو بلا یا ۔ تب یعقوب نے پیش آ ئے ہو ئے تمام واقعات کو لابن سے سنایا ۔ 14 پھر لا بن نے کہا کہ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے کہ تو میرے خاص خاندان کا آدمی ہے اِس لئے یعقوب لابن کے ساتھ ایک مہینہ کی مدّت تک رہا ۔ 15 ایک دن لا بن نے یعقوب سے کہا کہ تو میرے پاس تنخواہ لئے بغیر جو کام کر تا ہے وہ مناسب نہیں ہے ۔اس لئے کہ تو میرا عزیز و رشتہ دار ہے نہ کہ نو کر ۔ او رپو چھا کہ میں تجھے کتنی تنخواہ دوں ۔ 16 لا بن کی دو بیٹیاں تھیں ۔ بڑی کا نام لیاہ اور چھو ٹی کا نام راخل تھا ۔ 17 راخل بڑی خوبصورت تھی ۔ اور لیاہ کی آنکھیں سنجیدہ اور نرم و نازک تھیں ۔ 18 یعقوب ،راخل سے محبت کر نے لگا ۔ اور یعقوب نے لا بن سے کہا کہ اپنی چھو ٹی بیٹی راخل کی شادی اگر مجھ سے کرا دیگا تو میں تیرے پاس سات برس تک نوکری کروں گا ۔ 19 لا بن نے کہا کہ کسی دوسرے شخص کا اُس سے شادی کر نے سے پہلے ہی تیرا اس سے شادی کر نا اس کے حق میں بھلا ہو گا ۔ اور کہا کہ اس وجہ سے تو میرے ساتھ رہ جا ۔ 20 اس لئے یعقوب اس کے ساتھ رہا اور سات برس تک لا بن کی خدمت کی ۔ کیوں کہ وہ راخل سے بہت زیادہ محبت کر تا تھا ، اس لئے وہ مدت اس کو بہت کم معلوم پڑا ۔ 21 سات برس گزر نے پر یعقوب نے لا بن سے کہا کہ مجھے راخل سے شادی کرا دے ۔ کیوں کہ میری مدت ملازمت پو ری ہو گئی ہے ۔ 22 اس لئے لا بن نے اس جگہ پر مقامی لوگوں کے لئے ایک کھا نے کی ضیافت کا اہتمام کیا ۔ 23 اس رات لا بن اپنی بیٹی لیاہ کو یعقوب کے پاس بھیج دیا ۔ اور یعقوب اس سے ہم بستر ہو ئے ۔ 24 (لا بن نے اپنی خادمہ زلفہ کو اپنی بیٹی کے لئے بطور خادمہ عطا کیا ) 25 صبح جب یعقوب اٹھ کر دیکھا تو اس کے ساتھ لیاہ تھی ۔ یعقوب نے لا بن سے کہا ، " تو نے مجھے دھو کہ دیا ہے ۔ جبکہ میں نے راخل سے شادی کر نے کے لئے بڑی محنت و مشقّت سے خدمت کی تھی ۔ لیکن تو نے مجھے کیوں دھو کہ دیا ؟" 26 لا بن نے کہا ، " ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ بڑی بیٹی کی شادی ہو ئے بغیر چھو ٹی بیٹی کی شادی نہیں کی جاتی ۔ 27 لیکن اس کی شادی کے ہفتہ کو آگے بڑھا دے تو میں تیری راخل سے بھی شادی کر دوں گا ۔ بشرط یہ کہ اگر تو مزید سات برس تک میری خدمت کرے ۔ " 28 یعقوب نے یوں ہی ایک ہفتہ گزارا۔ تب لا بن نے اپنی بیٹی راخل کے ساتھ اس کی شادی کر دی ۔ 29 (لا بن نے اپنی خادمہ بلہاہ کو اپنی بیٹی راخل کے لئے بطور خادمہ دے دیا ۔ ) 30 یعقوب راخل سے بھی ہمبستر ہو ئے اور اس نے راخل سے محبت کی ۔ جس کی وجہ سے وہ مزید سات برس تک لا بن کی خدمت کر نے لگے ۔ 31 خدا وند نے دیکھا کہ لیاہ سے نفرت کی گئی ۔ اس لئے خدا وند نے لیاہ کی گود اولاد والی بنادیا لیکن راخل کو بانجھ بنادیا ۔ 32 لیاہ نے ایک بچے کو جنم دیا ۔ اور اس نے اپنے آپ میں کہا کہ خدا وند نے میرے دکھ درد کو محسوس کیا ۔ اور میرا شوہر مجھ سے محبت نہیں کر تا ہے ۔ کم سے کم اب وہ مجھ سے محبت کرے گا ۔ یہ کہتے ہو ئے اس نے اپنے بیٹے کا " رو بن " نام رکھا ۔ 33 لیاہ پھر حاملہ ہو ئی اور مزید ایک بچہ کو جنم دی ۔ اس نے کہا ،"خدا وند نے یہ سمجھا کہ مجھ سے نفرت کی جا رہی ہے اس لئے اس نے مجھے ایک اور بیٹا دیا ہے اور اس کا نام اس نے " شمعون " رکھا ۔ " 34 لیاہ پھر سے حاملہ ہو ئی اور ایک بیٹا کو جنم دی ۔ اور وہ اپنے آپ میں کہنے لگی ، " یقیناً اب میرا شو ہر مجھ سے محبت کریگا۔ کیوں کہ میں نے اس کو تین بیٹا دیا ہے ۔ اس لئے اس نے اس کا نام "لا وی " رکھا ۔ " 35 پھر لیاہ ایک اور بیٹے کو جنم دی ۔ لیاہ نے اپنے آپ میں کہا کہ اب تو میں خدا وند کی تمجید بیان کروں گی ۔ یہ کہتے ہو ئے اس نے اس بچہ کا نام " یہوداہ" رکھا۔ پھر اس کے بعد لیاہ کو بچہ ہو نے کا سلسلہ بند ہو گیا ۔

Genesis 30

1 جب راخل نے دیکھا کہ وہ یعقوب کے لئے بچہ پیدا نہ کر سکی تو اپنی بڑی بہن لیاہ سے حسد کر نے لگی ۔ اس لئے اس نے یعقوب سے کہا ، " مجھے اولاد دے ور نہ میں مر جاؤں گی ۔ " 2 یعقوب کو راخل پر غصّہ آیا ۔ اس نے اس سے کہا کہ میں تو خدا نہیں ہوں ۔ وہ تو خدا ہی ہے ۔ جس نے تجھے اولاد سے محروم رکھا ہے ۔ 3 تب راخل نے کہا کہ تو میری خاد مہ بلہا ہ کو لے لے ۔ اور اُس کے ساتھ ہمبستر ہو ۔ اور وہ میرے لئے ایک بچہ جنے گی ۔ تب میں اُس کے ذریعے ماں بن جا ؤں گی ۔ 4 ان کے کہنے کے مطا بق راخل نے بلہاہ کو اپنے شوہر یعقوب کے حوالے کیا۔ اور یعقوب بلہا ہ سے ہمبستر ہو ئے۔ 5 بِلہاہ حاملہ ہو ئی اور یعقوب کے لئے ایک بیٹے کو جنم دی۔ 6 راخل نے کہا کہ خدا نے میری دُعا کو قبول کر کے مجھے ایک بیٹا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اُس نے اُس بچے کا نام دان رکھا۔ 7 بِلہاہ دوبارہ حاملہ ہو کر یعقوب کو دوسرا بچہ دی۔ 8 راخل نے کہا ، "میں اپنی بڑی بہن کے ساتھ جد و جہد کی تھی اور میں جیت گئی تھی " اس لئے اس بچے کانام "نفتالی " رکھا۔ 9 لیاہ دیکھی کہ اب وہ اور بچہ نہیں جن سکتی اس لئے اُس نے اپنی زِلفہ کو یعقوب کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ 10 زِلفہ سے ایک بچہ پیدا ہوا ۔ 11 لیاہ نے اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھ کر اس بچے کا نام جاد رکھا ۔ 12 زلفہ ایک اور بچہ کو جنم دی ،تو لیاہ نے کہا کہ میں قابل مبارک باد ہوں ۔ 13 لیاہ بولی ، " میں بہت خوش ہوں ۔ " یہ کہتے ہو ئے اس نے اس بچہ کا نام آثر رکھا ۔ 14 گیہوں کی فصل کی کٹا ئی کے زما نے میں رو بن جب کھیت کو گیا تو ایک خاص قسم کا پو دا مُردم گیاہ کو دیکھا روبن نے ان مُردم گیاہ کو اپنی ماں لیاہ کو لا دیا ۔ راخل نے لیاہ سے پو چھا کہ برائے مہربانی تیرے بچے کے لا ئے ہو ئے مُردم گیا ہ میں سے کچھ مُردم گیاہ مجھے بھی دیدے۔ 15 لیاہ نے کہا ، "تو نے تو ابھی ابھی میرے شوہر کو اپنے قابو میں کر لیا ہے ۔ اور اِن مُردم گیاہ کو بھی نکال لینے کی کو شش کر رہی ہو جو کہ میرے بچے لا ئے ہیں ۔ راخل نے کہا کہ تیرا بچہ جن مُردم گیاہ کو لایا ہے اگر وہ مجھے دیدے تو آج کی رات تو یعقوب کے ساتھ سو سکتی ہے ۔ 16 اس رات یعقوب کھیت سے آگئے ۔اس کو دیکھتے ہی لیاہ اس سے ملنے کے لئے دوڑی ۔ اس نے کہا ، "آج کی رات تو میرے ساتھ ہمبستر ہو گا ۔ اور میرے بیٹے نے جن مُردم گیاہ کو لا یا تھا ان کو میں نے تیرے لئے دیدیا ہے ۔ "جس کی وجہ سے اس رات یعقوب لیاہ کے ساتھ ہمبستر ہو ئے ۔ 17 خدا کا یہ فضل ہوا کہ لیاہ پھر دوبارہ حاملہ ہو ئی ۔ اور وہ اپنے پانچویں بیٹے کو جنم دی ۔ 18 لیاہ نے کہا کہ خدا نے مجھے ایک انعام دیا ہے ۔ کیوں کہ میں نے اپنی لونڈی کو اپنے شوہر کے حوالے کیا ہے ۔ اس لئے اس نے اس بچہ کا نام اشکار رکھا ۔ 19 لیاہ پھر حاملہ ہو ئی اور چھٹویں بچے کو جنم دی ۔ 20 لیاہ نے کہا کہ خدا نے مجھے ایک بہت ہی عمدہ قسم کا انعام دیا ہے ۔ ایسی صورت میں تو یعقوب یقیناً مجھے قبول کرے گا ۔ اس لئے کہ میں نے چھ بیٹوں کو اس کی گود میں ڈال دیا ہے ۔ یہ کہتے ہو ئے اس نے اس کا نام " زبولون "رکھا 21 تب پھر لیاہ نے ایک لڑ کی کو جنم دیا ۔ اور اس نے اپنی لڑکی کا نام دینہ رکھا ۔ 22 پھر خدا نے راخل کی بھی دعا کو قبول کر تے ہو ئے اس پر ماں بننے کا فضل کیا ۔ 23 راخل حاملہ ہو کر ایک بیٹے کو جنم دی ۔پھر راخل نے کہا کہ خدا نے میرے نصیب میں جو ذلّت و رسوائی رکھی تھی اس کو دور کر دیا ہے ۔ اور مجھے امید ہے کہ خدا وند مجھے دوسرا بیٹا دیگا ۔ "اس لئے اسے اس بچے کا نام "یوسف " رکھا ۔ 24 25 یو سف جب پیدا ہو ئے تو یعقوب نے لا بن سے کہا کہ اب مجھے میرے خاص گھر کو جانے کی اجازت دے 26 میری بیویوں اور میرے بچوں کو مجھے دیدے ۔ میں نے تمہارا کام کر کے ان کو کمالیا ہے ۔ اور کہا کہ میں نے تیری بہت اچھی طرح خدمت کی ہے جس کو تو اچھی طرح جانتا ہے ۔ 27 لابن نے اس سے کہا کہ میں جو کہتا ہوں وہ سُن لے ۔ تیری خاطر اپنے اوپر خدا وند کے فضل و کرم کو میں خوب جانتا ہوں ۔ 28 بتاؤ کہ میں تجھے کیا معاوضہ دوں ؟اور کہا کہ تو جو کہے گا وہ میں تجھے ادا کروں گا ۔ 29 یعقوب نے کہا کہ میں جس محنت و مشقت سے کام کیا ہوں وہ تجھے اچھی طرح معلوم ہے ۔ اور یہ کہ میں نے تیرے بھیڑوں کے ریوڑ کی نگہداشت کی ہے جس کی وجہ سے ان میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ 30 میں جب آیا تھا تو تیرے پاس تھو ڑا تھا ۔ اور اب تیرے پاس بہت زیادہ ہے ۔ اور میں نے تیرے لئے جو مشقّت اٹھا ئی ہے خدا وند نے اس میں برکت دی ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ میں اپنے خاندان کے لئے کام کروں ۔ اور کہا کہ یہ وقت میرے اپنے گھر بنانے کا ہے ۔ 31 لا بن نے پوچھا کہ اگر یہی بات ہے تو پھر میں تجھے کیا دوں ؟ یعقوب نے جواب دیا کہ تجھ سے میں کچھ نہیں مانگتا (میں نے جو مشقّت اٹھا ئی ہے اس کا تو معاوضہ دیدے تو کا فی ہے ) بس ایک کام کو کر دے میں واپس جاکر تیرے بھیڑ کی نگرا نی کروں گا۔ 32 میں تیرے بھیڑوں کے جھنڈ میں جا ؤں گا ہر ایک بھیڑ یا بکری جو داغدار یا دھبّہ دار ہو ، اور ہر وہ ایک میمنہ جو کا لا رنگ کا ہو میں انہیں لے لونگا ۔ یہی میری اجرت ہو گی ۔ 33 آنے وا لے دِنوں میں جب تو آکر آزمائے گا کہ میں سچا ہوں۔ یا نہیں، تو اس بات کو بخوبی جان لے گا ۔ اور کہا کہ اگر میرے پاس کو ئی بکری داغدار نہیں ہو گی یا کو ئی کا لی نہیں ہو گی تو مجھے چُرا لینے میں شُمار کر ۔ 34 لا بن نے کہا کہ اِس بات کو تسلیم کر لی ہے ۔ اور کہا کہ تیرے کہنے کے مُطابق ہم کریں گے۔ 35 اُس دِن لا بن نے تمام داغدار اور دھا ری وا لے بھیڑوں اور بکریوں کو الگ کیا ۔ اور اپنے بیٹوں کو کہا کہ اُن بھیڑوں کا خیال رکھو ۔ 36 اِس وجہ سے اُن کے لڑ کے اُن داغدار بھیڑوں کو لے کر دوسری جگہ مُنتقل ہو گئے۔ اور وہ مسلسل تین دن تک سفر کر تے رہے ۔ اور یعقوب وہیں پر رہ کر بچی ہو ئی تمام بھیڑوں کی نگرانی کر نے لگا۔ 37 یعقوب نے بادام اور چِنار کے درختوں سے ہری ساخیں کاٹ لی۔ اور اُن پر سے چھلکا چھیل دیا ۔ اس لئے ان چھڑیوں( شاخوں) پر سفید دھا ریاں نظر آنے لگی۔ 38 یعقوب نے اُن چھڑ یوں کو ریوڑ کے سامنے پانی پینے کی جگہ رکھ دیا ۔ جب جانور پانی پینے کے لئے اُس جگہ پر آتے تھے اور اپنی جنسی بھوک کو پورا کر تے تھے۔ 39 جب بکریاں اُن چھڑیوں کے سامنے ایک دوسرے سے اپنی جنسی بھوک کو مٹا تے تھے تو اُ ن سے پیدا ہو نے وا لے تمام بچے داغدار ، دھا ریدار یا دھبے دار ہو تے تھے۔ 40 یعقوب نے داغ دھبوں وا لے اور کالے بھیڑ بکریوں کو ریوڑ کے دیگر بھیڑ بکریوں سے الگ کر دیا۔ 41 طاقتور بھیڑ بکریوں میں جب جنسی ملاپ ہو تا تو یعقوب اُن چھڑیوں کو ان کی نظروں کے سامنے رکھ دیتا تھا ۔ اور وہ اُن چھڑیوں سے قریب میں جنسی ملاپ کر تے تھے۔ 42 لیکن جب کمزور قسم کے آپس میں جنسی ملاپ کرتے تو یعقوب اُن چھڑیوں کو وہاں پر نہ رکھتا تھا۔ تاکہ اُن کمزور جانوروں سے پیدا ہو نے والے بچے لابن کے لئے ہونگے۔ اور طاقتور بھیڑ بکریوں سے پیدا ہو نے وا لے بچے یعقوب کے لئے ہونگے۔ 43 اس طرح یعقوب بہت ہی ا میر اور دولتمند ہوا ۔ اور اُس کے پاس بڑے بڑے ریوڑ، کئی نوکر اور اس کے علاوہ اُونٹ اور گدھے بھی تھے۔

Genesis 31

1 ایک مرتبہ لابن کے لڑکوں کی گفتگو کو یعقوب نے سُن لی ۔ اور انہوں نے کہا کہ ہمارے باپ کی ہر چیز کو یعقوب لے کر دولتمند بن گیا ہے ۔ اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ وہ ہمارے باپ کی ساری دولت کو نکال لیا ہے ۔ 2 لابن کا پہلے کی طرح محبت و دوستی کے ساتھ نہ رہنے کی وجہ پر بھی یعقوب غور کرنے لگا ۔ 3 خداوند نے یعقوب سے کہا ، " تو اپنے اُس وطن کو جس میں تیرے آبا ء واجداد رہتے تھے چلا جا ۔ اور میں تیرے ہی ساتھ رہوں گا ۔" 4 اس وجہ سے یعقوب نے راخل اور لیاہ سے کہا کہ اپنی بھیڑ بکریاں جس کھیت میں چرتی ہیں وہاں آکر مجھ سے ملا قات کریں۔ 5 یعقوب نے راخل اور لیاہ سے کہا کہ تمہا رے باپ کا مجھ سے ناراض رہنے کی بات کو میں نے محسوس کیا ہے ۔ پہلے تو وہ میرے ساتھ دوستی و محبت سے تھا۔ لیکن اب اُس کے پاس دوستی باقی نہ رہی ۔ پھر بھی میرے باپ کا خدا تو ضرور میرے ساتھ ہے ۔ 6 تم دونوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں نے تمہا رے باپ کیلئے ممکنہ کوشش اور محنت کی ہے ۔ 7 لیکن تمہا رے باپ نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ اور تمہا ر ے باپ نے تو میری تنخواہ کو دس مرتبہ بد ل دیا ہے۔ لیکن اُن تمام موقعوں پر خدا نے لابن کے تمام مکرو فریب سے مجھے بچا لیا ہے ۔ 8 " اگر لابن نے کہا کہ میری اجرت داغدار جانور ہی ہو گا تب تمام جانور داغدار ہی پیدا ہو نے لگے گا ۔ اگر لابن نے کہا کہ میری اجرت دھا ری والے جانور ہو نگے تو سارے جانور دھا ری وا لے ہی پیدا ہونگے۔ 9 اِس طرح خدا نے تمہا رے باپ سے بھیڑ بکریوں کو نکال کر وہ سب مجھے دیدیا۔ 10 " جانور جب آپس میں ایک دوسرے سے مل رہے تھے تو مجھے ایک خواب ہوا ۔ جس میں میں نے دیکھا کہ بکرے صرف داغدار اور دھا ری وا لے بکریوں سے مل رہے تھے۔ 11 فرشتہ خواب میں میرے ساتھ بات کر تے ہو ئے پکارنے لگا کہ اے یعقوب ! میں نے جواب دیا ، "میں حاضر ہوں۔" 12 فرشتے نے مجھ سے کہا ، " دیکھ، داغدار اور دھا ری وا لے بھیڑ بکریاں ہی آپس میں ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔ اور اُن کو ایسا کر نے کا میں نے ہی انتظام کیا ہے ۔ اور لابن کا تجھ سے کئے جانے وا لے سارے معاملے کو میں دیکھ چکا ہوں۔ 13 بیت ایل میں تیرے پاس جو خدا آیا تھا وہ میں ہی ہوں۔ اُس جگہ پر تو نے ایک پتھر کا کھمبا کھڑا کیا تھا۔ تو نے اس پتھر پر زیتون کا تیل اُنڈیل کر مجھ سے ایک وعدہ کیا تھا ۔ اور اب تو اپنے پیدائشی وطن کو واپس جا جہاں پر تم پیدا ہو ئے تھے۔" 14 راخل اور لیاہ نے یعقوب سے کہا کہ ہمارے باپ کے جب مر نے کا وقت آیا تو ہم لوگوں کو دینے کے لئے اُس کے پاس کچھ نہ رہا ۔وہ ہم لوگوں کے ساتھ ایسا بر تاؤ کیا جیسا کہ تیرے پاس لوگ اجنبی ہیں اس نے ہمیں تجھ کو بیچ دیا ہے ۔ 15 اور اس نے ساری دولت کو صرف اپنے استعمال میں لا یا ہے ۔ 16 اور خدا نے ساری دولت کو ہمارے باپ سے چھین لیا ہے ۔ اب وہ ہمارے اور ہماری اولاد کے حق میں ہو ئی ہے ۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ خدا نے تجھے جیسا کہا ہے ویسا ہی کر ۔ 17 جس کی وجہ سے یعقوب نے اپنے سفر کی تیاری کی اُس نے اپنی نرینہ اولاد کو اور اپنی بیویوں کے اُونٹوں پر بٹھا یا ۔ 18 تب پھر وہ سب کے سب ،یعقوب کے باپ کی قیام پذیر جگہ کنعان کا دوبارہ سفر شروع کیا ۔ اور یعقوب نے جن بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کو پا یا تھا وہ سب اُن کے سامنے چلنے لگے ۔ جب وہ فدّان ارام میں جن جن چیزوں کا مالک تھا اُن سب کو وہ لے گئے۔ 19 اس وقت لا بن اپنی بھیڑوں کا اون کتر نے کے لئے گیا تھا ۔ جب وہ موجود نہ تھا تو راخل اس کے گھر میں داخل ہو ئی اور اپنے باپ کے اہل خانہ کے خداؤں کے مجسمے کو چرا لی۔ 20 ارامی لا بن کو یعقوب نے دھو کہ دیا ۔ اور اپنے جانے کی بات کو یعقوب نے اس سے نہ بتا ئی ۔ 21 یعقوب اپنے سارے گھرا نے کو ساتھ لیا ،اور اپنی جائیداد میں سے ہر چیز کو لیا ،اور وہاں سے جلد ہی روانہ ہو ئے ۔وہ لوگ یوفریتس ندی کو پار کئے اور پہاڑی حدود سے جِلعاد ملک کی سمت میں سفر کو جاری رکھا ۔ 22 یعقوب کے وہاں سے بھاگ جانے کی بات لا بن کو تیس دن کے بعد معلوم ہو ئی ۔ 23 اس وجہ سے لا بن نے اپنے لوگوں کو ساتھ لیکر یعقوب کا تعاقب کیا ۔ سات دن گزر نے کے بعد لا بن نے یعقوب کو جلعاد کے پہاڑی ملک میں پکڑا ۔ 24 اُس رات خدا لا بن کو خواب میں یہ کہتے ہو ئے دکھا ئی دیا ، " تم جو کچھ کہو اس میں ہو شیاری بر تو ۔" 25 دوسرے دن صبح لا بن یعقوب سے ملا ۔ اور یعقوب نے پہاڑ کے اوپر اپنا خیمہ لگا رکھا تھا۔لا بن اور اُس کے تمام لوگ بھی جلعاد کے پہاڑی ملک میں اپنے خیمے لگائے ۔ 26 لا بن نے یعقوب سے کہا کہ تو نے مجھے کیوں دھو کہ دیا ؟اور جنگ میں عورتوں کو قید کئے جانے کی طرح تُو نے میری لڑکیوں کو کیوں بُلا یا؟ 27 تُو مجھ سے کہے بغیر کیوں بھاگ آ یا ؟اگر تو مجھ سے پو چھا ہو تا تو میں تیرے لئے ایک صیافت کا اِنتظام کر تا ۔ اور جہاں پر گانا ،ناچ،اور ساز و باجا کی محفل سجی ہو تی ۔ 28 میرے نواسوں سے پیار کر نے ،اور بیٹیوں کو وداع کر نے کے لئے تُو نے مجھے موقع ہی نہ دیا ۔ اور اپنی نادانی کی وجہ سے تو نے ایسا کیا ہے ۔ 29 تجھے بر باد کر نے کے لئے میرے پاس حوصلہ اور طاقت ہے ۔ لیکن گزشتہ رات تیرے باپ کا خدا مجھے خواب میں نظر آیا اور مجھے کہا کہ میں تجھے جو کچھ بھی کہوں اس میں ہوشیاری بر تو ں۔ 30 تجھے تیرے گھر واپس لوٹ جا نے کی خواہش کو میں جانتا ہوں ۔ اِس وجہ سے تو لوٹ آیا ہے ۔لیکن تو نے میرے خداؤں کو کیوں چُرالایا ہے ؟ 31 یعقوب نے کہا کہ میں تجھ سے کہے بغیر ہی لوٹ کر آیا ہوں ۔ کیوں کہ مجھے خوف لا حق ہوا ۔ میں نے سوچا کہ تو اپنی بیٹیوں کو مجھ سے چھین لیگا ۔ 32 لیکن میں نے تو تیرے خداؤں کو نہیں چُرایا ہے ۔ کو ئی بھی شخص جس نے اُسے چرایا ہے ،اور اگر وہ یہاں ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ اور تیرے لوگ ہی میرے گواہ کے لئے کا فی ہے ۔ اور تیرے متعلق کو ئی ایسی بات ہے تو تُو ہی غور کر ۔ اگر تیرا کو ئی سامان ہے تو خود سے دیکھ لے ۔ لا بن کے خدا ؤں کی مورتیوں کو راخل نے چُرائی تھی لیکن یعقوب کو اس بات کا کچھ بھی علم نہ تھا ۔ 33 جس کی وجہ سے لا بن نے یعقوب اور لیاہ کے خیمے میں تلاش کیا ۔ پھر اُس خیمے میں جس میں دونوں خادمہ تھیں ڈھونڈنے لگا ،وہاں پر بھی اُس کو مورتیاں نہ ملیں ۔ وہاں سے راخل کے خیمے کو چلا گیا ۔ 34 راخل اُن مورتیوں کو اپنی اُونٹ کی زین میں رکھ کر اُس پر بیٹھ گئی ۔ لیکن خیمے کو پو ری طرح تلاش کر نے کے با وجود بھی لا بن اپنے خدا ؤں کی مورتیوں کو نہ پا سکا ۔ 35 تب راخل نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ مجھ پر غصّہ نہ ہو ۔ تیرے سامنے میرا اٹھ کھڑا ہو نا ممکن نہیں اور کہا کہ میں اِن دنوں حیض سے ہوں ۔ چونکہ لابن پو ری تلاشی کے باوجود اپنے مورتیوں کو پا نے سے قاصر رہا ۔ 36 تب یعقوب غضب آلود ہوا اور کہا کہ مجھ سے کیا غلطی سرزد ہو ئی ہے ،اور کس قانون کی میں نے خلاف ورزی کی ہے ،اور میرا پیچھا کر تے ہو ئے آکر تجھے روکنے کا کیا اختیار ہے ؟ 37 میرے پاس کی ہر چیز کو تلاش کر نے کے با وجود تجھے تیری مطلو بہ کو ئی چیز نہیں ملی ۔ اگر تجھے کو ئی ایسی چیز ملی ہے تو بتا دے ۔ اور اگر ہو تو اس کو ایسی جگہ رکھ کہ میرے تمام لوگ دیکھیں ۔ اور ہم میں سے کون صحیح ہیں اس بات کا فیصلہ تو ہمارے لوگ ہی کریں گے ۔ 38 میں تو تیرے لئے بیس سال محنت کیا ۔ اس دوران کو ئی بھیڑ بکری کا بچہ بوقت پیدا ئش نہیں مرا ۔ اور تیرے ریوڑ کے کسی مینڈھے کو میں نے نہیں کھا یا ۔ 39 جب کبھی کو ئی درندہ کسی بکری کو پھاڑ ڈالتا تھا تو اسکے بدلے میں اپنی بکری تجھے دیتا تھا ۔ مرے ہو ئے چو پائے کو تیرے سامنے لا کر میں نے تجھ سے یہ نہ کہا کہ اس میں میری کو ئی غلطی نہیں ہے ۔ چوری رات میں ہو کہ دن میں چُرائے گئے چوپائے کے عوض تو نے مجھ سے اس کا جر مانہ وصول کیا ۔ 40 دن میں سورج کی طمازت سے میں نے اپنی قوت کو کمزور کیا ۔ اور رات میں جاڑوں کی وجہ سے میری نیند بھی نہ پو ری ہو تی تھی ۔ 41 میں نے بیس سال تک بحیثیت نوکر تیری خدمت کی ہے ۔ ابتدائی چودہ بر سوں میں تیری دونوں بیٹیوں کو پا نے کے لئے محنت کیا ہوں ۔ اور آخری چھ بر سوں میں تیری بھیڑ بکریوں کو پا نے کی خاطر محنت کیا ہوں ۔ اور اس دوران تو نے تو میرے معاوضہ کو دس مرتبہ بدلتا رہا ۔ 42 لیکن میرے آباؤ اجداد کے خدا ،ابراہیم کا خدا ، وہ خدا جس سے اسحاق ڈرتا ہے ، جو میرے ساتھ تھا ۔ اگر خدا میرے ساتھ نہ ہو تا تو تُو مجھے خالی ہاتھ ہی لو ٹا دیتا ۔ لیکن میری تکالیف کو اور میرے کا موں کو خدا نے دیکھ لیا ۔ اور کہا کہ گزشتہ رات خدا نے تجھے بتا دیا ہے کہ میں خطا کار نہیں ہوں ۔ 43 لا بن نے یعقوب سے کہا کہ یہ عورتیں میری بیٹیاں ہیں اور یہ سب بچے میرے ہیں ۔ اور یہ چوپا ئے میرے ہیں ۔ اور تو یہاں جن تمام چیزوں کو دیکھتا ہے وہ سب میری ہیں ۔ لیکن اب یہاں کو ئی ایسی چیز نہیں کہ میں اپنی بیٹیوں اور ان کے بچے کے لئے کچھ کر سکوں ۔ ۔ 44 اس لئے میں تیرے ساتھ ایک معاہدہ کر نے کو تیار ہوں اور ہم لوگوں کو اس معاہدے کے لئے گواہ کی ضرورت ہے ۔ 45 ٹھیک اُسی طرح یعقوب نے ایک بڑا سا پتھّر لا یا اور اسے ایک کھمبا کی طرح کھڑا کر دیا ۔ 46 اس نے اپنے لوگوں کو مزید پتھر لا کر اس کا ڈھیر لگا نے کے لئے کہہ دیا ۔ تب انہوں نے پتھروں کی اس ڈھیر کے پاس کھا نا کھا یا ۔ 47 لا بن اس جگہ کا نام یحبرشاہ دوت رکھا ۔ لیکن یعقوب نے اس جگہ کو جلعید کا نام دیا ۔ 48 لا بن نے یعقوب سے کہا کہ یہ پتھروں کے ڈھیر ہم دونوں کو ہمارا معاہدہ یاد دلائیں گے ۔ جس کی وجہ سے یعقوب نے اس جگہ کو جلعید کا نام دیا ۔ 49 لا بن نے کہا کہ اگر ہم آپس میں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو خدا وند ہی ہم لوگوں پر نگاہ رکھے ۔ اس وجہ سے اس جگہ کا نام مِصفاہ رکھا گیا ۔ 50 تب لا بن نے کہا کہ اگر تو میری بیٹیوں کو تکلیف دیگا تو تُو یاد رکھ کہ خدا تجھے سزا دیگا ۔ اور اگر تو غیر عورتوں سے شادی کرے گا تو یاد رکھ خدا تجھے دیکھ رہا ہے ۔ 51 اپنے درمیان میں نے جن پتھروں کو رکھا ہے وہ یہاں ہیں ۔ ہم لوگوں نے جو معاہدہ کیا ہے اس بات کی نشاندہی کر نے والا خصوصی پتھر یہاں ہے ۔ 52 یہ پتھروں کا ڈھیر اور یہ خصوصی پتھر ہمارے معاہدہ کو یاد دلانے کے لئے ہم دونوں کی مدد کرتا ہے ۔ میں تیرے خلاف لڑ نے کے لئے ان پتھروں کو عبور کر کے نہ آؤنگا ۔ اور تو میرے خلاف ان پتھروں کو پار کر کے مجھ تک نہ آنا ۔ 53 اگر ہم نے اِس معاہدہ کو توڑ ڈا لا تو ابراہیم کا خدا ،نحور کا خدا ، اور انکی نسلوں کا خدا قصور وار کا انصاف کرے ۔ اسی طرح یعقوب نے بھی اس خدا کے نام پر وعدہ کیا جس سے اسحاق ڈر گیا تھا ۔ 54 تب یعقوب نے ایک جانور کو ذبح کیا اس کو پہاڑ پر قربانی کی نذر کی ۔ اور اپنے لوگوں کو دعوت میں مدعو کیا ۔ وہ کھا نا کھا نے کے بعد اس رات کو وہیں پر قیام کیا ۔ 55 دوسرے دن صبح لا بن نے اپنے نواسوں اور بیٹیوں کو بوسہ دیا اور انکو دعا دیتے ہو ئے الوداع کہا اور اپنے گھر کو واپس چلا گیا ۔

Genesis 32

1 یعقوب جب وہاں سے نکل کر سفر کر رہا تھا تو اُس نے فرشتوں کو دیکھا ۔ 2 اس لئے اُس نے کہا کہ یہ خدا کی چوکی ہے اور اُس نے اُس کانام محنایم رکھا۔ 3 یعقوب کا بڑا بھا ئی عیساؤ شعیر نام کے مقام پر سکونت پذیر تھا۔ اور یہ جگہ ادوم نام کے ملک میں تھی۔ یعقوب نے اپنا پیغام رساں کو اپنے آگے عیساؤ کے پاس بھیجا ۔ 4 اس نے ان کو حکم دیا کہ عیساؤ کو کہنا ، " تمہا را نوکر یعقوب کہتا ہے ، "میں لابن کے ساتھ رہ چکا ہوں۔' 5 میرے پاس تو بہت سے چوپا ئے، گدھے ، بھیڑ بکریاں اور نو کر چاکر اور خادمہ ہیں۔ اور کہا کہ اے میرے آقا تم کو ہمیں قبول کرنا ہی ہوگا اور میں اِس بات کی منت کر رہا ہوں۔ 6 قاصد یعقوب کے پاس لوٹ کر آئے، اور کہے کہ ہم تیرے بڑے بھا ئی عیساؤ کے پاس گئے۔ اور وہ تجھ سے ملا قات کے لئے آرہا ہے ۔ اور کہا کہ اُس کے سا تھ چارسو آدمی ہیں۔ 7 یعقوب کو خوف ہوا ۔اُس نے اپنے ساتھ جو لوگ تھے اُن کو دو حصّوں میں تقسیم کردیا ۔ 8 اس کی یہ تدبیر تھی کہ اگر کسی وجہ سے عیساؤ آکر ایک گروہ کو تباہ کر دے تو دوسرا گروہ بھاگ کر اپنے آپ کو بچا لے گا ۔ 9 یعقوب نے کہا کہ میرے باپ ابراہیم کے خدا میرے باپ اِسحاق کے خدا اے خداوند تو نے مجھے اور میرے خاندان سے کہا تھا کہ اپنا وطن واپس جا ؤ۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ تو میرے ساتھ بھلا ئی کرو گے ۔ 10 تُو نے تو مجھے بہت وفاداری دکھا ئی ہے ۔ اور تُو نے میرے ساتھ بہت سے بھلا ئی کے کام کئے ہیں۔ حالانکہ میں اس لا ئق نہیں ہوں۔ پہلی مرتبہ میں نے جب یردن ندی کے پار سفر کر رہا تھا تو میرے ساتھ صرف میری لا ٹھی کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ لیکن میرے پاس اب اتنا زیادہ ہے کہ میں دو گروہ بنا سکتا ہوں۔ 11 میں تجھ سے منت کر تا ہوں کہ تُو مجھ کو میرے بھا ئی عیساؤ سے بچالے ۔ ہمیں ڈر ہے کہ وہ شا ید ہم سب کو یہاں تک کہ ماؤں کو ان کے بچے سمیت مار ڈا لے۔ 12 تو نہ مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے ساتھ بھلا ئی کروں گا ۔ میں تیرے قبیلہ کو بڑھاؤں گا اور تیری اولاد کی تعداد کو سمندر کی ریت کی مانند اضافہ کروں گا ۔ اور ان کی تعداد اتنی ہو گی کہ حساب و گنتی نا ممکن ہو گی ۔ 13 یعقوب اُس رات وہیں پر قیام کیا اور عیساؤ کو تحفے میں چند چیزیں دینے کیلئے تیاری کرنے لگا۔ 14 یعقوب نے دو سو بکریاں، اور بیس بکرے اور دو سو بھیڑیں، اور بیس مینڈھے لے لیا ۔ 15 یعقوب تیس اُونٹنیاں، اور ان کے بچے، اور چالیس گا ئیں اور دس بیل، اور بیس گدھیاں، اور دس گدھے ساتھ لیا ۔ 16 یعقوب نے جانوروں کے ہر ایک ریوڑ کو اپنے نوکروں کی تحویل میں دیا ۔ تب یعقوب نے نوکروں سے کہا کہ جانوروں کو گروہوں میں الگ الگ کرو اور میرے سامنے سے جا ؤ، اور کہا کہ ہر ایک گروہ کے درمیان کچھ فاصلہ رہے ۔ 17 یعقوب نے اُن کو ہر ایک کی ذمّہ داری سے وا قف کرایا ۔ یعقوب نے جانوروں کے پہلے گروہ کے نوکر سے کہا کہ میرا بھا ئی عیساؤ تیرے پاس آئے گا اور پوچھے گا کہ یہ کس کے جانور ہیں؟ اور تو کہاں جا رہا ہے ؟ اور تو کس کا نو کر ہے ؟ 18 اُس نے پھر کہا ، ' تب تو کہنا کہ جانور تو تیرے خادم یعقوب کے ہیں۔' اے میرے مالک و آقا عیساؤ! یعقوب نے ان کو تیرے لئے بطور تحفہ بھیجے ہیں۔ اور وہ بھی خود ہمارے پیچھے ہی آرہے ہیں۔ 19 یعقوب نے اپنے دوسرے نوکر سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہا ، اور تیسرے نوکر سے بھی ، اور باقی سب نوکروں کو بھی یہی حکم دیا ۔ اُس نے اُ ن سے کہا کہ جب تم عیساؤ سے ملو تو ایسا ہی کرنا ۔ 20 تم اس سے کہنا کہ یہ سب تیرے لئے بھیجے گئے تحفے ہیں۔ اِس کے علاوہ تیرا خادم یعقوب ہمارے پیچھے ہی آرہے ہیں۔ یعقوب کی تدبیر یہ تھی کہ اگر میں اُن لوگوں کو تحفوں کے ساتھ آگے روانہ کروں گا تو کسی وجہ سے عیساؤ مجھے معاف کرے گا اور مجھ کو قبول کر لے گا ۔ 21 یعقوب نے عیساؤ کو تحفے بھیج کر اس رات خیمے ہی میں قیام کئے ۔ 22 اُس رات یعقوب اُٹھے اور اپنی دونوں بیویوں کو اور اپنی دونوں خادماؤں کو اور اپنے گیارہ بچوں کو لے کر نکلے ۔ اور یبوق ندی کے عبور کر نے کی جگہ پر پہنچے ۔ 23 یعقوب اپنے خاندان وا لوں کو اور اپنے پاس کی ہر چیز دریا کے اُس پار بھیج دیئے ۔ 24 اس لئے یعقوب اکیلا رہ گیا تھا، اور ایک آدمی آیا اور ان کے ساتھ سورج طلوع ہو نے تک کُشتی لڑتا رہا ۔ 25 اُس آدمی نے یہ محسوس کیا کہ میرا یعقوب کو شکست دینا نا ممکن ہے تو اُس آدمی نے یعقوب کی ران کو چھُو لیا ۔ تو یعقوب کے پیر کا جوڑ چھوٹ گیا ۔ 26 اُس آدمی نے یعقوب سے کہا ، " مجھے جانے دے، سورج طلوع ہو گیا ہے ۔" لیکن یعقوب نے کہا کہ جب تک تو میرے حق میں دعا نہ دیدے میں تجھے نہیں چھو ڑوں گا ۔ 27 اُس آدمی نے اُس سے پو چھا، " ترا نام کیا ؟" اُس پر یعقوب نے جواب دیا کہ میرا نام یعقوب ہے ۔ 28 تب اُس آدمی نے کہا کہ اِس کے بعد تیرانام یعقوب نہ رہیگا بلکہ ، اِسرائیل ہو گا ۔ اور میں نے تجھے یہ نام دیا ہے ، کیوں کہ تو خدا سے اور آدمیوں سے لڑا ہے ۔ اور غالب ہوا ۔ 29 یعقوب نے اُس سے پو چھا کہ برائے مہربانی تو اپنا نام تو بتا ۔ اُس پر اُس آدمی نے جواب دیا کہ میرا نام پوچھنے کی کیا وجہ ہے یہ کہتے ہو ئے یعقوب کو دعا دی ۔ 30 اِس وجہ سے یعقوب نے کہا کہ اِس جگہ پر میں خدا کو آمنے سامنے دیکھا ہے اِس کے با وجود بھی میری جان بچی یہ کہتے ہو ئے اُس نے اُس جگہ کا نام " فنی ایل " رکھا ۔ 31 اس کے بعد جب وہ فنی ایل سے نکل رہا تھا تو سورج طلوع ہوا ۔ تب یعقوب اپنے جو ڑوں کے درد سے لنگڑاتے ہو ئے چلے گئے ۔ 32 گوشت کے اس لو تھڑے میں یعقوب کو تکلیف ہو نے کی وجہ سے آج تک بنی اسرائیل ران کی جوڑ کے اوپر کمر کا گوشت نہیں کھا تے ۔

Genesis 33

1 جب یعقوب نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو عیساؤ چار سو لوگوں کے ساتھ آتے ہو ئے نظر آیا ۔ تب یعقوب نے اپنے خاندان کو چار گروہ میں منقسم کیا ۔لیاہ اور اسکے بچّے ایک گروہ میں تھے ۔ راخل اور یوسف دوسرے گروہ میں تھے ۔ دونوں خادمہ اور انکے بچے دو دو گروہ میں تھے ۔ 2 یعقوب خادماؤں کو اور انکے بچوں کو اگلے حصّہ میں ،لیاہ کو اور اسکے بچوں کو انکے پچھلے حصہ میں ، راخل اور یوسف کو آخری حصہ میں متعین کر دیا ۔ 3 یعقوب خود آگے ہو ئے اور عیساؤ کے پاس جاتے ہو ئے سات مرتبہ جھک کر فرشی سلام بجا لیا ۔ 4 عیساؤ نے جب یعقوب کو دیکھا تو دوڑ کر آیا اسے گلے لگا یا اور اس کے گلے میں بوسہ دیا ۔ اور دونوں روئے ۔ 5 عیساؤ عورتوں اور بچوں کو آنکھ اُٹھا کر دیکھا اور پو چھا کہ تیرے ساتھ جو لوگ ہیں وہ کون ہیں ؟یعقوب نے جواب دیا کہ خدا نے مجھے بچے دیئے ہیں ۔ وہ یہی ہیں ۔ اور کہا کہ خدا مجھ پر بڑا ہی مہر بان ہے ۔ 6 تب پھر وہ دونوں خادمہ اور انکے ساتھ جو بچے تھے وہ سب عیساؤ کے قریب جا کر اسکے سامنے سر جھکا کر سلام کئے ۔ 7 پھر لیاہ اور اسکے ساتھ جو بچّے تھے وہ سب عیساؤ کے پاس جا کر سر جھکا ئے اور سلام کئے پھر راحل اور یوسف عیساؤ کے پاس جا کر سر جھکا ئے اور سلام کئے ۔ 8 عیساؤ نے پو چھا کہ جب میں آرہا تھا تو نظر آنے والے وہ سب لوگ کون تھے ؟ اور وہ سب چو پا ئے کیوں ؟یعقوب نے جواب دیا کہ تو مجھے قبول کر لے اس لئے اُن تمام کو بطور تحفہ بھیجا ہوں ۔ 9 لیکن عیساؤ نے جواب دیا کہ اے میرے بھا ئی مجھے کسی بھی قسم کے تحفے وغیرہ دینے کی ضرورت نہیں ۔ اس لئے کہ میرے پاس سب کچھ ہے ۔ 10 یعقوب نے کہا ، " نہیں ! میں تو تجھ سے منّت کر تا ہوں ۔ اگر حقیقت میں تو مجھے قبول کر تا ہے تو برائے مہر بانی میری طرف سے یہ تحفے بھی قبول کر لے ۔ تیرے چہرے کی طرف دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ میں خدا کا چہرا دیکھ رہا ہوں ۔ کیوں کہ تم مجھے قبول کر تا ہے ۔ 11 اور میں تجھ سے منت کر تا ہوں کہ میرح طرف سے دیئے جانے والے یہ تحفے تو قبول کر لے ۔ " اس لئے کہ خدا مجھ پر بڑا مہر بان ہے ۔ اور کہا کہ میرے پاس ہر چیز ضرورت سے زیادہ ہے ۔ اس طرح یعقوب نے عیساؤ کو تحفے لینے کے لئے منت کی ۔ اس وجہ سے عیساؤ نے ان تحفوں کو قبول کیا ۔ 12 تب عیساؤ نے کہا کہ اب تُو اپنے سفر جاری رکھ سکتا ہے ۔ اور میں بھی تیرے ساتھ چلونگا ۔ 13 لیکن یعقوب نے اس سے کہا ، " میرے آقا تُو جانتا ہے کہ میرے بچے کمزور ہیں ۔ میں اپنے جانوروں اور انکے بچّوں پر بڑی ہوشیاری سے نظر رکھتا ہوں ۔ اگر میں ایک دن میں لمبا سفر کروں تو میرے جانور مر جائیں گے ۔ 14 اس وجہ سے تُو آگے چلتا رہ ۔ اور میں آہستہ سے تیرے پیچھے چلتا رہوں گا ۔ اور کہا کہ جانور اور دوسرے چو پا ئے محفوظ رہے اور میرے بچے نہ تھکے اس لئے میں بہت آہستہ آؤنگا ۔ اور تجھ سے شعیر میں ملاقات کروں گا ۔ " 15 اس بات پر عیساؤ نے کہا کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو اپنے لوگوں میں سے چند کو تیری سہولت اور مدد کے لئے چھو ڑ جاؤں گا ۔ یعقوب نے کہا وہ تو تیری مہر بانی ہو گی ۔ لیکن اس کے بعد بھی ایسی کو ئی ضرورت تو نہیں ہے ۔ 16 اس لئے اُسی دن عیساؤ شعیر کو واپس لو ٹا ۔ 17 لیکن یعقوب سکّات کو گیا ۔ اس جگہ پر وہ خود کے لئے ایک گھر اور اپنے جانوروں کے لئے چھو ٹا سا سائبان بنوایا ۔ جس کی وجہ سے اُس جگہ کو " سکّات " کا نام دیا گیا ۔ 18 تب یعقوب ملک کنعان کے سکّم شہر کو امن کے ساتھ واپس گیا۔ یہ اس کے فدّان ارام سے آنے کے بعد ہوا ۔ 19 یعقوب نے سو چاندی کے سکّے دیکر سکّم کا بانی حمور کے خاندان سے وہ کھیت خرید لیا جہاں وہ اپنا خیمہ لگا یا تھا ۔ 20 خدا کی عبادت کر نے کے لئے ایک قربان گاہ کی تعمیر کر کے اس قربان گاہ کا نام " اسرائیل کا خدا ایل " رکھا ۔

Genesis 34

1 دینہ ، لیاہ اور یعقوب کی بیٹی تھی۔ دینہ ایک دن اُس ملک کی عورتوں سے ملنے کے لئے با ہر چلی گئی۔ 2 اس ملک کا بادشاہ حمور تھا۔ اس کا بیٹا سِکم تھا۔ اس نے دینہ کو دیکھا اس کا اغوا کیا اور اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کر کے اس کی بے حرمتی کی ۔ 3 سکم کو دینہ سے محبت ہو گئی۔ اور وہ اُس کے ساتھ محبتانہ سلوک کیا ۔ 4 سکم نے اپنے باپ سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اس لڑکی سے میری شادی کرادو۔ 5 یعقوب کو یہ بات معلومعلوم ہوئی کہ اس کی بیٹی کی بے حرمتی کی گئی ہے ۔ لیکن اُس کے تمام بیٹے بھیڑ بکریوں کے ساتھ کھیت میں تھے۔ جس کی وجہ سے وہ ا ن لوگوں کے گھر کو وا پس لوٹنے تک کچھ نہ کئے ۔ 6 اس دوران سکم کا باپ حمور، یعقوب سے بات کرنے کے لئے اس کے پاس گیا ۔ 7 ا س وقت یعقوب کے بیٹے کھیت ہی میں تھے کہ گذرے ہو ئے ان واقعات کو سنا اور انہیں بہت غصّہ آیا۔ انہوں نے جانا کہ سکم یعقوب کی بیٹی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیا تھا جو کہ اِسرائیل کے لئے شرمندگی کی بات تھی۔ انہوں نے سوچا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا اس لئے تمام بڑے بھا ئی کھیت سے وا پس آئے ۔ 8 لیکن حمور نے دینہ کے بڑے بھا ئیوں سے گفتگو کی ۔اور اُس نے اُن سے کہا کہ میرا بیٹاسِکّم ، دینہ کو بہت چاہتا ہے ، برائے مہر بانی اس کو اس سے شادی کر نے کا موقع فراہم کرو ۔ 9 اور یہ شادی ہمارے آپس کے ایک خاص معاہدہ کی نشاندہی کر یگی ۔ وہ یہ کہ ہمارے مرد تمہاری عورتوں سے شادیاں رچا سکتے ہیں ۔ اور تمہارے مرد ہماری عورتوں سے شادیاں رچا سکتے ہیں ۔ 10 تم ہمارے ساتھ ایک ہی ملک میں زندگی بسر کر سکتے ہو ۔ اور کہا کہ تمہارے لئے زمین کی خرید و فروخت اور کارو بار و تجارت کر نے پر پو ری آزادی رہے گی ۔ 11 خود سکم بھی یعقوب اور دینہ کے بڑے بھا ئیوں کے ساتھ گفتگو کیا ۔ سکّم نے ان سے کہا ، " برائے مہر بانی مجھے قبول کرو ۔ اور تم جو کچھ بھی مانگو گے میں دونگا ۔ " 12 آپ جو چاہو میں دیدونگا ۔ لیکن مجھے دینہ سے شادی کر ے دو ۔ 13 یعقوب کے بیٹوں نے سکم اور اسکے باپ حمور سے جھو ٹ بولنے کا فیصلہ کر لیا ۔ کیوں کہ سکم نے دینہ کی بے حرمتی کی تھی ۔ 14 اس وجہ سے اس کے بھا ئی اس سے کہا کہ اپنی بہن سے شادی کر نے کے لئے تجھے ہم اجازت نہیں دینگے ۔ اس لئے کہ اب تک تیرا ختنہ نہیں ہوا ہے ۔ اور ایسی صورت میں ہماری بہن کا تجھ سے شادی ہو نا غلط ٹھہر تا ہے ۔ 15 لیکن تُو اور تیرے شہر میں رہنے والے ہر آدمی اگر ہماری طرح ختنہ کر واتا ہے تو تیرا اس سے شادی کر نا ممکن ہو سکے گا ۔ 16 اس کے بعد تمہارے مرد ہماری عورتوں سے شادیاں کر سکیں گے ۔ اور ہمارے مرد تمہاری عورتوں سے ۔ تب ہم سب ایک ہی قوم کہلائیں گے ۔ 17 اور اگر تم نے ختنہ نہ کر وایا تو ہم دینہ کو ساتھ لیکر چلے جائیں گے ۔ 18 اُن کا کہنا حمور اور سکم کو بھلا معلوم ہوا ۔ 19 دینہ کے بڑے بھا ئیوں نے جو کہا اسے سکم فوراً ہی کر نے کی کو شش کی ، کیوں کہ اس نے اس سے محبت کی تھی ۔ سکم اپنے خاندان میں سب سے معزز تھا ۔ 20 حمور اور سکم اپنے شہر کے عبادت خانہ کو گئے ۔ اور شہر کے تمام مر دوں سے گفتگو کئے ۔ 21 " اور کہا کہ اِن اسرائیلیوں کو ہم سے دوستی پر خوشی ہے ۔ اور اِن کاہمارے ملک میں رہتے ہو ئے اطمینان و خوشی سے جینا ہمیں بھی پسند ہے ۔ ہمیں ضرورت کے مطا بق زمین بھی ہے ۔ ہم ان کی عورتوں سے شادی کر نے کے لئے اور ہماری عورتوں کو ان سے شادی کرنے کے لئے خوشی محسوس کر تے ہیں ۔ 22 ہم کو صرف اور صرف ایک ہی کام کر نا ہے وہ یہ کہ اسرائیلیوں کی طرح ہمارے سارے مرد بھی ختنہ کر والیں ۔ 23 اگر ہم ایسا کریں تو اُن کے تمام چو پا ئے ، اور جانوروں سے ہم مالدار بن جائیں گے ۔ اور کہا کہ اگر ہم اس معاہدہ کو ان سے کر لیں تو وہ ہمارے پاس ہی یہاں رہ جائیں گے ۔ " 24 جلسہ گاہ کے تمام موجودہ مر دوں نے حمور اور سکم کی باتوں کو قبول کر لی ۔ اور پھر تمام مر دوں نے ختنہ کر والئے ۔ 25 تین دن گزر گئے ۔ وہ لوگ جو کہ ختنہ کر والئے تھے وہ اب تک ختنہ درد میں مبتلاء تھے ۔ اس دوران دینہ کا دو بھا ئی شمعون اور لا وی اپنی اپنی تلوار لئے اور شہر میں چلے گئے ۔ اور جتنے بھی لوگ وہاں پر موجود تھے سب کو مار دیئے ۔ 26 دینہ کے بھا ئی شمعون اور لا وی نے حمور کو اور اسکے بیٹے سکم کو قتل کر دیا اور دینہ کو سکم کے گھر سے بُلا لا ئے ۔ 27 یعقوب کے بیٹے شہر میں گئے اور وہاں سے جہاں اسکی بہن کی بے حرمتی کی گئی تھی ہر چیزوں کو لوٹ لئے ۔ " 28 اس طرح دینہ کے بھا ئی اُن کے جانور ، بکریوں ، گدھوں کو اور شہر میں اور کھیت میں پا ئی جانے والی جائیداد کو حاصل کر لئے۔ 29 اُن کی بیویوں ، بچوں کو قید کر کے اور گھر میں جو کچھ سرمایہ تھا اس کو چھین لئے ۔ 30 لیکن یعقوب نے شمعون اور لا وی سے کہا کہ تم نے تو میرے لئے مصیبت کھڑی کر دی ہے ۔ اس ملک میں رہنے والے تمام کنعا نی اور فرزّیوں نے میری مخالفت کی اور میرے خلاف ہو گئے ۔ اور ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ تھو ڑے ہی ہیں ۔ اور کہا کہ اس ملک کے شہری اگر متحد ہو کر ہمارے خلاف لڑیں تو میں اور میرے لوگ سب تباہ ہو جائیں گے ۔ 31 لیکن دینہ کے بھائیوں نے کہا ، " اُن لوگوں کو ہماری بہن سے طوائف جیسا سلوک نہیں کر نا چاہئے تھا ۔ "

Genesis 35

1 خدا نے یعقوب سے کہا ، " تو بیت ایل شہر کو جا اور وہیں پر قیام کر ۔ اور خدا کی عبادت کے لئے ایک قربانگاہ بنا جو کہ تم پر وہاں ظاہر ہوا تھا جب تم اپنے بھا ئی عیساؤ کے پاس بھاگ رہے تھے۔" 2 اس وجہ سے یعقوب نے اپنے تمام اہل خاندان اور اپنے نوکروں سے کہا ، " تمام غیر ملکی خداؤں کو جسے کہ تم اپنے ساتھ لا رہے ہو تباہ کر دو ۔ اپنے آپ کو پاک کرو اور صاف کپڑا پہنو ۔ 3 ہم یہاں سے نکل کر بیت ایل جا ئیں گے ۔ جس خدا نے میرے مصیبت کے دنوں میں میری مدد کی تھی۔ اس کے لئے ایک قربان گا ہ بناؤں گا اور میں جہاں کہیں بھی جاتا تھا وہ خدا میرے ساتھ موجود تھا۔" 4 اس وجہ سے لوگوں نے اپنے پاس کے تمام خداؤں کو اور اپنے کانوں کی با لیوں کو نکال کر یعقوب کو دیئے۔ اور یعقوب نے اُن تمام کو سکم شہر کے قریب بلوط درخت کے نیچے دفن کر دیا ۔ 5 یعقوب اور اُس کے بیٹے اُس جگہ سے چلے گئے اور خدا نے نزدیک کے لوگوں کو ان سے خوف زدہ کر دیا تا کہ وہ یعقوب کا پیچھا نہ کر ینگے۔ 6 یعقوب اور اُس کے لوگ لُوز کو گئے ۔ اور اب لُوز کو بیت ایل کے نام سے پکا رتے ہیں۔ اور وہ ملک کنعان میں ہے ۔ 7 یعقوب نے وہاں پر ایک قربانگاہ تعمیر کر وا ئی۔ یعقوب جب اپنے بڑے بھا ئی کے پاس بھاگ رہا تھا سب سے پہلے خدا اسی جگہ پر اُس کو دکھا ئی دیا اس وجہ سے یعقوب نے اُس جگہ کو" بیت ایل" کا نام دیا ۔ 8 رِبقہ کی خادمہ دبورہ وہاں مر گئی ۔ اس وجہ سے اُنہوں نے اُس کو بیت ایل کے قریب و اقع بلوط کے درخت کے نیچے دفن کر کے قبر بنا دیئے ۔ اور اُس جگہ کو ائّون بکوت کا نام دیا گیا ۔ 9 جب یعقوب فدّان ارام سے وا پس آئے تو اس نے پھر خدا کو دیکھا ۔ خدا نے یعقوب کوخیر و برکت عطا کیا ۔ 10 خدا نے یعقوب سے کہا کہ تیرا نام یعقوب ہے ۔ لیکن میں تو اُس نام کو بدل دوں گا ۔ اب آئندہ سے تو یعقوب نہ کہلا ئے گا ۔ اور تیرا نیا نام " اِسرائیل " ہو گا ۔ اس لئے خدا نے اس کا نام "اِسرائیل " دیا ۔ 11 خدا نے اُس سے کہا، " میں ہی قادر مطلق خدا ہوں۔ تجھے بہت اولاد ہو گی ۔ اور بہت بڑی قو م بن کر پھیلے گی۔ کئی قومیں اور بادشاہ تجھ سے نکلیں گے ۔ 12 میں نے ابرا ہیم کو اور اِسحاق کو مخصوص ملک دیا ہے ۔ اور اب میں وہ ملک تجھے عطا کروں گا ۔ اور کہا کہ میں اُس ملک کو تیری آئندہ آنے وا لی نسل کو عطا کروں گا ۔" 13 پھر خدا اُس جگہ سے چلا گیا ۔ 14 یعقوب نے اُس جگہ پر ایک یادگار پتھر کھڑا کیا اور اُس کے اوُپر مئے اور تیل اُنڈیلا ۔ یہ ایک مخصوص جگہ تھی ۔ اس لئے خدا نے اُس جگہ پر یعقوب سے گفتگو کی تھی ۔ اور اُس نے اُس جگہ کا نام " بیت ایل " رکھا ۔ 15 16 یعقوب اور اُس کے لوگ جو کہ اس کے ساتھ تھے بیت ایل سے ا فرات ( بیت ا للحم) گئے ۔ اس سے پہلے کہ وہ لوگ افرات پہنچ سکے راخل کی وضع حمل کا وقت آ گیا تھا ۔ 17 لیکن راخل کو وضع حمل میں بہت تکلیف اٹھا نی پڑی تھی ۔ اور وہ بہت زیادہ مُصیبت اور تکلیف میں مبتلا تھی ۔ راخل کی دایہ نے جب اِس حالت کو دیکھا تو اُس نے کہا ، " اے راخل تُو گھبرا مت ، اِس لئے کہ تو ایک اور بیٹے کو جنم دیگی ۔" 18 راخل وضع حمل کے وقت ہی مر گئی ۔ مر نے سے قبل ہی راخل نے اس بچہ کا نام بنونی رکھا ۔ لیکن یعقوب نے اُس کانام " بنیمین"( بنیامین) رکھا ۔ 19 راخل مر گئی اور اسے افرات کے راستہ میں ہی دفنا دیا گیا ( وہ بیت ا للحم ہے )۔ 20 یعقوب نے را خل کے لئے بطور عظمت اُس کی قبر پر ایک خاص قسم کا پتھر رکھا ۔ آج بھی وہ خاص قسم کا پتھر وہاں موجود ہے ۔ 21 اُس کے بعد اِسرائیل (یعقوب ) نے اپنے سفر کو جاری رکھا ۔ اس نے اپنا خیمہ عدر برج کے آگے نصب کیا ۔ 22 اِسرائیل کچھ دیر کے لئے وہاں قیام کیا ۔ جب وہ وہاں قیام کر رہا تھا تو روبن نے اِسرائیل کی خادمہ بِلہاہ سے مُباشرت کی ۔ اسرائیل نے اس بات کے بارے میں سنا ۔ 23 لیاہ کی نرینہ اولا د ۔ یعقوب (اسرائیل ) کا پہلو ٹھا بیٹے روبن ، شمعون ، لا وی ، یہوداہ اشکار ، اور زولون تھے ۔ 24 راخل کی نرینہ اولا د ۔ یوسف اور بنیمین تھے ۔ 25 بِلہاہ ، راخل کی خادمہ تھی ۔ بِلہاہ کے بیٹے دان اور نفتالی تھے ۔ 26 زلفہ، لیاہ کی خادمہ تھی ۔ اور زلفہ کے بیٹے جاد اور آ ثر تھے ۔ یہ سب یعقوب (اسرائیل ) سے فدان ارام میں پیدا ہو ئی اولاد تھی ۔ 27 یعقوب (اسرئیل ) اپنے باپ اِسحاق کے پاس قربت اربع میں (حبرون ) ممرے کو آیا ۔ ابراہیم اور اِسحاق وہیں پر مقیم تھے ۔ 28 اِسحاق ایک سو اسّی برس زندہ رہا۔ 29 پھر اِسحاق کا فی عمر رسیدہ ہو کر موت کی آغوش میں سو گئے ۔ اُس کے بیٹے عیساؤ اور یعقوب نے اپنے دادا کے قبرستان کی جگہ ہی میں اپنے باپ کو بھی دفن کئے ۔

Genesis 36

1 عیساؤ( ایدوم ) کے خا ندن کی تاریخ۔ 2 عیساؤ نے ملک کنعان کی ایک عورت سے شادی کی ۔ عیساؤ کی بیویاں اِس طرح تھیں:حِتی ایلون کی بیٹی عدّہ، عنہ کی بیٹی اہلیبامہ جو کہ عنہ حوّی صبعون کی بیٹی تھیں۔ 3 اسمٰعیل کی بیٹی اور نبایو ت کی بہن بشامہ ۔ 4 عیساؤ اور عدّہ سے اِلیفز نام کا ایک بیٹا تھا۔ اور بشامہ سے رعوایل پیدا ہوا ۔ 5 اُہلیبا مہ کے یہ بیٹے تھے : یعوس ،یعلام اور قورح۔عیساؤ کے یہ سب بیٹے ملک کنعان میں پیدا ہو ئے ۔ 6 یعقوب اور عیساؤ کے قبیلے بہت وسیع اور پھیلے ہو ئے ہو نے کی وجہ سے ملک کنعان ان کے لئے نا کا فی ہو نے لگا ۔ جس کی وجہ سے عیساؤ اپنے بھا ئی یعقوب سے دُور چلا گیا ۔ عیساؤ اپنی بیویوں، بیٹوں اور بیٹیوں تمام نوکر چاکر اور تمام چوپا ئیوں اور دیگر حیوانات ، اور کنعان سے ہر قسم کی جائیداد کو لے کر کوہ شعیر کے کے دامن میں چلا گیا ( عیساؤ کا دوسرا نام ایدوم ہے ۔ ملک شعیر کا دوسرا نام ایدوم بھی ہے )۔ 7 8 9 عیساؤ ایدوم کی کی قوم کا جد اعلیٰ ہے ۔ ملک شعیر میں قیام پذیر عیساؤ کے قبائل کے نام یہ ہیں۔ 10 عیساؤ کے بیٹوں میں الیفز، جو عیساؤ کی بیوی عدّہ کے بطن سے پیدا ہوا ۔ رعو ایل ، جو عیساؤ کی بیوی بشامہ کے بطن سے پیدا ہوا۔ 11 الیفز کے یہ سب بیٹے تھے : تیمان ،اُومر، صفو، جعتام اور قنز۔ 12 الیفزکی تمنع نام کی ایک خادمہ عورت بھی تھی ۔ تمنِع اور الیفز سے عما لیق نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا تھا۔ یہ سب عیساؤ کی بیوی عدّہ کی نسل سے تھے ۔ 13 رعوایل کے بیٹے یہ تھے : نحت ، زارح، سمّہ، اور مِزہ، یہ سب عیساؤ کی بیوی بشامہ کی نسل سے تھے ۔ 14 عیساؤ کی دوسری بیوی عنہ کی بیٹی اہلیبا مہ ( عنہ صبعون کی بیٹی تھی ) عیساؤ اور اہلیبامہ کی اولا د تھی :یعوس، یعلام ، اور قورح۔ 15 یہ لوگ عیساؤ کے خاندان کے قبیلے کے تھے ۔ عیساؤ کا پہلوٹھا بیٹا الیفز تھا ۔ الیفز کی اولاد ، تیمان ، اُومر ،صفو،قنز ، 16 قورح ، جعتام ، اور عما لیق۔ یہ تمام خاندان ادوم کی سرزمین میں عیساؤ کی بیوی عدّہ کی نسل سے ہیں۔ 17 عیساؤ کا بیٹا رعوایل ادوم کی سر زمین میں ان خاندانوں کا جدّ اعلیٰ تھا : نحت، زارح ، سمّہ اور مِزہ۔ یہ تمام خاندان عیساہ کی بیوی بشامہ کی نسل سے ہیں ۔ 18 عنہ کی بیٹی عیساؤ کی بیوی اُ ہلیبامہ سے یہ سب پیدا ہو ئے : یعوس ، یعلام ، اور قورح ۔ یہ تینوں اپنے اپنے قبائل کے سردار تھے ۔ 19 اِن تمام خاندان کے لئے عیساؤ ہی جدّ اعلیٰ تھا عیساؤ ادوم بھی کہلا تا تھا ۔ 20 عیساؤ سے قبل حوری قو م سے شعیر نام کا ایک آدمی ایدوم میں مقیم تھا ۔شعیر کی نرینہ اولا د یہ ہیں: لو طان ، سو بل، صبعون اور عنہ ۔ 21 دیسون ، ایصر اور دیسان، یہ سب بیٹے ادوم کے سر زمین میں شعیر کی نسل سے حوری قبیلہ کے قائد تھے ۔ 22 لو طان، حوری اور ہیمام کا باپ تھا ۔ اور ( تمِنع، لو طان کی بہن تھی ۔) 23 سوبل ، علوان ، ما نحت ، غیبال، سفو اور اونام کا باپ تھا ۔ 24 صبعون کے بیٹے تھے : آیہ اور عنہ ۔( جب عنہ اپنے با پ کے گدھے چرا رہا تھا تو اسی نے گرم پانی کے چشمے کو دیکھا ۔) 25 عنہ دیسون اور اہلابامہ کا باپ تھا۔ 26 حمدان ، اشبان ،ایتران ، اور کران یہ دیسون کے بیٹے تھے ۔ 27 بلہان ، زعورن، اور عقان ، یہ ایصر کے بیٹے تھے ۔ 28 عوض اوراران دیسان کے بیٹے تھے ۔ 29 حوری خاندانوں کے قائدوں کے نام اِس طرح ہیں: لو طان ، سوبل ،صبعون اور عنہ ، 30 شعیر میں حوری خاندان کے قائد دیسون ایصر اور دیسان تھے ۔ 31 اسرائیل میں بادشاہ ہو نے سے بہت پہلے ہی ایدوم میں بادشاہ تھے ۔ 32 بعور کا بیٹا بلع، ایدوم کا بادشاہ تھا ۔ اور وہ دِنہا با شہر پر حکو مت کرتا تھا ۔ 33 بلع کی وفات کے بعد یُو باب بادشاہ بنا ۔ اور یُوباب بُصر کے زارح کا بیٹا تھا۔ 34 یُوباب کی وفات کے بعدحشیم حکمران ہوا۔ اور حشیم ، تیمان ملک کا باشندہ تھا۔ 35 حشیم کا جب انتقال ہوا تو ہدد اُس ملک کا حکمران بنا ۔ اور ہدد، بدد کا بیٹا تھا( اور مو آب کے رہنے وا لوں مِدیانیوں کے ملک میں جس نے شکست دی تھی وہ ہدد ہی تھا ) اور ہدد عویت شہر کا باشندہ تھا ۔ 36 ہدد کی وفات کے بعد ، شملہ اُس کے ملک پر حکمرانی کی ۔ اور شملہ مُسروقہ کا باشندہ تھا ۔ 37 شملہ کی موت کے بعد ساؤل اُس ملک کا بادشاہ بنا ۔ یو فریتس دریا کے کنا رے رحو بوت کا باشندہ تھا ۔ 38 ساؤل کی وفات کے بعد اس ملک پر بعلحنان حکومت کیا ۔بعلحنان عکبور کا بیٹا تھا ۔ 39 بعلحنان کی موت کے بعد اُس ملک پر حدر حکومت کی۔ اور حدر پاؤ شہر کا رہنے وا لا تھا ۔ اور حدر کی بیوی کانام مہیطب ایل تھا ۔ اور مہیطب ایل ، مطرد کی بیٹی تھی( اور مطرد میضاباب کی بیٹی تھی ۔) 40 عیساؤ، ایدوم وا لوں کے لئے جدّ اعلیٰ تھا ۔ یہ قبیلے تھے : جس علاقے میں یہ قبیلے رہتے تھے یہ اسی قبیلے کے نام سے جانے جا تے تھے ۔ تمِنع، علوہ،یتیت،اُہلیبامہ، ایلہ، فینون ،قنز، تیمان ، مِبصار، مجد ایل ، اور عِرام۔ 41 42 43

Genesis 37

1 یعقوب ملک کنعان میں سکونت پذیر ہوا ۔اُس کا باپ بھی اُسی ملک میں رہتا تھا ۔ 2 یعقوب کی خاندانی تاریخ درج ذیل ہے ۔ یو سف سترہ سال کا کڑیل جوان تھا ۔ بھیڑ بکریاں پالنا اُس کا پیشہ تھا ۔ اپنے بھا ئیوں یعنی بلہا ہ اور زلفہ کے بیٹوں کے ساتھ بھیڑ بکریاں چراتا تھا ۔ یو سف اپنے باپ کو اپنے بھا ئیوں کی بُری حرکتوں کے با رے میں کہہ دیا ۔ 3 اسرائیل ( یعقوب ) چونکہ بہت زیادہ عمر کو پہنچا تھا کہ یوسف پیدا ہو ئے جس کی وجہ سے اسرائیل اپنے دوسرے بیٹوں کی بہ نسبت یوسف سے زیادہ محبت کر تا تھا ۔ یعقوب نے اپنے اس بیٹے کے لئے ایک بہت ہی خوبصورت قسم کا عبا بنوا یا ۔ 4 یوسف کے بھا ئیوں نے یہ محسوس کیا کہ ہما رابا پ ہم لوگوں سے زیادہ یوسف سے محبت کر تا ہے اس لئے وہ لوگ اس سے نفرت کر نے لگے ۔ وہ لوگ کبھی یو سف کو اچھی باتیں نہیں کہتے ۔ 5 ایک دن یوسف نے ایک خاص قسم کا خواب دیکھا۔ جب یوسف نے اُس خواب کو اپنے بھا ئیوں سے بیان کیا تو ، اُنہوں نے اُس سے اور بھی زیادہ جلنا حسد کرنا شروع کیا ۔ 6 یو سف نے اُن سے کہا کہ مجھے ایک خواب دکھا ئی دیا ہے ۔ 7 کہ ہم سب کے سب کھیت میں گیہوں کے پلندے باندھ رہے تھے ۔ تب میرا پُلندا اُٹھ کھڑا ہوا ۔ پھر میرے پُلندے کے اطراف تمہا رے پُلندے گھیرا بنا یا اور میرے پلندے کے سامنے سب جھک کر سجد ہ ریز ہوئے ۔ 8 اُس کے بھا ئیوں نے کہا کہ تیرا یہ خیال ہے کہ تو بادشاہ بن کر ہم پر حکومت چلا ئے گا ۔ کیا یہی مطلب ہے تمہا را ؟ ان لوگوں نے اس کے خواب اور وہ جو کہا اس کی وجہ سے اور بھی زیادہ نفرت کر نے لگے ۔ 9 اُس کے بعد یوسف کو ایک اور خواب نظر آیا ۔ یو سف نے اُس خواب کے با رے میں بھی اپنے بھائیوں سے بیان کیا ۔ یو سف نے اُن سے کہا کہ مجھے ایک اور خواب نظر آیا ہے ۔ جس میں ایک سورج ، چاند اور گیارہ ستارے میرے سامنے جھک کر مجھے سجدہ کر تے ہیں۔ 10 یوسف اپنے باپ کو اس خواب کے با رے میں معلوم کرایا ۔ لیکن اُس کے باپ نے اُسے ڈانٹ دیا اور کہا کہ یہ کیسا خواب ہے ؟ اور پو چھا کہ میرا ، اور تیری ماں اور تیرے بھا ئیوں کا تیرے سامنے جھک کر سجدہ کر نے کی بات پر کیا تو یقین رکھتا ہے ؟ 11 یوسف کے بھا ئیوں کو اُس سے حسد ہو گیا ۔ لیکن یوسف کا باپ ان خوابوں کے بارے میں گہرائی سے غور وفکر کر نے لگے ۔ 12 ایک دن یوسف کے بھا ئی اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چَرانے کے لئے سکم کو گئے ۔ 13 اسرائیل (یعقوب ) نے یوسف سے کہا کہ سکم کو چلا جا ، کیوں کہ وہاں تیرے بھا ئی میری بھیڑ بکریوں کو چرا رہے ہیں۔یوسف نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں۔ 14 اسرائیل نے کہا کہ تیرے بھا ئیوں اور بھیڑ بکریوں کی خیریت دریافت کر کے آ اور مجھے سُنا ، اِس طرح اُس نے اُس کو حبرون کی وا دی سے سکم کو بھیج دیا ۔ سکم میں یوسُف کو راستہ بھٹکتے کھیتوں میں گھو متے پھر تے ہو ئے کسی نے دیکھ لیا ، اور پو چھا کہ کیا ڈھونڈ رہا ہے ؟ 15 16 یو سف نے کہا کہ میں اپنے بھا ئیوں کی تلا ش میں ہوں۔ اور اُس سے پو چھا کہ وہ اپنی بھیڑ بکریوں کو کہاں چرا رہے ہیں؟ 17 اِس پر اُس نے اُس کو جواب دیا کہ وہ یہاں سے چلے گئے ہیں۔ اور میں نے اُن کو یہ کہتے سُنا ہے کہ چلو ہم دوتان کو چلیں گے۔ جس کی وجہ سے یوسف اُن کو ڈھونڈ تے ہو ئے دوتان کو گیا اور وہاں پر اُن کو دیکھا ۔ 18 یوسف کے بھا ئیوں نے یو سف کو دور سے آتے ہو ئے دیکھا ۔ اور پھر اُن لو گوں نے اُس کو قتل کر نے کی ایک تدبیر سوچی ۔ 19 وہ آپس میں کہنے لگے کہ وہ دیکھو خوابوں کا دیکھنے وا لا یوسف آرہا ہے ۔ 20 اُنہوں نے آپس میں گفتگو کی کہ اُس کو قتل کر نے کا یہی ایک مناسب و موزوں وقت ہے۔ اُس کو قتل کر کے ایک خشک کنویں میں ڈھکیل دیں گے۔ اور ہم اپنے باپ سے یہ کہدیں گے کہ ایک خونخوار درندے اُس کو پھاڑ کر کھا گیا ۔ اور آپس میں یہ کہنے لگے کہ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح اُس کے سارے خواب پو رے ہو نگے۔ 21 لیکن روبن اس کی مدد کرنا چاہا اس لئے اس نے ان لوگوں سے کہا ، " اُس کو قتل نہ کرو ۔ 22 اور اُنسے کہا ، اس کا خون مت بہاؤ۔ اسے خشک کنواں میں ڈھکیل دو ، لیکن اُسے تکلیف نہ دو ۔" اس نے ارادہ کیا کہ یوسف کو کنواں سے نکال کر اسے اس کے باپ کے حوالے کر دیں گے ۔ 23 جب یو سف آیا تو اُس کے بھا ئیوں نے اس کو پکڑ لیا اور اُس کے عبا کو پھاڑ ڈا لے ۔ 24 اور سوکھے ہو ئے کنویں میں اُس کو ڈھکیل دیا ۔ 25 جب یو سف کنویں میں تھا تو ، اُس کے بھا ئی کھانا کھا نے بیٹھ گئے ۔ جب وہ آنکھ اُٹھا کر دیکھے تو جلعاد سے مصر کو اسمٰعیلی تاجروں کا ایک قافلہ جا رہا ہے ۔اُن کے اُونٹ مختلف قسم کے خوشبودار مصالحے اور قیمتی اشیاء سے لدے جا رہے تھے ۔ 26 تب یہوداہ نے اپنے بھا ئیوں سے کہا کہ اگر ہم اپنے بھا ئی کوقتل کر کے اُس کی موت کو چھپا ئیں تو ہمیں کیا فا ئدہ ہو گا ؟ اگر ہم ان اسمٰعیلی تا جروں کے ہا تھوں اُسے بیچ دیں تو ہمیں کچھ زیادہ ہی فائدہ ہو گا ۔ اور کہا کہ ہمارے بھا ئی کے قتل کے الزام کا گناہ بھی ہمارے سر نہ ہو گا ۔ چونکہ وہ ہما را بھا ئی ہے ۔ تمام بھا ئیوں نے اُسے مان لیا ۔ 27 28 جب مدیان کے کچھ تاجر وہاں قریب پہنچے تو بھا ئیوں نے یوسف کو کنویں سے نکا لا اور اسے اسمٰعیلی تاجروں کو بیس چاندی کے سکّہ میں بیچ دیا ۔ تب تاجر لوگ یوسف کومصر لے گئے ۔ 29 جب روبن کنویں کے پاس واپس لوٹ کر آیا تو یوسف کو وہاں نہ پایا تو وہ افسوس کر تے ہو ئے اپنے کپڑے پھا ڑ لئے ۔ 30 روبن اپنے بھا ئیوں کے پاس جا کر کہا کہ لڑ کا کنویں میں نہیں ہے ۔ اور اب میں کیا کروں؟ 31 تب اُنہوں نے ایک بکری کو ذبح کیا اور بکری کے خون کو یوسف کے خوبصورت جبّہ پر ڈال دیا ۔ 32 پھر اُنہوں نے اُس جُبّہ کو اپنے باپ کے پاس ایک پیغام کے ساتھ بھیج دیا کہ انہوں نے یہ جُبّہ پا یا ہے اور دریافت کیا یہ یوسف ہی کا جُبّہ ہے ؟ 33 باپ نے اُس جُبّہ کو دیکھ کر اُس کی شناخت کر لی اور کہا ، "ہاں یہ یوسف ہی کا ہے ۔" کو ئی جنگلی جانور اُس کو کھا گیا ہے ۔ 34 ما رے غم کے اپنے کپڑوں کو پھا ڑ لیا اور ٹا ٹ اوڑھ لیا اور بہت دنوں تک غم میں ڈوبا رہا ۔ 35 یعقوب کے بیٹے اور بیٹیاں اسے تسّلی دینے کی کو شش کی لیکن اسے تسّلی نہ ہو ئی۔ یعقوب نے کہا ، " مجھے اپنے بیٹے کا میری موت تک افسوس رہے گا ۔" اس لئے اس نے ما تم کرنا جا ری رکھا ۔ 36 مدیان کے تاجروں نے یوسف کو مصر میں بیچ دیئے ۔ ان لوگوں نے اُس کو فرعون کے محافظین کے سردار فوطیفار کو فروخت کر دیا ۔

Genesis 38

1 اُس زمانے میں یہوداہ اپنے بھا ئیوں کو چھو ڑ کر حیرہ کے پا س زندگی گذارنے کے لئے چلا گیا ۔ اور حیرہ عد لام گاؤں کا تھا ۔ 2 یہوداہ وہاں پر کنعان کی ایک لڑکی کو دیکھ کر اُسے شادی کی ۔ اور اُس لڑکی کے باپ کا نام سُوع تھا ۔ 3 وہ ایک بچہ کو جنم دی ۔ اُنہوں نے اُس کو عیر کانام دیا ۔ 4 اُس کے بعد اُس نے پھر ایک اور بچہ کو جنم دیا ۔ اُنہوں نے اُس بچہ کا نام اونان رکھا ۔ 5 جب اُس کو تیسرا بچہ پیدا ہوا تو وہ اُس کا نام سیلہ رکھا ۔ جب وہ بچہ پیدا ہوا تو یعقوب ، کزیب میں سکونت پذیر تھا۔ 6 یہوداہ نے اپنے پہلو ٹھے بیٹے عیر کے لئے ایک دوشیزہ کا انتخاب کر لیا جس کا نام تمر تھا۔ 7 لیکن عیر بہت سی بدکاریوں میں مبتلا ہو نے کی وجہ سے خداوند نے اُس کو مار دیا ۔ 8 تب یہوداہ نے عیر کے بھا ئی اونان سے کہا کہ جا ، اور تیری بیوہ بھا بھی کے لئے تو بحیثیت شوہر بن ۔ مزید کہا کہ تجھ سے اُس کو پیدا ہو نے وا لی اولاد تیرے بھا ئی عیر کی اولا د کہلا ئے گی ۔ 9 تمر سے پیدا ہو نے وا لی اپنی اولاد ، اپنی نہ ہو نے کی بات اُونان کو معلوم تھی جس کی وجہ سے وہ اُس سے ہمبستر ہو نے کے با وجود بھی نطفہ کو (رحم میں داخل ہو ئے بغیر) با ہر زمین پر گراتا تھا۔ 10 یہ بات خداوند کی نظر میں بُری تھی، جس کی وجہ سے اُس نے اونان کو بھی مار دیا۔ 11 تب یہوداہ نے اپنی بہو تمر سے کہا ، " تو اپنے میکے جا اور وہیں پر رہ۔" لیکن یہ بھی کہا کہ میرے بیٹے سیلہ کے با لغ ہو نے تک کسی سے شادی نہ کرنا اور یہوداہ اس بات کو سوچ کر ڈرا ہوا تھا کہ سیلہ بھی اپنے بڑے بھا ئی کی طرح مر جا ئے گا ۔ جس کی وجہ سے تمر اپنے میکے چلی گئی۔ 12 ایک عرصہ بعد یہوداہ کی بیوی ، سُوع کی بیٹی فوت ہو گئی ۔ یہوداہ پر ماتم کے دن گذرجانے کے بعد، اپنے عدلامی دوست حیرہ کے ساتھ اپنی بھیڑوں کے بال کتروانے کے لئے تِمنا گاؤں کو گیا ۔ 13 کسی شخص نے تمر کو کہا کہ اس کا خسر اپنے بھیڑوں کا اُون کاٹنے کے لئے تمنا چلا گیا ہے ۔ 14 تمر ہمیشہ بیوگی کے کپڑے ہی پہنا کر تی تھی۔ لیکن اب وہ دوسرے ہی کپڑے پہن کر اور اپنے چہرے پر نقاب ڈال کر تِمنا کے قریب واقع عینیم کے راستے پر بیٹھ گئی ۔ تب تک یہوداہ کے بیٹے سیلہ کے جوان ہو نے کا علم تمر کو ہو چکا تھا ۔ لیکن یہوداہ اس کی شادی اپنے بیٹے سے کروا نے پر غور نہیں کر رہا تھا ۔ 15 یہوداہ جب اس راستے پر سفر کر رہا تھا تو اُس کو دیکھا اور سمجھا کہ کو ئی فاحشہ عورت ہے ۔( کیوں کہ وہ فاحشہ عورت کی طرح اپنے مُنہ پر نقاب ڈال لی تھی ) 16 جس کی وجہ سے یہوداہ اُس کے قریب جا کر اُس سے پو چھا ، " برائے مہربانی مجھے اپنے ساتھ مباشرت کر نے دے ۔"( یہوداہ کو اس بات کا علم نہ تھا کہ وہ اس کی بہو تمر ہے ) اُس نے اِس سے پو چھا، " توُ مجھے کیا دیگا ؟" 17 یہوداہ نے جواب دیا ، " میں تجھے اپنے ریوڑ سے ایک بھیڑ کے بچے کو بھیج دوں گا ۔ اُس نے کہا ، " ٹھیک ہے لیکن پہلے تو بکری کا بچہ بھیجنے تک مجھے کچھ رکھنے کے لئے دے۔ 18 تب یہوداہ نے پوچھا ،" تو کیا چاہتی ہے کہ میں تجھے دوں؟" تمر نے جواب دیا ، " تیری وہ مُہر جو تو خطوط پر لگاتا ہے اور اُس کا دھا گہ اور اپنی لا ٹھی بھی دیدے ۔ یہوداہ نے اُن تمام چیزوں کو اُسے دیدیا۔ یہوداہ اُس سے مباشرت کیا ۔ اور وہ حاملہ ہو ئی۔ 19 تمر گھر گئی اور چہرے سے نقاب اٹھا ئی اور پھر بیوگی کے کپڑے پہن لی ۔ 20 یہوداہ ایک بھیڑ کا بچہ اپنے دوست حیرہ کے ذریعے عینیم کو بھیج دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ مُہر اور لا ٹھی بھی اس سے واپس لا نا ۔ لیکن وہ اسے نہ پا سکا ۔ 21 اس نے عینیم گاؤں کے چند لوگوں پو چھا ، " وہ ہیکل وا لی فاحشہ عورت کہا ں ہے جو راستے کے کنا ر ے بیٹھی تھی۔ اِس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہاں کو ئی ایسی ہیکل وا لی فاحشہ عورت نہیں رہتی ہے ۔" 22 اِسوجہ سے وہ یہوداہ کے پاس واپس آکر کہا کہ مجھے اُس فاحشہ عورت کا سُراغ نہ ملا ۔ اور اس نے یہ بھی بتا یا ، " وہاں کے مردوں نے مجھ سے کہا کہ یہاں کو ئی ہیکل وا لی فاحشہ عورت نہیں رہتی ۔" 23 اُس بات پر یہوداہ نے کہا ، " وہ اُن چیزوں کو اپنے پاس ہی رکھ لے ۔ اور لوگوں کا ہم کو دیکھ کر ہنسنا مجھے پسند نہیں حالانکہ میں نے اُس کو بھیڑ دینے کی کوشش کی تھی۔ 24 تین ماہ گذرنے کے بعد کسی نے یہوداہ کو واقف کرایا کہ تیری بہو تمر حرامکا ری کے ذریعے حاملہ ہو ئی ہے۔ تب یہوداہ نے کہا کہ اُس کو گھسیٹ کر لے جا ؤ اور جلا دو۔ 25 وہ سارے مرد تمر کو قتل کر نے کے لئے اُس کے پاس گئے ۔ لیکن اُس نے خسر سے یہ پیغام کہہ کر بھیجا ، " ان چیزوں کو دیکھو اور مجھے بتا کہ یہ سب چیزیں کس کی ہیں؟ یہ مُہر اور یہ دھا گہ اور یہ لاٹھی ۔ ان ساری چیزوں کا مالک جو ہے اس نے ہی مجھے حاملہ کیا ہے ۔ کس کا ہے ؟" 26 یہوداہ نے اُن اشیاء کی شناخت کر لی ۔ اور وہ جو کچھ کہہ رہی ہے صحیح ہے لیکن میں نے ہی غلطی کی ہے ۔ اور کہا کہ میرے وعدے کے مطا بق میرا بیٹا سیلہ اس کو دینا چاہئے تھا۔ لیکن یہوداہ اُس کے بعد پھر اُس کے ساتھ ہم بستر نہ ہوا ۔ 27 تمر کے لئے وضع حمل کے دن قریب ہو ئے ۔ اور دایہ نے یہ محسوس کیا کہ اُس کے دو بچے ہو نے وا لے ہیں۔ 28 جب اُسے وضع حمل ہورہا تھا تو ایک بچے نے اپنا ہاتھ آگے باہر بڑھا یا تو دایہ نے اُس بچے کے ہا تھ کو سُرخ دھا گہ باندھا اور کہا کہ یہ پہلا ہے ۔ 29 لیکن اُس بچے نے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف کھینچ لیا ۔ تب پھر دوسرا بچہ پہلے پیدا ہوا ۔ جس کی وجہ سے دائی نے کہا ، " توُ نے با ہر آنے کے لئے اپنے آپ کے لئے جگہ بنا ئی ۔" جس کی وجہ سے انہوں نے اُس بچے کا نام" فارص " رکھا ۔ 30 پھر اُس کے بعد دوسرا بچہ دنیا میں آیا ۔ اس بچے کے ہا تھ میں سُرخ دھا گہ تھا۔ جس کی وجہ انہوں نے اُسے " زراح" کا نام دیا ۔

Genesis 39

1 یوسف کو خریدنے وا لے اسمٰعیلی اُس کو مصر میں لا ئے اور اُس کو فرعون کے محافظین کے سردار فوطیفار کو بیچ دیا ۔ 2 لیکن خداوند کی مدد اور نصرت سے یوسف ترقی کر تا گیا ۔ وہ اپنے مصری مالک فوطیفار کے گھر قیام کیا ۔ 3 خدا وند کا یوسف کے ساتھ رہکر اُس کو ہر کام میں کامیابی کے ساتھ سر انجام دلا نے کی تائید کو فوطیفار نے محسوس کیا ۔ 4 فوطیفار ، یو سف کے بارے میں بہت مطمئن تھا اور اُس کو ایک خاص خادم کی حیثیت دیدی ۔ اور گھر کے سارے مسائل و ضروریات کے حل کے لئے اُس کو مختار کا درجہ دیا ۔اور اپنی ساری جائیداد کی نگرانی کے لئے اُس کو مختار اعلیٰ بنا لیا ۔ 5 فو ھیفار نے جب یوسف کو گھر کا مختار اور جائیداد کا ایک ذمّہ دار بنایا تو خدا وند نے فوطیفار کا گھر بار اُس کی فصلوں اور اُس کی جائیداد میں خیر و بر کت ڈال دی ۔ 6 اس لئے فوطیفار نے ہر قسم کی ذمّہ داری یوسف کو سونپ دی اور سوائے اپنے کھا نے پینے کے کسی اور چیز سے تعلق نہ رکھا ۔ یوسف بہت خوبصورت اور دیکھنے میں بہت اچھا تھا ۔ 7 ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ یوسف کے مالک کی بیوی نے یوسف پر نگاہ ڈا لی اور کہی ، " آؤ اور میرے ساتھ ہمبستری کرو ۔" 8 لیکن یوسف نے اس بات سے انکار کیا ۔ اور اس نے ان سے کہا کہ میرا مالک تو گھر کی ساری ذمّے داریاں میرے سپرد کر خُود بے فکر ہو گئے ہیں ۔ 9 میرا مالک تو اپنے گھر کی تمام تر ذمّے داریاں مجھے سونپ دینے کے با وجود بھی اپنی عزیز اور چہیتی بیوی آپ کو میرے حوالے نہیں کیا ہے ۔ اور پھر جواب دیا کہ ایسی صورت میں ایسا بڑا گناہ کر کے میں خدا کو کیسے ناراض کروں ۔ 10 وہ عورت روزانہ اسے تنگ کر نے لگی ۔ لیکن یوسف اس سے ہم بستری کر نے سے انکار کر تا رہا ۔ 11 ایک دن یوسف اپنے کسی کام سے گھر میں چلا گیا ۔ اس وقت اس گھر میں صرف وہی اکیلا ایک آدمی تھا ۔ 12 اُس کے مالک کی بیوی اُس کے جبّہ کو پکڑ لی اور کہنے لگی کہ آجا اور میرے ساتھ ہم بستری کر ۔ فوراً یوسف اپنے جبّہ کو وہیں پر چھو ڑ کر بھاگ گئے ۔ 13 جب اس عورت نے دیکھا کہ یوسف اپنا جبّہ اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر گھر سے باہر بھاگ گئے تو۔ 14 وہ گھر کے باہر جو نو کر تھے اُن کو بلوائی ،اور کہی ، " دیکھو ہمیں ذلیل و رُسوا کر نے کے لئے اِس عبرانی غلام کو یہاں لا یا گیا تھا ۔ وہ میرے پاس مجھ سے ہم بستری کر نے آیا تھا لیکن میں زور زور سے چیخ و پکار لگا ئی ۔ 15 میری چیخ و پکار سے خوف زدہ ہو کر وہ اپنے جبّہ ہی کو چھو ڑ کر بھاگ گیا ۔ 16 اُس نے اُس جبّہ کو اپنے شوہر اور یو سف کا ما لک فوطیفار کے آنے تک رکھا تھا ۔ 17 جب اُس کا شو ہر آیا تو ، اس نے اسی طرح کہنے لگی کہ تو نے جس عبرا نی نو کر کو اپنے پاس رکھا ہے ، اُس نے تو مجھ پر جبراً عزت لوٹنے کے لئے حملہ کیا ۔ 18 اُس نے کہا کہ جیسے ہی میں زور زور سے چلّا نے لگی تو وہ اپنے جبّہ ہی کو چھو ڑ کر بھا گ گیا ۔ 19 یو سف کا مالک اپنی بیوی کی باتیں سُن کر بہت غُصّہ ہوا ۔ 20 بادشاہ کے دُشمنوں کی سزا کے لئے ایک قید خا نہ بنایا گیا تھا ۔ اور فوطیفار نے یوسف کو اُسی قید خا نے میں ڈلوادیا ۔ اُس دن سے یو سف وہیں پر رہا ۔ 21 لیکن خدا وند نے یوسف کے ساتھ رہ کر اُس کے ساتھ کرم و عنایت کی ۔ چند دن گزر نے کے بعد جیل کا داروغہ یو سف کو چاہنے لگا ۔ 22 اُس نے تمام قیدیوں کو یو سف کی تحویل میں دیدیا ۔وہاں پر جو کُچھ بھی کر نا ہو تا یو سف ہی اُس کو کر واتا ۔ 23 محافظوں کے سردار نے یو سف جو کیا تھا اس پر کچھ بھی دھیان نہ دیا ۔ خدا وند یو سف کے ساتھ اور اسکے سارے کا موں کو کا میابی سے کر وا رہا تھا ۔

Genesis 40

1 اسکے بعد فر عون کے دو نو کر فرعون سے کسی معاملہ میں مجرم ٹھہرے ۔ ان دونوں میں سے ایک نانبائی تھا اور دُوسرا ساقی تھا ۔ 2 فرعون اپنے سردار نانبائی اور سردار ساقی دونوں پر ناراض ہوا ۔ 3 اس لئے اُن دونوں کو بھی اسی قید خا نہ میں بھیج دیا جہاں یوسف تھا ۔ محافظوں کا سردار فوطیفار قید خا نہ کا نگراں کار تھا ۔ 4 قید خانہ کا نگراں کار ان دونوں مجرموں کو یو سف کے حوالے کیا تھا ۔ چند دنوں کے لئے وہ دونوں بھی قید خا نے میں تھے ۔ 5 ایک رات اُن دونوں قیدیوں کو یعنی سردار نانبائی کو اور سردار ساقی کو ایک ایک خواب ہوا ۔ اور اُن دونوں کے خواب کی اپنی الگ الگ تعبیر تھی ۔ 6 دُوسرے دن صبح یو سف ان کے پاس گیا ۔ تو ان دونوں کو فکر مند پا یا ۔ 7 یوسف نے کہا ، " کیا بات ہے کہ آج تم دونوں ہی بہت فکر مند معلوم ہو رہے ہو ؟ " 8 اُن دونوں نے کہا کہ ہم گزشتہ رات ایک ایک خواب دیکھے ہیں ۔ لیکن ہم نے جس خواب کو دیکھا ہے اس کے معنیٰ ہم ہی سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ اور ہم سے کہا گیا کہ خواب کے معنیٰ بتا نے والے یا خواب کی تعبیر بیان کر نے والا کو ئی نہیں ہے ۔ یو سف نے ان سے کہا ،" خدا ہی ایک ہے کہ جو خوابوں کے معنیٰ جانتا ہے یا خوابوں کی تعبیر بیان کرتا ہے ۔ اور کہا کہ برائے مہر بانی تم اپنے خواب مجھ سے بیان کرو ۔ " 9 تب سردار ساقی نے یوسف سے کہا ،" میں نے اپنے خواب میں انگور کی بیل دیکھی ہے ۔ 10 اور اُس بیل پر تین شاخیں تھیں ۔ ان شاخوں میں پھول نکلے ۔ اور وہ پھول میوہ بنے ۔ 11 اور میں فرعون کا پیالہ ہاتھ میں پکڑے ہو ئے تھا اس طرح انگور لیا اور پیا لے میں رس نچوڑ کر پیا لہ فرعون کو دیا ۔ " 12 اس پر یوسف نے کہا ،" میں خواب کی تعبیر تجھے بتاؤنگا ۔ ان تینوں شاخوں سے مراد تین آدمی ہیں ۔ 13 تین دنوں کے اندر فرعون تجھے معاف کر تے ہو ئے پھر تجھے کام پر لیگا ۔ اور تو پہلے کی طرح اس کا سردار ساقی بنا رہے گا ۔ 14 لیکن (دیکھ ) کہ جب تو اطمینان سے رہے تو مجھے یاد کر لینا اور میرے بارے میں فرعون سے ذکر کر نا اور میرے لئے قید سے چھٹکارے کی راہ نکالنا ۔ 15 میں عبرانیوں کے ملک کا رہنے والا ہوں مجھے بعض لوگوں نے اغوا کر کے لا یا ہے ۔ لیکن یہاں پر بھی میں نے کسی قسم کی غلطی نہیں کی ہے ۔ جس کی وجہ سے مجھے قید خانہ میں نہیں رہنا چاہئے ۔ " 16 سردار ساقی کے خواب کی تعبیر اچھی ہو نے کی وجہ سے سردار نانبائی نے یو سف سے کہا کہ مجھے بھی ایک خواب ہوا ہے ۔ میرے خواب میں میرے سر پر تین ٹوکریاں تھیں۔ 17 سب سے اوپر کی ٹوکری میں بادشاہ کے لئے ہر قسم کے کھانے تھے ، لیکن پرندے اُس غذا کو ٹوکری سے کھا رہے تھے ۔ 18 یوسف نے کہا ، " خواب کی تعبیر میں تجھے بتاؤں گا ۔ تین ٹوکریوں کے معنی تین دن ہونگے ۔ 19 تین دنوں کے اندر بادشاہ تجھے قیدسے چھڑوا کر تیرے سر کو تن سے جُدا کر وا دیگا ۔ اور تیرے جسم کو کھمبے سے لٹکا دے گا اور کہا کہ تیرے جسم کو پرندے نوچ نوچ کر کھا ئیں گے ۔" 20 تیسرا دن آیا ۔ اور وہ فرعون کی سالگرہ کا دن تھا ۔ اور فرعون نے اپنے تمام نوکروں کے لئے ضیافت کا اہتمام کیا ۔ ضیافت میں فرعون نے سردار نانبائی کو اور سردار ساقی کو قید سے رہا کر دیا ۔ 21 فرعون نے سردار سا قی کو دوبارہ اُسی کام کے لئے مُنتخب کیا ۔ اور وہ شراب کے پیالے کو فرعون کے ہا تھ میں دینے وا لا بن گیا ۔ 22 اور فرعون نے سردار نانبائی کو پھانسی پر لٹکوا دیا ۔یوسف کے کہنے کے مُطا بق ہر بات سچ ہو ئی ۔ 23 لیکن ساقی نے یوسف کی مدد کر نے کو بھول گیا اور یوسف کے بارے میں فرعون سے کچھ نہ کہا ۔

Genesis 41

1 دوسال گذرجانے کے بعد فرعون کو ایک خواب ہوا ۔فرعون خواب میں دریائے نیل کے کنارے پر کھڑا ہے ۔ 2 تب فربہ اور اچھی قسم کی سات گائیں دریا میں سے نکل کر گھاس چر رہی تھیں ۔ 3 تب پھر دبلی اور بدصورت و بھدّی سات گائیں دریا میں سے نکل کر اُن سات اچھی گایوں کے بگل میں کھڑی ہو گئیں ۔ 4 وہ سات جو بد صورت بھدّی گائیں تھیں دوسری سات اچھی و فربہ گایوں کو کھا گئیں ۔ تب فرعون خواب سے بیدار ہوا ۔ 5 فرعون پھر دوبارہ سو گیا ۔ تب اسے پھر دوسرا خواب ہوا۔ اس نے ایک ہی پو دے پر اناج کی سات بالیاں دیکھا ۔ اناج کی وہ بالیاں عمدہ اور دانہ سے بھرا ہوا تھا ۔ 6 پھر اس نے اسی پو دے پر اناج کی سات اور بالیاں نکلتے ہو ئے دیکھا ۔ وہ بالیاں خشک ہوا کی وجہ سے پتلی اور سو کھی ہو ئی تھی ۔ 7 وہ جو سوکھی ہو ئی بالیاں تھیں وہ تازہ و طاقتور بالیوں کو کھا گئیں ۔جب فرعون نیند سے بیدار ہوا تو سمجھ گیا کہ یہ تو صرف ایک خواب ہی ہے ۔ 8 دوسرے دن صبح ان خوابوں کے بارے میں بہت ہی فکر مندی کے ساتھ تمام جادو گروں اور سب عقلمندوں و عالموں کو بُلوایا اور اُن کے سامنے خواب سُنایا ۔ مگر اُن میں سے کسی کے لئے خواب کی تعنیر بیان کر نا ممکن نہ ہو سکا ۔ 9 تب سردار ساقی فرعون سے کہا کہ جو بات میرے ساتھ پیش آئی تھی وہ مجھے یاد آتی ہے ۔ 10 آپ مجھ پر اور سردار نانبائی کے اوپر غصّہ ہو کر قید خانہ میں ڈلوادیئے تھے ۔ 11 ایک رات ہم دونوں کو خواب ہوا تھا ۔ اور اُن خوابوں کی الگ الگ تعبیر تھی ۔ 12 ہمارے ساتھ ایک عبرا نی نو جوان تھا ۔ وہ محافظین کے نگراں کار کا نوکر تھا ۔ ہم نے اُس سے اپنے خواب سُنائے ۔ اُس نے ہم سے وضاحت کر کے ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا ئی ۔ 13 اُس کے بتائے ہو ئے معنوں کے مطا بق مجھ پر وہ بات صادق آئی ۔ پہلے کا منصب بھی ملا ۔ اور کہا کہ سردار نانبائی کے بارے میں کہنے کے مُطا بق اسے موت کی سزا ہو ئی ۔ 14 تب فرعون نے یو سف کو قید خا نہ سے بلوایا ۔یو سف حجامت بنواکر صاف ستھرے کپڑے پہنے اور فرعون کے سامنے جا کر حاضر ہوا ۔ 15 فرعون نے یو سف سے کہا کہ مجھے ایک خواب ہوا ہے ۔ لیکن یہاں اُس کی تعبیر بتا نے والا کو ئی نہیں ہے ۔ اور تو خوابوں کی تعبیر بتا سکتا ہے میں نے تیرے بارے میں یہ بات سُنی ہے ۔ 16 یوسف نے کہا ، " میں نہیں ، لیکن ہاں خدا تمہارے سوال کا جواب دے سکتا ہے ۔ " 17 تب فرعون نے یوسف سے کہا کہ میرے خواب میں ،میں دریائے نیل کے کنارے کھڑا ہوں ۔ 18 فربہ اور موٹی سات گائے دریا سے باہر آکر گھاس چر رہی تھیں ۔ 19 تب دبلی اور بھدّی سات گائے دریا میں سے آکر کھڑی ہو گئیں ۔ ویسی دبلی گائیوں کو میں نے مصر میں کبھی نہیں دیکھا ۔ 20 وہ دُبلی گائیں پہلے آئی ہو ئی سات اچھّی گائیوں کو کھا گئیں ۔ 21 وہ سات گھا ئیوں کو کھا نے کے با وجود بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں کھا ئی ہے ۔ وہ پہلے کی طرح ہی دُبلی اور بھدی تھی ۔ تب میں خواب سے بیدار ہوا ۔ 22 " اور میرا دوسرا خواب اس طرح ہے کہ ایک ہی پو دے کے ایک ہی ڈنٹھل میں اچھی اور مو ٹی سات بالیاں نکلیں ۔ 23 تب اُسی پو دے میں اُو پر سے گرم ہوا چلنے پر سو کھی ہو ئی سات بالیاں نکلیں ۔ 24 سوکھی ہو ئی بالیاں اُن اچھی بھر ی ہو ئی موٹی سات بالیوں کو کھا گئیں ۔ " میں نے ان خوابوں کو جادو گروں اور دانشمندوں کو سُنا یا ۔ لیکن اُن میں سے کسی سے اِن خوابوں کی تعبیر سُنانا ممکن نہ ہو سکا ۔ " 25 تب یوسف نے فرعون سے کہا کہ اُن دونوں خوابوں کی تعبیر ایک ہی ہے ۔ خدا تم سے کہہ رہا ہے کہ وہ کیا کر نے وا لا ہے ۔ 26 اچھی سات گائیں ہی سات اچھے سال ہیں۔ اور اچھی سات بالیوں سے مراد ہی سات اچھے سال ہیں ۔ اور دونوں خواب کی ایک ہی تعبیر ہے ۔ 27 دُبلی اور بھدّی سات گا ئیں اور سوکھی پتلی دانوں کی سات بالیاں ملک کو آئندہ پیش آنے وا لی سات سال کی قحط سالی ہے ۔ یہ سات سال کی قحط سالی سات اچھے اور خوشحال سال کے بعد آ ئیگی۔ 28 اب خدا نے تجھے دکھا دیا ہے کہ خدا کیا کرنے وا لا ہے ۔ میرے کہنے کے مطا بق ہی بات پیش آئیگی۔ 29 تمہیں سات سال تک پیداوار سے بہترین فصل ملتی رہے گی ۔ شہر مصر کو کھانے کے لئے ضرورت سے زیادہ غذا فراہم ہو گی ۔ 30 لیکن اُن سات سال کے گذر جانے کے بعد پھر شہر میں سات سال تک قحط سالی ہو گی ۔ تب مصر کے با شندے پہلے اُگائے ہو ئے سارے اناج کو بھول جا ئیں گے ۔ اور یہ قحط سالی ملک کو تباہ و برباد کر دیگی۔ 31 اور قحط سالی اتنی بھیانک ہو گی کہ لوگ سات خوشحال سال کو بھو ل جا ئیں گے۔ 32 " تم نے ایک خواب دوبارہ دیکھا تھا۔ یقینًا ہی خدا نے اسے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ 33 اِس وجہ سے آپ ایک بہت ہی دانا اور عقلمند آدمی کو منتخب کر کے ملک مصر پر اس کو نا ظم اعلیٰ کی حیثیت سے مقرر کریں۔ 34 اِس کے علا وہ آپ لوگوں سے اناج کا ذخیرہ کر نے کے لئے ذخیرہ اندوزوں کو مقرر کر کے اچھے سات سال میں ہر ایک کسان سے پیداواد کا پانچواں حصّہ بشکل مال گذاری وصول کریں۔ 35 ان آدمیوں کو اناج گوداموں میں ہوشیاری سے جمع کر لینا چاہئے۔" 36 اور کہا کہ ذخیروں میں وافر مقدار میں اناج ہو نے کی وجہ سے مصر کے باشندوں کو قحط سا لی کے سات سال میں بھی بھو کے مر نے کی نو بت نہ آئیگی ۔ " 37 یہ بات فرعون کو اور اُس کے نو کروں کو بھلی معلوم ہو ئی ۔ 38 فرعون نے اپنے نو کروں سے کہا کہ کیا اس ذمّہ داری کو یو سف سے بڑ ھکر کو ئی نباہ سکتا ہے ؟ اور خدا کی روح بھی اس کے ساتھ ہے ۔ 39 فرعون نے یو سف سے کہا کہ خدا نے تجھے یہ ساری باتیں بتا یا ہے ، جس کی وجہ سے تجھ سے بڑھکر کو ئی دوسرا عقلمند اور دا نا ہے ہی نہیں ۔ 40 جس کی وجہ سے میں تجھے ملک کا حاکم اعلیٰ مقرر کرتا ہوں اور کہا کہ لوگ تیرے احکا مات کی تا بعداری کریں گے ۔ اور اس ملک میں تیرے لئے میں تنہا مختار کُل رہوں گا ۔ 41 فرعون نے یو سف سے کہا کہ میں تجھے ملک مصر کے لئے حاکم اعلیٰ کی حیثیت سے نامزد کر تا ہوں ۔ یہ کہتے ہو ئے ۔ 42 انہوں نے اپنی مہر کی انگوٹھی کو اپنی انگلی سے نکا لی اور اسے یو سف کو پہنا دی ۔ اور اسے بہترین کتانی جبّہ بھی پہننے کے لئے دیا اور اس کے گلے میں سو نے کا ہار ڈا لا ۔ 43 اور فرعون نے یو سف کو دوسری شاہی سواری سفر کر نے کے لئے دیدیا ۔ خصوصی محافظین اس کی رتھ کے سامنے چلتے ہو ئے یہ اعلان کر رہے تھے کہ اے لوگو ! اپنی جبین نیاز کو جھکا ؤ اور یو سف کو سلام بجا لاؤ ۔ اس طرح یو سف تمام ملک مصر کے لئے حاکم اعلیٰ بن گیا ۔ 44 فرعون نے اس سے کہا ، " میں بادشاہ فرعون ہوں ۔ اس لئے میں وہی کروں گا جو مجھے پسند ہے ۔ لیکن تیری اجازت کے بغیر مصر کا کو ئی بھی آدمی اپنی خواہش کے مطا بق کچھ نہیں کر سکتا ہے اور نہ ہی ایک قدم آگے بڑھا سکتا ہے ۔" 45 فرعون نے یوسف کو صفنا ت فعنیح کا نام دیا ۔ اس کے علا وہ فرعون نے یو سف کی آسِناتھ کے ساتھ شادی کر وادی ۔ اور وہ اَون شہر کے کا ہن فوطیفرع کی بیٹی تھی ۔ تب پھر یو سف پو رے ملک مصر کا دو رہ کر نے لگا ۔ 46 یو سف جب مصر کے بادشاہ کے پاس خدمت پر ما مور تھا تو وہ تیس برس کی عمر کا تھا ۔ اور یوسف پو رے ملک مصر میں دورے کر نے لگا ۔ 47 خوشحالی کے سات سالوں میں ملک میں فصل کی پیدا وار وغیرہ بہت اچھی ہو نے لگی ۔ 48 سر زمین مصر میں یوسف ان سات سالوں کے دوران اناج جمع کیا اور گوداموں میں رکھوادیا ۔ ہر شہر میں اس نے سارے کھیتوں سے اناج جمع کیا اور ان اناجوں کو ان شہروں میں رکھوایا ۔ 49 یوسف نے بہت سارا اناج جمع کر لیا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے سمندر کے کنارے ریت کا ڈھیر ہو ۔ اس نے اتنا اناج جمع کیا تھا کہ اسے ناپنا مشکل تھا ۔ 50 یو سف کی بیوی آسناتھ تھی ۔ اور وہ شہر اَون کے کا ہن فوطیفرع کی بیٹی تھی ۔ اور قحط سا لی کا پہلا سال آنے سے پہلے ہی یو سف کو ( اسکی بیوی آسناتھ) سے دو بیٹے پیدا ہو ئے ۔ 51 جب پہلا بچّہ پیدا ہوا تو یوسف نے کہا کہ خدا نے میری ایسی مدد کی کہ میں ساری تکا لیف کو اور اپنے ماں باپ کے گھر والوں کو بھول گیا ۔ یہ کہکر یو سف نے اس بچّہ کا نام " منسّی " رکھا ۔ 52 جب دوسرا بیٹا پیدا ہوا تو یوسف نے کہا کہ خدا نے مجھے اس ملک میں کامیاب کیا جس ملک میں میں بہت تکلیف اور پریشا نی میں گھرا ہوا تھا ۔ اس لئے اس نے اس لڑ کے کا ام " افرائیم " رکھا ۔ 53 مصر میں خوشحالی کے سات سال گزر نے کے بعد ۔ 54 یوسف کے کہنے کے مطا بق قحط سا لی کے سات سال کا آغاز ہوا ۔ قحط سالی اطراف و اکناف کے تمام علا قوں میں پھیل گئی ۔ البتہ صرف مصر میں غلّہ فراہم تھی ۔ 55 جب قحط سا لی کا آغاز ہوا تو لوگ غلّہ کے لئے فرعون سے منّت کر نے لگے ۔ فرعون نے مصر کے شہریوں سے کہا کہ یوسف سے پو چھو ۔ اور اسکی ہدا یت کے مطا بق کام کرو ۔ 56 اب قحط سالی ساری زمین میں پھیل گئی تھی اس لئے یو سف نے گو داموں کو کھلوایا اور مصریوں کو اناج فروخت کیا ۔ مصر کی سر زمین میں قحط سالی بہت سخت تھی ۔ 57 دُنیا بھر میں سخت قحت سالی پھیلی ہو ئی تھی ۔ اس لئے تمام مما لک کے لوگ اناج خرید نے کے لئے مصر آئے ۔

Genesis 42

1 مصر میں اناج اور دال دا نہ کی وافر مقدار میں موجودگی کے بارے میں کنعان میں یعقوب نے جان لیا ۔ اس لئے یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ہم یہاں کچھ کئے بغیر چُپ کیوں بیٹھے رہیں ؟ 2 میں نے سُنا ہے کہ مصر میں اناج موجود ہے ۔ وہاں جاؤ اور ہم لوگوں کے لئے کچھ اناج خرید لو ۔ تب ہی ہم مر نے سے بچ جائیں گے ۔ 3 جس کی وجہ سے یو سف کے دس بھا ئی اناج کی خریدی کے لئے مصر چلے گئے ۔ 4 یعقوب نے بنیمین کو نہیں بھیجا ( بنیمین یوسف کا بھا ئی تھا ) بنیمین کے لئے کسی بھی قسم کے ضر ر اور خطرہ کا یعقوب کو ڈر تھا ۔ 5 کنعان میں خوفناک قسم کی قحط سالی پھیلی ہو ئی تھی ۔اس وجہ سے کئی لوگ اناج خرید نے کے لئے کنعان سے مصر کو چلے گئے ۔ اسرئیل کے دیگر بیٹے بھی انکے ساتھ چلے گئے ۔ 6 چونکہ یوسف مصر کا صوبہ دار تھا اس وجہ سے اسکی اجازت کے بغیر کسی کے لئے اناج کا خرید نا ممکن نہ تھا ۔ یوسف کے بھا ئی اس کے سامنے آکر جھک گئے ۔ 7 یوسف نے اپنے بھا ئیوں کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا ۔ اور اس نے انکے ساتھ سخت لحظہ میں بات کی ۔ اس نے ان لوگوں سے پو چھا ، " تم سب کہاں سے آ رہے ہو ؟ اور ان لوگوں نے جواب دیا ،" ہم اناج خرید نے کے لئے سر زمین کنعان سے آئے ہیں ۔ " 8 یو سف نے اپنے بھا ئیوں کو پہچان لیا لیکن اس کے بھا ئیوں نے یوسف کو نہ پہچا نا ۔ 9 تب یوسف نے اپنے بڑے بھا ئیوں کے بارے میں دیکھے ہو ئے خوابوں کو یاد کر کے ان سے کہا ، " تم جاسوس ہو ۔ تم ہمارے ملک کے اندرونی کمزوریوں کو جاننے کے لئے آئے ہو ۔ " 10 بھا ئیوں نے اس سے کہا ، " نہیں ہمارے آقا آپ کے خادم اناج خرید نے کے لئے یہاں آئے ہیں ۔ 11 ہم سب بھا ئی ہیں اور ہم سب کا ایک باپ ہے ۔ ہم لوگ ایمان دار آدمی ہیں ۔ اور ہم جاسوس نہیں ہیں ۔ " 12 یو سف نے ان سے کہا کہ نہیں بلکہ ہماری اندر کی کمزوریوں سے واقف ہو نے کے لئے تم آئے ہو ۔ 13 اس پر انہوں نے کہا ، " نہیں ! بلکہ ہم سب آپس میں بھا ئی ہیں ۔ اور ہمارے خاندان میں ہم لوگ بارہ بھا ئی ہیں ۔ اور ہم سب کا ایک ہی باپ ہے ۔ اور ہمارا چھو ٹا بھا ئی تو ہمارے باپ کے ساتھ گھر پر ہی ہے ۔ اور ہم بھائیوں میں سے ایک مر گیا ہے ۔ ہم تو آپ کے خادم ہیں اور کنعان ملک سے آئے ہیں ۔ " 14 یوسف نے ان سے کہا کہ نہیں بلکہ میرے اندازے کے مطا بق تم لوگ جاسوس ہو ۔ 15 اگر تمہارا کہنا سچ ہے تو تمہارے چھو ٹے بھا ئی کو چاہئے کہ وہ یہاں آئے ۔ ور نہ فرعون کی جان کی قسم تب تک تم یہاں سے جا نہیں سکتے ۔ 16 اس لئے تم میں سے ایک کو واپس جاکر تمہارے چھو ٹے بھا ئی کو یہاں بُلا نا ہو گا ۔ تب تک باقی سب کو یہاں پر قید میں رہنا ہو گا ۔ تمہارا کہنا سچ ہے یا جھوٹ اس وقت مجھے معلوم ہو جائے گا ۔ اور کہا کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تم تو جاسوس ہی ہو ۔ 17 پھر یوسف نے ان سب کو تین دن کے لئے قید خا نے میں ڈلوادیا ۔ 18 تین دن گزر جانے کے بعد یوسف نے ان سے کہا ، " میں خدا سے خوف کھا تا ہوں ۔اگر تم اسے کرو گے تو میں تمہیں جینے دونگا ۔ 19 اگر سیدھے سادے اور بھو لے بھا لے ہو تو میں تم میں سے ایک بھا ئی کو قید خا نے میں رکھتا ہوں اور باقی سب اپنے لوگوں کے لئے اناج لے جا سکتے ہو ۔ 20 اور کہا کہ اگر تم نے اپنے چھو ٹے بھا ئی کو میرے پاس لا یا تو میں سمجھو نگا کہ ،تم جو کہتے ہو وہ سچ ہے ۔ " بھائیوں نے اس بات کو منظور کر لیا ۔ 21 وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ہم نے اپنے بھا ئی یو سف کے ساتھ جو بد سلوکی کی اس کی سزا ہم بھُگت رہے ہیں ۔ اپنی جان کے خطرے میں وہ مبتلاء تھا اور اس نے خود کو بچا نے کے لئے ہم سے منت کی تھی تب بھی ہم نے اس کی اس گزارش کو ردّ کر دی تھی ۔ اور یہ کہنے لگے کہ اسی وجہ سے اب ہم بھی اپنی جان کے خطرے سے دو چار ہیں ۔ 22 تب روبن نے ان سے کہا کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ تم اس بچّے کو ضرر نہ پہنچا ؤ لیکن میری اس بات کو تم نے نہ سنی تھی اور کہا کہ اسی وجہ سے اب ہم اس کی موت پر مناسب سزا پا رہے ہیں ۔ 23 یوسف اپنے بھا ئیوں کے ساتھ بیچ میں ایک ترجمان کے ذریعے باتیں کر رہا تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ تمام بھا ئی یہ نہیں جان سکے کہ ہم لوگ جو کہہ رہے ہیں وہ سمجھ سکتا ہے ۔ 24 اس لئے وہ ان لوگوں کے پاس تھو ڑا اور آگے گیا اور رویا ۔ تب وہ واپس آیا اور انکی نظروں کے سامنے شمعون کو قیدی بنایا ۔ 25 تب یوسف نے اپنے نوکروں سے کہا کہ انکے تھیلوں کو اناج سے بھر دو ۔ اس اناج کے لئے بھا ئیوں نے یوسف کو پیسے دیئے اس کے با وجود بھی یوسف نے اس قیمت کو قبول نہ کیا ۔ اور اس نے اس رقم کو انکے اناج کے تھیلوں ہی میں رکھوا دیا ۔ اور سفر کے لئے ان کوحسب ِ ضرورت اشیاء بھی فراہم کیا ۔ 26 بھا ئیوں نے اناج کو گدھوں پر لاد کر وہاں سے چل دیئے ۔ 27 اس رات بھا ئیوں نے ایک انجان جگہ پر قیام کیا ۔ بھا ئیوں میں سے ایک نے گدھے کے لئے تھو ڑا اناج نکالنے کے لئے اپنے تھیلے کو کھو لا تو یہ پا یا کہ اناج کی ادا کی ہو ئی رقم تھیلا میں ہے۔ 28 اس نے اپنے دیگر بھا ئیوں سے کہا کہ دیکھو ! میں نے اناج کی جو قیمت ادا کی تھی وہ یہیں پر ہے ۔ اور کہا کہ کسی نے اس رقم کو پھر دو بارہ میرے تھیلے ہی میں رکھ دیا ہے ۔ بھا ئیوں کو بہت خوف محسوس ہوا ۔ اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آخر خدا ہم سے کیا کر رہا ہے ؟ 29 تمام بھا ئی کنعان میں مقیم اپنے باپ یعقوب کے پاس آئے ۔ پیش آئے ہو ئے سارے واقعا ت کو یعقوب سے کہے ۔ 30 اس ملک کا حاکم اعلیٰ ہم کو جاسوس سمجھ کر ہم لوگوں سے سخت لحظہ میں بات کی ۔ 31 ہم نے اس سے کہا کہ ہم سیدھے سادھے اور صاف گو ہیں اور ہم جاسوس نہیں ہیں ۔ 32 ہم لوگ آپس میں بارہ بھا ئی ہیں ۔ اور ہم سب کا ایک ہی باپ ہے یہ بات ہم نے ان سے بتا ئی ۔ اور ہم نے ان سے یہ بھی بتا یا تھا کہ ہمارا ایک بھا ئی پہلے ہی مر گیا ہے ۔ اور ہمارا چھو ٹا بھا ئی ملک کنعان میں ہمارے گھر میں ہے ۔ 33 " تب اس ملک کے حاکم اعلیٰ نے ہم سے کہا کہ اگر تم اپنے آپکو سیدھے سادے ثابت کر نا چا ہتے ہو تو اپنے بھا ئیوں میں سے ایک کو یہاں میرے پاس چھو ڑ دو اور تم اپنے خاندان والوں کے لئے اناج لے جاؤ ۔ 34 اس کے بعد تم اپنے چھو ٹے بھا ئی کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ تب یہ معلوم ہو گا کہ تم بھو لے بھا لے ہو یا جاسوس اگر تم نے سچ کہا تو تمہارا بھا ئی تمہارے حوالے کروں گا ۔ اور کہا کہ ہمارے ملک میں تمہارے اناج خرید نے کے لئے کسی بھی قسم کی رکا وٹ و پا بندی نہ ہو گی ۔ " 35 جب تمام بھا ئی اپنے خیموں سے اناج نکالنے کے لئے گئے تو ہر بھا ئی کے تھیلے میں اپنی وہ رقم جسے اناج خرید نے کے لئے جمع کر وایا تھا موجود دیکھ کر بہت ہی حیران و پریشان ہو ئے ۔ 36 یعقوب نے ان سے کہا کہ کیا تمہاری یہ تمنّا و خواہش ہے کہ میں اپنے تمام بچّوں کو کھو بیٹھوں ؟ یوسف تو رہا نہیں ۔ اور شمعون بھی نہ رہا ۔ اور کہا کہ اب بنیمیں کو بھی لے جانا چاہتے ہو ۔ 37 روبن نے اپنے باپ سے کہا کہ " ابّا " اگر میں بنیمین کو واپس نہ لے آؤ ں تو تُو میرے بیٹوں کو مار دینا اور میری بات پر بھرو سہ کر اور یقین جان کہ میں بنیمین کو آپ کے پاس واپس لا ؤنگا ۔ 38 یعقوب نے کہا ، " میں تو بنیمین کو تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا ۔ اس کا ایک بھا ئی تو پہلے ہی مر گیا ہے ۔ اور صرف یہی ایک رہ گیا ہے ۔ اور کہا اگر اس کے ساتھ مصر کے سفر کے دوران کسی قسم کا حادثہ پیش آیا تو مجھ جیسے عمر رسیدہ آدمی کو جیتے جی ہی غم سے قبر میں جانا ہو گا ۔ "

Genesis 43

1 قحط سالی ملک میں شدت سے پھیلی ہو ئی تھی ۔ 2 وہ مصر سے جو اناج لا ئے تھے وہ کھا چکے ۔ جب اناج ختم ہوا تو یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ مصر کو دوبارہ جاؤ اور ہمارے کھانے کے لئے اناج خرید لا ؤ۔ 3 یہوداہ نے یعقوب سے کہا کہ اُس ملک کے حاکم اعلیٰ نے ہمیں تا کید کی ہے ۔ اور کہا ہے ، ' اگر تم اپنے بھا ئی کو میرے پاس نہ لا یا تو تمہیں مجھ سے ملنے کی اجازت نہ ہو گی ۔' 4 اگر آپنے ہما رے ساتھ بنیمین کو بھیجا تو ( ایسی صورت میں) ہم اناج خرید کر لا ئیں گے ۔ 5 اگر آ پ نے بنیمین کو ہما رے ساتھ نہ بھیجا تو ہم بھی نہ جا ئیں گے ۔ اور کہا کہ اُ س شخص نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ تم بنیمین کے بغیر نہ آنا ۔ 6 اِسرائیل ( یعقوب ) نے کہا کہ تم نے اُس شخص کو یہ کیوں بتایا کہ ہما را ایک اور بھی بھا ئی ہے ۔ تمنے میرے ساتھ اِس قسم کی بد دیانتی کیوں کی۔ 7 بھا ئیوں نے کہا کہ اُس شخص نے ہما رے بارے میں اور ہمارے خاندان کے با رے میں جاننے کے لئے بہت ہی باریک سوا لا ت کیا ہے ۔ اُس نے ہم سے یہ دریافت کیا کہ کیا تمہا را باپ ابھی زندہ ہے؟ کیا تمہا رے گھر میں تمہا را ایک اور بھی بھا ئی ہے ؟ ہم تو صرف اُس کے سوا لا ت کے جواب دیئے ۔ ہم کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ ہم سے یہ کہے گا کہ تم اپنے چھو ٹے بھا ئی کو میرے پاس بُلا لا ؤ۔ 8 تب یہوداہ نے اپنے باپ اِسرائیل سے کہا کہ میرے ساتھ بنیمین کو بھیج دیجئے اور میں اُس کی پو ری نگرانی کروں گا ۔ چونکہ مجھے مصر جا کر اناج لا نا ہے ۔ ورنہ ہم بھو کے مر جا ئیں گے ۔ اور ہمارے بچے بھی مر جا ئیں گے ۔ 9 اور میں اُس کی ہر قسم کا ذمّہ دار ہو ں گا ۔ اگر میں اُس کو آپ کے پاس دو باہ واپس نہ لا ؤں تُو مجھ پر ہمیشہ ملا مت کر نا ۔ 10 اور کہا کہ اگر آپ پہلے ہی ہم کو بھیجے ہو تے تو اب تک ہمیں دوبارہ اناج ملا ہو تا ۔ 11 اِ س با ت پر اُن کے باپ یعقوب نے کہا کہ اگر حقیقت میں یہ سچ ہے تو ، تُو اپنے ساتھ بنیمین کو لے جا ۔ اور حاکم اعلیٰ کے لئے ہمارے پاس سے کچھ عمدہ قسم کے تحفے جو ہمارے ملک کی پیداوار ہیں لیتے جانا جن میں شہد ، اخروٹ، بادام اور دودھ کی چیز، اور خوشبودار گوند وغیرہ ۔ 12 اِس مرتبہ دو گنا رقم تم اپنے ساتھ لے جانا ۔ پچھلی مر تبہ جو رقم واپس لو ٹا دی گئی تھی اُس کو بھی ساتھ لے جانا ۔ ہو سکتا ہے حاکم اعلیٰ سے اُس سلسلے میں غلطی ہو ئی ہو ۔ 13 بنیمین کو ساتھ لیتے ہو ئے اُس شخص کے پاس پھر دوبارہ جا ؤ۔ 14 جب تم حاکم اعلیٰ کے پاس کھڑے رہو گے تو خدا قادر مطلق سے تمہاری مدد کر نے کے لئے میں دعا کروں گا ۔ بنیمین کو اور شمعون کو واپس کر نے کے لئے تم سب کا اور تو بحفاظت واپس لوٹنے کے لئے میں خدا سے دُعا کروں گا ۔ اور کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو میں اپنے بیٹے کو کھو کر دوبارہ رنج و غم میں ڈوب جا ؤں گا ۔ 15 اس لئے بھا ئیوں نے حاکم اعلیٰ کو تحفے دینے کے لئے وہ سب کچھ جمع کر لئے ۔ پہلی مرتبہ وہ جتنی رقم لے گئے تھے اُس سے دوگنا رقم پھر دوبارہ لے لئے ۔ اور بنیمین کو بھی ساتھ لیا اور مصر کو چلے گئے ۔ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ یوسف سے ملے ۔ 16 بنیمین کو بھا ئیوں کے ساتھ رہتے ہو ئے دیکھ کر یوسف نے اپنے نوکروں سے کہا کہ ان لوگوں کو میرے گھر لے جا ؤ۔ اور ایک جانور ذبح کرو اور اسے پکا ؤ۔ یہ لوگ دوپہر میں میرے ساتھ کھانا کھا ئیں گے ۔ 17 جیسے ہی اس نے کہا ان کا نو کر ا ن کے بھا ئیوں کو گھر میں بُلا لے گیا ۔ 18 تب بھا ئیوں کو خوف لا حق ہوا ۔ وہ آپس میں باتیں کر نے لگے کہ پچھلی دفعہ ہمارے تھیلوں میں ڈا لے گئے پیسوں کے بارے میں اُنہوں نے ہمیں یہاں بُلا یا ہے ۔ اور ہمیں خطا کار سمجھ کر ہما رے گدھوں کو پکڑ لیں گے ۔ اور ہمیں ادنیٰ قسم کا نوکر چا کر بنا لیں گے ۔ 19 اِس وجہ سے بھا ئیوں نے یوسف کے گھر کے منتظم نوکر کے پاس جا کر گھر کے صدر دروازے کے نزدیک اُس سے بات چیت کئے ۔ 20 اُنہوں نے کہا کہ اے ہما رے آقا ! گذشتہ مر تبہ ہم اناج خریدنے کے لئے آئے تھے ۔ 21 جب ہم گھر جا تے ہو ئے اپنے تھیلے کو کھو لا تو ہر تھیلہ میں اناج کی ادا کر دہ رقم پا ئی گئی ۔ وہ رقم وہاں کیسے آئی ہمیں معلوم نہ ہوسکا ۔ اُس رقم کو ہم آپ کے حوا لے کر نے کے لئے ساتھ لا ئے ہیں۔ اور کہا کہ اِس مرتبہ ہم جس اناج کو خریدنا چاہتے ہیں اُس کو ادا کرنے کے لئے افزود رقم لا ئے ہیں۔ 22 23 اُس بات پر نوکر نے کہا کہ نہ تم خوفزدہ ہو اور نہ ہی فکرمند۔ اس لئے کہ تمہا را خدا اور تمہا رے باپ کا خدا تمہا ری رقم کو بطور تحفہ تمہا رے تھیلوں میں رکھ دیا ہو گا ۔ اور یہ بھی کہا کہ پچھلی مر تبہ تم نے اناج کی خریدی پر جو رقم ادا کی تھی وہ مجھے یاد ہے ۔ تب پھر اُس نوکر نے شمعون کو قیدخانے سے چھڑا لا یا ۔ 24 نو کر اُن کو یوسف کے گھر میں بُلا لے گیا ۔ اور اُن کو پانی دیا ۔ اور وہ اپنے پا ؤں دھو لئے ۔ پھر اُس کے بعد اُس نے اُن کے گدھوں کو بھی کھا نا دیا ۔ 25 تمام بھا ئیوں کو یوسف کے ساتھ کھانا کھا نے کی بات معلوم ہو ئی۔ جس کی وجہ وہ اُسے پیش کر نے کے سارے تحفے دو پہر تک تیار کر لئے ۔ 26 جب یوسف گھر کو آ گیا تو بھا ئیوں نے جو تحفے اُس کے لئے لا ئے تھے اُس کو پیش کر دئیے۔ تب انہوں نے زمین تک جھک کر فرشی سلام کیا ۔ 27 یوسف نے ان کی خیریت معلوم کی ۔ یوسف نے پھر اُن سے پو چھا کہ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہا را ایک ضعیف اور عمر رسیدہ باپ ہے کیا وہ بخیر ہیں؟ اور کیا وہ ابھی زندہ ہیں؟ 28 بھائیوں نے ان کو جواب دیا ، " ہاں آقا، ہما را باپ تو خیرو عافیت سے ہے ۔" اور وہ ابھی زندہ ہے ۔ پھر وہ یہ کہتے ہو ئے یوسف کے سامنے جھک گئے ۔ 29 تب یوسف نے اپنے بھا ئی بنیمین کو دیکھ لیا ( بنیمین اور یوسف ایک ہی ماں کے بیٹے تھے ) یوسف نے اُن سے پو چھا کیا تمہا را سب سے چھو ٹا بھا ئی یہی ہے جس کے بارے میں تم لوگوں نے کہا تھا ؟ تب یوسف نے بنیمین سے کہا کہ بیٹے خدا تیرا بھلا کرے! 30 یوسف چونکہ اپنے بھا ئی بنیمین کو بہت زیادہ چاہتا تھا جس کی وجہ سے اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ کمرے میں جا کر آنکھوں سے آنسو بہا نے لگا ۔( زارو قطار رونے لگا ۔) 31 پھر یوسف اپنا چہرہ دھو لیا ۔ اور اپنے دِل کو تھام کر آیا اور حکم دیا کہ دستر خوان پر کھا نا چُنو۔ 32 یوسف تنہا آیا اور تنہا میز پر کھا نا کھا یا ۔ اُس کے بھا ئی دوسرے میز پر ایک ساتھ کھا نا کھا ئے ۔ مصر کے باشندے بھی الگ سے ایک میز پر کھا نا کھا ئے مصری لوگوں نے عبرانی لوگوں کے ساتھ کھا نا کھا نا رسوا ئی سمجھا ۔ 33 یو سف کے سب بھا ئی اس کے سامنے وا لے میز پر ترتیب وار عمر کے لحاظ سے ایک کے بعد دوسرا یعنی بڑا سے چھو ٹا کے مطا بق بیٹھے تھے ۔ سب بھا ئی ایک دوسرے کو حیران ہو کر دیکھ رہے تھے ۔ 34 خادم ، یوسف کی میز سے کھا نا اُٹھا کر اُن کو پہنچا رہے تھے ۔ لیکن خادموں نے بنیمین کو دوسروں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ دیا ۔ تمام بھا ئی اِطمینان سے کھا نا کھا ئے ۔

Genesis 44

1 پھر یوسف نے اپنے نو کر کو حکم دیا کہ یہ لوگ جتنا اناج لے جا نا چاہیں اِن کی تھیلوں میں بھر دو اور ہر ایک کی رقم بھی اُن ہی کے تھیلوں میں رکھ دی جا ئے ۔ 2 چھو ٹے بھا ئی کے تھیلے میں بھی رقم رکھ دو ۔ مزید حکم دیا کہ میرا جو مخصوص چاندی کا پیالہ ہے اُس کو بھی اُس کے تھیلے میں رکھ دو ۔ نوکر نے ہدایت کے مطا بق ہی کیا ۔ 3 دوسرے دن صبح اپنے بھائیوں اور اُن کے گدھوں کو اُن کے ملک کو وا پس بھیج دیا ۔ 4 ابھی وہ لوگ شہر کے نزدیک ہی تھے کہ یوسف نے اپنے نوکر کو حکم دیا کہ جا اور اُن لوگوں کا تعاقب کر ۔ اُن کو روک دینا اور کہنا کہ ہم تو تمہا رے ہمدرد ٹھہرے ۔ لیکن تم نے ہمارے ساتھ دغا کیوں کیا ؟ اور تم نے میرے مالک کے چاندی کے پیا لے کو کیوں چُرا لا یا ؟ 5 اس پیالے میں تو میرا مالک پیتا ہے ۔ اور خدا سے سوالا ت پوچھنے کے لئے وہ اس پیالے ہی کو استعمال کر تا ہے ۔تم نے اُن کا پیالہ چُرا کر بڑی غلطی کی ۔ 6 ان کے کہنے کے مطا بق نو کر نے انکے بھا ئیوں کا پیچھا کیا اور انکو روک دیا ۔ نو کر نے ان لوگوں سے وہ کہا جو یوسف نے اسے کہنے کے لئے کہا تھا ۔ 7 تب ان کے بھا ئیوں نے نو کر سے کہا کہ حاکم اعلیٰ اس طرح کیوں کہتے ہیں ؟ جبکہ ہم لوگوں نے تو ایسی کو ئی حر کت نہیں کی ہے ۔ 8 پہلے ہماری تھیلیوں میں جو رقم ملی تھی اُس رقم کو ہم لوگ ملک کنعان سے دو بارہ لا کر دیئے ہیں ۔ اس طرح سے ہم نے ہر گز تیرے مالک کا چاندی یا سو نا نہیں چُرایا ہے ۔ 9 اگر تو چاندی کے ان پیا لے کو ہم میں سے جس کسی کے بھی تھیلہ میں پا ئے گا تو تُو اس تھیلہ کے ما لک کو مار سکتا ہے اور ہم سارے تمہارے غلام ہو جائیں گے ۔ 10 نو کر نے کہا کہ ٹھیک ہے ایسا ہی ہو گا ۔ لیکن یہ کہ میں اُس کو قتل تو نہ کروں گا البتہ جس کسی کے پاس وہ پیا لہ مل جا ئے ، تو اُس کو چاہئے کہ وہ میرا نو کر بن کر رہے ۔ اور کہا کہ دوسرے سب جا سکتے ہیں۔ 11 تب وہ فوراً اپنی تھیلیوں کو زمین پر رکھکر کھو ل دیا ۔ 12 نو کر نے اُن کی تھیلیوں کی جانچ بڑے بھا ئی کے تھیلہ سے شروع کی اور چھو ٹے بھا ئی پر جا کر ختم کی ۔ اس نے بنیمین کے تھیلہ میں پیالہ کو پا یا۔ 13 بھائیوں نے بہت ہی افسوس کے ساتھ اپنے کپڑوں کو پھا ڑ لیا ، اور پھر اپی تھیلیوں کو گدھوں پر رکھا اور سوار کر کے شہر کو روانہ ہو ئے ۔ 14 یہوداہ اور اُس کے بھا ئی جب یوسف کے گھر کو واپس لو ٹے تو یوسف تب تک وہی پر تھا ۔ تمام بھا ئی زمین کی طرف اپنے سروں کو جھکا کر آداب بجا لا ئے ۔ 15 یو سف نے اُن سے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ کیا تم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ میں فال دیکھ کر چھپی باتوں کو جان لیتا ہوں ۔ 16 یہوداہ نے کہا کہ اے آقا ہمیں تو کُچھ کہنا نہیں ہے ۔ اور وضا حت کی کو ئی گنجائش نہیں ہے ۔ اور ہمارے بے قصور ہو نے کو ثابت کر نے کے لئے کو ئی راہ بھی نہیں ہے ۔ ہم نے کو ئی اور کام کیا ہے جس کی وجہ سے خدا نے ہم کو خطا کار ٹھہرا یا ہے۔ اور اُس نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم سب اور بنیمین تیرے نو کر چا کر بن کر رہیں گے ۔ 17 تب یوسف نے کہا کہ میں تم سب کو نوکر کی حیثیت سے نہ رکھو ں گا ۔ بلکہ وہی صرف خادم کی حیثیت سے رہے گا جس نے میرا پیا لہ چُرا یا ہے ۔ اور کہا کہ باقی تمام اپنے باپ کے پاس سکون و اطمینان سے جا سکتے ہو۔ 18 پھر یہوداہ یو سف کے پاس جا کر منت کر نے لگا کہ میرے آقا مجھے برائے مہربانی وقت دیں کہ میں آپ کے ساتھ کھلے دل سے بات چیت کروں ۔ اور اس بات کی بھی گزارش ہے کہ مجھ پر غصّہ نہ ہوں ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ فرعون کی مانند ہی ہیں ۔ 19 جب ہم پہلی مرتبہ آئے تھے تو آپ نے ہم سے پو چھا تھا کہ کیا تمہارا کو ئی باپ یا بھا ئی ہے ؟ 20 ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہمارا باپ ہے لیکن وہ بھی ضعیف و کمزور ہے ۔ ہمارا ایک چھو ٹا بھا ئی بھی ہے ۔ وہ جب پیدا ہوا تو میرا باپ بوڑھا تھا ۔ اور سب سے چھو ٹے بیٹے کا بھا ئی مر گیا ہے۔ اور اس ماں سے پیدا ہو نے والوں میں صرف یہ تنہا زندہ ہے ۔ اور ہمارا باپ اس سے بے حد محبت کر تا ہے۔ 21 تب آپ نے ہم سے کہا تھا کہ اگر ایسا ہی ہے تو تم اس بھا ئی کو میرے پاس بُلا لاؤ میں اُس کو دیکھوں گا ۔ 22 ہم نے آپ سے کہا تھا کہ وہ چھو ٹا بچّہ آنہیں سکتا ، اس لئے کہ وہ اپنے باپ کو چھو ڑ نہیں سکتا ۔ اور ہم نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اپنے باپ کی نظروں سے دور ہوا تو وہ اس کی جدا ئی کے غم میں مر جا ئے گا ۔ 23 لیکن آپ نے ہمیں تاکید کی تھی کہ تُم اس چھو ٹے بھا ئی کو ضرور ساتھ لیتے آنا ۔ ور نہ میں تمہارے پاس پھر دوبارہ اناج نہیں بیچوں گا۔ 24 جس کی وجہ سے ہم اپنے باپ کے پاس واپس لوٹ گئے اور وہ تمام باتیں اُن سے سُنائیں جو آپ نے بتا ئی تھی ۔ 25 " اسکے بعد! ہمارے باپ نے ہم سے کہا کہ دو بارہ جاکر ہمارے لئے تھو ڑا اناج خرید کر لا ؤ ۔ 26 لیکن ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہم ہمارے چھو ٹے بھائی کے بغیر نہیں جا سکتے ۔ اِس لئے کہ حاکم اعلیٰ نے ہم سے کہا ہے کہ جب تک وہ ہمارے چھو ٹے بھا ئی کو دیکھ نہ لے اناج نہیں بیچے گا ۔ 27 تب ہمارے باپ نے ہم سے کہا تھا کہ میری بیوی راخل نے مجھے دو بیٹے دیئے ہیں ۔ 28 جب میں نے ایک بیٹے کو بھیجا تھا تو ، وہ ایک درندے کے ذریعہ ہلاک ہوا تھا ۔اور میں آج تک اسے دیکھ نہ سکا ۔ 29 اُس نے ہم سے کہا کہ اگر تم میرے پاس سے دوسرے بیٹے کو لے گئے اور اِتفاق سے اُس کے ساتھ کو ئی بُری بات پیش آئی تو میں غم کو سہ نہ سکوں گا اور میں غم سے مر جا ؤں گا ۔ 30 ہما رے باپ کو تو اِس سے محبت ہے۔ اگر ہم کسی وجہ سے اس چھو ٹے بھا ئی کے بغیر ہی چلے جائیں۔ 31 تو ہما را باپ فوراً اُسی وقت مر جا ئیں گے ۔ اور ہمارے باپ کے رنج و غم سے مر نے کی وجہ ہم بنیں گے ۔ 32 " میں نے اس چھو ٹے بیٹے کی ذمّہ داری کو اپنے سر لیا ہے ۔ میں نے اپنے باپ سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر میں اس کو ساتھ وا پس نہ لا ؤں تو تُو زندگی بھر مجھے قصوروار ٹھہرا نا ۔ 33 جس کی وجہ سے میں آپ سے اِ س بات کی منت کر تا ہوں کہ یہ نوجوان میرے دوسرے بھا ئیوں کے ساتھ واپس لو ٹ کر جا ئے ۔ اور میں اس کی جگہ آپ کے پاس نوکر کی حیثیت سے رہ جا ؤں گا ۔ 34 میرے ساتھ اگر یہ لڑکا نہ رہا تو میں اپنے با پ کے سامنے واپس نہ جا ؤں گا ۔ میں اس بات سے بہت خوفزدہ ہوں کہ میرے باپ پر کیا گذریگا۔"

Genesis 45

1 یوسف اور برداشت نہ کر سکا اور حکم دیا کہ یہاں پر موجود سب لوگوں کو باہر بھیج دیا جا ئے ۔ وہاں کے سب لوگ ( اُسی وقت) باہر چلے گئے ۔ صرف تمام بھا ئی یوسف کے ساتھ رہے ۔ 2 تب یو سف( درد بھرے انداز سے) چلّا کر رو نے لگے ۔ فرعون کے گھر میں موجود مصر کے تمام باشندے اس کو سُنے۔ 3 یوسف نے اپنے بھا ئیوں سے کہا کہ میں تمہا را چھو ٹا بھا ئی یوسف ہوں ۔ اور پوچھا کہ کیا میرا باپ بخیر و عافیت ہیں؟ لیکن بھا ئیوں نے اُن کوکو ئی جواب نہ دیا ۔ اس لئے کہ وہ خوفزدہ ہو کر ہکا بکا ہ ہو گئے تھے ۔ 4 یوسف پھر اپنے بھا ئیوں سے منت کر نے لگا اور کہا ، " میرے قریب آجا ؤ،" اس لئے تمام بھا ئی یوسف سے قریب ہو ئے ۔ یوسف نے اُن سے کہا ، " میں تمہا را بھا ئی یوسف ہوں جس کو تم نے اہل مصر کے ہا تھوں بحیثیت غلام بیچ دیا تھا ۔ وہ میں ہی ہوں۔ 5 اب تم فکر مت کرو۔ تم نے جو کچھ کیا ہے اُس پر افسوس نہ کرو۔ اِس لئے کہ میرا یہاں آنا یہ تو خدا کا منشاء اور اُس کی تدبیر تھی۔ میں تمہا ری حفاظت کے لئے یہاں آیا ہوں۔ 6 اِس خوفناک قحط سالی کے تو صرف دو سال ہی ہو ئے ہیں۔ مزید پانچ سا ل تک تو کو ئی تخم ریزی بھی نہ ہو گی ۔ اور نہ کو ئی فصل کٹا ئی ہو گی ۔ 7 اس لئے اس ملک میں اپنے بندوں کی دیکھ بھال کے لئے خدا نے تم سے پہلے ہی مجھے بھیج دیا ہے ۔ 8 مجھے جو یہاں بھیجا گیا ہے اُس میں تمہا را کو ئی قصور نہیں ہے ۔ وہ تو خدا کا منصوبہ تھا۔ خدا نے مجھے فرعون کا انتہا ئی اعلیٰ درجہ کا حاکم بنا یا ہے ۔ اور کہا کہ میں تو اُس گھر کا اور مصر کا حکم اعلیٰ بنا یا گیا ہوں۔" 9 تب یوسف نے کہا کہ میرے باپ کے پاس جلدی جا ؤ اور اُ ن سے کہو کہ تیرا بیٹا یوسف نے اس پیغام کو بھیجا ہے خدا نے مجھے تمام ملک مصر کے لئے حاکم اعلیٰ بنا یا ہے ۔ بِلا کسی تا خیر کے میرے پاس آجا ئیں۔ 10 آپ جشن کے علا قے میں میرے ساتھ قیام کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے بچے اپنے پو تے اور تمام چوپایوں کے ساتھ یہاس پر سکونت اختیار کریں۔ 11 اگلے پانچ سال تک قحط سالی کے زمانے میں میں آپکی رکھوا لی و پاسبانی کروں گا ۔ تب نہ آپ کو اور نہ ہی آپ کے خاندان والوں کو غُربت و اِفلاس کا احساس ہو گا ۔ 12 یوسف نے اپنے بھا ئیوں سے بات کے سلسلے کو آگے بڑھا یا اور کہنے لگا کہ اب آپ اور بنیمین بھی یقین کر سکتے ہیں کہ سچ مچ میں میں ہی یوسف ہوں۔ 13 اس لئے میری شان و شوکت میرا مرتبہ جو کہ مجھے مصر میں حاصل ہے اور و ہ تمام چیزیں جن کو تم نے یہاں دیکھا ہے اس کا ذکر میرے باپ سے کرنا ۔ یہ ساری باتیں میرے باپ سے کہنا اور اس کو جتنا جلدی ممکن ہو سکے یہاں لانا ۔ 14 تب یوسف اپنے بھا ئی بنیمین سے بغل گیر ہوا اور رو نے لگا ۔ اور ساتھ ہی بنیمین بھی رو پڑا ۔ 15 پھر یوسف اپنے تمام بھا ئیوں کو پیار سے چو ما اور رو نے لگا ۔ اِس کے بعد اُن بھا ئیوں نے اُس کے ساتھ باتوں میں مشغو ل ہو ئے۔ 16 یوسف کے بھا ئیوں کا ان کے پاس آنے کی بات فرعون اور اُس کے اہل خاندان کو جب معلوم ہو ئی تو سب کو بہت خوشی و مسرت ہو ئی۔ 17 جس کی وجہ سے فرعون نے یوسف سے کہا کہ تجھے جتنا اناج چاہئے اٹھا لے اور ملک کنعان کو وا پس لوٹ جا ۔ 18 اپنے باپ اور اہل خاندان کو میرے پاس لے آؤ۔ اور وہ یہاں کے کسی بھی علا قے میں سکونت اختیار کرسکتے ہیں۔ 19 وہ ہما ری گا ڑی کو لے کر ملک کنعان جا ئے اور اپنے با پ اور تمام عورتیں اور بچوں کو ساتھ لا ئے ۔ 20 اور ان کی جائیدا د کے بارے میں کسی قسم کی فکر نہ کریں۔ اور کہا کہ مصر میں ہمیں جو اعلیٰ درجہ کی چیزیں میسر ہیں اُن کو دیں گے ۔ 21 اسرائیل کے بچوں نے ویسا ہی کیا ۔ فرعون کے کہنے کے مطا بق یوسف نے ان کو گا ڑی اور سفر کے لئے کھانے بھی دیئے۔ 22 یوسف نے اپنے تمام بھا ئی کو ایک ایک جو ڑا عمدہ قسم کے کپڑے دئیے۔ لیکن بنیمین کو تنہا عمدہ قسم کے پانچ جو ڑے کپڑے اور تین سو چاندی کے سکّے دئیے ۔ 23 یوسف نے اپنے باپ کو مصر سے سب سے عمدہ قسم کی چیزیں دس گدھو ں پر لاد کر بھیجے ۔ اور اپنے باپ کی وا پسی کے سفر کے لئے بہت سار ا اناج اور دوسرے کھانے کی چیزیں دس گدھیوں پر لاد کر بھیجا ۔ 24 جب وہ نکل رہے تھے تو یوسف نے اُن سے کہا کہ سیدھے گھر جا ؤ، اور راستے میں مت جھگڑو۔ 25 اس لئے تمام بھا ئی مصر کو چھو ڑ کر اپنے باپ کی سکونت پذیر جگہ کنعان کو چلے گئے ۔ 26 بھا ئیوں نے اپنے با پ سے کہا کہ ابّا جان یوسف اب تک زندہ ہے ۔ اور کہا کہ وہ سارے ملک مصر کا حاکم اعلیٰ ہے ۔ اُن کے باپ کو حیرت ہو ئی ۔ انہوں نے اُن کی اس بات پر یقین نہ کیا ۔ 27 لیکن یوسف نے اُن سے جو کچھ کہا تھا بھا ئیوں نے وہ سب کچھ اپنے باپ سے کہہ دیا ۔ یوسف کی طرف سے یعقوب کو مصر آنے کے لئے جو سواریاں بھیجی گئی تھیں جب یعقوب نے دیکھا تو خو شی سے پھو لے نہ سمائے۔ 28 اِسرائیل نے کہا ، " میں اب تمہا ری بات پر یقین کر تا ہوں۔ میرا بیٹا یوسف ابھی تک زندہ ہے ۔ اور یہ بھی کہا کہ میں اپنی موت سے پہلے اُسے دیکھ لوں گا ۔"

Genesis 46

1 اِس وجہ سے اِسرائیل اور اس کے اہل خاندان مصر کے سفر پر روانہ ہو ئے۔ اور وہ وہاں سے بیر سبع کو گئے ۔ اور اپنے باپ اِسحاق کے خدا کی عبادت کی اور قربانیاں پیش کی۔ 2 اُس رات خواب میں خدا نے اُس سے باتیں کیں۔ خدا نے اُس سے کہا کہ اے یعقوب ، اے یعقوب، اُس پر اسرائیل نے جواب دیا میں یہاں ہو ں۔ 3 خدا نے اُس سے کہا کہ میں ہی خدا ہوں۔ اور میں تیرے باپ کا خدا ہوں ۔ تو مصر کو جا نے کے لئے نہ گھبرا ۔ اِس لئے کہ میں مصر میں تجھے ایک بڑی قوم بنا ؤں گا ۔ 4 میں بھی تیرے ساتھ مصر کو آؤنگا ۔تب میں خود ہی تجھے مصر بُلا کر لاؤنگا ۔اگر تو مصر میں مر بھی جائے تو یوسف تیرے ساتھ ہی ہوگا ۔ اور کہا کہ جب تو مرے گا تو وہ اپنے ہاتھوں سے تیری آنکھیں بند کرے گا۔ 5 پھر اسکے بعد یعقوب نے بیر سبع سے مصر کا سفر کیا ۔ اسرائیل کے بیٹے اپنے باپ اور اپنی بیویوں اور اپنے تمام بچّوں کو ساتھ لیکر چلے گئے ۔ فرعون کی بھیجی ہو ئی سواریوں میں وہ سفر کئے ۔ 6 اِس کے علا وہ وہ اپنے جانوروں اور ہر اُس چیز جس کے وہ ملک کنعان میں مالک تھے اس کو ساتھ لے لئے ۔اور اِس طرح اسرائیل اپنے تمام بچّوں اور اپنے تمام خاندان کے ساتھ مصر کو چلے گئے ۔ 7 اُس کے ساتھ اُس کے بیٹے بیٹیاں ،پو تے اور نواسیاں تھیں ۔ اُس کے اہل خا ندان اس کے ساتھ مصر کو گئے ۔ 8 اسرائیل (یعقوب ) کے بیٹے اور خاندان جو کہ اسکے ساتھ مصر کو گئے انکے نام درج ذیل ہیں : 9 روبن کے بچّے:حنوک ،فلو ،حصرون اور کر می۔ 10 شمعون کے بچے:یموایل،یمین،اُہلہ،یکین ،صُحر اور ساؤل(ساؤل کنعان کی عورت سے پیدا ہوا تھا )۔ 11 لاوی کے بچّے:جیرسون،قہات ،اور مراری۔ 12 بنی یہوداہ:عِیر،اُونان،سیلہ،فارص۔اور زارح(عیر اور اُنان کنعان میں سکونت پذیری کے دور ہی میں مر گئے تھے )۔بنی فارص:حصرون اور حمول۔ 13 اشکار کے بچّے:تو لع، فووّاہ،یوب اور سمرون۔ 14 بنی زبولون:سرد،ایلون اور یمی ایل ۔ 15 روبن ،شمعون ،لا وی،یہوداہ،اشکار اور زبولون۔ یہ سب یعقوب کی بیوی لیاہ کے بچّے تھے ۔ لیاہ نے اُن بچّوں کو فدان ارام میں جنم دیا ۔ جہاں اُس کی بیٹی دینہ بھی پیدا ہو ئی ۔اِس خاندان میں کل ۳۳ افراد تھے ۔ 16 بنی جاد :صفیان ،حجّی، سونی،اصبان،عیری،ارودی اور اریلی ہیں۔ 17 بنی آشر : یمنہ ،اِسواہ ،اِسوی ،بریعاہ ، اور ان کی بہن سِرہ ہیں ۔ بنی بریعاہ :حِبر اور ملکیل 18 لا بن اپنی بیٹی لیاہ کے ساتھ زلفہ نام کی خادمہ کو بھی دیا ۔ جبکہ لیاہ نے زلفہ کو یعقوب کے لئے دیدیا۔ اِس طرح زلفہ کے خاندان میں کل سولہ افراد تھے ۔ 19 یعقوب اور راخل کے بیٹے یوسف اور بنیمین تھے ۔ 20 مصر میں یوسف کو دو بیٹے تھے ۔ جو یہ ہیں ۔ مُنسی ،افرائیم (یوسف کی بیوی اسِناتھ تھی ۔ اور اَدن شہر کے کا ہن فوطیفرع کی بیٹی تھی ۔) 21 بنیمین کے بیٹے : بالع ، بکر ، اشبیل ، جیرا،نعمان،اخی روش،مُفیّم حقّیم اور ارد تھے ۔ 22 یہ تمام یعقوب کی بیوی راخل کے اہل خاندان سے ہیں ۔ اور اِس خاندان میں کل چودہ افراد تھے ۔ 23 بنی دان :حَشیم۔ 24 بنی نفتاتی:یحی ایل،جونی،یصر اور سلیم تھے ۔ 25 یہ سب بلہا کے خاندان سے ہیں ۔ ( لا بن نے اپنی بیٹی راخل کے لئے جس خادمہ کو دیا تھا وہی بلہا ہ تھی ۔ راخل نے یہ خادمہ یعقوب کو دی تھی ) اس خاندان میں کل سات افراد تھے ۔ 26 یعقوب کی نسل سے پیدا ہو نے والے چھیاسٹھ افراد مصر کو چلے گئے ۔ ( یعقوب کے بچّوں کی بیویوں کو یہاں شا مل نہیں کیا گیا ہے ) ۔ 27 وہاں یوسف کے دو بیٹے بھی تھے ۔اور وہ مصر ہی میں پیدا ہو ئے تھے ۔ اس وجہ سے یعقوب کے اہل خاندان میں جو مصر کو آئے کل افراد ستّر تھے ۔ 28 یعقوب نے اپنے سے پہلے یہوداہ کو یوسف کے پاس بھیجا ۔ جشن کے علاقے میں یہوداہ ،یوسف کے پاس گیا ۔ اُس کے بعد یعقوب اور اسکے بچے اس علا قے میں آئے ۔ 29 اس لئے اس نے اپنے باپ اسرائیل سے جشن میں ملاقات کے لئے اپنے رتھ کو تیار کیا اور روانہ ہو گئے ۔ جب یوسف کی نظر اپنے باپ پر پڑی تو وہ اسے گلے سے لگا لیا اور بہت دیر تک روتے رہے ۔ 30 تب اسرائیل نے یوسف سے کہا کہ میں نے تیرے چہرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور اس بات کا یقین ہو گیا کہ تو ابھی تک زندہ ہے ۔ اور کہا کہ میں تو اب تسلّی و اطمینان سے مروں گا ۔ 31 یوسف نے اپنے بھائیوں اور اپنے باپ کے خاندان والوں سے کہا کہ میں فرعون کے پاس جاکر کہوں گا کہ میرے بھا ئی اور میرے باپ کے خاندان والے ملک کنعان کو چھو ڑ کر میرے پاس آ گئے ہیں ۔ 32 یہ خاندان بکریاں چرا نے والوں کا خاندان ہے ۔ کیوں کہ یہ ہمیشہ جانوروں اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پالتے ہیں ۔ وہ اپنے تمام جانوروں اور اپنی تمام اشیاء کو ( جن کہ کے وہ مالک ہیں) اپنے ساتھ لا ئے ہیں ۔ 33 فرعون تم کو بلا ئے گا اور پو چھے گا کہ تمہارا کیا پیشہ ہے ؟ 34 تم اس سے کہنا کہ ہم چرواہے ہیں ۔ ہماری پوری زندگی جانوروں کو پالنے میں گزری ۔ اور اِس سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد بھی اسی طرح زندگی گزارے تب ہی وہ جشن علا قے میں تمہارے لئے زندگی گزارنے کے اسباب پیدا کر دے گا ۔ اس لئے کہ مصر کے لوگ چرواہوں کو پسند نہیں کر تے ہیں ۔ اور کہا کہ ( اِن وجوہات کی بناء پر ) تمہارا جشن میں قیام کر نا مناسب ہو گا ۔

Genesis 47

1 یوسف فرعون کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ میرے باپ اور میرے بھا ئی اور اُن کے اہل خاندان یہاں آگئے ہیں۔ وہ اپنے تمام جانور اور کنعان کے اپنی تمام چیزوں کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔ اور اب وہ جشن کے علاقے میں مقیم ہیں ۔ 2 یوسف اپنے بھا ئیوں میں سے پانچ کا انتخاب کیا اور اُن کو فرعون کے پاس بُلا لے گیا ۔ 3 فرعون نے (یوسف کے ) بھا ئیوں سے پو چھا کہ تمہا را کیا پیشہ ہے ؟ ً بھا ئیوں نے فرعون سے کہا کہ ہمارے آقا ، ہم تو چرواہے ہیں۔ اور ہمارے آباء واجداد تو ہم سے پہلے چرواہے ہی تھے۔ 4 انہوں نے فرعون سے کہا کہ کنعان میں قحط سالی تو اپنے پو رے شباب پر ہے ۔ کسی بھی کھیت میں ہمارے جانوروں کے لئے کو ئی گھاس وغیرہ نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم اِس ملک میں زندگی گذارنے کے لئے یہاں آئے ہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم جشن کے علاقے میں رہنا چاہتے ہیں اور منت کر تے ہیں کہ ہمارے لئے موقع فراہم کرے۔ 5 تب فرعون نے یوسف سے کہا کہ تیرے باپ اور تیرے بھا ئی تیرے پاس آئے ہیں ۔ 6 مصر میں اُن کے قیام کے لئے کسی بھی قسم کی پسند کی جگہ کا انتخاب کیا جا سکتا ہے ۔ اور اپنے باپ اور بھا ئیوں کے رہنے کے لئے اچھی جگہ کو چُن لے ۔ اور وہ جشن کے علاقے میں قیام کریں۔ اِس لئے کہ وہ ایک تجربہ کا ر چروا ہے ہیں۔ اور کہا کہ ( ضرورت پڑنے پر) وہ میرے جانوروں کی بھی دیکھ بھال کریں۔ 7 تب یوسف نے اپنے باپ کو فرعون کی خدمت میں بُلا یا ۔ اور یعقوب نے فرعون کو دُعا دی ۔ 8 تب فرعون نے یعقوب سے پوچھا کہ اب آپ کی کیا عمر ہے ؟ 9 یعقوب نے فرعون سے کہا کہ مجھے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت سی تکالیف اور مصائب کا تجر بہ ہوا ہے۔ اور اب میری ایک سو تیس برس کی عمر ہے اور کہا کہ میرے باپ اور اُن کے پیش رو مجھ سے زیادہ عمرپا ئے ہیں۔ 10 یعقوب ، فرعون کو دُعائیں دینے کے بعد فرعون کے پاس سے چلے گئے ۔ 11 فرعون کی ہدایت کے مطا بق یوسف نے عمل کیا ۔ اُس نے اپنے باپ کو اور اپنے بھا ئیوں کو مصر میں سکونت کے لئے بہت مناسب و عمدہ قسم کی جگہ دی ۔ اور وہ ر عمِسَیس شہر کے قریب تھی۔ 12 یوسف نے اپنے باپ اور اپنے بھا ئیوں اور وہاں کے رہنے وا لوں کو ان کی ضرورت کا تمام اناج فراہم کیا ۔ 13 قحط سالی اپنی شدید ترین حالت کو پہنچ چکی تھی ۔ ملک میں کسی جگہ اناج نہ رہا ۔ مصر اور کنعان اس بُرے وقت کی وجہ سے غریب ملک ہو گئے ۔ 14 مصر اور کنعان کے لوگ اناج خرید لئے ۔ یوسف نے کفایت شعاری سے رقم بچا کر فرعون کے خزانے میں داخل کرایا ۔ 15 کچھ وقت گذرنے کے بعد، مصر اور کنعان کے باشندوں کے پاس روپیہ پیسہ نہ رہا ۔ جس کی وجہ سے مصر کے لوگ یوسف کے پاس جا کر کہنے لگے کہ برائے مہربانی ہمارے لئے اناج فراہم کریں۔ کیونکہ ہمارے پاس اب کو ئی پیسہ باقی نہ رہا ۔ اور کہنے لگے کہ اگر ہمیں کھانا نہ ملا تو ہم تیرے سامنے ہی مر جا ئیں گے ۔ 16 اُن کی اُس بات پر یوسف نے جواب دیا کہ اگر تم نے اپنے جانوروں کو مجھے دیدیا تو میں تمہیں اناج دوں گا ۔ 17 جس کی وجہ سے لوگوں نے اپنے گھو ڑے، بھیڑوں کے جھنڈ، مویشی اور گدھے دئیے اور اناج حاصل کئے ۔ اُس سال یوسف نے اُن کو اناج دیا اور اُن سے ان کے جانوروں کو لے لئے۔ 18 لیکن اگلے سال اناج خریدنے کے لئے لوگوں کے پاس نہ جانور رہے اور نہ ہی کو ئی چیز ۔ جس کی وجہ سے لوگ یوسف کے پاس گئے اور کہا ، " تو جانتا ہے کہ ہمارے پاس روپیہ پیسہ نہیں ہے اور ہمارے سبھی جانور بھی تیری تحو یل میں ہے۔ اس کے علا وہ اب ہمارے پاس کچھ با قی نہ رہا سوائے ہما رے جسموں اور زمین کے ۔ 19 یقیناً ہم تیری نظروں کے سامنے ہی مر جا ئیں گے ۔ اگر تو ہمیں اناج نہ دیا تو ہم فرعون کو اپنی زمین دے دینگے اور اُس کے خادم بن کر رہیں گے۔ بونے کے لئے ہمیں بیج بھی دیدے تو تب ہم زندہ رہ سکیں گے ہم مریں گے نہیں۔ اور انہوں نے کہا ،" اس طرح زمین بھی ویران نہیں ہو گی ۔" 20 جس کی وجہ سے یوسف نے مصر کی ساری زمین کو فرعون کے لئے خرید لی ۔ مصر کے سارے لوگوں نے بھوُ کمری اور اِفلاس سے اپنی تما م زمین یوسف کو بیچ دئیے ۔ 21 مصر کے تمام لوگ فرعون کے اطاعت گذار ہو گئے ۔ 22 یوسف نے صرف کا ہنوں کی زمینوں کو نہیں خریدی تھی ۔ کیوں کہ کاہنوں کو زمین فروخت کر نے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو ئی ۔ کیوں کہ فرعون نے اس کے کام کے لئے تنخواہ کے طور پر کا فی کچھ کھانے کے لئے دیا تھا۔ 23 یوسف نے لوگوں سے کہا کہ میں نے اب تم کو اور تمہا ری زمینات کو فرعون کے حق میں خرید لی ہے ۔ جس کی وجہ سے اب میں تمہیں بیچ دوں گا ۔ اور اب تم اپنی اپنی زمینوں میں تخم ریزی کر نا ۔ 24 جب فصل کاٹنے کا زمانہ آئے گا تو کٹی فصل کا پانچواں حصّہ فرعون کا ہو گا ۔ اور اُس سے بچے ہو ئے چار حصے تم اپنے لئے رکھ لینا ۔ اور بطور غذا اپنے پاس رکھے جانے وا لے بیج کو تم اگلے سال بغرض تخم ریزی بھی استعما ل کر سکتے ہو۔ اور کہا کہ اِس طرح تم اپنے اہل خاندان اور اپنے بچوں کی پرورش بھی کر سکتے ہو۔ 25 تب لوگوں نے ا ُ س سے کہا کہ آپ نے تو ہما ری زندگیوں کو بچا ئی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ (ایسی صورت میں) ہم بخوشی فرعون کے اطاعت گذار بنے رہیں گے ۔ 26 یہی وجہ ہے کہ یوسف نے ایک قانون بنا یا ۔ اور وہ آج بھی رواج میں ہے اُس قانون کی روشنی میں وہ یہ کہ زمین کی پیداوار سے پانچواں حصّہ فرعون کا ہو گا ۔( اِس کا یہ مطلب ہو گا کہ ) فرعو ن ہی ساری زمینات کا حقیقی مالک ہو گا ۔ البتہ صرف کا ہنوں کی زمین اُس (قانون )سے مستثنیٰ ہو گی ۔ 27 اسرائیل مصر کے جشن کے علاقے میں سکونت پذیر تھا۔ اس کا خاندان تیزی سے پھیل گیا ۔ اس نے مصر میں زمین حاصل کی ۔ 28 یعقوب مصر میں سترہ سال زندہ رہے ۔ تب یعقوب کی کل عمر ایک سو سینتا لیس برس ہو ئی ۔ 29 اسرائیل کی موت کا وقت قریب آن پہنچا ۔ جب اُن کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ میں اب مرنے وا لا ہوں تو اُنہوں نے اپنے بیٹے یوسف کو بُلا یا اورکہا کہ ، اگر تُو مجھ سے محبت کرتا ہے تو میری ران کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ کر قسم کھا کہ میرے کہنے کے مطا بق عمل کرنا اور مجھے قابل بھروسہ تسلیم کر تے ہو ئے حلف لے ۔ اور جب میں مرجا ؤں تومصر میں مجھے دفن نہ کرنا ۔ 30 میرے آباء اجدا دکی قبروں کی جگہ ہی میری بھی قبر بنا نا ۔ کہا کہ اور مجھے مصر سے اٹھا لے جا نا اور ہما رے قبیلہ کے قبرستان ہی میں مجھے دفن کر نا ۔ یوسف نے وعدہ کیا کہ ہاں آپ کے کہنے کے مطا بق ہی عمل کروں گا ۔ 31 کیونکہ یعقوب نے کہا ، " مجھ سے وعدہ کر ۔" جس کی وجہ سے یوسف نے اُس سے وعدہ کیا کہ وہ ویسا ہی کرے گا ۔ تب اسرا ئیل اپنے بستر پر پھر سے اپنا سر جھُکا کر خدا کا فرمانبردار ہوا ۔

Genesis 48

1 کچھ عرصہ گزرنے کے بعد، یوسف کو یہ بات معلوم ہو ئی کہ اُن کا باپ علیل ہے ۔ اس وجہ سے وہ اپنے دونوں بیٹوں منسّی اور افرائیم کو ساتھ لیکر اپنے باپ کے پاس آیا ۔ 2 جب یوسف آیا تو کسی نے اِسرائیل سے کہا کہ تیرا بیٹا یو سف تجھ سے ملنے آیا ہے ۔ تب وہ بہت کمزور ہو نے کے باوجود زحمت گوارہ کر تے ہو ئے بستر پر بیٹھ گئے ۔ 3 تب یعقوب نے یو سف سے کہا کہ خدا قادر مطلق مجھے ملک کنعان کے مقام لُوز پر دکھا ئی دیا تھا ۔ خدا نے مجھے خیر و برکت عطا کی ۔ 4 خدا نے مجھ سے کہا کہ میں تجھے بہت سی اولاد دونگا ۔اور تیری نسل کے لوگ کئی قوموں میں بٹ جائیں گے ۔اور کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک مستقل اور دائمی طور پر دوں گا۔ 5 اب تو تیرے صرف دو بیٹے ہیں ۔میرے مصر میں آمد سے پہلے ہی وہ یہاں پیدا ہو ئے تیرے دو بیٹے منسّی اور افرائیم میرے بچّوں ہی کی طرح ہیں۔ وہ میرے لئے تو روبن اور شمعون کی مانند ہیں ۔ 6 اس لئے یہ دونوں بچّے میرے لئے بیٹوں کی طرح ہوں گے ۔ وہ بھی اپنے اپنے بھا ئیوں کے ساتھ وراثت پائینگے۔ اگر تیرے کو ئی اور دوسرے بیٹے ہیں تو وہ افرائیم اور منسّی 7 فدان ارام سے واپس لو ٹتے ہو ئے کنعان کے ملک میں راخل کی موت اس وقت واقع ہو ئی جب ہم افرات شہر کی طرف سفر کر رہے تھے ۔ تو میں نے اسے راستہ ہی میں دفن کر دیا ۔( افراء ت کے معنیٰ بیت اللحم ہیں) 8 تب اسرائیل نے یوسف کے بچوں کو دیکھ کر پو چھا کہ یہ بچے کون ہیں ؟ 9 یوسف نے اپنے باپ سے کہا ، " یہ تو میرے بچّے ہیں ۔ خدا نے مجھے جو لڑ کے دیئے ہیں وہ یہی ہیں ۔" اسرائیل نے اس سے کہا ، " اُن کو میرے قریب لا ؤ تا کہ میں اُن کو دعا دوں ۔" 10 اسرائیل بہت بوڑھا اور کمزور ہو گیا تھا ۔ اسے ٹھیک سے نظر بھی نہ آتا تھا ۔ اس لئے یوسف نے بچوں کو اپنے باپ کے سامنے بلا یا ۔تب اسرائیل نے بچّوں کو گلے لگایا اور پیار سے بوسہ دیا ۔ 11 پھر اسرائیل نے یوسف سے کہا کہ میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ دوبارہ تیری صورت دیکھوں گا ۔ لیکن خدا نے مجھ پر مہر بانی کی اس لئے میں تجھے اور تیرے بچوں کو دیکھ سکا ۔ 12 تب یوسف نے اسرائیل کی گود سے اپنے بچّوں کو اُٹھا لیا ۔ تب وہ اسرائیل کے سامنے جھک کر آداب بجا لا ئے ۔ 13 یوسف نے افرائیم کو اپنی داہنی جانب اور منسّی کو اپنی بائیں جانب بٹھا یا ۔ ( جس کی وجہ سے افرائیم اسرائیل کی بائیں جانب اور منسّی دائیں جانب ہو ئے ۔ ) 14 لیکن اسرائیل نے اپنا داہنا ہاتھ چھو ٹے لڑ کے افرائیم کے سر پر رکھا اور اپنا بایاں ہاتھ بڑے لڑ کے منسّی کے سر پر رکھا ۔ منسّی بڑا بیٹا ہو نے کے با وجود اسرائیل نے اس کے سر پر بایاں ہاتھ ہی رکھا ۔ 15 تب اسرائیل نے یوسف کو دُعا دی اور کہا ،" میرے آباؤ اجداد ابراہیم اور اسحاق نے ہمارے خدا کی عبادت کی خدا نے میری زندگی بھر رہنمائی کی ۔ 16 میری تمام تکالیف سے میری حفاظت کر نے والا فرشتہ وہی ہے ۔ اِن بچّوں کو دعائے خیر دینے کے لئے میں اسکی ( خدمت میں ) دعا کر تا ہوں ۔ آج سے یہ بچّے میرا نام روشن کریں گے ۔ میرے آباؤ اجداد ابراہیم و اسحاق کا نام پیدا کریں گے ۔ اور زمین پر پھیل کر ایک بڑا قبیلہ ہو نے اور ایک بڑی قوم بننے کے لئے میں دعا کروں گا ۔ " 17 اسرائیل کا اپنا داہنا ہاتھ افرائیم کے سر پر رکھنے کی وجہ سے یہ بات یوسف کو نا گوار گزری اور اس نے اپنے باپ کے ہاتھ کو پکڑ لیا ۔ اور وہ چاہتا تھا کہ اپنے باپ کے ہاتھ کو افرائیم کے سر پر سے اٹھا کر منسّی کے سر پر رکھے۔ 18 یوسف نے کہا ، " نہیں ابّا جان ! منسی پہلو ٹھا بیٹا ہے ۔ اپنا داہنا ہاتھ اس کے سر پر رکھئے ۔" 19 اُس پر اُس کے باپ نے کہا کہ مجھے معلوم ہے بیٹے ، مجھے معلوم ہے کہ منسی ہی پہلے پیدا ہوا (پہلو ٹھا ) ہے ۔ اور وہ ایک عظیم شخص بنے گا ۔ اور وہ بہت سے لوگوں کا باپ بنے گا ۔ لیکن چھو ٹا بھا ئی بڑے بھا ئی سے بھی عظیم تر شخصیت کا مالک ہو گا ۔ اور کہا کہ اُس کا قبیلہ بھی پھیل کر بہت بڑا ہو گا ۔ 20 اس دن اسرائیل نے ان کو دعائے خیر سے نوازا اور کہا ، " بنی اسرائیل یہ کہکر دوسروں کو دعا دیگا ،' خدا تجھے افرائیم اور منسّی کی مانند بنائے ۔ " اس طرح اسرائیل نے افرائیم کو منسّی سے بڑا بنا دیا ۔ 21 تب اسرائیل نے یوسف سے کہا کہ دیکھ میری موت کا وقت قریب آن پہنچا ہے ۔ لیکن اب بھی خدا تیرے ساتھ ہے ۔ وہ تجھے تیرے آباؤ اجداد کے ملک کو واپس لو ٹا ئے گا ۔ 22 میں نے تیرے بھا ئی کو جو حصہ دیا ہے ، اس سے کہیں بڑھکر کو ئی دوسری چیز میں نے تجھے دی ہے ۔ اور میں نے اموریوں سے جس پہاڑ کو جیتا ہے وہ تجھے دیتا ہوں ۔ اور کہا کہ میں نے اس پہاڑ کو ان سے تلواروں اور تیروں سے لڑ تے ہو ئے اپنے قبضہ میں لیا ہے ۔ "

Genesis 49

1 پھر یعقوب نے اپنے بیٹوں کو اپنے پاس بُلا یا اور ان سے کہا کہ اے میرے تمام بیٹو! میرے پاس آؤ۔ اور میں تمہیں وہ باتیں بتا ؤں گا جو پیش آنے وا لی ہیں۔ 2 " اے یعقوب کے بیٹو ، سب ایک ساتھ آکر بیٹھو۔ اور کہا کہ اپنے باپ اسرائیل کا کہنا سُنو۔" 3 " اے روبن تو میرا پہلو ٹھا بیٹا ہے ۔ تو ہی میرا پہلا بچہ ہے ۔ اس لئے تو میرے تمام بیٹوں سے طاقتور اور قابل عزت ہے ۔ 4 لیکن تو کناروں سے اوپر بہتے ہو ئے پانی کی طرح بے قابو ہے ۔ اس لئے تمہیں پہلی جگہ نہیں ملے گی ۔ جس عورت کی شادی تیرے باپ سے ہو ئی تھی اس عورت کے ساتھ تو ہمبستر ہوا ۔ تو اپنے باپ کی عزت کو بحال نہ رکھا ۔" 5 " شمعون اور لا وی دونوں بھا ئی ہیں۔ وہ دونوں تلوا روں سے لڑ نے کو پسند کر تے ہیں۔ 6 وہ دونوں خفیہ طور پر بُرے کاموں کو کرنے کے منصوبہ بنا ئے ۔ ا ن کی پوشیدہ محفلوں کو میری جان قبول نہیں کر تی ۔ جب وہ غصّہ ہو ئے تو آدمیوں کو قتل کر ڈا لے ۔ وہ بِلا کسی وجہ کے جانوروں کو مار ڈا لے ۔ 7 اُن کا غصّہ ہی اُن کے لئے لعنت بنا کیوں کہ اُن کا غصّہ بہت سخت ہے ۔ وہ یعقوب کی زمین میں بٹ جا ئیں گے اور اسرائیل میں پھیل جا ئیں گے ۔" 8 " اے یہوداہ تیرے بھا ئی تیری تعریف کریں گے ۔ تو اپنے دُشمنوں کو شکست دیگا ۔ اور تیرے بھا ئی تیرے لئے جھک جا ئیں گے ۔ 9 یہوداہ ایک شیر کی طرح ہے ۔ اے میرے بیٹے تو ا س شیر کی طرح ہے کہ جس نے ایک جانور کو مار دیا ۔ اے میرے بیٹے تو ایک شیر کی طرح شکار کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے ۔ یہوداہ شیر کی مانند ہے ۔ وہ سو کر آرام کر تا ہے اور اُسے چھیڑ نے کی کسی میں ہمت نہیں۔ 10 وہ شاہی قوت کو اپنے ہاتھ میں رکھے گا جب تک کہ وہ آ نہیں جاتا جو اس کا جانشیں ہو گا ۔ دوسری قوموں کے لو گ ان کی فرمانبردار ی کرینگے۔ 11 وہ اپنے گدھے کو انگور کی بیل سے باندھے گا ۔ اور اپنے گدھے کے بچے کو عمدہ قسم کی انگور کی بیل سے باندھے گا وہ اعلیٰ درجہ کی انگوری مئے سے اپنے کپڑے دھو ئے گا ۔ 12 اس کی آنکھ مئے کی طرح سُرخ ہو گی ۔ اور اس کا دانت دودھ کے مانند سفید ہو گا ۔" 13 " زبولون سمندری ساحل پر سکونت پذیر ہو گا ۔ سمندر کا کنارہ اُس کے جہازوں کے لئے ایک محفوظ جگہ ہے اس کا ملک صیدا تک پھیلے گا۔" 14 " اِشکار بہت سخت محنت کر نے وا لے گدھے کی مانند ہو گا ۔ وہ بہت بھاری اور وزنی بوجھ اٹھا نے کی وجہ سے سو کر آرام کریگا ۔ 15 وہ اپنے مکمل آرام کے لئے سہولت بخش اور پُر امن و پُرسکون مقام کا انتخاب کریگا ۔ وہ وزنی بوجھ اُٹھا نے کے لئے اور ایک نوکر کی طرح کام کر نے کے لئے ذمّہ داری کو قبول کریگا ۔" 16 " اِسرائیل کے دوسرے خا ندانوں کی طرح دان بھی اپنے خاص لوگوں کے لئے فیصلہ دیگا ۔ 17 دان راستے کے کنا رے پر پڑا ہوا سانپ کی مانند ہو گا ۔ وہ اس سانپ کی مانند ہے جو کہ گھو ڑا کے پیر پر کاٹتا ہے اور سوار گر جا تا ہے ۔ 18 " اے خداوند میں تیری نجات کا منتظر ہوں۔" 19 " لٹیروں کی ایک ٹولی جاد کے اُوپر حملہ آور ہو گی ۔ لیکن جاد اُن کا پیچھا کر کے اُنکو بھگا دے گا ۔" 20 " آشر کی زمین عمدہ قسم کا اناج اُگا ئے گی ۔ بادشاہ کی حسب ضرو ر ت عمدہ اناج اُس کے پاس ہو گا ۔" 21 " نفتا لی آزادانہ دوڑنے وا لی ہرن کی مانند ہے ۔ وہ اس ہرن کی مانند ہے جو خوبصورت بچہ کو جنم دیتی ہے ۔" 22 " یوسف بہت کامیاب ہے ۔ اور یوسف زیادہ میوہ دینے وا لی انگور کی بیل کی مانند ہے ۔ وہ موسم بہار میں ہو نے وا لی انگور کی بیل کی مانند ہے ۔ وہ دیوار پر پھیلی ہو ئی انگور ی بیل کی مانند ہے ۔ 23 کئی لوگوں نے اُس کے خلاف ہو کر اُس سے لڑا ئی جھگڑا کیا ہے ۔ تیر انداز اُس کے دُشمن ہوگئے۔ 24 لیکن انہوں نے اپنے منجھے ہو ئے با زوؤں کی بنا پر جو یہ جانتا ہے کہ کمان کے ساتھ لڑا ئی کیسے کی جا تی ہے لڑا ئی جیت لی ۔ وہ طا قت کو یعقوب کی جواں مردی سے اور اسرائیل کی چٹان اور چروا ہے سے ، 25 اور اپنے باپ کے خدا سے حاصل کرے گا ۔ خدا تیرے لئے خیر و برکت دیگا ۔ خدا قادر مطلق تیرے لئے خیر و برکت دے ۔ وہ بلند و بالا آسمان سے تیرے لئے خیر و برکت دے ۔ اور وہ نیچے گہرے سمندر سے تیرے لئے خیر و برکت دے ۔ " وہ تجھے چھا تیوں اور رحم سے خیر و برکت عطا کرے ۔ 26 میں تمہیں دُعا دونگا جو کہ ہمیشہ رہنے والی پہاڑیوں سے زیادہ مضبوط اور ہمیشہ رہنے والی پہاڑی سے زیادہ فراوانی بخش ہو گی ۔ 27 " بنیمین بھو کے بھیڑیئے کی مانند ہے ۔ وہ صبح کے وقت میں پھاڑ کھا ئے گا اور شام بچے ہو ئے کو بانٹ دیگا ۔ " 28 یہ اسرائیل کے بارہ قبیلے ہیں ۔ اِن تمام باتوں کو اُن کے باپ اسرائیل نے ان سے بیان کیا ۔ اس نے اپنے ہر بیٹے کو مناسب و موزوں دعائیں دیں ۔ 29 اس کے بعد اسرائیل نے ان کو یہ حکم دیا اور کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میں اپنے آباؤ اجداد کے پڑوس میں رہنے کو پسند کروں گا ۔ مجھے وہاں دفناؤ جہاں میرے آباؤ اجداد کی غار عفرون حتّی کے کھیت میں ہے ۔ 30 وہ غار ملک کنعان میں ممرے کے نزدیک مکفیلہ کے کھیت میں ہے ۔ ابراہیم نے اس جگہ کو قبرستان کے لئے عفرون حتّی سے خرید لی تھی ۔ 31 ابراہیم اور اس کی بیوی سارہ کی اسی گھا ٹی میں قبر بنائی گئی ہے ۔ اسحاق اور ربقہ بھی اسی جگہ مدفون ہیں۔ میں نے اپنی بیوی لیاہ کو وہیں دفن کیا ہے ۔ 32 اور کہا کہ اس غار اور غار والے کھیت کو حتّیوں سے خریدا گیا ہے ۔ 33 یعقوب اپنے بیٹوں سے بات کر نے کے بعد اپنے بستر پر اپنے پیروں کو سمیٹتے ہو ئے وفات پا گئے ۔

Genesis 50

1 اسرائیل کی جب وفات ہو ئی تو یوسف بہت غمگین ہوا ۔ وہ اپنے باپ سے لپٹ گیا اور رو رو کر اسکے چہرے کو چُو ما ۔ 2 یو سف نے ان طبیبوں کو جو کہ انکی خدمت انجام دیا کرتے تھے اپنے باپ کی لاش کو تیّار کر نے کا حکم دیا ۔ ان طبیبوں نے اسرائیل ( یعقوب ) کی لاش کو دفن کے لئے تیار کیا ۔ 3 اہل مصر نے اس لاش کو خاص طریقہ (ادویات وخوشبو) سے چالیس دن میں تیّار کیا ۔ تب مصر والے یعقوب کی موت پر ستّر دن تک ماتم کئے ۔ 4 ستّر دن گزر نے کے بعد یوسف نے فرعون کے عہدے داروں سے کہا کہ برائے مہربانی یہ بات فرعون کو معلوم کراؤ ۔ 5 میں نے اپنے باپ سے ان کے مر تے وقت ان سے ایک وعدہ کیا تھا وہ یہ کہ میں اس کو کنعان کی سر زمین کے ایک غار میں دفناؤں گا جس کو انہوں نے خود کے لئے تیّار کیا تھا ۔ اس لئے میں جاؤں گا اور اپنے باپ کی تدفین کروں گا ، اور کہا کہ پھر اس کے بعد لوٹ کر آپ کے پاس آجاؤں گا ۔ 6 فرعون نے جواب دیا کہ ( ہاں ٹھیک ہے ) تو اپنے وعدے کو پو را کر ۔ اور جاکر اپنے باپ کو دفن کر ۔ 7 تب یوسف اپنے باپ کو دفنانے کے لئے چلا ۔ اور فرعون کے تمام عہدیدار بھی یوسف کے ساتھ چلے ۔ فرعون کے سردار اور مصر کے معزّز ین رؤساء بھی یوسف کے ساتھ چلے ۔ 8 یوسف کے خاندان کے لوگ اور اسکے بھا ئی اسکے ساتھ چلے ۔ اور اسکے باپ کے خاندان والے بھی یوسف کے ساتھ چلے ۔ صرف بچّے اور جانور ہی جشن کے علا قے میں رہ گئے ۔ 9 گھوڑ سوار اور رتھ بھی یوسف کے ساتھ گئے یہ ایک بہت بڑا مجمع تھا ۔ 10 اور وہ گورین آتد مقام پر آئے اور وہ یردن ندی کے مشرق میں تھا ۔ اس مقام پر وہ بہت دیر تک ماتم کر تے رہے ۔ اور اس ماتم کا سلسلہ سات دنوں تک چلتا رہا ۔ 11 کنعان کے لوگ گورین آتد میں ماتم ہو تا ہو ا دیکھ کر کہنے لگے کہ مصر کے لوگ دل کو بہت دکھا نے والا ماتم کرتے ہو ئے تدفین کر 12 اس طرح یعقوب کے بیٹوں نے اپنے باپ کی وصیّت کے مطا بق ہی کیا ۔ 13 وہ اسکی لاش کو ملک کنعان میں لے گئے ، اور وہاں ممرے کے نزدیک مکفیلہ کے غار میں اس کو دفن کئے ۔ اور اس غار کی جگہ کو ابراہیم نے حتّی عفرون سے قبرستان کی جگہ کے لئے خرید لی تھی ۔ 14 باپ کو دفنانے کے بعد یوسف اور اسکے بھا ئی اور وہ سب لوگ جو اسکے ساتھ گئے ہو ئے تھے مصر واپس آ گئے ۔ 15 یعقوب کی وفات کے بعد یوسف کے بھا ئی ( خوف سے ) بے چین ہو ئے ۔ اور وہ آپس میں باتیں کر نے لگے کہ ہم نے یوسف کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کیا تھا اس کے بدلے میں شاید وہ ہمارے ساتھ دشمنی کرے گا ۔ 16 جس کی وجہ سے بھا ئیوں نے یوسف کو یہ پیغام بھیجا : تیرا باپ مر نے سے پہلے ہمیں تم کو ایک پیغام بھیجنے کا حکم دیا تھا ۔ 17 اس نے کہا تھا تم یوسف کو یہ پیغام پہنچا دینا ۔ ' برائے مہر بانی تم اپنے بھائیوں کو ان کے بُرے کا موں کے لئے جو کہ انہوں نے تیرے لئے کیا ہے معاف کر دے ۔ وہ لوگ تیرے باپ کے خدا کا خادم ہے۔ ان تمام واقعات کو وہ سُن کر وہ بہت افسردہ ہو گیا اور رو پڑا ۔ 18 یوسف کے بھا ئی اس کے سامنے جا کر جھک گئے ، اور کہنے لگے کہ ہم تیرے خادم و فر ماں بردار ہیں۔ 19 تب یوسف نے اُن سے کہا کہ گھبراؤ مت ۔ میں تو خدا نہیں ہوں۔ 20 تم میری بُرائی کر تے ہو ئے مجھے نقصان پہنچانے کی سو چے تھے ۔ لیکن خدا نے بھلا ہی کیا ہے ۔ بہت سے لوگوں کی جان بچانے کے لئے مجھے ذریعہ بنانا خدا کا منشاء ہے۔ 21 اس لئے تم گھبراؤ مت ۔ میں تمہا ری اور تمہا رے بچو ں کی بھی پرورش کروں گا ۔ یوسف نے جو کہا اس سے ان لوگوں کو تسّلی ملی ۔ 22 یوسف اپنے باپ کے سارے کنبہ کے ساتھ مصر ہی میں سکونت پذیر ہوا ۔ اور یوسف ایک سو دس برس کی عمر میں وفات پا ئی ۔ 23 یوسف کے بیٹے منسّی کو مکیر نام کا ایک بیٹا تھا ۔ یوسف اتنا دن زندہ رہا کہ وہ افرائیم کے بچوں اور پوتوں اور مکیر کے بھی بچوں کو دیکھ لیا ۔ 24 یوسف کی موت کا وقت جب قریب آن پہنچا تو اُس نے اپنے رشتہ داروں سے کہا ، " میری موت کا وقت قریب ہے ۔ لیکن تمہیں اس بات کا یقین رہے کہ خدا تمہا را خیال رکھے گا ۔ وہ تمہیں اس ملک سے با ہر لے جا ئے گا ۔ تمہیں وہ ملک دیگا جس کا ابراہیم ، اِسحاق اور یعقوب سے وعدہ کیا تھا۔" 25 تب یوسف نے اُن سے کہا ،" خدا جب تمہیں اِس ملک سے با ہر لے جا ئے گا تو تم مجھ سے اِ س بات کا وعدہ کرو کہ تم اُس وقت اپنے ساتھ میری ہڈیاں بھی لے جانا ۔" 26 یوسف جب ایک سو دس برس کا ہوا تھا تب وفات پا ئی ۔ مصر میں اطباء اور حکماء نے اُس کی تدفین کے لئے اُس کے بدن کو ادویات و خوشبو سے تیار کیا ۔ اور لاش کو تا بوت میں اُتارا گیا ۔

Exodus 1

1 یعقوب (اِسرائیل) نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مصر کا سفر کیا تھا۔ ہر ایک بیٹے کے ساتھ اس کا اپنا خاندان تھا ۔ اسرائیل کے بیٹوں کے نام یہ ہیں : 2 رُو بن ،شمعون ، لاوی ، یہوداہ ، 3 اشکار،زبولون ، بنیمین ، 4 دان،نفتالی ، جاد،آشر،۔ 5 کل ملا کر ستّر لوگ تھے جو کہ یعقوب کی اپنی نسل سے تھے ۔ (یوسف جو کہ بیٹوں میں سے بارہواں بیٹا تھا لیکن وہ پہلے ہی مصر میں تھا ۔ ( 6 بعد میں یوسف اس کے سب بھا ئی اور اسکی نسل کے سب لوگ مر گئے ۔ 7 لیکن بنی اسرائیلیوں کی بہت ساری اولا دیں تھیں اور انکی تعداد بڑھتی ہی گئی ۔ اور یہ لوگ طاقتور ہو گئے اور ملک ان لوگوں سے بھر گیا ۔ 8 تب ایک نیا بادشاہ مصر پر حکو مت کر نے لگا ۔ یہ شخص یوسف کو نہیں جانتا تھا ۔ 9 اس بادشاہ نے اپنے لوگوں سے کہا ،" بنی اسرائیلیوں کو دیکھو اِن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہم لوگوں سے زیادہ طا قتور ہیں ۔ 10 ہم لوگوں کو ایسا منصوبہ بنا نا چاہئے کہ اسرائیل اور زیادہ طا قتور نہ ہوں ۔ اگر جنگ ہو تو بنی اسرائیل ہمارے دشمنوں میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ پھر وہ ہم کو شکست دے سکتے ہیں اور ہمارے ملک سے بچ نکل سکتے ہیں ۔ " 11 مصر کے لوگوں نے طے کیا کہ بنی اسرائیلیوں کی زندگی کو مشکل بنا دیں ۔ اس لئے انہوں نے اسرائیل کے لوگوں پر غلام آقاؤں کو مقرر کیا ۔ ان آقاؤں نے اسرائیلیوں پر دباؤ ڈا لا کہ بادشاہ کے لئے شہر پتوم اور رعمیس بنائیں ۔ فرعون ان شہروں کو اناج کے ذخیرہ اور دوسری چیزوں کے لئے استعمال کرتا تھا ۔ 12 مصر کے لوگوں نے اسرائیلیوں کو سخت سے سخت کام کر نے پر مجبور کیا ۔ لیکن جتنا زیادہ سخت کام کر نے کے لئے اسرائیلیوں کو مجبور کیا گیا انکی تعداد اتنی ہی بڑھتی گئی ۔اور مصری لوگ اسرائیلی لوگوں سے دہشت کھا نے لگے ۔ 13 اس لئے مصریوں نے اسرائیلیوں کو اور زیادہ سخت محنت کر نے پرمجبور کیا ۔ 14 مصری لوگوں نے بنی اسرائیلیوں کی زندگی کو دوبھر کر دیا تھا ۔ انہوں نے اسرائیلی لوگوں کو اینٹ اور گارا بنا نے جیسے سخت کام کر نے کے لئے مجبور کیا ۔ انہوں نے انہیں کھیتوں میں بھی بہت سخت محنت کر نے کے لئے دباؤ ڈا لا ۔ وہ جو کچھ بھی کر تے تھے ان کے ساتھ مصری لوگ اور زیادہ سختی کر تے تھے ۔ 15 وہاں دو دائیاں تھیں جن کے نام سِفرہ اور فوعہ تھے ۔ یہ دو دائیاں عبرانی عورتوں کو وضع حمل کے دوران مدد کی تھی ۔ مصر کے بادشاہ نے دائیوں سے بات کی ۔ 16 ‎بادشاہ نے کہا ، " تم عبرانی عورتوں کو وضع حمل میں مدد کر تی رہو گی اگر لڑ کی پیدا ہو تو اسے زندہ رہنے دینا لیکن اگر لڑ کا پیدا ہو تو تمہیں اس کو مارڈالنا چاہئے ۔ " 17 لیکن دائیوں نے خدا پر بھروسہ کیا۔ اس لئے انہوں نے بادشاہ کے حکم کو نہیں مانا انہوں نے تمام لڑ کوں کو زندہ رہنے دیا ۔ 18 مصر کے بادشاہ نے دائیوں کو بلایا اور ان سے کہا ، " تم لوگوں نے ایسا کیوں کیا ۔ تم لوگوں نے لڑ کوں کو کیوں زندہ رہنے دیا ؟ " 19 دائیوں نے بادشاہ سے کہا ، " عبرانی عورتیں مصری عورتوں سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ وہ ہمارے جانے سے پہلے جَن کر فارغ ہو جاتی ہیں ۔ " 20 ‎خدا دائیوں سے خوش تھا کیوں کہ وہ خدا سے ڈر تی تھیں اس لئے خدا انکے ساتھ اچھا رہا ۔ اور انکو اپنا خاندان بڑھا تے رہنے دیا ۔ اس طرح سے عبرانی لوگوں کی تعداد کا فی بڑھ گئی اور وہ بہت زیادہ طاقتور ہو گئے ۔ 21 22 اس لئے فرعون نے اپنے تمام لوگوں کو یہ حکم دیا : " جب کبھی لڑ کا پیدا ہو تب تم اسے دریائے نیل میں پھینک دو لیکن تمام لڑ کیوں کو زندہ رہنے دو ۔ "

Exodus 2

1 لاوی کے خاندان کا ایک آدمی وہاں تھا ۔ اس نے لاوی کے خاندا ن کی عورت سے شادی کی تھی ۔ 2 عورت حاملہ ہو ئی اور اس نے ایک لڑ کے کو پیدا کیا ۔ ماں نے دیکھا کہ لڑ کا بہت خوبصورت ہے اس لئے اس نے اسے تین ماہ تک چھپا کر رکھا ۔ 3 جب وہ اسکو اور زیادہ چھپا نہ سکی تو اس نے ایک ٹوکری بنائی اور اس پر تارکول کا لیپ اس طرح چڑھا یا کہ وہ تیر سکے ۔ اس نے بچے کو ٹوکری میں رکھ دیا اور ٹوکری کو ندی کے کنارے لمبی گھاس میں رکھ دیا ۔ 4 بچے کی بہن کچھ دور کھڑی ہو گئی کیوں کہ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ بچّہ کے ساتھ کیا واقعہ ہو گا ۔ 5 اسی وقت فرعون کی بیٹی نہانے کے لئے ندی پر گئی اس کی خادمہ عورتیں ندی کے کنارے ٹہل رہی تھیں اس نے لمبی گھاس میں ٹوکری دیکھی اور اس نے خادماؤں میں سے ایک کو ٹوکری لا نے کے لئے کہا ۔ 6 بادشاہ کی بیٹی نے ٹوکری کو کھو لا اور چھو ٹے بچّے کو دیکھا بچّہ رو رہاتھا اور اُس کو دیک کر دُکھ ہوا ۔ اُس نے کہا یہ عبرانی بچّوں میں سے ایک ہے ۔ 7 بچّہ کی بہن ابھی تک چھپی ہو ئی تھی تب وہ کھڑی ہو ئی اور فرعون کی بیٹی سے بولی ، " کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں بچّے کی نگہداشت کرنے کے لئے ایک عبرانی عورت ڈھونڈ لا ؤں ؟" 8 فرعون کی بیٹی نے کہا ،" ہاں مہر بانی ہوگی "اِس لئے لڑ کی گئی اور بچّہ کی حقیقی ماں کو لے آئی ۔ 9 فرعون کی بیٹی نے ماں سے کہا ، " اِس بچّے کو لے جاؤ اور اُس کو میرے لئے پالو ۔ اِس بچّہ کو اپنا دودھ پِلاؤمیں تمہیں اِس کا معاوضہ دونگی ۔" اِس عورت ے اپنے بچّے کو لے لیا اور اُسکی نگہداشت کی ۔ 10 بچّہ بڑا ہوا اور کچھ عرصے بعد وہ عورت اُس بچّے کو فرعون کی بیٹی کے پاس لا ئی ۔فرعون کی بیٹی نے اس بچّہ کو اپنے بچّے کی طرح اپنا لیا ۔ فرعون کی بیٹی نے اسکا نام موسیٰ رکھا کیوں کہ اُس نے اُس کو پانی سے حاصل کیا تھا ۔ 11 موسیٰ بڑا ہوا اور جوان آدمی ہوگیا ۔ اس نے دیکھا کہ انکے لوگوں کو اتنا سخت کام کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔ ایک دن موسیٰ نے ایک مصری آدمی کو اپنے ایک عبرانی آدمی کو مارتے دیکھا ۔ 12 اس لئے موسیٰ نے چاروں طرف نظر ڈا لی اور دیکھا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تو موسیٰ نے مصری کو مار ڈا لا اور اُس کو ریت میں دفن کر دیا ۔ 13 اگلے روز موسیٰ نے دیکھا کہ دو عبرانی آدمی ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے موسیٰ نے دیکھا کہ ایک آدمی غلطی پر تھا موسیٰ نے اُس آدمی سے کہا ، " تم اپنے پڑوسی کو کیوں مار رہے ہو ؟" 14 اُس آدمی نے جواب دیا ، " کیا کسی نے کہا ہے کہ تم ہما رے حاکم اور منصف بنو ؟ نہیں! مجھے کہو کیا تم مجھے بھی اسی طرح مار ڈا لو گے جس طرح کل تم نے مصری کو مار ڈا لا ؟" تب موسیٰ ڈر گیا موسیٰ نے ا پنے آپ ہی سوچا ،" ہر ایک آدمی جانتا ہے کہ میں نے کیا کیا ۔" 15 فرعون نے سُنا کہ موسیٰ نے ایک مصری کو مارڈا لا ۔ اِس لئے اُس نے موسیٰ کو مارڈا لنے کا فیصلہ کیا لیکن موسیٰ فرعون کی پہنچ سے نکل گئے اور ملک مدیان چلے گئے ۔ 16 مدیان میں ایک کاہن تھا جس کی سات بیٹیاں تھیں۔ وہ لڑکیاں ایک دن اپنے باپ کی بھیڑوں کے لئے پانی لینے اسی کنویں پر گئیں ۔ وہ ڈول سے پانی بھر نے کی کوشش کر رہی تھیں۔ 17 لیکن کُچھ چرواہوں نے ان لڑ کیوں کو بھگا دیا اور پانی لینے نہیں دیا ۔ اِس لئے موسیٰ نے لڑکیوں کو چرواہوں سے بچا یا ۔ اور اُن کے جانوروں کو پانی دیا ۔ 18 تب وہ اپنے باپ رعوایل کے پاس وا پس گئیں اُن کے باپ نے اُن سے پو چھا ، " آج تم لوگ گھر جلدی کیوں آگئیں؟" 19 لڑکیوں نے جواب دیا " چرواہوں نے ہم لوگوں کو بھگا نا چاہا لیکن ایک مصری آ دمی نے ہم لوگوں کو اُن لوگوں سے بچایا اور ہمارے جانوروں کو پانی دیا ۔" 20 اِس لئے رعوایل نے اپنی لڑ کیوں سے کہا ، " کہاں ہے وہ آدمی ؟ تم نے اُس کو کیوں چھوڑ دیا ؟ اُس کو یہاں بُلا ؤ اُس کو ہما رے ساتھ کھا نا کھانے دو ۔" 21 موسیٰ اُس آدمی کے ساتھ ٹھہرنے سے خوش ہو ئے اور اُس آدمی نے اپنی بیٹی صفورہ کو موسیٰ کی بیوی بنا کر اُس ے دیدیا ۔ 22 صفورہ حاملہ ہو ئی اور ایک لڑ کے کو جنم دیا ۔ موسیٰ نے اپنے بیٹے کا نام جیر سوم رکھا۔ موسیٰ نے اپنے بیٹے کا یہ نام رکھا کیونکہ اُس نے کہا ، " میں اس غیر ملک میں ایک اجنبی تھا ۔" 23 کا فی عرصہ گذرا اور مصر کا بادشا ہ مر گیا۔ بنی اِسرائیلیوں کو پھر بھی سخت محنت کر نے کے لئے مجبور کیا جاتا تھا ۔ وہ مدد کے لئے پُکا رتے تھے اور خدا نے اُن کی پکا ر سُن لی ۔ 24 خدا نے اُن کی دُعا ئیں سنیں اور اُس نے ا ُس معاہدہ کو یا د کیا جو اُس نے ابراہیم ، اِسحاق اور یعقوب سے کیا تھا ۔ 25 خدا نے بنی اِسرائیلیوں کی تکلیف کو دیکھا اُس نے سوچا کہ وہ جلد ہی ان کی مدد کریگا ۔

Exodus 3

1 موسیٰ کا سُسر یترو مدیان کا کا ہن تھا ۔موسیٰ یترو کی بھیڑو ں کی نگہبانی کر تا تھا ۔ ایک دن موسیٰ بھیڑو ں کو ریگستا ن کے مغربی جانب لے گیا ۔ اور حورِب نام کے پہاڑ کو گیا جو خدا کا پہاڑ تھا ۔ 2 خداوند کا فرشتہ موسیٰ پر آ گ کی شعلہ کی طرح ایک جھا ڑی میں ظا ہر ہوا ۔ جھا ڑی جل رہی تھی لیکن وہ جل کر بھسم نہیں ہو رہی تھی ۔ 3 اِس لئے موسیٰ نے فرما یا کہ جھا ڑی کے قریب جا ؤں گا اور دیکھوں گا کہ بغیر راکھ ہو ئے کوئی جھا ڑی کیسے جلتی رہ سکتی ہے ۔ 4 خداوند نے دیکھا کہ موسیٰ جھاڑی کو دیکھنے جا رہا ہے اِسلئے خدا نے جھا ڑی سے موسیٰ کو پُکا را خدا نے کہا ، " موسیٰ ،موسیٰ!" اور موسیٰ نے فرما یا ، " ہاں میں یہاں ہوں۔" 5 تب خداوند نے کہا ،" قریب مت آؤ اپنی جوتیاں اُتار لو تم مقدّس زمین پر کھڑے ہو ۔ 6 میں تمہا رے باپ دا دا کا خدا ہوں۔ میں ابراہیم کا خدا ، اِسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔" موسیٰ نے اپنا منہ ڈھانک لیا کیوں کہ وہ خدا کو دیکھنے سے ڈرتا تھا ۔ 7 تب خداوند نے کہا ، " میں نے اُن تکا لیف کو دیکھا ہے جنہیں مصر میں ہمارے لوگو ں نے سہا ہے ۔ اور میں نے اُن کے رونے کو بھی سُنا ہے جب مصری لوگ انہیں ضرر پہنچا تے ہیں۔ میں اُن کے دُکھ کے متعلق جانتا ہوں۔ 8 میں اب نیچے جا ؤں گا اور مصریوں سے اپنے لوگوں کو بچا ؤں گا ۔ میں اُنہیں اُس ملک سے نکا لوں گا اور اُنہیں میں ایک اچھے وسیع ملک میں لے جاؤں گا ایسا ملک جہاں دودھ اور شہد بہتا ہوں۔ اس ملک میں مختلف لوگ جیسے کنعانی ، حتّی، اموری ، فرزّی،حوّی، اور یبوسی رہتے ہیں۔ 9 میں نے بنی اسرائیلیوں کی پکا ر سنی ہے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ مصریوں نے کس طرح اُن کی زندگیوں کو دو بھر کر دیا ہے ۔ 10 اس لئے اب میں تم کو فرعون کے پاس اپنے لوگوں کو ، بنی اسرا ئیلیوں کو مصر سے با ہر لا نے کے لئے بھیج رہا ہوں۔" 11 لیکن موسیٰ نے خدا سے کہا ،" میں کو ئی عظیم آدمی نہیں ہوں! میں وہ آدمی کیسے ہو سکتا ہوں جو فرعون کے پاس جا ئے اور بنی اسرائیلیوں کو مصر سے با ہر نکال لا ئے ؟" 12 خدا نے کہا ، " تم یہ کر سکتے ہو کیوں کہ میں تمہا رے ساتھ رہو ں گا ۔ میں تم کو بھیج رہا ہوں بس یہی ثبوت ہو گا ۔ لوگوں کو مصر کے با ہر نکال لا نے کے بعد تم آؤگے اور اس پہاڑ پر میری عبادت کرو گے ۔" 13 تب موسیٰ نے خدا سے کہا ، " اگر میں بنی اسرا ئیلیوں کے پاس جا ؤں گا اور اُن سے کہوں گا ' تم لوگوں کے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہا رے پاس بھیجا ہے ، ' تب لوگ پو چھیں گے ، اُس کا کیا نام ہے ؟ میں اُن سے کیا کہوں گا ؟" 14 تب خدا نے موسیٰ سے کہا ، " تب ان سے کہو ، ' میں جو ہوں سو میں ہوں۔ ' جب تم بنی اسرائیلیوں کے پاس جا ؤ تو اُن سے کہو، ' میں جو ہوں ' خداوند نے مجھے تم لوگوں کے پاس بھیجا ہے ۔" 15 خدا نے موسیٰ سے یہ بھی کہا ، " لوگوں سے تم جو کچھ کہوں گے وہ یہ ہے :" یہواہ( خداوند)" تمہا رے باپ دادا کا خدا ، ابراہیم کا خدا ، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہے ۔ میرا نام ہمشہ یہواہ( خداوند) رہے گا ۔ اسی طرح لوگ مجھے صرف اسی نام کے ساتھ نسل در نسل یاد رکھیں گے ۔ لوگوں سے کہو خداوندنے مجھے تمہا رے پاس بھیجا ہے ۔" 16 خداوند نے یہ بھی کہا ، " جا ؤاور اسرائیل کے بزرگوں کو جمع کرو اور اُن سے کہو ، " یہواہ تمہا رے باپ دادا کا خدا ، ابراہیم کا خدا ، اسحاق کا خدا ، اور یعقوب کے خدا نے مجھ سے با تیں کیں۔ خداوند نے کہا ہے ، " میں نے تم لوگوں کو مصر میں تمہا رے ساتھ ہو نے وا لی ہر چیز سے بچانے کا فیصلہ کیا ہے ۔" 17 میں نے طئے کیا ہے کہ مصر میں تملوگ جو مصیبت اٹھا تے رہے ہو اس مصیبت سے تم لوگوں کو باہر نکا لوں گا ۔ اور تم لوگوں کو کنعانی ، حتّی ، اموری ، فرزّی ، حوّیوں اور یبوسیوں کے ملک میں لے جاؤں گا ۔ میں تم لوگوں کو ایسے اچھے ملک میں لے جاؤں گا جو اچھی چیزوں سے بھرا پڑا ہے ۔ 18 " بزرگ تمہا ری باتیں سنیں گے اور پھر تم اور اسرائیل بزرگ مصر کے بادشاہ کے پاس جا ؤ گے ۔ تم اُس سے کہو گے ، ' عبرانی لوگوں کا خدا، خداوند ہے ۔ ہما را خدا ہم لوگوں کے پاس آیا تھا اُس نے ہم لوگوں سے تین دن ریگستان میں سفر کر نے کے لئے کہا تھا ۔ وہاں ہم لوگ اپنے خداوند خدا کے لئے ضرور قربانی چڑھا ئیں گے ۔' 19 " لیکن میں جانتا ہوں کہ مصر کا بادشاہ تم لوگوں کو مصر چھوڑ کر جانے نہیں دیگا جب تک کہ ایک عظیم طاقت اسے ایسا کر نے پر مجبور نہ کرے ۔ 20 اِس لئے میں اپنی عظیم طا قت کا استعما ل مصر کے خلاف کروں گا میں اُس ملک میں معجزے ہو نے دوں گا۔ جب میں ایسا کروں گا تو وہ تم لوگوں کو جانے دیگا ۔ 21 اور میں مصری لوگوں کو اسرائیلی لوگوں کے ساتھ مہربان بنا ؤں گا اِس لئے جب تم لوگ رخصت ہو گے تو وہ تمہیں تحفہ دیں گے ۔ 22 ہر ایک عبرانی عورت اپنے مصری پڑوسی سے اور اپنے گھر میں رہنے والی مصری عورتوں سے مانگے گی اور وہ لوگ اسے تحفہ دیں گے۔ تمہا رے لوگ تحفہ میں چاندی سونا اور خوبصو رت کپڑے پا ئیں گے ۔ جب تم لوگ مصر کو چھوڑ دو گے تو تُم لوگ اُن تحفوں کو اپنے بچوں کو پہنا ؤگے اس طرح تم لوگ مصریوں کو لوٹو گے ۔"

Exodus 4

1 تب موسیٰ نے فرما یا ، " لیکن بنی اسرائیلیوں کو مجھ پر بھروسہ نہیں ہو گا ۔ جب میں ان سے کہوں گا کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے ۔ تو وہ کہیں گے ، خداوند نے تم سے باتیں نہیں کیں۔" 2 لیکن خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " تم نے اپنے ہا تھ میں کیا لے رکھا ہے ؟" موسیٰ نے جواب دیا ، " یہ میری چروا ہی کی لا ٹھی ہے ۔" 3 تب خداوندنے کہا ، " اپنی لا ٹھی کو زمین پر پھینکو ۔" اس لئے موسیٰ نے اپنی لا ٹھی کو زمین پر پھینکا ۔ اور لا ٹھی ایک سانپ بن گئی موسیٰ اس سے دور بھا گ گیا ۔ 4 لیکن خداوندنے موسیٰ سے کہا، " آگے بڑھو اور سانپ کی دُم پکڑ لو ۔" اس لئے موسیٰ آگے بڑھا اور سانپ کی دُم پکڑ لیا جب موسیٰ نے ایسا کیا تو سانپ پھر لا ٹھی بن گیا ۔ 5 پھر خد ا نے کہا ، " اپنی لا ٹھی کا اسی طرح استعمال کرو۔ اور لوگ یقین کریں گے کہ تم نے اپنے باپ دادا کے خداوند خدا ، ابراہیم کے خدا ، اسحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا کو دیکھا ہے ۔" 6 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " میں تم کو دوسرا ثبوت دوں گا تم اپنے ہا تھ کو اپنے جبّہ کے اندر کرو۔" اس لئے موسیٰ نے اپنے جبّہ کو کھو لا اور ہا تھ کو اندر کیا پھر موسیٰ نے اپنے ہاتھ کو جبّہ کے با ہر نکا لا اس میں جِلدی بیما ری ہو گئی تھی۔ یہ برف کی مانند سفید تھا ۔ 7 تب خداوند نے کہا ، " اب تم اپنا ہا تھ پھر جبّہ کے اندر رکھو اس لئے موسیٰ نے پھر اپنا ہا تھ جبّہ کے اندر کیا۔" تب پھر موسیٰ نے ہا تھ با ہر نکا لا اور یہ پہلے جیسا ہو گیا ۔ 8 تب خداوند نے کہا ، " اگر لوگ تمہا را یقین لا ٹھی کے معجزہ سے نہ کریں تب انہیں اس کو دکھا ؤ، یقیناً وہ لوگ اس دوسرے معجز ہ پر یقین کرینگے ۔ 9 اگر پھر بھی وہ تمہا رے ان دو چیزوں کے دیکھنے کے بعد یقین نہ کریں تب دریائے نیل سے تھو ڑا پا نی لینا پانی کو زمین پر گرانا شروع کرنا اور جیسے ہی یہ یہ زمین چھو ئے گا خون بن جا ئے گا ۔" 10 لیکن موسیٰ نے خداوند سے کہا، " اے خداوندمیں تجھے سچ کہتا ہوں۔ میں اچھا مُقرّر نہیں ہوں اور نہ میں کبھی تھا ۔ ابھی تجھ سے بات کر نے کے بعد بھی میں صاف صاف بول نہیں سکتا ہوں۔ اور تو جانتا ہے کہ میں رُک رُک کے بولتا ہوں اچھا الفاظ ادا نہیں کر سکتا ہوں۔ 11 تب خداوند نے اُس سے کہا ، " انسان کا مُنہ کس نے بنا یا ؟ اور ایک انسان کو گونگا اور بہرہ کون بنا تا ہے ؟ انسان کو کون دیکھنے وا لا اور اندھا بنا سکتا ہے ؟" وہ میں ہوں جو سبھی چیزوں کو کر سکتا ہوں۔ 12 اس لئے جا ؤ جب تم بولو گے تو میں تمہا رے ساتھ رہوں گا میں تمہیں بولنے کے لئے الفاظ دوں گا ۔" 13 لیکن موسیٰ نے کہا ، " میرے خداوند میں تجھ سے التجا کر تا ہوں کہ دوسرے آدمی کو بھیج مجھے نہ بھیج ۔" 14 خداوند نے موسیٰ پر غصّہ کیا ۔ خداوندنے کہا، " میں تم کو ایک آدمی تمہا ری مدد کے لئے دوں گا ۔ میں تمہا رے بھا ئی ہا رون لا وی کا استعمال کروں گا ۔ وہ ایک اچھا مُقرّر ہے ۔ ہا رون تم سے ملنے آرہا ہے۔ وہ تم سے ملکر بہت خوش ہو گا۔ 15 وہ تمہا رے ساتھ فرعون کے پاس جا ئے گا میں تمہیں بتا ؤں گا کہ کیا کہنا ہے ۔ تب تم ہا رون کو کہو گے اور ہا رون فرعون سے بات کر نے کے لئے صحیح الفا ظ چُنے گا ۔ 16 ہا رون تمہا رے لئے لوگوں سے بھی بات کرے گا ۔ تم ا س کے لئے خدا کی طرح ہو گے ۔ اور وہ تمہا را مُقرّر ہو گا ۔ 17 اپنی لا ٹھی لو اور اسی لا ٹھی سے معجزاتی نشانات دکھا ؤ۔" 18 تب موسیٰ اپنے سُسر یترو کے پاس وا پس ہوا ۔ موسیٰ نے یترو سے کہا ، " میں آپ سے التجا کر تا ہوں کہ مجھے مصر میں اپنے لوگوں کے پاس جا نے دو میں یہ دیکھنا چاہتا ہو ں کہ کیا وہ ابھی تک ز ندہ ہیں۔" یترو نے موسیٰ سے کہا ، " تُم سلامتی کے ساتھ جا سکتے ہو"۔ 19 اس وقت جب موسیٰ مدیان میں تھا ۔ خداوند نے اُ س سے کہا ، " اس وقت تمہا را مصر کو جا نا محفوظ ہے ۔ جو آدمی تم کو ما رنا چاہتے تھے وہ مر چکے ہیں۔" 20 اس لئے موسیٰ اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں کو لیا اور انہیں گدھوں پر بٹھا دیا ۔ تب موسیٰ نے ملک مصر وا پسی کا سفر کیا ۔ موسیٰ نے خدا کی لا ٹھی کو اپنے ساتھ لی ۔ 21 جس وقت موسیٰ مصر کی واپسی کے سفر پر تھے تو خداوند نے اُن سے کہا ، " جب تم مصر وا پس جا تے ہو تو ان تمام معجزوں کو اسے دکھانا جس کو دکھانے کی طاقت میں نے تمہیں دی ہے ۔ لیکن فرعون کو میں بہت ضدّی بنا دوں گا وہ لوگوں کو جانے کی اجا زت نہیں دے گا۔" 22 تم فرعون سے کہنا : 23 خداوند کہتا ہے اسرائیل میرا پہلو ٹھا بیٹا ہے اور میں تم سے کہتا ہوں کہ میرے بیٹے کو جانے دو ۔ اور میری عبادت کر نے دو ۔ اگر تم میرے پہلو ٹھے بیٹے کو جانے سے منع کر تے ہو تو میں تمہا رے پہلو ٹھے بیٹے کو مار ڈا لوں گا ۔" 24 موسیٰ اپنا مصر کا سفر کر تے رہے ۔ مسافروں کے لئے بنی ایک جگہ پر وہ سونے کے لئے ٹھہرے ۔ خداوند اس جگہ موسیٰ سے ملا اور اسے مار ڈالنے کی کوشش کی ۔ 25 لیکن صفورہ نے پتھروں کا ایک تیز چاقو لیا اور اپنے بیٹے کا ختنہ کیا ۔ اس نے چمڑے کو لیا اور اُس کے پیر چھو ئے ۔ تب اُس نے موسیٰ سے کہا ، " تم میرے لئے اپنا خونی دولہا ہو۔" 26 صفورہ نے یہ اس لئے کہا کیونکہ اُسے اپنے بیٹے کا ختنہ کرنا پڑا تھا ۔ اس لئے خدا نے موسیٰ کو نہیں ما را ۔ 27 خداوند نے ہا رون سے بات کی ، " ریگستان میں جا ؤ اور موسیٰ سے ملو۔" اس لئے ہا رون گیا اور خدا کے پہا ڑ پر موسیٰ سے ملا ۔ جب ہارون نے موسیٰ کو دیکھا اُ س نے اُسے چوم لیا ۔ 28 موسیٰ نے ہا رو ن کو خداوندکے ذریعے بھیجے جانے کا سبب بتایا اور موسیٰ نے ہا رو ن کو ان معجزوں اور ان نشانیوں کو بھی سمجھا یا جسے اسے ثبوت کے طور پر پیش کرنا تھا ۔ موسیٰ نے ہارون کو وہ سب کچھ بتایا جو خداوند نے کہا تھا ۔ 29 اس طرح موسیٰ اور ہا رون گئے اور انہوں نے بنی اسرائیلیوں کے تمام بزرگوں کو جمع کیا ۔ 30 تب ہا رون نے لوگوں سے بات کی اور اس نے وہ ساری باتیں بتا ئیں جو خداوند نے موسیٰ سے کہی تھیں۔ تب موسیٰ نے تمام ثبوت لوگوں کو دکھا ئے ۔ 31 تب لوگوں نے یقین کیا کہ خدا نے موسیٰ کو بھیجا ہے ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ خدا نے ان کی مصیبتوں کو دیکھا ہے اور ان لوگوں کی مدد کر نے کے لئے آیا ہے ۔ اس لئے انہوں نے جھک کر سجدہ کیا اور خداوندکی عبادت کی ۔

Exodus 5

1 لوگوں سے بات کر نے کے بعد موسیٰ اور ہا رون فرعون کے پاس گئے اُنہوں نے کہا ، " اسرائیل کا خداوند خدا کہتا ہے ، ' میرے لوگوں کو ریگستان میں جانے دو جس سے وہ میرے لئے تقریب منا سکیں۔" 2 لیکن فرعون نے کہا ،" خداوند کون ہے ؟ میں اِس کا حکم کیوں مانوں؟ میں اِسرائیلیوں کو کیوں جانے دوں؟ میں اسے نہیں جانتا جسے تم خداوندکہتے ہوں۔ اس لئے میں اِسرائیلیوں کو جا نے سے منع کر تا ہوں۔" 3 تب ہا رون اور موسیٰ نے کہا،" عبرانیوں کا خدا ہم لوگوں پر ظا ہر ہوا تھا ۔ اس لئے ہم آپ سے التجا کر تے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو تین دن تک ریگستان میں سفر کر نے دیں۔ وہاں ہم لوگ خداوند اپنے خدا کو قربانی پیش کریں گے۔ اگر ہم لوگ ایسا نہیں کریں گے تو وہ غصّہ میں آجا ئے گا اور ہمیں تباہ کر دیگا ۔ وہ ہم لوگوں کو بیما ری یا تلوار سے ما ر سکتا ہے ۔" 4 لیکن مصر کے بادشاہ نے ان لوگوں سے کہا، " اے موسیٰ اور ہا رون ، کیوں تم لوگوں کو ان کے کام پر جا نے سے روک رہے ہو؟ اپنا کام کرو! 5 اور فرعون نے کہا ،" یہاں بہت سے کام کر نے وا لے ہیں تم لوگ انہیں اپنا کام کر نے سے روک رہے ہو ۔" 6 اسی دن فرعون نے بنی اسرائیلیوں کے کام کو اور زیادہ سخت کر نے کا حکم دیا فرعون نے غلاموں کے آقاؤں سے کہا ۔ 7 " تم نے لوگوں کو ہمیشہ بھُو سا دیا جس کو وہ لوگ اینٹ بنانے میں استعمال کر تے ہیں ۔ لیکن اب ان سے کہو کہ وہ اینٹ بنا نے کے لئے بھوُسا خود جمع کریں ۔ 8 لیکن وہ اب بھی اتنی ہی اینٹیں بنائیں جتنی وہ پہلے بنا تے تھے ۔ وہ کا ہل ہو گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ جانے کا مطا لبہ کر رہے ہیں ان کے پاس کر نے کے لئے کا فی کام نہیں ہے ۔ اِس لئے وہ مجھ سے مطا لبہ کر رہے ہیں کہ میں انہیں انکے خدا کے لئے قربانی پیش کر نے دوں ۔ 9 اِس لئے ان لوگوں سے اور زیادہ سخت کام کراؤ۔ انہیں کام میں لگائے رکھو ۔ اب ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہو گا کہ وہ جھو ٹی باتیں سُنیں ۔" 10 تب غلا موں کے آقا اور فرعون کے عہدیدار ان لوگوں کے پاس گئے اور کہا ، " فرعون نے فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو بھو سا نہ دیا جائے ۔ 11 تُم لوگوں کو بھو سا خود جمع کرنا ہو گا اس لئے جاؤ اور بھو سا دیکھو لیکن تم لوگ اتنی ہی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے بنا تے تھے ۔" 12 اس لئے لوگ مصر بھر میں بھو سا کی کھوج میں گئے ۔ 13 غلا موں کے آقا لوگوں پر زیادہ سخت کام کر نے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے ۔ وہ انہیں اتنی ہی اینٹیں بنانے کے لئے جتنی پہلے بنا یا کرتے تھے دباؤ ڈالتے تھے ۔ 14 مصری غلاموں کے آقاؤں نے اسرائیلی لوگوں کے کا رندے چُن رکھے تھے ۔ اور انہی لوگوں کو کام کا ذمّہ دار بنا رکھا تھا ۔مصری غلام کے آقا ان کارندوں کو پیٹتے تھے اور ان سے کہتے تھے " تم اتنی ہی اینٹیں کیوں نہیں بنا تے جتنی پہلے بنا رہے تھے ۔ جب یہ کام تم پہلے کر سکتے تھے تو تم اسے اب بھی کر سکتے ہو ۔" 15 تب اسرائیلی لوگوں کے کارندے فرعون کے پاس گئے انہوں نے شکا یت کی اور کہا ، " آپ اپنے خادموں ہم لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟" 16 آپ نے ہم لوگوں کو بھو سا نہیں دیا لیکن ہم لوگوں کو حکم دیا گیا کہ اتنی ہی اینٹیں بنائیں جتنی پہلے بنا تے تھے ۔ اور اب ہم لوگوں کے آقا ہمیں پیٹتے ہیں ۔ ایسا کر نے میں آپ کے لوگوں کی غلطی ہے ۔" 17 فرعون نے جواب دیا ، " تم لوگ کاہل ہو تم لوگ کام کرنا نہیں چاہتے ۔ اس لئے تم لوگ یہ جگہ چھو ڑ نا چاہتے ہو ۔ اور خدا وند کو قربانی پیش کر نا چاہتے ہو ۔ 18 اب کام پر واپس جاؤ ۔ ہم تم لوگوں کو کو ئی بھو سا نہیں دیں گے ۔ لیکن تم لوگ اتنی ہی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے بنا یا کر تے تھے ۔" 19 اسرائیلی لوگوں کے کارندوں نے انکے بُرے ارادے کو سمجھ لیا جب انہوں نے کہا ، اپنے روزانہ کے مقرّرہ اینٹوں سے کم اینٹ مت بناؤ ! 20 فرعون سے ملنے کے بعد جب وہ جا رہے تھے تو وہ موسیٰ اور ہارون کے پاس سے نکلے موسیٰ اور ہارون ان کا انتظار کر رہے تھے ۔ 21 اس لئے انہوں نے موسیٰ اور ہارون سے کہا ، " تم لوگوں نے بُرا کیا تم نے فرعون سے ہم لوگوں کو جانے دینے کے لئے کہا خدا وند تم کو سزا دے کیوں کہ تم لوگوں نے فرعون اور اسکے حاکموں میں ہم لوگوں کی طرف سے نفرت پیدا کی ۔ تم نے ہم لوگوں کو مار نے کا ایک بہانہ انہیں دیا ہے ۔ " 22 تب موسیٰ خدا وند کے پاس واپس آیا اور کہا ، " اے آقا تو نے اپنے لوگوں کے لئے ایسا بُرا کام کیوں کیا ہے ؟ تُو نے ہم کو یہاں کیوں بھیجا ہے ؟ 23 میں فرعون کے پاس گیا اور جو تُو نے کہنے کو کہا وہ میں نے اُس سے کہا لیکن اس وقت سے وہ لوگوں کے اور زیادہ خلاف ہو گیا اور تُو نے ان کی مدد کے لئے کچھ نہیں کیا ہے ۔"

Exodus 6

1 تب خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " اب تم دیکھو گے کہ فرعون کا میں کیا کر تا ہوں ۔ میں اپنی عظیم قدرت کا استعمال اس کے خلاف کروں گا ۔ اس کے بعد وہ نہ صرف میرے لوگوں کو جانے دیگا بلکہ وہ انہیں جانے کے لئے مجبور کریگا ۔" 2 تب خدا نے موسیٰ سے کہا ، " 3 میں خدا وند ہوں ۔ میں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کے سامنے ظا ہر ہوا تھا ۔ اُنہوں نے مجھے ایل شدائی ( خدا قادر مطلق ) کہا ۔ میں نے ان کو یہ نہیں بتا یا کہ میرا نام یہواہ (خدا ) ہے ۔ 4 میں نے ان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ۔ میں نے وعدہ کیا کہ اُن کو کنعان کی زمین دونگا ۔ وہ اس ملک میں رہتے تھے ۔ لیکن وہ انکا اپنا ملک نہیں تھا ۔ 5 اب میں بنی اسرائیلیوں کی مصیبت کے متعلق جانتا ہوں ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مصر کے غلام ہیں ۔ اور مجھے اپنا معاہدہ یاد ہے ۔ 6 میں تمہیں مصر میں تمہاری مصیبتوں سے دور لے جانے اور انکی غلا می سے بچا نے جا رہا ہوں اور میں تمہیں آزاد کروں گا جب میں ان لوگوں کے لئے عظیم سزا لاؤنگا ۔ 7 میں تم لوگوں کو اپنے لوگوں کی طرح لے لونگا اور میں تم لوگوں کا خدا ہونگا ۔ تب تم لوگ جانو گے کہ میں خدا وند تم لوگوں کا خدا ہوں جو تم لوگوں کو مصر میں تمہاری مصیبتوں سے آزاد کیا ۔ 8 میں نے ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب سے معاہدہ کیا تھا ۔ میں نے انہیں ایک خاص ملک دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ اس لئے میں تم لوگوں کو اس ملک تک لے جاؤں گا ۔ میں وہ ملک تم لوگوں کو دونگا وہ تم لوگو ں کا ہو گا ۔ میں تمہارا خدا وند ہوں ۔" 9 اِس لئے موسیٰ نے یہ بات بنی اسرائیلیوں کو بتائی ۔ لیکن ان لوگوں نے اس کی بات نہیں سُنی ۔ کیوں کہ وہ لوگ بہت سخت محنت کر رہے تھے ، وہ لوگ صبر کر نے والے نہیں تھے ۔ 10 تب خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 11 " جاؤ اور مصر کے بادشاہ فرعون سے کہو کہ وہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو اس ملک سے یقیناً جانے دے ۔" 12 لیکن موسیٰ نے خدا وند کو جواب دیا ، " بنی اسرائیل میری بات سننا نہیں چاہتے ہیں تو یقیناً فرعون بھی سننا نہیں چاہے گا ۔ میں بہت خراب مقُرِّر ہوں۔" 13 لیکن خدا وند نے موسیٰ اور ہارون سے بات کی اور انہیں جانے اور بنی اسرائیلیوں سے باتیں کر نے کا حکم دیا ۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ وہ جائیں اور مصر کے بادشاہ فرعون سے باتیں کریں اور بنی اسرائیلیوں کو مصر سے باہر لے جائیں ۔ 14 اسرائیل کے خاندان کے قائدین کے نام یہ ہیں: اِسرائیل کے پہلے بیٹے روبن کے بیٹے تھے : حنوک ، فلّو ، حسرون اور کر می ۔ یہ سب روبن کے قبیلے تھے ۔ 15 شمعون کے بیٹے یہ تھے : یمو ئیل ، یمین ،اُہد، یکین ، صُحر اور ساؤل۔ ساؤل کنعانی عورت سے پیدا ہوا تھا ۔ یہ سب شمعون کے قبیلے تھے ۔ 16 لا وی ایک سو سینتیس سال تک رہا ۔ لا وی کے بیٹے ان کی نسل کے مطا بق، جیر سون، قہا ت اور مرا ری تھے ۔ 17 جیر سون کے بیٹے ان کے خاندانوں کے حساب سے تھے لبنی اور سمعی۔ 18 قہات ایک سو تینتیس سال تک رہا ۔ قہا ت کے بیٹے عمرام، اضہار ، حبرون اور عُزّئیل تھے ۔ 19 مرا ری کے بیٹے محلی اور موشی تھے۔ ان کی نسل کے مطا بق یہ سارے قبیلے لا وی سے تھے ۔ 20 عمرام ایک سو سینتیس سال تک رہا ۔ عمرام نے اپنے باپ کی بہن یو کبد سے شادی کی ۔ عمرام اور یوکبد سے ہا رون ا ور موسیٰ پیدا ہو ئے ۔ 21 اضہار کے بیٹے قورح، نفج اور زکری تھے ۔ 22 عُزّئیل کے بیٹے میسا ئیل ، الصفن اور ستری تھے ۔ 23 ہا رون نے الیسبع سے شادی کی ( الیسبع عمّینداب کی بیٹی اور نحسون کی بہن تھی ) ہا رون اور الیسبع سے ناداب ، ابیہو ، الیعزر، اور اتمر پیدا ہو ئے ۔ 24 قورح کے بیٹے ( قورچیوں کے آباء و اجداد) اسیر ، القنہ ، ابیا سف تھے 25 ہا رون کے بیٹے الیعزر نے فوطیل کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی سے شادی کی ۔ اس سے فینحاس پیدا ہوا ۔ یہ تمام لوگ لا وی کے مختلف قبیلے سے تھے ۔ 26 ہا رون اور موسیٰ وہ آدمی تھے جن سے خداوند نے بات کی اور کہا ، " میرے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ کر مصر سے نکا لو ۔" 27 ہا رون اور موسیٰ نے ہی مصر کے بادشاہ فرعون سے بات چیت کی ۔ اُنہوں نے فرعون سے کہا کہ وہ بنی اسرائیلیوں کو مصر سے جانے دے ۔ 28 ملک مصر میں خدا نے موسیٰ سے بات چیت کی ۔ 29 اُس نے کہا ، " میں خداوندہوں۔ مصر کے بادشاہ فرعون سے وہ تمام باتیں کہو جو میں تُم سے کہا ہوں۔" 30 لیکن موسیٰ نے خداوند کو جواب دیا ، " میں اچھا مُقرّر نہیں ہوں۔ فرعون میری بات نہیں سُنے گا ۔"

Exodus 7

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " میں تمہیں فرعون کے لئے خدا کی مانند بنا دو ں گا ۔ اور ہا رون تمہا را پیغام رساں ہو گا ۔ 2 جو حکم میں تمہیں دے رہا ہوں وہ سب کچھ اپنے بھا ئی ہا رون سے کہو ۔ تب وہ اِن باتوں کو جو میں کہہ رہا ہوں فرعون سے کہے گا ۔ اور فرعون بنی اسرائیلیوں کو اس ملک سے جانے دے گا ۳ 3 لیکن میں فرعون کوضدّی بنا ؤں گا۔ تا کہ میں مصر میں کئی معجز ے اور نشانات دکھا ؤنگا ۔ 4 اِس لئے تب میں مصر کو سخت سزا دوں گا ۔ اور میں اپنے لوگوں کو قبیلوں میں بانٹ کر اِس ملک سے باہر لے چلوں گا ۔ 5 تب مصر کے لوگوں کو معلوم ہو گا کہ میں خداوند ہو ں، جب میں اپنی طاقت کو ان لوگوں کے خلاف استعمال کروں گا اور اپنے لوگوں کو اُن کے ملک سے باہر لے جاؤں گا ۔" 6 موسیٰ اور ہا رون نے ان باتوں کی اطا عت کی جو خداوند نے ان سے کہی تھی۔ 7 جب انہوں نے فرعون سے بات کی اُس وقت موسیٰ اسّی سال کے اور ہا رون تراسی سال کے تھے ۔ 8 خداوند نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا، 9 " فرعون تم سے معجزہ دکھا نے کو کہے گا ۔ ہا رون سے اُس کا عصا زمین پر پھینکنے کو کہنا ۔ جس وقت فرعون دیکھ رہا ہو گا اُسی وقت عصا سانپ بن جا ئے گا ۔" 10 اِس لئے موسیٰ اور ہا رون فرعون کے پاس گئے اور خداوند کے حکم کی تعمیل کی ۔ ہا رون نے اپنا عصا نیچے پھینکا۔ فرعون اور اُس کے عہدیداروں کے دیکھتے ہی دیکھتے عصا سانپ بن گیا ۔ 11 اِس لئے فرعون نے اپنے عالمو ں اور جا دوگروں کو بُلا یا۔ اُن لوگوں نے بھی اپنے جا دو سے ہارون کے جیسا ہی کئے ۔ 12 اُنہوں نے اپنی لا ٹھیاں زمین پر پھینکی اور وہ سانپ بن گئیں۔ لیکن ہا رون کی لا ٹھی نے اُن لا ٹھیوں کو کھا لیا ۔ 13 فرعون ضدّی ہو گیا ۔ یہ ویسا ہی ہوا جیسا خداوند نے کہا تھا ۔ فرعون نے موسیٰ اور ہا رون کی بات سُننے سے انکا ر کر دیا ۔ 14 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " فرعون ضد پر ہے ۔ فرعون لوگوں کو مصر چھو ڑنے سے منع کر تا ہے۔ 15 صبح سویرے فرعون دریا پر جا ئے گا ۔ اُس کے ساتھ دریائے نیل کے کنا رے جا ؤ۔ اس عصا کو اپنے ساتھ لے لو جو سانپ بنا تھا ۔ 16 اُس سے یہ کہو : عبرانی لوگوں کے خداوند نے ہم کو تمہا رے پاس بھیجا ہے ۔ خداوند نے مجھے تم سے یہ کہنے کے لئے کہا ہے ۔ میرے لوگوں کو میری عبادت کر نے کے لئے ریگستان میں جانے دو ۔ تُم نے ابھی تک خداوند کی بات پر کان نہیں دھرا ہے ۔ 17 اس لئے خداوند کہتا ہے کہ میں ایسا کروں گا جس سے تم جان لو گے کہ میں خداوند ہوں۔ میں اپنے ہا تھ کی اِس لا ٹھی کو لے کر دریائے نیل کے پا نی میں ماروں گا اور دریا ئے نیل خون میں بدل جا ئے گا ۔ 18 تب دریا ئے نیل کی مچھلیا ں مر جا ئیں گی اور دریا سے بد بو آنا شروع ہو جا ئے گی اور مصری لو گ دریا سے پا نی نہیں پی سکیں گے ۔" 19 خداوندنے موسیٰ کو یہ حکم دیا : " ہا رون سے کہو وہ ندیوں، نہروں، جھیلوں اور تا لا بوں اور تما جگہوں پر جہاں مصر کے لوگ پانی حاصل کر تے ہیں اپنے ہا تھ کے عصا کو بڑھا ئے جب وہ ایسا کرے گا تو سارا پانی خون میں بدل جا ئے گا ۔ سارا پانی یہاں تک کہ لکڑی اور پتھر کے گھڑوں کا بھی پانی خون میں بدل جا ئے گا ۔" 20 اس لئے موسیٰ اور ہا رون نے خداوند کا جیسا حکم تھا ویسا کیا ۔ اُس نے لا ٹھی کو اُ ٹھا ئی اور دریا ئے نیل کے پانی پر ما را ۔ اُس نے یہ فرعون اور اُس کے عہدیداروں کے سامنے کیا ۔ پھر دریا کا سارا پانی خون میں تبدیل ہو گیا ۔ 21 دریا میں مچھلیاں مر گئیں اور دریا سے بدبو آنے لگی ۔ اِس لئے مصری دریا سے پانی نہیں پی سکتے تھے ۔ مصر میں ہر طرف خون تھا ۔ 22 جا دو گروں نے اپنی جا دو گری دکھا ئی اور اُنہوں نے بھی ویسا ہی کیا ۔ اِس لئے فرعون ضدّی ہو گیا اور موسیٰ اور ہا رون کی سُننے سے انکا ر کیا ۔ یہ ٹھیک ویسا ہی ہوا جیسا خداوند نے کہا تھا ۔ 23 فرعون پلٹا اور اپنے گھر چلا گیا ۔ جو کچھ موسیٰ اور ہارون نے کیا فرعون نے اُس کو نظر انداز کیا ۔ 24 مصری دریا سے پانی نہیں پی سکتے تھے ۔ اِس لئے پینے کے پانی کے لئے اُنہوں نے دریا کے چاروں طرف کنویں کھو دے ۔ 25 خداوند کی طرف سے دریائے نیل کے بد لے جانے کے بعد سات دن گذر گئے ۔

Exodus 8

1 تب خداوندنے موسیٰ سے کہا ، " فرعون کے پاس جا ؤ اور اُس کو کہو کہ خداوند یہ کہتا ہے ، ' میرے آدمیوں کو میری عبادت کر نے کے لئے جانے دو ۔ 2 اگر فرعون ان کو جا نے سے روکتا ہے تو میں مصر کو مینڈ کوں سے بھر دو ں گا ۔ 3 دریائے نیل مینڈ کوں سے بھر جا ئے گا وہ دریا سے نکلیں گے اور تمہا رے گھروں میں گھُسیں گے۔ وہ تمہا رے سونے کے کمروں اور تمہا رے بستروں میں ہوں گے ۔ مینڈک تمہا رے عہدیداروں کے گھروں میں اور تمہا رے لوگوں کے گھروں میں، باورچی خانہ میں اور تمہا رے پانی کے گھڑوں میں ہونگے ۔ 4 مینڈک پو ری طرح تمہا رے اوپر تمہا رے لوگوں پر اور تمہا رے عہدیداروں پر ہو ں گے ۔" 5 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " ہارون سے کہو وہ اپنے عصا کو نہروں دریاؤں اورجھیلوں کے اُوپر اُٹھا ئے اور مینڈک با ہر نکل کر مصر کے ملک میں بھر جا ئیں گے ۔" 6 تب ہا رون نے ملک مصر میں جہاں بھی پانی تھا اُس کے اُوپر ہا تھ اُ ٹھا یا اور مینڈک پانی سے باہر آنے شروع ہو گئے اور پو رے ملک مصر کو ڈھک دیا ۔ 7 جا دو گروں نے بھی اپنے جادو سے ایسا ہی کیا وہ بھی ملک مصر میں مینڈک لے آئے ۔ 8 فرعون نے موسیٰ اور ہا رون کو بُلا یا۔ فرعون نے کہا،" خداوند سے کہو کہ وہ مجھ پر اور میرے لوگوں پر سے مینڈکوں کو ہٹا ئے تب میں لوگوں کو خداوند کے لئے قربانی دینے کو جا نے دوں گا ۔" 9 موسیٰ نے فرعون سے کہا ، " مجھے یہ بتا ئیں کہ آپ کب چاہتے ہیں کہ مینڈک چلے جا ئیں۔ میں آپ کے لئے آپ کے لوگوں کے لئے اور آپ کے عہدیداروں کے لئے دُعا کروں گا۔ تب مینڈک آپ کو اور آپ کے گھروں کو چھو ڑ دیں گے۔مینڈک صرف دریا میں رہ جا ئیں گے ۔" 10 فرعون نے کہا ، "کل " موسیٰ نے کہا ، " جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی ہو گا ۔ اس طرح آپ کو معلوم ہو گا کہ خداوند کے جیسا دوسرا کو ئی خدا نہیں ہے ۔ 11 مینڈک آپ کو آپ کے گھر کو عہدیداروں کو آپ کے لوگوں کو چھو ڑ دیں گے ۔ مینڈک صرف دریا میں رہ جا ئیں گے ۔" 12 موسیٰ اور ہا رون فرعون سے رخصت ہو ئے ۔ موسیٰ نے ان مینڈکوں کے لئے جنہیں فرعون کے خلاف خداوند نے بھیجا تھا خداوند کو پُکا را ۔ 13 اور خداوند نے وہ کیا جو موسیٰ نے کہا تھا ۔ مینڈک گھروں میں گھر کے آنگن میں اور کھیتوں میں مر گئے ۔ 14 ‎ان لوگوں نے مینڈکوں کو جمع کر کے کئی ڈھیر لگا دیئے۔ اور پو را ملک بد بو سے بھر گیا ۔ 15 جب فرعون نے دیکھا کہ وہ مینڈکو ں سے نجات پا گئے ہیں تو وہ پھر ضدّی ہو گیا ۔ فرعون نے ویسا نہیں کیا جیسا کہ موسیٰ اور ہا رون نے اس سے کر نے کو کہا تھا یہ با لکل اُسی طرح ہوا جیسا خداوند نے کہا تھا ۔ 16 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " ہا رون سے کہو کہ وہ اپنا عصا اٹھا ئے اور اسے زمین کی گرد غبار پر ما رے تب مصر میں ہر جگہ سارے گرد جو ئیں بن جا ئیں گے۔" 17 اُنہوں نے یہ کیا ۔ ہا رون نے اپنے ہا تھ کے عصا کو اُ ٹھا یا اور زمین پر دھول میں ما را اور مصر میں ہر طرف دھول جو ئیں بن گئیں۔ جوئیں جانوروں اور آدمیوں پر چھا گئیں۔ 18 جا دو گروں نے اپنے جادو کا استعمال کیا اور ویسا ہی کر نا چا ہا لیکن جادو گر زمین کی گرد سے جو ئیں نہ بنا سکے۔ جو ئیں آدمیوں اور جانوروں پر چھا ئی رہیں۔ 19 اسی لئے جا دوگرو ں نے فرعون سے کہا کہ خدا کی طا قت نے ہی یہ کیا ہے لیکن فرعون ان کی سُننے سے انکار کر دیا ۔ یہ ٹھیک ویسا ہی ہوا جیسا خداوند نے کہا تھا۔ 20 خداوند نے موسیٰ سے کہا، " صبح اُٹھو اور فرعون کے پاس جا ؤ ۔ فرعون دریا پر جا ئے گا ۔ اُس سے کہو کہ خداوند کہہ رہا ہے ،' میرے لوگوں کو میری عبادت کے لئے بھیجو ۔ 21 اگر تم میرے لوگوں کو نہیں جانے دو گے تو تمہا رے گھروں میں مکھّیاں ہو نگی، مکھیاں تمہا رے اوپر اور تمہا رے عہدیداروں کے اُوپر اور تمہا رے لوگوں کے اوپر چھا جا ئیں گی۔ مصر کے گھر مکھیوں سے بھر جا ئیں گے ۔ زمین بھی مکھیوں سے بھر جا ئے گی ۔ 22 لیکن میں آج جشن کے لوگوں کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کروں گا ۔ وہاں کو ئی مکھی نہیں ہو گی ۔ اس طرح تم کو معلوم ہو گا کہ میں خداوند یہاں اس ملک میں ہوں۔ 23 میں کل اپنے لوگوں کے ساتھ تمہا رے لوگوں سے مختلف برتا ؤ کروں گا یہی میرا ثبوت ہو گا "۔ 24 خداوند نے ، وہی کیا جو اُس نے کہا ۔ جھنڈ کے جھنڈ مکھیاں مصر میں آئیں مکھیاں فرعون کے گھر اور اُس کے تمام عہدیداروں کے گھر میں بھر گئیں۔ مکھیاں پو رے ملک مصر میں بھر گئیں۔ مکھیاں ملک کو تباہ کر رہی تھیں۔ 25 اس لئے فرعون نے موسیٰ اور ہا رون کو بُلا یا ، فرعون نے ان لوگوں سے کہا ، " تُم لوگ اپنے حداوند خدا کو اسی ملک میں قربانی پیش کرو۔" 26 لیکن موسیٰ نے فرما یا ، " ویسا کر نا ٹھیک نہیں ہو گا ۔مصری سوچتے ہیں کہ ہما رے خداوند خدا کو جانوروں کو ما ر کر قُربانی پیش کر نا ایک بھیانک بات ہے ۔ اس لئے اگر ہم لوگ یہاں ایسا کر تے ہیں تو مصری ہمیں دیکھیں گے ۔ وہ ہم لوگوں پر پتھر پھینکیں گے اور ہمیں ما ر ڈا لیں گے ۔ 27 ہم لوگوں کو تین دن تک ریگستان میں جان نے دو اور ہمیں اپنے خداوند خدا کو قربانی پیش کر نے دو ۔ یہی بات ہے جو خداوند نے ہم لوگوں سے کر نے کو کہا ہے ۔" 28 اس لئے فرعون نے کہا ، " میں تم لوگوں کو جا نے دوں گا ۔ اور ریگستان میں خداوند تمہا رے خدا کو قربانی پیش کر نے دو ں گا ۔ لیکن تم لوگوں کو زیادہ دور نہیں جانا چاہئے اب تم جا ؤ اور میرے لئے دعا کرو۔" 29 موسیٰ نے کہا ، " دیکھو میں جا ؤں گا اور خداوند سے دعا کروں گا کہ شاید کل وہ تم سے تمہارے لوگوں سے اور تمہا رے عہدیداروں سے مکھیوں کو ہٹا لے ۔ لیکن تم لوگ خداوند کے لئے قربانیاں پیش کر نے سے مت رُوکو۔" 30 اس لئے موسیٰ فرعون کے پاس سے گیا اور خداوند سے دعا کی ۔ 31 اور خداوند نے وہی کیا جو موسیٰ نے کہا ۔ خداوند نے مکھیوں کو فرعون ، اُس کے عہدیداروں اور اُس کے لوگوں سے ہٹا لیا ۔ کو ٹی مکھی نہیں رہی ۔ 32 لیکن فرعون پھر ضدّی ہو گیا اور اُس نے لوگوں کو نہیں جا نے دیا۔

Exodus 9

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، فرعون کے پاس جا ؤ اور اُس سے کہو : " عبرانی لوگوں کا خداوند خدا کہتا ہے ، میری عبادت کے لئے میرے لوگوں کو جانے دو ۔' 2 اگر تم انہیں روکتے رہے اور ان کو جانے سے منع کر تے رہے ۔ 3 پھر خداوند اپنی طاقت سے تمہا رے کھیتوں کے جانوروں پر یعنی گھوڑے ، گدھے ، اُونٹ، گا ئے ،بیل ، بکریاں اور مینڈھوں پر بھیانک بیماریاں لا ئے گا ۔ 4 خداوند بنی اسرائیل کے جانوروں کے ساتھ مصر کے جانوروں سے الگ برتا ؤ کرے گا ۔ بنی اسرائیلیوں کا کو ئی جانور نہیں مرے گا ۔ 5 خداوند نے وقت طئے کر دیا ہے ۔ کل خداوند اس ملک میں واقعہ ہو نے دیگا ۔"' 6 خداوند نے ویسا ہی کیا جیسا اس نے کہا تھا ۔ دوسری صبح مصر کے کھیت کے تمام جانور مر گئے ۔ لیکن بنی اسرائیلیوں کے جانور میں سے کو ئی نہیں مرا ۔ 7 فرعون نے لوگوں کو یہ دیکھنے کے لئے بھیجا کہ کیا بنی اسرائیلیوں کا کو ئی جانور مرا یا نہیں۔ فرعون ضد پر قائم رہا اس نے لوگوں کو نہیں جانے دیا ۔ 8 خداوند نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا ، " اپنی مٹھّی میں بھٹی کی راکھ لو اور موسیٰ تم فرعون کے سامنے راکھ کو ہوا میں پھینکنا ۔ 9 یہ دھول بن جا ئے گی اور پو رے ملک مصر میں پھیل جا ئے گی ۔ یہ دُھول جب بھی کسی آدمی یا جانور پر مصر میں پڑے گی چمڑی پر پھو ڑے پھنسی ( زخم )پھوٹ نکلیں گے ۔" 10 اس لئے موسیٰ اور ہا رون نے راکھ لی ۔ تب وہ گئے اور فرعون کے سامنے کھڑے ہو گئے اور موسیٰ نے راکھ کو ہوا میں پھینکی اور انسانوں اور جانوروں کو پھوڑے شروع ہو نے لگے۔ 11 جادو گر موسیٰ کو ایسا کر نے سے نہ روک سکے کیوں کہ جا دو گروں کو بھی پھو ڑے ہو گئے تھے۔ سارے مصر میں ایسا ہی ہو ا تھا ۔ 12 لیکن خداوند نے فرعون کو ضدّی بنا ئے رکھا ۔ اس لئے فرعون نے موسیٰ اور ہا رون کو سُننے سے انکار کر دیا ۔ یہ ویسا ہی ہوا جیسا خدا وند نے موسیٰ سے کہا تھا ۔ 13 تب خداوند نے موسی ٰ سے کہا ، " صبح اُٹھو اور فرعون کے پاس جا ؤ۔ اس سے کہو کہ عبرانی لوگوں کا خداوند خدا کہتا ہے ، ' میرے لوگوں کو میری عبادت کے لئے جانے دو ۔ 14 اب میں اپنی ساری قدرت ، تمہا رے عہدیداروں اور تمہا رے لوگوں کے خلاف استعمال کروں گا ۔ تب تمہیں معلوم ہو گا کہ میرے جیسا دُنیا میں دُوسرا کو ئی خدا نہیں ہے ۔ 15 میں اپنی طا قت کا استعمال کر سکتا ہوں اور میں ایسی بیما ر ی پھیلا سکتا ہوں جو تمہیں اور تمہارے لوگوں کو زمین سے ختم کر دے گی ۔ 16 ہاں، اسلئے میں نے تمہیں طاقت دی ، تا کہ میں تمہیں اپنی طاقت دکھا سکوں۔ اس لئے ساری زمین کے لوگ میرا نام جانیں گے ۔ 17 تم اب بھی میرے لوگوں کے خلاف ہو۔ تم انہیں نہیں جانے دے رہے ہو۔ 18 اِس لئے کل میں اسی وقت بھیانک قسم کے اولے کی بارش برساؤں گا ۔ جب سے ملک مصر بنا آج تک مصر میں ایسے اولے کی بارش کبھی نہیں آئی ہو گی ۔ 19 اپنے جانوروں کو محفوظ جگہ میں رکھنا ۔ جو کچھ تمہا را کھیتوں میں ہے اسے ضرور محفوظ جگہوں پر رکھ لینا ۔ کیوں کہ کو ئی بھی انسان یا جانور جو میدانوں میں ہو گا ما را جا ئے گا ۔ جو کچھ تمہا رے گھروں کے اندر نہیں رکھا ہو گا ان سب پر اولے پڑیں گے ۔"' 20 فرعون کے کچھ عہدیداروں نے خداوند کے پیغام پر کچھ دھیان دیا ۔ اُن لوگوں نے جلدی جلدی اپنے جانوروں اور غلاموں کو گھر میں رکھ لیا ۔ 21 لیکن دوسرے لوگوں نے خداوند کے پیغام کی پرواہ نہیں کی ا ن لوگوں کے جانور اور غلام جو باہر میدانوں میں تھے تباہ ہو گئے ۔ 22 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " اپنے بازؤں کو ہوا میں اوپر اُ ٹھا ؤ۔ تب سارے مصر کے انسانوں، جانوروں اور کھیتوں کے پودوں پر اولے گرنا شروع ہو جا ئیں گے ۔" 23 موسیٰ نے اپنے عصا کو ہوا میں اٹھا یا تب خداوند نے گرج اور بجلیاں بھیجیں۔ اور خداوندنے زمین پر اولے بر سائے ۔ 24 اولے پڑ رہے تھے اور اولوں کے ساتھ بجلی چمک رہی تھی ۔ جب سے ملک مصر بنا تھا اس وقت سے اب تک ایسے خطرناک اولے نہیں پڑے تھے ۔ 25 انسانوں سے لے کر جانوروں تک کھیتوں میں جو کچھ بھی تھا اولے سے برباد ہو گیا تھا ۔ اور اولوں نے کھیتوں میں تمام درختوں کو بھی تو ڑ دیا ۔ 26 جشن کا علاقہ ہی ایسا تھا جہاں بنی اسرائیل رہتے تھے وہاں اولے نہیں پڑے ۔ 27 فرعون نے موسیٰ اور ہا رو ن کو بُلا یا فرعون نے ان سے کہا ، " اس دفقہ میں نے گناہ کیا ہے ۔ خداوند سچا ہے ۔ میں اور میرے لوگ غلط ہیں۔ 28 اولے اور خدا کی گرجتی آوا زیں بہت زیادہ ہیں۔ خداوند سے اولے روکنے کو کہو ۔ میں تم لوگوں کو جانے دو ں گا ۔ تم لوگوں کو اب یہاں رہنا نہیں پڑیگا ۔" 29 موسیٰ نے فرعون سے کہا ، " جب میں شہر کو چھو ڑوں گا تب میں اپنے دونوں ہا تھوں کو خداوند کے سامنے دعا کے لئے اٹھا ؤں گا ۔ تب گرج اور اولے رک جا ئیں گے ۔ تب تمہیں معلوم ہو گا کہ پو ری دنیا خداوند کی ہے ۔ 30 لیکن میں جانتا ہوں کہ تم اور تمہا رے عہدیدار اب بھی خداوند خدا سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی اُس کی تعظیم کر تے ہو۔" 31 جوُٹ( پٹ سن ) میں دانے پڑ چکے تھے ۔ اور جو پہلے ہی پھٹ چکا تھا ۔ اس لئے یہ فصلیں تبا ہ ہو گئیں تھیں۔ 32 لیکن گیہوں کی فصل دوسری فصلوں کے بعد پکتے ہیں اس لئے یہ فصل تباہ نہیں ہو ئی تھیں۔ 33 موسیٰ نے فرعون کو چھو ڑا اور شہر کے با ہر چلا گیا ۔ اُس نے خداوندکے سامنے اپنے با زو پھیلا ئے تو بجلی اور اولے بند ہو گئی۔ بارش بھی بند ہو گئی۔ 34 جب فرعون نے دیکھا کہ بارش اولے اور بجلی کا گرج بند ہو گئے تو پھر وہ ا ور اس کے عہدے دار ضدی ہو گئے اور غلط کام کئے ۔ 35 چونکہ فرعون ضدی تھا اس لئے اس نے بنی اسرائیلیوں کو آ زادانہ جانے سے روک دیا ۔ یہ با لکل اسی طرح ہوا جیسا خداوند نے موسیٰ سے کہا تھا ۔

Exodus 10

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ،" فرعو ن کے پاس جا ؤ میں نے اُسے اور اُس کے عہدے داروں کو ضدّی بنا دیا ہے ۔ میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ میں انہیں اپنے طاقتور معجزے دکھا سکوں۔ 2 میں نے یہ اِس لئے بھی کیا کہ تم اپنے بیٹے ، بیٹیوں اور پو تے پوتیوں سے اِن معجزوں اور عجیب نشانیوں کو بتا سکو جو میں نے مصر میں دکھا یا ہے ۔ تب تم سب کو معلوم ہو گا کہ میں خداوند ہوں۔ 3 اِس لئے موسیٰ اور ہا رون فرعون کے پاس گئے ۔ اُنہوں نے اُس سے کہا ، " عبرانی لوگوں کا خدا وند خدا کہتا ہے ، ' تم میرے احکام کی تعمیل کر نے سے کب تک انکار کرو گے ؟ میرے لوگوں کو میری عبادت کر نے کے لئے جانے دو ۔ 4 اگر تم میرے لوگوں کو جانے سے منع کر تے ہو تو میں کل تمہا رے ملک میں ٹڈیوں کو لا ؤں گا ۔ 5 ٹڈیاں پو ری زمین کو ڈھانک لیں گی ۔ٹڈیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گی کہ تم زمین نہیں دیکھ سکو گے ۔ جو کچھ بھی اولے بھرے آندھی سے بچ گئی ہے اسے ٹڈیاں کھا جا ئیں گی۔ ٹڈیاں کھیتوں میں درختوں کی ساری پتیاں کھا جائیں گی ۔ 6 ٹڈیاں تمہا رے تمام گھروں تمہا رے تمام عہدیداروں کے گھروں اور مصر کے تمام گھروں میں بھر جا ئیں گی ۔ کو ئی بھی پہلے کبھی جتنی ٹڈیاں مصر میں دیکھے ہونگے اس سے بھی زیادہ ٹڈیاں تم دیکھو گے ۔"' تب موسیٰ پلٹا اور فرعون کو چھوڑ دیا ۔ 7 فرعون کے عہدیداروں نے اس سے پو چھا ، " ہم لوگ کب تک ان لوگوں کے جال میں پھنسے رہیں گے ۔ لوگوں کو ان کے خداوند خدا کی عبادت کر نے کے لئے جانے دو ۔ کیا تجھے اب تک معلوم نہیں کہ مصر برباد ہو چکا ہے ۔" 8 فرعون کے عہدیداروں نے موسیٰ اور ہا رون کو اپنے پاس واپس بُلا نے کو کہا ۔ فرعون نے اُن سے کہا، " جا ؤ اور اپنے خداوند خدا کی عبادت کرو۔ لیکن مجھے بتا ؤ کہ دراصل کون کون جا رہا ہے ؟" 9 موسیٰ نے جواب دیا ، " ہمارے جوان اور بوڑھے لوگ جا ئیں گے ۔ اور ہم لوگ اپنے ساتھ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں اور مینڈھے اور جانوروں کو بھی لے جا ئیں گے ِ۔ ہم سبھی جا ئیں گے ۔ کیوں کہ یہ ہم سب لوگوں کے لئے خداوند کی تقریب ہو گی ۔" 10 فرعون نے ان لوگوں سے کہا ، " اس سے پہلے کہ میں تمہیں اور تمہا رے تمام بچوں کو مصر چھو ڑ کر جانے دوں یقیناً خداوند کو تمہا رے ساتھ ہو نا ہو گا ۔ دیکھو تم لوگ بہت بُرا منصوبہ بنا رہے ہو ۔ 11 صرف مرد جا سکتے ہیں اور خداوند کی عبادت کر سکتے ہیں۔ تُم نے ابتدا میں صرف یہی مطالبہ کیا تھا ۔" تب فرعو ن نے موسیٰ اور ہا رون کو بھیج دیا ۔ 12 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " مصر کی زمین کے اوپر اپنا ہا تھ اُٹھا ؤ۔ ٹڈیاں آ جا ئیں گی اور ٹڈیاں مصر کی تمام زمین پر پھیل جا ئیں گی۔ ٹڈیاں اولوں سے بچے ہو ئے اس زمین کے تمام درختوں کو کھا جا ئیں گی ۔" 13 موسیٰ نے اپنے عصا کو ملک مصر کے اوپر اٹھا یا اور خداوند نے مشرق سے خوفناک آندھی چلا ئی ۔ آندھی سا ر ا دن اور ساری رات چلتی رہی جب صبح ہوئی تو آندھی ٹڈیوں کو لا چکی تھی ۔ 14 ٹڈیاں ملک مصر میں اُڑ کر آئیں اور زمین پر بیٹھ گئیں۔ مصر میں پہلے کبھی جتنی ٹڈیاں ہو ئی تھیں ان سے بھی زیادہ ٹڈیاں اس وقت تھیں اور اتنی تعداد میں وہاں ٹڈیاں پھر کبھی نہیں ہو ں گی ۔ 15 ٹڈیوں نے زمین کو ڈھانک لیا اور سارے ملک میں اندھیرا چھا گیا ۔ ٹڈیوں نے کھیتوں میں سارے پودوں کو کھا لیا ۔ مصر میں ایک بھی درخت یا پودا نہیں تھا جس میں کو ئی پتہ بچا ہوا ہو۔ 16 فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو جلدی بُلا یا ۔ فرعون نے کہا ، " میں نے تمہا رے اور تمہا رے خداوند کے خلاف گناہ کیا ہے ۔ 17 صرف اس وقت میرے گناہ کو معاف کرو اور خداوند اپنے خدا سے دعا کرو تا کہ یہ 'موت ' ( ٹڈیوں) ہم سے دور جا سکے ۔" 18 موسیٰ فرعون کو چھوڑ کر چلے گئے اور اُ سنے خداوند خدا سے دعا کی ۔ 19 اِس لئے خداوند نے ہوا کا رُخ بدل دیا ۔ خداوندنے مغرب سے تیز آندھی چلا ئی اور اُ س نے ٹڈیوں کو دور بحرا حمر میں اڑا دیا ۔ ایک بھی ٹڈی مصر میں نہیں بچی ۔ 20 لیکن خداوند نے فرعون کو پھر ضدّی کر دیا اور فرعون نے بنی اسرائیلیوں کو جانے نہیں دیا ۔ 21 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " اپنے ہا تھوں کو آسمان کی طرف اٹھا ؤ اور اندھیرا مصر پر چھا جا ئے گا ۔ یہ اندھیرا اتنا ہو گا جسے تم محسو س کر سکو گے !" 22 اس لئے موسیٰ نے ہوا میں اپنے ہا تھ اٹھا ئے اور گہرے اندھیرے نے مصر کو ڈھک لیا ۔ مصر میں تین دن تک اندھیرا رہا ۔ 23 کو ئی کسی دوسرے کو نہیں دیکھ سکتا تھا اور تین دن تک کو ئی اپنی جگہ سے نہیں اٹھ سکا ۔ لیکن ان تمام جگہوں پر جہاں بنی اسرائیل رہتے تھے روشنی تھی ۔ 24 فرعون نے موسیٰ کو پھر بُلا یا اور کہا ، " جا ؤ اور خداوند کی عبادت کرو ! تم اپنے ساتھ اپنے بچوں کو لے جا سکتے ہو ۔ صرف اپنی بھیڑیں اور جانور یہاں چھوڑ دینا ۔" 25 موسیٰ نے فرمایا ، " تم ہم لوگوں کو نذرانے اور قربانی کے لئے جانور بھی دو گے اور ہم لوگ ان کو خداوند اپنے خدا کی عبادت میں استعمال کریں گے ۔ 26 ہم لوگ اپنے جانور اپنے ساتھ خداوند کی عبادت کے لئے لے جا ئیں گے ۔ ایک جانور بھی پیچھے نہیں چھو ڑا جا ئے گا ۔ اب تک ہمیں نہیں معلوم کہ خداوند کی عبادت کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہو گی ۔ یہ ہم لوگوں کو اُسی وقت معلوم ہو گا جب ہم لوگ وہاں پہنچیں گے جہاں ہم جا رہے ہیں۔ اس لئے ہم لوگ ان تمام چیزوں کو ہما رے ساتھ لے جا ئیں گے ۔" 27 خداوند نے فرعون کو ضدّی بنا یا ۔ اس لئے فرعون اُن کو جانے سے منع کر دیا ۔ 28 تب فرعون نے موسیٰ سے کہا ، " مجھ سے دور ہو جا ؤ۔ میں نہیں چاہتا کہ تم پھر یہاں آؤ۔ اِس کے بعد اگر تم مجھ سے ملنے آؤ گے تو ما رے جا ؤ گے ۔" 29 تب موسیٰ نے فرعون سے کہا ، " تم جو کہتے ہو صحیح ہے ۔ میں تم سے ملنے پھر کبھی نہیں آؤنگا ۔"

Exodus 11

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " فرعون اور مصر کے خلاف میں ایک آفت لا ؤں گا اس کے بعد وہ تم لوگوں کو مصر سے بھیج دیگا : وہ تم لو گوں کو یہ ملک چھو ڑ نے کے لئے دباؤ ڈا لے گا ۔ 2 تم بنی اسرائیلیوں کو یہ پیغام ضرور دینا : تم سب مرد اور عورتیں اپنے پڑوسیوں سے چاندی اور سونے کی چیزیں مانگنا ۔ 3 حداوند مصریوں کو تم لوگوں پر مہربان بنا ئے گا ۔ مصری لوگ یہا ں تک کہ فرعون کے عہدید ار بھی پہلے سے موسیٰ کوعظیم شخصیت سمجھتے ہیں۔"' 4 موسیٰ نے کہا ، " خداوند کہتا ہے ، آج تقریباً آدھی رات کے وقت میں مصر سے ہو کر گذروں گا ، 5 اور مصر کا ہر ایک پہلو ٹھا بیٹا مصر کے حاکم فرعون کے پہلو ٹھے بیٹے سے لے کر چکّی چلا نے وا لی خادمہ تک کا پہلا بیٹا مر جا ئے گا ۔ پہلو ٹھے نر جانور بھی مریں گے ۔ 6 مصر کی سر زمین پر رونا پیٹنا ہو گا ۔ جیسا نہ ما ضی میں ہوا ہے نہ کبھی مستقبل میں ہو گا ۔ لیکن کسی بھی اسرا ئیلیوں کو چوٹ نہیں پہنچا ئی جا ئے گی ۔ 7 یہاں تک کہ اسرائیلی لوگوں کے کسی شخص یا جانور پر کتّا بھی نہیں بھونکے گا ۔ اس طرح تم جان جاؤگے کہ میں نے بنی اسرائیلیوں کے ساتھ مصری لوگوں سے مختلف سلوک کیا ۔ 8 تب تمہا رے تمام عہدیدار آئینگے اور وہ مجھے سجدہ کریں گے ۔ وہ لوگ کہیں گے ، " جا ؤ اور اپنے سبھی لوگوں کو اپنے ساتھ لے جا ؤ۔ تب میں نے فرعون کو غصّہ میں چھو ڑ دیا ۔"' 9 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " فرعون نے تمہا ری بات نہیں سنی ۔ کیوں؟ کیوں کہ میں اپنی عظیم طا قت مصر میں دکھا سکوں" ۔ 10 یہی وجہ تھی کہ موسیٰ اور ہا رون نے فرعون کے سامنے یہ بڑے بڑے معجزے دکھا ئے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ خداوند نے فرعون کو اتنا ضدّی بنا یا ۔ تاکہ وہ بنی اسرائیلیوں کو اپنا ملک چھو ڑنے نہیں دیگا ۔

Exodus 12

1 موسیٰ اور ہا رون جب مصر میں تھے ۔خدا وند نے ان سے کہا : 2 یہ " مہینہ تم لوگوں کے لئے سال کا پہلا مہینہ ہو گا ۔ 3 بنی اسرائیل کی پو ری قوم کے لئے یہ حکم ہے : اس مہینہ کے دسویں دن ہر ایک آدمی اپنے خاندان کے لوگوں کے لئے ایک میمنہ ضرور حاصل کر ے گا۔ 4 اگر پو را میمنہ کھا نے وا لے آدمی اپنے خاندان میں نہ ہوں تو اُ س کھانے میں اپنے پڑوسیوں کو ملا لینا چاہئے ۔ ہر ایک کے کھا نے کے لئے کا فی میمنہ ہو نا چاہئے ۔ 5 ایک سال کا یہ نر میمنہ با لکل صحت مند ہو نا چاہئے ۔ یہ جانور یا تو ایک مینڈھے کا بچہ یا بکری کا بچہ ہو سکتا ہے ۔ 6 تمہیں اُ س جانور کو مہینہ کے چودھویں دن تک بہت ہوشیاری کے ساتھ رکھنا چاہئے ۔ اس دن اسرائیل کی قوم کے تمام لوگوں کو شام ہو نے پر اس جانور کو ذبح کر نا چا ہئے۔ 7 ان جانوروں کا خون تمہیں جمع کر نا چاہئے ۔ کچھ خون ان گھروں کے دروازوں کی چوکھٹو ں کے اوپری حصہ اور دونوں کنا روں پر جن گھروں میں لوگ یہ کھا نا کھا تے ہیں لگانا چاہئے ۔ 8 " اس رات تم میمنہ کو ضرور بھون لینا اور گوشت کھانا ۔ تمہیں کڑوی جڑ ی بوٹیاں اور بے خمیری روٹیاں بھی کھانی چاہئے ۔ 9 تم کو میمنہ کو کچا نہیں کھانا چاہئے ۔ میمنہ کو پانی میں نہیں اُ بالنا چاہئے ۔ تمہیں پو رے میمنہ کو آ گ پر بھوننا چاہئے ۔ میمنہ کا سر اس کے پیر اور اس کا اندرونی حصہ پہلے جیسا ہی رہنا چاہئے ۔ 10 اسی رات کو تمہیں پو را گوشت ضرور کھا لینا چاہئے ۔ اگر تھوڑا گوشت صبح تک بچ جا ئے تو اسے آ گ میں ضرور جلا دینا چاہئے ۔ 11 " جب تم کھانا کھا ؤ تو ایسا لباس پہنو جیسے تم سفر پر جا رہے ہو ۔ تم کو پو ری طرح سے ملبوس ہو نا چاہئے ۔ تم لوگ اپنے جو تے پہنے رہنا اور اپنے سفر کی چھڑی کو اپنے ہا تھوں میں رکھنا ۔ تم لوگوں کو کھانا جلدی کھانا چاہئے کیوں کہ یہ خداوند کے فسح کی تقریب ہے 12 " میں آج رات مصر سے ہو کر گزروں گا ۔ اور مصر میں ہر پہلو ٹھے کو مار ڈا لوں گا ۔ میں مصر کے تمام خدا ؤں کو سزا دو ں گا ۔ اور دکھا ؤنگا کہ میں خداوند ہوں۔ 13 لیکن تم لوگوں کے گھروں پر لگا ہوا خون ایک خاص نشان ہو گا جب میں دیکھوں گا تو تملوگوں کے گھروں کو چھو ڑتا ہوا گذر جا ؤں گا۔ میں مصری لوگوں کو مار ڈا لوں گا ۔ لیکن میں تم میں سے کسی کو بھی نہیں ما روں گا ۔ 14 " تم لوگ آج کی رات کو ہمیشہ یاد رکھو گے ۔ کیونکہ تم لوگوں کے لئے یہ ایک خاص تقریب ہو گی ۔ تمہا ری نسل ہمیشہ اس مقدس تقریب سے خداوند کو تعظیم دیا کرے گی ۔ 15 اس مقدس تقریب پر تم بے خمیری آٹے کی روٹیاں سات دنوں تک کھا ؤ گے ۔ اس مقدس تقریب کے آنے پر تم لوگ پہلے دن اپنے گھروں سے سارے خمیر کو با ہر ہٹا دو گے۔ اس مقدّس تقریب کے پو رے سات دن تک اگر کو ئی بھی شخص خمیر کھا ئے تو اُسے تم اسرائیل کے دوسرے لوگوں سے با لکل الگ کر دینا ۔ 16 اس مقدس تقریب کے پہلے اور آخری دنوں میں مقدس اِجلا س منعقد ہو گی ۔ ان دنوں تمہیں کو ئی کام نہیں کرنا چاہئے ۔ ان دنو ں صرف ایک کام جو کیا جا سکتا ہے وہ اپنا کھانا تیار کر نا ۔ 17 " تم لوگو ں کو بے خمیری روٹی کی تقریب کو ضرور یاد رکھنا چاہئے ۔ کیو ں؟ کیوں کہ اس دن ہی میں نے تمہا رے لوگو ں کو گروہوں میں مصر سے با ہر نکال لا یا ۔ اس لئے تم لوگو ں کی تمام نسلوں کو یہ دن یاد رکھنا چاہئے ۔ یہ قانون ایسا ہے جو ہمیشہ رہے گا ۔ 18 اس لئے پہلے مہینے کے چودھویں دن کی شام سے تم لوگ بے خمیری روٹی کھانا شروع کرو گے۔ اسی مہینے کے اکیسویں دن کی شام تک تم ایسی رو ٹی کھا ؤ گے۔ 19 سات دن تک تم لوگوں کے گھروں میں کو ئی خمیر نہیں ہونا چاہئے ۔ کو ئی بھی آدمی چا ہے وہ اِسرائیل کا شہری ہو یا اجنبی جو اس وقت خمیر کھا ئے گا دوسرے اسرا ئیلیوں سے اسے ضرور علٰحدہ کر دیا جا ئے گا ۔ 20 اس مقدس تقریب میں تم لوگوں کو خمیر نہیں کھانا چاہئے ۔ تم جہاں بھی رہو ، بے خمیری روٹی ہی کھا نا۔" 21 اس لئے موسیٰ نے تمام اسرائیلی بزرگوں کو ایک جگہ پر بُلا یا ۔ موسیٰ نے ان سے کہا ، " اپنے خاندانوں کے لئے میمنے حاصل کرو فسح کی تقریب کے لئے میمنے ذبح کرو ۔ 22 زوفا کے گچھوں کو لیکر خون سے بھرے برتن میں انہیں ڈو باؤ۔ خون سے چوکھٹوں کے دو نوں کناروں اور اوپری حصّوں کو رنگ دو ۔ کو ئی بھی آدمی صبح ہو نے سے پہلے اپنا گھر نہ چھو ڑے ۔ 23 اس وقت جب خدا وند پہلو ٹھے اولادوں کو مارنے کے لئے مصر سے ہو کر جائے گا تو وہ چو کھٹ کے دونوں کنارے اور اوپری سروں پر خون دیکھے گا ۔ تب خدا وند اس گھر کی حفاظت کریگا ۔ خدا وند تباہ کر نے والے اور نقصان پہنچانے والے کو تمہارے گھروں میں نہیں آنے دیگا ۔ 24 تم لوگ اس حکم کو ضرور یاد رکھنا ۔ یہ قانون تم لوگوں اور تم لوگوں کی نسلوں کے لئے ہمیشہ کے لئے ہے ۔ 25 تم لوگوں کو یہ کام کر نا تب بھی یاد رکھنا ہو گا جب تم لوگ اس ملک میں پہونچو گے جو خدا وند تم لوگوں کو دیگا ۔ 26 جب تم لوگوں کے بچّے تم سے پو چھیں گے، ' ہم لوگ یہ تقریب کیوں منا تے ہیں ؟' 27 تم لوگ کہو گے ، 'یہ فسح کی تقریب خدا وند کی تعظیم کے لئے ہے ۔ کیوں کہ جب ہم لوگ مصر میں تھے ، تب خداوند ہم لوگوں کے گھروں سے ہو کر گزرا تھا ۔ خداوند نے مصریوں کو مار ڈا لا ۔ لیکن اس نے ہم لوگوں کے گھروں میں ہم لوگوں کو بچا یا ۔ اِس لئے لوگ اب خدا وند کی جھک کر تعظیم اور عبادت کر تے ہیں ۔" 28 خدا وند نے یہ حکم موسیٰ ا ور ہارون کو دیا تھا ۔ اِس لئے بنی اسرائیلیوں نے وہی کیا جو خدا وند کا حکم تھا ۔ 29 آدھی رات کو خدا وند نے مصر کے تمام پہلو ٹھے بیٹوں ،فرعون کے پہلوٹھے بیٹے ( جو مصر کا حاکم تھا ) سے لیکر قید خانے میں بیٹھے قیدی کے بیٹے تک کو مار ڈا لا ۔ پہلو ٹھے جانور بھی مر گئے ۔ 30 مصر میں اُس رات ہر گھر میں کو ئی نہ کو ئی مرا ۔ اس رات فرعون اُس کے عہدیدار اور مصر کے تمام لوگ زورسے رو نے اور چیخنے لگے ۔ 31 اس لئے اُس رات فرعون نے موسیٰ اور ہا رون کو بُلا یا ۔ فرعون نے اُن سے کہا ، " تیار ہو جا ؤ اور ہما رے لوگوں کو چھوڑ کر چلے جا ؤ۔ تم اور تمہا رے لوگ ویسا ہی کر سکتے ہو جیسا تم کہتے ہو ۔ جا ؤ اور خداوند کی عبادت کرو ۔ 32 اور جیسا تم نے کہا ہے کہ تم اپنی بھیڑیں اور مویشی اپنے ساتھ لے جانا چا ہتے ہو لے جا ؤ اور مجھے بھی دُعا دو۔" 33 ‎مصر کے لوگوں نے بھی کہا ، " ہم لوگ بھی مر جا ئیں گے اگر تم نہیں جا ؤ گے ۔" اور ان لوگوں نے بنی اسرائیلیوں کو جلدی جانے کے لئے مجبور کیا !" 34 لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ اپنی رو ٹی پھلنے دے۔ اُنہوں نے گوندھے آٹے کے پراٹھو ں کو اپنے کپڑوں میں لپیٹا اور اسے اپنے کندھوں پر رکھ کر لے گئے ۔ 35 تب بنی اسرائیلیوں نے وہی کیا جو موسیٰ نے کر نے کو کہا۔ وہ اپنے مصری پڑوسیوں کے پاس گئے اور اُن سے لباس اور سونے چاندی کی بنی چیزیں مانگیں۔ 36 خداوند نے مصریوں کو بنی اسرائیلیوں کے تئیں رحم دل بنا یا ۔ اِس لئے بنی اسرائیلیوں نے مصری لوگوں سے دولت حاصل کئے۔ 37 بنی اسرائیلیوں نے رعمیس سے سکات تک سفر کئے ۔ وہ تقریباً چھ لا کھ آدمی تھے ۔ اس میں بچے شامل نہیں تھے ۔ 38 اُن کے ساتھ اُن کی بھیڑیں، گا ئے ، بکریاں اور دوسری کئی چیزیں تھیں۔ اُن کے ساتھ کچھ ایسے دوسرے لوگ بھی سفر کر رہے تھے جو اسرائیلی نہیں تھے ۔ لیکن وہ بنی اسرائیلیوں کے ساتھ گئے ۔ 39 لیکن لو گوں کو روٹی پھُلنے دینے کا وقت نہ ملا کیونکہ وہ مصر سے بہت تیزی سے نکال دیئے گئے تھے اور اُنہوں نے اپنے سفر کے لئے کو ئی خاص کھانا نہیں بنا یا ۔ اس لئے اُن کو گوندھے ہو ئے آٹے سے بغیر خمیر کے ہی روٹیاں بنا نی پڑی جسے کہ وہ مصر سے لا ئے تھے ۔ 40 بنی اسرائیل مصر میں ۴۳۰ سال تک رہے ۔ 41 چار سو تیس سال بعد با لکل اُسی دن خداوند کی ساری فوج مصر سے نکل گئی ۔ 42 کیونکہ اس خاص رات کو خداوند نے ان لوگوں کو مصر سے باہر نگاہِ کرم کر نے کے لئے رکھا تھا ۔ اسی طرح اس رات کو نسل در نسل سبھی بنی اسرائیلیوں کو خداوند کو تعظیم دینے کے لئے ہمیشہ ہمیشہ چوکسی برتنا چاہئے ۔ 43 خداوند نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا فسح کی تقریب کے اُ صول یہ ہیں: کو ئی اجنبی فسح کی تقریب میں سے نہیں کھا ئے گا ۔ 44 لیکن اگر کو ئی آدمی غلام کو خرید لے گا اور اگر اُس کا ختنہ کرے گا تو وہ غلام اُس فسح میں سے کھا سکتا ہے ۔ 45 لیکن اگر کو ئی آدمی صرف تم لو گوں کے ملک میں رہتا ہے یا تمہا رے لئے کسی آدمی کو مزدوری پر رکھا گیا ہے تو اُ س آدمی کو اُس فسح میں سے نہیں کھانا چاہئے ۔ 46 " اسے ایک گھر کے اندر ہی کھا نا کھانا چاہئے ۔ کو ئی بھی کھانا گھر کے با ہر نہیں لے جانا چاہئے ۔ میمنے کی کسی ہڈی کو نہ تو ڑو ۔ 47 پو ری اسرائیلی قوم اس تقریب کو ضرور منا ئے ۔ 48 اگر کو ئی ایسا آدمی تم لوگوں کے ساتھ رہتا ہے جو بنی اِسرائیل کی قوم کا نہیں ہے لیکن وہ فسح کی تقریب میں شامل ہو نا چاہتا ہے تو ہر مرد کا ختنہ کیا ہوا ہو نا چاہئے۔ تب پھر وہ اسرائیل کے مساوی ہو گا اور وہ کھا نے میں حصّہ لے سکتا ہے ۔ اگر اُس آدمی کا ختنہ نہیں ہوا ہے تو وہ اس فسح کی تقریب کے کھا نے میں سے نہیں کھا سکتا ۔ 49 یہی اُ صول ہر ایک پر لا گو ہونگے ۔ اُ صولوں کے لا گو ہو نے میں اُس بات کا کو ئی امتیاز نہیں ہو گا کہ وہ آدمی تمہا رے ملک کا شہری ہے یا غیر ملکی ہے ۔" 50 اس لئے سبھی بنی اسرائیلیوں نے احکام کی تعمیل کی جنہیں میں ، خداوند نے موسیٰ اور ہا رون کو دیا تھا ۔ 51 اس طرح خداوند اسی دن سبھی بنی اسرائیلیوں کو مصر سے با ہر لے گیا ۔ لوگ گروہوں میں نکلے ۔

Exodus 13

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " تمہیں اسرائیلیوں میں سے ہر پہلو ٹھے مرد کو مجھے دینا چاہئے ۔ ہر ایک عورت کا پہلا نر بچہ اور ہر جانور کا پہلا نر بچہ میرا ہو گا ۔" 3 موسیٰ نے لوگوں سے کہا ، " اس دن کو یاد رکھو جب تم لوگ مصر میں غلام تھے لیکن اُس دن خدا وند نے اپنی عظیم قدرت کا استعمال کیا اور تم لوگوں کو آزاد کیا تم لوگ خمیر کے ساتھ روٹی مت کھا نا ۔ 4 آج ہی کے دن ابیب کے مہینے میں تم لوگ مصر چھو ڑے ہو ۔ 5 خدا وند نے تم لوگوں کے باپ دادا سے خاص وعدہ کیا تھا ۔ خدا وند نے تم لوگوں کو کنعانی ، حتّی ،اموری ،حوّی ، اور یبوسی لوگوں کی زمین کو دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ خدا وند جب تم لوگوں کو اچھّی چیزوں سے بھری ہو ئی ملک میں پہونچا دے تب تم لوگ اس دن کو ضرور یاد رکھنا ۔تم لوگ ہر سال کے پہلے مہینے میں اِس دن کو خاص عبادت کا دن رکھنا۔ 6 " سات دن تک تم لوگ وہی روٹی کھا نا جس میں خمیر نہ ہو ۔ ساتویں دن خدا وند کے لئے ایک دعوت ہو گی یہ دعوت خدا وند کی تعظیم کے اہتمام کے لئے ہو گی ۔ 7 سات دن تک لوگوں کو خمیر کے ساتھ بنی روٹی نہیں کھا نا چاہئے ۔ تمہارے ملک میں خمیر کی کو ئی روٹی نہیں ہو نی چاہئے یہاں تک کے کسی بھی جگہ خمیر نہیں ہو نی چاہئے ۔ 8 اُس دن تم کو اپنے بچّوں سے کہنا چاہئے یہ اسلئے کیوں کہ خدا وند نے مجھے مصر سے باہر نکا لا ۔' 9 " یہ مُقدس دن تم لوگوں کو یاد رکھنے میں مدد کرے گا ۔ یہ تم لوگوں کے ہاتھ پر باندھے دھا گے کا کام کرے گا ۔ یہ مقدس دن خدا وند کی تعلیمات کو یاد کر نے میں تمہاری مدد کرے گا ۔ تمہیں یہ یاد دلا نے میں مدد کرے گا کہ خدا وند نے تم لوگوں کو مصر سے باہر نکالنے کے لئے اپنی عظیم قدرت کو استعمال کیا ۔ 10 اِس لئے ہر سال اُس دن کو ٹھیک وقت پر یاد رکھو ۔ 11 " خدا وند تم لوگوں کو اُس ملک میں لے چلے گا جسے تم لوگوں کو اور تمہارے آباؤ اجداد کو دینے کے لئے اس نے دعدہ کیا تھا ۔ اِس وقت وہاں کنعانی لوگ رہتے ہیں ۔ 12 تم لوگ اپنے ہر ایک پہلو ٹھے بیٹے کو دینا یاد رکھنا ۔ اور ہر نر جانور جو پہلو ٹھا ہو خدا وند کو دینا ہو گا ۔ 13 ہر پہلو ٹھا گدھا خدا وند سے واپس خریدا جا سکتا ہے ۔ تم لوگ اس کے بدلے میمنے کو پیش کر کے گدھے کو رکھ سکتے ہو ۔ اگر تم خدا وند سے گدھا خرید نا نہیں چاہتے ۔ تب تم کو اس کی گردن توڑ ڈالنی چاہئے ۔ ہر ایک پہلو ٹھا لڑ کا ضرور خدا وند سے لا یا جانا چاہئے ۔ 14 " مستقبل میں تمہارے بچّے پو چھیں گے کہ تم کیا کر تے ہو ۔ وہ کہیں گے ، ' ان سب کا کیا مطلب ہے ؟' اور تم جواب دو گے ، ' خدا وند نے ہم لوگوں کو مصر سے بچا نے کے لئے عظیم قدرت کا استعمال کیا جب ہم لوگ وہاں غلام تھے ۔ لیکن خدا وند نے ہم لوگوں کو باہر نکالا اور یہاں لا یا ۔ 15 مصر میں فرعون ضدّی تھا اس نے ہم لوگوں کو جانے نہیں دیا تھا ۔ لیکن خدا وند نے اس ملک کے تمام نر پہلو ٹھا اولادوں کو مار ڈا لا تھا ۔ خدا وند نے پہلو ٹھے نر جانوروں اور پہلو ٹھے بیٹوں کو مار ڈا لا ۔ اس لئے ہم لوگ انسان اور جانور دونوں کے ہر ایک پہلو ٹھے کو خدا وند کو پیش کر تے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر پہلو ٹھے بیٹوں کو پھر خدا وند سے واپس خرید تے ہیں ۔ ' 16 یہ تمہارے ہاتھ پر بندھے دھا گے کی طرح ہے اور یہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ایک نشان کی طرح ہے ۔ یہ اُسے یاد کر نے میں مدد کر تا ہے کہ خدا وند اپنی عظیم قدرت سے ہم لوگوں کو مصر سے باہر لا یا ۔" 17 فرعون نے لوگوں کو مصر چھو ڑ نے کے لئے مجبور کیا ۔ خدا وند نے لوگوں کو فلسطین جانے والی سڑک کو پکڑ نے کی اجازت نہیں دی ، جو کہ سب سے نزدیک پڑ تا ہے ۔ لیکن خدا نے کہا ، " اگر لوگ اس راستہ سے جائیں گے تو انہیں لڑ نا پڑیگا پھر وہ اپنا دل بدل سکتے ہیں اور مصر کو واپس ہو سکتے ہیں۔ " 18 اس لئے خدا انہیں دوسرے راستہ سے لے گیا وہ بحر قلزم کے کنارے ریگستان سے لے گیا ۔ لیکن بنی اسرائیل جنگ کے لئے لباس پہنے تیار تھے ۔ 19 موسیٰ یوسف کی ہڈیوں کو اپنے ساتھ لے گیا ۔ مر نے سے پہلے یوسف نے اسرائیل کی اولاد سے یہ کر نے کا وعدہ کر لیا تھا ۔ یوسف نے کہا ، " جب خدا تم لوگو ں کو بچا ئے میری ہڈیوں کو مصر کے باہر اپنے ساتھ لے جانا یاد رکھنا ۔ " 20 بنی اسرائیلیوں نے سکات شہر کو چھو ڑا اور ایتام میں خیمہ ڈا لا ایتام ریگستان کے کو نے پر تھا ۔ 21 خدا وند نے راستہ دکھا یا ۔ دن کے وقت خدا وند بادل کے ستون میں ان لوگوں کو راستہ دکھا نے کے لئے تھا ۔ اور رات میں خدا وند آ گ کے ستون میں تھا روشنی دینے کے لئے ۔ تاکہ وہ دن اور رات میں بھی سفر کر سکیں ۔ 22 بادل کا ستون ہمیشہ دن میں اُن کے ساتھ رہا ۔ اور رات کو آ گ کا ستون ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ۔

Exodus 14

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " لوگوں سے کہو وا پس جا ئیں اور بعل صفون کے نزدیک مجدول اور بحر قلزم کے بیچ فی ہخیروت سے پہلے خیمہ لگا ئیں۔ 3 فرعون سوچے گا کہ بنی اسرائیل ریگستان میں بھٹک گئے ہیں اور وہ سوچے گا کہ لوگوں کو کو ئی جگہ نہیں ملے گی جہاں وہ جا ئیں گے ۔ 4 میں فرعون کی ہمت بڑھاؤں گا تا کہ وہ تم لوگوں کا پیچھا کرے لیکن میں فرعون اور اُس کی فوج کو شکست دوں گا ۔ اس لئے مجھے فخر حاصل ہو گا ۔ تب مصر کے لوگوں کو معلوم ہو گا کہ میں ہی خداوند ہوں۔ بنی اسرائیلیوں نے وہی کیا جو خدا نے اسے کر نے کے لئے کہا تھا ۔ 5 جب مصر کے بادشاہ نے یہ جانا کہ بنی اسرائیل بھا گ گئے ہیں تو اُس نے اور اُس کے عہدیداروں نے ان لوگوں کے با رے میں اپنا خیال بدل دیا۔ فرعون نے کہا ، " ہم لوگوں نے ایسا کیوں کیا ؟ ہم لوگوں نے انہیں بھا گنے کی اجا زت کیوں دی ؟ اب ہمارے غلام ہما رے ہا تھوں سے نکل گئے ہیں۔" 6 اس لئے فرعو ن نے جنگی رتھ کو تیار کیا اور اپنی فوج کو ساتھ لیا ۔ 7 فرعو ن نے اپنے لوگوں میں سے ۶۰۰ سب سے اچھے آدمی اور مصر کے تمام رتھوں کو لیا ۔ ہر ایک رتھ میں ایک عہدے دار بیٹھا تھا ۔ 8 بنی اسرائیل فتح کی خوا ہش میں اپنے رتھوں کو اوپر اٹھا ئے جا رہے تھے ۔ لیکن خداوند نے مصر کے بادشا ہ فرعون کو با ہمت بنا یا اور فرعو ن نے بنی اسرائیلیوں کا پیچھا کر نا شروع کیا ۔ 9 مصری فوج کے پاس بہت سے گھو ڑے ، سپا ہی اور رتھ تھے ۔ اُنہوں نے بنی اسرائیلیوں کا پیچھا کیا اور اُس وقت جب وہ بحر قلزم کے کنا رے بعل صفون کے نزدیل فی ہخیروت میں خیمہ لگا رہے تھے تو پکڑے گئے ۔ 10 بنی اسرائیلیوں نے فرعون اور اس کی فوج کو اپنی طرف آتے دیکھا تو وہ لوگ بے حد ڈر گئے انہوں نے مدد کے لئے خدا وند کو پکا را ۔ 11 انہوں نے موسیٰ سے کہا ، " تم ہم لوگوں کو مصر سے باہر کیوں لا ئے ؟ تم ہم لوگوں کو اس ریگستان میں مر نے کے لئے کیوں لا ئے ؟ کیا مصر میں قبریں نہیں تھیں ؟۔ 12 ہم لوگوں نے کہا تھا کہ ایسا ہو گا ۔ مصر میں ہم لوگوں نے کہا تھا ، ' مہر بانی کر کے ہم لوگوں کو پریشان نہ کرو ۔ ہم لوگوں کو یہاں ٹھہر نے اور مصریوں کی خد مت کر نے دو۔' یہاں آکر ریگستان میں مر نے سے اچھا ہو تا کہ ہم لوگ وہاں مصریوں کے غلام بن کر رہتے ۔" 13 لیکن موسیٰ نے جواب دیا ، " ڈرو نہیں ! بھا گو مت ! ذرا ٹھہرو اور دیکھو کہ آج تم لوگوں کو خدا وند کیسے بچا تا ہے ۔ آج کے بعد تم لوگ اِن مصریوں کو کبھی نہیں دیکھو گے ۔ 14 تم لوگوں کو پُر امن رہنے کے علا وہ اور کچھ نہیں کر نا ہے ۔خدا وند تم لوگوں کے لئے لڑے گا ۔" 15 پھر خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " تم مجھے کیوں پکار رہے ہو ۔ بنی اسرائیلیوں کو آگے بڑھنے کا حکم دو ۔ 16 اپنے ہاتھ کے عصا کو بحر قلزم کے اوپر اٹھا ؤ اور بحر قلزم دو حصّوں میں بٹ جائے گا ۔ بنی اسرائیل سمندر کے بیچ خشک زمین سے ہو کر پار کر جائیں گے ۔ 17 میں نے مصریوں کو باہمت بنایا ہے ۔ اس طرح وہ تمہارا پیچھا کریں گے لیکن میں بتاؤں گا کہ میں فرعون اور اسکے سبھی عہدیداروں اور رتھوں سے زیادہ طا قتور ہوں ۔ 18 تب مصری سمجھیں گے کہ میں خدا وند ہوں ۔ جب میں فرعون اور اسکے عہدے داروں اور رتھوں کو شکست دونگا تب وہ میری تعظیم کریں گے ۔" 19 اُس وقت خدا وند کا فرشتہ اسرائیلی خیمہ کے پیچھے گیا ۔ اس لئے بادل کا ستون لوگوں کے آگے سے ہٹ گیا اور اُن کے پیچھے آ گیا ۔ 20 اس طرح بادل مصریوں کے خیمہ اور اِسرائیلیوں کے خیمہ کے درمیان کھڑا ہو گیا ۔ بنی اسرائیلیوں کے لئے روشنی تھی لیکن مصریوں کے لئے اندھیرا ۔ اِس لئے مصری اس رات اِسرائیلیوں کے قریب نہ آسکے ۔ 21 موسیٰ نے اپنا ہاتھ بحر قلزم کے اوپر اٹھا ئے اور خدا وند نے مشرق سے تیز آندھی چلا ئی ۔ آندھی تمام رات چلتی رہی سمندر پھٹا اور ہوا نے زمین کو خشک کیا ۔ 22 بنی اسرائیل سوکھی زمین پر چل کر سمندر کے پار گئے ۔ ان کے دائیں طرف اور بائیں طرف پانی دیوار کی طرح تھا ۔ 23 تب فرعون کے تمام رتھ اور گھوڑ سواروں نے سمندر میں ا ن کا پیچھا کیا ۔ 24 صبح سویرے ہی خدا وند بادل کے ستون اور آ گ کے ستون پر سے مصر کی فوج کو نیچے دیکھا اور خدا وند نے مصریوں کو بہت زیادہ گھبرا دیا ۔ 25 رتھوں کے پہیے دھنس گئے ۔ رتھوں کا قابو کر نا مشکل ہو گیا ۔ مصری چلّائے ، " ہم لوگوں کو یہاں سے چلنا چاہئے ۔ خدا وند ہم لوگوں کے خلاف لڑ رہا ہے خدا وند بنی اسرائیلیوں کے لئے لڑ رہا ہے ۔' 26 تب خدا وند نے موسیٰ سے کہا اپنے ہاتھ کو سمندر کے اوپر اٹھا ؤ ۔پھر پا نی گرے گا اور مصریوں کے رتھوں اور گھوڑ سواروں کو ڈبو دیگا ۔" 27 اس لئے دن نکلنے سے پہلے موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر اُٹھا یا اور پا نی اپنی اصلی جگہ پر واپس آ گیا ۔ مصری بھا گنے کی تیّاری کر رہے تھے ۔ لیکن خدا وند نے مصریوں کو سمندر میں بہا کر ڈبود یا ۔ 28 پا نی اپنی اصلی جگہ پر واپس آ گیا اور اس نے رتھوں اور گھوڑ سواروں کو ڈھانک لیا ۔ فرعون کی پوری فوج جو اسرائیلی لوگوں کا پیچھا کر رہی تھی ڈوب کر تباہ ہو گئی ۔ ان میں سے کو ئی بھی نہیں بچا ۔ 29 لیکن بنی اسرائیلیوں نے سوکھی زمین پر چل کر سمندر پار کیا ان کے دائیں اور بائیں طرف پانی دیوار کی طرح کھڑا تھا۔ 30 اِس لئے اُس دن خداوند نے بنی اسرائیلیوں کو مصریوں سے بچا یا اور بنی اسرائیلیوں نے مصریوں کی لاشوں کو بحر قلزم کے کنارے پر دیکھا ۔ 31 بنی اسرائیلیوں نے خدا وند کی عظیم قدرت کو دیکھا ۔ جب اس نے مصریوں کو شکست دی تو لوگ خدا وند سے ڈرے اور اُس کی عزت کی اور انہوں نے خدا وند اور اُس کے خادم موسیٰ پر یقین کیا ۔

Exodus 15

1 تب موسیٰ اور بنی اسرائیل خدا وند کے لئے یہ نغمہ گانے لگے : 2 خدا وند ہی میری طا قت ہے ۔ وہ ہمیں بچا تا ہے اور میں اسکی تعریف کے گیت گاتا ہوں ۔ خدا وند خدا میرے آباؤ اجداد کا خدا ہے اور میں اس کی تعظیم کر تا ہوں ۔ 3 خدا وند عظیم جنگجو (صاحب جنگ) ہے ۔ اس کا نام یہواہ ہے ۔ 4 اُس نے فرعون کے رتھو ں اور سپاہیوں کو سمندر میں پھینکا ۔ فرعون کے بہترین سپاہی بحر قلزم میں ڈوب گئے ۔ 5 گہرے پانی نے انہیں ڈھک لیا وہ چٹا نوں کی طرح گہرے پا نی میں ڈوبے ۔ 6 تیرا داہنا ہاتھ عجیب و غریب طا قت کا حامل ہے ۔ خدا وند تیرے داہنے ہاتھ نے دشمن کو پا مال کر دیا ۔ 7 تو نے اپنی عظمت کے زور سے انہیں تباہ کیا ۔جو تیرے خلاف کھڑے ہو ئے تو نے اپنے غصّہ کو بھیجا اور انہیں بر باد کیا اسی طرح جس طرح کہ آ گ پیال کو جلاتا ہے ۔ 8 تو نے زور دار ہوا چلا ئی ۔ تو نے پا نی کو اونچا اٹھا یا ۔ تو نے بہتے ہو ئے پا نی کو ٹھوس دیوار بنا دیا ۔ سمندر اپنا گہرائی تک ٹھوس بن گیا ۔ 9 دشمن نے کہا ، " میں انکا پیچھا کروں گا اور ان کو پکڑوں گا ۔میں ان کی ساری دولت لے لونگا ۔میں اپنی تلوار نکالوں گا ۔ اور میرا ہاتھ انکو تباہ کر دیگا ۔" 10 لیکن تُو نے ان پر پھونک ماری اور انہیں سمندر سے ڈھک دیا ۔ وہ سیسے کی طرح زور آور سمندر میں ڈوب گئے ۔ 11 " کیا کو ئی دیوتا خدا وند کے جیسا ہے ؟ نہیں کو ئی دیوتا تیرے جیسا نہیں ۔تو عجیب و غریب ہے اپنے تقدس میں بے مثال ہے ۔تو حیران کر نے والی قدرت رکھتا ہے تو عظیم معجزے کر تا ہے ۔ 12 تُونے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا یا اس لئے زمین اسکو نگل گئی ۔ 13 ‎لیکن تُو مہر بانی سے ان لوگوں کو لے چلا جنہیں تُو نے بچا یا ہے ۔ تُو اپنی طاقت سے اُن لوگوں کو اپنے مقدّس اور سہانے ملک کو لے جاتا ہے ۔ 14 دوسرے ممالک ان قصّوں کو سنیں گے۔ اور خوف زدہ ہو نگے ۔فلسطینی لوگ ڈر سے کانپیں گے ۔ 15 تب ایدوم کے قائدین ڈر سے کانپیں گے ۔موآب کے قائدین ڈر سے کانپیں گے ۔ کنعان کے لوگ اپنی ہمّت کھو دیں گے ۔ 16 وہ لوگ دہشت اور خوف زدہ ہو جائیں گے ۔ جب تیرے زور آور بازو کو دیکھیں گے ۔ وہ لوگ چٹّان کی طرح بے حس و حر کت ہوجائیں گے جب تک تیرے لوگ گزر نہ جائیں ۔ 17 خدا وند تو اپنے لوگوں کو ضرور لے جائے گا ۔ اپنے پہاڑ پر اُس جگہ تک جسے تُو نے اپنے تخت کے لئے بنایا ہے ۔ اے آقا ! تُو اپنا گھر اپنے ہاتھوں بنائے گا ! 18 خدا وند ہمیشہ ہمیشہ حکو مت کرتا رہے گا ۔" 19 ہاں فرعون کے گھو ڑے ،گھوڑ سوار اور رتھ سمندر میں ڈوب گئے اور خدا وند نے انہیں سمندر کے پا نی سے ڈھک دیا ۔ لیکن بنی اسرائیل سوکھی زمین پر چل کر سمندر کو پار کر گئے ۔ 20 تب ہارون کی بہن نبیہ میر یم نے ایک دف لیا ۔میریم اور عورتوں نے ناچ گانا شروع کیا ۔ میریم نے الفاظ کو دُہرایا۔ 21 " خدا وند کے لئے گاؤ ۔ کیوں کہ اُس نے عظیم کام کیا ہے ۔اُس نے گھو ڑے کو اور گھوڑ سوار کو سمندر میں ڈبودیا ۔" 22 موسیٰ بنی اسرائیلیوں کو بحر قلزم سے دور لے چلا ۔ لوگ ریگستان میں پہونچے ۔ وہ تین دن تک شور ریگستان میں سفر کر تے رہے ۔ لوگ پانی بھی نہ پا سکے ۔ 23 لوگ مارہ پہنچے ۔ مارہ میں پا نی تھا لیکن پانی اتنا کڑوا تھا کہ لوگ پی نہیں سکتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ اس جگہ کا نام مارہ پڑا ۔ 24 لوگوں نے موسیٰ سے شکایت کر نا شروع کی لوگوں نے کہا ، " اب ہم لوگ کیا پئیں؟" 25 موسیٰ نے خدا وند کو پکا را اِس لئے خدا وند نے اسے ایک درخت دِکھا یا ۔ موسیٰ نے درخت کو پانی میں ڈالا جب اُس نے ایسا کیا تو پانی پینے کے قابل ہو گیا ۔ اُس مقام پر خدا وند نے لوگوں کا امتحان لیا اور اُنہیں ایک شریعت دی ۔ 26 خدا وند نے کہا ، " تم لوگوں کو اپنے خدا وند خدا کا حکم ضرور ماننا چاہئے ۔ تم لوگوں کو وہ کر نا چاہئے جسے وہ ٹھیک کہے اگر تم خدا وند کے حکم اور شریعت کی تعمیل کرو گے تو تم لوگ مصریوں کی طرح بیمار نہیں ہو گے ۔میں خدا وند تم لوگوں کو کو ئی ایسی بیماری نہیں دونگا جسے میں نے مصریوں کو دی ۔ میں خدا وند ہوں ۔ میں ہی وہ ہوں جو تمہیں تندرست بناتا ہوں ۔ " 27 تب لوگوں نے ایلیم تک سفر کیا ۔ ایلیم میں پانی کے بارہ چشمے تھے ۔ اور وہاں ستّر کھجور کے درخت تھے اس لئے لوگوں نے وہاں پانی کے قریب خیمے ڈا لے ۔

Exodus 16

1 تب لوگوں نے ایلیم سے سفر کر کے سینا ئی کے ریگستا ن پہنچے ۔ یہ جگہ ایلیم اور سینائی کے درمیان تھی ۔ وہ اُس جگہ پر مصر سے نکلنے کے بعد دُوسرے مہینے کے پندرھویں دن پہو نچے۔ 2 تب بنی اسرائیلیوں نے پھر شکا یت کر نی شروع کی ۔ اُنہوں نے موسیٰ اور ہا رون سے ریگستان میں شکا یت کی ۔ 3 لوگوں نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا ، " یہ ہما رے لئے اچھا ہو تا کہ خداوند ہم لوگوں کو مصر میں مار ڈالا ہو تا ۔ مصر میں ہم لوگوں کے پاس کھانے کو بہت کچھ تھا ۔ ہم لوگوں کے پاس بہت سارے کھا نے تھے جس کی ہمیں ضرورت تھی۔ لیکن اب تم ہمیں ریگستان میں لے آئے ہو ۔ ہم سب یہاں بھوک سے مر جا ئیں گے ۔" 4 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " میں آسمان سے کھا نا گرا ؤں گا ۔ یہ غذا تم لوگوں کے کھانے کے لئے ہو گی ۔ ہر روز لوگ با ہر جا ئیں اور اُس دن کے کھا نے کی ضرورت کے مطا بق کھانا جمع کریں۔ میں یہ اس لئے گرا ؤں گا کہ میں دیکھوں کیا لوگ وہی کریں گے جو میں کر نے کو کہوں گا ۔ 5 ہر روز لوگ صرف اتنا کھانا جمع کریں گے جتنا کہ ایک دن کے لئے کا فی ہے ۔ لیکن چھٹے دن جب وہ کھانا تیار کریں گے تو وہ پا ئیں گے کہ یہدو دن کے لئے کا فی ہے ۔ 6 اِسلئے موسیٰ اور ہا رون بنی اسرائیلیوں سے کہا ، " آج کی رات تم لوگ جا نو گے کہ وہ خداوند ہی ہے جو تم لوگوں کو ملک مصر سے با ہر لا یا ۔ 7 کل صبح تم لوگ خداوند کا جلال دیکھو گے ۔ کیوں کہ تم لوگ خداوند کے خلاف بڑ بڑا تے ہو اور اس نے یہ سُن لیا ہے تم لوگ خداوند کے خلاف کیوں بڑ بڑا تے ہو ؟ تم لوگ ہم لوگوں سے شکا یت ہی شکا یت کر رہے ہو ممکن ہے کہ ہم لوگ اب کچھ آرام کر سکیں۔" 8 اور موسیٰ نے کہا ، " تم لوگوں نے شکا یت کی اور خداوند نے تم لوگوں کی شکایتیں سُن لی ہیں۔ اِس لئے رات کو خداوند تم لوگوں کو گوشت دیگا ۔ اور ہر صبح تم وہ سب کھانا پا ؤگے جس کی تمہیں ضرورت ہے ۔ تم لوگ مجھ سے اور ہا رون سے شکایت کر تے رہے ہو۔ یاد رکھو تم لوگ میرے اور ہا رون کے خلا ف شکا یت نہیں کر رہے ہو تم لوگ خداوند کے خلاف شکا یت کر رہے ہوں۔" 9 تب موسیٰ نے ہا رون سے کہا ، " بنی اسرائیلیوں کے ساتھ بات کرو۔ ان سے کہو، خداوند کے سامنے جمع ہو ، کیوں کہ اُس نے تمہا ری شکایتیں سُنی ہیں ۔" 10 ہا رون نے سبھی بنی اسرائیلیوں سے بولا وہ تمام ایک جگہ پر جمع تھے جب ہا رون با تیں کر رہا تھا ۔ اُسی وقت لوگ پلٹے اور اُنہوں نے ریگستان کی طرف دیکھا اور انہوں نے خداوند کے جلا ل کو بادل میں ظا ہر ہو تے دیکھا ۔ 11 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 12 " میں نے بنی اسرائیلیوں کی شکا یت سُنی ہے اِس لئے ان سے میری باتیں کہو، ' آج شام کو تم گوشت کھا ؤ گے اور کل صبح تم لوگ پیٹ بھر کر رو ٹیاں کھا ؤ گے ۔ پھر تم لوگ جان جا ؤگے کہ تم خداوند اپنے خدا پر بھروسہ کر سکتے ہو۔" 13 اس رات بہت سارے بٹیر ( پرندے ) آئے اور خیمہ کو ڈھک لیا ۔ صبح میں خیمہ کے چارو طرف شبنم پڑی رہتی تھی ۔ 14 سورج نکلنے پر شبنم سوکھ جاتی اور پالے کی پتلی تہہ کی طرح زمین پر کچھ رہ جاتا تھا ۔ 15 بنی اسرائیلیوں نے اسے دیکھا ۔ اور ایک دوسرے سے پو چھا ، " وہ کیا ہے ؟ " انہوں نے یہ سوال اس لئے کیا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا چیز ہے ۔ اس لئے موسیٰ نے ان سے کہا ، " یہ کھا نا ہے جسے خدا وند تمہیں کھا نے کو دے رہا ہے ۔ 16 خدا وند کہتا ہے ، ' ہر آدمی اتنا جمع کرے جتنی اس کو ضرورت ہے ۔ تم لوگوں میں سے ہر ایک آٹھ پیا لے اپنے خاندان کے ہر آدمی کے لئے جمع کرے گا ۔ " 17 اس لئے بنی اسرائیلیوں نے ایسا ہی کیا ۔ ہر آدمی نے اس کھا نے کو جمع کیا ۔ کچھ آدمیوں نے دوسرے لوگوں سے زیادہ جمع کیا ۔ 18 ان لوگوں نے اپنے خاندان کے ہر ایک آدمی کو کھا نا دیا ۔ جب کھا نا ناپا گیا تو ہر ایک آدمی کے لئے یہ کافی تھا ، لیکن کبھی بھی ضرورت سے زیادہ نہیں ہوا ۔ جس نے بھی زیادہ جمع کیا اس کے پاس بھی کچھ نہیں بچا ۔ لیکن جو کوئی تھوڑا جمع کیا تب بھی وہ اس کے لئے کافی تھا ۔ 19 موسیٰ نے ان سے کہا ،" اگلے دن کھا نے کے لئے وہ کھا نا نہ بچائیں ۔ " 20 لیکن لوگوں نے موسیٰ کی بات نہیں مانی ۔ کچھ لوگوں نے اپنا کھا نا بچا یا جس کو وہ دوسرے دن کھا سکیں ۔ لیکن جو کھا نا بچایا گیا تھا اس میں کیڑے پڑ گئے اور بد بو آنے لگی ۔ موسیٰ ان لوگوں پر غصّہ ہوا جنہوں نے ایسا کیا تھا ۔ 21 ہر صبح لوگ کھا نا جمع کر تے تھے ہر ایک آدمی اتنا جمع کر تا تھا ۔ جتنا وہ کھا سکے لیکن جب دھوپ تیز ہو تی تھی کھا نا گل جاتا تھا اور ختم ہو جاتا تھا ۔ 22 چھٹے دن کو لوگوں نے دوگُنا کھا نا جمع کیا ۔ انہوں نے سولہ پیالے ہر آدمی کے لئے جمع کیا ۔ اس لئے لوگوں کے تمام قائدین آئے اور انہو ں نے یہ بات موسیٰ سے کہی ۔ 23 موسیٰ نے ان سے کہا ، " یہ ویسا ہی ہے جیسا خدا وند نے بتا یا تھا کیوں کہ کل خدا وند کے آرام کا مقدس دن سبت ہے ۔ تم جو پکانا چاہتے ہو پکا لو جو ابالنا چاہتے ہو ابال لو ۔ اور بچے ہو ئے کو کل کے لئے محفوظ رکھو ۔" 24 لوگوں نے موسیٰ کے حکم کے مطا بق دوسرے دن کے لئے بچے ہو ئے کھا نے کو دیکھا اور کھا نا خراب نہیں ہوا اور نہ ہی اس میں کو ئی کیڑا لگا ۔ 25 موسیٰ نے کہا ، " آج سبت کا دن ہے ، خدا وند کو تعظیم دینے کے لئے خاص آرام کا دن ہے ۔ اس لئے تم لوگوں میں سے کو ئی بھی کل کھیت میں نہیں جائے گا ۔ جو تم نے کل جمع کیا ہے کھا ؤ ۔ 26 تم لوگوں کو چھ دن کا کھا نا جمع کر نا چاہئے لیکن ساتواں دن آرام کا دن ہے اس لئے زمین پر کو ئی خاص کھا نا نہیں ہو گا ۔ " 27 ہفتہ کو کچھ لوگ کچھ کھا نا جمع کر نے گئے لیکن وہ وہاں تھو ڑا سا بھی کھا نا نہیں پا سکے ۔ 28 تب خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " تمہارے لوگ میرے حکم کی تعمیل اور نصیحتوں پر عمل کر نے سے کب تک باز رہیں گے ؟ ۔ 29 دیکھو ، جمعہ کو خدا وند دو دن کے لئے کافی کھا نا دیگا ۔ اس لئے سبت کے دن ہر ایک کو بیٹھنا اور آرام کر نا چاہئے وہیں ٹھہرے رہو جہاں ہو ۔ " 30 اس لئے لوگوں نے سبت کو آرام کیا ۔ 31 اسرائیلی لوگوں نے اس خاص غذا کو " من" کہنا شروع کیا ۔ منّ سفید چھو ٹے دھنیا کے بیجوں کی طرح تھے اور اسکا ذائقہ شہد سے بنے کیک کی طرح تھا ۔ 32 تب موسیٰ نے فرمایا ، " خدا وند نے نصیحت کی کہ اس کھا نے کا آٹھ پیالے اپنی نسل کے لئے بچاؤ ۔ تب وہ اس کھانے کو دیکھ سکیں گے جسے میں نے تم لوگوں کو ریگستان میں اس وقت دیا تھا جب میں نے تم لوگوں کو مصر سے نکالا تھا ۔ " 33 اس لئے موسیٰ نے ہارون سے کہا ، " ایک مرتبان لو اور اسے آٹھ پیالے منّ سے بھرو اور اس منّ کو خدا وند کے سامنے رکھو اور اسے اپنی نسلو ں کے لئے بچاؤ ۔ " 34 ( اس لئے ہارون نے ویسا ہی کیا جیسا خدا وند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ہارون نے آگے چل کر منّ کے مرتبان کو معاہدہ کے صندوق کے سامنے رکھا ۔ ) 35 لوگوں نے چالیس سال تک منّ کھا یا ۔ وہ منّ اس وقت تک کھا تے رہے جب تک وہ اس ملک میں نہیں آئے جہاں انہیں رہنا تھا ۔ وہ اسے اس وقت تک کھا تے رہے جب تک وہ کنعان کے قریب نہیں آگئے ۔ 36 ( وہ منّ کے لئے جس تول کا استعمال کر تے تھے وہ عومر تھا ۔ ایک عومر تقریباً آٹھ پیالوں کے برابر تھا-)

Exodus 17

1 سبھی بنی اسرائیل صین کے ریگستان سے ایک ساتھ سفر کئے ۔ خدا وند جس طرح حکم دیتا رہا وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر تے رہے ۔ لوگوں نے رفیدیم کا سفر کیا اور وہاں انہوں نے قیام کیا خیمہ ڈا لا ۔ وہاں لوگوں کو پینے کے لئے پا نی نہیں تھا ۔ 2 اس لئے وہ موسیٰ کے خلاف ہو گئے اور اس سے بحث کر نے لگے ۔ لوگوں نے کہا ،" ہمیں پینے کے لئے پانی دو ۔ " لیکن موسیٰ نے ان سے کہا ، " تم لوگ میرے خلاف کیوں ہو رہے ہو ؟ تم لوگ خدا وند کا امتحان کیوں لے رہے ہو ؟ " 3 لیکن لوگ بہت پیاسے تھے ۔ اس لئے انہوں نے موسیٰ سے شکایت کر نی جاری رکھی ۔ لوگوں نے کہا ، " ہم لوگوں کو تم مصر سے باہر کیوں لا ئے ؟ کیا تم ہم لوگوں کو یہاں اس لئے لا ئے تا کہ ہم لوگ ہمارے بچّے ، ہماری مویشی اور بھیڑ پانی کے بغیر مر جائے ۔ " 4 اس لئے موسیٰ نے خدا وند کو پکارا ،" میں ان لوگوں کے ساتھ کیا کروں ؟ یہ مجھے مار ڈالنے کو پتھّر مارنے کے لئے تیار ہیں ۔ " 5 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " بنی اسرائیلیوں کے پاس جاؤ اور انکے کچھ بزر گوں کو اپنے ساتھ لو اپنا عصا اپنے ساتھ لے جاؤ ۔یہ وہی عصا ہے جسے تم نے اسوقت استعمال میں لایا تھا جب دریائے نیل پر اس سے چوٹ کی تھی ۔ 6 حوریب (سینائی) پہاڑ میں تمہارے سامنے ایک چٹان پر کھڑا ہو گا ۔ عصا کو چٹان پر مارو اس سے پانی باہر آجائے گا ۔ تب لوگ پانی پی سکتے ہیں ۔ " موسیٰ نے وہ باتیں کیں اور اسرائیل کے بزر گوں نے اسے دیکھا ۔ 7 موسیٰ نے اس جگہ کا نام' مریبہ اور مسّہ' رکھا ، کیوں کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں بنی اسرائیل بڑ بڑائے اور خدا وند کا امتحان لیا یہ پو چھ کر ، خدا وند ہمارے ساتھ ہے یا نہیں ۔ 8 عمالیقی لوگ رفیدیم آئے اور بنی اسرائیلیوں کے خلاف لڑے ۔ 9 اس لئے موسیٰ نے یشوع سے کہا ، " کچھ لوگوں کو چُنو اور اگلے دن عمالیقی سے جاکر لڑو ۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا رہوں گا ۔ میں خدا کی طرف سے دیئے گئے عصا کو پکڑے رہوں گا ۔ " 10 یشوع نے موسیٰ کی ہدایت مانی اور دوسرے دن عمالیقی لوگوں سے لڑ نے گیا ۔ اسی وقت موسیٰ ، ہارون اور حور پہاڑ کی چوٹی پر گئے ۔ 11 جب کبھی موسیٰ اپنے ہاتھ کو ہوا میں اٹھا تا تو بنی اسرائیل جنگ جیت لیتے لیکن جب موسیٰ اپے ہاتھ کو نیچے کر تا تو بنی اسرائیل جنگ میں ہار نے لگتے ۔ 12 کچھ وقت کے بعد موسیٰ کے بازو تھک (چڑھ) گئے ۔ اس لئے انہوں نے ایک بڑی چٹان موسیٰ کے نیچے بیٹنے کے لئے رکھی اور ہارون اور حور نے موسیٰ کے بازوؤں کو ہوا میں پکڑے رکھا ۔ ہارون موسیٰ کے ایک طرف تھے اور حور دوسری طرف ۔ وہ اس کے ہاتھوں کو اسی طرح اوپر اس وقت تک پکڑے رہے جب تک سورج نہیں غروب ہوا ۔ 13 اس لئے یشوع اور اس کی فوجوں نے عمالیقیوں کو اس جنگ میں شکست دی ۔ 14 تب خدا وند نے موسیٰ سے کہا ،" اس جنگ کے بارے میں لکھو ۔ اس جنگ کے واقعات ایک کتاب میں لکھو جس سے لوگ یاد کریں گے کہ یہاں کیا ہوا تھا اور یشوع سے کہو کہ میں عمالیقی لوگوں کو زمین سے مکمل طور پر تباہ کردونگا ۔ " 15 تب موسیٰ نے ایک قربان گاہ بنائی ۔ موسیٰ نے قربان گاہ کانام " خداوند میرا پرچم " رکھا ۔ 16 موسیٰ نے فرمایا ، " میں خدا وند کے تخت کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے اس لئے خدا وند عمالیقی لوگوں سے لڑا جیسا کہ اس نے ہمیشہ کیا ہے ۔ "

Exodus 18

1 موسیٰ کا سُسر یترو مدیان میں کا ہن تھا ۔ خدا نے موسیٰ اور بنی اسرائیلیوں کی کی طرح سے مدد کی اس کے بارے میں یترو نے سنا ۔ یترو نے بنی اسرائیلیوں کو خداوند کے ذریعہ مصر سے باہر لے جا ئے جانے کے متعلق سنا ۔ 2 اس لئے یترو موسیٰ کے پا س گئے جب وہ خدا کے پہاڑ کے پاس خیمہ ڈا لے تھے ۔ وہ موسیٰ کی بیوی صفورہ کو اپنے ساتھ لا یا ( صفورہ موسیٰ کے ساتھ نہیں تھیں کیوں کہ موسیٰ نے ان کو ان کے گھر بھیج دیئے تھے ۔) 3 یترو موسیٰ کے دونوں بیٹوں کو بھی ساتھ لا یا ۔ پہلے بیٹے کا نام جیر سوم رکھا کیوں کہ جب وہ پیدا ہوا ۔ موسیٰ نے فرمایا ، " میں غیر ملک میں اجنبی ہوں۔" 4 دوسرے بیٹے کا نام الیعزر رکھا کیوں کہ جب وہ پیدا ہوا تو موسیٰ نے فرما یا ، " میرے باپ کے خدا نے میری مدد کی اور فرعون کی تلوار سے مجھے بچا یا ہے ۔" 5 اس لئے یترو ریگستان میں موسیٰ کے پاس تب گیا ۔ جب وہ خدا کے پہا ڑ( سینا ئی کا پہاڑ) کے قریب خیمہ ڈا لے تھے ۔موسیٰ کی بیوی اور اُس کے دو بیٹے یترو کے ساتھ تھے ۔ 6 یترو نے موسیٰ کو ایک پیغا م بھیجا ، " میں تمہا را سُسر یترو ہو ں۔ اور میں تمہا ری بیوی اور اس کے دونوں بیٹوں کو تمہا رے پاس لا رہا ہوں۔" 7 اس لئے موسیٰ اپنے سُسر سے ملنے گئے ۔موسیٰ ان کے سامنے جھکے اور ان کو بوسہ دیئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کا حال پو چھا خیمہ میں چلے گئے ۔ 8 موسیٰ نے یترو کو ہر ایک بات بتا ئی جو خداوند نے بنی اسرائیلیوں کے لئے کی تھی ۔موسیٰ نے وہ باتیں بھی بتا ئیں جو خدا نے فرعون اور مصر کے لوگوں کے لئے کیں تھیں۔ موسیٰ نے راستے میں پیش آئے تمام مشکلات اس کے متعلق اور کس طرح خداوند نے اِسرائیلی لوگوں کو بچا یا جب بھی وہ تکلیف میں تھے اس کے متعلق بتا یا ۔ 9 یترو اُس وقت بہت خوش ہوا جب اُس نے خداوند کی طرف سے بنی اسرائیلیوں سے کی گئی سب اچھی باتوں کو سُنا ۔ یترو اس لئے خوش تھا کہ حداوند نے بنی اسرائیلیوں کو مصر یوں سے آزاد کر دیا تھا ۔ 10 یترو نے کہا ، " خداوند کی تمجید کرو !اُس نے تمہیں مصر کے لوگوں سے آزاد کر وایا ۔ خداوندنے تمہیں فرعون سے بچا یا ہے ۔ 11 اب میں جانتا ہوں کہ خداوند تمام دیوتا ؤ ں سے زیادہ عظیم ہے۔ اُ نہوں نے سوچا کہ سب کچھ اُن کے قابو میں ہے لیکن دیکھو خدا نے کیا کیا !" 12 تب یترو نے خدا کی عظمت اور تعظیم کے لئے قربانی پیش کی ۔ تب ہا رون اور تمام بزرگ موسیٰ کے سُسر یترو کے ساتھ خدا کے حضور کھانا کھا نے بیٹھے۔ 13 دوسرے دن موسیٰ لوگوں کا انصاف کر نے وا لے تھے۔ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس وجہ سے لو گوں کو موسیٰ کے سامنے سارا دن کھڑا رہنا پڑا ۔ 14 یترو نے موسیٰ کو انصاف کر تے دیکھا اس نے پو چھا ، " تم ہی یہ کیوں کر رہے ہو؟" کیا صرف تم ہی منصف ہو؟ اور لوگ صرف تمہا رے پاس ہی سارا دن کیوں آتے ہیں ؟" 15 تب موسیٰ نے اپنے سُسر سے کہا ، " لوگ میرے پاس آتے ہیں اور اپنی مشکلا ت کے بارے میں خدا کے حکم پو چھتے ہیں۔ 16 اگر ان لوگوں کا کو ئی مسئلہ ہو تو میرے پاس آتے ہیں میں فیصلہ کر تا ہوں کہ کون صحیح ہے اس طرح میں لوگوں کو خدا کی شریعت اور تعلیمات کو سکھا تا ہوں۔" 17 لیکن موسیٰ کے سُسر نے اُن سے کہا، " جس طرح تم یہ کر رہے ہو ٹھیک نہیں ہے ۔ 18 تمہا رے اکیلے کے لئے یہ کام بہت زیادہ ہے ۔ اس سے تم تھک جا تے ہو اور اس سے لوگ بھی تھک جا تے ہیں تم یہ کام یقیناً اکیلے نہیں کر سکتے ۔ 19 میں تمہیں کچھ مشورہ دوں گا میں تمہیں بتا ؤں گا کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے میری دُعا ہے کہ خدا تمہا را ساتھ دے ۔ جو تمہیں کرنا چاہئے وہ یہ ہے ۔ تمہیں خدا کے سامنے لوگوں کے مسائل سنتے رہنا چاہئے اور اُن چیزوں کے متعلق خدا سے کہتے رہنا چاہئے ۔ 20 تمہیں خدا کی شریعتوں اور تعلیمات لوگوں کو بتا نی بھی چاہئے۔ لوگوں کو انتباہ دو کہ و ہ اُصولوں کو نہ تو ڑیں لوگوں کو جینے کا صحیح راستہ بتا ؤ انہیں بتا ؤ کہ وہ کیا کریں۔ 21 لیکن تمہیں لوگوں میں سے اچھے لوگوں کو چُننا چاہئے ۔ " تمہیں ایسے آدمیوں کا انتخاب کر نا چاہئے جسے خدا کا خوف ہو ، اور بھروسہ مند ہو ، جو دولت کے لئے اپنے فیصلے نہ بد لے ۔ ا ن آدمیوں کو لوگوں حاکم کا بنا ؤ۔ ہزار، سو پچاس اور یہاں تک کہ دس لوگوں پر بھی حاکم ہو نے چاہئے ۔ 22 اِن حاکموں کو ہر وقت لوگوں کا انصاف کر نے دو ۔ اگر کو ئی بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہو تو وہ حاکم فیصلہ کے لئے تمہا رے پاس آسکتے ہیں۔ لیکن دوسرے معاملوں کا فیصلہ وہ یقیناً نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس طرح یہ تمہا رے لئے زیادہ آسان ہو گا ۔ اور وہ لوگ تمہا رے کام میں ہاتھ بٹا سکیں گے ۔ 23 اگر تم خداوند کے حکم سے ایسا کر تے ہو تب تم اپنا کام کر تے رہنے کے قابل ہو سکو گے ۔ اور اُس کے ساتھ ہی ساتھ تما م لوگ اپنے مسائل کے حل ہو جانے سے سلامتی سے گھر جا سکیں گے ۔" 24 اس لئے موسیٰ نے ویسا ہی کیا ۔ جیسا یترو نے کہا تھا ۔ 25 موسیٰ نے سارے بنی اسرا ئیلیوں میں سے کچھ قابل مردوں کو چُنا اور انہیں قائد بنا یا ۔ وہاں ہر ۱۰۰۰ لوگوں پر، ۱۰۰ لوگوں، ۵۰ لوگوں اور ۱۰ لوگوں پر حاکم تھے۔ 26 یہ حا کم لوگوں کے لئے منصف تھے ۔ یہ حاکم آسان مسئلوں کا فیصلہ خود کر تے تھے اور مشکل معاملے کو موسیٰ کے پاس لا تے تھے ۔ 27 کچھ عرصہ بعد موسیٰ نے اپنے سُسر یترو سے وِداع ہوا ۔ اور یترو اپنے گھر وا پس ہوا ۔

Exodus 19

1 مصر سے اپنے سفر کے تیسرے مہینے میں سب سے پہلے دن بنی اسرائیل سینائی کے ریگستان میں پہو نچے ۔ 2 لوگوں نے رفیدیم کو چھو ڑ دیا تھا اور سینائی کے صحرا میں آپہو نچے تھے ۔ بنی اسرائیلیوں نے ریگستان میں پہا ڑ کے قریب ڈیرا ڈا لا۔ 3 تب موسیٰ پہاڑ پر خدا کے پاس گیا ۔ پہاڑ پر خدا نے موسیٰ سے کہا ۔ ، " یہ باتیں بنی اسرائیلیوں ، یعقوب کے خاندانوں سے کہو : 4 اور تم لوگوں نے دیکھا کہ میں نے مصر کے ساتھ کیا کیا ۔ تم نے دیکھا کہ میں نے تم کو مصر سے باہر ایک عقاب کی طرح اپنے پروں پر اٹھا کر نکا لا اور یہاں اپنے پاس لا یا ۔ 5 اس لئے اب میں کہتا ہوں کہ تم لوگ اب میرا حکم مانو ، میرے معاہدہ کی تعمیل کرو ۔ اگر تم میرا حکم مانوگے تو تم میرے خاص لوگ بنو گے ۔ ساری دنیا میری ہے ۔ 6 تم میرے لئے ایک مقدّس قوم اور کاہنوں کی سلطنت ہو ۔ ' " موسیٰ ! جو باتیں میں نے تمہیں بتائی ہیں انہیں بنی اسرائیلیوں سے ضرور کہدینا ۔ " 7 اس لئے موسیٰ پہاڑ سے نیچے آیا اور لوگوں کے بزر گوں کو ایک ساتھ بلایا ۔ موسیٰ نے بزرگوں سے وہ باتیں کہیں جنہیں کہنے کے لئے خدا وند نے اسے حکم دیا تھا ۔ 8 پھر تمام لوگ ایک ساتھ بولے ،" ہم لوگ خدا کی کہی ہر بات مانیں گے ۔ " تب موسیٰ خدا کے پاس پہاڑ پر لوٹ آیا ۔ موسیٰ نے فرمایا کہ لوگ اس کے حکم کی تعمیل کریں گے ۔ 9 اور خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " میں گھنے بادل میں تمہارے پاس آؤنگا میں تم سے بات کروں گا ۔ سب لوگ مجھے تم سے باتیں کرتے ہو ئے سنیں گے ۔ میں یہ اسلئے کر رہا ہوں تا کہ لوگ تم پر بھی ہمیشہ یقین کریں گے ۔ " تب موسیٰ نے خدا وند کو وہ تمام باتیں بتا ئی جو لوگوں نے کہے تھے ۔ 10 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " آج اور کل تم خاص مجلس کے لئے لوگوں کو ضرور تیار کرو ۔ لوگوں کو اپنے لباس دھو لینے چاہئے ۔ 11 اور تیسرے دن میرے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ تیسرے دن میں ( خدا وند ) سینا کے پہاڑ سے نیچے آؤنگا اور تمام لوگ مجھے (خدا وند کو ) دیکھیں گے ۔ 12 لیکن ان لوگوں سے ضرور کہدینا کہ وہ پہاڑ سے دور ہی ٹھہریں ۔ زمین پر ایک لکیر کھینچنا اور لوگوں کو اس سے پار نہ ہو نے دینا ۔ اگر کو ئی آدمی یا جانور پہاڑ کو چھو ئے گا تو اسے یقیناً مار دیا جائے گا ۔ وہ پتھّروں سے یا تیروں سے مارا جائے گا ۔ لیکن کسی بھی آدمی کو لکیر کو چھو نے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ لوگوں کو بِگل بجنے تک انتظار کر نا چاہئے اور صرف اسی وقت جب بگل بجے انہیں پہاڑ پر جانے دیا جائیگا ۔ " 13 14 موسیٰ پہاڑ سے نیچے اُترے وہ لوگوں کے پاس گئے اور خاص نشست کے لئے انہیں تیار کیا ۔ لوگوں نے اپنے لباس دھو ئے ۔ 15 تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا ، " خدا سے ملنے کے لئے تین دن میں تیار ہو جاؤ ۔ اس وقت مردوں کو عورت نہیں چھونا چاہئے ۔ " 16 تیسرے دن صبح پہاڑ پر گہرا بادل چھا یا ۔ بجلی کی چمک اور بادل کی گرج اور بگل کی تیز آواز ہو ئی ۔ چھا ؤنی کے سب لوگ ڈر گئے ۔ 17 تب موسیٰ لوگوں کو پہاڑ کی طرف خدا سے ملنے کے لئے چھاؤنی کے باہر لے گئے ۔ 18 سینائی پہاڑ دھو ئیں سے ڈھکا ہوا تھا ۔ پہاڑ سے دھواں اس طرح اٹھا جیسے کسی بھٹی سے اٹھتا ہو ۔ ایسا تب ہوا جیسے ہی خدا وند آ گ میں پہاڑ پر اترے اور ساتھ ہی سارا پہاڑ بھی کانپنے لگا ۔ 19 بگل کی آواز تیز سے تیز تر ہو گئی ۔ جب بھی موسیٰ نے خدا سے بات کی گرج میں خدا نے اسے جواب دیا ۔ 20 خدا وند سینائی پہاڑ کی چوٹی پر اترا اور موسیٰ کو اوپر آنے کے لئے کہا ۔ اس لئے موسیٰ پہاڑ کے اوپر گیا ۔ 21 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " جاؤ اور لوگوں کو انتباہ دو کہ وہ میرے پاس نہ آئیں نہ ہی مجھے دیکھیں اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ مر جائیں گے اور اسی طرح بہت سی موت ہو جائیں گی ۔ 22 ان کاہنوں سے بھی کہو جو میرے پاس آئیں گے کہ وہ اس خاص ملاقات کے لئے خود کو تیار کریں ۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو میں انہیں سزا دونگا ۔ " 23 موسیٰ نے خدا وند سے کہا ، " لیکن لوگ پہاڑ پر نہیں آسکتے ۔ تو نے بالکل ہی ایک لکیر کھینچ کر پہاڑ کو مقدس سمجھنے اور اسے پار نہ کرنے کے لئے کہا تھا ۔ " 24 خدا وند نے اس سے کہا ، " لوگوں کے پاس جاؤ اور ہارون کو لاؤ اپنے ساتھ واپس لاؤ لیکن کاہنوں اور لوگوں کو مت آنے دو اگر وہ میرے پاس آئیں گے تو میں انہیں سزا دونگا ۔ 25 اس لئے موسیٰ لوگوں کے پاس گئے اور ان سے یہ باتیں کہیں ۔

Exodus 20

1 تب خدا نے یہ ساری باتیں کہیں ، 2 " میں خدا وند تمہارا خدا ہوں ۔ میں تمہیں ملک مصر سے باہر لایا جہاں تم غُلام تھے ۔ 3 " تمہیں میرے علا وہ کسی دوسرے خدا ؤں کی عبادت نہیں کرنی چاہئے ۔ 4 " تمہیں کو ئی بھی مورتی نہیں بنا نا چاہئے ۔ کسی بھی اس چیز کی تصویر یا بُت مت بناؤ جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین میں ہو یا پانی کے نیچے ہو ۔ 5 بُتوں کی پرستش یا کسی قسم کی خدمت نہ کرو کیوں ؟ کیوں کہ میں خدا وند تمہارا خدا ہوں ۔ میرے لوگ جو دوسرے خدا ؤں کی عبادت کر تے ہیں ۔ میں ان سے نفرت کر تا ہوں ۔ اگر کوئی آدمی میرے خلاف گناہ کر تا ہے تو میں اسکا دشمن ہو جاتا ہوں ۔ میں اس آدمی کی اولادوں کی تیسری اور چوتھی نسل تک کو سزا دونگا ۔ 6 لیکن میں ان آدمیوں پر بہت مہر بان رہوں نگا جو مجھ سے محبت کریں گے اور میرے احکامات کو مانیں گے ۔ میں انکے خاندانوں کے سا تھ اور انکی ہزاروں نسلوں تک مہربان رہوں گا ۔ 7 " تمہارے خدا وند خدا کے نام کا استعمال تمہیں غلط طریقے سے نہیں کر نا چاہئے ۔ اگر کو ئی آدمی خدا وند کے نام کا استعمال غلط طریقے پر کر تا ہے تو وہ قصور وار ہے اور خدا وند اسے کبھی بے گناہ نہیں ما نے گا ۔ 8 " سبت کے ایک خاص دن کے طور پر منا نے کا خیال رکھنا ۔ 9 تم ہفتے میں چھ دن اپنا کام کرو ۔ 10 لیکن ساتویں د ن تمہارے خدا وند خدا کے آرام کا دن ہے ۔ اس دن کو ئی بھی آدمی چاہیں ۔ تم ، بیٹے اور بیٹیاں تمہارے غلام اور داشتائیں جانور اور تمہارے شہر میں رہنے والے سب غیر ملکی کام نہیں کریں گے ۔ 11 کیوں کہ خدا وند نے چھ دن کام کیا اور آسمان ، زمین ، سمندر اور ان کی ہر چیز بنائی اور ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ اس لئے خدا وند نے سبت کے دن برکت بخشا اور اسے بہت ہی خاص دن کے طور پر بنایا ۔ 12 " اپنے ماں باپ کی عزت کرو ۔ یہ اس لئے کرو کہ تمہارے خدا وند خدا جس زمین کو تمہیں دے رہا ہے اس میں تم ساری زندگی گزار سکو ۔ 13 " تمہیں کسی آدمی کو قتل نہیں کر نا چاہئے ۔ 14 " تمہیں بد کاری کے گناہ نہیں کر نا چاہئے ۔ 15 " تمہیں چوری نہیں کرنی چاہئے ۔ 16 " تمہیں اپنے پڑوسیوں کے خلاف جھو ٹی گواہی نہیں دینی چاہئے ۔ 17 " دوسرے لوگوں کی چیزوں کو لینے کی خواہش نہیں کر نی چاہئے ۔ تمہیں اپنے پڑوسی کا گھر ، اسکی بیوی ، اسکے خادم اور خادمائیں ، اسکی گائیں اسکے گدھوں کو لینے کی خواہش نہیں کر نی چاہئے ۔ تمہیں کی کسی بھی چیز کو لینے کی خواہش نہیں کر نی چاہئے ۔ " 18 اس دوران ان لوگوں نے گرج کی آواز سُنی ، بجلی کی چمک دیکھی ، بِگل کی آواز سنی ۔ انہوں نے پہاڑ سے اٹھتے ہو ئے دھو ئیں کو دیکھا ۔ لوگ ڈرے ہو ئے تھے اور خوف سے کانپ رہے تھے ۔ وہ پہاڑ سے دور کھڑے ہو کر اسے دیکھ رہے تھے ۔ 19 تب لوگوں نے موسیٰ سے کہا ، " اگر تم ہم لوگوں سے کچھ کہنا چاہو تو ہم لوگ سنیں گے ۔ لیکن خدا کو ہم لوگوں سے بات نہ کر نے دو اگر یہ ہو گا تو ہم لوگ مر جائیں گے ۔ " 20 تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا ،" ڈرو مت ۔ خدا وند تمہیں جانچ کر رہا ہے ۔ یہ جاننے کے لئے کہ تمہیں اس کا خوف ہے یا نہیں تا کہ تم گناہ نہیں کرو گے ۔ " 21 تب لوگ اس وقت اٹھ کر پہاڑ سے دور چلے آئے ۔ جب کہ موسیٰ اس گہرے بادل میں گئے جہاں خدا تھا ۔ 22 تب خدا وند نے موسیٰ سے اسرائیلیوں کو بتانے کے لئے یہ باتیں کہیں : تم لوگوں نے دیکھا کہ میں نے تم سے آسمان سے باتیں کیں ۔ 23 اس لئے تم لوگ میرے خلاف سونے یا چاندی کی مورتیاں نہ بنانا تمہیں ان جھو ٹے خدا ؤں کی مورتیاں کبھی نہیں بنانی چاہئے ۔ 24 "میرے لئے ایک خاص قربان گاہ بناؤ ۔ اس قربان گاہ کو بنانے کے لئے مٹی کا استعمال کرو ۔ تم جلانے کے نذرانہ کو ، اپنے ہمدردی کے نذرانہ کو ، بھیڑوں کو اور اپنے بیلوں کو ہر اس جگہ پر جہاں میں چاہتا ہوں کہ میرا نام یاد کیا جائے قربانی کر سکتے ہو ۔ تب میں آؤنگا اور تمہیں خیر و برکت دونگا ۔ 25 اگر تم لوگ قربان گاہ بنانے کے لئے چٹانوں کو استعمال کرو تو تم لوگ ان چٹانوں کا استعمال نہ کرو جنہیں تم لوگوں نے اپنے لوہے کے اوزاروں سے چکنا کیا ہو ۔ اگر تم لوگ چٹانوں پر کسی لوہے کے اوزاروں کا استعمال کئے ہو تو میں قربان گاہ کو قبول نہیں کروں گا ۔ 26 تم لوگ قربان گاہ تک پہنچنے والی سیڑھیاں بھی نہ بنانا اگر سیڑھیاں ہوں گی تو لوگ اوپر قربان گاہ کو دیکھیں گے تو وہ تمہارے لباس کے اندر نیچے سے دیکھ لیں گے ۔ "

Exodus 21

1 " یہ سارے اُصول ہیں جسے تم لوگوں کو ضرور بتاؤ گے : 2 " اگر تم ایک عبرانی غلام خرید تے ہو ، تو اسے تمہاری خدمت صرف چھ سال کر نی ہو گی ۔ چھ سال بعد وہ غلام آزاد ہو جائے گا ۔ اور تمکو یعنی مالک کو غلام کی آزادی کے لئے کچھ نہیں دیا جائے گا ۔ 3 تمہارا غلام ہو نے کے پہلے اگر اس کی شادی نہیں ہو ئی ہو تو وہ بیوی کے بغیر ہی آزاد ہو کر چلا جائے گا ۔ لیکن اگر غلام ہو نے کے وقت وہ آدمی شادی شدہ ہو گا تو آزاد ہو نے کے وقت وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جائے گا ۔ 4 اگر غلام شادی شدہ نہ ہو تو آقا اس کے لئے بیوی لا سکتا ہے ۔ اگر وہ بیوی آقا کے لئے بیٹا یا بیٹی کو جنم دیتی ہے تو وہ عورت اور اسکے بچّے آقا کے ہو جائیں گے ۔ جب غلام کے کام کی مدت پو ری ہو جائے گی تب غلام کو آزاد کر دیا جائے گا ۔ 5 " لیکن اگر غلام کہتا ہے ، ' میں آقا سے محبت کر تا ہوں ، میں اپنی بیوی بچّوں سے محبت کر تا ہوں ، میں آزاد نہیں ہونگا ۔ 6 اگر ایسا ہو تو غلام کا آقا اسے خدا کے سامنے لا ئیگا ۔ غلام کا آقا اسے دروازے تک یا اسکی چوکھت تک لے جائے گا اور غلام کا آقا ایک تیز اوزار سے غلام کے کان میں ایک سوراخ کرے گا ۔ تب غلام اس آقا کی خدمت زندگی بھر کریگا ۔ 7 ہوسکتا ہے کو ئی بھی آدمی اپنی بیٹی کو باندی کی طرح فروخت کر نے کے لئے فیصلہ کرے ۔ اگر ایسا ہو تو اسے آزاد کر نے کے لئے وہی اصول نہیں ہیں جو مرد غلام کے آزاد کر نے کے لئے ہیں ۔ 8 اگر آقا اس عورت سے جسے اس نے پسند کیا ہے خوش نہیں ہے تو وہ اس کے باپ کو واپس بیچ سکتا ہے ۔ آقا کو اسے غیر ملکیوں کے پاس بیچنے کا اختیار نہیں ہے ۔ کیوں کہ یہ اس کے ساتھ نا انصافی ہے ۔ 9 اگر باندی کا آقا اس باندی سے اپنے بیٹے کی شادی کر نے کا وعدہ کرے تو اس سے باندی جیسا سلوک نہیں کیا جائے گا ۔ اس کے ساتھ بیٹی جیسا سلوک کرنا ہو گا ۔ 10 " اگر باندی کا آقا کسی دوسری عورت سے بھی شادی کرے تو اُسے چاہئے کہ وہ پہلی بیوی کو کھا نا یا لباس کم نہ دے اور اُسے چاہئے کہ ان چیزوں کو مسلسل دیتا رہے جنہیں حاصل کر نے کا اُسے اختیار شادی سے ملا ہے ۔ 11 اس آدمی کو یہ تین چیزیں اُس کے لئے کرنی چاہئے ۔اگر وہ انہیں نہیں کر تا تو عورت آزاد کردی جائیگی ۔اور اسے کچھ ادا کر نے کی ضرورت نہیں پڑیگی ۔ 12 " اگر کو ئی آدمی کسی کو ضرر پہونچائے اور اُسے مار ڈالے تو اس آدی کو بھی مار دیا جائے ۔ 13 لیکن اگر کو ئی شخص کسی کو بغیر کسی ارادہ کے مارتا ہے اور وہ مر جاتا ہے تو یہ سمجھا جائیگا کہ یہ خدا کی مرضی سے ہوا ہے ۔اس لئے اسے اسی خاص محفوظ جگہ میں بھاگ جانا چاہئے جسے کہ میں نے مقّرر کیا ہے ۔ 14 لیکن کو ئی آدمی اگر کسی آدمی کو غصّہ یا نفرت کے سبب اسے مار ڈا لے تو اس قاتل کو میری قربان گاہ سے دور لے جاؤ اور اُسے موت کی سزا دو ۔ 15 " کو ئی آدمی جو اپنے ماں باپ کو ضرر پہونچا ئے تو اسے ضرور مار دیا جائے ۔ 16 " اگر کو ئی آدمی کسی کوغلام کی طرح بیچنے یا اپنا غلام بنانے کے لئے چُرائے تو اُسے ضرور مار دیا جائے ۔ 17 " جب دو آدمی بحث کر تے ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو پتھّر یا گھو نسہ مارے تو اگر وہ شخص جو گھا ئل ہو گیا ہے نہیں مر تا ہے تو اس آدمی کو نہیں مارنا چاہئے جو اسے چوٹ پہنچا یا ہے ۔ 18 19 اگر چوٹ کھا ئے ہو ئے آدمی کو کچھ عرصے کے لئے بستر پر رہنا پڑے اور وہ چلنے کے لئے لا ٹھی کا استعمال کرے تو چوٹ پہنچا نے والے آدمی کو اس کے بر باد ہو ئے وقت کے لئے ہر جانہ دینا چاہئے ۔ اور وہ آدمی اسکے علاج کا بھی خرچ اس وقت تک ضرور ادا کریگا جب تک کہ وہ پوری طرح سے صحت یاب نہ ہو جائے ۔ 20 " کبھی کبھی لوگ اپنے غلام اور باندیوں کو پیٹتے ہیں اگر پٹا ئی کے بعد غلام مر جائے تو قاتل کو ضرور سزا دی جائے ۔ 21 لیکن غلام اگر نہیں مرتا اور کچھ دنوں بعد وہ صحت مند ہو تو اس آدمی کو سزا نہیں دی جائے گی ۔ کیوں ؟ کیوں کہ غلام کے آقا نے غلام کے لئے رقم ادا کی ہے اور غلام اُس کا ہے ۔ 22 ہو سکتا ہے کہ دو آدمی آپس میں لڑے اور ہو سکتا ہے کہ کسی حاملہ عورت کو چوٹ پہنچائے اور اسے اسقاط حمل ہو جائے لیکن ماں کو کوئی نقصان نہ پہنچے تو چوٹ پہنچا نے والا آدمی اسے ضرور جر مانہ ادا کرے ۔ اس عورت کا شوہر یہ طے کریگا کہ وہ آدمی کتنا جرمانہ دیگا ۔ منصف اس آدمی کو طے کر نے میں مدد کرے گا کہ جر مانہ کتنا ہو گا ۔ 23 لیکن اگر عورت یا بچّہ بُری طرح زخمی ہوا تو وہ آدمی جس نے اسے چوٹ پہنچا یا ہے سزا پائے گا ۔ تم ایک زندگی کے بدلے دوسری زندگی ضرور لو ۔ 24 تم آنکھ کے بدلے آنکھ ، دانت کے بدلے دانت ، ہاتھ کے بدلے ہاتھ ، پیر کے بدلے پیر ۔ 25 جلانے کے بدلے جلانا ، کھرچنے کے بدلے کھرچنا اور زخم کے بدلے زخم ۔ 26 اگر کو ئی آدمی کسی غلام کی آنکھ پر ما رے اور غلام اس آنکھ سے اندھا ہو جائے تو اس غلام کو ہر جانے کے طور پر آزاد کر دیا جائے ۔ یہ قانون مرد اور عورت دونوں غلام کے لئے لاگو ہو گا ۔ 27 اگر غلام کا آقا غلام کے منھ پر مارے اور غلام کا کو ئی دانت ٹوٹ جائے تو غلام کو آزاد کر دیا جائے گا ۔ غلام کا دانت اس کی آزادی کی قیمت ہے ۔ یہ غلام اور آقا دونوں کے لئے برابر ہے ۔ 28 " اگر کسی آدمی کا کو ئی بیل کسی مرد یا عورت کو مارتا ہے اور وہ شخص مر جاتا ہے تو پتھّر پھینک کر اس بیل کو مار ڈا لو ۔ تمہیں اس بیل کا گوشت نہیں کھا نا چاہئے لیکن بیل کا مالک قصور وار نہیں ہے ۔ 29 " لیکن اگر بیل نے پہلے لوگوں کو ضرر پہنچا یا ہے اور مالک کو انتباہ دیا گیا ہے تو وہ مالک قصور وار ہے ۔ کیوں کہ اس نے بیل کو نہیں باندھا یا بند نہیں رکھا ۔ اگر بیل آزاد چھو ڑا گیا ہے اور کسی کو وہ مار دیا تو مالک قصور وار ہے ۔ تم پتھّروں سے بیل کو مار ڈا لو اور اس کے مالک کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دو ۔ 30 لیکن مر نے والے کا خاندان رقم لے سکتا ہے ، اگر وہ رقم قبول کرے تب وہ آدمی جو مالک ہے اس کو مارنا نہیں چاہئے ۔ لیکن اس کو اتنی رقم دینا چاہئے جو منصف مقّرر کرے ۔ 31 " یہی قانون اس وقت بھی لا گو ہو گا جب بیل کسی آدمی کے بیٹے یا بیٹی کو مارتا ہے ۔ 32 لیکن اگر کو ئی بیل غلام کو مار دے تو بیل کا مالک غلام کے مالک کو ہر جانے کے طور پر چاندی کے تیس سکّے دے اور بیل کو بھی پتھّروں سے مار ڈا لا جائے ۔ یہ قانون مرد اور عورت دونوں غلام کے لئے لاگو ہوگا ۔ 33 " کو ئی آدمی کو ئی گڑھا یا کنواں کھو دے اور اسے نہیں ڈھا نکے اگر کسی آدمی کا جانور آئے اور اس میں گر جائے تو گڑھے کا مالک قصور وار ہے ۔ 34 گڑھے کا مالک جانور کے لئے ہر جانے ادا کرے گا ۔ لیکن ہر جانے ادا کر نے کے بعد مرا ہوا جانور اسکا ہو جائیگا ۔ 35 " اگر کسی کا بیل کسی دوسرے آدمی کے بیل کو مار ڈا لے تو وہ دونوں اس زندہ بیل کو بیچ دیں ۔ دونوں آدمی بیچنے سے ملنے والی رقم کا آدھا آدھا اور مردہ بیل کا آدھا آدھا حصّہ لے لے ۔ 36 لیکن اگر بیل کو سینگ مارنے کی عادت تھی تو اس بیل کے مالک اپنے بیل کا جوابدہ ہو گا ۔ اگر وہ بیل دوسرے بیل کو مار ڈالتا ہے تو اس بیل کا مالک قصور وار ہے کیو نکہ اس نے اس بیل کو آزاد چھو ڑا۔ اسے ہر جانے کے طور پر مرے ہو ئے بیل کے مالک کو نیا بیل دینا ہو گا ۔ اور مرا ہوا بیل اس کا ہو جا ئے گا ۔

Exodus 22

1 " جو آدمی کسی بیل یا بھیڑ کو چُراتا ہے اُسے تم کس طرح سزادو گے ، اگر وہ آدمی جانور کو مارڈا لے یا بیچ دے تو وہ اسے وا پس نہیں کر سکتا ۔ اس لئے وہ چُرائے ہو ئے بیل کے بد لے پانچ بیل دے ۔ یا چُرائی گئی بھیڑ کے بدلے چار بھیڑ دے ۔ وہ چوری کے لئے کچھ رقم بھی دا کرے 2 لیکن اُس کے پاس اُس کا اپنا کچھ بھی نہیں ہے تو چوری کے لئے غلام کے طور پر اسے بیچا جا ئے گا ۔ لیکن اگر اس کے پاس چوری کا جانور پا یا جا ئے تو وہ آدمی جانور کے مالک کو ہر ایک چرائے گئے جانور کے بد لے دو جانور دے گا ۔ اُس بات کی کو ئی تخصیص نہیں کہ وہ جانور بیل تھا یا گدھا یا بھیڑ۔ " اگر کو ئی چور رات کو گھر میں نقب ( سیندھ) لگانے کے وقت ما را جا ئے تو اسے مارنے کا قصوروار کو ئی نہیں ہو گا ۔ 3 4 5 " اگر کو ئی آدمی اپنے کھیت یا انگور کے باغ میں اپنی مویشیوں کو چرنے دے اور اگر وہ مویشی دوسرے کے کھیت یا انگور کے باغ میں چلی جا ئے اور اسے بر باد کر دیں تو اس شخص کو جس نے اپنی مویشی کو چھوڑ دیا اپنی بہترین فصل سے اس کے نقصان کا ہر جانہ ادا کر نا ہو گا ۔ 6 " اگر کو ئی شخص آ گ جلا تا ہے اور آ گ خاردار جھاڑیوں میں پھیل جا تی ہے اور یہ آ گ پڑوسی کی فصل کو یا اناج کو یا پودے دار کھیت کو ہی برباد کر دیتی ہے تو وہ شخص جو آ گ لگا تا ہے اسے جلی ہو ئی چیزوں کے لئے ہر جا نہ ادا کر نا ہو گا ۔ 7 " کو ئی آدمی اپنے پڑوسی سے اُس کے گھر میں کُچھ دولت یا کچھ دوسری چیزیں رکھنے کو کہے اگر وہ دولت یا وہ چیزیں پڑوسی کے گھر سے چوری ہو جا ئیں تو تم کیا کرو گے ؟" تمہیں چور کا پتہ لگانے کی کو شش کر نی ہو گی ۔ اگر تم نے چور کو پکڑ لیا تو وہ چیزوں کی قیمت کا دو گنا دے گا ۔ 8 لیکن اگر تم چور کا پتہ نہ لگا سکے تب گھر کامالک منصفوں کے سامنے ضرور حاضر ہو اور یہ کہتے ہو ئے حلف لے کہ اس نے اپنے پڑوسی کی چیزوں کو نہیں لی ہے ۔ 9 " اگر وہ آدمی کسی کھو ئے ہو ئے بیل یا گا ئے یا بھیڑ یا لباس یا کسی دوسری کھو ئی ہو ئی چیز کے متعلق متفق نہ ہو ں تو تم کیا کرو گے ؟ ایک آدمی کہتا ہے ، ' یہ میری ہے ' اور دُوسرا کہتا ہے ' نہیں، یہ میری ہے ۔' دونوں آدمی خدا کے سامنے جا ئیں۔ خدا طے کرے گا کہ قصووار کون ہے ۔ جس آدمی کو خدا قصوروار پا ئے گا وہ اُ س چیز کی قیمت سے دو گنا ادا کرے ۔ 10 " کو ئی اپنے پڑوسی سے کچھ وقت کے لئے اپنے جانور کی دیکھ بھا ل کے لئے کہے یہ جانور بیل ،بھیڑ ، گدھا یا کو ئی دوسرا جانور ہو اور اگر وہ جانور مر جا ئے اسے چوٹ آجا ئے ۔ یا کو ئی اسے اس وقت ہانک لے جا ئے جب کو ئی دیکھ نہ رہا ہو تو تم کیا کرو گے ؟" 11 وہ پڑوسی وضاحت کرے کہ اُس نے جانور کو نہیں چُرایا ہے اگر یہ سچ ہے تو پڑوسی خداوند کی قسم لے کہ اُس نے اُسے نہیں چُرا یا ہے ۔ جانور کا مالک اس قسم کو ضرور قبول کرے ۔ مالک کے جانور کے لئے پڑوسی کو ہرجانہ اد ا نہیں کر نا ہو گا۔ 12 لیکن اگر پڑوسی نے جانور کو چرایا ہے تو وہ مالک کے جانور کے لئے ہر جانہ ضرور ادا کرے ۔ 13 اگر جنگلی جانوروں نے جانور کو ما را ہے تو ثبوت کے لئے پڑوسی اُس کے جسم کو لا ئے پڑوسی مارے گئے جانور کے لئے مالک کو ہرجانہ ادا نہیں کریگا ۔ 14 " اگر کو ئی آدمی اپنے پڑوسی سے کسی جانور کو مانگ کر لے جا ئے اور اگر اُس جانور کو چوٹ پہنچے یا وہ مر جا ئے اور اس کا مالک یقیناً وہا ں نہ تھا تو مانگ کر لے جانے وا لا اُس جانور کے لئے ہر جانہ ادا کرے ۔ 15 لیکن اگر مالک جانور کے ساتھ وہاں تھا تب مانگ کر لے جانے وا لے کو ہرجانہ ادا نہیں کرنا پڑیگا ۔ یا اگر یہ کرا یہ کا جانور تھا تو اُ دھار لینے وا لے کو ادائیگی نہیں کر نی پڑیگی اگر جانور کو چوٹ پہنچے یا مر جا ئے تو جانور کے استعمال کے لئے دی گئی رقم ہی کافی ہے ۔ 16 " اگر کو ئی مرد کو ئی منسوب شدہ کنواری لڑکی سے جنسی تعلقات کرے تو وہ اُس سے ضرور شادی کرے اور وہ اُس لڑکی کے باپ کو پو را جہیز دے ۔ 17 اگر باپ اپنی بیٹی کی شادی کر نے کی اجا زت دینے سے انکار کرے تو بھی آدمی کو رقم ادا کر نی چاہئے ۔ اُس کو پو ری رقم ادا کر نی چاہئے ۔ 18 " تم کسی عورت کو جادو ٹونا نہ کر نے دو ۔ اگر وہ ایسا کرے تو تم اُسے زندہ رہنے نہ دو ۔ 19 " کو ئی شخص کسی جانور کے ساتھ جنسی تعلقات رکھے تو اسے ضرور موت کی سزا دینی چاہئے ۔ 20 " اگر کو ئی شحص خداوند کے علا وہ دوسرے خداؤں کو قربانی پیش کرے تو اُ س شخص کو ضرور پو ری طرح سے تباہ کر دیا جا ئے ۔ 21 " یا درکھو اس سے پہلے تم لوگ مصر کے ملک میں غیر ملکی تھے تم لوگ اُس آدمی کو نہ ٹھگو نہ چوٹ پہنچا ؤ جو تمہا رے ملک میں غیر ملکی ہے ۔ 22 " تم لوگ ایسی عورتوں کے لئے کبھی بُرا نہیں کرو گے جن کے شوہر مر چکے ہیں۔ یا اُن بچوں کا جن کے ماں باپ نہ ہوں۔ 23 اگر تم لوگ ان بیواؤں یا یتیم بچوں کا کچھ بھی بُرا کرو گے تو وہ میرے سامنے رو ئیں گے اور میں اُن کی مصیبتوں کو سنوں گا ۔ 24 اور مجھے بہت غصہ آئے گا ۔ میں تمہیں تلوار سے مار ڈا لوں گا ۔ تب تمہا ری بیویاں بیوہ ہو جا ئیں گی اور تمہا رے بچے یتیم ہو جا ئیں گے ۔ 25 " اگر میرے لوگوں میں سے کو ئی غریب ہو اور تم اُسے قرض دو تو اُس رقم کے لئے تمہیں سود نہیں لینا چاہئے ۔ 26 اگر تم کسی شخص کا جبّہ سورج ڈوبنے سے پہلے وا پس کر دو ۔ 27 کیو نکہ اگر وہ آدمی اپنا جبّہ نہیں پا ئے تو اُس کے پاس تن ڈھانکنے کو کچھ بھی نہیں رہے گا ۔ جب وہ سوئے گا تو اُسے سردی لگے گی ۔ اگر وہ مجھے رو رو کر پکا ریگا تو میں اُس کی سنوں گا ۔ میں اُس کی فریا د سنوں گا کیوں کہ میں رحم دل ہوں۔ 28 " تمہیں خدا یا اپنے لوگوں کے قائدین کو بد دُعا نہیں دینی چاہئے ۔ 29 "فصل کٹنے کے وقت تمہیں اپنا پہلا اناج اور پہلے پھل کا رس دینا چاہئے ۔ اُسے مت ٹا لو ۔ " مجھے اپنے پہلو ٹھے بیٹوں کو دو ۔ 30 اپنی پہلو ٹھی گا ئیں اور بھیڑوں کو بھی مجھے دینا ۔ پہلو ٹھے کو اُس کی ماں کے ساتھ سات دن رہنے دینا ۔ اس کے بعد آٹھویں دن اُسے مجھکو دینا۔ 31 " تم لو گ میرے خاص لوگ ہو ۔ اِس لئے ایسے کسی جانور کا گوشت مت کھانا جسے کسی جنگلی جانور نے ما را ہو۔ اُ س مرے ہو ئے جانور کو کتّوں کو کھانے دو ۔

Exodus 23

1 " لوگوں کے خلا ف جھو ٹ نہ بو لو ۔ اگر تم عدالت میں گواہ ہو تو بُرے آدمی کی مدد کے لئے جھوٹ مت بو لو ۔ 2 اس مجمع کی تقلید نہ کرو جو غلط کر رہا ہو۔ جب تم عدالت میں شہا دت دو تو انصاف کا خون کر نے کے لئے اکثر یت میں شامل نہ ہو ۔ 3 " عدالت میں کسی غریب کی طرفداری نہ کرو کہ وہ غریب ہے ۔ اگر وہ صحیح ہے تب ہی اُس کی طرفداری کرو ۔ 4 " اگر تمہیں دُشمن کا کو ئی کھو یا ہوا بیل یا گدھا ملے تو تمہیں اُسے اس کو واپس دینا چاہئے ۔ 5 " اگر تم دیکھو کہ کو ئی جانور اس لئے نہیں چل سکتا کہ اُس کو زیادہ بوجھ ڈھونا پڑ رہا ہے تو تمہیں اُسے روکنا چاہئے اور اُس جانور کی مدد کرنی چاہئے جب وہ جانور تمہارے دُشمنوں میں سے کسی کا ہو ۔ 6 " تمہیں لوگوں کو غریبوں کے ساتھ نا انصافی نہیں کر نے دینی چاہئے ۔ 7 " تم کسی کو کسی بات کے لئے قصوار کہتے وقت بہت ہوشیار رہو۔ کسی آدمی پر جھو ٹے الزا م نہ لگا ؤ۔ کسی بے گناہ شخص کو اُس کے قصور کی سزا کے لئے نہ مارو جو اس نے کیا ہی نہیں ہے ۔ میں قصور وار شخص کو معاف نہیں کروں گا ۔ 8 " اگر کو ئی غلط آدمی اپنے سے متّفق ہو نے کے لئے رشوت دینے کا ارادہ کرے تو اُسے مت لو ۔ ایسی رشوت منصفوں کو اندھا کر دیگی جس سے وہ سچ کو نہیں دیکھ سکیں گے ۔ رشوت اچھے لوگوں کو جھوٹ بولنا سکھا ئے گی ۔ 9 " تم کسی غیر ملکی کے ساتھ کبھی بُرا سلوک نہ کرو یاد رکھو جب تم ملک مصر میں رہتے تھے تب تم غیر ملکی تھے ۔ 10 " چھ سال تک بیج بوؤ اپنی فصلوں کو کا ٹو اور کھیت کو تیار کرو ۔ 11 لیکن ساتویں سال اپنی زمین کا استعمال نہ کرو ساتویں سال زمین کے آرا م کا خاص وقت ہو گا ۔ اپنے کھیتوں میں کچھ بھی نہ بوؤ ۔ اگر کو ئی فصل وہاں اگتی ہے تو اُسے غریب لوگوں کو لے لینے دو جو بھی کھانے کی چیزیں بچ جا ئیں اُنہیں جنگلی جانوروں کو کھا لے نے دو ۔ یہی معاملہ تمہیں اپنے انگور اور زیتون کے با غوں کے تعلق سے بھی کر نا چاہئے ۔ 12 "چھ دن تک کام کرو تب ساتویں دن آرام کرو۔ اُ س سے تمہا رے غلامو ں اور تمہا رے غیر ملکیوں کو بھی آرام کا وقت ملے گا ۔ اور تمہا رے بیل اور گدھے بھی آرام کر سکیں گے ۔ 13 " یقینی طور پر تم تمام شریعت کی پابندی کرو گے جھو ٹے خداؤں کی پرستش مت کرو ۔ تمہیں اُن کانام بھی نہیں لینا چاہئے ۔ 14 " ہر سال تمہا ری تین خاص مقدّس تقریب ہو ں گی ۔ اُن دنوں تم لوگ میری عبادت کے لئے میری خاص جگہ پر آؤ گے ۔ 15 پہلی مقدس تقریب بے خمیری روٹی کی تقریب ہو گی ۔ یہ ویسا ہی ہو گا جیسا میں نے حکم دیا ہے اس دن تم لوگ ایسی روٹی کھا ؤ گے جس میں خمیر نہ ہو ۔ یہ سات دن تک چلے گا ۔ یہ تم لوگ ابیب کے مہینے میں کرو گے ۔ کیوں کہ یہی وہ وقت ہے جب تم لوگ مصر سے آئے تھے۔ اُن دنوں کو ئی بھی شخص میرے سامنے خالی ہا تھ نہیں آئے گا ۔ 16 " دُوسری مقدس تقریب فصل کاٹنے کی تقریب ہو گی ۔یہ تب شروع ہو گی جب تم اپنے کھیت میں بوئی ہو ئی فصل کاٹنا شروع کر و گے ۔" وہ تیسری تقریب تک ہو گی جب تم فصل اِکٹھا کرو گے ۔ یہ پت جھڑ میں ہو گی ۔ 17 " اِس طرح ہر سال تین مر تبہ تمہا رے تمام آدمی خداوند حدا کے سامنے ہوں گے ۔ 18 جب تم کسی جانور کو ذبح کرو اور اُس کا خون قربانی کے طور پر پیش کرو پھر ایسی روٹی نذر نہ کرو جس میں خمیر ہو ۔ میری تقریب پر پیش کئے گئے جانور کے چربی کو صبح تک نہ رکھو ۔ 19 " فصل کٹنے کے وقت جب تم اپنی فصلوں کو جمع کرو ، تب اپنی کا ٹی ہو ئی فصل کا پہلا اناج خداوند اپنے خدا کے گھر میں لا ؤ۔ " اور بکری کے بچہ کو اس کی ماں ک دودھ میں نہ ابا لو۔" 20 " میں تمہا رے سامنے ایک فرشتہ بھیج رہا ہوں یہ فرشتہ تمہیں اُس جگہ تک لے جا ئے گا جسے میں نے تمہا رے لئے تیار کیا ہے ۔ یہ فرشتہ تمہا ری حفا ظت کرے گا ۔ 21 فرشتہ کی اطا عت کرو اور اس کے ساتھ جاؤ اُس کے خلاف مت رہو فرشتہ تمہیں معاف نہیں کرے گا اگر تم اسکے ساتھ بُرا کرو گے ۔وہ میری نمائندگی کر تا ہے۔ 22 وہ جو کچھ کہے اسکی تعمیل کرو تمہیں ہر وہ کام کرنا چاہئے جو میں تمہیں کہتا ہوں اگر تم یہ کرو گے تو میں تمہارے تمام دشمنوں کے خلاف ہو نگا اور میں اس کا دشمن ہوں گا جو تمہارے خلاف ہو گا ۔" 23 " میرا فرشتہ تمہیں اُس ملک سے ہو کر لے جائے گا ۔ وہ تمہیں کئی مختلف لوگوں اموری ، حتّی ، فریزی، کنعانی ، حوّی ، اور یبو سی لوگو ں میں پہونچا ئے گا ۔ لیکن میں ان تمام لوگوں کو ہرا دوں گا ۔ 24 " ان لوگوں کے خدا ؤں کی پرستش نہ کرو ۔ کبھی بھی ان کے خدا ؤں کے سامنے نہ جھکو ۔ تم ہر گز ان لوگوں کی طرح نہ رہو جس طرح وہ رہتے ہیں ۔ تمہیں ان کے بُتوں کو تباہ کر نا چاہئے اور تمہیں اُن کی پرستش کے پتھّروں کو توڑ دینا چاہئے جو اُ نہیں انکے دیوتاؤں کی یاد دلانے میں مدد کرتے ہیں ۔ 25 تمہیں اپنے خدا خدا وند کی خدمت کر نی چاہئے اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہیں پو ری روٹی اور پانی کی برکت دونگا ۔ میں تمہاری ساری بیماریوں کو دور کروں گا ۔ 26 تمہاری تمام عورتیں بچّے پیدا کر نے کے لا ئق ہوں گی ۔ پیدا ئش کے وقت ان کا کو ئی بچّہ نہیں مرے گا ۔ اور میں تم لوگوں کو طویل زندگی عطا کروں گا ۔ 27 " جب تم اپنے دُشمنوں سے لڑو گے میں اپنی عظیم طاقت کو تم سے پہلے وہاں بھیج دونگا ۔ میں تمہارے سب دشمنوں کو شکست دینے میں تمہاری مدد کروں گا وہ لوگ جو تمہارے خلاف ہو ں گے وہ جنگ میں گھبرا کر بھاگ جائیں گے ۔ 28 میں تمہارے آگے زنبوروں (بھوڑوں ) کو بھیجو نگا ۔ وہ حوّی ، کنعانی اور حتّی لوگوں کو تمہارے ملک کو چھوڑ کر بھا گنے پر مجبور کریں گے ۔ 29 لیکن میں اُن لوگوں کو تمہارے ملک سے جلدی جانے کے لئے دباؤ نہیں ڈالوں گا ۔ میں یہ صرف ا یک سال میں نہیں کروں گا اگر میں لوگوں کو بہت جلدی سے باہر جانے کے لئے دباؤ ڈا لوں تو ملک ہی خالی ہو جائے گا ۔ پھر سب طرح کے جنگلی جانور بڑھیں گے اور وہ تمہارے لئے تکلیف دہ ہوں گے ۔ 30 میں انہیں آہستگی سے انہیں زمین سے باہر کر نے کے لئے اُس وقت تک دباؤ ڈالتا رہوں گا ۔ جب تک تم زمین پر پھیل نہ جاؤ اور اُس پر قبضہ نہ کر لو ۔ 31 " میں تم لوگوں کو بحر قلزم سے لے کر دریائے فرات تک سارا ملک دونگا مغربی سرحد فلسطینی سمندر ہو گی اور مشرقی سرحد صحرائے عرب ہو گی میں ایسا کروں گا کہ وہاں کے رہنے والوں کو تم شکست دو اور تم ان تمام لوگوں کو وہاں سے چلے جانے کے لئے دباؤ ڈا لو گے ۔ 32 " تم ان کے خداؤں یا اُن میں سے کسی کے ساتھ کو ئی معاہدہ نہیں کرو گے ۔ 33 اُنہیں اپنے ملک میں مت رہنے دو اگر تُم انہیں رہنے دوگے تو تم ان کے جال میں پھنس جاؤ گے ۔ وہ تم سے میرے خلاف گناہ کر وائیں گے اور تم ان کے خدا ؤں کی پرستش شروع کر دو گے "

Exodus 24

1 خدا نے موسیٰ سے کہا ، " تم ہارون ، ناداب ، ابیہو اور بنی اسرائیل کے ۷۰ بزرگ پہاڑ پر آؤ ۔ اور کچھ دور سے میری عبادت کرو ۔ 2 تب موسیٰ تنہا ہی خدا وند کے نزدیک آئے گا۔دُوسرے لوگ خدا وند کے قریب نہ آئیں اور باقی لوگ پہاڑ تک بھی نہ آئیں ۔ " 3 اس طرح موسیٰ نے خدا وند کے تمام اصولوں اور احکاموں کو بتا یا تب تمام لوگوں نے کہا ، " خدا وند نے جو تمام احکامات ہم کو دیئے ہیں ہم اُن کی تعمیل کریں گے ۔ " 4 اِس لئے موسیٰ نے خدا وند کے تمام احکامات کو لکھ لیا دوسری صبح موسیٰ اٹھا اور پہاڑ کی ترائی کے قریب ایک قربان گاہ بنائی اور اس نے بارہ پتھّر کی تختیاں اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لئے رکھیں ۔ 5 تب موسیٰ نے اسرائیل کے نو جوانوں کو قربانی پیش کر نے کے لئے بُلا یا ۔ اُن آدمیوں نے خدا وند کو جلانے کی قربانی اور ہمدردی کی قربانی کے طور پر بیل کی قربانی دی ۔ 6 موسیٰ نے ان جانوروں کے خون کو جمع کیا موسیٰ نے آدھا خون پیالہ میں رکھا اور اس نے باقی آدھا خون قربان گاہ پر چھڑ کا۔ 7 موسیٰ نے لپٹے ہو ئے خط میں لکھے معاہدہ کو پڑھا کہ تمام لوگ اُسے سُن سکیں اور لوگوں نے کہا ، " ہم لوگوں نے اُن شریعتوں کو جنہیں خدا وند نے ہمیں دی ہیں سُن لی ہیں اور ہم سب لوگ ان کی تعمیل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں ۔" 8 تب موسیٰ نے خون کو لیا اور اسے لوگوں پر چھڑ کا اُس نے کہا ، " یہ خون بتا تا ہے کہ خدا وند نے تمہارے ساتھ خاص معاہدہ کیا ہے یہ شریعت معاہدہ کی وضاحت کر تی ہے ۔ " 9 " تب موسیٰ ، ہارون ، ناداب، ابیہو اور بنی اسرائیل کے بزرگ اوپر پہاڑ پر چڑھے ۔ 10 پہاڑ پر ان لوگوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا ۔ اسکے پیڑ کے نیچے کچھ ایسی چیزیں تھیں جو نیلم سے بنے چبوترے جیسی دکھا ئی پڑ تی تھیں ۔ ایسا شفاف تھا جیسے آسمان ۔ 11 " بنی اِسرائیل کے تمام قائدین نے خدا کو دیکھا لیکن خدا نے انہیں تباہ نہیں کیا تب انہوں نے ایک ساتھ کھا یا پیا ۔ " 12 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " میرے پاس پہاڑ پر آؤ ۔ میں نے اپنی تعلیمات اور احکامات کو پتھّر کی تختیوں پر لکھی ہیں ۔ یہ تعلیمات اور شریعت لوگوں کے لئے ہیں ۔ میں یہ پتھر کی تختیاں تمہیں دونگا ۔" 13 اس لئے موسیٰ اور اُس کا مدد گار یشوع خدا کے پہاڑ پر گئے ۔ 14 موسیٰ نے بزر گوں سے کہا ، " یہاں ہمارا انتظار کرو ہم واپس تمہارے پاس آئیں گے ۔ جب میں یہاں سے جاؤ ں تو ہارون اور حُر تم لوگوں کے حاکم ہوں گے ۔ اگر کسی کا کوئی مسئلہ ہو تو وہ اُن کے پاس جائے ۔" 15 تب موسیٰ پہاڑ پر چڑھا اور بادل نے پہاڑ کو ڈھک لیا ۔ 16 ‎خدا وند کا جلال سینائی پہاڑ پر آیا ۔ بادل نے چھ دن تک پہاڑ کو ڈھکے رکھا ۔ ساتویں دن خدا نے بادلوں میں سے موسیٰ سے بات کی ۔ 17 بنی اسرائیل خدا وندکے جلال کو دیکھ سکتے تھے ۔ یہ پہاڑ کی چوٹی پر جلتی ہو ئی روشنی کی طرح تھی ۔ 18 تب موسیٰ بادلوں اور اوپر پہاڑ پر چڑھا ۔ موسیٰ پہاڑ پر چالیس دن اور چالیس رات رہا ۔

Exodus 25

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں سے میرے لئے تحفہ لا نے کو کہو ہر ایک شخص اپنے دل میں طئے کرے کہ وہ مجھے اُن چیزوں میں سے کیا پیش کر نا چاہتا ہے ۔ ا ن تحفوں کو میرے لئے قبول کرو ۔ 3 یہ ان چیزوں کی فہرست ہے جنہیں تم لوگوں سے قبول کر و گے : سونا ، چاندی ، کانسہ ، 4 نیلا بیگنی اور لال سوت ، خوبصورت ریشمی کپڑے ، بکریوں کے بال ، 5 رنگ سے رنگا بھیڑ کا چمڑا اور عمدہ چمڑے، ببول کی لکڑی ، 6 چراغ جلانے کے لئے تیل ، مسح کر نے کے لئے اور جلا نے کے لئے عمدہ خوشبو وا لا مصا لحہ دار تیل ، 7 سنگ سلیمانی اور دوسرے جواہرات جو کاہنوں کے پہننے کے لباس ایفود اور عدل کا سینہ بند- " 8 " لوگ میرے لئے ایک مقدس جگہ بنا ئیں گے تب میں اُن کے ساتھ رہ سکوں گا ۔ 9 میں تمہیں دکھا ؤں گا کہ مقدس خیمہ کس طرح دکھا ئی دینا چاہئے ۔ میں تمہیں دکھا ؤ ں گا کہ اُس میں تمام چیزیں کیسی دکھا ئی دینی چاہئے ۔ جیسا میں نے دکھا یا ویسا ہی ہر چیز کو بنا ؤ۔ 10 ببول کی لکڑی استعمال کر کے ایک خاص صندوق بنا ؤ یہ مقدس صندوق ۲/ ۲۱ کیو بٹ لمبا ۲/۱۱ کیو بٹ چوڑا اور ۲/ ۱۱ کیو بٹ اونچا ہو نا چاہئے ۔ 11 صندوق کو اندر اور با ہر سے ڈھکنے کے لئے خالص سونے کا استعمال کرو صندوق کے کو نو ں کو سونے سے مڑھو۔ 12 صندوق کو اٹھا نے کے لئے سونے کے چار کڑے بنا ؤ۔ سونے کے کڑ وں کو چاروں کو نوں پر لگا ؤ دونوں طرف دو دو کڑے ہو نے چاہئے ۔ 13 کھمبے ببول کی لکڑی کے بنے ہو ئے اور سونے سے مڑھے ہو ئے ہو نا چاہئے ۔ 14 صندوق کے بازو کے کو نوں پر لگے کڑوں میں ان کھمبوں کو ڈال دینا ۔ ان کھمبوں کا استعمال صندوق کو لے جانے کے لئے کرو ۔ 15 یہ کھمبے صندوق کے کڑوں میں ہمیشہ پڑے رہنا چاہئے ۔ کھمبوں کو باہر نہ نکالو ۔ 16 خدا نے کہا ، " میں تمہیں معاہدہ دوں گا ۔معاہدہ کو اس صندوق میں رکھو ۔ 17 پھر ایک سر پوش (ڈھکن ) بنا ؤ اُسے خالص سونے کا بنا ؤ یہ ۲/۲۱ کیو بٹ لمبا اور ۲/ ۱۱ کیو بٹ چوڑا ۔ 18 تب دو کروبی فرشتے بنا ؤ اور انہیں سر پوش کے دونوں سِر وں پر لگا ؤ۔ ان فرشتوں کو بنا نے کے لئے سونے کے پتروں کا استعمال کرو ۔ 19 ایک کروبی کو سر پوش کے ایک سِرے پر لگا ؤ اور دوسرے کو دوسرے سِرے پر ، کروبیوں اور سر پوش کو ایک بنا نے کے لئے ایک ساتھ جو ڑ دو ۔ 20 کرو بی فرشتے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو نا چاہئے ۔ کروبیوں کا مُنہ سر پوش کی طرف دیکھتے ہو ئے ہو نا چاہئے ۔ کروبیوں کے پروں کو سر پوش پر پھیلے ہو ئے ہو نا چا ہئے ۔ 21 " میں تم کو جو عہدنا مہ دو ں گا اُ سے معاہدہ کے صندوق میں رکھنا اور خاص سر پوش کو صندوق کے اوپر رکھنا ۔ 22 جب میں تم سے ملوں گا تب کروبی فرشتوں کے بیچ سے جو معاہدہ کے صندوق کے خاص سر پوش پر ہے بات کروں گا ۔ میں اپنے تمام احکام بنی اسرا ئیلیوں کو اُ سی جگہ سے دوں گا ۔ 23 " ببول کی لکڑی سے میز بنا ؤ۔ میز ۲ کیو بٹ لمبا ایک کیو بٹ چوڑا اور ۲/۱۱ کیو بٹ اونچا ہو نا چا ہئے ۔ 24 میز کو حالص سو نے سے مڑھو اور اُ سکے چاروں طرف سونے کی جھا لر لگا ؤ ۔ 25 تب تین اِنچ چوڑا سونے کا چو کھٹا ( فریم ) میز کے اُوپر چاروں طرف مڑھ دو اور اُ س کے چاروں طرف سو نے کی جھا لر لگا ؤ۔ 26 تب سونے کے چار کڑے بنا ؤاور میز کے چاروں کو نو ں پر پا یوں کے پاس لگا ؤ ۔ 27 ہر ایک پا ئے پر پٹی کے نز دیک ایک ایک سو نے کا کڑا لگا دو۔ اُن کڑوں میں میز کو لے جانے کے لئے بنے کھمبے پھنسے ہو ں گے ۔ 28 کھمبوں کے بنا نے کے لئے ببول کی لکڑ ی استعمال کرو اور انہیں سونے سے مڑھو ۔ کھمبے میز کو لے جانے کے لئے ہیں ۔ 29 طباق ،چمچے اور آفتابے اور اُنڈیلنے کے کٹورے ان سب کو خالص سونے سے بنانا ۔ 30 خاص روٹی میز پر میرے سامنے رکھو۔ یہ سب چیزیں ہمیشہ میرے سامنے وہاں رہنی چاہئے ۔ 31 " تب تمہیں ایک شمعدان بنانا چاہئے شمعدان کا ہر اایک حصّہ خالص سونے کے پتر کا بنا ہو نا چاہئے ۔ خوبصورت دکھا ئی دینے کے لئے شمع پر پھول بناؤ ۔ یہ پھول انکی کلیاں اور پنکھڑ یاں خالص سونے کی بنی ہو نی چاہئے اور یہ سب چیزیں ایک میں ہی جڑی ہو ئی ہو نی چاہئے ۔ 32 " شمعدان کی چھ شاخیں ہو نی چاہئے ۔ تین شاخیں ایک طرف اور تین شاخیں دوسری طرف ہو نی چاہئے ۔ 33 ہر شاخ پر بادام کی طرح کے تین پیالے ہو نا چاہئے ۔ ہر پیالے کے ساتھ ایک ایک کلی اور ایک پھول ہو نا چاہئے ۔ 34 اور شمعدان پر بادام کے پھول کی طرح چار طرف پیالے ہو نا چاہئے ان پیالوں کے ساتھ بھی کلی اور پھول ہو نا چاہئے ۔ 35 شمعدان سے نکلنے والی چھ شاخیں دو دو کے تین حصوں میں بٹی ہو نی چاہئے ۔ ہر ایک دو شاخوں کے جو ڑوں کے نیچے ایک ایک کلی بناؤ جو شمعدان سے نکلتی ہو ۔ 36 یہ سب شاخیں اور کلیاں شمعدان کے ساتھ ایک اکائی میں ہو نی چاہئے اور ہر ایک چیز سونے کے پتّر سے تیار کی جانی چاہئے ۔ 37 تب سات چھو ٹی شمعیں شمعدان پر رکھے جانے کے لئے بناؤ ۔ یہ شمعیں شمعدان کے سامنے کی جگہ پر روشنی دیں گے ۔ 38 شمع کی بتیاں بُجھا نے کے اوزار اور طشتریاں خالص سونے کے بنانے چاہئے ۔ 39 پچھتّر پاؤنڈ خالص سونے کا استعمال شمعدان اور اسکے ساتھ کی تمام چیزیں بنانے میں کرو ۔ 40 ہوشیاری کے ساتھ ہر ایک چیز ٹھیک ٹھیک اسی طریقے سے بنائی جائے جیسا میں نے پہاڑ پر تمہیں دکھا ئی ہے ۔ "

Exodus 26

1 " مقّدس خیمہ دس پردوں سے بناؤ ۔ ان پردوں کو اچھے کتانی کے نیلے لال اور بیگنی کپڑوں سے بناؤ ۔ کسی ماہر کاریگر کو چاہئے کہ وہ پر سمیت کروبی فرشتوں کی تصویروں کو پر دوں پر بنائیں ۔ 2 ہر ایک پر دہ کو ایک مساوی بناؤ ۔ ہر ایک پردہ ۲۸ کیوبٹ لمبی اور چار کیوبٹ چوڑی ہو نی چاہئے ۔ 3 سب پردوں کو دو حصوں میں سِی لو ۔ ایک حصّے میں پانچ پر دوں کو ایک ساتھ سِی لو ۔ اور دوسرے حصّے میں پانچ کو ایک ساتھ ۔ 4 آخری پر دہ کے سرے کے نیچے چھلے بناؤ ۔ ان چھلّوں کو بنانے کے لئے نیلا کپڑا استعمال کرو ۔ پردوں کے دونوں حصّوں میں ایک طرف چھلّے ہوں گے۔ 5 پہلے حصّے کے آخری پر دہ میں پچاس چھلّے ہو ں گے اور دوسرے حصّے کی آخری پردہ میں ۵۰۔ 6 تب ۵۰ سونے کے کڑے چھلّوں کو ایک ساتھ ملانے کے لئے بناؤ ۔ یہ مقدس خیمہ کو ایک ساتھ جوڑ کر ایک ٹکڑا بنا دیگا ۔ 7 " تب تم دوسرا خیمہ بناؤ گے جو مقدّس خیمہ کو ڈھکے گا ۔ اس خیمہ کو بنانے کے لئے بکریوں کے بال سے بُنی ۱۱ پردوں کا استعمال کرو ۔ 8 یہ سب پردے ایک ساتھ برابر ہو نا چاہئے وہ ۳۰ کیوبٹ لمبی اور چار کیوبٹ چوڑی ہو نا چاہئے ۔ 9 ایک حصّے میں پانچ پردوں کو ایک ساتھ سی کر ایک ٹکڑا بنالو ۔ تب باقی چھ پردوں کو ایک ساتھ سی کر ایک اور ٹکڑا بنا لو۔ چھٹے پردہ کو خیمہ کے سامنے ٹانگنے کے لئے آدھا موڑ کر دہرا کردو ۔ 10 ایک حصہ کے آخری پردے کے سرے پر ۵۰ چھلے بناؤ۔ ایسا ہی دوسرے حصے کے آخری پر دے کے لئے کرو ۔ 11 تب ۵۰ کانسے کے کڑے بناؤ ۔ ان کانسے کے کڑو ں کا استعمال پردوں کو ایک ساتھ جوڑ نے کے لئے کرو ۔ یہ پردوں کو ایک ساتھ خیمے کی طرح جوڑیں گے ۔ 12 یہ پردے مقدس خیمے سے زیادہ لمبے ہونگے اس طرح آخری پردہ کا آدھا حصہ خیمے کے پیچھے کناروں کے نیچے لٹکا رہے گا ۔ 13 خیمے کے دونوں طرف پردہ ایک کیوبٹ لمبا رہے گا ۔ یہ ایک کیوبٹ لمبا پردہ خیمے کے دونوں طرف لٹکا رہے گا ۔ 14 بیرونی خیمے کے حصّہ کو دھکنے کے لئے دو ۔ دوسرے پردے بناؤ ۔ ایک لال رنگ مینڈھے کے چمڑے سے بنا نا چاہئے اور دوسرا پردہ عمدہ چمڑے کا بنا ہوا ہو نا چاہئے ۔ 15 " مقّدس خیمے کو سہارا دینے کے لئے ببول کی لکڑی کے ڈھانچے ( فریم ) بناؤ ۔ 16 فریم ۱۰ کیوبٹ اونچے اور ۲/۱۱ کیوبٹ چوڑا ہونا چاہئے۔ 17 ہر ایک فریم ایک جیسا ہونا چاہئے ۔ ہر ایک فریم کے تلے میں انہیں جوڑنے کے لے ساتھ ہی ساتھ دو کھونٹیاں ہونی چاہئے ۔ 18 مقدّس خیمہ کے جنوبی حصّہ کے لئے بیس فریم بناؤ ۔ 19 فریم ( ڈھانچے یا چوکھٹا ) کے ٹھیک نیچے چاندی کی دو بنیاد ہر ایک فریم کے لئے ہونی چاہئے ۔ ہر ایک مِلانے والے ٹکڑے کے لئے ایک چاندی کی بنیاد ہوگی ۔ اس لئے تمہیں فریموں (ڈھانچے ) کے لئے چاندی کی ۴۰ بنیادیں بنانی چاہئے ۔ 20 مقدّس خیمہ کے شمالی حصہ کے لئے بیس فریم (چوکھٹے ) اور بناؤ ۔ 21 ان فریموں کے لئے بھی چاندی کی چالیس بنیادیں بناؤ ۔ ایک فریم کے لئے دو چاندی کی بنیاد ۔ 22 تمہیں مقّدس خیمہ کے مغربی کونے کے لئے ۶ اور فریم بنانا چاہئے ۔ 23 دو فریم پچھلے کو نوں کے لئے بناؤ ۔ 24 کو نے کے دونوں فریم کو ایک ساتھ جو ڑ دینا چاہئے ۔ دونوں فریم کے کھمبے نیچے پیندی میں جوڑا رہنا چاہئے اور اوپر ایک چھلّہ فریموں کو ایک ساتھ پکڑے ہو ئے رہے گا ۔ 25 اس طرح کُل ملاکر ۸ فریم خیمے کے لئے ہونگے ۔ اور ہر فریم کے نیچے دو بنیادیں ہوں گی ۔ اس طرح کے ۱۶ چاندی کی بنیادیں مغربی کو نے کے لئے ہونگے ۔ 26 " ببول کی لکڑی کا استعمال کرو اور مقدس خیمہ کے فریموں کے لئے کُنڈیاں بناؤ ۔ مقدس خیمہ کے پہلے حصّے کے لئے ۵ کنڈیاں ہوں گی ۔ 27 اور مقدس خیمہ کے دوسرے حصّے کے فریم کے لئے ۵ کنڈیاں ہوں گی اور مقدس حیمہ کے مغربی حصے کے فریم کے لئے ۵ کنڈیاں ہوں گی بالکل مقدس خیمہ کے پیچھے ۔ 28 پانچوں کنڈیوں کے بیچ کی کنڈی فریموں کے درمیان میں ہو نی چاہئے ۔ یہ کنڈی فریموں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جانی چاہئے ۔ 29 فریموں کو سونے سے مڑھو اور فریموں کی کنڈیوں کو پھنسانے کے لئے کڑے بناؤ ۔ یہ کڑے بھی سونے کے ہی بننا چاہئے ۔ کُنڈیوں کو بھی سونے سے مڑھو ۔ 30 مقدّس خیمہ کو تم اسی طرح بناؤ جیسا میں نے تمہیں پہاڑ پر دکھا یا تھا ۔ 31 " جوٹ(پٹسن) کے اچھے ریشوں کا استعمال کرو اور مقدس خیمہ کے اندرونی حصہ کے لئے ایک خاص پردہ بناؤ ۔ اس پردہ کو نیلے ، بیگنی اور لال رنگ کے کپڑے سے بناؤ ۔ کروبی فرشتے کی تصویر کو کپڑے میں نقش کرو ۔ 32 ببول کی لکڑی کے چار کھمبے بناؤ ۔ چاروں کھمبوں پر سونے کی بنی ہوئی کھونٹیاں لگاؤ ۔ کھمبوں کو سونے سے مڑھ دو ۔ کھمبوں کے نیچے چاندی کے چار پائے رکھو ۔ تب سونے کی کھونٹیوں میں پردہ لٹکاؤ ۔ 33 کھونٹیوں پر پردہ لٹکانے کے بعد معاہدہ کے صندوق کو پردہ کے پیچھے رکھو یہ پردہ مقدس جگہ کو مقدس ترین جگہ سے علحدٰہ کرے گا ۔ 34 مقدس ترین جگہ میں معاہدہ کے صندوق پر سرپوش رکھو ۔ 35 " مقدس جگہ میں پردہ کے دوسری طرف خاص میز کو رکھو ۔ میز مقدس خیمہ کے شمال میں ہونی چاہئے پھر شمعدان کو جنوب میں رکھو شمعدان میز کے بالکل سامنے ہو گا ۔ 36 " تب خیمہ کے داخلے کے لئے ایک پردہ بناؤ اس پردے کو بنانے کے لئے نیلے ، بیگنی ، لال کپڑے اور جوٹ ( پٹسن ) کے ریشوں کا استعمال کرو اور کپڑے میں تصویروں کی کڑھا ئی کرو ۔ 37 دروازے کے پردے کے لئے سونے کے چھلّے بنواؤ ۔ سونے سے مڑھے ببول کی لکڑی کے پانچ کھمبے بناؤ اور پانچوں کھمبوں کے لئے کانسے کے پانچ پائے بناؤ ۔ "

Exodus 27

1 " ببول کی لکڑی کو استعمال کرو اور ایک قربان گاہ بناؤ ۔ قربان گاہ مربع نُما ہو نا چاہئے ۔ اُس کو ۵ کیوبٹ لمبی ، ۵ کیوبٹ چوڑی اور تین کیوبٹ اُونچی ہو نی چاہئے ۔ 2 قربان گاہ کے چاروں کونوں کے ہر کو نے پر ایک ایک سینگ بناؤ ہر سینگ کو اسکے کو نے سے ایسے جوڑو کہ سب ایک ہو جائیں تب قربان گاہ کو کانسے سے مڑھو ۔ 3 " قربان گاہ پر کام آنے والے تمام اوزاروں کو بنانے میں کانسہ کا استعمال کرو ۔ برتن ، بیلچے ، کٹورے ، کانٹے اور کڑھائیاں بناؤ ۔ یہ سب برتن قربان گاہ سے راکھ کو نکالنے کے کام آئیں گے ۔ 4 جال کی طرح کانسے کی ایک بڑی جالی بناؤ ۔ جالی کے چاروں کو نوں کے لئے کانسے کے کڑے بناؤ ۔ 5 جالی کو قربان گاہ کی پرت کے نیچے رکھو ۔ تا کہ یہ قربان گاہ کی آدھے اُونچائی تک چلی جائیں ۔ 6 " قربان گاہ کے لئے ببول کی لکڑی کے بھا لے بناؤ اور اُنہیں کانسے سے مڑھو ۔ 7 قربان گاہ کے دونوں طرف کڑوں میں ان بھا لوں کو ڈالو اِن بھا لوں کو قربان گاہ کو لے جانے کے لئے کام میں لو ۔ 8 قربان گاہ اندر سے کھوکھلی رہے گی اور اُس کے پہلو تختوں کے بنے ہونگے ۔ قربان گاہ ویسی ہی بناؤ جیسا میں نے تم کو پہاڑ پر دکھا ئی تھی ۔ 9 مقدّس خیمہ کے لئے ایک آنگن بناؤ ۔ اس آنگن کی جنوبی جانب پر دوں کی ۱۰۰ کیوبٹ لمبی دیوار بناؤ ۔ یہ پردہ پٹ سن کے ریشوں سے بنا ہو نا چاہئے ۔ 10 بیس کھمبے اور اُس کے نیچے ۲۰ کانسے کے پائے کا استعمال کرو ۔ کھمبے کے چھلّوں اور پردے کی چھڑی چاندی کی بننی چاہئے ۔ 11 شمال کی طرف پر دے کے دیوار ۱۰۰ کیوبٹ لمبی ہو نی چاہئے اس کے بیس کھمبے ہونا چاہئے اور ۲۰ کانسہ کے پائے ۔ کھمبوں کے چھلّے اور پردہ کی چھڑی چاندی کی بننی چاہئے ۔ 12 " آنگن کے مغربی جانب پردوں کی ایک دیوار ۵۰ کیوبٹ لمبی ہو نی چاہئے ۔ وہاں اُس دیوار کے ساتھ ۱۰ کھمبے اور ۱۰ پائے ہو نے چاہئے ۔ 13 آنگن کا مشرقی سِرا ۵۰ کیوبٹ لمبا ہو نا چاہئے ۔ 14 داخلے کے دروازے کی ہر ایک جانب کا پردہ ۱۵ کیوبٹ لمبا ہو نا چاہئے ۔ ہر جانب ۳ کھمبے اور ۳ بنیادی پا یہ ہو نے چاہئے ۔ 15 16 ایک پردہ ۲۰ کیوبٹ لمبا آنگن کے داخلہ کے دروازے کو ڈھانکنے کے لئے بناؤ ۔ اس پردہ کو پٹ سن کے عمدہ ریشوں اور نیلے اور لال اور بیگنی کپڑے سے بنا ؤ۔ ان پر دوں پر تصویروں کو کاڑھو ۔ اُس پر دہ کے لئے ۴ کھمبے اور ۴ سہارے ہو نا چاہئے ۔ 17 آنگن کے چاروں طرف کے سب کھمبے چاندی کے پردوں کی چھڑوں سے ہی جوڑا جانا چاہئے ۔ کھمبوں کے ہُک چاندی کا بنا ہو نا چاہئے بنیاد چاندی کی بنی ہو نی چاہئے ۔ 18 آنگن ۱۰۰ کیوبٹ لمبا اور ۵۰ کیوبٹ چوڑا ہو نا چاہئے ۔ آنگن کے چاروں طرف کے پر دہ کی دیوار ۵ کیوبٹ اُونچی ہونی چاہئے ۔ پردہ پٹ سن کے عمدہ ریشوں کا بنا ہونا چاہئے ۔ سب کھمبوں کے نیچے کے سہارے کانسے کے ہو نا چاہئے ۔ 19 تمام اوزار ، خیمے کی کھونٹیاں اور مقدس خیمے میں لگی ہر ایک چیز کانسے کی ہی ہو نی چاہئے اور آنگن کے چاروں طرف کے پردے کے لئے کھونٹیاں کانسے کی ہی ہو نی چاہئے ۔ 20 "بنی اسرائیلیوں کو حکم دو کہ بہترین زیتون کا تیل لائیں ۔ اس تیل کا استعمال چراغ کو لگا تار جلتے رہنے کے لئے کرنا چاہئے ۔ 21 ہارون اور اس کے بیٹے روشنی کا کام سنبھا لیں گے ۔ وہ خیمہ اجتماع کے پہلے کمرے کے باہر اس پردہ کے سامنے ہے جو دونوں کمروں کو الگ کر تا ہے وہ اسکا دھیان رکھیں گے کہ اس جگہ پر خدا وند کے سامنے چراغ شام سے صبح تک مسلسل جلتے رہیں گے بنی اسرائیل اور انکی نسلیں اس شریعت کی تعمیل ہمیشہ کریں گے ۔"

Exodus 28

1 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " اپنے بھا ئی ہارون اور اسکے بیٹوں ناداب ، ابیہو، الیعزر اور اتا مر کو بنی اسرائیلیوں میں سے اپنے پاس آنے کو کہو ۔ یہ آدمی میری خدمت کاہنوں کی حیثیت سے کریں گے ۔ 2 " اپنے بھا ئی ہارون کے لئے خاص لباس بناؤ ۔ یہ لباس اُسے اعزاز اور عزت بخشیں گے ۔ 3 تمہارے بیچ ماہر آدمی جسے ہم نے ہارون کے لباس بنا نے کے لئے خاص دانشمندی دی ہے ۔ اسے ہارون کے لئے لباس بنا نے کے لئے کہو ۔ جو یہ ظا ہر کرے کہ وہ کاہن کے طور پر میری خدمت کے لئے مخصوص ہو گیا ہے ۔ 4 ماہر آدمی کو وہ لباس کو بنا نا چاہئے : عدل کا سینہ بند ، ایفود ، جبّہ ، ایک کشیدہ کی ہوئی قمیص ، سر بند اور ایک کمر بند ۔ اس ماہر آدمی کو وہ لباسوں کو ہارون اور اسکے بیٹے کے لئے بنانا چاہئے ۔ ہارون اور اسکا بیٹا کاہنوں کی طرح میری خدمت کریں گے ۔ 5 لوگوں سے کہو کہ وہ سُنہری دھا گوں اور پٹ سن کے عمدہ ریشوں اور نیلے ، لال اور بیگنی کپڑے استعمال کریں۔ 6 " ایفود بنانے کے لئے سُنہرے دھا گے پٹ سن کے عمدہ ریشوں اور نیلی لال بیگنی کپڑوں کا استعمال کرو ۔ اس خالص ایفود کو صرف ماہر کاریگر ہی بنائیں گے ۔ 7 ایفود کے ہر ایک کندھے پر پٹی لگی ہوگی ۔ کندھے کی یہ پٹیاں ایفود کے دونوں کونوں پر بندھی ہونگی۔ 8 " کاریگر بڑی ہوشیاری سے ایفود پر باندھنے کے لئے ایک کمر بند بنائیں گے ۔ یہ کمر بند انہی چیزوں کا ہوگا ۔ جن کا ایفود سنُہرے دھا گے پٹ سن کے عمدہ ریشوں نیلی لال اور بیگنی کپڑوں کا ہو ۔ 9 "تمہیں دوسنگ سلیمانی لینی چاہئے ۔اس سنگ سلیمانی پر اسرائیل کے بیٹوں کے نام کندہ کرو۔ 10 چھ نام ایک پتھّر پر اور چھ نام دوسرے پتھّر پر ، ناموں کو سب سے بڑے سے سب سے چھو ٹے کی ترتیب سے لکھو ۔ 11 اسرائیل کے بیٹوں کے ناموں کو اُن پتھّروں پر کندہ کرواؤ۔ یہ اسی طرح کرو جس طرح وہ آدمی جو مہریں بناتا ہے ۔ پتھّروں کے چاروں طرف سونا لگاؤ جس سے ان پتھّروں کو ایفود کے کندھے کی پٹی پر ان دونوں پتھروں کو جر دو ۔ ہارون جب خدا وند کے سامنے کھڑا ہوگا ۔ تو یہ خاص چغہ پہنے گا تا کہ وہ بنی اسرائیلیوں کو یاد رکھے گا ۔اور اسرائیل کے بیٹوں کے نام والے دونوں پتھّر ایفود پر ہوں گے ۔ یہ بنی اسرائیلیوں کو یاد رکھنے میں خدا وند کی مدد کریں گے ۔ 12 13 "اچھا سونا ہی پتھر کو ایفود پر ڈھانکنے کے لئے استعمال کرو ۔ 14 اسی طرح ایک میں بٹی ہو ئی سونے کی زنجیر لو سونے کی ایسی دو زنجیریں بناؤ اور سونے کے جڑاؤ کے ساتھ انہیں باندھو ۔ 15 " ایک عدل کا سینہ بند بناؤ ۔ ماہر کاریگر اس سینہ بند کو ویسا ہی بنائیں جیسا وہ ایفود کو بنایا تھا ۔ ان سُنہرے دھا گے ، پٹ سن کے عمدہ ریشے اور نیلی لال اور بیگنی کپڑے کا استعمال کرو ۔ 16 عدل کا سینہ بند ۹ اِنچ لمبا اور ۹ اِنچ چوڑا ہونا چاہئے ۔ چوکور جیب بنانے کے لئے اُسکی دوتہہ کر نی چاہئے ۔ 17 عدل کے سینہ بند پر خوبصورت نگوں کی چار طھاریں جڑو ۔ نگوں کی پہلی قطار میں ایک یاقوت سرخ ایک پکھراج اور ایک گوہر شب ہو نی چاہئے 18 دوسری قطار میں فیروزہ ،نیلم اور زمرد ہو نا چاہئے۔ 19 تیسری قطار میں یشب ،عقیق اور یاقوت لگانا چاہئے ۔ 20 چو تھی قطار میں سنگ سلیمانی ، لعل ،اور زبرجد لگانی چاہئے۔۲۱ عدل کے سینہ بند پر بارہ جواہر ہوں گے جو اِسرائیل کے 21 بیٹوں کا ایک نمائندگی کرے گا ۔ ہر ایک جواہر پر اسرائیل کے بیٹوں میں سے ہر ایک کا نام لکھو۔ ہر ایک جواہر پر مہر کی طرح اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے نام کندہ کرواؤ ۔ 22 " عدل کے سینہ بند میں خالص سونے کی زنجیر ہو گی ۔ یہ زنجیریں بٹی ہو ئی رسّی کی طرح ہوں گی۔ 23 دو سونے کے چھلّے بناؤ اور اُنہیں عدل کے سینہ بند کے دونوں کونوں پر لگاؤ ۔ 24 دونوں سنُہری زنجیروں کو عدل کے سینہ بند کے دونوں کونوں میں لگے چھلّوں میں ڈا لو ۔ 25 سونے کی زنجیروں کو دوسرے سِرے کے کندھے کی پٹیوں کے جڑاؤ میں لگاؤ جس سے وہ ایفود کے ساتھ سینے پر کسے رہیں ۔ 26 دو اور سونے کے چھلّے بناؤ اور انہیں عدل کے سینہ بند کے دوسرے کونوں پر لگاؤ ۔ یہ سینہ بند کے اندرونی حصّہ میں ایفود کے سامنے ہوگا ۔ 27 دو اور سونے کے چھلّے بناؤ اور انہیں کندھے کی پٹّی کے نیچے ایفود کے سامنے لگاؤ ۔ سونے کے چھلّوں کو ایفود کی پٹّی کے بغل اُو پر کی جگہ پر لگاؤ ۔ 28 عدل کے سینہ بند کے چھلّوں کو ایفود کے چھلّوں سے جوڑو ۔ انہیں پٹی سے ایک ساتھ جوڑنے کے لئے نیلی پٹیوں کا استعمال کرو ۔ اس طرح عدل کے سینہ بند ایفود سے علحدٰہ نہیں ہوگا ۔ 29 ہارون جب مقدس جگہ میں داخل ہو تو اُسے اُس عدل کے سینہ بند کو پہنے رہنا چاہئے ۔ اس طرح اسرائیل کے بارہ بیٹوں کے نام اُس کے دل میں رہیں گے ۔ اور خدا وند کو ہمیشہ ہی ان لوگوں کی یاد دلا ئی جاتی رہے گی ۔ 30 اور یم اور تمیّم کو عدل کے سینہ بند میں رکھو ۔ تا کہ وہ ہارون کے دل کے اوپر ہوگا ۔ ہارون جب خدا وند کے سامنے جائے گا تب یہ تمام چیزیں اسے یاد ہوں گی ۔ اس لئے جب ہارون خدا وند کے سامنے ہوگا تب وہ بنی اسرائیلیوں کے انصاف کر نے کا طریقہ ہمیشہ اپنے ساتھ لئے ہو ئے رہے گا ۔ 31 یفود کے نیچے پہننے کے لئے چغہ بناؤ ۔ چغہ صرف نیلے کپڑے کا بناؤ ۔ 32 سر کے لئے اس کپڑے کے بیچ میں ایک سوراخ بناؤ اُس سوراخ کے چاروں طرف گوٹ لگاؤ تا کہ یہ پھٹے نہیں ۔ 33 نیلے لال اور بیگنی کپڑے کو پھندنا بناؤ جو انار کی طرح ہو ان انارو ں کو چغہ کے نچلے سِرے کے چاروں طرف ایک انار اور ایک سونے کی گھنٹی ہو گی ۔ 34 35 تب ہارون اس چغہ کو پہنے گا جب وہ کاہن کی طرح خدمت کرے گا اور خدا وند کے سامنے مقدّس جگہ میں جائے گا ۔ جب وہ مقدّس جگہ میں داخل ہو گا اور وہاں سے نکلے گا تب یہ گھنٹیاں بجیں گی اس طرح ہارون نہیں مرے گا ۔ 36 " خالص سونے کا ایک پتّر بناؤ اس سونے کے پتّر پر مہر کی طرح الفاظ کندہ کرو ۔ اس پر اِن الفاظ کو کندہ کرو : " خدا وند کے لئے مقّدس۔" 37 سونے کے پتّر کو پگڑی کے سامنے لگاؤ ۔ اس پگڑی سے سونے کے پتّر کو باندھنے کے لئے نیلے کپڑے کی پٹّی کا استعمال کرو ۔ 38 " ہارون اسے اپنے سر پر پہنے گا ۔ اس طرح وہ بنی اسرائیلیوں کے ذریعہ پیش کئے گئے مقّدس تحفوں کو دیکھنے کا بھی ذمے دار ہو گا کہ وہ شریعت کے مطابق ہے ۔ ہارون جب بھی خدا وند کے سامنے جائے گا وہ اسے ہمیشہ پہنے رہے گا تا کہ خدا وند انہیں قبول کر لے ۔ 39 "چغہ بنانے کے لئے پٹ سن کے عمدہ ریشوں کو استعمال میں لاؤ اور اُس کپڑے کو بنانے کے لئے بھی پٹ سن کے عمدہ ریشوں کو استعمال میں لاؤ جو سر کو ڈھکتا ہے اس میں کڑھا ئی کی جانی چاہئے ۔ 40 لبادہ، کمر بند اور پگڑیاں ہارون کے بیٹوں کے لئے بھی بناؤ ۔ یہ انہیں اعزاز اور تعظیم دیگا ۔ 41 یہ پوشاک اپنے بھا ئی ہارون اور اس کے بیٹوں کو پہناؤ اس کے بعد زیتون کا تیل ان کے سر پر ڈا لو اور کاہنوں کے طور پر انکی تصدیق کرو ۔ انہیں پاک بناؤ ۔ تب وہ میری خدمت کاہن کی حیثیت سے کریں گے ۔ 42 ان کے لباسوں کو بنانے کے لئے پٹ سن کے عمدہ ریشوں کا استعمال کرو جو خاص کاہنوں کے لباس کے نیچے پہننے کے لئے ہوں گے ۔ یہ لباس کمر سے رانوں تک پہنے جائیں گے ۔ 43 ہارون اور اسکے بیٹوں کو ان لباسوں کو ہی پہننا چاہئے جب کبھی وہ خیمہٴ اجتماع میں جائیں ۔ انہیں انہی لباسوں کو پہنا چاہئے جب کبھی وہ مقدس جگہ میں کاہنوں کی طرح خدمت کے لئے قربان گاہ کے قریب آئیں ۔ اگر وہ ان پوشاکوں کو نہیں پہنیں گے تو وہ قصور وار ہوں گے ۔ اور انہیں مر نا ہوگا ۔ یہ ایسا قانون ہو نا چاہئے جو ہارون اور اسکے بعد اس کی نسل کے لوگوں کے لئے ہمیشہ کے لئے بنا رہے گا۔"

Exodus 29

1 " تم اس طرح سے ہا رو ن اور ان کے بیٹوں کو کاہنوں کے طور پر میری خدمت کر نے کے لئے مخصوص کرو ۔ ایک جوان بیل اور دو بے داغ مینڈھے لا ؤ ۔ 2 جس میں خمیر نہ ملا یا گیا ہو ایسا با ریک آٹا لو اور اس سے تین طرح کی روٹیاں بنا ؤ۔ پہلی بغیر خمیر کی سادہ رو ٹی دوسری تیل ڈا لی ہو ئی رو ٹی اور تیسری ویسے ہی آٹے کی چھو ٹی پتلی روٹی بنا کر اُس پر تیل لگا ؤ۔ 3 ان روٹیوں کو ایک ٹوکری میں رکھو اور پھر ا ُس ٹوکری کو ہا رون اور اُس کے بیٹوں کو بچھڑوں اور دو مینڈھوں کے ساتھ دو ۔ 4 " تب ہا رو ن اور اُس کے بیٹوں کو خیمہٴ اجتماع کے دروا زہ کے سامنے لا ؤ پھر انہیں پانی سے نہلا ؤ ۔ 5 ہا رون کی خاص پو شاک اسے پہنا ؤ ۔ سفید اور نیلا چوغہ اور ایفود پھر اُس پر عدل کا سینہ بند پھر خاص کمر بند باندھو ۔ 6 اور پھر اُ سکے سر پر پگڑی باندھو سونے کی پٹی کی جو ایک خاص تاج کے جیسی ہے پگڑی کے چاروں طرف باندھو ۔ 7 اور اس کے سر پر زیتون کا تیل ڈا لو جو ظا ہر کرے گا کہ ہا رون اُ سکام کے لئے چُنا گیا ہے ۔ 8 " تب اُ س کے بیٹوں کو اُ س جگہ پر لا ؤ اور انہیں چغے پہناؤ ۔ 9 تب اُن کی کمر کے اطراف کمر بند باندھو انہیں پہننے کو پگڑی دو اس وقت سے وہ کا ہنوں کی طرح کام کر نا شروع کریں گے ۔ اُ س قانون کے مطا بق جو ہمیشہ رہے گا وہ کا ہن ہو ں گے ۔ اسی طریقے سے تم ہا رون اور اس کے بیٹوں کو کاہن بنا ؤ گے ۔ 10 " تب خیمٴہ اجتماع کے سامنے کی جگہ پر بچھڑے کو لا ؤ ہا رون اور اُ سے بیٹوں کو چاہئے کہ وہ بچھڑے کے سر پر ہا تھ رکھیں۔ 11 پھر اُ س بچھڑ ے کو خیمٴہ اجتماع کے دروا زے پر خداوند کے سامنے ذبح کر دیئے ۔ 12 تب بچھڑے کا خون لو اور قربان گاہ تک جا ؤ اپنی انگلی سے قربان گا ہ پر لگے سینگوں میں خون لگا ؤ ۔ سارے خون کو قربان کی بنیاد پر ضرور ڈالنا چاہئے ۔ 13 تب بچھڑے سے ساری چربی نکالو پھر کلیجہ کے چاروں طرف کی چربی اور دونوں گردو ں اور اُ س کے اطراف کی چربی لو اور اس چربی کو قربانگاہ پر جلا ؤ۔ 14 تب بچھڑے کا گوشت اس کے چمڑے اور اس کے دوسرے اعضاء کو لو اور اپنے خیمہ سے با ہر جا ؤ ۔ ان چیزوں کو خیمہ کے با ہر جلا ؤ یہ نذرانے ہیں جو کا ہنوں کے گنا ہوں کو دور کر نے کے لئے چڑھا ئے جا تے ہیں۔ 15 "تب ہارون اور اسکے بیٹوں کو کسی ایک مینڈھے کے سر پر ہاتھ رکھنے کو کہو ۔ 16 تب اس مینڈھے کو ذبح کرو اور اسکے خون کو لو خون کو قربان گاہ کے چاروں طرف چھڑ کو ۔ 17 تب مینڈھے کو کئی ٹکڑوں میں کاٹو۔ مینڈھے کے اندر کے سب اعضا ء اور پیروں کو صاف کرو ۔ ان چیزوں کو سر اور مینڈھے کے دوسرے ٹکڑوں کے ساتھ رکھو ۔ 18 تب قربان گاہ پر پو رے مینڈھا کو جلاؤ یہ جلانے کا نذ رانہ ہے جو خدا وند کے لئے تحفہ کی طرح ہے ۔ اس کی بو خدا وند کو خوش کرے گی ۔ 19 " ہارون اور اسکے بیٹوں کو دوسرے مینڈھے پر ہاتھ رکھنے کو کہو ۔ 20 اس مینڈھے کو ذبح کرو اور اس کا تھوڑا خون لو اس خون کو ہارون اور اس کے بیٹوں کے دائیں کان کے نچلے حصّے میں ، ان کے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر اور انکے دائیں پیر کے انگوٹھے پر لگاؤ ۔ باقی خون کو قربان گاہ کے اطراف چھڑ کو ۔ 21 تب قربان گاہ سے تھوڑا خون لو ۔ اور اسے مخصوص تیل میں ملاؤ اور اس کو ہارون اور اسکے بیٹوں اور انکے لباس پر چھڑکو ۔ یہ اُن تمام لوگوں کو ہارون کے ساتھ مقدس بنائے گا ۔ 22 " تب اس مینڈھے سے چربی لو یہ وہی مینڈھا ہے جس کا استعمال ہارون کو اعلیٰ کاہن بنانے کے لئے ہوگا ۔ دُم کے چاروں طرف کی چربی اور اس چربی کو لو جو جسم کے اندر کے اعضاء کو ڈھانکتی ہے کلیجہ ڈھانکنے والی چربی کو لو دونوں گردوں اور دائیں پیر کو لو ۔ 23 تب اس روٹی کی ٹوکری کو لو جس میں تم نے بے خمیری روٹیاں رکھیں تھی ۔ یہی وہ ٹوکری ہے جسے تمہیں خدا وند کے سامنے رکھنا ہے ان روٹیوں کو ٹوکری سے باہر نکالو ، ایک سادی روٹی ، ایک تیل سے بنی اور ایک چھو ٹی پتلی چپڑی ہو ئی ۔ 24 تب اس کو ہارون اور اسکے بیٹوں کو دو ۔ پھر ان سے کہو کہ وہ خدا وند کے سامنے انہیں اپنے ہاتھوں میں اٹھا ئیں یہ خدا وند کے لئے خاص نذر ہو گی ۔ 25 تب ان روٹیوں کو ہارون اور اسکے بیٹوں سے لو اور انہیں قربان گاہ پر مینڈھے کے ساتھ رکھو ۔ یہ ایک جلائی ہو ئی قربانی ہے یہ خدا وند کے لئے ایسی نذر ہو گی جو آ گ کے ساتھ دی جاتی ہے ۔ اس کی بوُ خدا وند کو خوش کرے گی ۔ 26 " تب اس مینڈھے سے اسکے سینہ کو نکالو ۔ یہی وہ مینڈھا ہے جس کا استعمال ہارون کو اعلیٰ کاہن بنانے کے تقریب میں کیا جائے گا ۔ مینڈھے کے سینہ کو خاص نذر کی شکل میں خدا وند کے سامنے پکڑو ۔ پھر واپس لاکر اسے رکھ دو ۔ جانور کا یہ حصّہ تمہارا ہو گا۔ 27 تب مینڈھے کے اس سینہ اور ٹانگ کو لو جو ہارون کو اعلیٰ کاہن بنانے کے لئے استعمال میں آئے تھے ۔ انہیں پاک بناؤ اور انہیں ہارون اور اسکے بیٹوں کو دو یہ نذر کا خاص حصّہ ہو گا ۔ 28 بنی اسرائیل ان حصوں کو ہارون اور اسکے بیٹوں کو ہمیشہ دینگے ۔ جب کبھی بنی اسرائیل خدا وند کو قر بانی دیں گے تو یہ حصہ ہمیشہ کاہنوں کا ہوگا جب وہ ان حصوں کو کاہنوں کو دینگے تو یہ خدا وند کو دینے کے برابر ہو گا ۔ 29 " ان خاص لباسوں کو محفوظ رکھو جو ہارون کے لئے بنے تھے ۔ لباس اسکے ان تمام نسلوں کے لوگوں کے لئے ہونگے ۔ جو اسکے بعد رہیں گے وہ ان لباس کو اس وقت پہنے گے جب کاہنوں کو چُنے جائیں گے ۔ 30 ہارون کا جو بیٹا اس کے بعد اعلیٰ کاہن ہو گا وہ سات دن تک اس لباس کو پہنے گا جب وہ خیمہٴ اجتماع کے مقدس جگہ میں خدمت کر نے آئیگا ۔ 31 " اس مینڈھے کے گوشت کو پکاؤ جو ہارون کو اعلیٰ کاہن بنانے کے لئے استعمال میں آیا تھا ۔ اس گوشت کو مقدس جگہ پر پکاؤ ۔ 32 تب ہارون اور اسکے بیٹے خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر مینڈھے کا گوشت کھا ئیں گے ۔ 33 ان نذروں کو استعمال ان کے گناہ کو ختم کر نے کے لئے اس وقت ہوا تھا جب وہ کاہن بنے تھے ۔ یہ مینڈھے صرف انہیں کھا نا چاہئے کسی دوسرے کو نھیں کیوں کہ یہ پاک ہیں ۔ 34 اگر اس مینڈھے کا کچھ گوشت یا روٹی دوسرے دن کے لئے بچ جائے تو اسے جلا دینا چاہئے ۔ تمہیں وہ روٹی یا گوشت نہیں کھا نا چاہئے ۔ کیوں کہ اسے صرف خاص طرح سے خاص وقت پر ہی کھا یا جانا چاہئے ۔ 35 ویسا ہی کرو جیسا میں نے تمہیں ہارون اور اسکے بیٹوں کے لئے کر نے کا حکم دیا ہے ۔ یہ تقریب مقرّر کاہنوں کی تقریب کے لئے سات دن تک چلے گی ۔ 36 سات دن تک ہر روز ایک ایک بچھڑے کو ذبح کرو یہ ہارون اور اسکے بیٹوں کے گناہ کے لئے قربانی ہو گی ۔ تم ان دنوں میں دی گئی قربانی کا استعمال قربان گاہ کو پاک کرنے کے لئے کر نا اور قربان گاہ کو مقدس بنا نے کے لئے زیتون کا تیل اس پر ڈالنا ۔ 37 تم سات دن تک قربان گاہ کو خالص اور پاک کر نا تب قربان گاہ پاک ہو جائے گی ۔ کو ئی بھی چیز جو قربان گاہ کو چھو ئے وہ پاک ہو جائے گی ۔ 38 " ہر روز قربان گاہ پر تمہیں ایک قربانی دینی چاہئے ۔ تم کو ایک ایک سال کے دو میمنے کی قربانی دینی چاہئے ۔ 39 ایک میمنہ کی قربانی صبح اور دوسرے کی شام میں دو ۔ 40 جب تم پہلے میمنہ کا نذ رانہ پیش کرو تو آٹھ پیالے گیہوں کا باریک آٹا چار پیالے مئے کے ساتھ ملاؤ اور اسے پیش کرو ۔ جب تم دوسرے میمنہ کو شام کے وقت پیش کرو تو آٹھ پیالے باریک آٹا چار پیالے زیتون کا تیل اور چار پیالے مئے بھی صبح کی طرح پیش کرو ۔ یہ ایک تحفہ ہے ، خدا وند کے لئے ایک میٹھی خوشگوار خوشبو ہے ۔ 41 42 تمہیں ان چیزوں کو خدا وند کی قربانی پیش کر نے میں روزجلانی چاہئے ۔یہ خدا وند کے سامنے خیمہٴ اجتماع کے دروازہ پر کرو یہ ہمیشہ کر تے رہو ۔ جب تم قربانی پیش کرو گے تب میں خدا وند سے ملوں گا اور وہاں تم سے باتیں کروں گا ۔ 43 میں بنی اسرائیلیوں سے اس جگہ پر ملونگا اور وہ جگہ میرے جلال سے مقدس ہو گی ۔ 44 اس طرح میں خیمہٴ اجتماع کو پاک بناؤ نگا ۔ اور میں قربان گاہ کو بھی مقدس بناؤنگا اور میں ہارون اور اسکے بیٹوں کو مقدس کروں گا جس سے وہ میری خدمت کاہن کے طور پر کریں گے ۔ 45 میں بنی اسرائیلیوں کے ساتھ رہوں گا میں ا ن کا خدا ہوں گا ۔ 46 لوگ یہ جان جائیں گے کہ میں انکا خدا خدا وند ہو ں ۔ انہیں معلوم ہو گا کہ میں ہی وہ ہوں جو انہیں مصر سے باہر لایا تا کہ میں انکے ساتھ رہ سکوں میں انکا خدا وند خدا ہوں ۔ "

Exodus 30

1 " ببول کی لکڑی کی ایک قربان گاہ بنا ؤ تم اس قربان گا ہ کا استعمال بخور جلا نے کے لئے کرو گے ۔ 2 تمہیں قربان گا ہ کو ایک مربع کی شکل میں ایک کیو بٹ لمبی اور ایک کیو بٹ چوڑی بنا نی چا ہئے ۔ یہ دو کیو بٹ اُونچی ہو نی چاہئے ۔ چاروں کونوں پر سینگ لگے ہو نے چاہئے ۔ یہ سینگ قربان گا ہ کے ساتھ ایک اکا ئی کی شکل میں قربان گا ہ کے ساتھ جڑے جانے چاہئے۔ 3 قربان گا ہ کے اُوپری سِرے اور اُس کے تمام کنا روں اور اس کے سینگوں پر خالص سونا مڑھو ۔ اور قربان گا ہ کے اطراف سونے کی پٹی لگا ؤ۔ 4 اُ س پٹی کے نیچے سونے کے دو چھّلے ہو نے چاہئے ۔ یہ قربا ن گا ہ کی دوسری جانب بھی سونے کے دوچھلّے ہو نے چاہئے یہ چھّلے قربان گا ہ کو لے جا نے کے لئے کھمبوں کو پھنسانے کے لئے ہوں گے ۔ 5 کھمبوں کو بھی ببول کی لکڑی سے بنا ؤ۔ ان کھمبوں کو سونے سے مڑھو ۔ 6 قربان گاہ کو خاص پر دہ کے سامنے رکھو ۔ معاہدہ کا صندوق اُس پر دہ کے دوسری جانب ہے ۔ اس صندوق کو ڈھانکنے وا لے سر پوش کے سامنے قربان گا ہ رہے گی ۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں میں تم سے ملوں گا ۔ 7 ہا رون ہر صبح بھینی خوشبو کے بخور جلا ئے گا وہ یہ اُ سوقت کر ے گا جب وہ چراغوں کی نگرانی کر نے آئے گا ۔ 8 شام کو جب وہ چراغ جلا نے کے لئے آئے تو اسے پھر بخور جلا نا چاہئے ۔ تا کہ خداوند کے سامنے صبح وشام ہمیشہ بخور جلتا رہے ۔ 9 اُ س قربان گا ہ کا استعمال کسی دوسری قسم کے بخور جلا نے کی قربانی کے لئے نہ کر نا ۔ اُ س قربان گا ہ کا استعمال اناج کی قربانی یا مئے کی قربانی کے لئے نہ کر نا ۔ 10 ہر سال ایک بار ہا رون گناہ کے کفارے کے نذرانے سے تھو ڑا خون بخور جلا نے کے قربان گا ہ کے سینگوں کا کفارہ دینے کے لئے استعمال کریگا ۔ قربان گا ہ خداوند کے لئے سب سے مقدس چیز ہے ۔" 11 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 12 " بنی اسرائیلیوں کی گنتی کرو جس سے تمہیں معلوم ہو گا کہ وہاں کتنے لوگ ہیں۔ جب کبھی یہ کیا جا ئے گا ہر ایک آدمی اپنی زندگی کے لئے خداوند کو دولت دیگا اگر ہر آد می ایسا کرے گا تو لوگوں کے ساتھ کو ئی بھی بھیانک حادثہ پیش نہیں آئے گا۔ 13 ہر آدمی وہ جسے گِنا گیا ہو وہ آدھا مِثقال ( یعنی حکو مت کا منظور شدہ پیمانہ ۔ ایک مِثقال بیس جرہ کی ہو تی ہے ) چاندی ضرور پیش کرے ۔ 14 ہر ایک مرد جِسے گِنا گیا ہو اور جو ۲۰ سال یا اُ سسے زیادہ عمر کا ہو وہ خداوند کو یہ نذرانہ پیش کرے ۔ 15 دولتمند لوگ آدھے مِثقا ل سے زیادہ نہیں دیں گے اور نہ غریب لوگ آدھے مثقال سے کم دیں گے سب لوگ خداوند کو مساوی نذر پیش کریں گے یہ تمہا ری زندگی کی قیمت ہے ۔ 16 بنی اسرائیلیوں سے یہ پیسہ جمع کرو اور خیمٴہ اجتماع میں خدمت کے لئے اس کا استعمال کرو۔ یہ ادائیگی لوگوں کے لئے خداوند کے حضور انکی زندگی کا کفارہ ادا کر نے کے لئے یا د داشت ہو گی۔" 17 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 18 " ایک کانسے کی سلنچی بناؤ اور اُسے کانسے کی بنیاد پر رکھو تم اُ سکا استعمال ہا تھ پیر دھو نے کے لئے کرو گے ۔ سلفچی کو خیمٴہ اجتماع اور قربان گا ہ کے درمیان رکھو ۔ سلفچی کو پانی سے بھرو ۔ 19 " ہا رون اُ سکے بیٹے اُ س سلفچی کے پانی سے اپنے ہا تھ پیر دھو ئیں گے ۔ 20 " ہر بار جب وہ خیمٴہ اجتماع میں آئیں یا اس کے پاس آئیں تو پانی سے ہاتھ پیر ضرور دھو ئیں ا س سے وہ نہیں مریں گے ۔ 21 تو وہ اپنے ہا تھ پیر ضرور دھو ئیں اُس سے نہیں مریں گے ۔ یہ ایسا قانون ہو گا جو ہا رون اُ س کے لوگوں کے لئے ہمیشہ بنا رہے گا ۔ یہ اصول ہا رون کے ان تمام لوگوں کے لئے بنے رہیں گے جو مستقبل میں ہوں گے ۔" 22 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 23 " عمدہ مصالحے لا ؤ بارہ پا ؤنڈ مُر، اُ سکا آدھا ( یعنی ۶ پا ؤنڈ) بھینی خوشبو کے دار چینی اور بارہ پا ؤنڈ خوشبو کی چھال ، 24 اور بارہ پا ؤنڈ تیج پات انہیں وزن کر نے کے لئے سرکاری ناپ کا استعمال کرو ۔ ایک گیلن زیتون کا تیل بھی لا ؤ۔ 25 " خوشبو دار مسح کرے کا خاص تیل بنا نے کے لئے ان سب چیز وں کو ملاؤ۔ 26 خیمٴہ اجتماع اور معاہدہ کے صندوق پر اس تیل کو ڈا لو یہ اس بات کا اشارہ کرے گا کہ ان چیزوں کا خاص مقصد ہے ۔ 27 میز اور میز پر کی تمام طشتریوں پر تیل ڈا لو ، اُس تیل کو شمع اورتمام برتنوں پر ڈا لو۔ اس تیل کے بخور کے قربان گاہ پر ڈا لو ۔ 28 دھویں وا لی قربان گا ہ پر تیل ڈا لو خداوند کے لئے جلانے کی قربان گا ہ میں بھی تیل ڈا لو ۔ اُ س قربان گا ہ کی تمام چیزوں پر یہ تیل ڈا لو ۔ کٹوروں اور اُس کے نیچے سامان پر یہ تیل ڈا لو ۔ 29 تم اُن سب چیزوں کو پیش کرو گے وہ بالکل پاک ہو نگے ۔ کو ئی بھی چیز جو اُنہیں چھو ئے گی وہ بھی پاک ہو جا ئے گی ۔ 30 " ہا رو ن اور اُ س کے بیٹوں پر تیل ڈا لو۔ یہ ظا ہر کرے گا کہ وہ میری خدمت خاص طریقے سے کر تے ہیں۔ تب یہ میری خدمت کا ہنوں کی طرح کر سکتے ہیں۔ 31 بنی اسرائیلیوں سے کہوکہ مسح کر نے کا تیل میرے لئے ہمیشہ بہت خاص ہو گا۔ 32 معمولی خوشبو کی طرح کو ئی بھی اُس تیل کا استعمال نہیں کرے گا ۔ اس طرح کو ئی خوشبو نہ بنا ؤ جس طرح تم نے یہ خاص تیل بنا یا یہ تیل پاک ہے اور یہ تمہا رے لئے بہت خاص ہو نا چاہئے ۔ 33 اگر کو ئی شخص اس مقدّس تیل کی طرح خوشبو بنا ئے اور اُسے کسی کو دیدے جو کا ہن نہ ہو تو اُ س شخص کو اپنے لوگوں سے ضرور الگ کر دیا جا ئے گا ۔ 34 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " اُن خوشبودار مصالحوں کو لو : مُڑ، مُشک، لونگ اور خالص لو بان لو ۔ ہو شیاری سے خیال کرو کہ تمہا رے پاس مصالحوں کی مساوی مقدار ہو ۔ 35 مصالحوں کا خوشبودار بخور بنا نے کے لئے آپس میں ملا ؤ۔ اسے اسی طرح کرو جیسا خوشبو بنا نے وا لا آدمی کر تا ہے ۔ اُ س بخور میں نمک بھی ملا ؤ یہ اُسے خالص اور پاک بنا ئے گا ۔ 36 کچھ مصالحوں کو اُ سوقت تک پیستے رہو جب تک دوبارہ پا ؤڈر نہ ہو جا ئے ۔خیمٴہ اجتماع میں معاہد ہ کے صندوق کے سامنے اُ س پا ؤڈر کو رکھو ۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں میں تم سے ملوں گا۔ تمہیں اس کا احترام سب سے مقدس طور پر کرنا چاہئے ۔ 37 تمہیں اُس پا ؤڈر کا استعمال صرف خاص طریقے سے خداوند کے لئے ہی کر نا چاہئے ۔ تم اُ س بخور کو خاص طریقے سے بنا ؤ گے ۔ اُس طرح دوسرا بخور بنا نے کے لئے مت کرو ۔ 38 ہو سکتا ہے کو ئی آدمی اپنے لئے کچھ ایسا بخور بنا ناہے جس سے وہ خوشبو کا مزہ لے سکے ۔ لیکن وہ اگر ایسا کرے تو اُ سے اپنے لوگوں سے ضرور الگ کر دیا جا ئے ۔"

Exodus 31

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " میں نے یہوداہ کے قبیلے سے اوری کے بیٹے بضل ایل کو چناُ ہے ۔ اوری حُور کا بیٹا تھا ۔ 3 میں نے بضل ایل کو خدا کی رُوح سے بھر دیا ہے ۔ میں نے اُ سے اس طرح کے سب فنکا ری کے کاموں کو کر نے کی حکمت اور علم دے دی ہے ۔ 4 بضل ایل بہت اچھا ہُنر مند ہے ۔ اور وہ سونا چاندی اور کانسے کی چیزیں بنا سکتا ہے ۔ 5 بضل ایل خوبصورت جواہروں کو کاٹ اور جو ڑ سکتا ہے ۔ وہ لکڑی کا بھی کام کر سکتا ہے ۔ بضل ایل سب طرح کا کام کر سکتا ہے ۔ 6 میں اہلیاب کو بھی اس کے ساتھ کام کر نے کو چُنا ہے ۔ اہلیاب دان قبیلہ کے اخیسامک کا بیٹا ہے اور میں نے دوسرے سب ہُنر مندوں کو بھی ایسی حکمت دے دی ہے کہ وہ اُن سبھی چیز وں کو بنا سکتے ہیں۔ جن چیزوں کو میں نے تم کو بنا نے کا حکم دیا ہے : 7 خیمٴہ اجتماع، معا ہدہ کا صندوق، صندوق کو ڈھکنے وا لا سر پوش اور خیمہ کا سارا سازو سامان، 8 میز اور اُ س پر کی تمام چیزیں ، خالص سونے کا شمعدان اور اس کے سارے ساز و سامان ، بخور جلانے کی قربان گاہ ، 9 جلانے کا نذرا نہ جلا نے کی قربان گا ہ اور قربان گا ہ کے استعمال کی چیزیں، سلفچی اور اُ س کے نیچے کی بنیاد ، 10 کا ہن ہا رون کے لئے سبھی خاص لباس اور اس کے بیٹوں کے لئے سبھی خا ص لباس جنہیں وہ کا ہن کے طور پر خدمت کر تے وقت پہنیں گے ، 11 مسح کر نے کے لئے خوشبو کا تیل اور مقدس جگہ کے لئے خوشبودار بخور ۔ ان سبھی چیزوں کو اُسی طرح بنا ئیں گے جیسا میں نے تم کو حکم دیا ۔" 12 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 13 " بنی اسرا ئیلیوں سے یہ کہو : ' تم لوگ میرے خاص سبت کے دن وا لے اُ صولوں کی پا بندی کرو گے تمہیں یہ یقیناً کر نا چاہئے ۔ کیوں کہ یہ میرے اور تمہا رے درمیان سبھی نسلوں کے لئے نشان ہو گا یہ تمہیں بتا ئے گا میں خداوند نے تمہیں خاص لوگوں میں بنا یا ہے ۔ 14 " سبت کے دن کو خاص دن منا ؤ۔ اگر کو ئی آدمی سبت کے دن کو دوسرے عام دنوں کی طرح منا تا ہے تو وہ شخص ضرور مار دیا جانا چاہئے ۔ کو ئی شخص جو سبت کے دن کام کر تا ہے اسے اپنے لوگوں سے ضرور الگ کر دیا جانا چاہئے ۔ 15 ہفتہ میں چھ 16 " بنی اسرا ئیلیوں کو سبت کے دن پر عمل کر نا چا ہئے اور اُ سے ہمیشہ خاص دن کی طرح منا ئیں۔ یہ میرے اور اُن کے درمیان معاہدہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا ۔ 17 سبت کا دن میرے اور بنی اسرا ئیلیوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے ایک نشانی ہے ۔ خداوند نے چھ دن کام کیا اور آسمان و زمین کو بنا یا ساتویں دن اس نے اپنے کو آرام دیا اور سُستایا ۔" 18 اُ سطرح خداوند نے موسیٰ سے سینا کے پہا ڑ پر بات کر نا ختم کی تب خداوند نے اُسے احکام لکھے ہو ئے دو شفاف پتھر دیئے ۔ خدا نے اپنی انگلیوں کو استعمال کیا اور پتھر پر اُن اُ صولوں کو لکھا ۔

Exodus 32

1 لوگوں نے دیکھا کہ طویل عرصہ ہو گیا ہے اور موسیٰ پہا ڑ سے نیچے نہیں اُترا اِس لئے لوگ ہا رون کے اطراف جمع ہو ئے ۔ اُنہوں نے کہا ، " دیکھو موسیٰ نے ملک مصر سے با ہر نکا لا لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اُس کے ساتھ کیا حا دثہ ہوا ہے ۔ اس لئے کو ئی دیوتا ہما رے آگے چلنے اور ہم لوگوں کی رہبری کر نے وا لا بنا ؤ۔" 2 ہا رون نے لوگوں سے کہا ، " اپنی بیویوں ، بیٹیوں بیٹوں کے ناکوں کی سونے کی بالیاں میرے پاس لا ؤ۔" 3 اِس لئے سبھی لوگوں نے ناک کی سونے کی با لیاں جمع کئے اور وہ اُنہیں ہا رون کے پاس لا ئے ۔ 4 ہا رون نے لوگوں سے سونا لیا اور ایک بچھڑے کی مورتی بنا نے کے لئے اس کا استعمال کیا ۔ ہا رون نے مورتی بنا نے کے لئے مورتی کو شکل دینے کے لئے چھینی کا استعمال کیا تب اُ سے اُس نے سونے سے مڑھ دیا ۔ تب لوگوں نے کہا ، " بنی اسرائیلیو! یہ تمہا رے جھو ٹے خداوند ہیں جو تمہیں مصر سے با ہر لے آئے ۔" 5 ہا رون نے اُ ن چیزوں کو دیکھا اِس لئے اُ س نے بچھڑے کے سامنے ایک قربان گا ہ بنا ئی ۔ تب ہا رون نے اعلان کیا ، " کل خداوند کے لئے خاص دعوت ہو گی ۔" 6 اگلے دن صبح لوگ اُٹھے ۔ اُنہوں نے جانوروں کو ذبح کیا اور جلا نے کی قربانی اور ہمدردی کی قربانی دی۔ لوگ کھا نے اور پینے کیلئے بیٹھے پھر وہ کھڑے ہو ئے اور اُن کی ایک شاندار دعوت ہو ئی ۔ 7 اُسی وقت خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " اس پہا ڑ سے فوراً نیچے اُترو تمہا رے لوگوں نے جنہیں تم مصر سے لا ئے ہو بھیانک گناہ کئے ہیں۔ 8 اُنہوں نے اُن چیزوں کو کر نے سے بڑی جلدی سے انکا ر کر دیا ہے جنہیں کر نے کا حکم میں نے دیا تھا ۔ اُنہوں نے پگھلے سونے سے اپنے لئے ایک بچھڑا بنا یا ہے ۔ وہ اُ س بچھڑے کی پو جا کر رہے ہیں اور اُ سے قربانی پیش کر رہے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں،' اسرائیل یہ سب تمہا رے خداوند ہیں جو تمہیں مصر سے با ہر لا یا ہے ۔" 9 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " میں نے اُن لوگوں کو دیکھا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بڑے ضدّی لوگ ہیں جو ہمیشہ میرے خلا ف جا ئیں گے ۔ 10 اس لئے اب مجھے اُنہیں غصّہ میں تباہ کر نے دو ۔ تب میں تجھ سے ایک عظیم ملک بنا ؤں گا ۔" 11 لیکن موسیٰ نے خداوند اپنے خدا کو مطمئن کیا ۔ موسیٰ نے فرما یا ، " اے خداوند! تُو انپے غصّہ سے اپنے لوگوں کو تباہ نہ کر تو اپنی بڑی طا قت اور قدرت سے اُنہیں مصر سے با ہر لے آیا ۔ 12 لیکن تو اپنے لوگوں کو تباہ کرے گا ، تب مصر کے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ، خداوند اپنے لوگوں کے ساتھ بُرا کر نے کا منصوبہ بنا یا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اُن کو مصر سے با ہر نکالا وہ انہیں پہا ڑو ں میں مارڈا لنا چا ہتا تھا۔' اِس لئے تُو لوگوں پر غصّہ نہ کر ۔ اپنا غصّہ چھو ڑ دے اپنے لوگوں کو تباہ نہ کر ۔ 13 تُو اپنے خا دم ابرا ہیم ، اسحاق اور اِسرائیل ( یعقوب ) کو یا د کر ۔ تو نے اپنے نام کا استعمال کیا اور تُو نے اُن لوگوں سے وعدہ کیا ۔ تُو نے کہا : ' میں تمہا رے لوگوں کو اِتنا ان گنت بنا ؤں گا جتنے آسمان میں تا رے ہیں میں تمہا رے لوگوں کو وہ ساری زمین دوں گا جسے میں نے اُن کو دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ یہ زمین ہمیشہ کے لئے اُن کی ہو گی ۔"' 14 خداوند نے اس کے با رے میں نر می برتی جو کہ اُ س نے کہا کہ وہ کر ے گا ۔ اور اس نے لوگوں کو تبا ہ نہیں کیا۔ 15 تب موسی ٰ پہا ڑ سے نیچے اُترا ۔ موسیٰ کے پا س معاہدے کے دو پتھر تھے ۔ یہ احکام پتھر کے سامنے اور پیچھے دو نو ں طرف لکھے ہو ئے تھے ۔ 16 خدا نے یقیناً اُن پتھروں کو بنا یا تھا اور خدا نے ہی اُن احکام کو اُن پتھر وں پر لکھا تھا ۔ 17 جب وہ پہا ڑ سے اتر رہے تھے تو یشوع نے لوگوں کا شور سُنا ۔ یشوع نے موسیٰ سے کہا ، " نیچے خیموں میں جنگ کی طرح شور ہے ! " 18 موسیٰ نے جواب دیا ، " یہ فوج کی فتح کا شور نہیں ہے یہ ہا ر سے چیخ پکا ر نے وا لی فوج کا شور بھی نہیں ہے ۔ میں جو آوا ز سُن رہا ہوں وہ موسیقی کی ہے ۔" 19 جب موسیٰ چھا ؤ نی کے قریب آیا تو انہوں نے سو نے کے بچھڑے اور گا تے ہو ئے لوگوں کو دیکھا ۔ موسیٰ بہت غصّے میں آ گئے اور اُ سنے اُن خاص پتھروں کو زمین پر پھینک دیا ۔ پہا ڑ کی ترا ئی میں پتھر کے تختوں کے کئی ٹکڑے ہو گئے ۔ 20 تب موسیٰ نے لوگوں کے بنا ئے ہو ئے بچھڑے کو تباہ کر دیا ۔ اُ سے آ گ میں گلا دیا ۔ سونے کو اُ س وقت تک پیسا جب تک وہ چُور نہ ہو گیا ۔ اور اُ س چو رے ہو ئے سونے کو پانی میں پھینک دیا ۔ بی اسرائیلیوں کو وہ پانی پینے پر مجبور کیا ۔ 21 موسیٰ نے ہا رون سے کہا ، " اُن لوگوں نے تمہا رے ساتھ کیا کیا ؟ تم انہیں اتنا بڑا گنا ہ کر نے کی طرف کیوں لے گئے ؟" 22 ہا رون نے جواب دیا ، " جناب غصّہ مت کیجئے ۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیشہ غلط کام کر نے کو تیار رہتے ہیں ۔ 23 لوگوں نے مجھ سے کہا ، " موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے باہر لے آیا ۔ لیکن ہم لوگ نہیں جانتے کہ اُ سکے ساتھ کیا واقعہ ہو ا ۔ اِس لئے ہم لوگوں کا راستہ بتانے وا لا کو ئی دیوتا بنا ؤ ۔' 24 اِس لئے میں نے لوگوں سے کہا، ' اگر تمہا رے پا س سونے کی انگوٹھیاں ہو تو انہیں مجھے دے دو ۔' لوگوں نے مجھے اپنا سونا دیا ، میں نے اُ س سونے کو آ گ میں پھینکا اور اُ س آ گ سے یہ بچھڑا آ یا ۔" 25 موسیٰ نے دیکھا کہ ہا رو ن نے لوگوں کو قابو سے با ہر کر دیا ۔ لوگ اپنے تمام دشمنوں کے لئے جنگلی اور بے حیا بن گئے ہیں۔ 26 اِس لئے موسیٰ خیمہ کے دروا زے پر کھڑے ہو ئے ۔ موسیٰ نے فرما یا ، " کو ئی بھی آدمی جو خداوند کے راستے پر چلنا چا ہتا ہے اُس کو میرے پا س آنا ہو گا ۔" تب لا وی کے خاندان کے سبھی لوگ ڈر کر موسیٰ کے پاس آئے ۔ 27 تب موسیٰ نے اُن سے کہا ،" میں تمہیں بتاؤں گا کہ بنی اسرائیل کا خداوند کیا کہتا ہے ۔ ہر آدمی اپنی تلوار ضرور اٹھا لے اور خیمہ کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک جا ئے ۔ تم لوگ ان لوگوں کو ضرور سزاد و گے چاہے کسی آدمی کو اپنے بھا ئی ، بیٹے ، دوست یا پڑوسی کو ہی کیوں نہ ما ر نا پڑے ۔"' 28 لا وی کے خاندان کے لوگوں نے موسیٰ کا حکم مانا اُس دن اسرائیل کے تقریباً تین ہزا ر لوگ مرے ۔ 29 تب موسیٰ نے فرما یا ، " لا ویو آج خداوند کے لئے کا ہن کے طور پر اپنے آ پکو مخصوص کرو ۔ خداوند نے تمہیں خیر و برکت دی ہے کیو نکہ تم میں سے ہر ایک لڑے یہاں تک کہ اپنے بیٹے اور اپنے بھا ئی کے خلا ف بھی ۔" 30 دُسری صبح موسیٰ نے لوگوں سے کہا ، " تم لوگوں نے بھیانک گناہ کیا ہے ۔ لیکن اب میں خداوند کے پاس اُوپر جا ؤ ں گا ۔ اور ایسا کچھ کروں گا جس سے وہ تمہا رے گنا ہوں کو معاف کر دے ۔" 31 اِس لئے موسیٰ وا پس خداوند کے پاس گئے اور انہوں نے کہا ، " مہربانی سے سُن انلوگوں نے بڑا بُرا گناہ کیا ہے اور سونے کا ایک دیوتا بنا یا ہے ۔ 32 اب انہیں اُ س گناہ کے لئے معاف کر ۔ اگر تو معاف نہیں کرے گا تو میرا نام اُ س کتاب سے مٹا دے جسے تو نے لکھا ہے ۔" 33 لیکن خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " جو میرے خلا ف گنا ہ کر تے ہوں صرف وہی ایسے لوگ ہیں جن کا نام میں اپنی کتاب سے مٹا تا ہوں۔ 34 اِس لئے جا ؤ اور لوگوں کو وہاں لے جا ؤ جہاں میں کہتا ہوں۔ میرا فرشتہ تمہا رے آ گے آگے چلے گا اور تمہیں راستہ دکھا ئے گا ۔۔ جب اُن لوگوں کو سزا دینے کا وقت آ ئے گا ۔ جنہوں نے گناہ کئے ہیں تب انہیں سزا دی جا ئے گی ۔" 35 اِس لئے خداوند نے لوگوں میں ایل بھیانک بیما ری شروع کی اُنہوں نے یہ اِس لئے کیا کہ ان لوگوں نے ہا رو ن سے سو نے کا بچھڑا بنا نے کو کہا تھا ۔

Exodus 33

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، "تم اور تمہارے وہ لوگ جنہیں تم مصر سے لا ئے ہو ۔ اس جگہ کو بالکل چھوڑ دو اور اُس ملک میں جاؤ جسے میں نے ابراہیم اسحاق او ر یعقوب کو دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ میں نے اُن سے دعدہ کیا ۔میں نے کہا ، " میں وہ ملک تمہاری نسلوں کو دونگا ۔ 2 میں ایک فرشتہ تمہارے آگے چلنے کے لئے بھیجوں گا ۔ اور میں کنعانی ، اموری ، حتّی، فرزّی ، حوّی ، اور یبوسی لوگوں کو شکست دوں گا ۔ میں ان لوگوں کو تمہارا ملک چھوڑ نے پر مجبور کروں گا ۔ 3 اس لئے اُس ملک کو جاؤ جو بہت ہی اچھی چیزوں سے بھرا ہے ۔ لیکن میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤنگا ۔ تم لوگ بہت ضدّی ہو ۔ اگر میں تمہارے ساتھ گیا تو میں شاید تمہیں راستے میں ہی تباہ کر دوں ۔ " 4 جب لوگوں نے یہ سخت کلامی خبر سُنی تو وہ بہت رنجیدہ ہو ئے اس کے بعد لوگوں نے جواہرات نہیں پہنے ۔ 5 کیوں کہ خدا وند نے موسیٰ سے کہا تھا ، " بنی اسرائیلیوں سے کہو ، ' تم ضدّی لوگ ہو ۔ اگر میں تم لوگوں کے ساتھ تھوڑے وقت کے لئے بھی سفر کروں تو میں تم لوگوں کو تباہ کر دونگا ۔ اس لئے اپنے تمام زیورات اُتار لو ، تب میں طے کرونگا کہ تمہارے ساتھ کیا کروں ۔ " 6 اس لئے بنی اسرائیلیوں نے حورب ( سینائی) پہاڑ پر اپنے تمام زیورات اتار لئے ۔ 7 موسیٰ خیمہٴ کو چھاؤنی سے باہر کچھ دور لے گئے وہاں انہوں نے اسے لگایا اس کا نام " خیمہٴ اجتماع رکھا ۔ " اگر کو ئی بھی شخص خدا وند سے کچھ پو چھنا چاہتا تھا تو اسے چھا ؤنی سے باہر خیمہٴ اجتماع تک جانا ہوتا تھا ۔ 8 جب کبھی موسیٰ باہر خیمہ میں جاتے تو لوگ ان کو دیکھتے رہتے لوگ اپنے خیموں کے دروازوں پر کھڑے رہتے اور موسیٰ کو اس وقت تک دیکھتے رہتے جب تک وہ خیمہٴ اجتماع میں نہ چلے جاتے ۔ 9 جب موسیٰ خیمہ میں جاتے تو ایک لمبا بادل کا ستون نیچے اُترتا تھا ۔ وہ بادل خیمہ کے دروازے پر ٹھہر تا اس طرح خدا وند موسیٰ سے بات کر تا تھا ۔ 10 جب لوگ خیمہ کے دروازے پر بادل کو دیکھتے تو وہ اپنے خیمہ کے دروازے پر جاتے تھے اور عبادت کر نے کے لئے جھکتے تھے ۔ 11 خدا وند موسیٰ سے روبرو بات کر تا تھا ۔ جس طرح کوئی آدمی اپنے دوست سے بات کرتا ہو ۔ خدا وند سے بات کر نے کے بعد موسیٰ اپنے خیمہ میں واپس جاتے تھے ۔ لیکن یشوع اس کا مدد گار ہمیشہ خیمہ میں ٹھہر تا ۔یہ جوان آدمی یشوع نون کا بیٹا تھا ۔ 12 موسیٰ نے خدا وند سے کہا ، " تو نے مجھے ان لوگوں کو لے چلنے کو کہا لیکن تُو نے یہ نہیں بتا یا کہ میرے ساتھ کسے بھیجے گا ۔ تُو نے مجھ سے کہا ، ' میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں اور میں تم سے خوش ہوں ۔ ' 13 اگر تجھے میں نے حقیقت میں خوش کیا ہے تو مجھے اپنے راستے بتا ۔ تجھے میں حقیقت میں جاننا چاہتا ہوں تب میں تجھے مسلسل خو ش ر کھ سکتا ہوں یاد رکھ کہ سب تیرے لوگ ہیں ۔ " 14 خدا وند نے جواب دیا ،" میں یقیناً تمہارے ساتھ چلونگا اور تمہاری رہبری کروں گا ۔ " 15 تب موسیٰ نے ان سے کہا ، " اگر تُو ہم لوگوں کے ساتھ نہ چلے تو تُو اس جگہ سے ہم لوگوں کو دور مت بھیج ۔" 16 ہم یہ بھی کس طرح جانیں گے کہ تُو مجھ سے اور اپنے لوگوں سے خوش ہے ؟ اگر تُو ہمارے ساتھ جائے گا تو میں اور یہ لوگ زمین کے دوسرے لوگوں سے مختلف ہونگے ۔ 17 تب خدا وند نے موسیٰ سے کہا ،" میں وہ کروں گا جو تُو کہتا ہے میں یہ کروں گا ۔ کیوں کہ میں تجھ سے خوش ہوں میں تجھے اچھی طرح جانتا ہوں ۔" 18 تب موسیٰ نے فرمایا ، " اب مہر بانی کر کے مجھے اپنا جلال دکھا ۔ " 19 تب خدا وند نے جواب دیا ، " میں اپنی مکمل بھلائی کو تم تک جانے دونگا ۔ میں خدا وند ہوں اور میں اپنے نام کا اعلان کروں گا تاکہ تم اُسے سُن سکو میں اُن لوگوں پر مہربانی اور محبّت دکھاؤنگا جنہیں میں چُنوں گا ۔ 20 لیکن تم میرا منھ نہیں دیکھ سکتے ۔ کوئی بھی آدمی مجھے نہیں دیکھ سکتا اور گر دیکھ لے تو زندہ نہیں رہ سکتا ہے ۔ 21 " میرے قریب کی جگہ پر ایک چٹّان ہے تم اس چٹّان پر کھڑے رہو ۔ 22 میرا جلال اس جگہ سے ہوکر گزرے گا ۔ اس چٹّان کی بڑی دراڑ میں تم کو رکھوں گا اورگزر تے وقت میں تمہیں اپنے ہاتھ سے ڈھانپوں گا ۔ 23 تب میں اپنا ہاتھ ہٹا لوں گا اور تم میری پشت کو دیکھو گے لیکن تم میرا منھ نہیں دیکھ پاؤ گے ۔ "

Exodus 34

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " دو اور پتھر کی تختی بالکل ویسی ہی بنا ؤ جیسی پہلے دو تھی جو کہ ٹوٹ گئی ۔ میں ان پر انہی الفاظ کو لکھو ں گا جو پہلے دونوں پر لکھے تھے ۔ 2 کل صبح تیار رہنا سینا پہاڑ پر آنا وہاں میرے سامنے پہا ڑ کی چوٹی پر کھڑے رہنا ۔ 3 کسی آدمی کو تمہا رے ساتھ نہیں آنے دیا جا ئے گا پہاڑ کی کسی بھی جگہ پر کو ئی بھی آدمی دکھا ئی تک نہیں پڑنا چاہئے یہاں تک کہ تمہا رے جانوروں کا جھنڈ اور مینڈھوں کے ریوڑ بھی پہا ڑ کی ترائی میں گھا س نہیں چریں گے ۔" 4 اِس لئے موسیٰ نے پہلے پتھروں کی طرح پتھر کی دو صاف تختیاں بنا ئیں۔ تب دُوسری صبح ہی وہ سینا پہا ڑ پر گئے۔ اُ س نے ہر ایک چیز خداوند کے حکم کے مطا بق کئے ۔موسیٰ اپنے ساتھ پتھر کی دو تختیاں لے گئے ۔ 5 خداوند ان کے پاس نیچے پہا ڑ پر آیا ۔ موسیٰ وہاں خداوند کے ساتھ کھڑے رہے اور اُ سنے خداوند کا نام لیا ۔ 6 خداوند موسیٰ کے سامنے سے گزرا اور اُ سنے کہا ، " یہواہ خداوند، رحمدل اور مہربان خدا ہے ۔ خداوند جلدی غصّہ میں نہیں آتا ہے ۔ خداوند عظیم محبت سے بھرا ہے ۔ خداوند بھروسہ کر نے کے لئے ہے ۔ 7 خداوند ہزا روں نسلوں پر مہربانی کر تا ہے ۔ خداوند لوگوں کو ان غلطیوں کے لئے جو وہ کر تے ہیں معاف کر تا ہے ۔ لیکن خداوند قصورواروں کو سزا دینا نہیں بھو لتا ۔ خداوند صرف قصوروار کو ہی سزا نہیں دیگا بلکہ اُن کے بچّوں اُن کے بیٹوں اور بیٹیوں کو بھی اُس بُری بات کے لئے تکلیف برداشت کرنا ہوگا جو وہ لوگ کرتے ہیں ۔" 8 تب اُسی وقت موسیٰ زمین پر جھکے اور اس نے خدا وند کی عبادت کی ۔ موسیٰ نے فرمایا ، 9 " خدا وند اگر تو مجھ سے خوش ہے تو میرے ساتھ چل میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ ضدی ہیں تو ہمیں اُن گناہوں اور قصورواروں کے لئے معاف کر جو ہم نے کئے ہیں ۔ اپنے لوگوں کی طرح ہمیں قبول کر ۔ " 10 تب خدا وند نے کہا ، " میں تمہارے سب لوگوں کے ساتھ یہ معاہدہ کر رہا ہوں ۔ میں ایسا عجیب و غریب کام کروں گا جیسے اس زمین پر پہلے کبھی کسی بھی دوسرے ملک کے لئے نہیں کیا ۔ تمہارے ساتھ سبھی لوگ دیکھیں گے کہ میں خدا وند بہت عظیم ہوں ۔ لوگ اُن عجیب و غریب کاموں کو دیکھیں گے جو میں تمہارے لئے کروں گا ۔ 11 آج میں جو حکم دیتا ہوں اس کی تعمیل کرو ۔ اور میں تمہارے دشمنوں کو تمہارا ملک چھو ڑنے پر مجبور کروں گا ۔ میں اموری ، کنعانی ، حتّی، فرزّی ، حوّی اور یبوسیوں کو باہر نکل جانے کے لئے دباؤ ڈالوں گا ۔ 12 ہوشیار رہو ان لوگوں کے ساتھ کو ئی معاہدہ نہ کرو جو اس سرزمین پر رہتے ہیں جہاں تم جا رہے ہو ۔ اگر تم ان کے ساتھ معاہدہ کرو گے تو تم اس میں پھنس جاؤ گے ۔ 13 ان کی قربان گاہوں کو تباہ کردو ان پتھّروں کو توڑ دو جن کی وہ پرستش کر تے ہیں انکی مورتیوں کو کاٹ گراؤ ۔ 14 کسی دوسرے دیوتا کی پرستش نہ کرو ۔ خدا وند جس کا نام غیور ، غیور خدا ہے ۔ 15 " ہوشیار رہو اس ملک میں جو لوگ رہتے ہیں ان سے کو ئی معاہدہ نہ کرو ۔ اگر تم یہ کرو گے تو ہو سکتا ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاؤ گے جب وہ اپنے آپ کو اپنے دیوتاؤں کے پاس طوائف کی طرح بیچ دیتے ہیں ۔ وہ لوگ تمہیں اپنے میں شامل ہونے کے لئے بُلائیں گے اور تم ان کی قربانیوں کو کھا ؤ گے ۔ 16 اگر تم انکی کچھ بیٹیوں کو اپنے بیٹوں کی بیویاں بننے کے لئے چُنو تو وہ لڑ کیاں اپنے جھوٹے خدا ؤں کی پرستش کے بعد طوائفوں کی طرح زنا کریں گی وہ تمہارے بیٹوں سے بھی وہی کرواسکتی ہیں ۔ 17 " مورتیاں مت بناؤ ۔ 18 " بے خمیری روٹی کی تقریب مناؤ ۔ ابیب کے مہینہ میں جسے کہ میں نے چُنا ہے میرے حکم کے مطابق بغیر خمیر کی روٹی سات دن تک کھا ؤ ۔ کیوں کہ اس مہینہ میں تم مصر سے باہر آئے تھے ۔ 19 " کسی بھی عورت کا پہلوٹھا بچہ ہمیشہ میرا ہے ۔ پہلوٹھا جانور بھی جو تمہاری گائے بکریاں یا مینڈھے سے پیدا ہو تے ہیں میرا ہے ۔ 20 اگر تم پہلوٹھے گدھے کو رکھنا چاہتے ہو تو تم اسے ایک میمنے کے بدلے خرید سکتے ہو ۔ لیکن اگر تم اس گدھے کو میمنے کے بدلے میں خریدے تو اس گدھے کی گردن توڑ دو ۔ تمہیں اپنے تمام پہلوٹھے بیٹے مجھ سے واپس خرید نے ہوں گے ۔ کوئی آدمی بغیر نذر کے میرے سامنے نہیں آئے گا ۔ 21 "تم چھ دن کام کرو گے لیکن ساتویں دن ضرور آرام کرنا ۔پودے لگانے اور فصل کاٹنے کے دوران بھی تمہیں آرام کرنا ہوگا ۔ 22 " ہفتوں کی تقریب کو مناؤ ۔ گیہوں کی فصل کے پہلے اناج کا استعمال اس دعوت میں کرو اور سال کے آخر میں فصل کے کٹنے کی تقریب مناؤ ۔ 23 ہر سال تمہارے تمام مرد تین بار اپنے آقا خدا وند بنی اسرائیل کے خدا کے پاس آئیں گے ۔ 24 " جب تم اپنے ملک میں پہونچوگے تو میں تمہارے دُشمنوں کو اس ملک سے باہر جانے کے لئے مجبور کروں گا ۔ میں تمہاری سرحدوں کو بڑھاؤنگا ۔ تم خدا وند اپنے خدا کے سامنے سال میں تین بار جاؤ گے اور ان دنوں کے دوران تمہارا ملک تم سے لینے کا کوئی خیال بھی نہیں کریگا ۔ 25 " اگر تم قربانی سے خون نذر کرو تو اسی وقت مجھے خمیر مت نذر کرو ۔ "اور فسح کی تقریب کا کچھ بھی گوشت دوسری صبح تک کے لئے نہیں چھو ڑا جانا چاہئے ۔ 26 خدا وند کو اپنی پہلی کاٹی ہوئی فصلیں دو ۔ ان چیزوں کو خدا وند اپنے خدا کے گھر پر لاؤ ۔ " کبھی بکری کے بچے کو اس کی ماں کے دودھ میں نہ پکاؤ ۔" 27 تب خدا وند نے موسیٰ سے کہا ،" جو باتیں میں نے بتائی ہیں انہیں لکھ لو ۔ یہ باتیں ہمارے تمہارے اور بنی اسرائیلیوں کے درمیان معاہدہ ہیں ۔ " 28 موسیٰ وہاں خدا وند کے ساتھ چالیس دن اور چالیس رات رہے ۔ اس پورے وقت اس نے نہ تو کھا نا کھا ئے نہ ہی پانی پیئے اور موسیٰ نے دس احکامات ، معاہدے کی باتیں دو پتھّر کے تختوں پر لکھا ۔ " 29 تب موسیٰ سینائی پہاڑ سے نیچے اُترے وہ خدا وند کی دونوں پتھروں کی صاف تختیوں کو ساتھ لا ئے جن پر خدا وند کے معاہدے لکھے تھے موسیٰ کا چہرہ چمک رہا تھا کیوں کہ انہوں نے خدا سے باتیں کیں تھیں ۔ لیکن موسیٰ یہ نہیں جانتا تھا کہ انکے چہرہ پر چمک ہے ۔ 30 ہارون اور سبھی بنی اسرائیلیوں نے دیکھا کہ موسیٰ کا چہرہ چمک رہا تھا اس لئے وہ ان کے پاس جانے سے ڈر گئے ۔ 31 لیکن موسیٰ نے انہیں بُلایا اس لئے ہارون اور تمام لوگوں کے قائدین موسیٰ کے قریب گئے ۔ موسیٰ نے ان سے باتیں کیں ۔ 32 اس کے بعد سبھی بنی اسرائیل موسیٰ کے پاس گئے ۔ اور موسیٰ نے انہیں وہ حکم دیا جو خدا وند نے سینا کے پہاڑ پر اسے دیا تھا ۔ 33 جب موسیٰ نے باتیں کر نا ختم کیا تب انہوں نے اپنے چہرہ کو ایک کپڑے سے ڈھک لیا ۔ 34 جب کبھی موسیٰ خدا وند کے سامنے باتیں کرنے جاتے تو کپڑے کو ہٹا لیتے تھے تب موسیٰ باہر آتے اور بنی اسرائیلیوں کو وہ بتاتے جو خدا وند کا حکم ہوتا تھا ۔ 35 بنی اسرائیل دیکھتے تھے کہ موسیٰ کا چہرہ چمک رہا ہے اس لئے موسیٰ اپنا چہرہ پھر دھک لیتے تھے موسیٰ اپنے چہرہ کو اس وقت تک ڈھکے رکھتے تھے جب تک وہ خدا وند کے ساتھ بات کرنے دوسری بار نہیں جاتے ۔

Exodus 35

1 موسیٰ نے سبھی بنی اسرائیلیوں کو ایک ساتھ جمع کیا ۔ موسیٰ نے ان سے کہا ،" میں وہ باتیں بتاؤنگا جو خدا وند ے تم لوگوں کو کر نے کے لئے کہی ہیں ۔ 2 کام کرنے کے چھ دن ہیں لیکن ساتویں دن تم لوگوں کے لئے آرام کا خاص دن ہو گا ۔ اس خاص دن کو آرام کر کے تم لوگ خدا وند کو تعظیم پیش کرو گے ۔ کوئی اگر ساتویں دن کام کرے گا تو یقیناً اسے مار دیا جائے گا ۔ 3 سبت کے د ن تمہیں کسی جگہ پر آ گ تک نہیں جلانی چاہئے جہاں بھی تم رہتے ہو ۔" 4 موسیٰ نے سبھی بنی اسرائیلیوں سے کہا ، " یہی ہے جو خدا وند نے حکم دیا ہے ۔ 5 خدا وند کے لئے خاص نذرانے جمع کرو ۔ تمہیں اپنے دل میں طے کرنا چاہئے کہ تم کیا نذر پیش کرو گے اور پھر تم وہ نذر خدا وند کے پاس لاؤ ۔ سونا چاندی اور کانسہ۔ 6 نیلا بیگنی اور لا ل کپڑا ، پٹ سن کا عمدہ ریشہ ، بکری کے بال ، 7 لال رنگ کی کھال ، عمدہ چمڑا اور ببول کی لکڑی ۔ 8 چراغوں کے لئے زیتون کا تیل ، مسح کر نے کے تیل کے لئے اور خوشبو کے بخور کے لئے مصالحے۔ 9 سنگ سلیمانی اور دوسرے تراشے ہو ئے گو ہر ایفود اور عدل کے سینہ بند پر لگا ئے جا ئیں گے۔ 10 تم سبھی ماہر کاریگروں کو چاہئے کہ خداوند نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے اُنہیں بنا ئیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے لئے خداوند نے حکم دیا ہے ۔ 11 مقدّس خیمہ اس کا بیرونی خیمہ اور اُس کے ڈھانکنے کا ڈھکن ، چھّلے،تختے ، پیٹیاں، ستون اور سہا رے ، 12 مقدّس صندوق اور اُ سکی لکڑیاں اور صندوق کا ڈھکن اور صندوق رکھے جانے کی جگہ کو ڈھکنے کے لئے پردہ ، 13 ‎میز اور اُس کے پا ئے ، میز پر رہنے وا لی سب چیزیں اور میز پر رکھی جانے وا لی خاص روٹی، 14 روشنی کے استعمال میں آنے وا لا شمعدان اور وہ تمام چیزیں جو شمعدان کے ساتھ ہو تی ہیں ۔ شمعدان اور روشنی کے لئے تیل ، 15 بخو ر جلانے کے لئے قربان گا ہ اور اُس کی لکڑیاں، مسح کرنے کا تیل اور خوشبو کے بخور ، خیمٴہ اجتماع کے داخل ہو نے کے دروازہ کو ڈھکنے وا لا پر دہ ۔ 16 جلا نے کی قربانی دینے کے لئے قربان گاہ اور اُس کی کانسہ کی جا لی ، لکڑیاں اور قربان گاہ پر استعمال میں آنے وا لی سب چیزیں کانسہ کی سلفچی اور اُ سکا اسٹینڈ، 17 آ نگن کے اطراف کے پر دے اور ان کے کھمبے اور اسٹینڈ اور آ نگن کے داخل دروازہ کو ڈھکنے وا لا پر دہ ، 18 آ نگن اور خیمہ کے سہا رے استعمال میں آنے وا لی کھونٹیاں اور کھو نٹیوں سے بند ھنے وا لی رسیاں، 19 اور خاص بُنے لباس جنہیں کا ہن مقدس جگہ میں پہنتے ہیں یہ خاص لباس کا ہن ہا رون اور اُ سکے بیٹوں کے پہننے کے لئے ہیں وہ ان لباسوں کو اُس وقت پہنیں گے جب وہ کا ہن کے طور پر خدمت کا کام کریں گے۔" 20 تب سبھی بنی اسرائیل موسیٰ سے دور چلے گئے ۔ 21 سب لوگ جو نذر چڑھانا چا ہتے تھے آئے ا ور خداوند کے لئے نذر لا ئے۔ یہ نذر خیمٴہ اجتماع کو بنا نے ، خیمہ کی سب چیزیں اور خاص لباس بنا نے کے کام میں لا ئی گئیں۔ 22 سبھی مرد عورت جو کہ چڑھانا چا ہتے تھے ہر قسم کے اپنے سونے کے زیورات لا ئے وہ چمٹی کان کی با لیاں، انگوٹھیاں دوسرے گہنے لے کر آئے ۔ انہوں نے اپنے سبھی سونے کے گہنے خداوند کو پیش کئے یہ حداوند کے لئے خاص نذر تھی ۔ 23 ہر شخص جس کے پا س پٹ سن کے عمدہ ریشے نیلا ، بیگنی اور لال کپڑا تھا وہ انہیں خداوند کے پاس لا یا ۔ ہر وہ شخص جس کے پاس بکری کے بال ، لال رنگ سے رنگی بھیڑ کی کھا ل اور عمدہ چمڑا تھا ا ُسے وہ خداوند کے پاس لا یا ۔ 24 ہر ایک آدمی جو چاندی، کانسہ چڑھانا چا ہتا تھا خداوند کے لئے نذر کی طرح اُ سکو لا یا ہر وہ شخص جس کے پاس ببول کی لکڑی تھی اسے تعمیر کے لئے لا یا ۔ 25 ہر ایک بُنا ئی کے کام میں ما ہر عورتوں نے عمدہ ریشے اور نیلا ، بیگنی اور لال کپڑا بنا یا ۔ 26 ان سب عورتوں نے جو ماہر تھیں اور ہا تھ بٹانا چاہتی تھیں انہوں نے بکری کے بالوں سے کپڑا بنا یا ۔ 27 قائدین لوگ سنگ سلیمانی اور دوسرے جواہرات لا ئے ۔ ان پتھروں اور جوا ہرات کو کاہن کے ایفود اور عدل کے سینہ میں بند میں لگا ئے گئے ۔ 28 لوگ مصالحے اور زیتون کا تیل بھی لا ئے یہ چیزیں خوشبو کے بخور مسح کر نے کا تیل چراغوں کے تیل کے لئے استعمال کی گئیں ۔ 29 اسرائیل کے لوگ ، سارے مرد اور عورت جن کے دل میں مدد کر نے کا خیال تھا خداوند کے لئے نذرانہ لا ئے یہ نذرانے دل سے دئیے گئے تھے کیوں کہ وہ ایسا کرنا چاہتے تھے ۔ یہ نذرانے ان سب چیزوں کے بنا نے کے لئے استعمال میں آئے جنہیں خداوند نے موسیٰ اور لوگوں کو بنانے کا حکم دیا تھا ۔ 30 تب موسیٰ نے بنی اسرائیلیوں سے کہا ،" دیکھو خدا وند نے بضل ایل کو چُنا ہے جو اوری کا بیٹا اور یہوداہ کی خاندانی گروہ کا ہے۔ ( اوری حور کا بیٹا تھا ) ۔ 31 خدا وند نے بضل ایل کو خدا کی روح سے معمور کردیا ۔ اُس نے بضل ایل کو خاص حکمت اور علم دیا تا کہ وہ ہر کام کرے ۔ 32 وہ ڈیزائن کر سکتا ہے اور سونے چاندی اور کانسہ سے چیزیں بنا سکتا ہے ۔ 33 وہ نگ اور سنگ سلیمانی کو کاٹ کر جوڑ سکتا ہے ۔ بضل ایل لکڑی کا کام کر سکتا ہے اور سب قسم کی چیزیں بنا سکتا ہے ۔ 34 خدا وند نے بضل ایل اور اہلیاب کو دوسرے لوگوں کو سکھا نے کی خاص تربیت دے رکھی ہے ۔ ( اہلیاب دان کے خاندانی گروہ سے اخیسمک کا بیٹا تھا ) 35 خدا وند نے ان دونوں آدمیوں کو سبھی قسم کے کام کرنے کی خاص صلاحیت دی تھی ۔ وہ بڑھئی اور لوہار کا کام کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ وہ نیلے ، بیگنی اور لال کپڑے اور پٹ سن کے عمدہ ریشوں میں تصویریں کاڑھ کر اُنہیں سِی سکتے ہیں ۔ اور وہ اُون سے بھی چیزوں کو بُن سکتے ہیں۔

Exodus 36

1 " اِس لئے بضل ایل ، اہلیاب اور تمام ہُنر مند آدمیوں کو کام کرنا چاہئے جس کا خدا وند نے حکم دیا ہے ۔ خدا وند نے ان آدمیوں کو اُن سبھی صنعت کے کام کرنے کی حکمت اور سمجھ دے رکھی ہے ۔ جنکی ضرورت اُس مُقدس جگہ کو بنا نے کے لئے ہے ۔ " 2 تب موسیٰ نے بضل ایل ، اہلیاب اور سب دوسرے ماہر لوگوں کو بُلایا جنہیں خدا وند نے خاص صلاحیت دی تھی اور یہ لوگ آئے کیوں کہ یہ کام میں مدد کرنا چاہتے تھے ۔ 3 موسیٰ نے ان سبھی بنی اسرائیلیوں کو ان تمام چیزوں کو دیدیا ۔ جنہیں بنی اسرائیل نذر کی شکل میں لا ئے تھے ۔ اور انہوں نے ان چیزوں کا استعمال مقدس جگہ بنا نے میں کیا ۔لوگ ہر صبح نذر لاتے رہے ۔ 4 آخر میں ہر ماہر کاریگروں نے اس کام کو چھو ڑ دیا جسے وہ مقدس جگہ پر کر رہے تھے ۔ اور وہ موسیٰ سے باتیں کر نے گئے ۔ 5 " لوگ بہت کچھ لائے ہیں اور ہم لوگوں کے پاس اس سے بہت زیادہ ہے جتنا کہ اس کام کو سر انجام تک پہنچانے کے لئے جس کا کہ خدا وند نے حکم دیا ہے ! " 6 تب موسیٰ نے پورے چھا ؤنی میں یہ خبر بھیجی :" کو ئی مرد یا عورت اب کچھ بھی نذرانہ مقدس جگہ کے لئے نہ لائے ۔ " اس لئے لوگوں نے نذرانہ لانا بند کر دیا ۔ " 7 لوگوں نے ضرورت سے زیادہ چیزیں خدا کے مقدس جگہ کو بنانے کے لئے لائے تھے ۔ 8 تب ماہر کاریگروں نے مقدس خیمہ بنانا شروع کیا انہوں نے نیلے بیگنی اور لال کپڑے اور پٹ سن کے عمدہ ریشوں کی دس پردے بنائے ۔ اور انہوں نے کروبی فرشتوں کی تصویروں کو پر دہ پر کاڑھا ۔ 9 ہر ایک پردہ ایک ہی ناپ کا تھا یہ ۲۸ کیوبٹ لمبا اور ۴ کیوبٹ چوڑا تھا ۔ 10 پانچ پردے ایک ساتھ آپس میں جوڑے گئے جس سے وہ ایک گروہ بن گئے ۔ دوسرے گروہ کو بنانے کے لئے دوسرے پانچ پردے آپس میں جوڑے گئے ۔ 11 ایک گروہ کے پردوں کے آخری کنارے میں پھندا بنانے کے لئے انہوں نے نیلے کپڑے کا استعمال کیا ۔ انہوں نے وہی کام دوسرے گروہ کے پردوں کے ساتھ بھی کیا ۔ 12 ایک میں پچاس سوراخ تھے اور دوسری میں بھی پچاس سوراخ تھے ۔ سوراخ ایک دوسرے کے روبرو تھے ۔ 13 اور انہوں نے پچاس سونے کے چھلّے بنا ئے انہوں نے ان چھلّوں کا استعمال دو پر دوں کو جوڑنے کے لئے کیا ۔ اس طرح مقدس خیمہ ایک ساتھ جڑ کر ایک ہو گیا ۔ 14 تب کاریگروں نے بکری کے بالوں کا استعمال خیمہ کے ڈھکنے والے گیارہ پردوں کے بنانے کے لئے کیا ۔ 15 تمام گیارہ پردے ایک ہی ناپ کے تھے ۔ ۳۰ کیوبٹ لمبی اور ۴ کیوبٹ چوڑی ۔ 16 کاریگروں نے ۵ پردوں کو ایک ساتھ سِی کر ایک ٹکڑا بنایا ۔ اور پھر چھ پردوں کو سِی کر دوسرا ٹکڑا بنایا ۔ 17 انہوں نے پہلے گروہ کے آخر پردہ کے سِرے میں ۵۰ پھندے بنائے اور دوسرے گروہ کے آخر سِرے میں بھی ۵۰ پھندے بنائے ۔ 18 کاریگروں نے دونوں ٹکڑوں کو ایک ساتھ جوڑ کر ایک ٹکڑا بنانے کے لئے ۵۰ کانسے کے چھلّے بنائے ۔ 19 تب انہوں نے خیمہ کے ۲ اور ڈھکن بنائے ایک ڈھکن لال رنگے ہو ئے مینڈھے کی کھال سے بنا یا گیا ۔ دوسرا ڈھکن عمدہ چمڑے کا بنایا گیا ۔ 20 تب بضل ایل نے ببول کی لکڑی کے فریم مقدس خیمہ کو سہارا دینے کے لئے بنائے ۔ 21 ہر ایک فریم ۱۰ کیوبٹ لمبا اور ۲ /۱۱ کیوبٹ چوڑا تھا ۔ 22 ہر ایک فریم میں دو کھونٹی دو فریموں کو جوڑ نے کے لئے ہونا چاہئے ۔ مقدس خیمہ کا ہر ایک فریم اس طریقے سے بنایا گیا تھا ۔ 23 بضل ایل نے خیمہ کے جنوبی حصہ کے لئے ۲۰ فریم بنائے ۔ 24 تب اس نے ۴۰ چاندی کی بنیاد بنائیں ۔ دو بنیاد ہر ایک فریم کے لئے تھیں اِس طرح ہر فریم کی ہر چول کے لئے ایک بنیاد ۔ 25 اُس نے ۲۰ فریم مقدس خیمہ کی دوسری طرف شمال کی جانب بھی بنایا ۔ 26 اس نے چاندی کی ۴۰ بنیاد بنائی ہر ایک فریم کے لئے دو بنیاد ۔ 27 اس نے خیمہ کے پچھلے حصہ میں مغرب کی طرف ۶ فریم جوڑے ۔ 28 اس نے مقدس خیمہ کے پچھلے حصّے کے کونوں کے لئے ۲ فریم بنائے ۔ 29 یہ فریم نیچے ایک دوسرے سے جوڑے گئے تھے ۔ اور یہ ایسے چھلّوں میں لگے تھے جو انہیں اوپر میں جوڑتے تھے ۔ اس نے ہر سِرے کے لئے ایسا کیا ۔ 30 اس طرح وہاں ۸ فریم مقدس خیمہ کے مغرب جانب تھے ۔ اور ہر ایک فریم کے لئے ۲ بنیاد کے حساب سے ۱۶ چاندی کی بنیاد تھیں ۔ 31 تب اس نے خیمہ کے پہلے بازو کے لئے ۵ اور مقدس خیمہ کے دوسرے بازو کے لئے ۵ اور مقدس خیمہ کے مغربی ( پچھمی) جانب کے لئے ببول کی کڑیاں بنائیں ۔ 32 33 اس میں درمیان کی کڑیاں ایسی بنائیں جو فریم میں اس سے ایک دوسرے سے ہوکر ایک دوسرے تک جاتی تھیں ۔ 34 اس نے ان فریموں کو سونے سے مڑھا ۔ اس نے کڑیوں کو بھی سونے سے مڑھا اور اس نے کڑیوں کو پکڑے رکھنے کے لئے سو نے کے چھّلے بنائے ۔ 35 تب اس نے پر دہ بنا یا ۔ اس نے پٹ سن کے عمدہ ریشوں اور نیلے لال اور بیگنی کپڑے کا استعمال کیا ۔ اس نے پٹ سن کے عمدہ ریشو ں پر کروبی فرشتوں کے تصویروں کو کاڑھے ۔ 36 اس نے ببول کی لکڑی کے چار کھمبے بنائے اور انہیں سونے سے مڑھا تب اس نے کھمبوں کے سونے کے چھلّے بنائے اور اس نے کھمبوں کے لئے چار چاندی کی بنیاد بنائیں ۔ 37 تب اس نے خیمہ کے دروازے کے لئے پردہ بنایا ۔ اس نے نیلے بیگنی اور لال کپڑے اور پٹ سن کے عمدہ ریشوں کو استعمال کیا ۔ اس نے کپڑے میں تصویر کو کا ڑھا ۔ 38 تب اس نے اس پردہ کے لئے ۵ کھمبے اور ان کے لئے چھلّے بنائے ۔ اس نے کھمبوں کے سِرو ں اور پردہ کی چھڑی کو سونے سے مڑھا ۔ اور اس نے کانسے کی ۵ بنیاد کھمبوں کے لئے بنائے ۔

Exodus 37

1 بضل ایل نے ببول کی لکڑی کا مُقدس صندوق بنا یا ۔ صندوق۲/ ۲۱ کیو بٹ لمبا اور ۲/۱۱ کیو بٹ چوڑا اور ۲/۱۱ کیو بٹ اونچا تھا۔ 2 اُ س نے صندوق کے اندرونی اور بیرونی حصّہ کو خالص سونے سے مڑھ دیا ۔ تب اُ س نے سونے کی پٹی صندوق کے چاروں طرف لگا ئی ۔ 3 پھر اُ س نے سونے کے ۴ کڑے بنا ئے اور انہیں نیچے کے چاروں کونوں پر لگا یا ۔ دونوں طرف دو دو کڑے تھے ۔ 4 تب اُ س نے کھمبوں کو بنا یا ۔ کھمبے کے لئے اُ سنے ببول کی لکڑی کو استعمال کیا اور ان کو خالص سونے سے مڑھا۔ 5 اُ سنے صندوق کو لے جانے کے لئے صندوق کے ہر ایک سِرے پر بنے کڑوں میں کھمبوں کو ڈا لا ۔ 6 تب اُ سنے خا لص سونے سے سر پوش کو بنا یا یہ ۲/۲۱ کیو بٹ لمبا اور ۲/۱۱ کیو بٹ چوڑا تھا ۔ 7 تب بضل ایل نے سونے کو پیٹکر دو کروبی فرشتے بنا ئے اُ س نے سر پوش کے دونوں سِروں پر کرو بی فرشتوں کو رکھا ۔ 8 اس نے ایک کروبی فرشتے کو ایک طرف اور دوسرے کو دوسری طرف لگا یا ۔ کرو بی فرشتوں کو سر پوش سے ایک بنا نے کیلئے جو ڑ دیا گیا ۔ 9 کروبی فرشتوں کے پروں کو آسمان کی طرف اُٹھا دیا گیا ۔ فرشتوں نے صندوق کو اپنے پروں سے ڈھک لیا ۔ فرشتے ایک دوسرے کے رو برو سر پوش کو دیکھ رہے تھے ۔ 10 تب بضل ایل نے ببول کی لکڑی کی میز بنا ئی۔ میز ۲ کیو بٹ لمبی اور ایک کیو بٹ چوڑی ۔ اور ۲/۱۱ کیو بٹ اُونچی تھی ۔ 11 اس نے میز کو خا لص سونے سے مڑ ھا اُ س نے سونے کی سجا وٹ میز کے چاروں طرف کی ۔ 12 تب اس نے میز کے اطراف ایک تین اِنچ چوڑا فریم بنا یا اُ س نے کنا رے پر سونے کی جھا لر لگا ئی ۔ 13 تب اُ سنے میز کے لئے ۴ سونے کے کڑ ے بنا ئے ۔ اس نے نیچے کے چاروں کو نوں پر سونے کے چار کڑے لگا ئے یہ وہاں تھے جہاں چار پیر تھے ۔ 14 کڑے کنا رے کے قریب تھے ۔ کڑوں میں وہ کھمبے تھے جو میز کو لے جانے میں کام آتے تھے ۔ 15 تب اس نے میز کو لے جانے کے لئے کھمبے بنا ئے کھمبوں کو بنا نے کے لئے اس نے ببول کی لکڑ ی کا استعمال کیا ۔ اس نے کھمبوں کو خالص سونے سے مڑھا ۔ 16 تب اس نے اُن چیزوں کو بنا یا جو میز پر کام آتی تھیں۔ اس نے طشتری ، چمچے کٹو رے گھڑا خا لص سونے سے بنا ئے ۔ کٹورے اور گھڑے نذروں کے استعمال میں آ تے تھے ۔ نذروں میں استعمال میں آنے وا لے گھڑے بنا ئے یہ سب چیزیں خالص سونے سے بنا ئی گئی تھیں۔ 17 تب اس نے شمعدان بنا یا اُ سکے لئے اُ سنے خا لص سونے کا استعمال کیا ۔ اور اُ سے پیٹکر بنیاد اور ا س کے ڈنڈے کو بنا یا ۔ تب اُ س نے پھو لوں جیسے دکھا ئی دینے وا لے پیالے بنا ئے ۔ پیالوں کے ساتھ کلیاں اور کھِلے ہو ئے غنچے تھے ۔ ہر ایک چیز خالص سونے کی بنی تھی ۔ یہ تمام چیزیں ایک ہی اِکا ئی بنا نے کی شکل میں جو ڑی تھی۔ 18 شمعدان میں ۶ شا خیں تھیں ایک طرف تین شاخیں تھیں اور تین شاخیں دوسری طرف ۔ 19 ہر ایک شاخ پر سونے کے تین پھو ل تھے یہ پھو ل بادام کے پھو ل کی طرح بنے تھے ۔ اُن میں کلیاں اور پنکھڑ یاں تھیں۔ 20 شمعدان کی ڈنڈی پر سونے کے چار پھو ل تھے ۔ وہ بھی کلی اور پنکھڑ یاں وا لے با دام کے پھو ل کی طرح بنے تھے ۔ 21 چھ شاخیں دو دو کرکے تین حصّوں میں تھیں ہر ایک حصّے کی شاخوں کے نیچے ایک کلی تھی ۔ 22 یہ سبھی کلیاں شاخیں اور شمعدان خا لص سونے کے بنے تھے ان سارے سونے کو پیٹ کر ایک ہی میں ملا دیا گیا تھا ۔ 23 اُ س نے اس شمعدان کے لئے سات شمعیں بنا ئیں تب اُ سنے طشتریاں اور چمٹے بنا ئے ہر ایک چیز کو خا لص سونے سے بنا یا ۔ 24 اُ سنے تقریباً ۷۵ پا ؤنڈ خالص سونا شمعدان اور اس کے اشیاء کے بنا نے میں لگا ئے ۔ 25 تب اس نے بخور جلا نے کے لئے ایک قربان گا ہ بنا ئی ا س نے اسے ببول کی لکڑی کا بنا یا ۔ قربان گا ہ مربع نُما تھی ۔ یہ ایک کیوبٹ لمبی اور ایک کیوبٹ چوڑی اور ۲ کیو بٹ اُونچی تھی ۔ قربانگا ہ پر ۴ سینگیں بنا ئیں گئی تھی ۔ ہر کو نے کے لئے ایک سینگ ۔ یہ سینگیں قربان گا ہ کے ساتھ ایک اِکا ئی میں جو ڑ دی گئیں تھی۔ 26 اُ س نے سِر سے سبھی با زوؤں اورسینگوں کو خالص سونے کے پتروں سے مڑھا تب اس نے قربان گا ہ کے چاروں طرف سونے کی جھا لر لگا ئی ۔ 27 اُس نے سونے کے ۲ کڑے قربان گا ہ کے لئے بنا ئے اس نے سونے کے کڑوں کو قربان گا ہ کے ہر طرف کے جھا لر کے نیچے رکھا ۔ ان کڑوں میں قربان گا ہ کو لے جانے کے لئے ڈنڈے ڈا لے جا تے تھے ۔ 28 تب اس نے ببول کی لکڑی کے ڈنڈے بنا ئے اور انہیں سونے سے مڑھا ۔ 29 تب اس نے مسح کر نے کے لئے مقدس تیل بنا یا ۔ اس نے خالص خوشبو دار بخور بھی بنا یا یہ چیزیں اُ سی طرح بنا ئی گئی جس طرح کو ئی عطر بنا نے وا لے بنا تے ہیں۔

Exodus 38

1 تب اس نے جلا نے کی قربانی دینے کی قربان گا ہ بنا ئی ۔ یہ قربان گا ہ جلا نے کی قربانی کے لئے استعمال میں آنے وا لی تھی ۔ اُ سنے ببول کی لکڑی سے اُ سے بنا یا قربان گا ہ مربع نُما تھی ۔ یہ ۵ کیو بٹ لمبی ۵ کیو بٹ چوڑی اور ۳ کیو بٹ اُونچی تھی ۔ 2 ا س نے ہر ایک کو نے پر ایک سینگ بنا یا اس نے سینگوں کو قربان گا ہ کے ساتھ جو ڑ دیا ۔ تب اس نے ہر چیز کو کانسے سے ڈھک لیا ۔ 3 تب اس نے قربان گا ہ پر استعمال ہو نے وا لے تمام اشیاء کو کانسے سے بنا یا ۔ اس نے برتن ، بیلچے ، کٹورے ، کانٹے اور کڑھا ئیاں بنا ئیں۔ 4 تب اس نے قربان گا ہ کے لئے کانسے کی ایک جھنجر ی بنا ئی یہ قربان گا ہ کے جالی کی طرح تھی ۔ جالی کو قربان گا ہ کے پا ئیدان سے لگا یا ۔ یہ قربان گا ہ کے اندر غا لباً نیچے تھی ۔ 5 تب اس نے کانسے کے ۴ کڑے بنا ئے یہ کڑے کھمبوں کو پکڑ نے کے لئے جھنجروں کے چاروں کو نوں میں تھے ۔ 6 تب اُس نے ببول کی لکڑی کے ڈنڈے بنا ئے اور انہیں کانسہ سے مڑھا ۔ 7 اُ س نے ڈنڈو ں کو کڑوں میں ڈا لا ۔ ڈنڈے قربان گا ہ کے کنا رے میں تھے وہ قربان گاہ کو لے جانے کے کام میں آتے تھے ۔ اُس نے قربان گا ہ کو بنا نے کے لئے تختوں کا استعمال کیا ۔ قربان گا ہ اندر سے ایک خالی صندوق کی طرح خالی تھی ۔ 8 اس نے ہا تھ دھو نے کے لئے خیمٴہ اجتماع کے دروازوں پر خدمت کر نے وا لی عورتوں کے آئینوں کے کانسوں سے کانسے کے کٹوری اور کانسے ہی کی بنیاد بنا ئیں۔ 9 تب اس نے آنگن کے چاروں طرف پردہ کی دیوار بنا ئی ۔ جنوب کی طرف کے پردہ کی دیوار۱۰۰ کیو بٹ لمبی تھی ۔ یہ پردہ پٹسن کے عمدہ ریشوں سے بنے تھے ۔ 10 جنوب کی طرف کے پردہ کو ۲۰ کھمبوں سے سہا را دیا گیا تھا یہ کھمبے کانسے کے ۲۰ بنیاد پر تھے ۔ کھمبوں اور ڈنڈوں کے لئے چاندی کے چھلّے بنے تھے ۔ 11 شمالی جانب کا آنگن بھی ۱۰۰ کیوبٹ لمبا تھا ۔ اور اُس میں ۲۰ کانسے کے کھمبے ۲۰ کانسوں کی بنیادوں کے ساتھ تھے ۔ کھمبوں اور چھڑوں کے لئے چھلّے چاندی کے بنائے گئے تھے ۔ 12 آنگن کے مغربی جانب کے پر دے ۵۰ کیوبٹ لمبے تھے ۔ اس کے ۱۰ ستون اور ۱۰ بنیاد تھے ۔ کھمبوں کے لئے چھلّے اور کنڈے چاندی کے بنائے گئے تھے ۔ 13 آنگن کی مشرقی دیوار ۵۰ کیوبٹ چوڑی تھی ۔ آنگن کا داخلے کا دروازہ اُسی طرف تھا ۔ 14 داخلے کے دروازے کی ایک جانب پردہ کی دیوار ۱۵ کیوبٹ لمبی تھی ۔ اُس طرف تین کھمبے اور تین بنیاد تھے ۔ 15 داخلہ کے دروازے کے دُوسری طرف پردہ کی دیوار کی لمبائی بھی ۱۵ کیوبٹ تھی ۔ وہاں بھی تین کھمبے اور تین بنیاد تھیں ۔ 16 آنگن کے اطراف کے پر دے پٹ سن کے عمدہ ریشوں سے بنے تھے ۔ 17 کھمبوں کی بنیاد کانسے کی بنی ہو ئی تھی ۔ چھلّے اور پردوں کے چھڑے چاندی کے بنے تھے ۔ کھمبوں کے سِرے بھی چاندی سے مڑھے ہو ئے تھے آنگن کے تمام کھمبے پر دہ کی چاندی کی چھڑوں سے جڑے تھے ۔ 18 آنگن کے داخل دروازے کا پردہ پٹ سن کے عمدہ ریشوں اور نیلے لال اور بیگنی کپڑے کا بُنا ہوا تھا ۔ اُس پر کڑھا ئی کا کام کیا ہوا تھا ۔ پردہ ۲۰ کیوبٹ لمبا اور ۵ کیوبٹ اُونچا تھا ۔ یہ اُونچا ئی اتنی ہی تھی جتنی کہ آنگن کے اطراف کے پردوں کی اُونچائی ۔ 19 پردہ چار کھمبوں اور چار کانسے کی بنیاد پر کھڑا تھا ۔ کھمبوں کے چھلّے چاندی کے بنے تھے ۔ کھمبے کے سِرے چاندی سے مڑھے تھے ۔ اور پردے کے چھڑے بھی چاندی کے بنے تھے ۔ 20 مقدّس خیمہ اور آنگن کے اطراف کے پردوں کی کھونٹیاں کانسے کی بنی تھیں ۔ 21 موسیٰ نے تمام لاوی لوگوں کو حکم دیا کہ وہ مقدس خیمہ کو بنانے میں استعمال ہوئی چیزوں کو لکھ لے ۔ ہارون کا بیٹا اِتا مر اُس فہرست کے رکھنے کا نگراں کار تھا ۔ 22 یہوداہ کے خاندانی گروہ سے حُور کے بیٹے اوری کے بیٹے بضل ایل نے بھی تمام چیزیں بنائیں جن کے لئے خدا وند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 23 دان کے قبیلوں سے اخیسمک کے بیٹے اہلیاب نے بھی اُس کی مدد کی ۔ اہلیاب ایک ماہر کندہ کار اور نمونہ ساز تھا ۔ وہ پٹ سن کے عمدہ ریشوں اور نیلا بیگنی اور لال کپڑے بُننے میں ماہر تھا ۔ 24 دو ٹن سے زیادہ سونا مُقدّس خیمہ کے لئے خدا وند کو نذر کیا گیا تھا ۔ ( یہ سرکار کے خاص باٹوں سے تو لا گیا تھا ) 25 لوگوں نے ۴/۳۳ٹن سے زیادہ چاندی دی ۔ (یہ سرکاری ناپ سے تولی گئی تھی )۔ 26 یہ چاندی ان کے ہاں محصول وصول کرنے سے آئی ۔ لاوی مردوں نے بیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی گنتی کی ۶۰۳۵۵۰ لوگ تھے اور ہر مرد کو ایک بیکا چاندی محصول کی شکل میں دینی تھی ۔ ( سرکاری ناپ کے مطا بق ایک بیکا آدھا مثقال کے برابر ہو تا تھا ) 27 سوا تین ٹن چاندی کا استعمال مُقدّس خیمہ کے ۱۰۰ بنیادوں اور پر دوں کو بنانے میں ہوا تھا ۔ اُنہوں نے ۷۵ پاؤنڈ چاندی ہر ایک بنیاد میں لگائی ۔ 28 دُوسرے ۵۰ پاؤنڈ چاندی کا استعمال کھونٹیوں ، پردوں کی چھڑ یوں اور کھمبوں کے سِروں کو بنانے میں ہوا تھا ۔ 29 لگ بھگ ۲۵۰۰ کیلو گرام کانسہ خدا وند کو نذرانہ میں پیش کیا گیا ۔ 30 اُس کانسے کا استعمال خیمہ ٴ اجتماع کے داخل دروازہ کی بنیادوں کو بنا نے میں ہوا ۔ اُنہوں نے کانسے کا استعمال قربان گاہ اور کانسے کا جال بنانے میں بھی کیا ۔ اور وہ کانسے تمام چیزوں اور قربان گاہ کی طشتریاں بنانے کے کام میں آیا ۔ 31 اُس کا استعمال آنگن کے اطراف کھمبوں کی بنیاد بنا نے کے لئے بھی ہوا ۔ اور کانسے کا استعمال خیمہ کے لئے کھونٹیوں کو بنانے اور آنگن کے چاروں طرف کے پردوں کو بنا نے کے لئے ہوا ۔

Exodus 39

1 کا ریگروں نے نیلے ، لال اور بیگنی کپڑو ں کے خاص لباس کا ہنوں کے لئے بنا ئے جنہیں وہ مقدس جگہ میں خدمت کے وقت پہنتے تھے اُنہوں نے ہا رون کے لئے بھی ویسے ہی خاص لباس بنا ئے جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 2 انہوں نے ایفود پٹ سن کے عمدہ ریشوں اور نیلے ، لال اور بیگنی کپڑے سے بنا یا ۔ 3 ( انہوں نے سونے کو پتلا پتر کی شکل میں پیٹا اور تب انہوں نے اس سونے کو لمبے دھا گوں کی شکل میں کا ٹا ۔ انہوں نے سونے کو نیلے بیگنی لال کپڑے اور پٹ سن کے عمدہ ریشوں میں جڑ دیا ۔ یہ کام بہت ہی ما ہر آدمی کا تھا جو کیا گیا )۔ 4 انہوں نے ایفود کے کندھوں کی پیٹیاں بنا ئیں اور کندھے کی ان پیٹیوں کو کندھے پر ٹانکا ۔ 5 انہوں نے کمر بند اسی طرح بنا یا ۔ یہ ایفود سے جڑا ہوا تھا ۔ یہ سونے کے تار ، پٹ سن کے عمدہ ریشے ، نیلا ، لال ، اور بیگنی کپڑے سے ویسا ہی بنا جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 6 کا ریگروں نے پتھروں کو سونے کی پٹی میں جڑا ۔ انہوں نے اسرائیل کے بیٹوں کے نام ان پتھروں پر لکھے ۔ 7 تب انہوں نے جوا ہرات ایفود کے کندھے کی پٹی پر لگا یا ۔ دونوں پتھر اسرائیل کے تمام بیٹوں کی یادگار تھے ۔ یہ ویسا ہی کیا گیا جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 8 تب انہوں نے عدل کا سینہ بند بنایا ۔ یہ اسی ماہر کا ریگر کا کام تھا جو عدل کا سینہ بند ایفود کی طرح بنا یا گیا تھا ۔ یہ سونے کے تار ، پٹ سن کے عمدہ ریشوں نیلا ، لال اور بیگنی کپڑے کا بنا یا گیا تھا ۔ 9 عدل کا سینہ بند مربع نُما شکل میں دہرا تہہ کیا ہوا تھا ۔ یہ ۹ اِنچ لمبا اور ۹ اِنچ چوڑا تھا ۔ 10 تب کاریگر نے اس پر خوبصورت نگوں کو چار قطا روں میں جو ڑا ۔ پہلی قطا ر میں ایک لال ایک ایک پُکھراج اور ایک زمرد تھا ۔ 11 دُوسری قطا ر میں ایک فیروزہ ایک نیلم اور ایک پنّا تھا ۔ 12 تیسری قطا ر میں لشم ، عقیق اور ایک یاقوت تھا ۔ 13 چوتھی قطا ر میں ایک زبر جد ایک سنگ سلیمانی اور یشم تھے ۔ یہ سب قیمتی پتھر سونے میں جڑے تھے ۔ 14 ان بارہ قیمتی پتھروں پر اسرائیل کے بارہ بیٹوں کے نام اُسی طرح لکھے گئے تھے جس طرح ایک کاریگر مہر پر کھود تا ہے ۔ اسرائیل کے بیٹوں کے ہر ایک پتھر پر بارہ قبیلوں میں سے ایک ایک کانام اس پر لکھا تھا۔ 15 عدل کے سینہ بند کے لئے خالص سونے کی ایک زنجیر بنا لی گئی یہ رسّی کی طرح گتھی ہو ئی تھی ۔ 16 کاریگروں نے سونے کی دو بیٹیاں اور ۲ سونے کے چھلّے بنا ئے ۔ انہوں نے دونوں چھلّوں کو عدل کے سینہ بند کے کو نوں پر لگا یا ۔ 17 تب انہوں نے دونوں سونے کی زنجیروں کو عدل کے سینہ بند کے دونوں چھلوں میں باندھا ۔ 18 انہوں نے سونے کی زنجیروں کے دوسرے سروں کو ایفود کی پٹیوں پر باندھا ۔ 19 تب انہوں نے دو اور سونے کے چھلے بنا ئے اور عدل کے سینہ بند کے نچلے کو نوں پر انہیں لگا یا ۔ انہوں نے چھلوں کو چغہ کے اندر ایفود کے روبرو لگا یا ۔ 20 انہوں نے ایفود کے سامنے کی طرف کندھے کی پٹی کے نیچے سونے کے دو چھلے لگا ئے یہ چلّے بالکل کمر بند کے اوپر تھے ۔ 21 تب انہوں نے ایک نیلی پٹی کا استعمال کیا اور عدل کے سینہ بند کے چھلّوں کو ایفود کے چھلّوں سے باندھا ۔ اس طرح عدل کے سینہ بند پٹی کے نزدیک لگا رہا یہ گِر نہیں سکتا تھا ۔ انہوں نے یہ سب چیزیں ویسا ہی کیا جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 22 تب انہوں نے ایفود کے نیچے کا چغّہ بنا یا ۔ انہوں نے اُسے نیلے کپڑے سے بنا یا یہ ایک ما ہر آدمی کا کام تھا ۔ 23 کپڑے کے ٹھیک بیچ میں سر کے لئے ایک سوراخ بنا ؤ۔ اس کے چاروں طرف کپڑے کا ایک ٹکڑا سی کر لگا دو تا کہ وہ پھٹ نہ سکے ۔ 24 تب اُنہوں نے پٹ سن کے عمدہ ریشوں نیلے ، لال اور بیگنی کپڑے سے پھُند نے بنائے جو انار کی مانند نیچے لٹکے تھے ۔ انہوں نے ان اناروں کو چغّہ کے نیچے کے سِرے پر چاروں طرف باندھا ۔ 25 تب انہوں نے خالص سونے کی گھنٹیاں بنا ئیں۔ انہوں نے انا روں کے بیچ چغے کے نیچے کے سِرے کے چاروں طرف اُنہیں باندھا ۔ 26 چغّہ کے نیچے کے سِرے کے چاروں طرف انار اور گھنٹیاں لٹک رہی تھی۔ ہر ایک انار کے ساتھ ایک گھنٹی تھی ۔ کا ہن اُ س چغہ کو ا س وقت پہنتا تھا جب وہ خداوند کی خدمت کر تا تھا ۔ جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 27 کا ریگروں نے ہا رون اور اُس کے بیٹوں کے لئے چغہ بنا ئے ۔ یہ چغہ پٹ سن کے عمدہ ریشوں سے بنے گئے تھے ۔ 28 اور کاریگروں نے پٹ سن کے عمدے ریشوں کے صافے انہوں نے سر کی پگڑیاں اور اندرونی لباس بھی بنا ئے ۔ انہوں نے ان چیزوں کو پٹ سن کے عمدہ ریشوں سے بنا یا ۔ 29 تب انہوں نے کمر بند کو پٹ سن کے عمدہ ریشوں، نیلے ، بیگنی اور لال کپڑے سے بنایا ۔ کپڑوں پر کڑھا ئی کا کام کیا گیا تھا ۔ یہ چیزیں اُسی طرح بنا ئی گئیں جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 30 تب انہوں نے مقدس پگڑی کے لئے سونے کا پتّر بنا یا ۔ انہوں ے اُس سونے کے پتّر پر یہ الفاظ لکھے : " خداوند کے لئے مقدس " 31 تب انہوں نے پتّر سے ایک نیلی پٹّی باندھی اور اُسے پگڑی پر اُس طرح باندھا جیسے خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 32 اس طرح خیمٴہ اجتماع کا تمام کام پو را ہو گیا ۔ بنی اسرائیلیوں نے ہر چیز ٹھیک اسی طرح بنا ئی جس طرح خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 33 تب انہوں نے خیمٴہ اجتماع موسیٰ کو دکھا یا ۔ اُنہوں نے اُسے خیمہ اور اس کے اندر کی تمام چیزیں دکھا ئیں۔ انہوں نے اسے چھلے ، چھڑے ، تختے، کھمبے اور بنیا دیں دکھا ئے۔ 34 انہوں نے اس خیمہ کا عمدہ چمڑے سے بنا یا ہوا غِلاف دکھا یا جو لال رنگ سے رنگی ہو ئی مینڈھے کی کھا ل سے بنا تھا ۔ اور انہوں نے وہ غِلاف دکھا یا جو عمدہ چمڑے کا بناتھا اور انہوں نے وہ پر دہ دکھا یا جو داخلہ کے دروازے سے سب سے زیاد مقدس جگہ کو ڈ ھا نکتا تھا ۔ 35 انہوں نے موسیٰ کو معاہدہ کا صندوق دکھا یا ۔ انہوں نے صندوق کو لے جانے وا لی لکڑیاں اور صندوق کے ڈھکنے وا لے سرپوش کو دکھا یا ۔ 36 انہوں نے مخصوص روٹی کی میز اور اُس پر رہنے وا لی تمام چیزیں اور ساتھ میں خاص روٹی موسیٰ کو دکھا ئی ۔ 37 انہوں نے موسیٰ کو خا لص سونے کا شمعدان اور اُس پر رکھے ہو ئے شمع کو دکھا یا ۔ انہوں نے نیلی اور دوسری تمام چیزیں موسیٰ کو دکھا ئیں جنکا استعمال شمعوں کے ساتھ ہو تا تھا۔ 38 انہوں نے اسے سونے کی قربان گا ہ ، مسح کر نے کا تیل ، خوشبو اور بخور اور خیمہ کے داخل دروازہ کو ڈھانکنے وا لے پر دہ کو دکھا یا ۔ 39 انہو ں کانسہ کی قربان گا ہ اور کانسہ کی جا لی کو دکھا یا ۔ انہوں نے قربان گا ہ کو لے جانے کے لئے بنے ڈنڈوں کو بھی موسیٰ کو دکھا یا ِ۔ اور انہوں نے ان تمام چیزوں کو دکھا یا جو قربان گاہ پر کام میں آتی تھیں۔ انہوں نے سلفچی اور اُ سکے نیچے کی بنیاد دکھا ئی ۔ 40 انہوں نے آنگن کے چارو ں طرف پردوں کو کھمبوں ، بنیادوں کے ساتھ موسیٰ کو دکھا یا ۔ اُنہوں نے اُ سکو اُ س پردہ کو دکھا یا جو آنگن کے داخلی دروازہ کو ڈھکا تھا ۔ انہوں نے اسے رسیوں اور کانسہ کی خیمہ وا لی کھونٹیاں دکھا ئیں۔ انہوں نے خیمہ اجتماع میں تمام چیزیں دکھا ئئیں۔ 41 تب انہوں نے موسیٰ کو مقدس جگہ میں خدمت کر نے وا لے کا ہنوں کے لئے بنے لباس کو دکھا یا ۔ کا ہن ہا رون اور اس کا بیٹا اس لباس کو اس وقت پہنتے تھے جب وہ کا ہن کے طور پر خدمت کرتے تھے ۔ 42 خداوند نے موسیٰ کو جیسا حکم دیا تھا بنی اسرائیلیوں نے تمام کام بالکل اسی طرح کئے ۔ 43 موسیٰ نے تمام کاموں کو غور سے دیکھا کہ سب کا م ٹھیک اُسی طرح ہو ئے جیسا خداوند نے حکم دیا تھا ۔ اس لئے موسیٰ نے اُن کو دُعا دی ۔

Exodus 40

1 تب خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 2 "پہلے مہینے کے پہلے دن مُقدّس خیمہ جو خیمہ ٴ اجتماع ہے کھڑا کرو ۔" 3 معاہدہ کے صندوق کو خیمہٴ اجتماع رکھو ۔ صندوق کو پردہ سے ڈھانک دو ۔ 4 تب خاص روٹی کی میز کو اندر لاؤ جو سامان میز پر ہونا چاہئے اُنہیں اُس پر رکھو تم شمعدان کو خیمہ میں رکھو ۔ شمعدان پر چراغوں کو ٹھیک جگہ پر رکھو ۔ 5 سونے کی قربان گاہ کو بخور کی نذر کے لئے خیمہ میں رکھو ۔ قربان گاہ کو معاہدہ کے صندوق کے سامنے رکھو تب پر دہ کو مُقدّس خیمہ کے داخل دروازہ پر لگاؤ ۔ 6 " جلانے کی قربانی کی قربان گاہ خیمہٴ اجتماع کی مُقدّس خیمہ کے داخلی دروازہ پر رکھو ۔ 7 سلفچی کو قربان گاہ اور خیمہٴ اجتماع کے بیچ میں رکھو ۔ سلفچی میں پانی بھرو ۔ 8 آنگن کے چاروں طرف پردے لگاؤ تب آنگن کے داخلہ کے دروازہ پر پردہ لگاؤ ۔ 9 " مسح کرنے کے تیل کو ڈال کر مُقدس خیمہ اور اُس کی ہر چیز پر چھڑ کو اور اُسے پاک کرو ۔ جب تم ان چیزوں پر تیل ڈالو گے تو تم انہیں پاک بناؤ گے ۔ 10 جلانے کا نذرانہ کے لئے قربان گاہ اور اسکے سارے برتنوں پر تیل چھڑکو ۔ پھر قربان گاہ کو مخصوص کرو ، اور یہ سب مقدّس بنا دیا جائے گا ۔ 11 تب سلفچی اور اسکے نیچے کی بنیاد پر تیل چھڑک کر رسم ادا کرو ۔ ایسا اُن چیزوں کو پاک کر نے کے لئے کرو ۔ 12 " ہارون اور اسکے بیٹوں کو خیمہٴ اجتماع کے داخلے کے دروازے پر لاؤ انہیں پانی سے نہلاؤ ۔ 13 تب ہارون کو خاص لباس پہناؤ ۔ تیل سے اُس کو چھڑک کر رسم ادا کرو اور اُسے پاک کرو تب وہ کاہن کے طور پر میری خدمت کر سکتا ہے ۔ 14 تب اس کے بیٹوں کو لباس پہناؤ ۔ 15 بیٹوں کو ویسا ہی مسح کرو جیسا کہ اس تیل سے مسح کیا تھا ۔ تب وہ بھی میری خدمت کاہن کے طور سے کر سکتے ہیں ۔ جب تم تیل سے انکا مسح کرو گے وہ کاہن ہو جائیں گے ۔اس طرح سے انکا خاندان ہمیشہ کے لئے کاہن ہوگا ۔" 16 موسیٰ نے خدا وند کے حکم کو مانا ۔ اس نے وہ سب کیا جس کا خدا وند نے حکم دیا تھا ۔ 17 اسی طرح ہی مقدس خیمہ مصر چھوڑنے کے دوسرے سال کے پہلے مہینے کے پہلے دن کھڑا کیا گیا ۔ 18 موسیٰ نے مقدس خیمہ کو خدا وند کے حکم کے مطابق کھڑا کیا ۔ پہلے اس نے بنیادوں کو رکھا تب بنیادوں پر تختوں کو رکھا پھر اس نے ڈنڈے لگائے اور کھمبوں کو کھڑا کیا ۔ 19 اُس کے بعد موسیٰ نے مقدس خیمہ کے اوپر غلاف رکھا اس کے بعد انہوں نے خیمہ کے غلاف پر دُوسرا غلاف رکھا اُس نے یہ خدا وند کے حکم کے مطابق کیا ۔ 20 موسیٰ نے معاہدہ کے اُن پتھّروں کے تختوں کو جن پر خدا وند نے احکام لکھے تھے صندوق میں رکھا ۔ موسیٰ نے ڈنڈوں کو صندوق کے چھلّوں میں لگایا تب اس نے سر پوش کو صندوق کے اوپر رکھا ۔ 21 تب موسیٰ صندوق کو مقدس خیمہ کے اندر لایا اور اس نے پردہ کو ٹھیک جگہ پر لٹکایا اس نے مقدس خیمہ میں معاہدہ کے صندوق کو ڈھانک دیا ۔ موسیٰ نے یہ چیزیں خدا وند کے احکام کے مطابق کیں ۔ 22 تب موسیٰ نے خاص روٹی کی میز کو خیمہٴ اجتماع میں رکھا ۔ اس نے اسے مقدس خیمہ کے شمال کی طرف رکھا اُس نے اسے پردہ کے سامنے رکھا ۔ 23 تب انہوں نے خدا وند کے سامنے میز پر روٹی رکھی اُس نے ویسا ہی کیا جیسا خدا وند نے حکم دیا تھا ۔ 24 پھر موسیٰ نے شمعدان کو خیمہٴ اجتماع میں رکھا ۔ اس نے شمعدان کو مقدس خیمہ کے جنوبی جانب میز کے پار رکھا ۔ 25 تب خدا وند کے سامنے موسیٰ نے شمعدان پر چراغ رکھے انہوں نے یہ خدا وند کے حکم کے مطا بق کیا ۔ 26 تب موسیٰ نے سونے کی قربان گاہ کو خیمہٴ اجتماع میں رکھا اس نے سونے کی قربان گاہ کو پردہ کے سامنے رکھا ۔ 27 پھر اس نے سونے کی قربان گاہ پر خوشبودار بخور جلایا ۔ اس نے یہ خدا وند کے حکم کے مطابق کیا ۔ 28 تب موسیٰ نے مقدس خیمہ کے داخلی دروازہ پر پردہ لگایا ۔ 29 موسیٰ نے جلانے کی قربان گاہ کو خیمہٴ اجتماع کے داخلی دروازہ پر رکھا ۔ پھر موسیٰ نے ایک جلانے کی قربانی اُس قربان گاہ پر چڑھائی اس نے اجناس کی قربانی بھی خدا وند کو چڑھائی اس نے یہ چیزیں خدا وند کے حکم کے مطابق کئے ۔ 30 پھر موسیٰ نے خیمہٴ اجتماع اور قربان گاہ کے بیچ سلفچی کو رکھا اور اس میں دھونے کے لئے پانی بھرا ۔ 31 موسیٰ ، ہارون اور ہارون کے بیٹوں نے اپنے ہاتھ اور پیر دھونے کے لئے اُس سلفچی کا استعمال کیا ۔ 32 وہ ہر دفعہ جب خیمہٴ اجتماع میں جاتے تو اپنے ہاتھ اور پیر دھو تے تھے ۔جب وہ قربان گاہ کے قریب جاتے تھے اس وقت بھی وہ ہاتھ اور پیر دھو تے تھے ۔ وہ اسے ویسا ہی کرتے تھے جیسا خدا وند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 33 پھر موسیٰ نے مقدس خیمہ کے آنگن کے اطراف پر دہ لگایا ۔ موسیٰ نے قربان گاہ کو آنگن میں رکھا تب اس نے آنگن کے داخلی دروازہ پر پردہ لگاا ۔ اُسی طرح موسیٰ نے وہ تمام کام پورے کئے ۔ 34 پھر بادل خیمہٴ اجتماع پر چھا گیا اور خدا وند کے جلال سے خیمہٴ اجتماع معمور ہو گیا ۔ 35 موسیٰ مقدس خیمہ میں اندر نہ جا سکا کیوں کہ خدا کے جلال سے مقدس خیمہ بھر گیا تھا اور بادل نے اس کو ڈھک لیا تھا ۔ 36 اُس بادل نے لوگوں کو بتا یا کہ اُنہیں کب چلنا ہے جب بادل مقدس خیمہ سے اٹھتا تو بنی اسرائیل چلنا شروع کر دیتے تھے ۔ 37 لیکن جب بادل مقدس خیمہ پر ٹھہرا رہتا تھا تو لوگ چلنے کی کوشش نہیں کر تے تھے ۔ وہ اُسی جگہ پر ٹھہرے رہتے تھے جب تک بادل مقدس خیمہ سے اٹھ نہیں جاتا تھا ۔ 38 اِس لئے دن کے دوران خدا وند کا بادل مقدس خیمہ کے اوپر رہتا تھا ۔ اور رات کے دوران بادل میں آ گ ہو تی تھی ۔ اِس لئے سبھی بنی اسرائیل سفر کر تے وقت بادل کو دیکھ سکتے تھے ۔

Leviticus 1

1 خدا وند خدا نے موسیٰ کو خیمہٴ اجتماع میں بلایا اور اُس سے کہا۔خدا وند نے کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں سے کہو تم لوگوں میں سے کو ئی جب خدا وند کے لئے نذرانہ لائے تو تمہیں ایک جانور بھیڑ کے ریوڑ یا مویشیوں کے جھنڈ سے لا نا چاہئے ۔ 3 اگر یہ جلا نے کا نذرانہ ہو اور یہ مویشیوں کے جھنڈ سے ہو تو یہ جانور بے عیب نر ہو نا چاہئے اور اس آدمی کو وہ جانور خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر لانا چاہئے ۔ تب خدا وند اس نذ رانہ کو قبول کرے گا ۔ 4 اس آدمی کو اپنا ہاتھ جانور کے سر پر رکھنا چاہئے ۔ خدا وند اس کے جلانے کے نذرانہ کو اسکے کفّارہ کے طور پر قبول کرے گا ۔ 5 " آدمی کو چاہئے کہ وہ بچھڑے کو خدا وند کے سامنے مارے ۔ ہارون کے بیٹوں کو بچھڑے کے خون لانا چاہئے اور اسے خیمہٴ اجتماع کے دروازوں پر قربان گاہ کے چاروں طرف چھڑکنا چاہئے ۔ 6 وہ چمڑا کو ہٹا ئے گا اور جانور کے باقی عضو کو ٹکڑے ٹکڑے میں کاٹے گا ۔ 7 ہارون کے کاہن بیٹوں کو قربان گاہ پر لکڑی اور آ گ تیار رکھنا چاہئے ۔ 8 ہارون کے کاہن بیٹوں کو ان ٹکڑوں کو سر اور چربی کے ساتھ لکڑی پر رکھنی چاہئے اس لکڑی کو قربان گاہ پر آ گ کے اوپر رکھنی چاہئے ۔ 9 کاہن کے جانور کے اندرونی حصو ں اور پیروں کو پانی سے دھو نا چاہئے ۔ پھر کاہن کو جانور کے تمام حصّوں کو قربان گاہ پر جلانا چاہئے یہی جلانے کی قربانی ہے ۔ اس کی بو خدا وند کو خوش کر تی ہے ۔ 10 " اور کوئی شخص بھیڑ کے ریوڑ سے کچھ چاہے وہ بھیڑ ہو یا بکری جلانے کے نذرانہ کے طور پر پیش کرے تو یہ جانور نر اور بے عیب ہونا چاہئے ۔ 11 اس آدمی کو قربان گاہ کے شمال کی جانب خدا وندکے سامنے جانور کو ذبح کرنا چاہئے ۔ ہارون کے کاہن بیٹوں کو قربان گاہ کے چاروں طرف اس کے خون کو چھڑکنا چاہئے ۔ 12 تب کاہن کو چاہئے کہ وہ اس جانور کو ٹکڑوں میں کاٹے اسے جانور کا سر اور چربی کو جلاون کے لکڑی کے اوپر رکھنا چاہئے جو قربان گاہ کی جلتی ہوئی آ گ پر ہوگی ۔ 13 کاہن کو جانور کے اندرونی حصّوں کو اور اسکے پیروں کو دھونا چاہئے ۔ تب ان سارے حصّوں کو چڑھا نا اور قربان گاہ پر جلانا چاہئے ۔ یہ جلانے کا نذرانہ ہے۔ یہ تحفہ ہے اور اس کی بو خدا وند کو خوش کرے گی ۔ 14 " اگر کوئی شخص ایک چڑیا کو جلانے کا نذرانہ کے لئے اپنی قربانی کے طور پر خدا وند کو پیش کرے تو چڑیا چاہے تو فاختہ یا کبوتر کا بچّہ ہو نا چاہئے ۔ 15 کاہن نذر کئے گئے چڑیا کو قربان گاہ پر لے آئیگا ۔ کا ہن پرندے کے سر کو الگ کرے گا ۔ تب پرندے کو قربان گاہ پر جلائے گا ۔ پرندے کا خون قربان گاہ کی پہلو کی طرف بہنا چاہئے ۔ 16 کاہن کو پرندہ کے دانے کی تھیلی کو پَر کے ساتھ الگ کر کے قربان گاہ کے مشرق کی جانب پھینک دینا چاہئے ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں وہ قربان گاہ سے راکھ نکال کر پھینکتے ہیں ۔ 17 " تب کاہن کو پروں کے پاس سے پرندہ کو چیرنا چاہئے لیکن پرندہ کو دو حصّوں میں جدا جدا کرنا نہیں چاہئے ۔ کاہن کو چاہئے اسے قربان گاہ پر رکھی ہوئی جلاون کی لکڑی پر پرندہ کو جلانا چاہئے ۔ جلانے کی قربانی ایک تحفہ ہے اور اس کی بُو سے خدا وند کو خوشی ہوتی ہے ۔

Leviticus 2

1 " اگر کو ئی شخص خدا وند کو اناج کا نذرانہ پیش کرنا چاہتا ہے ۔ تو یہ باریک آٹا کا ہونا چاہئے ۔ آٹا میں تیل ڈالنے کے بعد اس میں لوبان ڈالنا چاہئے ۔ 2 تب اس شخص کو اسے ہارون کے کاہن بیٹوں کے پاس لانا چاہئے ۔ وہ شخص تیل اور لوبان سے مِلا ہوا ایک مٹھی باریک آٹا لے ۔ اور اُسے کاہن کے پاس اِسے قربان گاہ پر تحفے کے طور پر پیش کرنا چاہئے ۔ اور اُس کی بُو خدا وند کو خوش کریگی ۔ 3 اناج کی قربانی کا باقی بچا ہوا حصّہ ہارون اور ا ن کے بیٹوں کی ہوگی ۔ خدا وند کو پیش کئے گئے تحفوں میں سے یہ سب سے زیادہ مقدس ہے ۔ 4 " اگر تم اناج کا نذرانہ لاؤ تو تمہیں تنور میں پکی ہوئی روٹی یا تیل مِلا ہوا باریک آٹا سے بنی ہوئی بغیر خمیری روٹی یا تیل لگائی ہوئی بغیر خمیر کی روٹی ہونی چاہئے ۔ 5 اگر تم تلنے کی کڑھائی سے اناج کی قربانی لاتے ہو تو یہ تیل ملا ہوا بغیر خمیر کے باریک آٹا ہونا چاہئے ۔ 6 پہلے تمہیں اسے کئی حصّوں میں بنا نا چاہئے اور تب اس پر تیل لگا نا چاہئے۔ یہ ایک اناج کا نذرانہ ہے۔ 7 اگر تم اجناس کی قربانی تلنے کی کڑھا ئی سے لا تے ہو تو یہ تیل ملے باریک آٹے کی ہو نی چاہئے ۔ 8 تم ان چیزوں سے بنی اجناس کی قربانی خداوند کے لئے لا ؤ گے تم ان چیزوں کو کا ہن کے پاس لے جا ؤگے اور وہ اُسے قربان گاہ پر رکھے گا ۔ 9 تب کا ہن کو اناج کے نذرانے کی یاد گار حصّہ لینا چاہئے او اسے قربان گا ہ پر تحفے کے طور پر پیش کر نا چاہئے۔ اور اس کی بُو خداوند کو خوش کریگی ۔ 10 باقی اناج کی قربانی ہا رون اور اس کے بیٹوں کی ہو گی ۔ یہ قربانی خداوند کو آ گ سے چڑھا ئی جانے وا لی قربانیوں میں بہت پاک ہو گی ۔ 11 " تمہیں خداوند کو خمیر وا لی اناج کی کو ئی قربانی نہیں چڑھانی چاہئے ۔ تمہیں خداوند کے تحفے کو طور پر پیش کر نے کے لئے خمیری یا شہد نہیں جلانا چاہئے ۔ 12 تم اُسے پہلے پھل سے خداوند کو پیش کر نے کے لئے لا سکتے ہو۔ لیکن انہیں خداوند کو خوش کر نے کے لئے نذرانہ کے طور پر خوشبو کے ساتھ قربان گا ہ پر پیش نہیں کر نا چاہئے ۔ 13 تمہیں اپنی لا ئی ہو ئی ہر ایک اناج کی قربانی پر نمک بھی رکھنا چا ہئے ۔ تمہیں اپنے سارے اناج کے نذرانوں میں خدا کے معاہدہ کا نمک استعمال کر نا چاہئے ۔ تمہیں اپنی سب قربانیوں کے ساتھ نمک لا نا چاہئے ۔ 14 " اگر تم پہلی فصل سے خداوند کے لئے اناج کی قربانی لا تے ہو تو تمہیں بھُنے ہو ئے نذرانے لا نے چاہئے ۔ یہ نیا مَلا ہوا اناج ہو نا چاہئے ۔ یہ پہلی فصل سے اناج کی قربانی ہو گی ۔ 15 تمہیں اُس پر تیل ڈالنا اور لو بان رکھنا چاہئے یہ اناج کی قربانی ہے ۔ 16 کا ہن کو چاہئے کہ وہ مَلے ہو ئے اناج کا یادگاری نذرانہ اور اس کے لوبان کے ساتھ اس کا تیل لے ۔ یہ خداوند کے لئے تحفہ ہے۔

Leviticus 3

1 " اگر ایک شخص ہمدردی کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو اسے جانور کے گلّہ سے ایک جانور خداوند کے سامنے لا نا چاہئے ۔ یہ نر یا ما دہ ہو سکتا ہے اور یہ بے عیب ہونا چاہئے ۔ 2 اس شخص کو اپنا ہا تھ اپنے نذرانے کے سر پر رکھنا چا ہئے ۔ اور اسے خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر ذبح کرنا چا ہئے ۔ اور ہا رون کے کا ہن بیٹوں کو خون لے کر قربا ن گاہ کے چاروں طرف چھڑکنا چا ہئے ۔ 3 اس شخص کو کچھ ہمدردی کا نذرانہ تحفے کے طور پر خداوند کو پیش کرنا چاہئے ۔ قربانی کے لئے پیش کر نے وا لے سامان میں اندرونی حصّہ میں پا ئے جانے وا لی چربی اور اندرونی حصّہ کو ڈھکنے وا لی چربی بھی شامل ہونی چاہئے 4 دونوں گردے اور اس کو ڈھکنے والی چربی اور وہ چر بی جو پٹھّے پر ہے ، اور کلیجہ کو ڈھانکنے وا لی چربی کو بھی نکال دینی چاہئے ۔ 5 پھر ہا رون کے بیٹے چربی کو قربان گا ہ پر جلانے کے نذرانے کے اوپر جو کہ لکڑی کے اوپر رکھی ہو ئی ہے جلا ئینگے ۔ یہ ایک تحفہ ہے اور اس کی خوشبوخداوند کو خوش کریگی ۔ 6 " اگر کو ئی ِ شخص ا پنے ریوڑ سے خدا وند کو ہمدردی کا نذرانہ پیش کر نے کے لئے لاتا ہے چاہے جانور نر ہو یا مادہ بے عیب ہونا چاہئے ۔ 7 اگر وہ قربانی کے لئے ایک میمنہ لاتا ہے تو اسے خدا وند کے سامنے لانا چاہئے ۔ 8 اسے اپنا ہاتھ جانور کے سر پر رکھنا چاہئے اور خیمہٴ اجتماع کے سامنے اسے ذبح کرنا چاہئے ۔ تب ہارون کے بیٹے کو قربان گاہ پر چاروں طرف اس کا خون چھڑکنا چاہئے ۔ 9 جب وہ شخص کچھ ہمدردی کا نذرانہ تحفے کے طور پر خدا وند کو پیش کرتا ہے تو اس شخص کو چربی اور چربی سے بھری دُم اور جانور کے اندرونی حصّوں کے اوپر اور چاروں طرف کی چربی لانی چاہئے ۔ اسے اس دُم کو ریڑھ کی ہڈی کے بالکل قریب سے کاٹنا چاہئے ۔ 10 اس شخص کو دونوں گردوں اور انہیں ڈھکنے والی چربی اور پٹھے کی چربی بھی نذر میں چڑھانی چاہئے ۔ اسے کلیجہ کی جھلی کو ڈھکنے والی چربی بھی قربانی کے لئے چڑھانی چاہئے ۔ اسے گردوں کے ساتھ کلیجہ کی جھلّی کو نکال لینا چاہئے ۔ 11 تب کاہن قربان گاہ پر ان سب کو غذا کے طور پر جلائے گا ۔ یہ خدا وند کا تحفہ ہے ۔ 12 " اگر اس کی قربانی ایک بکرا ہے تو وہ اسے خدا وند کے سامنے نذر کرے ۔ 13 اس کو بکرے کے سر پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہئے اور خیمہٴ اجتماع کے سامنے اسے ذبح کرنا چاہئے ۔ تب ہارون کے بیٹے اس کا خون قربان گاہ پر چاروں طرف چھڑکیں گے ۔ 14 تب اس کا کچھ حصّہ اندرونی حصّہ کو ڈھکنے والی چربی کے ساتھ خدا وند کے لئے نذرانہ کے طور پر لانا چاہئے ۔ 15 اسے دونوں گردوں کو ڈھکنے والی چربی ، دونوں گردوں اور جانور کے پٹھے کی چربی نذر میں چڑھانی چاہئے ۔ اسے کلیجے کی جھلی اور گردوں کو تحفہ کے طور پر لانا چاہئے ۔ 16 کاہن کو قربان گاہ پر ان سب کو جلانا چاہئے ۔ یہ خدا وند کے لئے غذا اور تحفہ ہوگا ۔ اس کی بُو خدا وند کو خوش کرتی ہے ۔ ساری چربی خدا وند کا ہے ۔ 17 یہ شریعت تمہاری سبھی نسلوں میں ہمیشہ چلتی رہے گی تم جہاں کہیں بھی رہو ۔ تمہیں خون یا چربی نہیں کھانی چاہئے ۔"

Leviticus 4

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا : 2 " بنی اسرائیلیوں سے کہو اگر کو ئی شخص غیر ارادی طور پر گناہ کر لیتا ہے جس کو خداوند کے حکم کے مطا بق نہیں کر نا چاہئے ۔ تو اُ سے یہ چیزیں کر نی چاہئے : 3 " اگر ایک منتخب کا ہن کو ئی ایسا گناہ کر تا ہے جو لوگوں کو قصوروار بنا دیتا ہے ، تب اسے خداوند کو گنا ہ کے نذرانے کے طور پر قربانی پیش کر نا چاہئے ۔اسے ایک سانڈ خدا وند کو پیش کرنا چاہئے اور یہ بے عیب ہونا چاہئے ۔ یہ خدا وند کے لئے گناہ کا نذرانہ ہوگا ۔ 4 منتخب کاہن کو اُس سانڈ کو خدا وند کے سامنے خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر لانا چاہئے ۔ اُسے اپنا ہاتھ اس بچھڑے کے سر پر رکھنا چاہئے اور خدا وند کے سامنے اسے ذبح کر نا چاہئے ۔ 5 تب منتخب کاہن کو بچھڑے کا خون لینا چاہئے اور خیمہٴ اجتماع میں لے جانا چاہئے۔ 6 تب کاہن کو اپنی انگلیاں خون میں ڈبونی چاہئے اور خدا وند کے سامنے مقدس ترین پردے کی جگہ کے آگے خون کو سات دفعہ چھڑکنا چاہئے۔ 7 کاہن کو کچھ خون لوبان جلانے کی قربان گاہ کے کونوں پر لگانا چاہئے ۔ یہ خدا وند کے خیمہٴ اجتماع میں ہے ۔ کاہن کو بچا ہوا خون جلانے کے نذرانے کی قربان گاہ کی بنیاد پر ڈالنا چاہئے جو کہ خیمہٴ اجتماع کے دروازوں پر ہے ۔ 8 اور اسے گناہ کے نذرانہ کے سانڈ کی تمام چربی کو نکال لینا چاہئے ۔ اسے اندرونی حصوں کے اوپر اور اسکے چاروں طرف کی چربی کو بھی نکال لینی چاہئے ۔ 9 اسے دونوں گردوں اور اسکے اوپر کی چربی اور پٹھے پر کی چربی کو بھی نکال لینا چاہئے ۔ اسے کلیجہ پر کی جھلّی کو بھی گردوں کے ساتھ نکال لینا چاہئے ۔ 10 جب یہ ساری چیزیں ہمدردی کے نذرانے کے سانڈ سے نکال لی جاتی ہے تو کاہن کو انہیں جلانے کے نذرانے کے قربان گاہ پر پیش کرنا چاہئے ۔ 11 لیکن کاہن کو سانڈ کا چمڑا ، سر سمیت اس کا تمام گوشت ، پیر، اندرونی حصّہ اور گوبر ، 12 یعنی کہ یہ سانڈ کا پورا جسم خیمہ کے باہر کھلی ہوئی صاف جگہ میں جہاں پر راکھ پھینکا جاتا ہے لانا چاہئے ۔ یہ تمام چیزیں راکھ کے ڈھیر پر جلاون کی لکڑی پر جلانا چاہئے ۔ 13 " ایسا ممکن ہے کہ پورے ملک اسرائیل سے انجانے میں کوئی ایسا گناہ ہوجائے جسے نہ کرنے کا حکم خدا وند نے دیا ہو ۔ اس طرح سے وہ قصوروار سمجھا جائے گا ۔ 14 جب اسے بعد میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ گناہ کیا ہے ۔ تو پورے ملک کے لئے ایک سانڈ گناہ کے نذرانے کے طور پر قربانی کرنی چاہئے ۔ انہیں اسے خیمہٴ اجتماع کے سامنے لانا چاہئے ۔ 15 بزرگوں کو خدا وند کے سامنے سانڈ کے سر پر اپنے ہاتھ رکھنے چاہئے ۔ انہیں خدا وند کے سامنے سانڈ کو ذبح کرنا چاہئے ۔ 16 تب منتخب کاہن کو سانڈ کا کچھ خون خیمہٴ اجتماع میں لانا چاہئے ۔ 17 کاہن کو اپنی انگلیاں خون میں ڈبونی چاہئے اور پردے کے آگے سات بار خون کو خدا وند کے سامنے چھڑکنا چاہئے ۔ 18 تب کاہن کو کچھ خون قربان گاہ کے کونوں پر رکھنا چاہئے وہ قربان گاہ خیمہٴ اجتماع میں خدا وند کے سامنے ہے ۔ کاہن کو بچا ہوا خون جلانے کی قربان گاہ کی بنیاد پر ڈالنا چاہئے ۔ وہ جلانے کے نذرانے کی قربان گاہ ہے جو خیمہٴ اجتماع کے دروازے کے سامنے ہے ۔ 19 پر کاہن کو جانور کی تمام چربی نکال لینی چاہئے اور اسے قربان گاہ پر پیش کرنا چاہئے ۔ 20 اس سانڈ کے ساتھ ویسا ہی کیا گیا ہے جیسا کہ گناہ کے نذرانے کی قربانی پیش کئے گئے سانڈ کے ساتھ کیا گیا تھا ۔ اس سانڈ کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا ۔ اس طرح سے کاہن انکے لئے کفارہ دے ۔ ان لوگوں کے لئے اس کو معاف کیا جائے ۔ 21 کاہن سانڈ کو چھاؤنی سے باہر لے جائے گا اور اسے وہاں جلائے گا جیسا کہ اس نے پہلے سانڈ کو جلایا تھا ۔ یہ پوری جماعت کے گناہ کا نذرانہ ہے ۔ 22 " ممکن ہے کہ کوئی حاکم انجانے میں گناہ کر سکتا ہے جسے خدا وند کے حکم کے مطابق نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ اس حالت میں حاکم بھی قصوروار ہے ۔ 23 جب اسے یہ پتا چلے گا کہ اس نے گناہ کیا ہے تو اسے ایک بکرا جو کہ بے عیب ہو لانا چاہئے ۔اور یہ اس کا نذرانہ ہوگا ۔ 24 حاکم کو بکرے کے سرپر اپنا ہاتھ رکھنا چاہئے اور اسے اس جگہ پر ذبح کرنا چاہئے ۔ جہاں وہ جلانے کی قربانی کو خدا وند کے سامنے ذبح کرتے ہیں ۔ بکرے کی قربانی ایک گناہ کا نذرانہ ہے ۔ 25 " کاہن کو گناہ کے نذرانے کا کچھ خون اپنی انگلیوں میں لینا چاہئے اور اسے جلانے کے نذرانے کی قربان گاہ کے سینگوں پر رکھنا چاہئے ۔ کاہن کو باقی بچے خون جلانے کے نذرانے کی قربان گاہ کی بنیاد میں ڈالنا چاہئے 26 کاہن کو پوری چربی قربان گاہ پر ہمدردی کے نذرانے کے طریقے پر جلانا چاہئے ۔ اس طرح سے کاہن اس کے لئے اس کے گناہ کا کفارہ ادا کرتا ہے اور اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ۔ 27 ممکن ہے عام رعایا میں سے کوئی شخص انجانے میں گناہ کر سکتا ہے جسے خدا وند نے نہ کرنے کا حکم دیا ہو ۔ اور وہ قصور وار ہوجاتا ہے ۔ 28 جب اس کو گناہ کا پتا چلے گا ۔ تو وہ ایک بے عیب بکری لائے ۔ یہ انکے گناہ کے لئے نذرانہ ہوگا ۔ 29 اسے اپنا ہاتھ اس جانور کے سر پر رکھنا چاہئے ۔ اور جلانے کی قربانی کی جگہ پر اسے ذبح کرنا چاہئے ۔ 30 تب کاہن کو اس بکری کا کچھ خون اپنی انگلی پر لینا چاہئے اور اسے جلانے کے نذرانے کے قربان گاہ کی سینگوں پر چھڑکنا چاہئے ۔ کاہن کو قربان گاہ کی بنیاد پر بکری کا باقی تمام خون اُنڈیلنا چاہئے ۔ 31 پھر کاہن کو بکری کی تمام چربی اسی طرح نکالنی چاہئے جس طرح ہمدردی کے نذرانہ سے نکالی گئی تھی ۔ تب کاہن کو اسے قربان گاہ پر جلانا چاہئے ۔ اس کی بُو خدا وند کو خوش کر تی ہے ۔ اس طرح کاہن اس کے لئے کفارہ ادا کرتا ہے ۔ اور اس کے گناہ کو معاف کیا جاتا ہے ۔ 32 اگر کوئی شخص گناہ کے نذرانہ کے طور پر ایک میمنہ لاتا ہے تو اسے مادہ میمنہ لانا چاہئے جس میں کوئی عیب نہ ہو ۔ 33 اس شخص کو اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہئے اور اسے اس جگہ پر گناہ کے نذرانہ کے طور پر ذبح کرنا چاہئے ۔ جہاں وہ جلانے کی قربانی کے جانور کو ذبح کئے ۔ 34 کاہن کو اپنی انگلی پر گناہ کے نذرانے کا خون لینا چاہئے اور اسے جلانے کی قربان گاہ کے سینگوں پر چھڑکنا چاہئے ۔ تب اسے باقی بچے ہوئے تمام خون کو قربان گاہ کی بنیاد پر اُنڈیلنا چاہئے ۔ 35 کاہن کو تمام چربی اسی طرح لینی چاہئے جس طرح ہمدردی کی قربانی کے میمنہ کی چربی لی گئی تھی ۔ تب کاہن ان تمام چیزوں کو خدا وند کے لئے تحفہ کے طور پر قربان گاہ پر جلائے ۔ اس طرح کاہن اس کے گناہوں کا جو اس نے کیا تھا کفارہ ادا کر تا ہے اور اسکے گناہ کو معاف کر دیا جاتا ہے ۔

Leviticus 5

1 " اگر کسی شخص کو عدالت میں جو کچھ اس نے دیکھا یا سُنا ہے اس کی گواہی دینے کے لئے بلا یا جا تا ہے لیکن وہ نہیں بتا تا ہے تو وہ گناہ کرتا ہے ۔ اور وہ قصوروار ہے ۔ 2 اگر کو ئی شخص کسی نا پاک چیز کو چھو تا ہے ، مثال کے طور پر وہ کسی ناپاک مخلوق کے مردہ جسم کو چھو تا ہے چاہے وہ نا پاک جانور کا مردہ جسم ہو یا رینگنے وا لے نا پاک جانور کا مردہ جسم ہو اور اگر وہ شخص اس چیز کے با رے میں بے خبر ہے تو بھی وہ نا پاک اور قصووار ہے ۔ 3 یا اگر وہ شخص کسی انسانی نجاست کو کو ئی بھی چیز جو اسے ناپاک کر سکتا ہے اسے چھو تا ہے اور اگر وہ اس کو نہیں جانتا ہے ، لیکن جب وہ اس کے با رے میں جان جاتا ہے تو وہ قصوروار ہے ۔ 4 یا اگر کو ئی شخص جلدبازی میں کچھ بھی اچھا ہو یا بُرا ، لوگوں کے لئے پورا کر نے کا وعدہ کرتا ہے ۔ اگر وہ ا س طرح کا وعدہ کرتا ہے اور اِسے پو را کرنا بھو ل جاتا ہے اور اگر وہ اپنے وعدہ کو بعد میں پو را کرتا ہے تو قصوروار ہے ۔ 5 اگر وہ شخص اس طرح کی حرکت کا قصور وار ہے توا سے اپنی بُرا ئی قبول کرنی چاہئے ۔ 6 اُس نے جو گناہ کیا ہے اس کے لئے جرم کا نذرانہ خداوند کے لئے ضرور لانا چاہئے ۔ اپنے جھنڈ میں سے ایک مادہ جانور ۔ یہ جھنڈ کے بکری یا میمنہ ہو سکتا ہے ۔ کا ہن اس گناہ اور اس کے لئے کفّارہ ادا کر تا ہے ۔ 7 " اگر کو ئی شخص جرم کے نذرانہ کے طور پر میمنہ پیش کر نے کی استطاعت نہ رکھ سکتا ہو تو وہ قربانی کے طور پر دو فاختہ یا دو کبوتر پیش کر سکتا ہے ۔ ایک چڑیا گناہ کا نذرانہ اور دوسرا جلانے کا ندرانہ ہے ۔ 8 اس شخص کو چاہئے کہ وہ اُن پرندوں کو کاہن کے پاس لا ئے ۔ کا ہن کو پہلے گناہ کی قربانی کے طور پر ایک پرندہ کو چڑھانا چاہئے ۔ کاہن اس کے گردن کو موڑ دے گا لیکن کا ہن اس کو دو حصّوں میں نہیں بانٹے گا ۔ 9 پھر کا ہن گنا ہ کی قربانی کے کچھ خون کوقربانگاہ کے کو نوں پر چھڑکے گا ۔ پھر کاہن کو بچا ہوا خون قربان گا ہ کی بُنیاد پر ڈالنا چا ہئے ۔ یہ گنا ہ کی قربانی ہے ۔ 10 پھر کا ہن کو جلانے کی قربانی کے طور پر دوسرے پرندے کی قربانی چڑھانی چاہئے ۔ اور کا ہن اس کے لئے اس نے جو گنا ہ کیا ہے اس کا کفّارہ ادا کرتا ہے اور اس کا گناہ معاف کر دیا جا تا ہے ۔ 11 " اگر کو ئی شخص دو فاختہ یا دو کبوتر قربانی کے طور پر ہیش کر نے کی استطا عت نہ رکھ سکتا ہو تو ا سے آ ٹھ پیالے با ریک آٹا لا نا چاہئے ۔ یہ اُ سکے گنا ہ کی قربانی ہو گی ۔ اُس آدمی کو آٹے پر تیل نہیں ڈالنا چا ہئے اسے اُ س پر لوبان نہیں رکھنا چا ہئے کیوں کہ یہ گناہ کی قربانی ہے ۔ 12 اس شخص کو باریک آٹا کا ہن کے پاس لا نا چا ہئے ۔ کا ہن اُ سمیں سے مٹھی بھر آٹا نکا لے گا ۔ یہ یادگار نذرانہ ہو گا ۔ کا ہن خدا وند کے لئے باریک آٹا کا تحفہ ساتھ جلا ئے گایہ گناہ کی قربانی ہے ۔ 13 اِس طرح کاہن اس کے لئے اس نے جو گناہ کیا ہے اس کا کفارہ ادا کریگا اور اس کا گناہ معاف کر دیا جائے گا ۔ گناہ کی قربانی کا بچا ہوا حصّہ کا ہن کا ہوگا ویسا ہی جیسے اجناس کی قربانی ہوتی ہے " 14 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 15 " اگر کو ئی شخص انجانے میں خدا وند کی مقدس چیزوں کے تعلق سے کو ئی غلطی کر تا ہے تو اس کو جھنڈ سے ایک نر مینڈھا لانا چاہئے ۔ یہ بے عیب ہونا چاہئے ۔ یہ مینڈھا خدا وند کے لئے جرم کی قربانی کے طور پر پیش کیا جائے گا ۔ تمہیں اس مینڈھے کی قیمت کا تعین سرکاری ناپ کے مطابق کرنا چاہئے ۔ 16 اسے مقدس چیزوں کے لئے جسے اس نے لیا ہے ضرور ادا کر نا چاہئے ۔ اُس کو اس قیمت میں اسکی قیمت کا پانچواں حصہ ملانا چاہئے اور اُسے کاہن کو دینا چاہئے ۔ اِس طرح کاہن جرم کی قربانی کے مینڈھے کے ساتھ اُس کے لئے کفارہ ادا کریگا ۔ اور وہ معاف کر دیا جائے گا ۔ 17 "اگر کو ئی شخص گناہ کرتا ہے اور جن چیزوں کو نہ کرنے کا حکم خدا وند نے دیا ہے وہ اُنہیں کرتا ہے حالانکہ وہ اس سے با خبر بھی نہیں ہے ۔ وہ شخص قصور وار ہے اور اپنے گناہ کا وہ خود ذمّہ دار ہے ۔ 18 اس شخص کو اپنے ریوڑ سے ایک مینڈھا لانا چاہئے ۔ مینڈھا بے عیب اور صحیح قیمت کا ہونا چاہئے ۔ اور اسے جرم کی قربانی کے طور پر قربانی دو ۔ اسے مینڈھا کو کاہن کے پاس لانا چاہئے ۔ اِسے قربانی دیکر کاہن اس شخص کے اُس گناہ کے لئے کفّارہ ادا کریگا جسے بغیر ارادہ کے اور انجانے میں کیا تھا ۔ اور اسے معاف کر دیا جائے گا ۔ 19 یہ جرم کی قربانی ہے ۔ جسے وہ پیش کرتا ہے جب وہ خدا وند کے سامنے قصوروار ہے ۔

Leviticus 6

1 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " کو ئی شخص مندر جہ ذیل میں سے کوئی بھی حرکت کر کے خدا وند کے خلاف گناہ کر تا ہے : وہ اپنے پڑوسی کو اسکی امانت کی چیزوں کو خود اپنے پاس رکھ کر کے یا چُراکر کے یا اسکو واپس دینے سے انکار کر کے دھوکہ دیتا ہے ۔ 3 یا وہ کسی بھی کھوئی ہوئی چیز پاتا ہے اور اس سے انکار کر تا ہے ، اور وہ ان سب چیزوں کے بارے میں جسے کہ لوگ کرتے ہیں جھوٹی قسم کھا سکتا ہے ۔ " 4 اگر کوئی شخص ان غلطیوں میں سے کو ئی غلطی کرتا ہے تو وہ قضور وار ہے ۔ اسے ان چیزوں کو جسے اس نے چرایا ہے ، یا ان چیزوں کو جسے کسی کو دھو کہ دیکر لیا ہے ، یا امانت جسے اس کے پاس رکھی گئی تھی یا گم شدہ سامان جسے اس نے پایا ہے اُسے ضرور واپس کرنا چاہئے ۔ 5 یا اگر وہ کسی سے جھو ٹا وعدہ کیا تھا تو اسے ضرور ادا کرنا چاہئے اور اسے مالک کو نقصان کا پانچواں حصّہ اپنے جرم کی قربانی کے دن ادا کر نا چاہئے ۔ 6 "اس شخص کو جر م کی قربانی خدا کے حضور ادا کر نا چاہئے ۔یہ اسکے ریوڑ کا ایک مینڈھا ہو نا چاہئے ۔ مینڈھے میں کوئی عیب نہیں ہونا چاہئے ۔ یہ اتنی قیمت کی ہونی چاہئے جو کاہن جرم کی قربانی کے لئے طئے کرے ۔ 7 کاہن اس کے لئے خدا وند کے سامنے کفّارہ ادا کرے گا اور اسے جو کسی بھی چیز کے لئے قصور وار کا سبب بنتا ہے معاف کیا جائے گا ۔ " 8 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 9 " ہارون اور اُس کے بیٹوں کو یہ حکم دو : جلانے کی قربانی کی شریعت یہ ہے : قربانی کا سامان قربان گاہ پر ساری رات صبح تک رہنا چاہئے ۔ قربان گاہ پر آ گ جلتی رہنی چاہئے ۔ 10 کاہن کو کتانی لباس پہننا چاہئے ۔ اسے زیر جامہ جیسا لباس بھی پہننا چاہئے۔ اسے جلانے کا نذرانہ پیش کر نے کے بعد قربان گاہ پر بچے راکھ کو ہٹانا چاہئے ۔ اسے قربان گاہ کے آگے راکھ کو رکھنا چاہئے ۔ 11 پھر کاہن کو اپنے لباس اتار نا چاہئے اور دُوسرا لباس پہننا چاہئے ۔ پھر اُسے راکھ کو خیمہ سے باہر صاف جگہ پر لے جانا چاہئے ۔ 12 لیکن قربان گاہ کی آ گ قربان گاہ پر لگاتار جلتی رہنی چاہئے ۔ اُسے بجھنے نہیں دینا چاہئے ۔ کاہن ہر صبح قربان گاہ پر جلاون کی لکڑی جلانی چاہئے ۔ اُسے قربان گاہ پر جلانے کے نذرانہ کو رکھنا چاہئے اور ہمدردی کی قربانی کی چربی جلانی چاہئے ۔ 13 قربان گاہ پر آ گ مسلسل جلتی رہنی چاہئے بجھنی نہیں چاہئے ۔ 14 " اناج کی قربانی کی شریعت یہ ہے : ہارون کی نسل کو اسے قربان گاہ کے آگے خدا وند کے سامنے لانا چاہئے ۔ 15 کاہن کو اناج کی قربانی میں سے مٹھی بھر باریک آٹا کچھ تیل اور سارے لوبان کے ساتھ لینا چاہئے اسے اسکو یاد گاری نذرانہ کے طور پر قربان گاہ پر جلانا چاہئے ۔ اور اسکی بُو خدا وند کو خوش کرے گی ۔ 16 " ہارون اور اسکے بیٹوں کو بچی ہوئی اناج کی قربانی کو کھانا چاہئے ۔ کاہن کو بغیر خمیر کی روٹی کو کسی دوسرے مقدس جگہ میں کھانا چاہئے ۔ انہیں اسے خیمہٴ اجتماع کے آنگن میں کھانا چاہئے ۔ 17 اناج کی قربانی کا یہ حصہ خمیر کے ساتھ نہیں پکانی چاہئے ۔ اپنے کچھ تحفے میں نے انہیں دیدیا ۔ یہ گناہ کے نذرانے اور جرم کے نذرانے کی طرح سب سے مقدس چیز ہے ۔ 18 ہارون کی نسلوں میں سے کوئی بھی آدمی اس سے کھا سکتا ہے ۔ تمہاری نسلوں کے لئے یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے ۔ جو کوئی بھی اس قربانی کو چھو ئے اس کا مقدس ہونا ضروری ہے ۔ " 19 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 20 " ہارون اور اسکے بیٹوں کو اس دن جس دن اسے تیل چھڑک کر مسح کیا گیا تھا یہ سب چیزیں خدا وند کو پیش کر نے کے لئے لانا چاہئے ۔ انہیں آٹھ پیالے باریک آٹا اناج کے نذرانے کے طور پر لینا چاہئے ۔ اسکا آدھا مقدار صبح اور آدھا مقدارشام میں لانا چاہئے ۔ 21 اسے ملانا چاہئے اور پھر اسے تلنے کے لئے کڑھائی میں تیل سے تلنا چاہئے ۔یہ ٹکڑا ٹکڑا ہوجانا چاہئے ۔ اور پھر اسے اناج کے نذرانے کی طرح پیش کر نا چاہئے ۔ یہ خدا وند کے لئے خوشگوار خوشبو ہے ۔ 22 " ہارون کی نسلوں میں سے وہ کاہن جسے ہارون کی جگہ مسح کیا جا رہا ہے اناج کا نذرانہ پیش کرنا چاہئے ۔ یہ ایک اصول ہمیشہ کے لئے ہے کہ خدا وند کے لئے اناج کی قربانی پوری طرح جلائی جانی چاہئے ۔ 23 کا ہن کی ہر ایک اناج کی قربانی جلائی جانی چاہئے اُسے کھانا نہیں چاہئے ۔" 24 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 25 " ہارون اور اس کے بیٹوں سے کہو : گناہ کی قربانی کے لئے یہ اصول ہے کہ گناہ کی قربانی کو بھی وہیں ذبح کیا جائے جہاں خدا وند کے سامنے جلانے کی قربانی کو ذبح کیا جاتا ہے ۔ یہ سب سے زیادہ مقدس ہے ۔ 26 جو کاہن گناہ کا نذرانہ پیش کر تا ہے اسے اسکو خیمہٴ اجتماع کے آنگن میں کھانا چاہئے جو کہ مقدس جگہ ہے ۔ 27 اگر کوئی شخص گناہ کی قربانی کے گوشت کو چھو تا ہے تو اسے اپنے آپکو مقدس کرنا چاہئے ۔ " اگر اسکا خون کسی کے کپڑوں پر چھڑکا جا تا ہے تو اسے مقدس جگہ میں دھونا چاہئے ۔ 28 اگر گناہ کی قربانی کسی مٹی کے برتن میں اُبالی جائے تو اس برتن کو پھوڑ دینا چاہئے ۔ اگر گناہ کی قربانی کو کانسے کے برتن میں اُبالا جائے تو بر تن کو مانجھا جائے اور پانی میں دھویا جائے ۔ 29 " کاہن کے خاندان کا سارا آدمی گناہ کی قربانی کے گوشت کو کھا سکتا ہے یہ سب سے زیادہ مقدس ہے ۔ 30 اگر گناہ کی قربانی کا خون مقدس جگہ میں کفارہ ادا کرنے کے لئے خیمہٴ اجتماع میں لے جایا گیا ہو تو قربانی دیئے گئے گوشت کو آ گ میں جلا دینا چاہئے ۔ کاہن اس گناہ کی قربانی کو نہیں کھا سکتا

Leviticus 7

1 " گناہ کی قربانی کے لئے یہ اصول ہے یہ بہت ہی مقدس ہے ۔ 2 کاہن کو جرم کی قربانی کو اس جگہ پر ذبح کرنا چاہئے جس پر وہ جلانے والی قربانیوں کو ذبح کرتا ہے ۔ کاہن کو جرم کی قربانی کا خون قربان گاہ کے چاروں طرف چھڑکنا چاہئے ۔ 3 " کاہن کو گناہ کی قربانی کی تمام چربی چڑھانی چاہئے اسے چربی بھری دُم اندرونی حصّوں کو ڈھکنے والی چربی ، 4 دونوں گردے اور اسکے چاروں طرف کی چربی ، پٹھے کی چربی اور کلیجے کی چربی قربانی کے لئے چڑھانی چاہئے ۔ 5 کاہن کو قربان گاہ پر ان تمام چیزوں کو جلانا چاہئے ۔ یہ تحفہ ہے جو کہ خدا وند کو پیش کیا گیا ۔ یہ جرم کی قربانی ہے ۔ 6 " ہر ایک مرد جو کاہن ہے جرم کی قربانی کھا سکتا ہے ۔ یہ بہت ہی مقدس ہے اور اسے مقدس جگہ میں کھانا چاہئے ۔ 7 جرم کی قربانی گناہ کی قربانی کے برابر ہے ۔ دُونوں قربانی کے لئے ایک ہی اُصول ہیں ۔ وہ کاہن جو کفّارے کی قربانی چڑھا تا ہے اُس کو حاصل کرے گا ۔ 8 وہ کاہن جو اس جلانے کی قربانی کو پیش کرتا ہے چمڑا کو اس جلانے کی قربانی سے لے سکتا ہے ۔ 9 ہر ایک اناج کی قربانی چڑھانے والے کاہن کی ہوتی ہے چاہے وہ تنور میں پکایا گیا ہے ۔ یا تلنے کی کڑھائی میں پکایا گیا ہو ۔ 10 " اناج کی قربانی ہارون اور اسکے بیٹوں کی ہوگی ۔ اس سے کو ئی فرق نہیں پڑیگا کہ وہ سوکھی ہے یا تیل میں ملی ہوئی ہے ۔ ہارون کے بیٹے ( کاہن ) اس میں برابر کے حصّے دار ہونگے ۔ 11 "یہ اصول ہیں جس کا خدا وند کو ہمدردی کے نذرانہ کے پیش کرتے وقت پالن کر نا چاہئے ۔ 12 کوئی شخص معمول کے مطابق ہمد ردی کا نذرانہ اپنے احسان کو ظا ہر کر نے کے لئے پیش کر سکتا ہے ۔ اس شخص کو تیل ملی ہوئی بے خمیری روٹی ، یا تیل لگی ہوئی بے خمیری روٹی یا تیل ملے ہوئے باریک آٹا سے بنے ہوئے کیک بھی لانا چاہئے ۔ 13 تب اس شخص کو روزانہ کے خمیری روٹی کے ساتھ ہمدردی کا نذرانہ خدا وند کی عظمت کو ظا ہر کرنے کے لئے پیش کرنا چاہئے ۔ 14 اُن روٹیوں میں سے ایک اُس کاہن کی ہوگی جو ہمدردی کی قربانی کے خون کو چھڑکتا ہے ۔ 15 ہمدردی شکر گزاری کے نذرانہ کا گوشت پوری طرح سے اسی دن جس دن اسے پیش کیا جائے کھالینا چاہئے ۔ گوشت کو کبھی بھی دوسرے دن کے لئے نہیں رکھنا چاہئے ۔ 16 " کوئی شخص ہمدردی کانذرانہ ، خدا وند کے لئے خاص وعدہ یا رضاء کا نذرانہ لا سکتا ہے ۔ اس لئے نذرانہ اسی دن جس دن کہ پیش کیا گیا ہے کھا لینا چاہئے ۔ اگر کچھ گوشت بچ جاتا ہے تو اسے دوسرے دن کھایا جاسکتا ہے ۔ 17 اگر کچھ گوشت تیسرے دن کے لئے بچ جائے تو اسے آ گ میں جلا دینا چاہئے 18 اگر کوئی آدمی ہمدردی کی قربانی کا کچھ گوشت تیسرے دن کھا تا ہے تو خدا وند اسے قبول نہیں کرے گا ۔ یہ نذرانہ برباد و ناقابل قبول ہوگی ۔ اور اگر کوئی شخص اسے کھا تا ہے تو وہ گناہ کے لئے جواب دہ ہوگا ۔ 19 "کسی بھی شخص کو ایسا گوشت نہیں کھانا چاہئے جسے کوئی نجس چیز چھو لے ۔ ایسے گوشت کو آ گ میں جلادینا چاہئے ۔ وہ تمام لوگ جو پاک ہیں ہمدردی کی قربانی کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ 20 لیکن اگر کوئی آدمی ناپاک ہو اور وہ ہمدردی کی قربانی کا گوشت کھا ئے جو خدا وند کے لئے ہو تب اُس آدمی کو اُس کے لوگوں سے الگ کر دینا چاہئے ۔ 21 "اگر کو ئی شخص کوئی ایسی چیز چھو لے جو ناپاک ہے ، چاہے وہ جانور ہو یا انسانی ناپاکی ہو تو وہ شخص ناپاک ہو جاتا ہے ۔ اور اگر وہ شخص ہمدردی کی قربانی سے کچھ گوشت کھا لے تو وہ شخص دوسرے لوگوں سے الگ ہو جائے گا ۔" 22 خدا وند نے موسیٰ سے کہا : 23 " بنی اسرائیلیوں سے کہو ، تم لوگوں کو گا ئے ،بھیڑ یا بکری کی چربی نہیں کھانی چاہئے ۔ 24 تم اُس جانور کی چربی کا استعمال کسی بھی چیز کے لئے کرسکتے ہو جو خود سے مر گیا ہو یا دُوسرے جانوروں نے اُسے پھاڑ دیا ہو لیکن تمہیں اسے کھانا نہیں چاہئے ۔ 25 کوئی شخص جو اس جانور کی چربی کھا تا ہے جو خدا وند کو تحفے کے طور پر پیش کی گئی تھی تو اُس شخص کو اُس کے لوگوں سے الگ کر دیا جائے گا ۔ 26 " تم چاہے جہاں بھی رہو ۔ تمہیں کسی پرندہ یا جانور کا خون کبھی نہیں کھانا چاہئے ۔ 27 اگر کوئی شخص جو خون کھا تا ہے تو اسے لوگوں سے الگ کر دیا جائے گا ۔ " 28 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 29 " بنی اسرائیلیوں سے کہو اگر کوئی شخص خدا وند کے لئے ہمدردی کی قربانی لائے تو اُس شخص کو اُس قربانی کا ایک حصّہ خدا وند کو دینا چاہئے ۔ 30 اُسے خدا وند کا تحفہ اپنے ہاتھ سے لانا چاہئے ۔اسے سینہ کی چربی اور سینہ لانا چاہئے اس خدا وند کے سامنے لہرانے کے نذرانے کے طور پر اُٹھانا چاہئے ۔ 31 اور کاہن کو چربی قربان گاہ پر جلانا چاہئے لیکن سِینہ ہارون اور اس کے بیٹوں کا ہوگا ۔ 32 ہمدر دی کی قربانی سے داہنا ران کاہن کو دینا چاہئے ۔ 33 داہنا ران ہارون کے بیٹے کا ہو گا ۔ جو ہمدردی کی قربانی کی چربی اور خون چڑھا تا ہے ۔ 34 میں ( خدا وند) لہرانے کی قربانی کا سینہ اور ہمدردی کی قربانی کی دائیں ران بنی اسرائیلیوں سے لے رہا ہوں اور میں اُن چیزوں کو کاہن ہارون اور اُس کے بیٹوں کو دے رہا ہوں ۔ یہ انکا اسرائیل کے بچّوں کی طرف سے لگاتار حصّہ ہے ۔ " 35 خدا وند نے تحفوں میں سے ، یہ حصّہ ہارون اور اس کے بیٹوں کا ہوگا ۔جب کبھی بھی وہ لوگ خدا وند کی خدمت کاہن کے طور پر انجام دیتے رہیں گے ۔ 36 جس وقت خدا وند نے ان لوگوں کو کاہن منتخب کیا اُسی وقت انہوں نے بنی اسرائیلیوں کو وہ حصّہ ان لوگوں کو دینے کا حکم دیا ۔ یہ قانون ہمیشہ چلتا رہے گا ۔ 37 یہ سب جلانے کی قربانی ، اناج کی قربانی ، گناہ کی قربانی ، جرم کی قربانی اور کاہنوں کا انتخاب اور ہمدردی کی قربانی کی ہدایت ہیں ۔ 38 خدا وند نے یہ احکام سینائی کے پہاڑ پر موسیٰ کو دیئے ۔ اس نے یہ احکام اُس دن دیئے جس دن اس نے بنی اسرائیلیوں کو صحرائے سینائی میں خدا وند کے لئے قربانی لانے کا حکم دیا تھا ۔

Leviticus 8

1 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " ہارون اور اسکے ساتھ اس کے بیٹوں کو ، اُن کے لباسوں کو، مسح کر نے کا تیل ، گناہ کے نذرانے کے سانڈ کو، دو مینڈھے اور بغیر خمیر کی روٹی کی ایک ٹوکری لو ۔ 3 اور خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر لوگوں کو ایک ساتھ جمع کرو ۔" 4 موسیٰ نے وہی کیا جو خدا وند نے اسے حکم دیا تھا ۔ تمام لوگ خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر ایک ساتھ جمع ہوئے ۔ 5 پھر موسیٰ نے لوگوں سے کہا ، " یہ وہی ہے جسے کرنے کا خدا وند نے حکم دیا ہے ۔" 6 اس لئے موسیٰ ہارون اور اس کے بیٹوں کو لایا اور اسے پانی سے دھو یا ۔ 7 تب موسیٰ نے ہارون کو چغہ پہنایا ۔ موسیٰ نے ہارون کے چاروں طرف ایک کمر بند باندھا تب موسیٰ نے ہارون کو چغہ پہنا یا ۔ اور اسکے اوپر ایفود پہنایا ۔ اور پھر ایفود کو خوبصورت کمر بند سے باندھا ۔ 8 تب موسیٰ نے اس کے اوپر سینہ بند لگایا ۔ اور سینہ بند میں اوریم اور تمیم رکھا ۔ 9 موسیٰ نے ہارون کے سرپر عمامہ بھی باندھا ۔ موسیٰ نے اس عمامہ کے آگے کے حصّہ پر سونے کی پٹّی مقدّس تاج کی طرح لگنے کے لئے باندھے ۔ موسیٰ نے یہ سب کچھ خدا وند کے حکم کے مطابق کیا تھا ۔ 10 تب موسیٰ نے مسح کر نے کا تیل لیا اور مقدس خیمہ اور اسکی تمام چیزوں پر چھڑ کا ۔ اس طرح موسیٰ نے انہیں مخصوص کیا ۔ 11 موسیٰ نے اس تیل کو قربان گاہ پر سات بار چھڑ کا ۔ موسیٰ نے قربان گاہ اور اسکے تمام سامان ، سلفچی اور اسکے پایہ کو مخصوص کر نے کے لئے مسح کیا ۔ 12 تب موسیٰ نے مسح کر نے کے کچھ تیل کو ہارون کے سر پر ڈالا اُس طرح اُس نے اسے مسح کر کے مخصوص کیا ۔ 13 پھر موسیٰ ہارون کے بیٹوں کو نزدیک لایا اور انہیں خاص چغہ پہنایا ۔ ان لوگوں کے کمروں کا کمر بند باندھا ۔ پھر انہوں نے ان لوگوں کے سروں پر عمامہ باندھی ۔ موسیٰ نے یہ سب ویسا ہی کیا جس طرح خدا وند نے انہیں حکم دیا تھا ۔ 14 پھر موسیٰ گناہ کی قربانی کے لئے سانڈ کو لایا ۔ ہارون اور اسکے بیٹوں نے گناہ کی قربانی کے سانڈ کے سر پر اپنے ہاتھ رکھے ۔ 15 پھر موسیٰ نے بیل کو ذبح کیا اس نے تھوڑا خون اپنی انگلیوں میں لگایا ۔ اور تھوڑا خون قربان گاہ کی چاروں طرف کونوں پر لگایا ۔ اس طرح سے موسیٰ نے قربان گاہ کو پاک کیا ۔ تب پھر اس نے باقی بچے خون کو قربان گاہ کی بنیاد پر ڈال دیا ۔ اس طرح سے موسیٰ نے اس کا کفارہ ادا کر نے لئے قربان گاہ کو مقدس کیا ۔ 16 موسیٰ نے بیل کے اندرونی حصّے سے تمام چربی لی ۔ موسیٰ نے دونوں گردوں اور انکے اوپر کی چربی کے ساتھ کلیجہ کو ڈھکنے والی چربی لی ۔ پھر موسیٰ نے ان سب کو قربان گاہ پر جلایا ۔ 17 لیکن موسیٰ بیل کے چمڑے اس کے گوشت اور جسم کے دوسرے اعضاء اور اندرونی حصّے کو خیمہ کے باہر لے گیا ۔ موسیٰ نے اسے خدا وند کے مطابق آ گ میں جلا دیا ۔ 18 تب اس نے جلانے کی قربانی کے مینڈھے کو لایا ۔ ہارون اور اسکے بیٹوں نے اپنے ہاتھ مینڈھے کے سر پر رکھے ۔ 19 تب موسیٰ نے مینڈھے کو ذبح کیا اور قربان گاہ کے چاروں طرف اسکے خون کو چھڑ کا ۔ 20 "موسیٰ نے مینڈھے کو ٹکڑو ں میں کاٹا ۔ اس نے اندرونی حصّوں اور پیروں کو پانی سے دھو یا ۔ تب موسیٰ نے پورے مینڈھے کو قربان گاہ پر جلایا ۔ موسیٰ نے اسکا سر ، ٹکڑے اور چربی کو جلایا ۔ یہ آ گ کی جلی قربانی تھی ۔ یہ خدا وند کے لئے خوشبو تھی موسیٰ نے خدا وند کے حکم کے مطابق وہ سب کام کیا ۔ 21 22 پھر موسیٰ دوسرے مینڈھے کو لایا ۔ اس مینڈھے کا استعمال ہارون اور اسکے بیٹوں کو کاہن مقرر کر نے کی تقریب میں کئے تھے ۔ ہارون اور اسکے بیٹوں نے اپنے ہاتھ مینڈھے کے سر پر رکھے ۔ 23 تب موسیٰ نے اس مینڈھے کو ذبح کیا ۔ اس نے اسکا تھوڑا خون ہارون کے کان کے نچلے سِرے پر ، دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر اور دائیں پیر کے انگوٹھے پر لگا یا ۔ 24 تب موسیٰ ہارون کے بیٹوں کو قربان گاہ کے پاس لایا ۔ موسیٰ نے تھوڑا خون انکے دائیں کان کے نچلے سِرے پر ، دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر اور انکے دائیں پیر کے انگوٹھے پر لگا یا۔ تب پھر موسیٰ نے قربان گاہ کے چاروں طرف خون ڈالا ۔ 25 موسیٰ نے چربی ، دُم ، اندرونی حصّہ کی تمام چربی ، کلیجہ کو ڈھکنے والی چربی ، دونوں گردے اور انکی چربی اور دائیں ران کو لیا ۔ 26 پھر بے خمیری روٹی سے بھری ٹوکری سے جو خدا وند کے سامنے تھی موسیٰ نے تیل میں مِلا ہوا کیک اور ایک بے خمیری روٹی لی اور اسے چربی اور مینڈھا کے دائیں ران کے اوپر رکھا ۔ 27 تب موسیٰ نے ان تمام کو ہارون اور اسکے بیٹوں کے ہاتھوں میں رکھا ۔ موسیٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اورٹکڑوں کو خدا وند کے سامنے لہرانے کے نذرانے کے طور پر پیش کیا ۔ 28 پھر موسیٰ نے ان چیزوں کو ہارون اور اسکے بیٹوں کے ہاتھوں سے لیا ۔ موسیٰ نے انہیں قربان گاہ پر جلانے کی قربانی کے اوپر جلایا ۔ یہ سب کاہنوں کو تخصیص کر نے کے لئے تھے ۔ یہ قربانی خدا وند کے لئے تحفہ تھا ۔ اس کی بو خدا وند کو خوش کر تی ہے ۔ 29 پھر موسیٰ نے تخصیص کی تقریب کے مینڈھے کے سینہ کو لیا اور خدا وند کے سامنے لہرانے کی قربانی کے لئے اوپر اٹھایا ۔ کاہنوں کو مخصوص کر نے کے لئے یہ موسیٰ کے حصہ کا مینڈھا تھا ۔ یہ ٹھیک ویسا ہی کیا گیا جیسا خدا وند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 30 موسیٰ نے مسح کر نے کا کچھ تیل اور کچھ خون جو قربان گاہ پر تھا لیا ۔ اور اسے ہارون اور اسکے لباسوں پر ، اسکے بیٹوں اور انکے لباسوں پر چھڑکا ۔ اس طرح سے موسیٰ نے ہارون اور اسکے بیٹوں اور انکے لباسوں کو مخصوص کیا ۔ 31 تب موسیٰ نے ہارو ن اور اسکے بیٹوں سے کہا ، " خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر گوشت کو اُبالو ۔ اور تخصیصی ٹوکری سے روٹی اور گوشت اس جگہ پر کھا ؤ جیسا کہ خدا وند نے مجھے حکم دیا تھا ۔ 32 اگر کچھ گوشت یا روٹی بچ جائے تو اسے آ گ میں جلا دینا چاہئے ۔ 33 کاہن کے تخصیص کی تقریب سات دن تک چلنی چاہئے ۔ تمہیں سات دن تک خیمہٴ اجتماع کے دروازے کو نہیں چھو نا چاہئے جب تک کہ کاہنوں کے تخصیصی کا دن پورا نہ ہو جائے ۔ 34 خداوند نے حکم دیا تھا اس طرح کے کچھ کام ( سات دن تک ہردن) کفّارہ ادا کر نے کے لئے انجام دیا جا ئے ۔ 35 تمہیں خیمٴہ اجتماع کے دروازہ پر سات دن اور سات رات تک رہنا چاہئے ۔تمہیں خداوند کے لئے ڈیوٹی پر سونا چاہئے تا کہ تم نہیں مر وگے ۔ کیو نکہ خداوند نے مجھے یہ حکم دیا تھا ۔" 36 اور ہا رون اور اُ س کے بیٹوں نے وہ سب کچھ کیا جسے کر نے کا خداوند نے انہیں موسیٰ کے ذریعے دیا تھا ۔

Leviticus 9

1 آٹھویں دن موسیٰ نے ہا رون اور اس کے بیٹوں کو بُلا یا ۔ اس نے اسرائیل کے بزرگوں( قائدین ) کو بھی بُلا یا ۔ 2 موسیٰ نے ہا رون سے کہا ، " اپنے جانوروں کے جھنڈ میں سے ایک بچھڑا گناہ کے نذرانہ کے لئے اور ایک مینڈھا جلا نے کے نذرانہ کے لئے لو ۔ ان دونو ں میں کو ئی عیب نہیں ہو نا چا ہئے ۔ ان جانوروں کو خداوند کے لئے نذر کیا جا ئے گا ۔ 3 بنی اسرائیلیوں سے کہو ، ' گناہ کی قربانی کے لئے ایک بکرا اور ایک بچھڑا اور ایک میمنہ جلا نے کی قربانی کے لئے لو ۔ بچھڑا اور میمنہ دونوں ایک سال کا ہو نا چاہئے ۔ اور ان میں کو ئی عیب نہیں ہو نا چا ہئے ۔ 4 ایک سانڈ اور ایک مینڈھا ہمدردی کی قربانی کے لئے لو ۔ اُن جانوروں کو اور تیل ملے اناج کی قربانی کو لو اور ان تمام چیزوں کو خداوند کے واسطے قربانی کے طو ر پر پیش کرو ۔ کیوں کہ آج خدا وند تمہا رے سامنے ظا ہر ہو گا ۔" 5 تب تمام لوگ خیمٴہ اجتماع میں آئے اور وہ سب اُن چیزوں کو لا ئے جن کے لئے موسیٰ نے حکم دیا تھا ۔ ان میں سے سب لوگ خداوند کے سامنے کھڑے ہو ئے ۔ 6 موسیٰ نے کہا ،" تمہیں وہی کرنا چا ہئے جیسا کہ خداوند نے حکم دیا ہے ۔ اب تم لوگ خداوند کے جلا ل کو دیکھو گے ۔" 7 تب موسیٰ نے ہا رون سے کہا ، " جا ؤ اور وہی کرو جس کے لئے خداوند نے حکم دیا تھا ۔ قربان گا ہ کے پاس جا ؤ اور اپنے گنا ہ کی قربانی اور جلا نے کی قربانی چڑھا ؤ۔ یہ سب تمہیں اپنے اور اپنے لوگوں کے کفّارہ کی ادا ئیگی کے لئے پیش کر نا چاہئے ۔ لوگوں کی لا ئی ہو ئی قربانی کو لو اور اُ سے خداوند کو پیش کرو ۔ یہ اُن کے گنا ہوں کا کفا رہ ہو گا ۔" 8 اس لئے ہا رون قربان گا ہ کے پاس گیا ۔ اُس نے بچھڑے کو گناہ کی قربانی کے طور پر ذبح کیا جو کہ اُ سکے لئے تھی۔ 9 اور ہا رون کے بیٹوں نے اپنے باپ کے پاس خون لا یا ۔ ہا رون نے اپنی اُنگلی خون میں ڈا لی اور قربان گا ہ کے کو نوں پر اُسے لگا یا ۔ تب ہا رون نے قربان گا ہ کی بُنیاد پر بچے ہو ئے خون کو اُنڈیلا ۔ 10 ہا رون نے گنا ہ کی قربانی سے چربی ، گردے اور کلیجے کو ڈھکنے وا لی چربی لی ۔ اُ س نے اُنہیں قربانگاہ پر جلا یا ۔ اس نے سب کچھ اسی طرح کیا جس طرح خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 11 تب ہا رون نے چھا ؤنی کے با ہر گوشت اور چمڑے کو جلا یا ۔ 12 اس کے بعد ہا رون نے جلا نے کی قربانی کے لئے اس جانور کو ذبح کیا ۔ ہا رون کے بیٹوں نے خون کو ہا رون کے پاس لا یا اور ہا رون نے اسے قربان گا ہ کے چاروں طرف ڈا لا ۔ 13 ہا رون کے بیٹوں نے جلا نے کی قربانی کے ٹکڑوں اور سرہا رون کو دیا ۔ تب ہا رون نے انہیں قربانگاہ پر جلا یا ۔ 14 ہا رون نے جلا نے کی قربانی کے اندرونی حصوں اور پیروں کو دھو یا اور اُس نے انہیں بھی جلا نے کی قربانی کے اوپر قربانگا ہ پر جلا یا ۔ 15 پھر ہا رون نے لوگوں کے لئے قربانی لا یا اُ سنے ان لوگوں کے لئے گناہ کی قربانی وا لے بکرے کو ذبح کیا ۔ اس نے بکرے کو پہلے کی طرح گنا ہ کی قربانی کے لئے چڑھا یا ۔ 16 ہا رون جلا نے کی قربانی کو لا یا اور اس نے وہ قربانی چڑھا ئی ویسے ہی جیسے خداوند نے حکم دیا تھا ۔ 17 ہا رون اناج کی قربانی کو قربانگا ہ کے پا س لا یا ۔ اس نے مٹھّی بھر اناج لیا اور صبح کی جلا نے کی قربانی کے ساتھ اسے قربانگا ہ پر رکھا ۔ 18 ہا رون نے لوگوں کے لئے ہمدردی کی قربانی کے لئے سانڈ اور مینڈھے کو ذبح کیا ۔ ہا رون کے بیٹوں نے خون ہا رون کے پاس لا یا ۔ ہا رون نے اُس خون کو قربان گا ہ کے چاروں طرف اُنڈیلا ۔ 19 ہا رون کے بیٹوں نے سانڈ اور مینڈھے کی چربی دُم کی چربی کے ساتھ لا ئے ۔ وہ اندرونی حصوں کو ڈھکنے وا لی چربی گردو ں اور کلیجہ کو ڈھکنے وا لی چربی بھی لا ئے ۔ 20 ہا رون کے بیٹوں نے چربی کے ان حصوں کو سانڈ اور مینڈھے کے سینوں پر رکھا ۔ ہا رون نے اسے قربان گا ہ پر جلا یا ۔ 21 جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ ہا رون نے سینے اور دائیں ران کو لہرا نے کی قربانی کے لئے خداوند کے سامنے ہا تھوں میں اوپر اٹھا یا۔ 22 تب ہارون نے اپنے ہاتھ لوگوں کی طرف اٹھا ئے اور اُنہیں دعا دی ۔ ہارون گناہ کی قربانی، جلانے کی قربانی اور ہمدردی کی قربانی کوچڑھانے کے بعد قربان گاہ سے نیچے اُترآئے ۔ 23 موسیٰ اور ہارون خیمہٴ اجتماع میں گئے اور پھر باہر آکر انہوں نے لوگوں کو دعائیں دیں ۔ تب خدا وند کا جلال سب لوگوں کے سامنے ظا ہر ہوا ۔ 24 خدا وند سے آ گ باہر نکلی اور قربان گاہ پر کی جلانے کی قربانی اور چربی کو جلادی ۔ جب تمام لوگوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے چلّا یا اور اپنے چہروں کو زمین پر جھُکا لیا ۔

Leviticus 10

1 تب ہارون کے بیٹے ناداب اور ابیہو ، ان میں سے ہر ایک نے لوبان جلانے کے لئے اپنے اپنے برتن لئے ۔ انہوں نے آ گ سے لوبان کو جلایا ۔ انہوں نے غیر ملکی آ گ کا استعمال کیا جس کا موسیٰ نے استعمال کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ۔ 2 اس لئے خدا وند سے آ گ آئی اور اس نے ناداب اور ابیہو کو تباہ کر دیا اس طرح وہ خدا وند کے سامنے مرے 3 تب موسیٰ نے ہارون سے کہا ،" خدا وند کہتا ہے ، ' ان میں سے جو میرے نزدیک آئے میں خود کو مقدّس دکھا ؤنگا ۔ اور سب لوگوں کے سامنے میری تعظیم کی جائے گی ۔ " اس لئے ہارون اپنے مرے ہوئے بیٹوں کے سامنے خاموش رہا ۔ 4 ہارون کے چچا عُزّیل کے دو بیٹے تھے وہ میسائیل اور الصفن تھے ۔ موسیٰ نے ان دونوں کو بلاکر کہا ، " اپنے بھائیوں کی لاشوں کو جو کہ مقدس جگہ کے سامنے ہے اٹھاؤ اور اسے چھاؤنی سے باہر لے جاؤ ۔ " 5 اس لئے میسائیل اور الصفن موسیٰ کا حکم بجالایا ۔ وہ گئے اور ناداب اور ابیہو کی لاشوں کو چھاؤنی سے باہر لائے ۔ اس وقت تک ناداب اور ابیہو مخصوص لباس پہنے ہوئے تھے ۔ 6 ‎اور موسیٰ نے ہارون کے دوسرے بیٹوں الیعزر اور اتامر سے کہا ، " اپنے کپڑوں کو پھاڑ کر یا اپنے بالوں کو کھلا چھوڑ کر غم کو ظا ہر نہ کرو ۔ ورنہ تم مر جاؤ گے ۔ اور خدا وند سارے لوگوں سے ناراض ہو جائے گا ۔ سارا اسرائیلی ملک تم لوگوں سے جڑا ہوا ہے ۔ وہ لوگ ماتم کریں گے کیوں کہ خدا وند نے ناداب اور ابیہود کو جلا ڈا لا ۔ 7 لیکن تم لوگوں کو خیمہٴ اجتماع کے دروازے کو نہیں چھوڑنا چاہئے ورنہ تم لوگ مر جاؤ گے ۔ کیوں کہ مسح کر نے کا تیل تم لوگوں پر ہے ۔ " ہارون ، الیعزر اور اتامر نے موسیٰ کا حکم بجا لایا ۔ 8 تب خدا وند نے ہارون سے کہا ، 9 "تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو خیمہٴ اجتماع میں آنے سے پہلے مئے یا شراب نہیں پینا چاہئے ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو مر جاؤ گے یہ شریعت تمہاری ساری نسلوں میں ہمیشہ جاری رہے گی ۔ 10 تمہیں جو چیزیں مقدس ہے اور جو مقدس نہیں ہے جو پاک ہے اور جو پاک نہیں ہے ان میں فرق کرنا چاہئے ۔ 11 تمہیں ان شریعت کے بارے میں لوگوں کو سکھانا چاہئے جسے خدا وند نے موسیٰ کو دیا ۔ اور اسی طرح اس نے اسے لوگوں کو دیا تھا ۔ " 12 موسیٰ نے ہارون اور اس کے بچے ہو ئے دونوں بیٹوں ، الیعزر اور اتامر سے بات کی اور کہا ،" اناج کی قربانی کا وہ حصہ جو ان قربانیوں میں سے بچی ہے جو آ گ میں جلائی گئی تھی ۔ اس قربانی کے حصّے کو لے اور کھا ، لیکن تمہیں اسے بغیر خمیر کے کھانا چاہئے اسے قربان گاہ کے پاس کھانا چاہئے ، کیوں کہ یہ قربانی سب سے مقدس ہے ۔ 13 وہ اس قربانی کا حصہ ہے جو خدا وند کے لئے آ گ میں جلائی گئی تھی ۔ اور جو اصول میں نے تم کو بتایا وہ سکھا تا ہے کہ وہ حصّہ تمہارا اور تمہارے بیٹوں کا ہے لیکن تمہیں اسے مقدس جگہ پر ہی کھانا چاہئے ۔ 14 " تم ، تمہارے بیٹے اور تمہاری بیٹیاں لہرانے کی قربانی کا سینہ اور ہمدردی کی قربانی سے ران کو کھا سکتے ہیں ۔ انہیں تمہیں صاف جگہ پر ہی کھا نا چاہئے ۔ یہ اسرائیل کے بچّوں کی ہمدردی کی نذرانوں میں سے تم اور تمہارے بچّوں کے لئے تمہارے حصّے ہیں ۔ 15 لوگوں کو چربی تحفے کی طرح لانی چاہئے ۔ انہیں ہمدردی کی قربانی کی ران اور لہرانے کی قربانی کا سینہ بھی لانا چاہئے اور اسے خدا وند کے سامنے اٹھانا چاہئے ۔ یہ قربانی تمہارا اور تمہارے بچّوں کا ہو جائے گا ۔ خدا وند کے حکم کے مطابق قربانی کا وہ حصہ ہمیشہ کے لئے تمہارا ہوگا ۔ " 16 موسیٰ نے گناہ کی قربانی کے بکرے کے متعلق پوچھا ، جسے کہ پہلے ہی جلا دیا گیا تھا ۔ موسیٰ ہارون کے بیٹوں ، الیعزر اور اتامر پر بہت غصہ ہوا اور کہا ، 17 " تم لوگوں نے گناہ کی قربانی کو مقدس جگہ پر کیوں نہیں کھا یا ۔ وہ سب سے مقدس تھا اور خدا وند نے یہ تمہیں جماعت کے گناہوں کی ذمہ داری ، خدا وند کے سامنے ان لوگوں کا کفارہ ادا کر نے کے لئے دیا تھا ۔ 18 دیکھو تم اس بکرے کا خون مقدس جگہ کے اندر نہیں لائے ۔ تمہیں اس بکرے کو مقدس جگہ پر کھانا چاہئے تھا جیسا کہ میں نے حکم دیا ہے ۔ " 19 لیکن ہارون نے موسیٰ سے کہا ، " سنو! آج وہ اپنی گناہ کی قربانی اور جلانے کی قربانی خدا وند کے سامنے لائے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ ہو چکا ہے ۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اگر میں گناہ کی قربانی آ ج کے دن کھا یا ہوتا تو کیا خدا وند خوش ہوتا ؟ " نہیں!" 20 جب موسیٰ نے یہ سُنا تو وہ متفق ہو گئے ۔

Leviticus 11

1 خداوند نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا ، 2 بنی اسرائیلیوں سے کہو ، " یہ سب جانور ہیں جہیں تم زمین کے سبھی جانوروں میں سے کھا سکتے ہو ۔" 3 اگر جانور کے کھُر دو حصّوں میں بٹے ہو ں اور وہ جانور جُگا لی بھی کرتا ہو تو تم اس جانور کا گوشت کھا سکتے ہو۔ 4 "جو جانور جُگالی کر تے ہیں لیکن اُن کے کھُر پھٹے نہ ہو تو ایسے جانور کا گھوشت مت کھا ؤ۔ جیسے اُونٹ ، سمندری چٹان کا بجّو اور خرگوش تمہا رے لئے ناپاک ہے ۔ 5 6 7 دوسرے جانوروں کے کھُر جو دو حصوں میں بٹے ہو ئے ہیں لیکن وہ جُگالی نہیں کر تے اسلئے ان جانوروں کو مت کھا ؤ۔ سُوّر ویسا ہی ہے اس لئے وہ تمہا رے لئے ناپاک ہے ۔ 8 اُن جانوروں کا گوشت مت کھا ؤ حتیٰ کہ ان کے مُردہ جسم کو بھی مت چھونا ۔ وہ تمہا رے لئے ناپاک ہیں۔ 9 " اگر پانی کا جانور ہے اور اس کے جسم پر پَر اور چھلکے ہیں تو اس جانور کا گوشت کھایا جا سکتا ہے ۔ 10 لیکن اگر جانور سمندر یا دریا میں رہتا ہے اور اس کے پَر اور چھلکے دونوں نہ ہوں تو اس جانور کو تمہیں نہیں کھانا چا ہئے ۔ وہ گندے جانوروں میں سے مانے جا تے ہیں۔ ا س جانور کا گوشت نہیں کھانا چاہئے ۔ اس کے مردہ جسم کو بھی نہیں چھُونا چا ہئے ۔ 11 12 پانی کے ہر اس جانور کو جس کے پَر اور چھلکے نہیں ہو تے ہیں تمہا رے لئے نفرت انگیز ہے ۔ 13 " تمہیں نفرت انگیز جانوروں کو بھی نہیں کھانا چا ہئے جیسے : عقاب ، گدھ اور شکا ری چڑیئے، 14 چیل ، اور تمام طرح کے عقا ب ، 15 تمام قسم کے کالے پرندے ، 16 شتر مُرغ، اُلّو ، سمندری مُرغ، تمام قسم کے با ز ، 17 اُلّو سمندری کا غ، 18 پانی کی مُرغی ، مچھلی کھانے وا لے پلیکن، سمندری گدھ، 19 ہنس ، بگلے ، ہُد ہُد اور چمگا دڑ۔ 20 " وہ تمام کیڑے جو اُڑتے ہیں اور تمام جو گھٹنوں کے بل رینگ کر چلتے ہیں گھناؤ نے ہیں ۔ 21 لیکن وہ کیڑے جو اُ ڑتے ہیں اور رینگتے ہیں تو صرف اُن کیڑوں کو جو کہ پچھلے ٹانگوں پر کودتے ہیں کھا ئے جا سکتے ہیں۔ 22 وہ یہ ہیں : ہر قسم کے ٹڈے ، جھنگر اور گھاس چٹ کر نے وا لا ۔ 23 لیکن دوسرے تمام وہ کیڑے جن کے پَر ہوں اور جو رینگ بھی سکتے ہیں وہ گھنا ؤ نے ہیں تمہا رے لئے ممنوع ہے۔ 24 وہ کیڑے تمہیں شام تک نجس کر دیں گے ۔ کو ئی بھی شخص جو اس طرح مرے ہو ئے کیڑے کو چھو ئے گا نا پاک ہو جا ئے گا ۔ 25 اگر کو ئی شخص ان مرے ہو ئے کیڑوں میں سے کسی کو بھی لے کر چلتا ہے تو اسے اپنے کپڑوں کو دھو نا چا ہئے ۔ وہ شام تک نجس رہے گا ۔ 26 "کچھ جانوروں کے کھُر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ کھُر دو حصوں میں بٹے نہیں ہو تے ہیں ۔ کچھ جانور جگا لی نہیں کرتے ہیں اور کچھ چوپا ئے جانوروں کے کھُر نہیں ہو تے ہیں اور وہ اپنے پنجوں پر چلتے ہیں۔ اس طرح سے سبھی جانور نا پاک ہیں۔ اگر کو ئی ان کے مُردہ جسموں کو چھُو لیتا ہے تو وہ شام تک نا پاک رہیگا ۔ 27 28 اگر کو ئی شخص ان کے مرے جسم کو اٹھا تا ہے تو اُس آدمی کو اپنے کپڑے دھو نے چا ہئے وہ آدمی شام تک نجس رہے گا۔ وہ جانور تمہا رے لئے نجس ہے ۔ 29 "کتر نے وا لے جانور تمہا رے لئے گھنا ؤ نے ہیں ۔ وہ یہ ہیں: چھچھوندر، چوہا ، سب قسم کے بڑے گرگٹ ، 30 چھپکلی ، مگر مچھ ، ریگستانی رینگنے وا لے گرگٹ اور رنگ بدلتا گرگٹ ۔ 31 یہ رینگنے وا لے جانور تمہا رے لئے گھنا ؤ نے ہیں کو ئی آدمی جو اُن مرے ہو ئے کو چھوئے گا ۔ شام تک نجس رہے گا ۔ 32 " اگر کسی قسم کا مرا ہوا نا پاک جانور کسی چیز پر گِرے تو وہ چیز بھی نجس ہو جا ئے گی ۔ چاہے وہ لکڑی، چمڑا ، کپڑا ، ٹا ٹ یا کو ئی کام کر نے کا اوزا ر جو کچھ بھی ہو اس کو پانی سے دھو نا چا ہئے ۔ یہ شام تک نجس رہے گا ۔ تب پھر دوبارہ یہ پاک ہو گا ۔ 33 اگر اُن گندے جانوروں میں سے کو ئی مرا ہوا مٹی کے کٹورے میں گِرے تو کٹورے کی کو ئی بھی چیز جو کہ اس میں ہے نجس ہو جا ئے گی ۔ تمہیں کٹو را ضرور توڑ دینا چا ہئے ۔ 34 کسی بھی طرح کی غذا جو بھیگ جا تی ہے نا پاک ہو جا ئے گی اگر نا پاک چیز اُس سے چھوُ جا ئے ۔ اسی طرح سے کسی بھی طرح کا رقیق جو کسی بھی برتن سے پیا جا ئے نا پاک ہو جا تی ہے ۔ 35 اگر کسی مرے ہو ئے گھنا ؤ نے جانور کا کو ئی حصّہ کسی چیز پر آ پڑے تو وہ چیز نا پاک ہو جا تی ہے ۔ اِسے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چا ہئے ۔ چا ہے وہ تنور ہو یا اسٹوو۔ وہ تمہا رے لئے نا پاک رہے گا ۔ 36 " کسی بھی کنویں، کا پانی ، گڑھا ،یا جمع کیا ہوا پانی میں اگر کو ئی مرا ہوا جانور گرجا تا ہے تو بھی یہ پاک رہے گا ۔ لیکن وہ شخص جو مرے ہوئے جانور کا ڈھانچہ کو چھو تا ہے تو وہ نا پاک ہو جا تا ہے ۔ 37 اگر اُن گھنا ؤ نے مرے ہو ئے جانوروں کو کو ئی حصّہ بوئے جانے وا لے بیج پر آپڑے تو بھی وہ پاک ہی رہے گا ۔ 38 لیکن بھِگو نے کے لئے اگر تم کچھ بیجوں پر پانی ڈالتے ہو اور اگر اسی دوران مرے ہو ئے گھِنا ؤ نے جانور کا کو ئی حصّہ ان بیجوں پر آپڑے تو وہ نا پاک ہو جا ئے گا ۔ 39 " اور اگر کھانے کا کو ئی جانور اپنے آپ مر جا ئے تو جو آدمی اس کے مرے ہو ئے جسم کو چھُو ئے گا تو شام تک نجس رہے گا ۔ 40 کو ئی بھی شخص جو اس مرے ہو ئے جانور کا گوشت کھا ئے اسے اپنے کپڑو ں کو دھو نا چا ہئے ۔ وہ شخص شام تک نجس رہے گا ۔ اگر کو ئی شخص جو اس مرے جانور کے جسم کو اُٹھا ئے تو اسے بھی اپنے کپڑوں کو دھونا چا ہئے ۔ وہ شخص بھی شام تک نجس رہے گا ۔ 41 ہر وہ جانور جو زمین پر رینگتا ہے وہ ان جانوروں میں سے ایک ہے جو تیرے کھانے کے لئے مما نعت ہے 42 تمہیں ایسے کسی بھی جانور کو نہیں کھانا چا ہئے جو پیٹ کے بَل رینگتے ہیں یا چاروں پیروں پر چلتے ہیں یا جس کے بہت سے پیر ہیں یہ سب تمہا رے لئے نفرت انگیز ہے۔ انہیں مت کھا ؤ ! 43 اُن گھِنا ؤ نے جانوروں سے خود کو نجس مت بنا ؤ ۔ تمہیں اُن کے ساتھ اپنے کو نجس نہیں بنا نا چا ہئے ۔" 44 کیوں کہ میں تمہا راخداوند خدا ہوں ! میں مقدس ہو ں اور میں چاہتا ہوں کہ تم بھی مقدس رہو ۔ رینگنے وا لے ان نفرت انگیز جانوروں کی وجہ سے اپنے آپ کو نا پاک مت بنا ؤ ۔ 45 میں تم لوگوں کو مصر سے با ہر لا یا تا کہ میں تمہا را ہو سکوں۔ میں مقدس ہوں اس لئے تمہیں مقدس رہنا چا ہئے ۔" 46 وہ اُ صول تمام مویشیوں پرندوں اور زمین کے دوسرے جانوروں کے لئے ہیں۔ وہ اُصول سمندر میں رہنے وا لے سبھی جانوروں اور زمین پر رینگنے وا لے سبھی جانوروں کے لئے ہیں۔ 47 اور یہ اس لئے ہے کہ لوگ پاک جانوروں اور گھِناؤ نے جانوروں میں فرق کر سکیں۔ اس طرح لوگو ں کو معلوم ہو گا کہ کو ن سا جانور انہیں کھانا چا ہئے اور کون سا نہیں کھانا چا ہئے ۔

Leviticus 12

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا : 2 "بنی اسرائیلیوں سے کہو: اگر کو ئی عورت حاملہ رہتی ہے اور ایک لڑکا کو جنم دیتی ہے تو عورت سات دن تک نجس رہیگی ۔ یہ ناپاکی کی مدت حیض کی مدت کے برابر ہے ۔ 3 آٹھویں دن لڑ کے کا ختنہ ہونا چاہئے ۔ 4 پھر اس کے بعد وہ ۳۳دن تک حالتِ طہارت میں رہے ۔ اسے کوئی مقدّس چیز نہیں چھونا چاہئے ۔ اسے مقدس جگہ میں نہیں جانا چاہئے جب تک اس کی طہارت کا ایام پورانہ ہوجائے ۔ 5 لیکن عورت اگر لڑکی کو جنم دیتی ہے تو وہ حیض کے ایام کی طرح دو ہفتہ تک ناپاک رہتی ہے ۔ اُس کے بعد وہ ۶۶ دن تک حالت طہارت میں رہے۔ 6 " نئی ماں جو ابھی لڑکی یا لڑ کے کو جنم دیتی ہے اور جب وہ پاک ہو جاتی ہے تو اسے یہ نذرانہ خیمہٴ اجتماع میں لانا چاہئے ۔ اُسے اُن نذرانہ کو خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر کاہن کے سامنے پیش کرنا چاہئے ۔ اُسے ایک سال کا میمنہ جلانے کی قربانی کے لئے اور گناہ کی قربانی کے لئے ایک فاختہ یا کبوتر کا بچّہ لانا چاہئے ۔ 7 اگر وہ میمنہ دینے کی استطاعت نہ رکھتی ہو تو وہ دو فاختے یا دو کبوتر کے بچّے لا سکتی ہے ۔ ایک پرندہ جلانے کی قربانی کے لئے ہوگا اور دوسرا گناہ کی قربانی کے لئے ۔ کاہن خدا وند کے سامنے انہیں پیش کرے گا ۔ اس طرح سے کاہن اس کے لئے کفّارہ ادا کرے گا اور پھر وہ اپنے ماہواری خون سے پاک ہو جائے گی ۔ یہ قانون اُن عورتوں کے لئے ہے جو ایک لڑکا یا لڑکی کو جنم دیتی ہے ۔ " 8

Leviticus 13

1 خدا وند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا ، 2 " کسی شخص کو اُس کی جِلد پر کوئی بھیانک سوجن ہو سکتی ہے ۔ اسے کھجلی یا سفید داغ ہو سکتا ہے ۔ اور اگر یہ جلد کی بیماری کی علامت ہو تو اس آدمی کو کاہن ہارون یا اُس کے کسی ایک کاہن بیٹے کے پاس لانا چاہئے ۔ 3 کاہن کو جِلد کے زخم دیکھنا چاہئے ۔ اگر زخم کے بال سفید ہو گئے ہوں اور اگر زخم جِلد سے گہرا ہو گیا ہو تو یہ ایک چھوت کی جِلد کی بیماری ہے ۔ کاہن کو کہہ دینا چاہئے کہ یہ شخص ناپاک ہے ۔ 4 " اگر سفید داغ جِلد سے زیادہ گہرا معلوم نہ پڑے اور اس کا بال بھی سفید نہ ہوا ہو تو کاہن اس شخص کو سات د ن کے لئے دُوسرے لوگوں سے الگ کرے ۔ 5 ساتویں دن کاہن کو اس شخص کے متاثرہ حصّہ کی جانچ کر نی چاہئے ۔ اگر وہ محسوس کر تا ہے کہ کوئی ظاہری فرق نہیں ہے اور بیماری زیادہ نہیں پھیلی ہے تو کاہن اس شخص کو دوسرے لوگوں سے اور سات دن کے لئے الگ کر دے ۔ 6 سات دن بعد کاہن کو اُس آدمی کی دوبارہ جانچ کر نی چاہئے ۔ اگر زخم پھیکا پڑ گیا ہو اور پھیلا بھی نہیں ہو تو کاہن کو کہنا چاہئے کہ یہ ِشخص پاک ہے ۔ یہ صرف ایک سرخ داغ ہے ۔ اسے اپنے کپڑے دھو نے چاہئے اور پھر سے پاک ہونا چاہئے ۔ 7 "لیکن اگر جلد کی بیماری اس شخص کو کاہن کے سامنے پاکی ظا ہر کر نے کے لئے حاضر ہو نے کے بعد اور زیادہ پھیل جاتی ہے تو اسے دوبارہ جانچ کر وانی چاہئے کہ یہ شخص جِلد کی چھوت کی بیماری میں مبتلا ہے ۔ 8 9 " اگر آدمی کو چھوت کی جِلدی بیماری ہوئی ہو تو اسے کاہن کے پاس لانا چاہئے ۔ 10 کاہن کو اس آدمی کی جانچ کر کے دیکھنا چاہئے اگر جِلد پر سفید داغ ہو اور اس جگہ کے بال سفید ہو گئے ہوں اور اگر وہا ں کھلا ہوا پھو ڑا ہو ، 11 تو یہ کوئی پرانی جلدی بیماری ہے ۔ تب پھر کاہن کو یہ بتا نا چاہئے کہ وہ آدمی ناپاک ہے ۔ اور اسے دوسرے لوگوں سے الگ کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص ناپاک ہے ۔ 12 " اگر کاہن کے جانچ کر نے کے بعد جِلدی بیماری اس شخص کے جسم پر پھیل جائے اور پورے جسم پر سر سے پاؤں تک ڈھک لے ، 13 اور کاہن جب یہ دیکھے کہ جِلدی بیماری پورے جسم کو اس طرح ڈھکے ہو ئے ہے کہ اُس آدمی کا پورا جسم ہی سفید ہو گیا ہے تو کاہن کو اسے پاک ہو نے کا اعلان کر دینا چاہئے ۔ 14 " لیکن اگر اس شخص کی جلد پر کھلا ہوا پھوڑا ہو تو وہ پاک نہیں ہے ۔ 15 جب کاہن جسم پر کھلا ہوا پھوڑا دیکھے تب اسے اعلان کرنا چاہئے کہ وہ شخص ناپاک ہے ۔ اور کھلا ہوا پھوڑا جلد کی چھوت کی بیماری ہے ۔ 16 " اگر اس شخص کی جلد پھر سے بہتر ہو تی ہے اور سفید ہو جاتی ہے تو اس شخص کو کاہن کے پاس آنا چاہئے ۔ 17 کاہن کو اس آدمی کی جانچ کر کے دیکھنا چاہئے کہ اگر وبائی بیماری سفید ہو گئی ہے تو کاہن کو اعلان کر نا چاہئے کہ وہ شخص پاک ہے ۔ 18 اگر اس شخص کے جسم کی جِلد پر کو ئی پھو ڑا پھنسی ہو اور وہ بھر رہا ہو ، 19 لیکن اگر پھوڑے کی جگہ پر سوجن یا گہری لالی لئے سفید اور چمکیلا داغ رہ جائے تب اسے کاہن کو دیکھنا چاہئے ۔ 20 کاہن کو اسے جانچ کر نا چاہئے اگر وہ دیکھے کہ وہ جلد سے گہرا ہے اور اسکے بال سفید ہو گئے ہیں تو کاہن کو کہنا چاہئے کہ وہ آ دمی نا پاک ہے ۔ وہ پھوڑا پھنسی جِلد کی چھوت کی بیماری ہو چکی ہے ۔ 21 لیکن اگر کاہن پھوڑا پھنسی کو دیکھتا ہے اور پاتا ہے کہ اس پر سفید بال نہیں ہے اور داغ جلد پر گہرا نہیں ہے یہ دھندلا سا ہو گیا ہے تو کاہن کو اس شخص کو سات دن کے لئے الگ کر دینا چاہئے ۔ 22 اگر متاثرہ حصّہ جلد پر پھیلتا ہے تو کاہن کو کہنا چاہئے کہ وہ شخص ناپاک ہے یہ جلدی چھوت کی بیماری ہے ۔ 23 لیکن اگر سفید داغ اپنی جگہ بنا رہتا ہے پھیلتا نہیں ہے تو وہ صرف پرانے پھوڑے کا معمولی داغ ہے ۔ کاہن کو بتانا چاہئے کہ وہ شخص پاک ہے ۔ 24 "اگر کو ئی شخص جل جاتا ہے اور جلد پر سفید یا سرخ مائل داغ ہوتا ہے تو ایسے شخص کو کاہن کو دیکھنا چاہئے ۔ اگر کاہن محسوس کر تا ہے کہ جِلد کا وہ حصّہ گہرا ہے ۔ اور اس جگہ کے بال سفید ہیں تو یہ جلد کی چھوت کی بیماری ہے ۔ جو جلے ہوئے جلد میں سے پھوٹ پڑا ہے ۔ اس طرح کا شخص ناپاک ہے ۔ 25 26 لیکن کا ہن اگر اس جگہ کو دیکھتا ہے کہ سفید داغ میں سفید بال نہیں ہے اور جِلد میں بیما ری زیادہ گہری نہیں ہے اور یہ دھند لا سا ہو گیا ہے تو کا ہن کو اُ سے سات دن کے لئے ہی الگ کرنا چا ہئے ۔ 27 ساتویں دن کا ہن کو اُ س کو پھر سے جانچ کرنا چا ہئے اگر بیما ری جِلد پر پھیلتی ہے تو کا ہن کو کہنا چا ہئے کہ وہ شخص نا پاک ہے ۔ یہ جلد کی چھوت کی بیما ری ہے ۔ 28 لیکن اگر داغ جِلد پر نہ پھیلا ہو اور دھند لا رہتا ہے تو یہ صرف جلنے کا داغ ہے ۔ کا ہن کو اس شخص کو پاک قرا ر دینا چا ہئے ۔ 29 " کسی آدمی کے سر کی کھال پر یا داڑھی میں کو ئی وبائی بیما ری ہو سکتی ہے ۔ 30 کا ہن کو وبا ئی مرض کو دیکھنا چا ہئے اگر یہ بیما ری چمڑے سے گہری ہو اور اس کے اطراف کے بال باریک اور پیلے ہوں تو کاہن کو کہنا چاہئے کہ وہ شخص ناپاک ہے ۔ یہ سر یا داڑھی کی بہت بُری جِلدی بیماری ہے ۔ 31 اگر بیماری جِلد سے گہری نہ معلوم ہو اور اُس میں کو ئی کالا بال نہ ہو تو اُسے سات دن کے لئے الگ کر دینا چاہئے ۔ 32 ساتویں دن کاہن کو وبائی بیماری کو دیکھنا چاہئے اگر بیماری پھیلی نہیں ہے یا اس میں پیلے بال نہیں اُ گ رہے ہیں اور بیماری جِلد سے گہرا نہیں ہے ۔ 33 تو اس شخص کو تمام بال منڈا لینا چاہئے۔ لیکن اسے بیماری کی جگہ پر اُگے ہوئے بال نہیں منڈانا چاہئے ۔ کاہن کو اس شخص کو اور سات دن کے لئے الگ کر نا چاہئے ۔ 34 ساتویں دن کاہن کو داغ کی جانچ کر نی چاہئے اور اگر مرض جِلد میں نہیں پھیلا ہے اور یہ جلد سے گہرا نہیں معلوم ہوتا ہے تو کاہن کو کہنا چاہئے کہ وہ شخص پاک ہے ۔ اس شخص کوا پنے کپڑے دھونے چاہئے اور وہ پاک ہو جائے گا ۔ 35 لیکن اگر اس شخص کے پاک ہو جانے کے بعد اس کے جلد میں مرض پھیلتا ہے ، 36 تو کاہن کو پھر اس شخص کو جانچ کر نا چاہئے اگر بیماری جلد میں پھیلی ہو تو کاہن کو پیلے بالوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ شخص ناپاک ہے ۔ 37 لیکن کاہن اگر یہ سمجھتا ہے کہ بیماری کا بڑھنا رک گیا ہے اور اس میں کالے بال اُ گ رہے ہیں تو وہ بیماری اچھی ہوگئی ہے اور تب وہ شخص پاک ہے ۔ کاہن کو کہنا چاہئے کہ وہ شخص پاک ہے ۔ 38 " جب کسی مرد یا عورت کے جِلد پر سفید داغ ہوں ، 39 تو کاہن کو ان داغوں کو دیکھنا چاہئے ۔ اگر اس شخص کی جِلد کے داغ دھندلے سفید ہیں تو یہ صرف بے ضرر سرخ داغ ہے اور وہ شخص پاک ہے ۔ 40 " کسی شخص کے سر کے بال جھڑ سکتے ہیں لیکن وہ پاک ہے یہ صرف گنجہ پن ہے ۔ 41 کسی آدمی کی سر کی پیشانی کا بال جھڑ سکتا ہے ، لیکن وہ پاک ہے ۔ یہ دوسری طرح کا گنجہ پن ہے ۔ 42 لیکن اگر کسی شخص کے پیشانی کے جِلد کے سامنے یا پیچھے سرخ یا سفید وبائی بیماری دکھا ئی دے تو یہ خطرناک جلدی بیماری ہے ۔ 43 کاہن کو اس شخص کی جانچ کرنی چاہئے اور اگر اس شخص کے جِلد میں وبائی مر ض کے چاروں طرف سوجن ہے جو کہ لال پن میں بدل چکا ہے لیکن سفید ہو اور کوڑھ جیسا معلوم پڑتا ہو، چا ہے کھوپڑی کے سامنے ہو یا پیچھے ہو تو یہ سمجھا جاتا ہے اس کے جلد پر خطرناک جلدی بیماری ہے ۔ وہ شخص ناپاک ہے ۔ کاہن کو اسے ناپاک کہنا چاہئے ۔ 44 45 " اگر کسی آدمی کو جلد کی چھوت کی بیماری ہو تب اُس شخص کو پھٹا ہوا لباس پہننا چاہئے اسے اپنے بالوں کو ٹھیک سے سنوارنا نہیں چاہئے ۔ اسے اپنا چہرہ کو ڈھانک کر رکھنا چاہئے ۔ اسے چلّا کر کہنا چاہئے " ناپاک ، ناپاک " جب تک وہ شخص اس خطرناک جِلدی بیماری سے ناپاک رہے گا اسے چھا ؤنی سے باہر رہنا چاہئے ۔ 46 جب تک کہ اس شخص کو وبائی بیماری رہے گی وہ شخص ناپاک رہے گا وہ شخص ناپاک ہے اس کی جگہ خیمہ کے باہر ہونی چاہئے ۔ 47 "کچھ کپڑوں پر پھپھوندی ہو سکتی ہے چاہے وہ اون کا بنا ہو یا کتان کا بنا ہو ۔ چاہے کپڑا بُن کر بنایا گیا ہو یا چمڑے کا بنا ہوا ہو ۔ 48 49 اگر پھپھوندی کسی بھی کپڑا یا چمڑا پر ہری یا لال ہو تو یہ پھپھوندی ہے ، اور کاہن کو اسے جانچ کر نی چاہئے ۔ 50 کاہن کو پھپھوندی دکھانی چاہئے اسے اس وبائی چیز کو سات دن تک الگ جگہ پر رکھنا چاہئے ۔ 51 ساتویں دن پھپھوندی کی جانچ کر نی چاہئے ۔ چاہے پھپھوندی چمڑا پر ہو یا کپڑا پر ہو ، چاہے کپڑا بُنا ہوا ہو یا کسی اور طریقے سے بنا یا گیا ہو ۔ اگر پھپھوندی پھیلتی ہے تو وہ کپڑا یا چمڑا نا پاک ہو جاتا ہے ۔ وہ پھپھوندی وبائی ہے ۔ کاہن کو اس کپڑے یا چمڑے کو جلا دینا چاہئے ۔ 52 53 " اگر کاہن دیکھے کہ پھپھوندی اس کپڑے یا چمڑے پر نہیں پھیلی ہے ، 54 تو کاہن کو لوگوں کو یہ حکم دینا چاہئے کہ وہ اس وباٹی کپڑے یا چمڑے کو دھو ئے تب کاہن کو اسے اور سات دنوں کے لئے الگ کر دینا چاہئے ۔ 55 تب پھر کاہن کو ان کپڑوں کو دھونے کے بعد جانچ کر نی چاہئے ۔ اگر پھپھوندی اب تک ہے اگر چہ وہ وبائی بیماری پھیلی نہیں ہے تب بھی وہ کپڑے ناپاک ہیں ۔ ان چیزوں کو جلا دینا چاہئے ۔ یہ ضروری نہیں کہ کپڑے کے کس طرف وبا ہوا تھا ۔ 56 " لیکن اگر کاہن دیکھتا ہے کہ دھونے کے بعد پھپھوندی پھیکی پڑ گئی ہے ۔ تو کاہن کو چمڑے یا کپڑے کی پھپھوندی سے متاثرہ اس حصہ کو پھاڑ دینا چاہئے ۔ 57 لیکن پھپھوندی اُس چمڑے یا کپڑے میں سے کسی پر بھی پھر سے پھیل سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھپھوندی بڑھ رہی ہے ۔ تب اس متاثرہ سامان کو جلادینا چاہئے ۔ 58 لیکن اگر دھونے کے بعد پھپھوندی اس سامان پر نہ پھیلتی ہو تو اسے پھر سے دھونا چاہئے ۔ " 59 کپڑا یا چمڑا پر ہونے والی پھپھوندی سے متعلق ، چاہے وہ کپڑا بُنا ہوا ہو یا کسی اور طریقے سے بنایا گیا ہو ، یہ اعلان کر نے کے لئے کہ پاک ہے یا ناپاک ہے یہی قانون ہے ۔

Leviticus 14

1 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " یہ قانون ان لوگوں کے لئے ہے جو جلد کی خطرناک بیماری میں مبتلاء ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو پاک قرار دیئے گئے ہیں ۔ " انہیں کاہن کے پاس لانا چاہئے ۔ 3 کاہن کو چھاؤنی کے باہر جانچ کر نے کے لئے جانا چاہئے ۔ اگر وبا میں مبتلا شخص جِلدی بیماری سے اچھا ہو گیا ہے ۔ 4 اگر ایسا ہوا ہے تو کاہن کو وبا سے مبتلا شخص کو یہ حکم دینا چاہئے : اسے دو چڑیا جو کہ زندہ اور رسماً پاک ہونا چاہئے ، دیودار کی لکڑی ، لال دھاگے کا ایک ٹکڑا اور زوفا کا پودا لانا چاہئے اس شخص کی پاکی کے لئے جو اچھا ہوا ہے ۔ 5 کاہن کو بہتا ہوا پانی کے اوپر مٹی کے کٹورہ میں ایک چڑیا ذبح کرنے کا حکم دینا چاہئے ۔ 6 پھر کاہن دوسرے چڑیا کو جو کہ ابھی زندہ ہے ، دیودار کی لکڑی کا ٹکڑا ، لال دھا گے کا ٹکڑا اور زوفا کا پودا کو لے گا ۔ کاہن کو اس چڑیا کو جو کہ زندہ ہے ۔ دیودار کی لکڑی ، لال دھاگے کاٹکڑا اور زوفا کا پودا کو اس چڑیا کے خون میں ڈ بونا چاہئے جسے بہتا ہوا پانی کے اوپر ذبح کیا گیا ہے ۔ 7 کاہن کو اس ِشخص کے اوپر جسے جِلد کی چھوت کی بیماری سے پاک کیا گیا ہے سات مرتبہ خون کو چھڑکنا چاہئے ۔ تب کاہن کو کہنا چاہئے کہ وہ شخص پاک ہے ۔ تب پھر کاہن کو اس چڑیا کو جو کہ زندہ ہے کھلے میدان میں اڑا دینا چاہئے ۔ 8 "تب اس شخص کو جو کہ اچھا ہوا ہے اپنا کپڑا دھونا چاہئے ، اپنے سارے بال کاٹنے چاہئے اور غسل کرنا چاہئے تب وہ پاک ہو جائے گا ۔ اس کے بعد وہ چھاؤنی میں داخل ہو سکتا لیکن اُسے اپنے خیمہ کے باہر سات دن تک رہنا چاہئے ۔ 9 ساتویں دن اُسے اپنے تمام بال کاٹ ڈالنے چاہئے اُسے اپنے سر ، داڑھی اور بھنویں کے سب بال بھی کٹوالینا چاہئے ۔پھر اُسے اپنے کپڑے دھونا چاہئے اور غسل کرنا چاہئے جب کہیں وہ آدمی پاک ہوگا ۔ 10 " آٹھویں دن ہر پاک شخص کو دو نر میمنے لینا چاہئے جن میں کوئی عیب نہ ہو ۔ اُسے ایک سال کی ایک مادہ میمنہ بھی لینی چاہئے جس میں کوئی عیب نہ ہو ۔ اسکے علاوہ اسے ۲۴ پیالے عمدہ تیل ملا آٹا اناج کی قربانی کے لئے لانا چاہئے ۔اسے ۳/۲پِنٹ زیتون کا تیل بھی لانا چاہئے ۔ 11 پاک قرار دینے والا کاہن کو اس شخص اور اُس کی قربانی کو خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر خدا وند کے سامنے رکھنا چاہئے ۔ 12 " کاہن ایک نر میمنہ کو جرم کی قربانی کے طور پر تیل کے ساتھ پیش کرے گا ۔ اسے وہ سب لہرانے کے نذرانے کے طور پر خدا وند کے سامنے پیش کرنا چاہئے ۔ 13 تب کاہن اس نر میمنہ کو اس مقدس جگہ میں ذبح کریگا جہاں پر جلانے کی قربانی کو ذبح کیا گیا تھا ۔ جر م کی قربانی پیش کئے گئے گناہ کی قربانی کی مانند ہے ۔ یہ قربانی جرم کی قربانی کی طرح کاہن کی ہوگی ۔ اور یہ سب سے مقدّس نذرانہ ہے ۔ 14 " کاہن جرم کی قربانی کا تھوڑا خون لے گا اور پھر اسے پاک کئے گئے آدمی کے دائیں کان کی لَو پر لگائے گا ۔ کاہن تھوڑا خون اُس آدمی کے دائیں ہاتھ کے انگو ٹھے اور دائیں پیر کے انگوٹھے پر لگائے گا ۔ 15 کا ہن زیتون کا کچھ تیل بھی لے کر اپنی بائیں ہتھیلی پر ڈالے گا ۔ 16 پھر کاہن اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں رکھے ہو ئے تیل میں ڈبوئے گا ۔ وہ اپنی انگلی کا استعمال اس تیل کو خدا وند کے سامنے سات بار چھڑکنے کے لئے کریگا ۔ 17 تب کاہن تھوڑا تیل اپنے بائیں ہتھیلی سے لیگا اور اسے اس شخص کے داہنے کان کے لَو ،داہنے ہاتھ کے انگوٹھا اور داہنے پیر کے انگوٹھے پر لگائے گا جسے کہ پاک کر نا ہے ۔ وہ اس تیل کو خون کے اوپر ڈالے گا جیسا کہ اس نے جرم کی قربانی کے ساتھ کیا تھا ۔ 18 کاہن اپنی ہتھیلی میں بچا ہوا تیل پاک کئے جانے والے آدمی کے سر پر لگائے گا ۔ اس طرح کاہن اس آدمی کے گناہ کا خدا وند کے سامنے کفّارہ ادا کرے گا ۔ 19 " اسکے بعد کاہن کو گناہ کی قربانی پیش کرنا چاہئے ۔ اس طرح سے وہ اسکے لئے جسے نا پاکی سے پاک کیا جارہا ہے کفّارہ ادا کرا تا ہے ۔ اسکے بعد کاہن جلانے کی قربانی کے لئے جانور ذبح کرے گا ، 20 جلانے کی قربانی اور اناج کی قربانی کو قربان گاہ پر پیش کرے گا ۔ اس طرح کاہن اس شخص کا کفّارہ ادا کرے گا اور وہ پاک ہے ۔ 21 " لیکن اگر کوئی شخص غریب ہے اور وہ مالی اعتبار سے ان قربانیوں کو دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے ، تو اسے ایک نر میمنہ جرم کی قربانی کے لئے ، لہرانے کی قربانی کے لئے ، اپنا کفّارہ دینے کے لئے اور تیل ملا ہوا آٹھ پیالہ باریک آٹا جو اناج کی قربانی کے لئے ہے ، اسکے ساتھ لانا چاہئے ، اسے دو تہائی پِنٹ زیتون کا تیل بھی لینا چاہئے ۔ 22 اور پاک کیا ہوا شخص کوا دو کبوتر کے بچّے یا دو فاختہ کے بچّے جس کی بھی استطاعت وہ رکھتا ہو لانا چاہئے ۔ ایک چڑیا گناہ کی قربانی اور دوسری چڑیا جلانے کی قربانی کے لئے ہوگی ۔ 23 " آٹھویں دن پاک کیا ہوا شخص پاکی کے ان چیزوں کو خدا وند کے سامنے خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر کاہن کے آگے لائے گا ۔ 24 کاہن تیل اور میمنہ کو جرم کی قربانی کے لئے اٹھائے گا ۔ اور اسے خدا وند کے سامنے لہرانے کے نذرانے کے طور پر پیش کریگا ۔ 25 کاہن جر م کی قربانی کے میمنہ کو ذبح کرے گا وہ اس کا تھو ڑا خون لیگا اور اسے پاک کئے گئے شخص کے کان کے لَو میں لگائے گا ۔ اور اس میں سے کچھ داہنے ہاتھ کے انگوٹھے پر اور داہنے پیر کے انگوٹھے پر بھی لگائے گا ۔ 26 " کاہن اس تیل میں سے کچھ اپنی بائیں ہتھیلی میں بھی ڈالے گا۔ 27 کاہن اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی سے اپنی بائیں ہاتھ کے ہتھیلی سے کچھ تیل لیکر خدا وند کے سامنے سات بار چھڑ کے گا ۔ 28 تب کاہن اپنی ہتھیلی سے کچھ تیل کو لیکر انہیں جگہوں پر لگائے جہاں اس نے جرم کی قربانی کا خون لگایا تھا وہ تیل کو پاک کئے جانے والے شخص کے دائیں کان کے لَو پر، کچھ تیل اس کے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور دائیں پیر کے انگوٹھے پر بھی لگائے گا ۔ 29 کاہن کو اپنی ہتھیلی کے بچے ہوئے تیل کو پاک کئے جانے والے شخص کے سر پر اس شخص کے لئے خدا وند کے سامنے کفّارہ ادا کر نے کے لئے ڈالنا چاہئے ۔ 30 " تب اس شخص کو فاختاؤں میں سے ایک فاختہ یا کبوتر میں سے ایک کبوتر ، جس کی بھی وہ استطاعت رکھتا ہو پیش کرنا چاہئے ۔ 31 اُسے پرندوں میں سے ایک کو گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کرنی چاہئے اور دوسرے پرندہ کو جلانے کی قربانی کے طور پر پیش کرنا چاہئے ۔ اُسے پرندوں کو اناج کی قربانی کے ساتھ پیش کرنی چاہئے ۔ اس طرح کاہن خدا وند کے سامنے پاک کئے گئے شخص کے گناہ کا کفّارہ ادا کرے گا ۔" 32 جلد کی خطرناک بیماری سے اچھا ہونے کے بعد کسی شخص کو پاک کرنے کے لئے یہ قانون ہے ۔ یہ قوانین ان لوگوں کے لئے ہے جو پاک ہونے کے لئے معمول کے مطابق قربانی پیش کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں ۔ 33 خدا وند نے موسیٰ اور ہارون سے یہ بھی کہا ، 34 " میں تمہارے لوگوں کو ملک کنعان دے رہا ہوں ۔ جب تمہارے لوگ پہنچیں گے ، اور اگر میں گھروں میں سے ایک میں پھپھوندی پھیلادوں ، 35 تو اُس گھر کے مالک کو کاہن کے پاس آکر کہنا چاہئے ، ' میں نے اپنے گھر میں پھپھوندی جیسی کوئی چیز دیکھی ہے ۔ ' 36 " گھر کے مالک کو کاہن کے دیکھے جانے سے پہلے ہی گھر کو خالی کر دینا چاہئے تا کہ گھر کا سارا سامان ناپاک نہ ہوجائے ۔ تب کاہن اسکا گھر جانچ کرنے کے لئے جائے گا ۔ 37 کاہن پھپھوندی کا جانچ کرے گا ۔ اگر پھپھوندی نے گھر کی دیواروں پر ہرے یا لال رنگ کے چکتے بنا دیئے ہوں اور پھپھوندی دیوار کی سظح کے نیچے بڑھ رہی ہو ، 38 تو کاہن کو گھر سے باہر نکل آنا چاہئے اور سات دن کے لئے گھر کو تالا لگاکر بند کر دینا چاہئے ۔ 39 "ساتویں دن کاہن کو وہاں پھر جانا چاہئے اور اس کی جانچ کرنا چاہئے ۔ اگر گھر کی دیواروں پر پھپھوندی پھیل گئی ہے، 40 تو کاہن کو پھپھوندی کو پتھّر سمیت جس پر کہ یہ ہے باہر نکال لینے کاحکم دینا چاہئے اور اسے شہر سے باہر دور ناپاک جگہ میں پھینک دینا چاہئے ۔ 41 تب کاہن کو دیواروں کے پلستر کو کھرُچنے کا کا حکم دینا چاہئے ۔ اور اسے کھُر چے ہوئے پلستر کو شہر کے باہر دور ناپاک جگہ میں پھینک دینا چاہئے ۔ 42 تب لوگوں کو نئے پتھر دیواروں میں لگانے چاہئے اور اُسے اُن دیواروں میں نئے سِرے سے پلستر کرنا چاہئے ۔ 43 " اگر کوئی شخص پرانے پتھروں اور پلستر کو نکال کر اس جگہ پر نئے پتھروں اور پلستر کو لگائے ، اور پھپھوندی اس گھر میں پھرسے ظاہر ہو جا ئے۔ 44 تب کا ہن کو آکر اس گھر کی جانچ کرنی چا ہئے اگر پھپھوندی گھر میں پھیل گئی ہے تو یہ بیماری گھر میں سرایت کرچکی ہے اور ناپاک ہوچکا ہے ۔ 45 اس حالت میں پورا گھر گرادینا چاہئے ۔ اور انہیں پتھروں کو ،پلستروں کو اور لکڑی کے ٹکڑوں کو شہر کے باہر ناپاک جگہ پر لے جانا چاہئے ۔ 46 اور اگر کوئی شخص ناپاک گھر میں داخل ہوتا ہے جب وہ گھر بند رہتا ہے تو وہ شخص بھی شام تک نا پاک ہو جائے گا ۔ 47 اگر کوئی شخص اس میں کھانا کھاتا ہے یا اُس میں سوتا ہے تو اس شخص کو اپنے کپڑے دھونے چاہئے ۔ 48 گھر کو نئے پتھر سے پھر سے بنانے اور نئے سِرے سے پلستر کرنے کے بعد کاہن کو گھر کی جانچ کرنی چاہئے ۔ اگر پھپھوندی نہیں پھیلی ہے تو کاہن اعلان کرے گاکہ گھر پاک ہے کیوں کہ پھپھوندی ختم ہوگئی ہے ۔ 49 " تب گھر کو پاک کرنے کے لئے دو پرندے ایک دیودار کی لکڑی کا ٹکڑا ایک لال دھاگے کا ٹکڑا اور کچھ زوفا کا پودا لینا چاہئے ۔ 50 کاہن بہتے ہوئے پانی کے اوپر مٹّی کے کٹورے میں ایک چڑیا کو ذبح کرے گا ۔ 51 تب کاہن کو دیودار کی لکڑی کا ٹکڑا ،لال رنگ کے دھا گے کا ایک ٹکڑا اور زندہ چڑیا کو لینا چاہئے اور اُسے اور ان چیزوں کو بہتے ہوئے پانی کے اوپر ذبح کئے گئے چڑیا کے خون میں ڈبونا چاہئے۔ تب وہ اس خون کو اُس گھر میں سات مرتبہ چھڑ کے گا ۔ 52 اس طرح سے کاہن چڑیا کے خون اور پانی سے ،زندہ چڑیا سے ،دیودار کی لکڑی سے اور زوفا کے پودا سے گھر کو پاک کرے گا ۔ 53 تب کاہن دوسری چڑیا کو شہر کے باہر میدان میں اُڑادیگا ۔ اس طرح وہ گھر کا کفّارہ ادا کرے گا اور یہ پاک ہوجائے گا ۔" 54 پھپھوندی اور کوڑھ کی بیماری کے لئے ، 55 چاہے گھر میں ہوں یا کپڑوں میں ، 56 چمڑے کی سوجن کے لئے ،چمڑے پر سرخ داغ یا چمکیلے دھبّے کے لئے یہ سب اُصول ہیں ۔ 57 یہ سب اصول ہمیں سکھا تے ہیں کہ چیزیں کب ناپاک ہیں اور کب پاک ہیں ۔ یہ سب اصول اس طرح کی خطرناک بیماریوں سے متعلق ہیں ۔

Leviticus 15

1 خداوند نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں سے کہو : جب کسی شخص کو تولیدی اخراج ہو تا ہے تو وہ نا پاک ہے ۔ 3 اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا ہے اخراج رُک گیا ہو یا اخراج جا ری ہو ۔ دونوں حالت میں وہ نا پاک ہے ۔ 4 " اگر کسی شخص کو اخراج ہو تا ہے اور وہ کسی چیز پر سوتا ہے یا بیٹھتا ہے تو وہ نا پاک ہو جا تا ہے ۔ 5 اگر کو ئی شخص اُس کے بستر کو چھُوتا ہے تو اُ سے کپڑوں کو دھونا چا ہئے اور پانی سے نہا نا چا ہئے ۔ وہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ 6 اگر کو ئی شخص اس شخص کے سیٹ( نشست) پر بیٹھتا ہے جس شخص کا اخراج ہو ا ہے تو اُ سے اپنے کپڑوں کو دھونا اور پانی سے نہا نا چا ہئے ۔ وہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ 7 اگر کو ئی شخص اس شخص کی جِلد کو چھُو تا ہے جس کو خارج ہوا ہے تو اسے اپنے کپڑوں کو دھو نا اور پانی سے نہانا چا ہئے ۔ وہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ 8 اگر وہ شخص جسے خارج ہوا ہے کسی شخص پر تھوکتا ہے تو اسے بعد میں اپنے کپڑے دھو نے چا ہئے اور نہا نا چا ہئے ۔ یہ اس طرح کا شخص شام تک ناپاک رہے گا ۔ 9 اگر کو ئی شخص جس کا خارج ہوا ہے سواری کرتے وقت کسی بھی چیز پر بیٹھتا ہے تو نا پاک ہو جا تا ہے ۔ 10 اگر کو ئی شخص کسی چیز کو جو کہ اس کے نیچے ہو چھو تا ہے تو وہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ کو ئی شخص جو ان چیزوں میں سے کسی بھی چیز کو لے جا تا ہے تو اسے اپنے کپڑ ے دھونا چاہئے اور پانی سے نہانا چا ہئے ۔ وہ شام تک نا پاک رہیگا ۔ 11 " اگر کسی شخص کو اخراج ہو جاتا ہے اور وہ بغیر ہا تھ دھو لے کسی چیز کو چھُو لیتا ہے تو اسے اپنے کپڑوں کو دھونا چا ہئے اور اسے پانی سے غسل کرنا چا ہئے ۔ وہ شام تک نا پاک ر ہیگا ۔ 12 وہ شخص اگر کوئی مٹّی کا کٹورا چھُولے تو وہ کٹورا کو پھوڑدینا چاہئے ۔ اگر وہ شخص کو ئی لکڑی کا برتن چھو ئے تو اس کٹورے کو پانی میں اچھی طرح دھونا چا ہئے ۔ 13 اگر کسی شخص کا خارج بند ہو جا ئے تو اسے سات دن تک انتظار کرنا چا ہئے اور ہر ایک دن اسے یہ جانچ کرنی چاہئے کہ اسے اور خارج نہیں ہو تا ہے ۔ تب پھر اسے کپڑوں کو دھونا چا ہئے اور بہتے ہو ئے پانی میں غسل کرنا چا ہئے ، وہ پاک ہو جا ئے گا ۔ 14 " آٹھویں دن اس شخص کو دو فاختے یا دو کبوتر کے بچے لینا چا ہئے ۔ اُسے خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر خداوند کے سامنے لانا چا ہئے ۔ اسے ان سب کو کا ہن کو دینا چا ہئے ۔ 15 کا ہن انکی قربانی چڑھا ئے گا ۔ ایک کو گنا ہ کی قربانی کے لئے اور دوسرے کو جلانے کی قربانی کے لئے ۔ اس طرح کا ہن اُس شخص کے لئے خداوند کے سامنے اس کی اخراج کے لئے کفارہ دیگا ۔ 16 " اگر کسی شخص کی منی بہتی ہے تو اس کو اپنے پو رے جسم کو پانی سے دھو نا چاہئے ۔ وہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ 17 اگر منی کسی کپڑے یا چمڑے پر ہو تو وہ کپڑا یا چمڑا پانی سے دھونا چا ہئے ۔ وہ شام تک نا پاک ہے گا ۔ 18 اگر کو ئی آدمی کسی عورت کے ساتھ سوتا ہے اور منی نکلتی ہے تو وہ عورت ومرد دونو ں کو بہتے ہو ئے پانی میں نہانا چاہئے ۔ وہ شام تک نا پاک رہیں گے ۔ 19 " اگر کو ئی عورت کو ماہوا ری خون بہتا ہے تو وہ سات دن تک نا پاک رہے گی ۔ اگر کو ئی شخص اسے چھوُ تا ہے تو وہ آ دمی شام تک نا پاک رہے گا ۔ 20 اپنی ماہواری کے ایّام کے دوران میں عورت جس کسی چیز پر لیٹے گی یا بیٹھے گی وہ نا پاک ہو جا ئے گی ۔ 21 اگر کو ئی شخص اس عورت کے بستر کو چھُوتا ہے تو اسے اپنے کپڑو ں کو پانی میں دھو نا اور نہانا چا ہئے ۔ و ہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ 22 اگر کو ئی شخص کسی چیز کو چھُوتا ہے جس پر وہ عورت بیٹھی تھی تب اسے اپنے کپڑے دھونا چا ہئے اور پانی میں نہانا چا ہئے ۔ وہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ 23 یہ اس کے بستر یا کسی بھی چیز جس پر کہ وہ بیٹھتی ہے اس کو چھو نے سے متعلق ہے ۔ وہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ 24 " اگر کو ئی آدمی کسی عورت کے ساتھ ایام ماہواری کے وقت جنسی تعلق کرتا ہے تو اسکی ماہوا ری کی نا پا کی اس میں چلی جاتی ہے اور وہ آدمی سات دن تک نا پاک رہے گا ۔ اور جس بستر پر بھی وہ سو تا ہے نا پاک ہو جا تا ہے ۔ 25 " اگر کسی عورت کو ایّام ماہواری چھوڑکر بہت دنوں تک ماہواری کا خون بہتا ہے ، یا اگر یہ اسکی ماہواری کا ایّام نہیں ہے اور اس کو ایّام ماہوا را کے دوران کی طرح خون کا بہنا مسلسل جا ری رہتا ہے تو وہ اس وقت تک نا پاک رہے گی جب تک کہ خون کا بہنا رُک نہ جا ئے ۔ 26 جب اسے ماہواری کا خون بہتا ہے اور اس دوران وہ کسی بھی بستر پر سوتی ہے یا کسی بھی جگہ پر بیٹھتی ہے تو یہ نا پاک ہو جا تا ہے ۔ اسی طرح سے جس طرح کے معمول کے مطا بق ہو نے وا لے ماہواری کے ایّام کے دوران ہو تا ہے ۔ 27 " اگر کو ئی شخص ان چیزوں کو چھوُ تا ہے تو وہ نا پاک ہو جا تا ہے ۔ اس آدمی کو پانی سے اپنے کپڑے دھونا چا ہئے اور نہانا چا ہئے ۔ وہ شام تک نا پاک رہیگا ۔ 28 " اس کے بعد جب عورت ایّام ماہواری سے فارغ ہو جا تی ہے تب اسے سات دن گِننے چا ہئے ۔ اس کے بعد وہ پاک ہو گی ۔ 29 پھر آٹھویں دن اسے دو فاختے یا دو کبوتر کے بچے لینے چا ہئے ۔ اور اسے خیمٴہ اجتماع کے درواز ہ پر کا ہن کے پاس لا نا چا ہئے ۔ 30 پھر کا ہن کو ایک چڑیا کو گنا ہ کی قربانی کے طور پر اور دوسرے کو جلانے کی قربانی کے طور پر چڑھانا چا ہئے ۔ اس طرح وہ کا ہن خداوند کے سامنے اس کے ایّام کی نا پاکی کے لئے کفّارہ ادا کرے گا ۔ 31 " اس لئے تم بنی اسرائیلوں کو نا پاک ہو نے اور ان کی نا پا کی سے دور رہنے کے متعلق ہو شیار کرنا ۔ اگر تم لوگوں کو ہوشیار نہیں کر تے تو وہ میرے مقدس خیمہ کو نا پاک کر سکتے ہیں اور پھر انہیں مرنا ہو گا ۔" 32 یہ اُصول ان لوگوں کے لئے ہے جس کا تولیدی اخراج ہوا ہو یا انلوگوں کے لئے ہے جو منی کے نکلنے سے نا پاک ہو تے ہیں، 33 ان عورتوں کے لئے ہے جو اپنے ایّام ماہواری کے بہنے سے نا پاک ہو جا تی ہے ، اور کسی بھی مرد یا عورت کے لئے جس کا اخراج ہو، ان آدمیوں کے لئے جو کہ کسی بھی نا پاک عورت کے ساتھ سونے کی وجہ سے نا پاک ہو جا تا ہے ۔

Leviticus 16

1 ہا رون کے دو بیٹے خداوند کو نذرانہ پیش کر تے وقت مر گئے تھے تب اس کے بعد موسیٰ نے خدا وند سے کہا ، " 2 خدا وند نے کہا ،" اپنے بھی ئی ہارون سے بات کرو کہ وہ جب چاہے پردہ کے پیچھے مقّدس ترین جگہ میں مقدّس صندوق کے سرپوش (ڈھکن) کے سامنے نہیں جا سکتا ۔ ورنہ وہ مرجائے گا ۔ یہ اسلئے کہ میں بادل میں اس رحم کے نشست کے اوپر ظا ہر ہوتا ہوں ۔ 3 ہارون جب مقدّس ترین جگہ میں جاتا ہے تو اسے گناہ کی قربانی کے طور پر ایک بچھڑا اور جلانے کی قربانی کے لئے ایک مینڈھا قربانی دینا چاہئے ۔ 4 ہارون اپنے پورے جسم کو پانی ڈال کر دھوئے گا ۔ پھر ہارون ان سب کپڑوں کو پہنے گا : ہارون پٹ سن (پاٹ) سے بنے مقدس قمیض کو پہنے گا۔ پٹ سن سے بنے اندرونی لباس جسم سے لگے ہوں گے ۔ وہ پٹ سن سے بنے کمر بند کو پہنے گا ۔ ہارون سن کی پگڑی باندھے گا یہ سب مقدّس لباس ہے ۔ 5 " ہارون کو بنی اسرائیلیوں کے لئے دو بکرے گناہ کی قربانی کے طور پر اور ایک مینڈھا جلانے کی قربانی کے لئے لینا چاہئے ۔ 6 اس لئے ہارون ایک بیل کو اپنے گناہ کی قربانی کے لئے اپنے اور اپنے خاندان کے کفّارے کے لئے قربانی کے طور پر پیش کرے گا ۔ 7 " اُس کے بعد ہارون دو بکرے کو لیگا اور اسے خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر خدا وند کے سامنے لائے گا ۔ 8 پھر ہارون دونوں بکروں کے لئے قرعہ ' ڈ الے گا ۔ ایک خدا وند کے لئے اور دوسرے عزازیل کے لئے 9 " تب ہارون قرعہ ڈال کر چُنے گئے بکرے کو خدا وند کے لئے گناہ کی قربانی کے طور پر قربانی دیگا ۔ 10 لیکن قرعہ ڈال کر عزازیل کے لئے چُنا گیا بکرا خدا وند کے سامنے زندہ لایا جانا چاہئے ۔ تب یہ بکرا ریگستان میں عزازیل کے پاس کفّارہ دینے کے لئے بھیجا جائے گا ۔ 11 تب ہارون اپنے لائے ہوئے بیل کو گناہ کی قربانی کے طور سے چڑھا ئے گا ۔ اس طرح سے ہارون اپنے اور اپنے خاندان کے لئے کفّارہ ادا کریگا ۔ ہارون بیل کو اپنے لئے گناہ کی قربانی کے طور پر ذبح کرے گا ۔ 12 تب ایک بخور دان کو خدا کے سامنے کے قربان گاہ کے کوئلے کے آ گ سے بھر کر لانا چاہئے ۔ ہارون کو ایک مٹھی خوشبودار بخور لانا چاہئے اور یہ اسے پردہ کے پیچھے کے کمرہ میں لانا چاہئے ۔ 13 تب ہارون کو بخور آ گ میں ڈالنا چاہئے اور میٹھی خوشبو جو کہ اس سے نکلتی ہے سر پوش کو جو کہ معاہدہ کے صندوق پر ہے ڈھک لیگا ۔ 14 ساتھ ہی ساتھ ہارون کو بیل کا کچھ خون لینا چاہئے اور اُسے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف سر پوش پر چھڑکنا چاہئے ۔ اس طرح سے ہارون خون کو یہ اپنی انگلی سے سات بار چھڑ کے گا ۔ 15 " تب ہارون کو لوگوں کے لئے گناہ کے نذرانے کے طور پر بکرا کو ذبح کرنا چاہئے ۔ ہارون کو اس بکرے کا خون پر دہ کے پیچھے لانا چاہئے ۔ ہارون کو بکرے کے خون کو چھڑکنے کا وہی عمل کرنا چاہئے جیسا بیل کے خون سے اس نے کیا ۔ ہارون کو سر پوش اور اسکے سامنے بکرے کا خون چھڑکنا چاہئے ۔ 16 اس لئے ہارون مقدس جگہ کے لئے ،اور اسرائیلیوں کے ناپاکی اور جرم کے لئے اور انکے تمام گناہوں کے لئے کفّارہ ادا کرے گا۔ اسے یہ پورے خیمہٴ اجتماع کے لئے کرنا چاہئے جو کہ ان لوگوں کے ساتھ انکے ناپاکی میں رہا ۔ 17 جس وقت ہارون مقدس ترین جگہ میں داخل ہو اس وقت کوئی آدمی خیمہٴ اجتماع میں نہیں ہونا چاہئے ۔ کسی شخص کو اس کے اندر اس وقت تک نہیں جانا چاہئے جب تک کہ ہارون باہر نہ آجائے ۔ اس طرح ہارون اپنے آپ اور اپنے خاندان کے لئے اور سبھی بنی اسرائیلیوں کے لئے کفارہ دیگا ۔۔ 18 اس کے بعد ہارون قربان گاہ کے پاس جائے گا اور اس کے لئے خدا وند کے سامنے کفارہ ادا رے گا ۔ہارون کو بیل کا اور بکرے کا بھی تھوڑا سا خون لینا چاہئے اور اسے قربان گاہ کے چاروں کونوں میں لگانا چاہئے ۔ 19 پھر ہارون تھوڑا خون اپنی انگلی سے قربان گاہ پر سات بار چھڑ کے گا اس طرح ہارون بنی اسرائیلیوں کے نا پاکی سے قربان گاہ کو پاک اور مقدّس کرے گا ۔ 20 " جب ہارون مقدس ترین جگہ ، خیمہٴ اجتماع اور قربان گاہ کو پاک کردے گا ۔ تب وہ خدا وند کے پاس بکرے کو زندہ لائے گا ۔ 21 ہارون اپنے دونوں ہاتھوں کو زندہ بکرے کے سر پر رکھے گا ۔ تب ہارون بکرے کے اوپر بنی اسرائیلیوں کے قصور اور گناہ کا اقرار کرے گا ۔ اس طرح ہارون بنی اسرائیلیوں کے گناہوں کے بوجھ کو بکرے کے سر پر ڈالے گا تب وہ بکرے کو دور ریگستان میں بھیجے گا۔ ایک چُنا ہوا شخص اسے وہاں لے جائے گا ۔ 22 اس طرح سے بکرا سبھی بنی اسرائیلیوں کے گناہ اپنے اوپر ریگستان میں لے جائے گا ۔ جو شخص بکرے کو ہانکتا ہے وہ اسے ریگستان میں چھوڑ دیگا ۔ 23 " تب ہارون خیمہٴ اجتماع میں جائے گا ۔ وہ پٹ سن کے ان کپڑوں کو اتارے گا جنہیں اس نے مقدس ترین جگہ میں جاتے وقت پہنا تھا ۔ اُسے اُن کپڑوں کو وہیں چھوڑنا چاہئے ۔ 24 وہ اپنے پورے جسم کو مقدس جگہ میں پانی سے دھو ئے گا ۔ تب وہ اپنے دوسرے کپڑوں کو پہنے گا ۔ وہ باہر آکر اپنے لئے جلانے کی قربانی اور دوسرے جلانے کی قربانی لوگوں کے لئے پیش کرے گا ۔ وہ اپنے لئے اور لوگوں کے لئے کفّارہ دیگا ۔ 25 تب وہ قربان گاہ پر گناہ کی قربانی کی چربی کو جلائے گا ۔ 26 " جو شخص بکرے کو عزازیل کے پاس لے جائے اسے اپنے کپڑے اور اپنے تمام جسم کو پانی سے دھونا چاہئے ۔ اس کے بعد وہ چھاؤ نی میں آسکتا ہے ۔ 27 " تب گناہ کی قربانی کے بیل اور بکرے کو جس کے خون کو مقدس جگہ میں کفّارہ کے لئے پیش کیا گیا تھا چھا ؤنی سے باہر لانا چاہئے ۔وہاں پر وہ لوگ ان جانوروں کا چمڑا گوشت اور جسم کے بیکار حصّوں کو آ گ میں جلائیں گے ۔ 28 تب ان چیزوں کے جلانے والے شخص کو اپنے کپڑے اور پورے جسم کو پانی سے دھونا چاہئے ۔ اس کے بعد وہ شخص چھاؤنی میں آسکتا ہے ۔ 29 یہ اُصول تمہارے لئے ہمیشہ لاگو رہے گا ۔ ساتویں مہینے کے دسویں دن تمہیں روزہ رکھنا چاہئے ۔ تمہیں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے ۔ شہریوں اور غیر ملکیوں دونوں کو تمہارے ساتھ رہنا چاہئے ۔ 30 کیوں کہ اس دن تمہارے لئے کفارہ ادا کیا جائے گااور تم اپنے گناہوں سے پاک ہو جاؤ گے ۔ تب تم خدا وند کے سامنے پاک ہو گے ۔ 31 یہ دن تمہارے لئے پورا آرام کر نے کے لئے بنایا گیا ہے ۔ تمہیں اس دن روزہ رکھنا چاہئے یہ اُصول ہمیشہ رہے گا ۔ 32 " وہ شخص جو اعلیٰ کاہن کے لئے چُنا جائیگا جو اپنے باپ ہارون کا جانشیں ہوگا کفّارہ دیگا ۔ اسے مقدس کتانی لباس پہننا چاہئے ، 33 اور اسے مقدس خیمہٴ اجتماع ، قربان گاہ، کاہن اور تمام بنی اسرائیلیوں کے لئے کفّارہ دینا چاہئے ۔ 34 بنی اسرائیلیوں کے لئے کفارہ دینے کا یہ اُصول ہمیشہ رہے گا ۔ بنی اسرائیل اپنے گناہوں کے لئے کفارہ کے لئے سال میں ایک بار اس رسم کو ادا کریں گے ۔" اس لئے انہوں نے وہی کیا جو خدا وند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔

Leviticus 17

1 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ! 2 " ہارون ، اسکے بیٹوں اور سبھی بنی اسرائیلیوں سے کہو کہ خدا وند نے یہ حکم دیا ہے : 3 اگر کوئی اسرائیلی شخص کسی بیل یا میمنہ یا بکرے کو چھاؤنی میں یا چھاؤنی کے باہر ذبح کرتا ہے ، 4 تو اس شخص کو اُس جانور کو خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر خدا وند کو تحفہ کے طور پر پیش کرنے کے لئے لانا چاہئے ورنہ وہ شخص جانور کا خون بہانے کا قصور وار تصوّر کیا جائے گا ۔اس کو اپنے لوگوں سے الگ کر دیا جائیگا ۔ 5 یہ شریعت اس لئے ہے کہ لوگ اپنا ہمدردی کا نذرانہ خدا وند کو پیش کریں ۔ اسرائیلیوں کو ان جانوروں کو جنہیں انہوں نے کھیت میں ذبح کئے خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر کاہنوں کے پاس لانا چاہئے اور انہیں امن و امان کے نذ رانے کے طور پر خدا وند کو پیش کرنا چاہئے ۔ 6 تب کاہن کو ان جانوروں کے خون کو خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر خدا وند کی قربان گاہ پر اُنڈیلنا چاہئے ۔ اور اس لئے وہ ان جانوروں کی چربی کو قربان گاہ پر خدا وند کو خوش کرنے والی خوشبو کے طور پر پیش کر سکتا ہے ۔ 7 انہیں آئندہ کبھی ان، بکرے کے مورتیوں ، کی جن پر توکّل کر تے ہیں قربانی نہیں کرنی چاہئے ۔ جن کے پیچھے وہ لوگ طوائفوں کی طرح بھاگتے ہیں ۔ یہ اصول ہمیشہ انکی نسل در نسل رہے گا ۔ 8 " لوگوں سے کہو : اسرائیل کا کوئی شہری یا کوئی غیر ملکی جو تم لوگوں کے درمیان رہتا ہے جلانے کی قربانی یا کوئی دوسری قربانی پیش کرتا ہے ، 9 اور خیمہٴ اجتماع کے دروازہ پر لے جاکر خدا وند کو پیش کرتا ہے تو اسے اس کے لوگوں میں سے الگ کر دیا جائے گا ۔ 10 " میں (خدا ) ہر ایسے شخص کے خلاف ہوں گا ۔جو خون کھا تا ہے چاہے وہ اسرائیل کا شہری ہو یا وہ تمہارے درمیان رہنے والا کوئی غیر ملکی ہو ۔ میں اس شخص کو اس کے لوگوں سے الگ کر دونگا ۔ 11 کیوں کہ جانداروں کی زندگی کے لئے خون ضروری ہے ۔ میں نے تم سے کہا ہے کہ اپنا کفّارہ ادا کر نے کے لئے اسے قربان گاہ پر چھڑکنے کے اصول کا پالن کرو ۔ یہ زندگی دینے والا خون ہے جو کفّارہ دیتا ہے ۔ 12 اس لئے میں نے بنی اسرائیلیوں سے کہا کہ نہ تو تم لوگوں میں سے کسی کو اور نہ ہی تمہارے درمیان رہنے والے کسی غیر ملکی کو خون کبھی کھا نا چاہئے ۔ 13 اگر کوئی آدمی کسی جنگلی جانور یا چڑیا کا جسے کہ کھا یا جاسکتا ہے شکار کرتا ہے اور اسے ذبح کر تا ہے ، تو اُس آدمی کو خون زمین پر بہا دینا چاہئے اور مٹی سے اُسے ڈھک دینا چاہئے ۔ چاہے وہ آدمی اسرائیل کا شہری ہو یا تمہارے درمیان رہنے والا غیر مُلکی ۔ 14 تمہیں یہ کیوں کرنا چاہئے ؟ کیوں کہ اگر خون اب بھی گوشت میں ہے ۔ اِس لئے میں بنی اسرائیلوں کو حکم دیتا ہوں اُس گوشت کو مت کھاؤ جس میں خون ہو ۔ کوئی بھی آدمی جو خون کھا تا ہے اسے اپنے لوگوں سے الگ کر دیا جائے گا ۔ 15 " اگر کوئی شخص خود سے مرے ہوئے جانور یا کسی دوسرے جانور کے ذریعہ مارے گئے جانور کو کھا تا ہے ، چاہے وہ شخص اسرائیلی ہو یا ان لوگوں کے درمیان رہنے والا غیر ملکی ،اس طرح کے آدمی کو اپنے کپڑوں اور اپنے پورے جسم کو پانی سے دھونا چاہئے تب وہ شام تک نا پاک رہے گا ۔ تب وہ پاک ہوگا ۔ 16 اگر کوئی آدمی اپنے کپڑوں کو نہیں دھو تا اور نہ ہی نہاتا ہے تو وہ گناہ کر نے کا قصور وار ہوگا ۔ "

Leviticus 18

1 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ' 2 " بنی اسرائیلیوں سے کہو میں تمہارا خدا وند ہوں ۔ 3 یہاں آنے کے پہلے تم لوگ مصر میں تھے ۔ تمہیں وہ نہیں کرنا چاہئے جو وہ لوگ وہاں کرتے ہیں ۔ میں تم لوگوں کو کنعان لے جا رہا ہوں ۔ تم لوگوں کو وہ نہیں کرنا چاہئے جو تم لوگوں نے اس ملک میں کئے ۔ اور تم لوگوں کو ان کی شریعت پر عمل نہیں کر نی چاہئے ۔ 4 تمہیں میری شریعت پر عمل کرنی چاہئے اور میرے اصولوں پر رہ کر اس کے مطابق سلوک کر نا چاہئے ۔ میں خدا وند تمہارا خدا ہوں ۔ 5 اس لئے تمہیں میرے اصولوں اور فیصلوں پر عمل کرنا چاہئے ۔ اور اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو وہ انکے بدولت جئے گا ۔ میں خدا وند ہوں ۔ 6 " تمہیں تمہارے اپنے قریبی رشتہ داروں سے کبھی جنسی تعلقات نہ رکھنی چاہئے ۔ میں خدا وند تمہارا خدا ۔ 7 " تمہیں کبھی اپنے باپ اور ماں سے جنسی تعلقات نہ کرنا چاہئے ۔ تمہیں اپنی ماں سے جنسی تعلقات نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ وہ تمہاری ماں ہے 8 تمہیں اپنے باپ کی بیوی سے بھی جنسی تعلقات نہیں کرنا چاہئے ، کیوں کہ اسکا برہنہ پن صرف تمہارے باپ کا ہے ۔ 9 " تمہیں اپنی بہن سے جنسی تعلقات نہ کرنا چاہئے ۔ چاہے وہ تمہارے باپ کی بیٹی ہو یا تمہاری ماں کی بیٹی ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تمہاری اس بہن کی پرورش تمہارے گھر میں ہوئی یا کسی دوسری جگہ ۔ 10 " تمہیں اپنی پوتیوں ، نواسیوں سے بھی جنسی تعلقات نہ کرنا چاہئے ۔ ان کے برہنہ پن کی حفاظت کرنا تمہاری ذمہ داری ہے ( جب تک وہ شادی نہ کر لے )۔ 11 " اگر تمہارے باپ اور انکی بیوی کی کوئی بیٹی ہو تو وہ تمہاری بہن ہے ۔ تمہیں اس کے ساتھ جنسی تعلقات نہ کرنا چاہئے ۔ 12 اپنے باپ کی بہن کے ساتھ تمہیں جنسی تعلقات نہ کرنا چاہئے ۔ کیوں کہ وہ تمہارے باپ کے قریبی رشتہ داری ہے ۔ 13 " تمہیں اپنی ماں کی بہن کے ساتھ جنسی تعلقات نہ کر نا چاہئے ۔ کیو نکہ وہ تمہا ری ماں کی قریبی رشہ دار ہے ۔ 14 " تمہیں اپنے باپ کے بھا ئی کی بے عزتی نہیں کر نی چا ہئے ۔ اور اُ س کی بیوی کے ساتھ جنسی تعلق نہیں کر نا چا ہئے وہ تمہا ری چچی ہے ۔ 15 " تمہیں اپنی بہو کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں کرنا چا ہئے ۔ وہ تمہا رے بیٹے کی بیوی ہے ۔ تمہیں اس کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں کرنا چا ہئے ۔ 16 تمہیں اپنے بھا ئی کی بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں کرنا چا ہئے۔ اس کا برہنہ پن صرف تمہا رے بھا ئی کا ہے ۔ 17 تمہیں کسی عورت اور اس کی بیٹی یا اس کی پو تی یا نواسی کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں کر نا چا ہئے ۔ وہ اس کے بیٹے کی یا اس کی بیٹی کی بیٹی ہے ۔ وہ لوگ اس کے قریبی رشتے دار ہیں۔ اس لئے اُن کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنا دہشت ناک ہے ۔ 18 جب تک تمہا ری بیوی زندہ ہے تمہیں اس کی بہن کو دُوسری بیوی نہیں بنا نا چا ہئے ۔ یہ بہنوں کو ایک دوسرے کا دُشمن بنا دے گا ۔ تمہیں اپنی بیوی کی بہن کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں کرنا چا ہئے ۔ 19 " تمہیں کسی عورت کے ساتھ اس کے ایّام ماہوا ری کے دوران جنسی تعلقات نہیں کرنا چا ہئے ۔ کیو نکہ اُن دنوں کے دوران وہ نا پاک رہتی ہے ۔ 20 تمہیں اپنی پڑوسی کی بیوی سے جنسی تعلقات نہیں کرنا چا ہئے ۔ یہ تمہیں صرف نا پاک بنا ئے گی ۔ 21 " تمہیں اپنے بچوں میں سے کسی کو مولک کے لئے قربانی کے طور پر پیش نہیں کر نی چا ہئے۔ اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم اپنے خدا کے نام کی رسوا ئی کرو گے ۔میں خداوند ہوں ۔ 22 تمہیں کسی آدمی کے ساتھ اُس طرح جنسی تعلقات نہیں کرنا چا ہئے جیسا کسی عورت کے ساتھ کیا جا تا ہے ۔ یہ بھیانک گنا ہ ہے ۔ 23 " کسی جانور کے ساتھ تمہا را جنسی تعلق نہیں ہو نا چاہئے ۔ یہ صرف نا پاک کریگا ۔ عورت کو بھی کسی جانور کے ساتھ جنسی تعلق نہیں کرنا چا ہئے یہ بھیانک اوندھی بات ہے ۔ 24 " اِن بُرے کاموں میں سے کسی سے بھی اپنے آپ کو نا پاک نہ کرو ۔ میں قوموں کو تمہا رے سامنے ہٹا تا ہوں کیوں کہ ان لوگوں نے ان بھیانک گنا ہ کو کئے ہیں۔ 25 اُنہوں نے پوُرے ملک کو نا پاک کیا انکے ملک کو انکے اعمال کی وجہ سے سزا دی گئی تھی ۔ اور وہ ملک اُ سمیں رہنے وا لوں کو اُ گل کر با ہر کر دیگا۔ 26 " اس لئے تم میری شریعت اور اُ صو لوں کی تعمیل کرو ۔ تمہیں اُن میں سے کو ئی بھیانک گنا ہو ں کو نہیں کر نا چا ہئے ۔ یہ شریعت اسرائیل کے شہریوں اور جو غیر ملکی تمہا رے درمیان رہتے ہیں اُن کے لئے ہیں۔ 27 جو لوگ تم سے پہلے اس سر زمین پر تھے اُنہوں نے یہ سبھی بھیانک کام کئے جس سے وہ سر زمین گندی ہو گئی تھی ۔ 28 اگر تم بھی وہی کام کرو گے تو تم زمین کو ایک نا پاک جگہ بنا دوگے اور یہ تملوگوں کو بھی ویسے ہی اُگل کر با ہر کرے گی جیسے تم سے پہلے رہنے وا لی قوموں کو کیا گیا ۔ 29 جوکو ئی بھی ان بھیانک گنا ہوں کو کرتا ہے تو انلوگوں کو اپنے لوگوں سے الگ کر دیا جا ئے گا ۔ 30 ان بھیانک گنا ہوں کو کر نے سے باز رہنے میں تمہیں ہوشیار رہنا چا ہئے جن گنا ہوں کو تم سے پہلے لوگوں نے کئے ۔ اس لئے ان گنا ہوں کو کر کے نا پاک مت ہو جا ؤ۔ میں تمہا را خداوند خدا ہوں۔"

Leviticus 19

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں کے تمام جماعتوں کو کہو کہ میں خداوند تمہا را خدا ہوں میں پاک ہوں اس لئے تمہیں بھی پاک ہو نا چا ہئے ۔ 3 " تم میں سے ہر ایک کو اپنے ماں باپ کی تعظیم کر نی چا ہئے اور میرے سبت کے دنوں پر عمل کرنی چا ہئے ۔ میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔ 4 " بُتوں کی پرستش مدد کے لئے مت کرو اپنے لئے گلا کر دھات کی مورتیاں مت بنا ؤ ۔ میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔ 5 جب تم خداوند کو ہمدردی کی قربانی چڑھا ؤ تو اسے اس طریقے سے پیش کرو کہ یہ قبول کی جا ئے گی۔ 6 ہو سکتا ہے تم قربانی کے گوشت قربانی پیش کر نے کے دن اور دوسرے دن بھی کھا ؤ۔ اگر اس کا کو ئی بھی حصّہ تیسرے دن تک رکھا جا تا ہے تو اسے آ گ میں جلا دینا چا ہئے ۔ 7 اگر کسی بھی قربانی کو تیسرے دن کھا یا جا تا ہے تو وہ برباد ہے اور نا قبول ہے ۔ 8 اگر کو ئی شخص اسے کھا تا ہے تو وہ اپنا گنا ہ خود اپنے سرا ٹھا ئیگا ۔ کیو نکہ اُس نے خداوند کی مقدس چیزوں کی تعظیم نہیں کی۔ اس طرح کے شخص کو اپنے لوگوں سے الگ کر دیا جا ئے گا ۔ 9 " جب فصل کٹنے کے لئے تیار ہو جا ئے تو فصل کو کھیت کے چاروں طرف کونوں تک مت کا ٹو ۔ اور جواناج زمین پر گِر چُکا ہے اسے جمع مت کرو ۔ 10 اپنے انگور کے با غ کے سبھی انگوروں کو مت توڑو اور جو انگور زمین پر گر گیا ہے اسے جمع مت کرو ۔اسے غریب لوگوں اور غیر ملکیوں کے لئے جو کہ تمہا رے درمیان رہتے ہیں چھو ڑ دو ۔ میں خداوند تمہا را خدا ہو ں۔ 11 " تمہیں چوری نہیں کرنی چا ہئے ۔ تمہیں لوگوں کو نہیں ٹھگنا چا ہئے ۔ تمہیں اپنے گا ؤں وا لوں کے با رے میں جھو ٹ نہیں بولنا چا ہئے ۔ 12 تمہیں میرے نام پر جھو ٹی قسم نہیں کھا نی چا ہئے ۔ کیو نکہ یہ میرے نام کو رُسوا کرتا ہے ۔ تمہیں اپنے خداوند کے نام کی تعظیم کر نی چا ہئے میں خداوند ہو ں۔ 13 " تمہیں اپنے پڑوسی کو دھو کہ نہیں دینا چا ہئے ۔ تمہیں اُسے لو ٹنا نہیں چا ہئے ۔ تمہیں مزدوروں کی مزدوری دوسرے دن صبح تک نہیں روکنی چا ہئے ۔ 14 تمہیں کسی بہرے آدمی کو بددُعا نہیں دینی چا ہئے ۔ تمہیں کسی ا اَ ندھے کو گِرانے کے لئے اُس کے سامنے رُکا وٹ کی کو ئی چیز نہیں رکھنی چا ہئے ۔ لیکن تمہیں اپنے خداوند کا خوف کرنا چا ہئے میں خداوند ہوں۔ 15 " اوندھی انصاف نہ کرو ۔ تمہیں نہ غریب کی طرفداری اور نہ ہی دولتمندوں کی ہمدردی کر نی چا ہئے ۔ تمہیں اپنے پڑوسی کے ساتھ انصاف کر تے وقت ایماندار ہو نا چا ہئے ۔ 16 تمہیں اپنے لوگوں کے بیچ افوا ہیں نہیں پھیلا نی چا ہئے ۔ کا ہل کے جیسے کھڑے مت رہو جب تمہا رے پڑوسی کی زندگی خطرے میں ہو ۔ میں خداوند ہو ں۔ 17 " تم اپنے دل میں اپنے بھا ئیوں سے نفرت نہ کرو ۔ اگر تمہا را پڑوسی کچھ بُرا کر تا ہے تو اُس کی غلطی کے متعلق اُ سکے رو برو بات کرو ۔ تا کہ تم اس کے گنا ہ کا ذمّہ دار نہ ہو گے ۔ 18 اگر لوگ تمہا را بُرا کرے تو اس کے خلا ف بدلہ لینے کی کو شش نہ کرو ۔ اور نہ ہی بغض رکھو ۔ اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جیسے اپنے آپ سے کر تے ہو ۔ میں خداوند ہو ں۔ 19 " تمہیں میری شریعت کی تعمیل کر نی چا ہئے ۔ دوقسم کے جانوروں کو آپس میں تولید کے لئے اختلاط نہ کرا ؤ۔ تمہیں ایک ہی کھیت میں دو قسم کے بیج نہیں بو نی چا ہئے ۔ تمہیں دوقسم کی چیزوں کی ملا وٹ سے بنے لباس کو نہیں پہننا چا ہئے ۔ 20 " اگر کو ئی شخص کسی غلام لڑکی سے جو کسی شخص کی منگیتر ہو اس سے جنسی تعلق قا ئم کرتا ہے ، لیکن وہ غلام لڑکی نہ تو کبھی خریدی گئی ہو اور نہ ہی آزاد کی گئی ہو تو انہیں سزا ملنی چا ہئے ۔ لیکن وہ ما ری نہیں جا ئے گی کیو نکہ وہ ایک آزا د عورت نہیں ہے ۔ 21 اس آدمی کو گنا ہ کے نذرانہ کے طور پر خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر خدا وند کے لئے ایک مینڈھا قربانی دینی چا ہئے ۔ 22 کا ہن اس کے لئے ، اس گنا ہوں کے 23 " مستقبل میں جب تم اپنے ملک میں دا خل ہو گے ۔ اس وقت تم اپنے کھانے کے لئے درخت لگا ؤ گے ۔ تب ان کے پھلوں کو کھانے کے لئے تمہیں تین سال تک انتظار کرنا چا ہئے ۔ تمہیں اُس مدّت سے پہلے ان کے پھلوں کو نہیں کھا نا چا ہئے۔ اسے تمہیں بیکار کا پھل تصور کرنا چا ہئے ۔ 24 چوتھے سال سارے پھل جو اس درخت پر ہو گا اسے خداوند کے لئے حمد کا نذرانہ سمجھنا چاہئے ۔ 25 تب پانچویں سال تم اُس درخت کا پھل کھا سکتے ہو تا کہ پیداوار بڑھیگی ۔ میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔ 26 " تمہیں گوشت کو اُس میں خون رہنے تک نہیں کھانا چاہئے ۔" تمہیں کا لا جا دو یا جا دو گری کا مشق نہیں کر نا چا ہئے ۔ 27 " تمہیں اپنے سر کے بغل کے بڑے بالوں کو نہیں کٹوا نا چا ہئے ۔ تمہیں اپنی داڑھی کے کنا رے نہیں کٹوا نا چا ہئے ۔ 28 کسی مرے ہوئے شخص کے لئے ماتم کرنے کے لئے تمہیں اپنے جسم کے حصّوں کو نہیں کاٹنا چاہئے ۔ تمہیں اپنے جسم پر کوئی نشان کھودنا نہیں چاہئے ۔ میں خدا وند ہوں 29 " تم اپنی بیٹیوں کو طوا ئف مت بناؤ اس لئے کہ تم ان کو ناپاک کر دوگے ۔ تمہارا ملک طوائف گردی میں بدل جائے گا اور دہشت سے بھر جائے گا ۔ 30 " تمہیں میرے سبت کے دنوں میں کام نہیں کرنا چاہئے ۔ تمہیں میری مقدس جگہ کی تعظیم کرنا چاہئے ۔ " میں خدا وند ہوں ۔ " 31 " ساحروں اور بد روحوں سے کام لینے والوں کے پاس مشورہ کے لئے نہیں جانا چاہئے ورنہ تم انکی وجہ سے ناپاک ہوجاؤ گے " میں خدا وند تمہارا خدا ہوں ۔ " 32 " بوڑھے لوگوں کی عزت کرو ۔ جب وہ کمرے میں آئیں تو تمہیں کھڑے ہوجانا چاہئے ۔ اپنے خدا کی تعظیم کرو ۔ " میں خدا وند ہوں ۔" 33 " اپنے ملک میں رہنے والے غیر ملکیوں کے ساتھ بُرا سلوک نہ کرو ۔ 34 تمہیں غیر ملکیوں کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرنا چاہئے جیسا تم اپنے شہریوں کے ساتھ کرتے ہو ۔ تم غیر ملکیوں سے اسی طرح پیار کرو جیسا اپنے سے کرتے ہو ۔ کیوں کہ تم بھی ایک وقت مصر میں غیر ملکی تھے ۔ " میں خدا وند تمہارا خدا ہوں ۔ " 35 " تمہیں چیزوں کی لمبائی ، وزن اور جسامت ناپتے وقت بے ایمان نہیں ہونا چاہئے ۔ 36 تمہارے ترازو ، باٹ اور ٹو کریاں خشک چیزوں کو ناپنے کے لئے ٹھیک ہونا چاہئے ۔ اور رقیق کو ناپنے کے لئے ناپ ٹھیک ہونا چاہئے ۔ میں خدا وند تمہارا خدا ہوں جو تم کو ملک مصر سے باہر لایا ۔ 37 " تمہیں میرے تمام اصولوں اور انصاف کو یاد رکھنا چاہئے اور تمہیں ان کی تعمیل کرنی چاہئے ۔ "میں خدا وند ہوں ! "

Leviticus 20

1 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " تمہیں بنی اسرائیلیوں سے یہ بھی کہنا چاہئے : تمہارے ملک میں اگر کوئی شخص اپنے بچوں میں سے کسی کو جھو ٹھے خدا وند مولک کو نذر چڑھا تا ہے ۔ تو اسے موت کے گھاٹ اتار دینا چاہئے ۔ اس سے فرق نہیں پڑ تا کہ وہ اسرائیل کا شہری ہے یا اسرائیل میں رہنے والا کوئی غیر ملکی ہے ۔ ملک کے لوگوں کے ذریعہ اسے پتھر پھینک پھینک کر مار ڈالنا چاہئے ۔ 3 میں اس شخص کے خلاف ہوں گا ۔ اُسے اس کے لوگوں سے الگ کر دونگا کیوں کہ اس نے اپنے بچوں کو جھوٹا خدا وند مولک کو میرے مقدس جگہ کو ناپاک کرنے کے لئے دیا ۔ اس نے میرے مقدس نام کی رسوائی کی ہے ۔ 4 اگر کوئی معمولی شخص اس معاملہ کو نظر انداز کرے اور اس شخص کو نہیں مارے جو اپنے بچہ کو مولک کو پیش کیا ہے ، 5 تو میں صرف اس آدمی سے اپنا منھ ہی نہ پھیروں گا بلکہ اس کے خاندان کا بھی مخالف ہو جاؤنگا ۔ میں اسے ان تمام لوگوں کے ساتھ جو اسکی پیروی کرتے ہیں اور مولک کے ساتھ روحانی طوائف گردی کا مزا لیتے ہیں اس کے لوگوں سے الگ کروں گا ۔ 6 " میں ہر اس شحص کے خلاف ہونگا جو مشورہ کے لئے جادوگروں اور نجومی کی طرف رخ کرتا ہے ۔ ویسا شخص ان لوگوں کے لئے طوائف ہے ۔ میں اسے اسکے لوگوں سے الگ کروں گا ۔ 7 " خاص بنو اپنے آپ کو مقدس بناؤ ۔ کیوں کہ میں خدا وند تمہارا خدا ہوں ۔ 8 میری شریعت کے مطا بق چلو اور انکی تعمیل کرو ۔ میں خدا وند ہوں اور میں تمہیں مقدس بناؤ نگا ۔ 9 " اگر کوئی شخص اپنے ماں باپ کو بد دعا دیتا ہے تو اسے مار ڈالنا چاہئے ۔ کیوں کہ اس نے اپنے ماں باپ کو بد دعا دی ہے ۔ اسے موت کی سزا ہونی چاہئے ۔ 10 " اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کی بیوی سے جنسی تعلق کرے تو عورت اور مرد دونوں حرام کاری کے قصور وار ہیں ۔ اس لئے دونوں کو مارڈالنا چاہئے ۔ 11 اگر کوئی شخص اپنے باپ کی بیوی سے جنسی تعلق کرے تو مرد اور عورت دونوں کو مارڈالنا چاہئے ۔ وہ لوگ موت کے جرم کے خود ذمہ دار ہونگے ۔ اس نے وہ کیا ہے جو صرف اسکے باپ کا ہے ۔ 12 " اگر کوئی آدمی اپنی بہو کے ساتھ جنسی تعلق کرے تو دونوں کو مارڈالنا چاہئے ۔ انہوں نے بہت بڑا گناہ کیا وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہونگے ۔ 13 اگر کوئی آدمی کسی مرد کے ساتھ عورت جیسا جنسی تعلق کرے تو دونوں کو مارڈالنا چاہئے ۔ انہوں نے نفرت انگیز گناہ کیا ہے اس لئے وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں ۔ 14 " اگر کوئی شخص کسی عورت اور اسکی ماں کے ساتھ بھی جنسی تعلق کرے تو یہ ایک بھیانک گناہ ہے ۔ تب اس شخص اور دونوں عورتوں کو آ گ میں جلا دینا چاہئے ۔ یہ ایسی بھیانک گناہ کو اپنے لوگوں میں مت ہونے دو ۔ 15 " اگر کوئی آدمی کسی جانور سے جنسی فعل کرے تو اس آدمی کو مار ڈالنا چاہئے اور تمہیں اس جانور کو بھی ما دینا چاہئے ۔ 16 اگر کوئی عورت کسی جانور سے جنسی فعل کرے تو تمہیں اس عورت اور اس جانور کو مارڈالنا چاہئے ۔ انہیں یقیناً مار ڈالنا چاہئے کیوں کہ انہوں نے موت کا جرم کیا ہے ۔ 17 " یہ بہت شرم کی بات ہے کہ ایک بھا ئی اور بہن یا سوتیلی بہن جنسی گناہ کرتے ہیں ۔ ان میں سے دونوں کو سر عام ان کے لوگوں سے الگ کر دیا جانا چاہئے ۔ اگر کوئی شخص اپنی بہن کے ساتھ مباشرت کرے تو اسے اپنے قصور کا انجام بھگتنا چاہئے ۔ 18 " اگر کوئی آدمی کسی عورت سے اس کے ایام ما ہواری خون کے بہنے کے دوران مباشرت کرے تو دونوں عورت اور مرد کو اس کے لوگوں سے الگ کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے گناہ کیا کیوں کہ انہوں نے خون کے بہاؤ کے منبع کو بے نقاب کیا ہے ۔ 19 " تمہیں اپنی ماں کی بہن یا باپ کی بہن کے ساتھ فعل مباشرت نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ ممنوع ہے کیوں کہ وہ قریبی رشتہ دار ہے اسے اپنے قصور کا انجام بھگتنا پڑے گا ۔ 20 " ایک آدمی اپنے چچا کی بیوی کے ساتھ مباشرت کرتا ہے تو اس نے وہ کیا ہے جو صرف اسکے چچا کا ہے ۔ اس آدمی اور اسکی چچی کو اپنے گناہ کا انجام بھگتنا پڑیگا ۔ وہ بے اولاد مریں گے ۔ 21 کسی آدمی کے لئے یہ برا ہے کہ وہ اپنے بھا ئی کی بیوی کے ساتھ شادی کرے ۔ اس آدمی نے وہ لیا ہے جو صرف اس کے بھا ئی کا ہے ۔ اس لئے وہ بے اولاد رہیں گے ۔ 22 " تمہیں میری تمام شریعت اور اصول کو یاد رکھنا چاہئے ۔ تمہیں اسکی تعمیل کرنی چاہئے ۔ اگر تم انکی تعمیل کروگے اور اس پر عمل کرو گے تو وہ زمین جن میں رہنے کے لئے میں تجھے بھیج رہا ہوں تمہیں باہر نہیں اُگلے گی۔ 23 " میں دوسرے لوگوں کو اس ملک کے چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہوں کیوں کہ ان لوگوں نے وہ سب گناہ کئے ، جن گناہوں سے میں نفرت کرتا ہوں ۔ اس لئے تمہیں ان لوگوں کے بعد ان دستور پر عمل نہیں کرنا چاہئے ۔ 24 " میں نے کہا ہے کہ تم انکا ملک حاصل کروگے ۔ در اصل ان لوگوں کا ملک تم کو وراثت میں دونگا ۔ اس میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں ۔ میں تمہارا خدا وند خدا ہوں۔" میں نے تمہیں دوسری قوموں سے الگ کر کے خاص لوگوں میں سے بنایا ہے ۔ 25 اس لئے تمہیں پاک اور ناپاک جانوروں کے بیچ ، پاک اور ناپاک پرندوں کے بیچ فرق کرنا چاہئے ۔ اس لئے اپنی روح کو ان کے درمیان میں سے کسی سے ناپاک نہ کرو ۔ نا پاک پرندہ ، ناپاک جانور اور ناپاک رینگنے والے جانور جسے تم نے ناپاکی کے طور پر الگ کیا ہے مت کھا ؤ ۔ 26 تمہیں پاک رہنا چاہئے کیوں کہ میں خدا وند ہوں اور میں پاک ہوں ۔ میں نے تمہیں دوسری قوموں سے اپنا بنانے کے لئے الگ کیا ہے ۔ 27 تمہارے درمیان میں سے کوئی شخص چاہے ، وہ مرد ہو یا عورت اگر جادو گر یا نجومی ہے تو اسے ماردیا جانا چاہئے ۔ اسے پتھر مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دینا چاہئے کیوں کہ وہ موت کے جرم کا قصور وار ہے ۔ "

Leviticus 21

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " یہ تمام با تیں ہا رون کے کا ہن بیٹوں سے کہو : کا ہن کو مرے ہو ئے شخص کو چھو کر نا پاک نہیں ہو نا چا ہئے ۔ 2 اگر ایک مردہ شخص اس کا قریبی رشتہ دار ہے تو وہ اس کا مردہ جسم چھو سکتا ہے ۔ کا ہن ایسا کر کے اپنے آپ کو نا پاک کر سکتا ہے اگر مرا ہوا شخص اس کی ماں ہے یا اس کا باپ یا اس کی بیٹی ہے یا اس کا بیٹا ہے ، 3 یا اُس کی غیر شادی شُدہ بہن ہے( یہ بہن اس کی قریبی ہے کیوں کہ اس کا شوہر نہیں ہے ۔) اس لئے کا ہن اپنے کو نا پاک کر سکتا ہے اگر وہ مرتی ہے ۔ 4 لیکن کا ہن کو دوسری حا لت میں نا پا کی کا خطرہ نہیں مول لینا چا ہئے ۔ کیو نکہ وہ اپنے لوگوں کے درمیان قا ئد ہے ۔ 5 " کا ہن کو سوگ ظا ہر کر نے کے لئے اپنے سر کو نہیں مونڈھنا چا ہئے ۔ کا ہن کو اپنی داڑھی کے سرے نہیں کٹوانا چا ہئے ۔ کا ہن کو اپنے جسم کو کہیں بھی نہیں کاٹنا چا ہئے ۔ 6 کا ہن کو اپنے خدا کے لئے مقدس ہو نا چا ہئے ۔ اور انہیں اپنے خدا کے نام کی رسوا ئی نہیں کر نی چا ہئے۔ کیو نکہ وہ لوگ خداوند کو اپنے تحفے جو کہ ان کے خدا کی غذا ہے پیش کر تے ہیں۔ انہیں مقدس رہنا چا ہئے ۔ 7 " کا ہن کو خدا کے لئے مخصوص کر دیا جا تا ہے ۔ اس لئے کا ہن کو ایسی عورت سے شادی نہیں کرنی چا ہئے جو کہ فاحشہ پن کی وجہ سے نا پاک ہو چکی ہو یا جو طلا ق شُدہ ہو ۔ 8 تمہیں اسے مخصو ص ضرور کر نا چا ہئے کیو نکہ وہ تمہا رے خدا کی روٹی کو پیش کرتا ہے ۔ تمہیں اسے ایک مقدس آدمی ضرور سمجھنا چا ہئے ۔ میں پاک ہوں میں خداوند ہوں جو تم کو مقدس کرتا ہوں۔ 9 اگر کا ہن کی بیٹی فاحشہ گری کرتی ہے تو وہ اپنے باپ کی بے حرمتی کرتی ہے اس لئے اسے جلا دینا چا ہئے ۔ 10 اعلیٰ کاہن اپنے بھائیوں میں سے چُنا جاتا تھا ۔ مسح کرنے کا تیل اسکے سر پر ڈالا جاتا تھا ۔ اس سے وہ اعلیٰ کاہن چُنا جاتا ہے ۔ اس لئے اسے خاص لباس پہنا پڑتا تھا ۔ اسے اپنے بال نہیں بکھیر نے چاہئے اسے اپنے کپڑے نہیں پھاڑ نے چاہئے ۔ 11 اسے مردے کو چھو کر اپنے کو ناپاک نہیں بنانا چاہئے ۔ چاہے وہ اسکے اپنے ماں باپ کا ہی جسم کیوں نہ ہو ۔ 12 اعلیٰ کاہن کو خدا کے مقدس جگہ کے باہر نہیں جانا چاہئے ورنہ وہ اپنے خدا کے مقدس جگہ کو ناپاک کردیگا ۔ کیوں کہ وہ خدا کے تیل سے مسح کر کے مخصوص کیا گیا ہے ۔ " میں خدا وند ہوں ۔ " 13 " اعلیٰ کاہن کو کنواری سے شادی کرنی چاہئے ۔ 14 اعلیٰ کاہن کو ایسی عورت سے شادی نہیں کرنی چاہئے جس نے کبھی کسی دوسرے آدمی سے جنسی تعلقات کئے ہوں ۔ اسے کسی فاحشہ سے شادی نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی طلاق شدہ یا بیوہ سے ۔ اعلیٰ کاہن کو کنواری سے جو اسکے لوگوں میں سے ہو شادی کر نی چاہئے ۔ 15 " اس طرح وہ اپنی نسل کو اپنے لوگوں کے درمیان آلودہ نہیں کرے گا ۔ میں خدا وند اس کو مقدس کیا ہوں ۔ " 16 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ' 17 " ہارون سے کہو اگر اسکی نسلوں میں سے کسی بچے کا جسمانی عیب ہے تو اسے خدا وند کو خاص روٹی پیش نہیں کرنا چاہئے ۔ 18 " اگر کسی شخص کا کوئی عیب ہو تو اسے میرے نزدیک نہیں آنا چاہئے ۔ یہ لوگ کاہن کے طور پر خدمت انجام نہیں دے سکتے ہیں : اندھا ، لنگڑا ، بگڑی شکل و صورت والا ، زائدلاعضاء والا ۔ 19 یا وہ جن کے ہاتھ یا پیر ٹوٹے ہوئے ہوں ۔ 20 کبڑا ، بونا ، وہ جس کی آنکھ کی روشنی کمزور ہو ، وہ جنکو کھجلی یا دوسرے چمڑے کی بیماری ہو اور وہ آدمی جس کے خصئے کچلے ہوئے ہوں ۔ 21 " اگر ہارون کی نسلوں میں سے کسی کو کوئی عیب ہو تو وہ تحفے یا اپنے خدا کی خاص روٹی خدا وند کو پیش کرنے کے لئے نہیں آسکتا ہے ۔ 22 وہ شخص خدا کا مقدس کھانا کھا سکتا ہے وہ سب سے مقدس روٹی بھی کھا سکتا ہے ۔ 23 لیکن وہ مقدس ترین جگہ میں پردہ سے ہوکر نہیں جا سکتا اور وہ قربان گاہ کے نزدیک نہیں جا سکتا ۔ کیوں کہ اس میں عیب ہے اور اسے میرے مقدس جگہ کی بے حرمتی نہیں کرنی چاہئے ۔ "میں خدا وند ان تمام جگہوں کو مقدس رکھتا ہوں ۔ " 24 اس لئے موسیٰ نے یہ باتیں ہارون سے ،ہارون کے بیٹوں اور سبھی بنی اسرائیلیوں سے کہا ۔

Leviticus 22

1 خدا وند خدا نے موسیٰ سے کہا ، 2 " ہارون اور اسکے بیٹوں سے کہو ۔ بنی اسرائیل جو مقدس چیزیں مجھے دینگے ۔ وہ میری ہیں ۔ اِس لئے تم کاہنوں کو ان لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہئے ۔ تم کو میرے نام کی رسوائی نہیں کرنی چاہئے ۔ میں خدا وند ہوں ۔ 3 اگر تمہاری نسلوں میں سے کوئی بھی جو کہ ناپاک ہے اُن چیزوں کو چھوتا ہے تو اس آدمی کو مجھ سے الگ کردیا جائے گا۔ بنی اسرائیلیوں نے وہ چیزیں میرے لئے مخصوص کئے ہیں ۔ میں خدا وند ہوں ۔ 4 " اگر ہارون کی نسلوں میں سے کوئی بھی جلدی بیماری میں مبتلاء ہو یا اس کو تولیدی اخراج ہو اہو تو وہ اس وقت تک مقدس کھانا نہیں کھا سکتا جب تک وہ اپنے آپ کو پاک نہیں کر تا ہے ۔ یہ شریعت ایسے کسی بھی شخص کے لئے لاگو ہے جو ناپاک ہے۔ چاہے وہ مردہ جسم کو چھو نے سے یا تو لیدی اخراج ہونے سے نا پاک ہوا ہو ، 5 یا کسی نا پاک رینگنے والے جانور کو چھو نے سے یا کسی نا پاک شخص کو چھو نے سے یا کسی اور طریقے سے نا پاک ہو گیا ہو ۔ 6 اگر کوئی شخص ان چیزوں کو چھو ئے گا تو وہ شام تک ناپاک رہے گا ۔ اُس آدمی کو مقدس کھانے میں سے کچھ بھی نہیں کھانا چا ہئے ۔ جب تک کہ پانی سے غسل نہ کرے ۔ 7 وہ سورج کے غروب ہونے پر ہی پاک ہوگا ۔ پھر وہ مقدس کھانا کھا سکتا ہے کیوں؟ کیوں کہ وہ کھانا اسکا ہے ۔ 8 " کاہن کو اس جانور کو نہیں کھانا چاہئے جو اپنے آپ مر گیا ہو یا کسی دوسرے جانور نے مار دیا ہو ۔ اور اسے اسکا گوشت نہیں کھانا چاہئے کیوں کہ مردہ جانور کا گوشت تیرے لئے ممنوع ہے ۔ اگر کوئی شخص اس جانور کو کھا تا ہے تو وہ ناپاک ہو جائے گا ۔ " 9 " انہیں میری ہدایت پر ہوشیاری سے عمل کرنا چاہئے تا کہ وہ لوگ اسے توڑنے کا سزا نہ اٹھا ئیگا ۔ کیوں کہ ان لوگوں نے اس کی رسوائی کی ۔ میں خدا وند ہوں جس نے انہیں دوسرو ں سے اس خاص کام کو کرنے کے لئے الگ کیا ۔ 10 کوئی اجنبی مقدس کھانا نہیں کھا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ کاہن کا مہمان بھی یا کرائے پر لئے ہوئے کام کرنے والے بھی اس مقدس کھا نا کو نہیں کھا سکتا ہے ۔ 11 لیکن اگر کاہن اپنے پیشہ سے کسی غلام کو خرید تا ہے تو وہ غلام پاک چیزوں میں سے کچھ کو کھا سکتا ہے اور اسی طرح سے کاہن کے گھر میں پیدا ہونے والا غلام بھی اُس پاک کھانے کو کھا سکتا ہے ۔ 12 کاہن کی بیٹی ایسے آدمی سے شادی کر سکتی ہے جو کاہن نہ ہو اگر وہ ایسا کر تی ہے تو مُقدس نذر میں سے کچھ نہیں کھا سکتی ۔ 13 اگر کاہن کی بیٹی طلاق شدہ ہے یا وہ اگر بیوہ ہے اور اسکی کوئی اولاد نہیں ہے ، اگر ایسی عورت اپنے باپ کے گھر واپس آتی ہے جہاں وہ اپنے بچپن میں رہا کر تی تھی وہ اپنے باپ کے کھانے میں سے کھا سکتی ہے لیکن غیر ملکی شخص اسے نہیں کھا سکتا ہے ۔ 14 " کوئی شخص بھول سے مقدس کھانا کھا لیا ہو تو اُس آدمی کو وہ مُقدس کھانا کاہن کو واپس دینا چاہئے اور اُس کے علاوہ اُس کھانے کی قیمت کا پانچواں حصّہ اسے کاہن کو دینا ہوگا ۔ 15 " کسی بھی شخص کو اسرائیلیوں کے کسی بھی نذرانہ کو جسے وہ خدا وند کو پیش کرتے ہیں کھا کر اسکی بے حرمتی نہیں کرنا چاہئے ، 16 اور اسی طرح سے جرم کو اپنے سر لے کر کے ۔ میں خدا وند ہوں جو انکو مقدس بنا تا ہوں ۔" 17 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 18 " ہارون ،انکے بیٹوں اور سبھی بنی اسرائیلیوں سے کہو : اگر اسرائیل کا کوئی بھی شخص یا تمہارے درمیان رہنے والے کوئی غیر ملکی جلانے کا نذ رانہ چاہے وہ وعدہ کے طور پر ہو یا رضا کا نذرانہ کے طور پر ہو تا ہے ، 19 تو تمہیں بے عیب نر جانور مویشیوں سے ، بھیڑ سے ، یا بکریوں سے لانا چاہئے یہ سب قابل قبول ہے ۔ تمہیں ایسی کوئی قربانی نہیں لانا چاہئے جس میں کوئی عیب ہو ۔ یہ تمہارے طرف سے قبول نہیں ہوگا ۔ 20 21 " اگر کوئی شخص ہمدردی کا نذرانہ اپنے کئے گئے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے یا رضا کے نذرانے کے طور پر پیش کرتا ہے تو ایسی قربانی مویشیوں یا بھیڑوں یا بکریوں کے جھنڈ سے ہونی چاہئے اور وہ جانور قبول ہونے کے لئے بے عیب ہونی چاہئے ۔ اس کے ساتھ کچھ عیب نہیں ہونی چاہئے ۔ 22 " تمہیں خدا وند کو ایسے کسی جانور کی قربانی نہیں دینی چاہئے جو اندھا ہو یا جسکی ہڈیاں ٹوٹی ہوں یا جو لنگڑا ہو یا جو زخمی ہو یا جس کو جِلد کی بیماری ہو۔ اس طرح کی قربانی خدا وند کو پیش کرنا یا تحفہ کے طور پر خدا وند کی قربان گاہ پر چڑھانا نہیں چاہئے ۔ 23 " کبھی کسی حالت میں ہو سکتا ہے کوئی بیل یا کوئی مینڈھا پوری طرح سے بڑھا نہیں ہو یا ہوسکتا ہے اس کی نشو و نما رک گئی ہو ۔ اگر کوئی شخص اس طرح کے جانور کو رضاء کے نذرانہ کے طور پر خدا وند کو پیش کرنا چاہتا ہو تو یہ قربانی قبول ہوگی لیکن اگر کئے گئے وعدہ کے طور پر قربانی پیش کیا گیا ہو تو یہ جانور قبول نہیں ہوگا ۔ 24 " اگر جانور کے خصئے کچلے ہوئے ہوں یا اسکے خصئے خراب ہوں تو تمہیں اس طرح کے جانور کی قربانی خدا وند کو نہیں چڑھانی چاہئے ۔ تمہیں یہ اپنی سر زمین پر کبھی نہیں کرنی چاہئے ۔ 25 تمہیں غیر ملکیوں سے حاصل کئے ہوئے جانوروں کی قربانی پیش نہیں کرنا چاہئے ۔ کیوں کہ وہ جانور بگڑے ہوئے شکل و صورت کے یا عیب دار ہیں اور یہ تمہاری طرف سے قبول نہیں ہوں گے ۔ 26 خدا وند نے موسیٰ سے کہا " 27 " اگر کوئی بچھڑا یا بکری کا بچہ یا بھیڑ کا بچہ پیدا ہو تو اپنی ماں کے ساتھ اسے سات دن رہنے دینا چاہئے ۔ پھر اسکے بعد آٹھویں دن اور خدا وند کو دی جانے والی قربانی کے تحفہ کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے ۔ 28 لیکن تمہیں اسی دن اس جانور اور اسکی ماں کو نہیں ذبح کرنا چاہئے یہی اُصول گائے اور بھیڑوں کے لئے ہے ۔ 29 " لیکن اگر تم خدا وند کو کوئی خاص شکرانہ کی قربانی دیتے ہو تو تمہیں اسے پوری طرح سے کرنا چاہئے ۔ 30 تمہیں پورا جانور اسی دن کھا لینا چاہئے ۔ دوسرے دن صبح تک کوئی گوشت بچا رہنا نہیں چاہئے ۔ " میں خدا وند ہوں ۔ " 31 " میرے احکام کو یاد رکھو اور انکی تعمیل کرو ۔ " میں خدا وند ہوں ۔" 32 تمہیں میرے مقدس نام کی بے حرمتی نہیں کرنا چاہئے ۔ مجھے بنی اسرائیلیوں کے درمیان مقدس کیا جانا چاہئے وہ میں ہی ہوں جو تم کو مقدس بنا تا ہوں ، 33 جو تم کو مصر سے باہر لایا تاکہ تمہارا خدا بنا رہوں ۔ " میں خدا وند ہوں ۔"

Leviticus 23

1 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں سے خدا وند کے خاص تقریب کا اعلان کرنے کو کہو جسے تم کو مقدس اجتماع کہنا چاہئے ۔ یہ میرے خاص وقت ہیں ۔ " 3 " چھ دن کام کرو اور ساتواں دن سبت کا ہے ، آرام کا خاص دن ہے ۔ یہ آرام کا دن ایک خاص دن یا مقدس اجتماع کا دن ہوگا ۔ اس دن تمہیں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے ۔ ہر جگہ جہاں تم رہو یہ خدا وند کا سبت ہے ۔ 4 " یہ خدا وند کے خاص وقت ، چُنے ہوئے مقدس اجتماع ہیں ۔ جن کا تمہیں انکے مناسب وقت پر علاج کرنا چاہئے ۔ 5 خدا وند کی فسح کی تقریب پہلے مہینے کی چودھویں دن کو غروب آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے ۔ 6 " اس مہینہ کے پندرھویں دن کو خدا وند کے لئے بغیر خمیری روٹی کی تقریب ہوگی ۔ تم سات دن کے لئے بغیر خمیری روٹی کھاؤ گے ۔ 7 اس تقریب کے پہلے دن تم ایک مقدس اجتماع کرو گے ۔ اس دن تمہیں 8 سات دن تک تم خدا وند کو تحفے پیش کروگے ۔ اور ساتویں دن ایک مقدس اجتماع ہوگا اس دن تمہیں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے ۔ " 9 خدا وند نے موسیٰ سے کہا : 10 " بنی اسرائیلیوں سے کہو : جب تم اس زمین میں جاؤ جسے میں تمکو دے رہا ہوں تو اسکی فصل کاٹو ۔ اس وقت تمہیں اس فصل کا پہلا پولی ( مٹھا) کاہن کے پاس لانا چاہئے ۔ 11 کا ہن پو لی کو خداوند کے سامنے لہرا ئے گا تب وہ تمہا رے لئے قبول کر لی جا ئے گی ۔ کاہن ان سب پو لیوں کو سبت کے دن کے بعد لہرا ئے گا ۔ 12 " جس دن وہ پو لیوں کو لہراتا ہے اس دن تم کو ایک سال کا ایک نر میمنہ خداوند کے لئے جلا نے کی قربانی دینی چا ہئے ۔ یہ جانور بے عیب ہو نا چا ہئے ۔ 13 تمہیں ۱۶ پیالے زیتون تیل سے ملے ہو ئے اچھے آٹے کی اناج کی قربانی ایک کوارٹ مئے کے ساتھ پینے کے نذرانے کے طور پر دینی چا ہئے ۔ یہ خداوند کے لئے ایک تحفہ ، ایک میٹھی خوشبو ہے ۔ 14 جب تک تم اپنے خدا کو قربانی نہیں چڑھا تے تب تم تم کو ئی نیا اناج یا پھل یا نئے اناج سے بنی روٹی نہیں کھا سکتے ۔ وہ جہا ں کہیں بھی رہیں یہ شریعت تمہا ری نسل در نسل چلتی رہے گی ۔ 15 " سبت کے دن کے بعد اس دن کی صبح سے جس دن تم نے لہرانے کا نذرانہ لا یا تھا پو رے سات ہفتہ گِنو ۔ 16 ساتویں ہفتے کے بعد کے دن ( یعنی ۵۰ دن بعد ) تم خداوند کے لئے نئے اناج کی قربانی لا ؤگے ۔ 17 اس دن تم اپنے گھروں سے دو دو روٹیاں لا ؤ یہ روٹیاں لہرا نے کی قربانی ہو گی ۔ سولہ پیالے اچھے آٹے سے اس روٹی کو بنا ؤ اور اسے خمیر کے ساتھ پکا ؤ۔ یہ تمہا ری فصل کے پہلے پھلوں سے خداوند کے لئے قربانی ہو گی ۔ 18 " اناج کی قربانی کے ساتھ ایک بچھڑا دو مینڈھے اور ایک ایک سال کے سات نر میمنے قربانی کرو ۔ ان جانوروں میں کو ئی عیب نہیں ہو نا چا ہئے ۔ یہ خداوند کے لئے جلا نے کی قربانی ہو گی ۔ یہ سب انکے اناج کی قربانی پینے کی قربانی اس کے خوشبودار مہک کے ساتھ خداوند کے لئے تحفہ ہو گا ۔ 19 تم ایک بکرے کی قربانی گناہ کی قربانی کے طور پر اور دو ایک سالہ میمنہ ہمدردی کے طور پر بھی دو گے ۔ 20 " کا ہن ان سب کو فصل کے پہلے پھلوں سے دیئے گئے رو ٹی کے نذرانے کے ساتھ خداوند کے سامنے اوپر اٹھا ئے گا ۔ یہ سب خداوند کے لئے مقدس تھے ۔ 21 اسی دن تم ایک مقدس اجتماع منعقد کرو گے تم اس دن کو ئی کام نہیں کرو گے ۔ تم جہاں کہیں بھی رہوں گے یہ شریعت تمہا ری نسل در نسل کے لئے لا گو رہے گی ۔ 22 " جب تم اپنے کھیتوں کی فصل کاٹو تو تمہیں کھیت کے کو نوں تک تم فصل کو نہیں کاٹنا چا ہئے ۔ اور جو اناج زمین میں گِرے اُسے مت اٹھا ؤ۔ اسے تم غریب لوگوں اپنے ملک میں رہنے وا لے غیر ملکیوں کے لئے چھو ڑدو ۔ "میں تمہا را خداوند خدا ہوں ۔" 23 خداوند نے موسیٰ سے پھر کہا ۔ 24 " بنی اسرائیلیوں سے کہو : ساتویں مہینے کے پہلے دن تمہیں آرام کا خاص دن اور یادگاری کے دن کے طور پر منا نا چا ہئے ۔ اس مقدس اجتماع کے دن تمہیں بِگل پھونکنا چا ہئے ۔ 25 تمہیں اس دن کو ئی کام نہیں کرنا چا ہئے ۔ لیکن تمہیں خداوند کے لئے تحفہ لا نا ہو گا ۔" 26 خداوند نے موسیٰ سے کہا ۔ 27 " دھیان رکھو کہ ساتویں مہینے کے دسویں دن کفارہ کا دن ہے ، تمہا رے لئے ایک مقدس اجتماع ہے ۔ اس دن تمہیں خاکسار ہو نا چا ہئے اور خداوند کو تحفہ پیش کرنا چا ہئے ۔ 28 تم اس دن کو ئی کام نہیں کرو گے کیوں کہ یہ کفارہ کا دن ہے ، خداوند تمہا رے خدا کے سامنے تمہا رے خود کے لئے کفّارہ دینے کا دن ہے ۔ 29 اگر کو ئی آدمی اس دن اپنے کو خاکسار کر نے سے انکار کرتاہے ۔ تو اسے اپنے لوگوں سے الگ کر دیا جا ئے گا ۔ 30 اگر کو ئی آدمی اس دن کام کرے گا تو اسے میں ( خدا ) اُ س کے لوگوں میں سے اس کو تباہ کردو ں گا۔ 31 تمہیں کو ئی بھی کام نہیں کرنا چا ہئے یہ شریعت تم جہاں کہیں بھی رہو تمہا ری تمام نسلوں کے لئے ہمیشہ لا گو رہے گی ۔ 32 یہ دن خاص کر کے تمہا رے لئے پو رے آرام کا دن ہے تمہیں اپنے آپ میں خاکسار ہو نا چا ہئے ۔ تمہیں آرام کا یہ خاص دن مہینے کے نویں دن کے شام سے شروع کرنا چا ہئے اور یہ پو رے آرام کے دن کے طور پر اگلے دن شام تک رہے گا ۔" 33 خداوند نے موسیٰ سے پھر کہا ، 34 " بنی اسرائیلیوں سے کہو : ساتویں مہینے کے پندرھویں دن پناہ کی تقریب کا دن ہو گا ۔ خداوند کے لئے یہ مقدس تقریب سات دن تک چلے گی ۔ 35 پہلے دن ایک مقدس اجتماع ہو گا ۔ اس دن تمہیں کو ئی کام نہیں کرنا چا ہئے ۔ 36 تم سات دنوں تک خداوند کو تحفہ پیش کرو گے ۔ آٹھویں دن تم دوسرا مقدس اجتماع منعقد کرو گے ۔ تم خداوند کو تحفہ پیش کرو گے ۔ یہ تقریب کا دن ہے ۔ تمہیں کو ئی کام نہیں کر نا چا ہئے ۔ 37 " یہ سب خداوند کے خاص مقررہ تقریب ہیں جسے 38 یہ سب خداوند کے سبت کے دن کے علا وہ ، تحفہ کے علا وہ اور تیرے کئے گئے کسی وعدہ کو پو را کر نے کے لئے پیش کئے گئے قربانی کے علا وہ ، اور کسی رضاء کا نذرانہ جسے تمہیں خداوند کو پیش کر نا ہو گا ، کے علا وہ ہیں ۔ 39 " دھیان رکھو ساتویں مہینے کے پندرھویں دن جب تم زمین کی فصل کا ٹو گے تو تم خداوند کی اس تقریب کو سات دن تک منا ؤ گے پہلا دن آرام کا دن اور آٹھواں دن بھی آرام کا دن ہے ۔ 40 پہلے دن تم اپنے لئے درختوں سے تازہ پھل لا ؤ گے ۔ اور تم کھجو ر کے درخت ، پتّے دار درخت اور بید کے درخت کی شاخیں بھی لا ؤ گے ۔ تم اپنے خداوند خدا کے سامنے سات دن تک جشن منا ؤ گے ۔ 41 " تم اس مقدس تقریب کو ہر سال خداوند کے لئے سات دن تک منا ؤ گے ۔ یہ شریعت تمہا ری تمام نسلوں کے لئے ہمیشہ رہے گی ۔ یہ تقریب ساتویں مہینے میں منا ئی جا ئے گی ۔ 42 اس تقریب کے لئے تم سات دن تک عارضی پناہ گا ہوں میں رہو گے ۔ اسرائیل کے تمام شہری ان پناہ گا ہوں میں رہیں گے ۔ 43 تمہا ری نسلوں کو معلوم کرانے کے لئے جب میں بنی اسرائیلیوں کو مصر سے با ہر لایا تو انہیں میں نے عارضی پناہ گا ہوں میں بسایا تھا ۔ میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔" 44 اس طرح موسیٰ نے بنی اسرائیلیو ں کو خداوند کے خاص مقررہ تقریب کے با رے میں بتا یا ۔

Leviticus 24

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں کو حکم دو کہ زیتون سے نکالا ہوا خالص تیل لا ئے ۔ وہ تیل چراغوں میں جلا یا جا ئے گا ۔ یہ چراغ بغیر بجھے لگا تار جلتے رہنا چا ہئے ۔ 3 ہا رون خیمٴہ اجتماع میں خداوند کے سامنے پردہ کے آگے چراغوں کو ترتیب دیگا اور اسے شام سے صبح تک لگا تا ر جلا ئے رکھے گا ۔ یہ اصول تمہا ری تمام نسلوں کے لئے ہمیشہ رہے گا ۔ 4 ہا رو ن کو سو نے کا شمعدا ن پر خداوند کے سامنے چراغوں کو ہمیشہ ترتیب دے کر رکھنا چا ہئے ۔ 5 " اچھا با ریک آٹا اور اس کی ۱۲ روٹیاں بنا ؤ ۔ ہر ایک رو ٹی کے لئے سولہ پیا لے آٹا کا استعمال کر نا چا ہئے ۔ 6 اُنہیں دو قطا روں میں سُنہرے میز پر خداوند کے سامنے رکھو ۔ ہر قطار میں ۶ روٹیاں ہو نی چا ہئے ۔ 7 " ہر ایک قطا ر پر خالص لوبان رکھو ۔ یہ رو ٹی کو تحفہ کے طور پر خدا وند کو پیش کر نے میں مدد کرے گی ۔ 8 ہر سبت کے دن ہا رون روٹیوں کو خدا کے سامنے رکھے گا ۔ اسے وہ ہمیشہ کے لئے کرنا چا ہئے ۔ بنی اسرائیلیوں کے ساتھ یہ معاہدہ ہمیشہ بنا رہے گا ۔ 9 وہ رو ٹی ہا رون 10 ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا تھا اُ سکا با پ مصری تھا ۔ وہ اسرائیلی لوگوں کے درمیان گھوم رہا تھا اور اس نے چھا ؤ نی میں لڑنا شروع کیا ۔ 11 اِسرائیلی عورت کے لڑکے نے خداوند کے نام کے با رے میں بُری باتیں کہنی شروع کیں ۔ اِس لئے لوگ اُس لڑکے کو موسیٰ کے سامنے لا ئے ۔ ( لڑکے کی ماں کا نام شیلو مت تھا ۔ جو دان کے خا ندانی گروہ کے دیبری کی بیٹی تھی )۔ 12 لوگوں نے لڑ کے کو قیدی کی طرح اس وقت تک رکھا جب تک کہ صاف طور پر حکم معّین نہ کیا گیا۔ 13 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 14 " خدا پر لعنت کر نے وا لے کو چھا ؤ نی سے با ہر لا ؤ۔ جن لوگوں نے لعنت کر تے سُنا انہیں اس کے سر پر ہا تھ رکھنا چا ہئے ۔ ساری جما عت اسے موت کے گھا ٹ اتار نے کے لئے سنگسار کرے گی ۔ 15 تمہیں بنی اسرائیلیوں سے کہنا چا ہئے : اگر کو ئی آدمی اپنے خدا کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو اسے اپنے گنا ہ کی سزا بھگتنی چا ہئے ۔ 16 کو ئی شخص جو خداوند کے نام پر لعنت کر تا ہے تو اسے یقیناً مارڈا لنا چا ہئے ۔ ساری جماعت کو اسے سنگسار کر کے مارڈالنا چا ہئے ۔ جب کو ئی اسرائیلی شہری یا کو ئی غیر ملکی جو کہ تمہا رے درمیا ن رہتا ہو خداوند کے نام کے خلاف خدا کی شان میں گستاخی کرے تو اسے مار ڈالنا چا ہئے 17 " اور اگر کو ئی آدمی کسی دوسرے آدمی کو مار ڈالتا ہے تو اسے ضرور مار ڈالنا چا ہئے ۔ 18 اگر کو ئی شخص کسی دوسرے شخص کے جانور کو مار ڈالتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے دوسرا زندہ جانور اس کو دینا چا ہئے ۔ 19 "اگر کوئی شخص اپنے پڑوس میں کسی کو چوٹ پہونچاتا ہے تو اس شخص کو بھی اُسی طرح کی چوٹ پہونچانی چاہئے ۔ 20 کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی ہڈی توڑ دیتا ہے تو اسکی بھی ہڈی کے بدلے میں ہڈی تو ڑی جا سکتی ہے ، آنکھ کے بدلے میں آنکھ ، دانت کے بدلے میں دانت ۔جیسا اس نے دوسرے کو زخمی کیا ہے اس لئے اسے بھی ویسا ہی زخمی کیا جا سکتا ہے۔ 21 اِس لئے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جانور کو مارے تو اُس کے بدلے میں اُسے ویسا ہی دُوسرا جانور دینا چاہئے ۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو مار ڈالتا ہے تو اسے ضرور ما دیا جانا چاہئے۔ 22 " تم سب کے لئے برابر انصاف ہوگا ۔ غیر ملکی باشندے کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جانا چاہئے جیسا کہ اپنے شہری کے ساتھ کیا جاتا ہے کیوں کہ میں خدا وند تمہارا خدا ہوں ۔ " 23 تب موسیٰ نے بنی اسرائیلیوں سے بات کی اور وہ لوگ اس آدمی جس نے لعنت کی تھی کو خیمہ کے باہر ایک جگہ پر لائے ۔ تب انہوں نے اسے پتھروں سے مار ڈالا ۔ اسی طرح بنی اسرائیلیوں نے وہ

Leviticus 25

1 خدا وند نے موسیٰ سے سینائی کے پہاڑ پر کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں سے کہو : جب تم لوگ اس زمین پر جاؤ گے جسے میں تم کو دے رہا ہوں ۔ تمہیں خدا وند کے لئے زمین کو سبت ( آرام) کو ماننے کی اجازت دینی چاہئے ۔ 3 تم چھ سال تک اپنے کھیتوں میں بیج بوؤگے ۔ اسی طرح سے تم اپنے انگور کے باغوں میں چھ سال تک کھیتی کرو گے اور اسکا پھل پاؤ گے ۔ 4 لیکن ساتویں سال تم اس زمین کو آرام کرنے دوگے یہ خدا وند کو عزت دینے کے لئے آرام کا خاص وقت ہوگا ۔ تمہیں اپنے کھیتوں میں بیج نہیں بونی چاہئے اور انگور کے باغوں میں بیلوں کی کٹائی نہیں کرنی چاہئے ۔ 5 تمہیں ان فصلوں کی کٹائی نہیں کرنی چاہئے جو فصل کٹنے کے بعد اپنے آپ ا ُ گتی ہے ۔ تمہیں اپنے ان انگور کی بیلوں سے انگور نہیں توڑ نا چاہئے جنکی تمنے کٹائی نہیں کی ہو ۔ یہ سال زمین کے لئے سبت کا سال ہے ۔ 6 " یہ زمین کے لئے سبت کا سال ہے اور اس سے جو پیدا وار ہوگی وہ تمہارے اور تمہارے غلام آدمیوں اور عورتوں کے لئے ہوگی ۔ تمہارے کرائے کے مزدوروں اور تمہارے ساتھ رہنے والے غیر ملکیوں کے لئے ہوگی ۔ 7 تمہارے مویشیوں اور دوسرے جنگلی جانوروں کے لئے چارہ ہوگا ۔ 8 " تم سات سال سالوں کے سات سبتوں کو سات گناُ گِنو ۔ یہ ۴۹ سال ہوں گے ۔ 9 کفّارہ کے دن تمہیں مینڈھے کا سینگ بجانا چاہئے ۔ وہ ساتویں مہینے کے دسویں دن ہوگا تمہیں پورے ملک میں مینڈھے کا سینگ بجانا چاہئے ۔ 10 تم پچاسویں سال کو خاص سال مناؤ گے تم اس سال تمام لوگوں کے لئے جو کہ اس ملک میں رہتے ہیں آزادی کا اعلان کروگے ۔ وہ سال " جوبلی " سال کے نام سے جانا جائے گا ۔ تم میں سے ہر ایک اپنی زمین میں واپس آئیگا اور تم میں سے ہر ایک اپنے خاندان میں واپس جائے گا ۔ 11 پچاسویں سال تمہارے لئے خاص جوبلی تقریب کا سال ہوگا ۔ اس سال تم بیج مت بوؤ ۔ خود سے اُ گی فصل کو نہ کاٹو۔ انگور کی ان بیلوں سے انگور نہ توڑو ۔ 12 وہ جوبلی سال ہے اور اس لئے یہ تمہارے لئے مقدس ہوگا ۔ تم اس فصل کو کھاؤ گے جو اپنے کھیتوں سے کاٹوگے ۔ 13 جوبلی سال میں ہر ایک آدمی اپنے آباؤ اجداد کی جائیداد میں واپس ہوجائے گا ۔ 14 "اپنی زمین فروخت کرنے میں یا پھر اسے خرید نے میں کسی آدمی کو دھوکہ مت دو ۔ 15 اگر تم کسی کی زمین خریدنا چاہئے ہو تو آخری جوبلی سال سے سالوں کے تعداد کا حساب کرو ۔ اور اسکی صحیح قیمت کا تعین فصل کٹائی کے سالوں کی تعداد پر غور کر تے ہوئے کرو ۔ 16 اگر سالوں کی تعداد زیادہ ہو تو اسکی قیمت زیادہ ہوگی اور اگر سالوں کی تعداد کم ہو تو اسکی قیمت بھی کم ہونی چاہئے ۔ کیوں کہ حقیقت میں وہ سالوں کی فصلیں فروخت کر رہا ہے ۔ 17 تمہیں ایک دوسرے کو دھوکہ نہیں دینا چاہئے ۔ تب تم اپنے خدا سے خوف کرو گے ۔ " میں تمہارا خدا وند خدا ہوں ۔ " 18 " میرے اصولوں اور شریعت پر دھیان دو اور انکی تعمیل کرو تب ہی تم اپنے ملک میں محفوظ رہو گے ۔ 19 زمین تمہارے لئے عمدہ فصل پیدا کرے گی ۔ پھر تمہارے پاس بہت زیادہ کھانے کے لئے ہوگا ۔ اور تم اپنے ملک میں محفوظ رہو گے ۔ 20 " لیکن تم یہ کہہ سکتے ہو ، ' اگر ہم بیج نہ بوئیں یا اپنی فصلوں کو اکٹھا نہ کریں ، تو ساتویں سال ہم لوگوں کے پاس کھانے کے لئے کیا رہے گا ؟ ' 21 چھٹے سال میں تم پر برکت نازل کروں گا اس سال کی پیداوار تین سال کے پیدا وار کے برابر ہوگی ۔ 22 آٹھویں سال جب تم بوؤ گے تو اس وقت تک تم اپنی بیرونی فصل ہی کاٹو گے دراصل جب تک نویں سال میں فصل کٹائی نہیں آجاتی ہے تم اپنی پرانی فصل ہی کھا تے رہو گے ۔ 23 " زمین در حقیقت میری ہے اس لئے تم اسے کبھی نہیں بیچ سکتے ۔ تم غیر ملکی ہو اور میرے ساتھ عارضی طور پر رہ رہے ہو ۔ 24 کوئی شخص اپنی زمین بیچ سکتا ہے لیکن اسکا خاندان ہمیشہ اپنی زمین واپس لینے کے اہل ہوگا چاہے یہ جہاں کہیں بھی ہو ۔ 25 کوئی شخص تمہارے ملک میں بہت غریب ہوسکتا ہے وہ اتنا غریب ہو سکتا ہے کہ اسے اپنی جائیداد فروخت کرنا پڑے ۔ ایسی حالت میں اسکے قریبی رشتہ دارو کو آگے آنا چاہئے اس جائیداد کو واپس خریدنا چاہئے ۔ 26 اگر اس شخص کا کوئی قریبی رشتہ دار نہ ہو جو کہ اس کی زمین خریدے لیکن اسکے پاس اتنی دولت ہو کہ خود سے اپنی زمین واپس خرید سکتا ہے ، 27 تو جب سے زمین خریدی گئی تھی زمین کی قیمت طے کر نے کے لئے تمہیں سالوں کو گننا چاہئے ۔ تب وہ شخص زمین کو پھر سے واپس خرید سکتا ہے ۔ وہ اپنے قبضہ کو واپس پا سکتا ہے ۔ 28 لیکن اگر اس شخص کے پاس زمین کو واپس خریدنے کے لئے کا فی دولت نہیں ہو تی ہے ۔ تو خرید نے وا لا زمین کو اپنے ساتھ جوبلی سال کے آنے تک زمین کو رکھے گا ۔ اور اس وقت زمین کے پہلے مالک کے خاندان کو وہ زمین لو ٹا ئی جا ئے گی ۔ 29 اگر کو ئی شخص اپنے مکان کو فصیل دار شہر میں جہاں وہ رہتا ہو بیچتا ہے تو ایک سال کا وقفہ گذر نے سے پہلے وا پس خریدنے کا اختیار ہو گا ۔ 30 لیکن اگر گھر کا مالک پورے ایک سال گذرنے کے پہلے اپنا گھر وا پس نہیں خریدتا فصیل دار شہر کے اندر کا گھر جو آدمی خریدتا ہے اُ سکا اور اس کی نسلوں کا ہو جا تا ہے ۔ جوبلی سال کے وقت پہلے کے مالک کو جا ئیداد وا پس نہیں کی جا ئے گی ۔ 31 وہ گھر جو بغیر فصیل دار شہروں میں ہو کھلے میدان مانے جا ئیں گے ۔ اسے وا پس خریدا بھی جا سکتا ہے اور جو بلی سا ل کے وقت وا پس بھی دیا جا سکتا ہے 32 لیکن لا ویوں کے شہروں اور ان کے شہروں کے گھروں کے متعلق یہ ہے : اسے ان لوگوں کے ذریعے کسی بھی وقت وا پس خریدا جا سکتا ہے ۔ 33 اگر کو ئی شخص لا ویوں کے کسی بھی چیزوں کو خریدنے کے اہل ہے تو اسے ان چیزوں کو جو بلی سال کے وقت لا ویوں کو لو ٹا دینا چا ہئے ۔ کیو نکہ لاویوں کی جا ئیداد سارے اسرائیلیوں کے در میان لا وی خاندانی گروہ کا ہے ۔ 34 لا وی شہروں کے چا روں طرف کے کھیت اور چرا گا ہیں فروخت نہیں کئے جا سکتے ۔ وہ کھیت ہمیشہ کیلئے لا ویوں کے ہیں۔ 35 " ممکن ہے تمہارے ملک کا کو ئی شخص اتنا زیادہ غریب ہو جا ئے کہ اپنے آپ کی مدد نہ کر سکے تو تم اس کی مدد کرنا اور وہ تیرے ساتھ غیر ملکی یا عارضی با شندے کی طرح رہیگا۔ 36 کسی شخص کے اس قرض پر جو کہ وہ تم سے لیا ہے کسی بھی طرح کا سود مت لو ۔ یہ دکھانا کہ تم اپنے خدا کا خوف کر تے ہو ۔ اور اپنے بھا ئی کو اپنے ساتھ جینے دو ۔ 37 اسے سود پر پیسہ ا ُ دھار مت دو۔ جو کھانا وہ کھا ئے اُ س سے نفع مت لو ۔ 38 میں خداوند تمہا را خدا ہوں جو تم کو ملک کنعان دینے کے لئے اور تمہا را خدا بنے رہنے کے لئے ملک مصر سے با ہر لا یا ۔ 39 " ممکن ہے تمہا رے ملک کا کو ئی شخص اِتنا غریب ہو جا ئے کہ وہ غلام کے طور پر اپنے آپ کو تمہا رے پاس بیچے تو تمہیں اس سے غلام کی طرح کام نہیں لینا چا ہئے ۔ 40 وہ جو بلی سال تک کرا ئے کے مزدور اور ایک عارضی با شندہ کی طرح تمہا رے ساتھ رہے گا ۔ 41 تب وہ اپنے بچوں اور اپنے خاندانوں کے ساتھ اپنے آباؤ اجداد میں وا پس جا سکتا ہے ۔ 42 کیو نکہ انہوں نے میری خدمت کی ، میں انہیں ملک مصر سے با ہر لا یا اور وہ پھر سے اپنے آپ کو مجھے غلام کے طور پر فروخت نہیں کر سکتا ہے ۔ 43 تمہیں ایسے آدمی پر ظالم آقا نہ ہو نا چا ہئے ۔ تمہیں اپنے خدا سے خوف کرنا چا ہئے ۔ 44 " تمہا رے غلام اور باندیوں کے متعلق: تم اپنے اطراف و اکناف کے دوسرے ملکو ں سے غلام اور باندیاں خرید سکتے ہو۔ 45 تمہا رے ملک میں رہنے وا لے غیر ملکیوں کے خاندانوں کے بچوں کو تم غلام کے طور پر بھی خرید سکتے ہو ۔ وہ بچے تمہا ری جا ئیداد ہوں گے ۔ 46 تم ان غیر ملکی غلا موں کو اپنے بچوں کو وراثت کے طور پر دے سکتے ہو جو تمہا رے مر نے کے بعد تمہا رے بچوں کے ہو ں گے ۔ وہ ہمیشہ کے لئے تمہا رے غلام رہیں گے ۔ تم ان غیر ملکیوں کو اپنے غلام بنا سکتے ہوں لیکن تم اپنے اسرا ئیلی ساتھیوں پر ظلم سے حکومت نہیں کر سکتے ہو ۔ 47 " اگر کو ئی غیر ملکی یا کو ئی عارضی با شندے جو کہ تمہا رے ساتھ رہتے ہیں دولت مند ہو جا ئیں اور تمہا رے اپنے ملک کے لوگ اتنے غریب ہو جا ئیں کہ وہ اپنے آپ کو غلام کے طور پر غیر ملکی خاندان کے 48 تو اس طرح کے غلام کو اپنے آپ کو وا پس خر یدنے اور آزاد ہو نے کااختیار ہے ۔ اس کا کو ئی بھی بھا ئی اسے وا پس خرید سکتا ہے ، 49 یا اسکا چچا یا اس کا چچیرا بھائی یا اسکا کوئی قریبی رشتے دار اسے واپس خرید سکتا ہے ۔ یا وہ آدمی خود سے کافی پیسہ ادا کر کے جسے کہ اس نے حاصل کیا تھا اپنے آپ کو آزاد کر سکتا ہے ۔ 50 " تم اس شخص کی قیمت کیسے مقرر کروگے ؟غیر ملکی کے پاس جب سے اس نے اپنے کو بیچا ہے ۔ اس وقت سے جوبلی سالوں تک کے سالوں کو تم گنو گے اس تعداد کا استعمال قیمت مقرّر کرنے میں کرو ۔ کوئی شخص ایک کرائے کے مزدور کو جتنا ادا کرے گا اس پر خیال کرتے ہوئے تم کو قیمت طے کرنی ہوگی ۔ 51 اگر جوبلی سال دور ہو تو اس شخص کو اس کی قیمت کابڑا حصّہ واپس کرنا چاہئے ۔ 52 اگر جوبلی سال آ نے میں کچھ ہی سال رہ جائے تو اسی کے مطابق قیمت طے کرنی چاہئے ۔ اسکی قیمت اسکے سالوں پر منحصر ہوگی ۔ 53 کسی حالت میں اگر وہ شخص اس غیر ملکی کے ساتھ رہتا ہے تو اسکے ساتھ کرائے کے مزدور جیسا سلوک کیا جانا چاہئے ۔ اور اس غیر ملکی کو اس پر ظالمانہ طور پر حکومت نہیں کرنی چاہئے ۔ 54 " وہ آدمی کسی کے ساتھ واپس نہ خریدے جانے پر بھی چھوٹ جائے گا ۔ جوبلی کے سال وہ او ر اسکے بچّے چھوٹ جائیں گے ۔ 55 کیوں کہ بنی اسرائیل میرے غلام ہیں وہ میرے خادم ہیں ۔ جنہیں میں نے مصر کی غلامی سے باہر نکالا ۔ میں تمہارا خدا وند خدا ہوں ۔ "

Leviticus 26

1 " اپنے لئے مورتیاں مت بناؤ ۔ تراشی ہوئی مورتیا ں یا متبرک ستون مت کھڑا کرو ۔ عبادت کرنے کے لئے پتھر کی مورتیاں نصب نہ کرو ۔ کیوں کہ میں تمہارا خدا وند خدا ہوں ۔ 2 " تمہیں میرے سبت کے دنوں کو ماننا چاہئے اور میری مقدس جگہ کی تعظیم کرنی چاہئے ۔ میں خدا وند ہوں ۔ 3 " اگر تم میرے احکام پر چلو اور میری شریعتوں کا پالن کرو اور اسکی تعمیل کرو ، 4 تو میں تمہارے لئے وقت پر پانی برساؤنگا اور زمین فصل اُگائے گی اور درخت میوہ دیگا ۔ 5 تیرا اناج کے مَلنے ککاہن انگور جمع کرنے تک چلے گا ۔ اور تیرے انگور کو جمع کرنے کاکام بیج بونے کے وقت تک چلے گا ۔ تب تمہارے پاس کافی مقدار میں کھانا ہوگا ۔ اور تم اپنے ملک میں محفوظ رہوگے ۔ 6 تمہارے ملک کو امن دونگا ۔ تم امن سے سو سکو گے ۔ کوئی آدمی ڈرانے نہیں آئے گا ۔ میں تباہ کن جانوروں کو تمہارے ملک سے باہر رکھونگا اور فوجیں تمہارے ملک سے نہیں گزریں گی ۔ 7 تم اپنے دشمنوں کو پیچھا کر کے بھگاؤ گے اور انہیں شکست دوگے تم انہیں اپنی تلوار سے مارڈالو گے ۔ 8 تمہارے پانچ آدمی دشمنوں کے سو آدمیوں کا پیچھا کر کے انہیں بھگائیں گے ۔ اور تمہارے سو آدمی انکے ہزار آدمیوں کا پیچھا کریں گے ۔ اور تمہارے دشمن تمہارے سامنے تلوار سے 9 " تب میں تمہاری طرف پلٹونگا میں تمہیں بہت بچّوں والا بناؤنگا ۔ میں تمہارے ساتھ اپنا معاہدہ پورا کروں گا ۔ 10 " تم گودام کے اناج کو کھاؤ گے ۔ اور اسی وقت تم جمع کئے ہوئے پرانے اناج کو پھینکو گے ۔ 11 تم لوگوں کے درمیان اپنا مقدس خیمہ رکھونگا ۔ میں تم لوگوں سے نفرت نہیں کروں گا ۔ 12 " میں تمہارے ساتھ چلونگا اور تمہارا خدا رہونگا ۔ تم میرے لوگ رہوگے ۔ 13 میں تمہارا خدا وند خدا ہوں ۔ تم مصر میں غلام تھے لیکن میں تمہیں وہاں سے باہر لایا ۔ میں نے تمہارے کندھوں کے بھا ری جواؤں کو توڑ پھینکا ۔ میں نے تمہیں سماج میں فخر سے چلنے والا بنایا ۔ 14 " لیکن اگر تم میری مرضی کی تعمیل نہیں کروگے اور میرے یہ سب احکام نہیں مانوگے " 15 اور اگر تم میرے اصولوں اور احکامات کو میرے حکم کے مطابق ماننے سے انکار کر تے ہو ، تو تم نے میرے معاہدہ کو توڑ دیا ہے ، 16 تو میں تمہارے ساتھ ایسا کروں گا کہ تم پر بھیانک مصیبت نازل کروں گا ۔ میں تمکو بخار اور دوسری بیماری میں مبتلاء کروں گا جو تمہاری آنکھوں کو تباہ کرے گی اور تمہاری زندگی لے لیگی ۔ اگر تم اپنے بیج بوؤ گے تو تمہیں فصل نہیں ملے گی ۔ تمہاری پیدا وار تمہارے دشمن کھائیں گے ۔ 17 میں تمہارے خلاف ہونگا ۔ تمہارے دشمن تمکو شکست دیں گے تم پھر بھی بھا گو گے جب تمہارا کوئی پیچھا نہ کر رہا ہوگا ۔ 18 " اگر اسکے بعد بھی تم میری نہ سنو گے تو میں تمہارے گناہوں کے لئے تمہیں سات گنا زیادہ سزا دونگا ۔ 19 میں تمہارے زور آور فخر کو برباد کر دونگا ۔ میں تمہارے آسمان کو لوہا اور زمین کو کانسہ بنا دونگا ۔ 20 تم سخت محنت کروگے ۔ لیکن یہ تمہاری کوئی مدد نہیں کرے گا ۔ تمہاری زمین میں کوئی پیدا وار نہیں ہوگی اور تمہارے درختوں پر پھل نہیں آئیں گے ۔ 21 " اگر پھر بھی تم میرے خلاف جاتے ہو اور میری نہیں سنتے ہو تو میں سخت سزا دونگا ، جو گناہ تم کروگے اس کا سات گنا زیادہ سزا دونگا ۔ 22 میں تمہارے خلاف جنگلی جانوروں کو بھیجونگا وہ تمہارے بچّوں کو تم سے چھین لے جائیں گے ۔ وہ تمہارے مویشیوں کو تباہ کر دیں گے وہ تمہار ی تعداد بہت کم کردیں گے ۔ اور تمہاری سڑکیں خالی ہوجائیں گی ۔ 23 " اگر پھر بھی تم میرا سبق نہ سیکھے اور میری مخالفت کرنا جاری رکھے ، 24 تو میں بھی تمہارے خلاف ہوجاؤنگا ۔ میں خدا وند ہوں اور میں تمہارے گناہوں کے لئے تمہیں سات گنا سزا دونگا ۔ 25 تم نے میرے معاہدہ کو توڑا ہے اس کے لئے میں تیرے خلاف فوجوں کو بھیج کر تجھے سزا دونگا ۔ اگر تم اپنے شہروں میں واپس چلے جاؤ گے تو میں وہاں بیماری پھیلادونگا اور تب تمہارے دشمن تجھے شکست دیں گے ۔ 26 میں تیرے روزانہ کی غذا کو پوری طرح سے بند کردونگا ۔ تب عورتیں ایک ہی تنور میں تمہارے ساری روٹیوں کو پکائیں گی ۔ وہ ہر ایک روٹی 27 " اگر تب بھی تم میری باتیں سُننے سے انکار کر تے ہو اور میرے خلاف ہی کر تے ہو ، 28 تو میں تمہا رے خلا ف اپنا غصّہ ظا ہر کروں گا ۔ میں خود تمہا رے گنا ہ کے لئے سات گنا سزا دو ں گا ۔ 29 تم اپنے بیٹے اور بیٹیوں کے گوشت کو کھا ؤ گے ۔ 30 میں تمہا ری کُفر کی اُونچی جگہوں کو تباہ کروں گا ۔ میں تمہا ری خوشبوؤں کی قربان گا ہوں کو کاٹ ڈا لوں گا ۔ میں تمہاری لا شوں کو تمہارے بے جان بتوں پر ڈال دو ں گا میں تم سے نفرت کروں گا ۔ 31 میں تمہا رے شہروں کو تباہ کروں گا ۔ میں تمہا ری اونچی مُقدس جگہوں کو خالی کر دوں گا ۔ میں تمہا ری قربانیوں کی راحت افزاء خوشبوؤں کو قبول نہیں کرو ں گا ۔ 32 میں تمہا رے ملک کو اتنا خا لی کر دوں گا کہ تمہا رے دُشمن تک جو اس میں رہنے آئیں گے وہ اس پر حیران ہو ں گے ۔ 33 اور میں تمہیں قوموں کے درمیان مُنتشر کردو ں گا ۔ میں اپنی تلوار کھینچوں گا اور تم پر حملہ کروں گا ۔ تمہا ری زمین خا لی ہو جا ئے گی ۔ اور تمہا رے شہر نیست و نابود ہو جا ئیں گے ۔ 34 " تم اپنے دُشمنوں کے ملکوں میں لے جا ئے جا ؤ گے ۔ تمہا ری زمین خا لی ہو جا ئے گی اور آخر میں یہ سبت کو پا ئے گی ۔ 35 جیسا کہ تم نے اسے کو ئی آرام نہیں دیا حالانکہ تم اس میں رہتے تھے ۔ جب یہ ویران ہو جا ئے گی تب یہ آرام کے لئے اپنے سبت کو پا ئے گی ۔ 36 باقی بچے ہو ئے لوگ اپنے دُشمنوں کے ملک میں اپنی ہمت کھو دیں گے وہ ہر چیز سے ڈریں گے ۔ وہ ہوا میں اُڑتے ہو ئے پتّے کی آواز سنیں گے تو وہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگیں گے ۔ ایسے بھا گیں گے جیسے کو ئی تلوار لئے ان کا پیچھا کر رہا ہو ۔ لوگ گِر پڑیں گے حالانکہ کو ئی ان کا پیچھا نہ کر تا ہو گا ۔ 37 وہ ایک دوسرے پر گریں گے ، جبکہ کو ئی ان کا پیچھا نہیں کر رہا ہو گا ۔ 38 تم دوسری قوموں کے درمیان کھو جا ؤ گے ۔ تم اپنے دشمنوں کے ملک کے ذریعہ کھا لئے جا ؤ گے ۔ 39 تم میں سے جو باقی بچیں گے تمہا رے دشمنوں کے ملک میں اپنے گنا ہوں کی وجہ سے سڑیں گے۔ وہ اپنے آبا ؤ اجداد کے گنا ہوں کے سبب سے بھی سڑیں گے ۔ 40 " ممکن ہے کہ لوگ اپنے گنا ہوں کا اِقرار کریں اور وہ اپنے با پ دادا کے بھی گنا ہوں کو قبول کریں کہ وہ میرے خلا ف تھے اور میری مخالفت کئے تھے ۔ 41 میں جب سچ مچ میں ان لوگوں کے خلاف جا ؤں اور انہیں دشمنوں کے ملک میں لا ؤں، تو ان کا نا مختون دل خاکسار ہو جا ئے گا اور اپنے گنا ہوں کو قبول کرے گا ۔ 42 تو میں یعقوب کے ساتھ کئے گئے اپنے معا ہدہ کو ، اسحاق کے ساتھ اپنے معا دہ کو اور ابرا ہیم کے 43 " زمین خا لی رہے گی اور وہ اپنے سبت کے سال سے خوشی منا ئیں گے ۔ پھر بچے ہو ئے لوگ اپنے گناہ کے لئے سزا کو قبول کریں گے ۔ کیو نکہ انہوں نے میری شریعت سے نفرت کی تھی اور میرے احکام کو ماننے سے انکا ر کیا تھا ۔ 44 لیکن تب بھی وہ جب اپنے دشمنوں کے ملک میں ہو ں گے میں انہیں پو ری طرح تبا ہ نہیں کرو ں گا ۔ میں ان کے ساتھ اپنے معا ہدہ کو نہیں تو ڑوں گا ۔ " کیوں کہ میں خداوند ان کا خدا ہوں۔" 45 میں ان کے با پ دادا کے ساتھ کئے گئے پہلے معا ہدہ کو یا د رکھو ں گا ۔ میں ان کے با پ دادا کو ان کے دشمنوں کی مو جودگی میں مصر سے با ہر لا یا کہ میں ان کا خدا ہو سکوں۔ میں خداوند ہوں۔" 46 یہ وہ شریعت ، اُ صول اور تعلیمات ہیں جنہیں خداوند نے بنی اسرئیلیوں کو دیئے ۔ وہ شریعت بنی اسرا ئیلیوں اور خداوند کے درمیان معاہدہ ہے ۔ وہ شریعت موسیٰ کے ذریعہ سینا ئی پہا ڑ پر دیا گیا ۔

Leviticus 27

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " بنی اسرا ئیلیوں سے کہو :کوئی آدمی خدا وند سے خاص وعدہ کر سکتا ہے وہ خداوند کے لئے کسی شخص کو پیش کرنے کا وعدہ کر سکتا ہے وہ آدمی خدا وند کی خدمت خاص طریقے سے کریگا ۔ کاہن اس کے لئے خاص قیمت مقرّر کریگا ۔ اگر لوگ اُسے واپس خریدنا چاہتے ہیں تو اسے اسکی قیمت ادا کرنی ہوگی ۔ 3 بیس سے ۶۰ سال تک کی عمر کے مرد کی قیمت سرکاری حساب کے مطابق ۵۰ چاندی کے مثقال ہوگی ۔ 4 بیس سے ۶۰ سال کی عمر کی عورت کی قیمت تیس مثقال ہے ۔ 5 پانچ سے بیس سال کی عمر کے مرد کی قیمت ۱۰ مثقال ہے ۔ 6 ایک مہینے سے ۵ سال تک کے بچے کی قیمت ۵ مثقال ہے اسی طرح سے ایک مہینے سے پانچ سال تک کی بچّی کی قیمت ۳ مثقال ہوگی ۔ 7 ساٹھ یا ساٹھ سے زیادہ عمر کے مرد کی قیمت پندرہ مثقال ہے ۔ ایک عورت کی قیمت ۱۰ مثقال ہے ۔ 8 "اگر آدمی اتنا غریب ہے کہ وہ طئے شدہ قیت ادا نہ کرسکے تو اُس آدمی کو کاہن کے سامنے لاؤ ۔ کاہن یہ طئے کریگا کہ وہ آدمی کتنی قیمت ادائیگی میں دے سکتا ہے ۔ 9 " کچھ جانوروں کو خدا وند کو قربانی پیش کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اُن جانوروں میں سے کسی کو لاتا ہے تو وہ جانور مقدس ہوجائے گا ۔ 10 اگر وہ شخص خدا وند کو اُس جانور کے دینے کا وعدہ کرتا ہے ۔ تو اس شخص کو اُس جانور کی جگہ پر دُوسرا رکھنے کا خیال نہیں کرنا چاہئے ۔ اُسے اچھے جانور کو بُرے جانور سے اور بُرے جانور کو اچھے جانور سے نہیں بدلنا چاہئے ۔ اگر وہ شخص جانور کو بدلتا ہے تو دونوں مقدس ہوجائیں گے ۔ 11 " کچھ جانور خدا وند کو قربانی کے طور پر پیش نہیں کئے جا سکتے ۔ اگر کوئی آدمی ان ناپاک جانوروں میں سے کسی کو خدا وند کے لئے لاتا ہے تو وہ جانور کاہن کے سامنے لایا جانا چاہئے ۔ 12 کاہن اس جانور کی قیمت مُقرّر کریگا اور اس میں سے کسی جانور کو یہ نہیں کہا جائے گا کہ جانور اچھا ہے یا بُرا ۔اگر کاہن قیمت مقرّر کر دیتا ہے تو جانور کی وہی قیمت ہوگی ۔ 13 اگر آدمی جانور کو واپس خریدنا چاہتا ہے تو اُسے قیمت کا پانچو ا ں حصّہ اور مِلانا چاہئے ۔ 14 " اگر کو ئی شخص اپنے مکان کو مقدس مکان کے طور پر خداوند کو پیش کرتا ہے تو کا ہن کو اس کی قیمت مقرر کرنی چا ہئے چا ہے وہ اچھا ہو یا بُرا ۔ اگر قیمت مقرر کر تا ہے تو وہی مکان کی قیمت ہے ۔ 15 لیکن اگر وہ شخص جو مکان پیش کرتا ہے اسے اور وا پس خریدنا چا ہتا ہے تو اسے اس کی قیمت میں پانچواں حصّہ مِلنا چا ہئے ۔ تب و ہ اس مکان کو واپس خرید سکتا ہے ۔ 16 " اگر کو ئی آدمی اپنے کھیت کا کو ئی حصّہ خداوند کو پیش کرتا ہے تو اس کھیت کی قیمت اسی میں بونے کے لئے بیج کی قیمت منحصر کریگی ۔ ایک مربع فیٹ کے لئے ایک ہو مر کی ضرورت ہے جس کی قیمت ۵۰ مثقال چاندی ہو گی ۔ 17 اگر آدمی جو بلی کے سال کھیت کا عطیہ دیتا ہے تب قیمت وہ ہو گی جو کا ہن مقرر کرے گا ۔ 18 لیکن اگر آدمی جو بلی سال کے بعد کھیت کا عطیہ دیتا ہے تو کا ہن اس کی صحیح قیمت کا تعین کرے گا جو کہ اگلے جو بلی سال تک اور سالوں کی تعداد پر منحصر کریگا ۔ اس کی قیمت کم ہو نی چا ہئے ۔ 19 اگر کھیت عطیہ کر نے وا لا شخص کھیت کو وا پس خریدنا چا ہے تو اس کو اس کی قیمت میں پانچواں حصّہ اور ملانا چا ہئے ۔ 20 اگر وہ شخص کھیت کو وا پس نہیں خریدنا چا ہتا یا پھر کا ہنوں کے ذریعہ دوسرے شخص کو بیچا جا تا ہے تو پہلا آدمی وا پس نہیں خرید سکتا ۔ 21 جو بلی کے سال کھیت خداوند کے لئے مقدس رہے گا ۔ یہ ہمیشہ کا ہنوں کا رہے گا یہ اس زمین کی طرح ہو گا ۔ جو پو ری طرح خداوند کو وقف کر دی گئی ہو ۔ 22 اگر کو ئی اپنے خریدے ہو ئے کھیت کو خداوند کو پیش کرتا ہے جو اس کی خاندانی جائیدادکا حصّہ نہیں ہے ، 23 تب کا ہن کو جوبلی کے سال تک سالوں کو گِننا چا ہئے اور کھیت کی قیمت مقرر کرنی چا ہئے اور اس دن وہ شخص کچھ مقدس چیز جو کہ خداوند کا ہو گا ادا کریگا۔ 24 جو بلی کے سال وہ کھیت جائیداد کے مالک کے پاس وا پس آ جا ئیگا ۔ 25 " تمہیں ہر ایک مقرر قیمت کو سرکا ری مثقال کے حساب سے ادا کرنا چا ہئے ۔ ایک مثقال بیس جیرہ کے برا بر ہے ۔ 26 " تم پہلو ٹھے مویشی اور مینڈھوں کو خداوندکو عطیہ کے طور پر پیش نہیں کر سکتے ہو کیو نکہ یہ خداوند کا پہلے ہی سے ہے ۔ 27 اگر پہلو ٹھا جانور نا پاک ہے تو اس شخص کو اس جانور کو وا پس خریدنا چا ہئے ۔ کا ہن اس جانور کی قیمت مقرر کرے گا اور اس شخص کو اُس کی قیمت کا پانچواں حصّہ اُس میں ملانا چا ہئے ۔ اگر وہ شخص جانور کو وا پس نہیں خریدتا تو کا ہن کو اپنے مقرر کی ہو ئی قیمت پر اسے بیچ دینا چا ہئے ۔ 28 " لوگوں کا یا مویشیوں کا یا کھیتوں کا ایک خاص قسم کا عطیہ جسے لوگ خداوند کو پیش کرتے ہیں۔ یہ عطیہ پو ری طرح سے خداوند کا ہے اسے نہ تو وا پس خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی بیچا جا سکتا ہے ۔ یہ خاص عطیہ خدا وند کا ہے اور یہ سب سے مقدس ہے ۔ 29 " اگر وہ خاص قسم کا عطیہ کسی شخص کا ہے تو اسے وا پس نہیں خریدا جا سکتا ہے ۔ اسے بالکل ما ر دیا جانا چا ہئے ۔ 30 " تمام پیدا وا روں کا دسواں حصّہ خداوند کا ہے اِس میں درخت ، فصلیں اور درختوں کے پھل شامل ہیں ۔ وہ دسواں حصّہ مقدس ہے اور خداوند کا ہے ۔ 31 اگر کو ئی شخص خداوند کا دسواں حصّہ وا پس خریدنا چاہتا ہے تو اسے اس کی قیمت کا پانچواں حصّہ ملانا چا ہئے اور تبھی وہ اسے وا پس خرید سکتا ہے ۔ 32 " دس بھیڑ میں سے ایک اور دوسرے مویشی جو چروا ہے کی لا ٹھی کے نیچے سے گذر جا تا ہے تو وہ ہر دسواں جانور خداوند کا ہے ۔ 33 مالک کو یہ فکر نہیں کر نی چا ہئے کہ وہ جانور اچھا ہے یا بُرا ۔ اسے جانور کو دوسرے جانور سے نہیں بدلنا چا ہئے ۔ اگر وہ بدلنے کا ہی طئے کر تا ہے تو دو نوں جانور خداوند کے ہوں گے ۔ وہ جانور وا پس نہیں خریدے جا سکتے ۔" 34 یہ وہ احکام ہیں جنہیں خداوند نے سینا ئی کے پہاڑ پر موسیٰ کو بنی اسرا ئیلیوں کے لئے دیا ۔

Numbers 1

1 خدا وند نے موسیٰ سے خیمہٴ اجتماع میں بات کی یہ سینائی کے صحرا میں ہوئی۔ یہ بات بنی اسرائیلیوں کے ساتھ مصر چھوڑنے کے بعد دُوسرے سال کے دُوسرے مہینے کے پہلے دن کی تھی۔ خدا وند نے موسیٰ سے کہا : 2 " سبھی بنی اسرائیلیوں کو گِنو ہر ایک آدمی کی فہرست اس کے خاندان اور اس کے خاندانی گروہ کے ساتھ بنا ؤ۔ 3 تم اور ہا رون اسرائیل کے تمام مردوں کو گِنو گے جن کی عمر بیس سال سے زیادہ ہے ۔( یہ وہ ہیں جو اسرائیل کی فو ج میں خدمت کر تے ہیں ) ان کی فہرست ان کے گروہ کے مطا بق بنا ؤ ۔ 4 ہر ایک خاندانی گروہ سے ایک آدمی تمہا ری مدد کرے گا ۔ یہ آدمی اپنے خاندانی گروہ کا قا ئد ہو گا ۔ 5 تمہا رے ساتھ رہنے اور تمہا ری مدد کر نے وا لے آدمیوں کے نام یہ ہیں : 6 شمعون کے خاندانی گروہ سے صُوری شدّی کا بیٹا سلُومی ایل ۔ 7 یہوداہ کے خاندانی گروہ سے عمّیندا ب کا بیٹا نحسون ۔ 8 اِشکار کے خاندانی گروہ سے ضُغر کا بیٹا نتنی ایل ۔ 9 زبولون کے خاندانی گروہ سے حیلون کا بیٹا الیاب ۔ 10 یُوسف کی نسل سے افرا ئیم کے خاندانی گروہ سے عمّ یہود کا بیٹا الیسمع۔ منسی کے خاندا نی گروہ سے فدا ہُصور کا بیٹا جملی ایل ۔ 11 بنیمین کے خاندانی گروہ سے جِد عونی کا بیٹا اِبدان ۔ 12 دان کے خاندانی گروہ سے عمّیشّدی کا بیٹا اخیعزر ۔ 13 آشر کے خاندانی گروہ سے عکران کا بیٹا فجعی ایل ۔ 14 جاد کے خاندانی گروہ سے دعُو ایل کا بیٹا اِلیاسف ۔ 15 نفتالی کے خاندانی گروہ سے عینان کا بیٹا اخِیرع۔" 16 یہ سبھی آدمی جماعت میں سے اپنے آ با ؤ اجداد کے خاندانی گروہ کے قائد چنے گئے ۔ یہ لو گ اسرائیل کے قبیلوں کے سردار تھے ۔ 17 موسیٰ اور ہا رون نے اُن آدمیوں ( بنی اسرائیلیوں ) کو جسے کہ چُن لئے گئے تھے اپنے ساتھ لئے ۔ 18 موسیٰ اور ہا رون نے تمام لوگوں کو دوسرے مہینے کے پہلے دن جمع کیا ۔ پھر اس دن آدمیوں کا جن کی عمر بیس سال یا اس سے زیادہ تھی ا ن کے خاندان اور ان کے قبیلوں کے مطا بق فہرست تیار کیا ۔ 19 موسیٰ نے بالکل ویسا ہی کیا جیسا خداوند کا حکم تھا ۔ موسیٰ نے لوگوں کو اس وقت گِنا جب وہ سینا ئی کے صحرا میں تھے ۔ 20 روبن کے خاندانی گروہ کو گنے گئے ( روبن اسرائیل کا پہلو ٹھا بیٹا تھا ) ان تمام آدمیوں کی فہرست تیار کی گئی جو بیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے اور فوج میں خدمت کر نے کے قابل تھے ۔ ان کی فہرست ان کے قبیلوں اور ان کے خاندا نی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی ۔ 21 روبن کے خاندانی گروہ سے گِنے گئے آدمیوں کی تعداد ۴۶۵۰۰ تھی ۔ 22 شمعون کے خاندانی گروہ کو گنے گئے۔ بیس سال یا اس سے زیادہ عمر وا لے فوج میں خدمت کر نے کے قابل تمام آدمیوں کے ناموں کی فہرست تیا ر کی گئی ۔ ان کی فہرست ان کے خاندان اور ان کے خاندانی گروہ کے مطا بق تیار کی گئی ۔ 23 شمعون کے خاندانی گروہ کو گِننے پر تمام آدمیوں کی تعداد ۳۰۰, ۵۹ تھی ۔ 24 جاد کے خاندانی گروہ کو گِنے گئے ۔ بیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے اور فوج میں خدمت کر نے کے قابل تمام آدمیوں کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ اُن کی فہرست اور اُن کے خاندان اور خاندانی گروہ ساتھ تیار کی گئی ۔ 25 جاد کے خاندانی گروہ کو گِننے پر مردوں کے تعداد ۶۵۰,۴۵ تھی ۔ 26 یہوداہ کے خاندانی گروہ کو گِنے گئے ۔ بیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے لو گ اور فوج میں خدمت کر نے کے قابل تمام مردوں کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ اُن کی فہرست اور اُن کے خاندان اور اُن کے خاندانی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی ۔ 27 یہوداہ کے خاندانی گروہ کو گِننے پر تمام تعداد ۶۰۰,۷۴ تھی ۔ 28 اِشکار کے خاندانی کو گنے گئے ۔ بیس سال یا ا س سے زیادہ عمر کے اور فوج میں کام کر نے کے قابل تمام آدمی کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ان کی فہرست ان کے خاندانی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی ۔ 29 اِشکار کے خاندانی گروہ کو گننے پر مردوں کی تعداد۴۰۰,۵۴ تھی ۔ 30 زبولون کے خاندانی گروہ کو گنے گئے ۔ بیس سال یا اس سے زیادہ عمرکے اور فوج میں کام کر نے کے قابل سبھی آدمی کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ ان کی فہرست اُن کے خاندان اور اُن کے خاندانی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی ۔ 31 زبولون کے خاندانی گروہ کو گننے پر مردوں کی تعداد۴۰۰ ,۵۷ تھی ۔ 32 یو سف کی نسل سے : افرائیم کے خاندانی گروہ کو گنا گیا ۔بیس سال یا ا س سے زیادہ عمرکے اور فوج میں خدمت کر نے کے قابل سبھی آدمیوں کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ ان کی فہرست ان کے خاندان اور ان کے خاندا نی گروہ کے مطابق تیار کی گئی 33 افرائیم کے خاندانی گروہ کو گننے پر تمام مردوں کی تعداد ۵۰۰,۴۰ تھی ۔ 34 منسّی کے خاندانی گروہ کو گنے گئے ۔ بیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے اور فوج میں خدمت کر نے والے تمام مردوں کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ اُن کی فہرست اُن کے خاندانی گروہ کے مطا بق تیار کی گئی۔ 35 منّسی کے خاندانی گروہ کے آدمیوں کو گننے کے بعد اُن کی تعداد ۲۰۰,۳۲ تھی ۔ 36 بنیمین کے خاندانی گروہ کو گنے گئے ۔ بیس سال یا اُس سے زیادہ عمر اور فوج میں خدمت کرنے کے قابل تمام مردوں کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ ان کی فہرست ان کے خاندان اور ان کے خاندانی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی۔ 37 بنیمین کے خاندانی گروہ کو گننے پر مردوں کی تعداد ۴۰۰, ۳۵ تھی ۔ 38 دان کے خاندانی گروہ کو گنے گئے ۔ بیس سال یا اُس سے زیادہ عمر کے اور فوج میں خدمت کر نے کے قابل تمام مردوں کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ اُن کی فہرست اُن کے خاندان اور اُن کے خا ندانی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی ۔ 39 دان کے خاندانی گروہ کے گننے پر ساری تعداد ۷۰۰ , ۶۲ تھی ۔ 40 آشر کے خاندانی گروہ کو گنے گئے ۔ بیس سال یا اُس سے زیادہ عمر کے اور فوج میں خدمت کر نے کے قابل تمام مردوں کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ اُن کی فہرست اُن کے خاندان اور اُن کے خاندانی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی۔ 41 آشر کے خاندانی گروہ کو گننے پر تمام مردوں کی تعداد ۵۰۰ ,۴۱ تھی ۔ 42 نفتالی کے خاندانی گروہ کو گنے گئے ۔ بیس سال یا اُس سے زیادہ عمر کے اور فوج میں خدمت کر نے کے قابل تمام مردوں کے ناموں کی فہرست تیار کی گئی ۔ اُن کی فہرست اُن کے خاندان اور خاندانی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی ۔ 43 نفتالی کے خاندانی گروہ کو گننے پر تما م مردوں کی تعداد ۴۰۰ ,۵۳ تھی ۔ 44 موسیٰ ہا رون اور اسرائیل کے قا ئدین نے اُن تمام مردوں کو گنا وہاں ۱۲ قائدین تھے ۔( ہر خاندانی گروہ سے ایک قا ئد تھا ۔) 45 اسرائیل کا ہر ایک مرد جو بیس سال یا اُس سے زیادہ عمر کے اور فوج میں کام کر نے کے قابل تھا گِنا گیا۔ اُن مردوں کی فہرست اُن کے خاندانی گروہ کے ساتھ تیار کی گئی۔ 46 آدمیوں کی ساری تعداد ۵۵۰, ۶۰۳ تھی ۔ 47 لا وی کے خاندانی گروہ سے خاندانوں کی فہرست اسرائیل کے دوسرے آدمیوں کے ساتھ تیار نہیں کی گئی ۔ 48 خداوند نے موسیٰ سے کہا تھا ۔ 49 لا وی کے خاندانی گروہ کے مردو ں کو تمہیں نہیں گِننا چا ہئے ۔ 50 تم لا ویوں کو معاہدہ کے مقدس خیمہ اور اسکی چیزوں کے لئے ذمّہ دار مقرر کرو ۔ وہ مقدس خیمہ اور اسکے سامانوں کو ضرور لے جا ئے اور اپنے خیموں کو مقدس خیمہ کے اطراف لگا ئے اور اس کی دیکھ بھا ل کرے ۔ 51 جب کبھی بھی مقدس خیمہ کو کھسکا یا جا ئے تو صرف لا وی ہی اسے اتا رے ۔ اور اسی طرح جب کبھی بھی مقدس خیمہ کو کہیں لگایا جا ئے تو صرف لا وی اسے لگا ئے گا ۔ کو ئی دوسرا شخص اگر خیمہ کے نزدیک آئے تو اسے پھانسی دے دی جا ئے ۔ 52 بنی اسرائیل اپنے خیمے الگ الگ گروہوں میں لگا ئیں گے ۔ ہر ایک آدمی کو اپنا خیمہ اپنے خاندان کے جھنڈے کے پاس لگانا چا ہئے ۔ 53 لیکن لا وی کے لوگوں کو اپنا خیمہ مقدس خیمہ کے چا روں طرف ڈالنا چا ہئے ۔ اسے معاہدہ کی مقدس خیمہ کی حفا ظت کر نی چا ہئے تا کہ خداوند کا غصّہ بنی اسرائیلیوں کی جما عت کے خلا ف نہیں آئے گا ۔" 54 اس لئے بنی اسرائیلیوں نے اُن تمام چیزوں کو کیا جس کا حکم خداوندنے موسیٰ کو دیا تھا ۔

Numbers 2

1 خداوند نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا : 2 " بنی اسرائیلیوں کو خیمٴہ اجتماع کے چاروں طرف اپنے خیمے لگانے چا ہئے ۔ ہر گروہ کا اپنا ایک خاص جھنڈا ہو گا اور ہر آدمی کو اپنے گروہ کے جھنڈے کے قریب اپنا خیمہ لگانا چا ہئے ۔ 3 " یہوداہ کے خیمہ کا جھنڈا مشرقی جانب ہو گا ۔ جدھر سورج نکلتا ہے ۔ یہودا ہ کے لو گ وہاں خیمہ لگا ئیں گے ۔ یہوداہ کے لوگوں کے قائد عمّینداب کا بیٹا نحسون ہے ۔ 4 وہ گروہ ۶۰۰,۷۴ آدمیوں پر مشتمل تھے ۔ 5 " اشکا ر کا خاندانی گروہ یہوداہ کے لوگوں کے ٹھیک بعد میں ہو گا ۔ اشکار کے لوگوں کا قائد سوار کا بیٹا نتنی ایل ہے ۔ 6 اُس گروہ میں ۴۰۰,۵۴ مرد تھے ۔ 7 " زبولون کا خاندانی گروہ اشکار کے خاندانی گروہ کے آگے اپنا خیمہ لگا ئے گا ۔زبولون کے لوگوں کا قا ئد حیلون کا بیٹا الیاب ہے ۔ 8 اُس گروہ میں ۴۰۰, ۵۷ مرد تھے ۔ 9 " یہوداہ کی چھا ؤ نی میں۴۰۰ ,۱۸۶ مرد تھے ۔ ان لوگوں کی ترتیب ان کے خاندانی گروہ کے مطا بق ہو ئی تھی ۔ جب وہ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کریگا تو یہوداہ کا گروہ سب سے آگے بڑھے گا۔ 10 روبن کا جھنڈا مقدس خیمہ کے جنوب میں ہو گا ۔ ہر ایک گروہ اپنے جھنڈے کے پاس اپنا خیمہ لگا ئے گا ۔ روبن کے لوگوں کا قا ئد شدّ یُور کا بیٹا الیصور ہے ۔ 11 اُس گروہ میں ۵۰۰'۴۶ مرد تھے ۔ 12 " شمعون کا خاندانی گروہ رُوبن کے خاندانی گروہ کے ٹھیک بعد اپنا خیمہ لگا ئے گا ۔ شمعون کے لوگوں کا قا ئد صُوری شدّی کا بیٹا سلوی ایل ہے ۔ 13 اُس گروہ میں ۳۰۰'۵۹ مرد تھے 14 " جاد کا خاندانی گروہ بھی شمعون کے لوگوں کے آگے اپنا خیمہ لگا ئے گا ۔ جا د کے لوگوں کا قائد دعوایل کا بیٹا اِلیاسف ہے ۔ 15 اُس گروہ میں ۶۵۰ ,۴۵ آدمی تھے ۔ 16 " روبن کی چھا ؤ نی میں تمام گروہوں کے ۴۵۰, ۱۵۱ آدمی تھے ۔ جب لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کریں گے تو سفر کر نے وا لے وہ دوسرے گروہ ہونگے ۔ 17 " جب خیمٴہ اجتماع آگے بڑھا یا جا ئے تو لا وی دوسرے چھا ؤنیوں کے بیچ میں اپنی چھا ؤ نی لگا ئے ۔ وہ اسی ترتیب سے سفر کرے جس ترتیب سے وہ اپنے خیموں کو لگا تے ہیں ۔ ہر آدمی اپنے خاندان کے جھنڈے کے ساتھ ہونگے ۔ 18 " افرائیم کا جھنڈا مغرب کی طرف رہے گا ۔ افرائیم کے خاندانی گروہ وہاں خیمہ لگا ئیں گے ۔ افرا ئیم کے لوگوں کا قا ئد عمّیہود کا بیٹا الیسمع ہے ۔ 19 اُس گروہ میں ۵۰۰ ,۴۰ مرد تھے ۔ 20 " منسی کا خاندانی گروہ افرائیم کے خاندان کے بالکل بعد اپنا خیمہ لگا ئے گا ۔ منسّی کے لوگوں کا قا ئد فدا ہصور کا بیٹا جملی ایل ہے ۔ 21 اُس گروہ میں ۲۰۰ , ۳۲ مرد تھے ۔ 22 بنیمین کا خاندانی گروہ بھی افرائیم کے خاندان کے آگے اپنا خیمہ لگا ئے گا ۔بنیمین کے لوگوں کا قا ئد جد عونی کا بیٹا اِبدان ہے ۔ 23 اُ س گروہ میں ۴۰۰, ۳۵ مرد تھے ۔ 24 " افرائیم کی چھا ؤ نی میں۱۰۰ ,۱۰۸ مرد تھے ۔ جب لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کریں گے تو یہ تیسرا گروہ ہو گا ۔ 25 " دان کے خیمہ کا جھنڈا شُمال کی طرف ہو گا ۔ دان کے خاندان کا گروہ وہاں خیمہ لگا ئے گا ۔ دان کے لوگوں کا قا ئد عمّیشدّی کا بیٹا اخیعزر ہے ۔ 26 اس گروہ میں ۷۰۰ , ۶۲ مرد تھے ۔ 27 " آشر کا خاندانی گروہ دان کے خاندانی گروہ کے بعد اپنا خیمہ لگا ئے گا ۔ آشر کے لوگوں کا قا ئد عکران کا بیٹا فجعی ایل ہے ۔ 28 اُس گروہ میں ۵۰۰,۴۱ مرد تھے ۔ 29 " نفتالی کا خاندانی گروہ بھی آشر کے خاندانی گروہ کے آگے اپنا خیمہ لگا ئے گا۔ نفتالی کے لوگوں کا قائد عینان کا بیٹا اخیرع ہے ۔ 30 اُس گروہ میں ۴۰۰, ۵۳ مرد تھے ۔ 31 " دان کی چھا ؤ نی میں ۶۰۰, ۵۱ مرد تھے ۔ جب لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کریں گے تو یہ آخری گروہ ہو گا ۔ یہ اپنے جھنڈے کے ساتھ چلے گا ۔" 32 یہ سب بنی اسرائیل تھے جو اپنے خاندان کے مطا بق گِنے گئے تھے ۔ تمام چھا ؤ نی میں تما م خاندانی گروہوں کے تمام آدمیوں کا انکے درجہ کے مطا بق فہرست تھی ۔ فہرست بنا ئی گئی تما م آدمیوں کی تعداد ۵۵۰'۶۰۳ تھی ۔ 33 موسیٰ نے اسرائیل کے دوسرے لوگوں میں لا وی نسل کے لوگوں کو نہیں گِنا یہ خداوند کا حکم تھا ۔ 34 خداوند نے موسیٰ کو جو کچھ کرنے کے لئے کہا تھا ان سب کی تعمیل بنی اسرائیلیوں نے کی ۔ ہر ایک گروہ نے اپنے جھنڈے کے نیچے اپنے خیمے لگا ئے اور ہر ایک آدمی اپنے خاندان اور اپنے خاندانی گروہ کے مطا بق ترتیب سے سفر کئے ۔

Numbers 3

1 جس وقت خداوند نے سینا ئی پہاڑ پر موسیٰ سے بات کی اُس وقت ہا رون اور موسیٰ کے خاندان کی تا ریخ یہ ہے : 2 ہا رون کے چار بیٹے تھے ۔ نا داب پہلو ٹھا بیٹا تھا ۔ اُ سکے بعد ابیہو ، الیعزر اور اِتمر تھے ۔ 3 وہ سب مسح کئے ہو ئے کا ہن ہا رون کے بیٹے تھے ۔ موسیٰ نے ان لوگوں کو کا ہنوں کے طور پر خداوند کی خدمت کا کام انجام دینے کے لئے مقرر کئے تھے ۔ 4 لیکن ناداب اور ابیہو خداوند کی خدمت کرتے وقت گناہ کرنے کی وجہ سے مر گئے ۔ اُنہوں نے خداوند کی قربانی چڑھا ئی لیکن انہوں نے اُس آ گ کا استعمال کیا جس کے لئے خداوند نے اجا زت نہیں دی تھی ۔ اُس طرح سے ناداب اور ابیہو وہاں سینا ئی کے صحرا میں مر گئے ۔ اُن کے بیٹے نہیں تھے ۔ الیعزر اور اتمر کا ہن بنے اور خداوند کی خدمت کرنے لگے ۔ وہ یہ کام اس وقت تک کر تے رہے جب تک اُن کا باپ ہا رون زندہ تھا ۔ 5 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 6 " لا وی کے خاندانی گروہ کو ہا رون کے سامنے لا ؤ ۔ وہ لوگ ہا رون کے مددگار ہوں گے ۔ 7 لا وی نسل ہا رون کی اُ سوقت تک مدد کریں گے جب وہ خیمٴہ اجتماع میں خدمت کرے گا ۔ اور لا وی نسل سبھی بنی اسرا ئیلیوں کی اُ سوقت مدد کریں گے جس وقت وہ مقدس خیمہ میں عبادت کرنے آئیں گے ۔ 8 لا وی لوگ خیمٴہ اجتماع کی ہر ایک چیز کی حفاظت کریں گے ۔ یہ اُن کا فرض ہے لیکن لا وی لوگ اُن چیزوں کی دیکھ بھا ل کر کے ہی لوگوں کی مدد اورخدمت کریں گے جب وہ مقدس خیمہ میں عبادت کر نے آئیں گے ۔ 9 " سبھی بنی اسرا ئیلیوں میں سے لا وی لوگوں کو ہا رون اور اس کے بیٹوں کی مدد کرنے کے لئے مکمل طریقے سے الگ کرو ۔ 10 " تم ہا رون اور اُس کے بیٹوں کو کا ہن مقرر کرو گے ۔ وہ اپنا فرض پو را کریں گے اور کا ہن کے طور پر خد مت کریں گے کو ئی دوسرا آدمی جو مقدّس چیزوں کے قریب آنے کے لئے سوچے گا مار دیا جانا چا ہئے ۔" 11 خداوند نے موسیٰ سے یہ بھی کہا ، 12 " دیکھو ! اب میں نے لا ویوں کو سبھی بنی اسرا ئیلیوں میں سے اپنی خدمت کے لئے اسرائیل کے تمام پہلو ٹھے بیٹے کی جگہ پر مخصوص کر لئے ۔ اس لئے لا وی میرے ہوں گے ۔ 13 " جب تم مصر میں تھے اور جب میں نے مصر کے لوگوں کے پہلو ٹھے کو ما ر ڈا لا تھا تو اس وقت میں نے اسرا ئیل کے تمام پہلو ٹھے بچوں کو اپنے لئے لے لیا تھا ۔ انسان اور حیوان دو نوں کے نر پہلو ٹھے کو اپنے لئے مخصوص کرتا ہوں۔ وہ سب میرا ہو گا ، میں خداوند ہوں ۔ " 14 خداوند نے پھر صحرا ئے سینائی میں موسیٰ سے بات کی خداوند نے کہا ۔ 15 " لا وی نسل کے تمام خاندانی گروہوں کو گِنو ، صرف مردوں یا لڑ کوں کو جو ایک مہینے یا اُ س سے زیادہ کے ہو ں اُن کو بھی گِنو۔" 16 موسیٰ نے خداوند کے احکام کی تعمیل کی اور اُن تمام کو گِنا ۔ 17 لا وی کے تین بیٹے تھے ۔ اُن کے نام تھے: جیر سون ، قہات اور مراری ۔ 18 ہر ایک بیٹا خاندانی گروہوں کا قا ئد تھا۔ جیر سون کے خاندانی گروہ تھے : لِبنی اور سِمعی ۔ 19 قہا ت کے خاندانی گروہ تھے : عمرام اور اضہا ر ، حبرون اور عُزّی ایل۔ 20 مراری کے خاندانی گروہ تھے : محلی اور موُشی ۔ یہی وہ خاندان تھے جو لا وی کے خاندانی گروہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ 21 لبنی اور سمعی کے خاندان کا جیر سون کے حاندانی گروہ سے رشتہ تھا ۔ وہ جیرسون نسل کے خاندانی گروہ تھے ۔ 22 اُن دونو ں خاندانی گروہوں میں ایک مہینے سے زیادہ عمر کے لڑکے یا مرد ۵۰۰,۷ تھے۔ 23 جیر سون نسل کے خاندانی گروہوں کو مغرب میں خیمہ لگانے کے لئے کہا گیا ۔انہوں نے اپنا خیمہ مقّدس خیمہ کے پیچھے لگا یا ۔ 24 جیرسون نسل کے خاندانی گروہ کا قا ئد لا ایل کا بیٹا اِلیا سف تھا ۔ 25 خیمٴہ اجتما ع میں جیر سون نسل کے لوگ مقدّس خیمہ ، اور بیرونی خیمہ اور غلاف کی دیکھ بھا ل کر نے کا کام کر تا تھا ۔ وہ خیمٴہ اجتماع کے داخلی دروازہ کے پر دے کی بھی دیکھ بھال کر تے تھے ۔ 26 وہ آنگن کے دروازہ کے پردہ کی بھی دیکھ بھال کر تے تھے ۔ یہ آنگن مقدس خیمہ اور قربان گا ہ کے چاروں طرف تھا ۔ وہ رسّیوں اور پردوں سے جڑے ہر ایک کام کی دیکھ بھال کر تے تھے ۔ 27 عمرام ،اضہار اور عزّی ایل کے خاندان قہا ت کے خاندان سے رشتہ رکھتے تھے وہ قہا ت خاندانی گروہ کے تھے ۔ 28 اس خا ندانی گروہ میں ایک مہینے یا اُس سے زیادہ عمر کے لڑکے اور مرد ۰ ۳۰ تھے ۔ قہات نسل کے لوگوں کو مقدّس جگہ کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا ۔ 29 قہا ت کے خاندانی گروہ کو مقدس خیمہ کے جنوب کا حصّہ دیا گیا ۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں انہوں نے اپنے خیمے لگا ئے ۔ 30 قہات کے خاندانی گروہ کا قا ئد عزّی ایل کا بیٹا الیصا فان بنا تھا ۔ 31 اُن کا کام مقدس صندوق ،میز ، شمعدان ، قربان گا ہیں اور مقدس جگہ کے برتنوں کی دیکھ بھال کرنا تھا ۔ وہ پردہ اور ان کے ساتھ استعمال میں آنے وا لی تما م چیزوں کی بھی دیکھ بھال کرتے تھے ۔ 32 لا وی خاندان کے بزرگوں کا قا ئد ہا رون کا بیٹا الیعزر تھا ۔ وہ کا ہن تھا ۔ الیعزر مقدس جگہ کی دیکھ بھال کرنے وا لے تمام لوگوں کا نگراں کار تھا ۔ 33 محلی اور موُشیوں کے خاندانی گروہ کا تعلق مراری خاندان سے تھا ۔ایک مہینے یا اُس سے زیادہ عمر کے لڑکے اور مرد محلی خاندانی گروہ میں ۲۰۰,۶تھے ۔ 34 35 مراری گروہ کا قائد ابی خیل کا صُوری ایل تھا ۔ اُس خاندانی گروہ کو مقدّس خیمہ کا شمالی حصّہ دیا گیا تھا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں انہوں نے اپنا خیمہ لگایا ۔ 36 مراری لوگوں کو مقدّس خیمہ کے ڈھانچے کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا ۔ وہ تمام چھڑوں ،کھمبوں بنیادوں اور ہر وہ چیز جو مقدّس خیمہ کے ڈھانچے میں استعمال ہوئی تھی اس کی دیکھ بھال کرتے تھے ۔ 37 وہ مقدس خیمہ کے کھونٹیوں،بنیاد اور رسیوں سمیت آنگن کے چاروں طرف کے تمام کھمبوں کی دیکھ بھال کر تے تھے ۔ 38 موسیٰ ، ہارون اور اسکے بیٹوں نے مقدس خیمہ کے مشرق میں اپنے خیمے لگائے ۔ انہیں مقدس جگہ کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا تھا ۔ انہوں نے یہ سبھی بنی اسرائیلیوں کے لئے کیا ۔ کوئی دوسرا شخص جو مقدس جگہ کے قریب آتا پھانسی دیدیا جاتا تھا ۔ 39 خدا وند نے لاوی خاندانی گروہ کے ایک مہینے یا اس سے زیادہ عمر کے لڑ کوں اور مردوں کو گننے کا حکم دیا ۔ انکی کل تعداد ۰۰۰,۲۲تھی ۔ 40 خدا وند نے موسیٰ سے کہا ، " اسرائیل میں ایک مہینے یا اس سے زیادہ عمر کے تمام پہلوٹھے لڑکے اور مردوں کو گنو۔ انکے ناموں کی ایک فہرست بناؤ ۔ 41 اسرائیل کے پہلوٹھے بیٹوں کے بدلے میرے لئے لاویوں کو ،اسرائیل کے پہلوٹھے مال مویشیوں کے بدلے لاویوں کے مال مویشیوں کو لو ۔ میں خدا وند ہوں" 42 اس لئے موسیٰ نے وہ کیا جو خدا وندنے اسے حکم دیا تھا ۔ موسیٰ نے اسرائیل کے تمام پہلوٹھے نر بچّوں کو گِنا ۔ 43 موسیٰ نے سبھی پہلوٹھے جن کی عمر ایک مہینہ یا اس سے زیادہ تھی انکی فہرست تیار کی ۔ اس فہرست میں ۲۷۳,۲۲ نام تھے ۔ 44 خدا وند نے موسیٰ سے یہ بھی کہا ، 45 " میں خدا وند یہ حکم دیتا ہوں ۔ 'اسرائیل کے دُوسرے خاندانوں کے پہلوٹھے مردوں کی جگہ پر لاوی نسل کے لوگوں کو لو اور میں دوسرے لوگوں کو جانوروں کی جگہ پر لاوی نسل کے جانوروں کو لونگا ۔ لاوی میری نسل ہے۔ 46 لاوی نسل کے لوگ ۰۰۰,۲۲ہیں اور دوسرے خاندانوں کے ۲۷۳,۲۲ پہلوٹھے بچّے لاوی نسل کے لوگوں سے زیادہ ہیں اس طرح ۲۷۳پہلوٹھے بچّے لاوی نسل کے لوگوں سے زیادہ ہیں ۔ 47 دوسوتہتّر زائد اسرائیلی پہلوٹھوں میں سے ہر ایک سے پانچ مثقال چاندی لو۔ سرکاری ناپ کے مطابق گرہ ایک مثقال کے برابر ہوتا ہے ۔ 48 وہ چاندی ہارون اور اس کے بیٹوں کو دو۔ یہ اسرائیل کے ۲۷۳ لوگوں کے فدیہ کے لئے قیمت ہے ۔ " 49 موسیٰ نے ۲۷۳ آدمیوں کے لئے فدیہ کا رقم ان سے جو تعداد میں زیادہ تھے اور جن کو لاویوں نے چھڑا یا تھا جمع کیا ۔ 50 موسیٰ نے اسرائیل کے پہلوٹھوں سے چاندی اکٹھا کی اس نے ۱۳۶۵ مثقال چاندی سرکاری ناپ کا استعمال کر کے حاصل کی ۔ 51 موسیٰ نے خدا وند کی احکام کی تعمیل کی ۔ موسیٰ نے خدا وند کے حکم کے مطابق وہ چاندی ہارون اور اس کے بیٹوں کو دی ۔

Numbers 4

1 خدا وند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا ، 2 "قہات خاندانی گروہ کے مردوں کو گِنو۔ (قہات خاندانی گروہ لاوی خاندانی گروہ کا ایک حصّہ ہے ۔ ) 3 اپنی خدمت کے فرائض کو ادا کر نے والے جو ۳۰ سے ۵۰ سال کی عمر کے ہوں ان کو گِنو۔ یہ آدمی خیمہٴ اجتماع میں کام کریں گے ۔ 4 انکا کام خیمہٴ اجتماع کے سب سے مقدس چیزوں کی دیکھ بھال کرنی ہے ۔ 5 " جب بنی اسرائیل نئی جگہ کا سفر کا کریں تو ہارون اور اسکے بیٹوں کو چاہئے کہ مقدس خیمہ میں جائیں اور پردہ کو اُتاریں اور معاہدہ کے مقدس صندوق کو اس سے ڈھکیں ۔ 6 تب وہ ان سب کو عمدہ چمڑے سے بنے غلاف سے ڈھکیں ۔ پھر وہ مقدس صندوق پر بچھے چمڑے پر پوری طر ح سے ایک نیلا کپڑا پھیلائیں اور مقدس صندوق میں لگے کڑوں میں ڈنڈے ڈالیں گے ۔ 7 "تب وہ ایک نیلا کپڑا مقدس میز کے اوپر پھیلائیں گے ۔ تب وہ اس پر تھالی ،چمچے، کٹورے اور پینے کا نذرانہ کے لئے مرتبان رکھیں گے ۔ روٹی جو ہمیشہ وہاں رہتی ہے اسے بھی میز پر رکھی جائے ۔ 8 تب تم ان تمام چیزوں کے اوپر ایک لال کپڑا ڈالوگے ۔ تب ہر ایک چیز کو عمدہ چمڑے سے ڈھا نک دو تب میز کے کڑوں میں ڈنڈے ڈالو۔ 9 "تب شمعدان اور چراغوں کو نیلے کپڑے سے ڈھا نکو۔ اس کے ساتھ ہی گلگیروں، گلدانوں اور تیل کی تمام گھڑوں کو ڈھانکو۔ 10 تب تمام چیزوں کو عمدہ چمڑے میں لپیٹو اور انہیں لے جانے کے لئے استعمال میں آنے وا لے ڈنڈے پر انہیں رکھو ۔ 11 " سنہری قربان گا ہ پر ایک نیلا کپڑا پھیلا ؤ اُسے عمدہ چمڑے سے ڈھکو تب قربان گا ہ کو لے جانے کے لئے اس میں لگے ہو ئے کڑوں میں ڈنڈے ڈا لو ۔ 12 مقدّس جگہ میں عبادت کے استعمال میں آنے وا لی تمام خاص چیزوں کو ایک ساتھ جمع کرو ۔ انہیں ایک ساتھ جمع کرو اور ان کو نیلے کپڑے میں لپیٹو تب اُ سے عمدہ چمڑے سے ڈھا نکو اُن چیزوں کو لے جانے کے لئے انہیں ایک ڈھانچے پر رکھو۔ 13 " کانسے وا لی قربان گا ہ سے راکھ کو صاف کردو اور اس کے اوپر ایک بیگنی رنگ کا کپڑا پھیلا ؤ 14 تب قربان گا ہ پر عبادت کے لئے استعمال میں آنے وا لی تمام چیزوں کو جمع کرو ۔ آ گ کے تسلے ، گوشت کے لئے کانٹے ، بیلچے اور دھا ت کے سلفچی اور ان تمام چیزوں کو کانسے کی قربانگا ہ پر رکھو ۔ تب قربان گا ہ کے اوپر عمدہ چمڑے کے غلاف کو پھیلا ؤ ۔ قربانگا ہ میں لگے کڑوں میں ڈنڈے کو پھنسا ؤ تا کہ اسے لے جا یا جا سکے ۔ 15 " جب ہا رون اور اس کے بیٹے مقدس جگہ کی سبھی مقدس چیزوں کو ڈھانکنے کا کام پو را کر لیں تب قہا ت خاندان کے آدمی اندر آسکتے ہیں ۔ اور ان چیزوں کو لے جانا شروع کر سکتے ہیں جب کبھی بھی چھا ؤ نی کو کھسکا یا جا ئے ۔ اس طرح وہ ان مقدس چیزوں کو نہیں چھو ئیں گے اس لئے وہ نہیں مریں گے ۔ 16 " کا ہن ہا رون کا بیٹا الیعزر مقدس خیمہ اور مقدس جگہ اور اس کی ساری چیزوں کا پو را ذمّہ دار ہے ۔ وہ چراغ کے تیل ، خوشبودار بخور، روزانہ کا اناج کا نذرانہ اور مسح کر نے کے تیل کا ذمّہ دار ہے ۔" 17 خداوند نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا ، 18 " ہو شیار رہو ۔ اُن قہا ت نسل کے آدمیوں کو تباہ مت ہو نے دو ۔ 19 تمہیں یہ اس لئے کرنا چا ہئے تا کہ قہا ت نسل سب سے مقدس جگہ تک جا ئیں اور مریں نہیں ۔ ہا رون اور اس کے بیٹوں کو اندر جانا چا ہئے ۔ اور ہر ایک قہا ت نسل کو بتا نا چا ہئے کہ وہ کیا کرے ۔ انہیں ہر ایک آدمی کو وہ چیزیں دینی چا ہئے جو اسے لے جانی چا ہئے ۔ 20 اگر تم ایسا نہیں کر تے ہو تو قہا ت نسل اندر جا سکتے ہیں اور مقدّس چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں ۔ اگر وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اُن مقدّس چیزوں کی طرف دیکھ تے ہیں تو انہیں مرنا ہو گا ۔" 21 خداوند نے موسیٰ سے کہا ۔ 22 " جیر سون خاندان کے تمام لوگوں کو گِنو ۔ اُن کی فہرست خاندان اور خاندانی گروہ کے مطا بق بنا ؤ ۔ 23 اپنی خدمت کے فرائض کو ادا کر نے وا لے تیس سال سے پچاس سال تک کے مردوں کو گنو ۔ یہ لوگ خیمٴہ اجتماع کی دیکھ بھا ل کی خدمت کا کام کریں گے ۔ 24 " جیر سون خاندان کویہی کرنا چا ہئے ۔ اور اُنہیں چیزوں کو لے کر چلنا چا ہئے ۔ 25 انہیں مقدس خیمہ کے پردہ ، خیمٴہ اجتماع کے غلا ف اور عمدہ چمڑے کے غلاف کو لے کر چلنا چا ہئے ۔انہیں آنگن کے داخلہ دروازہ کے پردہ کو بھی لے کر چلنا چا ہئے۔ انہیں خیمٴہ اجتماع کے دروازے کے پردہ کو بھی لے کر چلنا چا ہئے ۔ 26 انہیں آنگن کے اُن پردوں کو جو مقدّس خیمہ اور قربان گا ہ کے اطراف لگے ہوں لے چلنا چا ہئے ۔ انہیں تما م رسّیاں اور پردہ کے ساتھ استعمال میں آنے والی سبھی چیزوں کو بھی لے کر چلنا چاہئے ۔ جیر سون نسل کے لوگ ہراس چیز کے لئے جواب دہ ہوں گے جسے وہ لے جا تے ہیں۔ 27 جیر سون لوگ ہا رون اور اس کے بیٹوں کے حکم کے مطا بق انکو سونپے گئے کام اور ہر چیز کو لے جانے کاکام سمیت سارا کام انجام دینگے۔ 28 یہی کام ہے جسے جیر سون نسل کے خاندانی گروہ کے لوگوں کو خیمٴہ اجتماع کے لئے کرنا ہے ۔ ہا رون کا بیٹا اِتمر کا ہن ان کے کام کے لئے جواب دہ ہے ۔ " 29 " مراری خاندان گروہ کے خاندانی گروہوں کو اور خاندانوں کے سبھی مردوں کو گنو ۔ 30 خدمت کے فرائض پو را کر چکے تیس سال سے پچاس سال کے سبھی مردوں کو گنو۔ یہ لوگ خیمٴہ اجتماع کے لئے خاص کام کریں گے ۔ 31 جب تم سفر کرو گے تب ان کا یہ کام ہے کہ خیمٴہ اجتماع کے تختے کو لے کر چلیں ۔ انہیں تختوں ،کھمبوں اور حیمٴہ اجتماع کی بنیادوں س جڑے چیزوں کو لے چلنا چا ہئے ۔ 32 انہیں آنگن کی چا روں طرف کے کھمبوں کو بھی لے چلنا چا ہئے ۔ انہیں اُن خیمہ کی کھونٹیاں، رسّیاں اور وہ سبھی چیزیں جن کا استعمال آنگن کے چاروں طرف کے کھمبوں کے لئے ہو تا ہے لے چلنا چا ہئے ۔ ناموں کی فہرست بنا ؤ اور ہر ایک آدمی کو بتاؤ کہ اُسے کیا کیا چیزیں لے چلنا ہے ۔ 33 یہی وہ باتیں ہیں جسے مراری نسل کے لوگ خیمٴہ اجتماع کے کام میں خدمت کرنے کے لئے کریں گے ۔ ہا رون کا بیٹا اِتمر کاہن ان کے کاموں کے لئے جواب دہ ہے ۔" 34 موسیٰ ہا رون اور بنی اسرائیلیوں کے قائدین نے قہات نسل کے لوگوں کو اُن کے خاندان اور خاندانی گروہ کے مطا بق گنا ۔ 35 انہوں نے ان لوگوں کو جو اپنی خدمت کے فرائض ادا کر چکے تھے اور جو تیس سال سے پچاس سال کی عمر کے تھے گِنا ۔ ا ن لوگوں کو خیمٴہ اجتماع کے لئے خاص کام کر نے کو دیا گیا ۔ 36 قہات خاندانی گروہ میں جو اس کام کے کرنے کی قابلیت رکھتے تھے۔۷۵۰,۲ مرد تھے ۔ 37 اس طرح قہات خاندان کے اُن لوگوں کو خیمٴہ اجتماع کا خاص کام کرنے کے لئے دئیے گئے ۔ موسیٰ اور ہارون نے اُسے ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے موسیٰ سے کر نے کو کہا تھا ۔ 38 جیر سون خاندانی گروہ کو بھی گنا گیا ۔ 39 سبھی مرد جو اپنی خدمت کے فرائض ادا کر چکے تھے اور تیس سال سے پچاس سال کی عمر کے تھے گِنے گئے ۔ ا ن لوگوں کو خیمٴہ اجتماع کے لئے خدمت کا خاص کام دیا گیا ۔ 40 جیر سون خاندانی گروہ کے خاندان میں جو قابل تھے ۔ وہ ۶۳۰,۲ مرد تھے ۔ 41 اس طرح اُن مردوں کو جو جیر سون خاندانی گروہ کے تھے ۔ خیمٴہ اجتماع میں خدمت کا کام سونپا گیا ۔ موسیٰ اور ہا رون نے اُسے ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے موسیٰ کو کرنے کے لئے کہا تھا ۔ 42 مراری خاندان اور خاندانی گروہ بھی گنے گئے ۔ 43 سبھی مرد جو اپنی خدمت کا فرائض ادا کر چکے تھے اور تیس سال پچاس سال کی عمر کے تھے گِنے گئے ۔ ان آدمیوں کو خیمٴہ اجتماع کے لئے خدمت کا خاص کام دیا گیا ۔ 44 مراری خا ندانی گروہ کے خاندانوں میں جو لوگ قابل تھے وہ ۲۰۰, ۳ آدمی تھے ۔ 45 اس طرح مراری خاندانی گروہ کے ان لوگوں کو خاص کام دیا گیا ۔ موسیٰ اور ہا رون نے اُسے ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے موسیٰ سے کر نے کو کہا تھا ۔ 46 موسیٰ ہا رون اور بنی اسرا ئیلیوں کے قا ئدین نے لا وی نسل کے خاندانی گروہ کے تمام لوگوں کو گِنا ۔ انہوں نے ہر ایک خاندان اور ہر خا ندانی گروہ کو گِنا ۔ 47 سبھی آدمی جو خدمت انجام دینے کے قابل تھے اور جو تیس سے پچاس سال کی عمر کے تھے انہیں گنے گئے ۔ اُن آدمیوں کو خیمٴہ اجتماع کے لئے خدمت کا کام دیا گیا ۔ انہوں نے خیمٴہ اجتماع کو لے چلنے کا کام تب کیا جب انہوں نے سفر کیا ۔ 48 مردوں کی تما تعداد ۵۸۰,۸ تھی ۔ 49 خداوند نے یہ حکم موسیٰ کو دیا تھا۔ موسیٰ نے ہر ایک آدمی کو جسے جو کام سونپا گیا اسے کرنے کے لئے اور جن چیزوں کو اسے لیجانا چا ہئے اسے لیجانے کے لئے مقرر کیا کہ کیا کیا لے کر چلنا چا ہئے ۔ اِس لئے خداوند نے جو حکم دیا تھا اس کے مطابق سارے کامو ں کو انجام دیا گیا ۔ سبھی مردوں کو گنا گیا ۔

Numbers 5

1 خداو ندنے موسیٰ سے کہا ، 2 " میں بنی اسرائیلیوں کو حکم دیتا ہوں کہ وہ اپنے خیموں کو سبھی بیماریوں سے دور اور صاف رکھیں۔ بنی اسرائیلیوں سے کہو کہ ہر اُس آدمی کو جو چمڑے کے خطرناک بیماری میں مبتلا ہو اور وہ جس کے بدن سے پیپ بہتا ہو اور وہ جو کسی لاش کو چھُونے کی وجہ سے ناپاک ہو گئے ہوں انہیں خیمہ سے با ہر نکال دو ۔ 3 چا ہے وہ مرد ہو یا عورت انہیں چھا ؤنی سے ضرور باہر نکال دو تا کہ میں جس چھا ؤنی میں تمہا رے ساتھ ٹھہرتاہوں وہ نا پاک نہ ہو جا ئے ۔" 4 بنی اسرائیلیوں نے خدا کا حکم مانا ۔ انہوں نے اس طرح کے لوگوں کو چھا ؤنی کے با ہر بھیج دیا ۔ انہوں نے ایسا اس لئے کیا کیوں کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 5 خداوند نے موسیٰ سے کہا : 6 " بنی اسرائیلیوں کو یہ بتا ؤ کہ جب کو ئی آدمی کسی دوسرے آدمی کا کچھ بُرا کرتا ہے تو وہ خدا کے خلاف گنا ہ کرتا ہے ۔ وہ آدمی قصووار ہے ۔ 7 اس لئے وہ آدمی اپنے کئے ہو ئے گنا ہ کے با رے میں ضرور اقرار کرے تب یہ آدمی اپنے کئے گئے بُرے کام کا پو را ہر جانہ ادا کرے ۔ اس ہرجانے میں اس کا پانچواں حصّہ مِلا ؤ اور اسے اس آدمی کو دے جس کا بُرا س نے کیا ہے۔ 8 لیکن جس آدمی کا اُس نے بُرا کیا ہے اگر وہ مر جا ئے اور اس مرنے وا لے کا کو ئی قریبی رشتہ دار نہ ہو ۔ تب ایسے حالا ت میں بُرا کرنے وا لا آدمی خداوند کے لئے کا ہن کو کفارہ دے سکے گا ۔ اس کے ساتھ وہ اپنا کفارہ پیش کرنے کے لئے ایک مینڈھا لا ئے ۔" 9 تمام مقدس نذرانہ جو بنی اسرا ئیل کا ہن کو دیتا ہے تو وہ کا ہن کا ہو گا ۔ 10 ہر شحص اپنی جائیداد( مال مویشی دیگر سامان ) جو کہ اس کی ہے وہ اسے مقدس نذرانے کے طور پر جب کبھی بھی وہ چا ہے پیش کرسکتا ہے۔ اور جو کچھ بھی کو ئی شخص کا ہن کو دیتا ہے وہ کا ہن کا ہو نا چا ہئے ۔" 11 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 12 " بنی اسرائیلیوں سے یہ کہو کسی آدمی کی بیوی شوہر کی اطاعت گذار نہیں بھی ہو سکتی ہے ۔ 13 ہو سکتا ہے وہ کسی دوسرے آدمی کے ساتھ جسمانی تعلقات کی ہو اور اس بات کو اپنے شوہر سے چھپا ئے ۔ ہو سکتا ہے یہ کہنے کے لئے کو ئی گواہ بھی نہ ہو کہ اس نے گناہ کی ہے ۔ اور جب وہ گناہ کر رہی تھی پکڑی بھی نہ گئی ہو ۔ اور ہو سکتا ہے وہ اپنے گناہ کے با رے میں اپنے شوہر سے ظا ہر بھی نہ کی ہو ۔ 14 لیکن شوہر شبہ کر نا شروع کر سکتا ہے کہ اس کی بیوی نے اس کے خلا ف گناہ کیا ہے وہ اس کے ساتھ حسد کر سکتا ہے چا ہے وہ سچ ہو یا نہ ہو ۔ 15 اگر ایسا ہو تا ہے تو وہ اپنی بیوی کو کا ہن کے پاس لے جا ئے ۔ وہ اپنے ساتھ آٹھ پیالے بہترین جو کا آٹا نذرانہ لے جا ئے ۔ آٹے پر تیل یا خوشبو نہیں ڈا لنا چا ہئے ۔ یہ جو کا آٹا خداوند کو حسد کے اناج کا نذرانہ کے طور پر پیش کیا گیا ۔ یہ اس لے پیش کیا گیا کیو ں کہ شوہر کو شبہ ہو گیا ہے ۔ یہ اناج نذرانہ اس کے گناہ کو ظا ہر کر نے کے لئے دیا گیا ۔ 16 " کا ہن عورت کو خداوند کے سامنے لے جا ئے اور اسے خداوند کے سامنے کھڑا کرے ۔ 17 تب کا ہن کچھ مقدس پانی لے اور اسے مٹی کے گھڑے میں ڈا لے ۔ اور کا ہن مقدس خیمہ کے آنگن سے کچھ دھول لے اور اسے پا نی میں ڈا لے ۔ 18 کا ہن عورت کو خداوند کے سامنے کھڑا کرے ۔ کا ہن اس کے بال کو کھو لے اور اناج کے نذرانہ کو جسے اس کے مشکوک شوہر نے دیا ہے اس کے ہاتھ میں اس کے گناہ کو ظا ہر کرنے کے لئے رکّھے ۔ اور کا ہن اپنے ہا تھ میں کڑوے پانی کے گھڑے کو پکڑے رکھے جو کہ لعنت لا ئے گا ۔ 19 تب کا ہن عورت سے کہے کہ اسے جھوٹ نہیں بولنا چا ہئے ۔ اسے سچ بولنے کا وعدہ کرنا چا ہئے ۔ کا ہن اُس سے کہے گا ، " اگر تم دوسرے آدمی کے ساتھ نہیں سو ئی ہو اور تم نے اپنے شوہر کے خلاف جس کے ساتھ تمہا ری شادی ہو ئی ہے کو ئی گنا ہ نہیں کیا ہے تو یہ کڑوا پانی تم کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہو نچا ئے گا ۔ 20 " لیکن اگر تم نے اپنے شوہر کے خلا ف گناہ کیا ہے اگر تم کسی دوسرے مرد کے ساتھ سوئی ہو تو تم پاک نہیں ہو ۔ کیوں ؟ کیوں کہ جو تمہا رے ساتھ سو یا ہے تمہا را شوہر نہیں ہے اور اس نے تمہیں ناپاک کیا ہے ۔ 21 تمہا رے اپنے لوگ لعنت کے لئے تیرے نام کا استعمال کرے گا ۔ تمہا را پیٹ پھول جا ئے گا ۔ اور تم کو ئی بچہ پیدا نہیں کر سکو گی۔ " تب کا ہن اس عورت سے خاص وعدہ کر نے کو کہے ۔ اسے راضی ہو نا ہو گا کہ وہ ذلیل اور رسوا ہو گی اگر وہ جھوٹ بولتی ہے ۔ 22 کا ہن کو کہنا چا ہئے ، " تم اس پانی کو پیو گی یہ تمہا رے پیٹ میں جا ئے گا ۔ اگر تم نے گنا ہ کیا ہے تو تمہا را پیٹ پھول جا ئے گا اور تم بچوں کو پیدا نہیں کر سکو گی اور اگر تمہا را کو ئی بچہ پیٹ میں ہو تو پیدا ہو نے سے پہلے مر جا ئے گا ۔" تب عورت کو کہنا چا ہئے ،' آمین ' آمین ۔' 23 " کا ہن کو ان لعنتوں کو چمڑے کے طو ما پر لکھنا چا ہئے پھر اُسے اُس تحریر کو کڑوے پانی میں دھو نا چا ہئے ۔ 24 تب عورت اس کڑوے پانی کو پئے گی۔ وہ پانی اس کے جسم میں جا ئے گا ۔ اور اگر وہ قصووار ہے تو یہ پانی اس کو شدید درد میں مبتلا کرے گا ۔ 25 تب کا ہن حسد کے اناج کا نذرانہ کو اس عورت سے لے گا اسے خداوند کے سامنے اٹھا ئے گا اور اسے قربان گا ہ تک لے جا ئے گا ۔ 26 تب کا ہن اپنے ہا تھوں میں مٹھی بھر اناج لے گا اور اسے قربان گا ہ پر رکھے گا ۔ تب وہ اسے جلا ئے گا اس کے بعد وہ عورت سے پانی پینے کو کہے گا ۔ 27 جب وہ اس عورت کو پانی پینے کو کہے گا ۔ اگر وہ عورت اپنے شوہر کے خلا ف گنا ہ کیا ہے تو وہ پانی جو لعنت کا سبب ہو گا اس کے جسم کے اندر جا ئے گا اور اس کو شدید درد میں مبتلا کرے گا اور اسکا پیٹ پھول جا ئے گا ۔ اور وہ بانجھ ہو جا ئے گی ۔ تمام لوگ اسکے خلا ف ہو جا ئینگے ۔ 28 لیکن اگر عورت نے شوہر کے خلا ف گنا ہ نہیں کیا ہے تو وہ پاک ہے پھر کا ہن کہے گا کہ وہ قصووار نہیں ہے اور بچوں کو پیدا کرنے کے قابل ہو گی ۔ 29 یہ قانون حسد کے با رے میں ہے ، اگر کو ئی شادی شدہ عورت اپنے شوہر کے خلا ف گناہ کرتی ہے ۔ 30 یا اگر کو ئی حسد کرتا ہے اور اپنی بیوی کے با رے میں شک کر تا ہے تو اسے کا ہن کو کہنا چا ہئے کہ وہ اس عورت کو خداوند کے سامنے کھڑا کرے ۔ اور ان سب کارروائی کو کرے یہی قانون ہے ۔ 31 شوہر کو ئی بُرا کرنے کا قصووار نہیں ہو گا لیکن عورت اپنی مصیبت کے لئے مصیبت اٹھا ئے گی ۔"

Numbers 6

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " یہ باتیں بنی اسرا ئیلیوں سے کہو ۔ کو ئی مرد یا عورت کچھ عرصہ کے لئے دوسرے لوگوں سے الگ رہنے کی قسم کھا ئے ۔ اس علحٰد گی کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی پو ری طرح اپنے آپ کو اس وقت کے لئے خداوند کو وقف کر سکے ۔ وہ آدمی نذیری کہلا ئے گا ۔ 3 اُس عرصہ میں آدمی کو شراب یا کو ئی زیادہ نشیلی چیز مئے نہیں پینی چا ہئے ۔ آدمی کو سرکہ یا کو ئی زیادہ نشیلی مئے کو نہیں پینا چا ہئے ۔ اس آدمی کو مئے نہیں پینا چا ہئے۔ اور نہ انگور یا کشمش کھانے چا ہئے ۔ 4 اس علحدٰ گی کے خاص عرصے میں اس آدمی کو انگور سے بنی کو ئی چیز نہیں کھا نی چا ہئے ۔ اس آدمی کو انگور کا بیج یا چھِلکا بھی نہیں کھانا چا ہئے ۔ 5 " اس علحدٰ گی کے عرصے میں اس آدمی کو اپنے بال نہیں کاٹنے چا ہئے ۔ اس آدمی کو اس وقت تک پاک رہنا چا ہئے جب تک علحدٰگی کا وقت ختم نہ ہو ۔ اسے اپنے بالوں کو لمبے ہو نے دینا چا ہئے ۔ اس آدمی کے بال خدا کو دیئے گئے اس کے وعدہ کا ایک خاص حصّہ ہے ۔ وہ اُن با لوں کو خدا کے لئے نذر کے طور پر دیگا اس لئے وہ آدمی اپنے با لوں کو اُس وقت تک لمبا ہو نے دیگا جب تک علحدٰ گی کا عرصہ ختم نہ ہو جا ئے ۔ 6 " اس علحدٰ گی کے عرصہ میں نذیری کو کسی لاش کے پاس نہیں جانا چا ہئے ۔ 7 اگر اُس کے اپنے باپ یا اپنی ماں یا اپنے بھا ئی یا اپنی بہن بھی مر جا ئے تو اسے ان سے بھی نا پاک نہیں ہو نا چا ہئے ۔ کیو نکہ اس کے بال جسے اس نے خدا کو وقف کیا ہے سر پر ہے ۔ 8 علحدٰ گی کے پو رے عرصے کے دوران وہ خداوند کے لئے مقدّس ہو گا ۔ 9 " یہ ممکن ہے کہ نذیری کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ہو اور وہ دوسرا آدمی اچانک مر جا ئے تو اس مردہ آدمی کی وجہ سے وہ نذیری نا پاک ہو سکتا ہے ۔ اور اگر ایسا ہو تا ہے تو نذیری کو سر سے اپنے بال کٹوا لینا چا ہئے ۔ وہ بال اُس کے مخصوص وعدہ کا حصّہ تھا ۔ اسے اپنے بالوں کو ساتویں دن اپنے کو پاک کرنے کے لئے کاٹنا چا ہئے کیو نکہ اسی دن وہ ناپاک ہوا تھا ۔ 10 تب آٹھویں دن اسے دو فاختے یا کبوتر کے دو بچے کا ہن کے پاس لا نا چا ہئے اسے کاہن کو خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر دینا چا ہئے ۔ 11 تب کا ہن ایک کو گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کرے گا ۔ دوسرے کو جلانے کی قربانی کے طور پر پیش کرے گا ۔ اس لئے کا ہن کو آدمی کے کئے گئے گناہ کے لئے کفّارہ دینا چا ہئے ۔ اس نے گناہ کیا کیوں کہ وہ لاش کے پاس تھا ۔ اس وقت وہ آدمی پھر وعدہ کرے کہ سر کے بالوں کو خدا کو نذر کرے گا ۔ 12 اس طرح سے وہ علحٰدگی کے لئے دوسری دفعہ اپنے آپ کو خداوند کے حوا لے کرلے ۔ ا آدمی کو ایک سال کا ایک میمنہ لا نا چا ہئے وہ اسے جُرم کا نذرانہ کے طور پر پیش کرنا چا ہئے ۔ اس کے علحدٰ گی کے سبھی دن بھلا دیئے جا تے ہیں ۔ اس آدمی کو پھر سے نئی علحدٰ گی شروع کرنی چا ہئے ۔ یہ ضرور کیا جانا چا ہئے کیوں کہ اس نے علحدٰ گی کے پہلے عرصہ میں ایک مردہ جسم کی وجہ سے نا پاک ہو گیا تھا ۔ 13 " جب آدمی کی علحدٰگی کا وقت پو را ہو تو اسے خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر جانا چا ہئے ۔ 14 وہاں وہ خداوند کو مندرجہ ذیل نذرانہ پیش کرے : 15 بغیر خمیری روٹیوں کی ایک ٹوکری ( تیل ملا ہوا کیک اور تیل لگے ہو ئے پھلکے ) اناج کا نذرانہ اور مئے کا کا نذرانہ جو ان سب قربانیوں کا ایک حصّہ ہے ۔ 16 " تب کا ہن ان چیزوں کو خداوند کو دیگا ۔ کا ہن گناہ کی قربانی اور جلا نے کی قربانی چڑ ھا ئے گا ۔ 17 کا ہن روٹیوں کی ٹوکری خداوند کو دیگا ۔ تب وہ خداوند کی ہمدردی کا نذرانہ کے طور پر نر مینڈھے کو ما ریگا ۔ وہ خداوند کو اناج کا نذرانہ اور مئے کا نذرانہ کے ساتھ اسے دے گا ۔ 18 " نذیری کو خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر جانا چا ہئے ۔ وہاں اسے اپنے نذر کئے ہو ئے بال کٹوانا چا ہئے ۔ ان با لوں کوسلامتی کے نذرانے کے طور پر دی گئی قربانی کے نیچے جلتی ہو ئی آ گ میں ڈا لا جانا چا ہئے ۔ 19 " جب نذیری اپنے بالوں کو کاٹ چکے گا تو کا ہن اسے نر مینڈھے کا ایک پکا ہوا کندھا اور ٹوکری سے ایک بڑا اور ایک چھو ٹا "کیک " دے گا یہ دونوں بے خمیری پھلکے ہو نگے ۔ 20 تب کا ہن ان چیزوں کو خداوند کے سامنے ہلا ئے گا ۔ یہ ایک لہرانے کا نذرانہ ہو گا ۔ یہ چیزیں پاک ہیں اور کا ہن کی ہیں۔ نر مینڈھے کا سینہ اور ران خداوند کے سامنے ہلا ئے جا ئیں گے ۔ یہ چیزیں بھی کا ہن کی ہیں ۔ اس کے بعد ناصری مئے پئے گا ۔ 21 " یہ اُصول اُن آدمیوں کے لئے ہیں جو نذیری ہونے کا وعدہ کر تے ہیں ۔ اس آدمی کو خداوند کے لئے یہ قربانیاں دینی چا ہئے اگر کو ئی آدمی زیادہ دینے کا وعدہ کرتا ہے تو اسے اپنے وعدہ کو پو را کرنا چا ہئے ۔ لیکن اسے کم سے کم وہ تمام چیزیں دینی چا ہئے جو نذیری کے اُصول میں لکھی ہو ئی ہیں ۔" 22 خداوندنے موسیٰ سے کہا : 23 " ہا رون اور اس کے بیٹوں سے کہو کہ اس طریقے سے تمہیں بنی اسرائیلیوں کو دعا دینی چا ہئے ۔ تمہیں انہیں کہنا چا ہئے : 24 خداوند تم کو برکت دے اور تمہا ری حفا ظت کرے ۔ 25 خداوند تم پر مہربان رہے اور اچھا رہے ۔ 26 خداوند تم پر رحم کرے اور تمہیں سلامتی دے ۔" 27 تب خداوند نے کہا ، " اس طرح ہا رون اور اس کے بیٹے بنی اسرائیلیوں کو دعا دینے کے لئے میرے نام کا استعمال کریں گے اور میں انہیں برکت دونگا ۔"

7

1 جس دن موسیٰ نے مقدس خیمہ کو لگانا پو را کیا ۔ اس نے اسے خداوند کے لئے وقف کیا ۔ موسیٰ نے خیمہ اور اس میں استعمال میں آنے وا لی چیزوں پر چھڑکا ؤ کیا ۔ موسیٰ نے قربان گا ہ کا بھی چھِڑکا ؤ کیا اور اس کے ساتھ کی چیزوں کا بھی ۔ جس سے یہ ظا ہر ہو تا تھا کہ یہ سب چیزیں خداوند کی ہیں اور اُس کی عبادت کے لئے استعمال کی جانی چاہئے ۔ 2 تب اسرائیل کے قائدین نے خداوند کو قربانیاں چڑھا ئیں ۔ یہ اپنے اپنے خاندانوں کے صدر تھے جو اپنے خاندانی گروہ کے قائد تھے ۔ یہی قائدین نے لوگوں کو گنا تھا ۔ 3 یہ قا ئد خداوند کے لئے نذرانہ پیش کئے۔ وہ چاروں طرف ڈھکی ۶ گاڑیاں اور ۱۲ بیل لا ئے ۔ ہر ایک قا ئد کی طرف سے ایک بیل دیا گیا تھا اور ہر دو قائد کی طرف سے ایک گا ڑی دی گئی تھی ۔ قائدین نے مقدّس خیمہ پر خداوند کو یہ چیزیں دیں۔ 4 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 5 " قائدین کی ان قربانیوں کو قبول کرو ۔ یہ قربانیاں خیمٴہ اجتماع کے کام میں استعمال کی جا سکتی ہیں ان چیزوں کو لا وی نسل کے لوگوں کو دو یہ انہیں اپنے کام کرنے میں مددگار ہو نگے ۔" 6 اس لئے موسیٰ نے گاڑیوں اور بیلوں کو لیا اور ان چیزوں کو لا وی نسل کے لوگوں کو دیا ۔ 7 اس نے دو بیل اور چار گاڑیاں جیر سون نسلوں کو دی ۔ انہیں اپنے کام کے لئے اُن گاڑیوں اور بیلوں کی ضرورت تھی ۔ 8 تب موسیٰ نے چار گاڑیاں اور آٹھ بیل مراری نسل کو دیں ۔ انہیں اپنے کام کے لئے ان گاڑیوں اور بیلوں کی ضرورت تھی ۔ کا ہن ہا رون کا بیٹا اِتمر اُن تمام آدمیوں کے کام کے لئے جواب دہ تھا ۔ 9 موسیٰ نے قہا ت نسلوں کو کو ئی بیل یا کو ئی گاڑی نہیں دی ۔ اُن آدمیوں کو پاک چیزیں اپنے کندھے پر لے جانی تھی۔ یہی کام اُن کو کرنے کے لئے سونپا گیا تھا ۔ 10 جس دن قربان گا ہ کے لئے چھِڑکا ؤ کیا گیا اس دن وہ قربانگا ہ کے تقدیس کے لئے تحفے لا ئے۔ انہوں نے اپنے تحفوں کو قربان گاہ کے سامنے خداوند کے حوا لے کئے ۔ 11 خداوند نے پہلے ہی موسیٰ سے کہہ دیا تھا ، " ہر روز ایک قا ئد قربان گا ہ کی تقدیس کے لئے اپنا تحفہ ضرور لا ئے ۔ 12 بارہ قا ئدین میں سے ہر ایک قا ئد اپنا اپنا تحفہ لا یا وہ تحفے یہ ہیں : 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 83 84 اس طرح یہ سب چیزیں بنی اسرائیلیوں کے قا ئدین کی تحا ئف تھے ۔ یہ چیزیں تب لا ئی گئیں جب موسیٰ نے قربانگا ہ کو خاص تیل ڈا ل کر موقوف کیا ۔ وہ بارہ چاندی کی طشتریاں بارہ چاندی کے کٹورے اور بارہ سونے کے چمچے لا ئے ۔ 85 چاندی کی ہر ایک طشتری کا وزن ۱۳۰ مثقال تھا ۔ اور ہر ایک کٹورے کا وزن ۷۰ مثقال تھا ۔ چاندی کی طشتریاں اور چاندی کے کٹوروں کا کُل وزن ۲۴۰۰ مثقال سرکا ری وزن کے مطا بق تھا ۔ 86 خوشبو سے بھرے سونے کے چمچوں میں سے ہر ایک کا وزن دس مثقال تھا ۔ سونے کے بارہ چمچوں کا کُل وزن تقریباً تین پا ؤنڈ تھا ۔ 87 جلا نے کے نذرانے کے لئے جانوروں کی کُل تعداد بارہ بیل بارہ مینڈھے اور بارہ ایک سال کے میمنے تھے ۔ وہاں اناج کا نذرانہ بھی تھا ۔ خداوند کو گناہ کا نذرانہ پیش کر نے کے لئے بارہ بکرے بھی تھے ۔ 88 اُن جانوروں کی تعداد جسے قا ئدین نے ہمدردی کا نذرانہ دینے کے لئے دئیے تھے : ۲۴ بیل ،۶۰ مینڈھے ، ۶۰ بکرے اور ۶۰ ایک سال کے میمنے ۔ قربان گا ہ کی تقدیس کے وقت یہ چیزیں قربانی کے طور پر دی گئیں۔ یہ موسیٰ کے ذریعہ مسح کرنے کا تیل ان پر ڈالنے کے بعد ہوا۔ 89 موسیٰ خیمٴہ اجتماع میں خداوند سے بات کرنے گئے ۔ اس وقت انہوں نے اپنے ساتھ بات کر تے ہو ئے خداوند کی آواز سنی ۔ وہ آواز معاہدہ کے صندوق کے اوپر کے خاص سر پوش پر کے دو کروبی فرشتوں کے درمیان سے آرہی تھی ۔ اسطرح خدا نے موسیٰ سے باتیں کیں ۔

Numbers 8

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " ہا رون سے بات کرو اور اُس سے کہو شمعدان میں رکھے سات چراغوں کو روشن کرے ۔ یہ چراغ شمعدان کے سامنے کے علاقے کو روشن کریگا ۔ " 3 ہا رون چراغوں کو ٹھیک جگہ پر رکھا اور اُن کا رُخ ایسا کر دیا کہ اس سے شمعدان کے سامنے کا علاقہ روشن ہو سکے ۔ اس نے موسیٰ کو دیئے گئے خداوند کے حکم کی تعمیل کی ۔ 4 شمعدان سونے کے پتّروں سے بنا تھا ۔ سونے کا استعمال نیچے بُنیاد سے لے کر اوپر سُنہرے پھو لوں تک کیا گیا تھا ۔ یہ سب اسی طرح بنا تھا جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو دکھا یا تھا ۔ 5 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 6 " لا وی کے نسل کے لوگوں کو اسرا ئیل کے دوسرے لوگوں سے الگ لے جا ؤ ان لا وی نسل کے لوگوں کو یا د کرو ۔ 7 انہیں پاک کرنے کے لئے گناہ کے نذرانے سے پانی لیکر انکے اوپر چھڑکنا چا ہئے ۔ تب اسے اپنے آپ کو صاف کر نے کے لئے اپنا پو را جسم پر استرہ پھیر وا نا پڑیگا اور کیڑوں کو دھونا ہو گا ۔ 8 " تب وہ ایک نیا بیل اور اس کے ساتھ استعما ل میں آنے وا لی اناج کی قربانی لیں گے یہ اناج کی قربانی تیل ملا ہوا آٹا ہو گا ۔ تب دوسرے بیل کو گناہ کی قربانی کے طور پر لو ۔ 9 لا وی خاندان کے لوگوں کو خیمٴہ اجتماع کے سامنے لا ؤ ۔ تب سبھی بنی اسرائیلیوں کو جمع کرو ۔ 10 تب تمہیں لا وی خاندان کے لوگوں کو خداوند کے سامنے لانا چا ہئے اور بنی اسرا ئیل اپنا ہا تھ اُن پر رکھیں گے ۔ 11 تب ہا رون لا وی خاندان کے لوگوں کو خداوند کے سامنے لا ئے گا ۔ وہ خدا کے لئے بنی اسرا ئیلیوں کے ذریعہ لہرا نے کا نذرانہ کے طور پر ہو نگے اس طریقے سے لا وی خاندان کے لوگ خداوند کا خاص کام کرنے کے لئے تیار ہونگے ۔ 12 " لا ویوں سے کہو کہ وہ اپنا ہا تھ بیلوں کے سر پر رکھیں۔ ایک بیل خداوند کو گناہ کا نذرانہ کے طور پر ہو گا ۔ دوسرا بیل خداوند کو جلانے کا نذرانے کے طور پر کام آئے گا ۔ یہ نذرانے لا ویوں کے لئے کفّارہ ہو نگے ۔ 13 لا وی نسل کے لوگوں سے کہو کہ وہ ہا رون اور اس کے بیٹوں کے سامنے کھڑے ہوں ۔ تب خداوند کے سامنے لا وی نسل کے لوگوں کو لہرانے کی قربانی کے طور پر پیش کرو ۔ 14 یہ لا وی کے نسل کے لوگوں کو پاک بنا ئے گا ۔ یہ دکھا ئے گا کہ وہ خدا کے لئے خاص طریقے سے استعمال ہو ں گے وہ اسرائیل کے دوسرے لوگوں سے مختلف ہو ں گے اور لا وی نسل کے لوگ میرے ہوں گے ۔ 15 " اس لئے لا وی نسل کے لوگوں کو پاک کرو اور انہیں خداوند کے سامنے لہرانے کی قربانی کے طور پر پیش کرو ۔ جب یہ پورا ہو جا ئے تو وہ آسکتے ہیں ۔ اور خْیمٴہ اجتماع میں اپنا کام کر سکتے ہیں ۔ 16 یہ لا وی نسل اسرائیل کے وہ لوگ ہیں جو مجھ کو دیئے گئے ہیں۔ میں نے انہیں اپنے لوگوں کے طور پر قبول کیا ہے ۔ گزرے زمانے میں ہر ایک اسرا ئیل کے خاندان میں پہلو ٹھا بیٹا مجھے دیا جا تا تھا ۔ لیکن میں نے لا وی نسل کے لوگوں کو اسرائیل کے دوسرے خاندانوں کے پہلو ٹھے بیٹوں کی جگہ پر قبول کیا ہے ۔ 17 اسرائیل کا ہر وہ شخص جو اسرائیل کے ہر ایک خاندان میں پہلو ٹھا ہے میرا ہے ۔ چا ہے وہ آدمی ہو یا جانور میرا ہے ۔ میں نے مصر میں سبھی پہلو ٹھے بچوں اور سبھی پہلو ٹھے جانوروں کو مار ڈا لا تھا ۔ اس لئے میں نے تمام پہلو ٹھے لڑکوں کو الگ کیا تا کہ وہ میرے ہو سکیں۔ 18 اب میں نے لا وی نسل کے لوگوں کو لے لیا ہے ۔ میں نے اسرائیل کے دوسرے لوگوں کے خاندانوں کے پہلو ٹھے بچوں کی جگہ ان کو قبول کیا ہے ۔ 19 میں نے سبھی بنی اسرائیلیوں میں سے لا وی نسل کے لوگوں کو چُنا ہے ۔ میں نے انہیں ہا رون اور اُس کے بیٹوں کو تحفہ کے طور پر دیا ہے ۔ میں چا ہتا ہوں کہ وہ خیمٴہ اجتماع میں کام کریں ۔ وہ سبھی بنی اسرا ئیلیوں کے لئے خدمت کریں گے ۔ اور وہ ان قربانیوں کو کرنے میں مدد کریں گے جو بنی اسرا ئیلیوں کے گنا ہوں کو پاک کرتا ہے ۔ تب کو ئی بڑی بیما ری یا آفت بنی اسرا ئیلیوں کو نہیں ہو گی ۔ جب وہ مقدس جگہ کے پاس آئیں گے ۔" 20 اس لئے موسیٰ ، ہا رون اور اسرا ئیل کے سبھی لوگوں نے خداوند کا حکم مانا ۔ انہوں نے لا وی نسلوں کے ساتھ ویسا ہی کیا جیسا کہ خداوند نے اس کے ساتھ کام کرنے کا موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 21 لا ویوں نے اپنے آپ کو پاک کیا اور اپنے لباسوں کو دھو یا ۔ تب ہا رون نے انہیں خداوند کے سامنے لہرا نے کا نذرانہ کے طور پر پیش کیا ۔ ہا رون نے بھی ان تحفوں کو پیش کیا جسے ان لوگوں کے لئے کفّارہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا تا کہ وہ پاک ہو جا ئیں 22 پاکی کے بعد لا وی خاندان کے لوگ اپنا کام کرنے کے لئے خیمٴہ اجتماع میں آئے ۔ ہا رون اور اس کے بیٹوں نے اُن کی دیکھ بھا ل کی ۔ وہ لا وی خاندان کے لوگوں کے کام کے لئے جواب دہ تھے ۔ ہا رون اور اس کے بیٹوں نے اُن کے احکام کی تعمیل کی جنہیں خداوند نے موسیٰ کو دیا تھا۔ 23 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 24 " لا وی نسل کے لوگوں کے لئے یہ خاص حکم ہے : ہر ایک لا وی نسل کا مرد جو پچیس سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہو ضرور آنا چا ہئے اور خیمٴہ اجتماع کے کاموں میں ہا تھ بٹانا چا ہئے ۔ 25 جب کو ئی آدمی ۵۰ سال کا ہو جا ئے تو اس کو اُن کا موں سے سبکدوش ہو نا چا ہئے اسے اور زیادہ دنوں تک کام نہیں کرنا چا ہئے ۔ 26 بہرحال ۵۰ سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگ خیمٴہ اجتماع میں نگہبانی کے طور پر اپنے بھا ئیوں کی مدد کرسکتا ہے ۔ لیکن وہ اور کو ئی زیادہ بھا ری کام نہیں کریں گے ۔ اس لئے تم یہ کام لا ویوں سے کرنا جب تم انکا کام انہیں سونپوگے ۔"

Numbers 9

1 بنی اسرائیلیوں کے مصر سے آنے کے بعد دوسرے سال کے پہلے مہینے میں خداوند نے صحرا ئے سینا ئی میں بات کی ۔ خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں سے کہو کہ وہ مقررہ وقت پر فسح کی تقریب منا ئیں ۔ 3 وہ مقّررہ وقت اس مہینے کا چودھواں دن ہے ۔ انہیں شام کے وقت فسح کا کھانا کھانا چا ہئے ۔ اور وہ لوگ اسے اس کے تمام اُصول اور قانون کے مطا بق ہی کرے ۔" 4 اس لئے موسیٰ نے بنی اسرائیلیوں سے فسح کی تقریب منا نے کو کہا ۔ 5 اور لوگوں نے شام کے وقت سینا ئی کے صحرا میں ویسا ہی کیا ۔ یہ پہلے مہینے کا چودھواں دن تھا ۔ بنی اسرا ئیلیوں نے ہر ایک کام ویسا ہی کیا جیسے خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 6 لیکن کچھ لوگ اس دن فسح کی تقریب نہیں منا سکے کیو نکہ وہ ایک لا ش کی وجہ سے پاک نہیں تھے ۔ اس لئے وہ اس دن موسیٰ اور ہا رون کے پاس گئے ۔ 7 اُن لوگوں نے موسیٰ سے کہا ، " ہم لوگ ایک لاش کو چھونے کی وجہ سے ناپاک ہو ئے ہیں ۔ لیکن ہم لوگوں کو مقرر وقت پر اسرا ئیلیوں کے ساتھ خداوند کی قربانی پیش کرنے کی اجا زت کیوں نہیں دی گئی ؟" 8 موسیٰ نے اُن سے کہا ، " میں خداوند سے اس معاملہ کے با رے میں پو چھونگا۔" 9 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا : 10 بنی اسرا ئیلیوں سے یہ باتیں کہو : یہ ہو سکتا ہے کہ تم ٹھیک وقت پر فسح کی تقریب نہ منا سکو کیوں کہ تم یا تمہا رے خاندان کا کو ئی آدمی لا ش کو چھو نے کی وجہ سے نا پاک ہو یا ممکن ہے کہ تم کسی سفر پر گئے ہو تو بھی وہ شخص فسح کی تقریب نہیں منا ئے گا ۔" 11 تم فسح کی تقریب کو دوسرے مہینے کے چودھویں دن شام کے وقت منا ؤ گے ۔ اس موقع پر تم میمنہ بغیر خمیری رو ٹی اور کڑوا ساگ پا ت ضرور کھا ؤ گے ۔ 12 اگلی صبح تک تمہیں اس میں سے کو ئی بھی کھا نا نہیں چھو ڑنا چا ہئے ۔ تمہیں میمنے کی کسی ہڈی کو تو ڑنا نہیں چا ہئے ۔ اُس آدمی کو فسح کے تمام اُصولوں پر عمل کرنا چا ہئے۔ 13 لیکن کو ئی بھی آدمی جو فسح کی تقریب منا نے کا اہل ہو تو اسے فسح کو صحیح وقت پر منا نا چا ہئے ۔ اگر وہ پاک ہے اور سفر پر نہیں ہے تب اس کو کو ئی معافی نہیں ۔ اگر وہ آدمی جان بوجھ کر فسح کی تقریب کو صحیح وقت پر نہیں منا تا تو اس کو اس کے لوگوں سے الگ کر دیا جا ئے گا ۔ وہ قصووار ہے اور اسے سزا دینی چا ہئے۔ کیوں کہ اُس نے خداوند کو تحفہ مقررہ وقت پر پیش نہیں کیا ۔ 14 " اگر کو ئی غیر ملکی جو تم لوگوں کے بیچ مستقل طور پر رہ رہا ہے وہ خداوند کا فسح کی تقریب منا نا چا ہتا ہے تو اسے وہ کرنے کی اجا زت ہے ۔ لیکن اسے فسح کے اصولوں کا پالن کرنا ہو گا۔ وہی اصول دوسروں کے لئے لا گو ہو گا جو تیرے لئے ہو تا ہے ۔" 15 جس دن معاہدہ کا مقدس خیمہ لگا یا گیا تھا ایک بادل اسے ڈھک لیا تھا ۔ پو ری رات وہ بادل آ گ کی طرح دکھا ئی دیا ۔ 16 بادل ہمیشہ مقدس خیمہ کے اوپر ٹھہرا رہا اور رات کو آ گ کی طرح دکھا ئی دیا۔ 17 جب بادل مقد س خیمہ کے اوپر اپنی جگہ سے چلتا تھا تو اسرائیلی اس کے ساتھ چلتے تھے ۔ جب بادل رُک جا تا تب بنی اسرائیل وہاں اپنا خیمہ ڈالتے تھے ۔ 18 اس طرح سے خداوند بنی اسرائیلیوں کو سفر کر نے کا حکم دیا ۔ اور اس کے حکم کے مطا بق ہی وہ لوگ رُکے اور چھا ؤ نی لگا ئے۔ اور جب تک بادل چھا ؤ نی کے اوپر ٹھہرا رہتا تھا ، وہ لوگ اُسی جگہ پرچھا ؤنی ڈا لے رہتے تھے ۔ 19 کبھی کبھی بادل مقدس خیمہ کے اوپر لمبے عرصے تک ٹھہرتا تھا اسرائیلی خداوند کا حکم مانتے تھے اور سفر نہیں کر تے تھے۔ 20 کبھی کبھی بادل مقدّس خیمہ کے اوپر کچھ ہی دنوں کے لئے رہتا تھا ۔ اور لوگ خداوند کے حکم کی تعمیل کر تے تھے ۔ وہ بادل کی تقلید تب کر تے جب وہ چلتا تھا ۔ 21 کبھی کبھی بادل صرف رات میں ہی ٹھہرتا تھا اور جب بادل اگلی صبح چلتا تھا تب لوگ اپنی چیزیں اکٹھی کر تے تھے اور اُس کے مطا بق عمل کرتے تھے ۔ رات میں یا دن میں اگر بادل چلتا تو لوگ اس کے ساتھ چلتے تھے ۔ 22 اگر بادل خیمہ کے اوپر دودن یا ایک مہینہ یا ایک سال ٹھہرتا تھا تو لوگ خداوند کے حکم کی تعمیل کر تے رہتے تھے ۔ وہ اسی جگہ چھا ؤنی میں ٹھہرتے تھے اور تب تک نہیں چلتے تھے جب تک بادل نہیں چلتا تھا ۔ جب بادل اپنی جگہ سے اٹھتا اور چلتا تو لوگ بھی چلتے تھے ۔ 23 اس طرح لوگ خداوند کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ۔ وہ وہاں چھا ؤنی لگا تے تھے جس جگہ کو خداوند دکھا تا تھا ۔ اور خداوند جب انہیں جگہ چھو ڑنے کے لئے حکم دیتا تھا تب لوگ بادل کی اِتباع کرتے ہو ئے جگہ چھو ڑتے تھے ۔ لوگ خداوند کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ۔ یہ حکم تھا جسے خداوند نے موسیٰ کے ذریعے انہیں دیا ۔

Numbers 10

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " تمہیں چاندی کے پتّر سے دو بگل بنا نا چا ہئے۔ یہ بِگل لوگوں کو ایک ساتھ بُلانے اور انہیں اطلا ع دینے کے لئے استعمال کیا جا ئے گا کہ کب جمع ہو نا ہے اور کب چھا ؤنی کو لیکر چلنا چاہئے ۔ 3 جب تم اُن دو نوں بِگلوں کو بجا ؤگے تو سبھی لوگوں کو خیمٴہ اجتماع کے سامنے تمہا رے آگے جمع ہو جانا چا ہئے ۔ 4 اگر تم صرف ایک بِگل بجا تے ہو تو قائد ( اسرائیل کے بارہ خاندانوں کے صدر ) تمہا رے سامنے جمع ہونگے ۔ 5 جب تم بِگل کو تھو ڑا سا پھو نکو گے تو خیمٴہ اجتماع کے مشرق میں چھا ؤنی ڈا لے ہوئے خاندانوں کے گروہ کو چلنا شروع کر دینا چاہئے ۔ 6 جب تم دوبارہ بِگل کو تھو ڑا سا پھو نکو گے تو جنوبی چھا ؤنی کے لوگوں کو چلنا شروع کردینا چا ہئے ۔ جب بھی لوگ نیا سفر شروع کر نے کے لئے تیار رہے اس وقت بِگل کو تھو ڑا سا پھونکنا چا ہئے ۔ 7 جب تم سبھی لوگوں کو اِکٹھا کرنا چا ہو تو بِگل کو دوسرے طریقے سے لمبی دُھن نکالتے ہو ئے پھو نکو ۔ 8 صرف ہا رون کے کا ہن بیٹوں کو بِگل بجانا چا ہئے ۔ یہ اصول تم پر لا گو ہو تا ہے اور مستقبل میں آنے وا لی سبھی نسلوں کو پالن کر نا چا ہئے ۔ 9 " اگر تم اپنے ملک میں کسی دُشمن سے لڑ رہے ہو تو تم ان کے خلا ف جانے سے پہلے آ گا ہی کے طور پر بِگل کو تھو ڑا سا پھو نکو ۔ تب تمہا را خداوند خدا تمہا ری بات سُنے گا اور وہ تمہیں تمہا رے دُشمنوں سے بچا ئے گا ۔ 10 اپنی کچھ خاص خوشی کے وقت میں بھی تمہیں بِگل بجانا چا ہئے ۔ اپنی تقریب کے موقع پر اور ہر مہینے کے شروع میں بِگل بجا ؤ ۔ اور جب تم جلانے کا نذرانہ اور ہمدردی کا نذرانہ پیش کرو تو اس وقت بھی بِگل ضرو ر بجا ؤ ۔ یہ تمہا رے خداوند خدا کے سامنے یادگار ہو گا ۔ میں تمہیں یہ کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔ میں تمہا را خداوند خدا ہوں ۔" 11 دوسرے سال کے دوسرے مہینے میں بنی اسرائیلیوں کے مصر ڑچھونے کے بیسو یں دن معاہدہ کے خیمہ کے اوپر سے بادل اٹھا ۔ 12 اس لئے سبھی بنی اسرا ئیلیوں نے سینا ئی کے ریگستان میں سفر کرنا شروع کیا ۔ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر اُس وقت تک کرتے رہے جب تک بادل فاران کے ریگستان میں نہ رُ کا ۔ 13 یہ پہلی بار تھا کہ لوگوں نے اپنے خیموں کو ویسے ہی آگے بڑھا یا جیسے خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ 14 پہلا گروہ یہودا ہ کی چھا ؤنی تھی ۔ اُنہو ں نے اپنے جھنڈے کے ساتھ سفر کیا ۔ عمّینداب کا بیٹا نحسون اُس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 15 اُس کے بالکل بعد اِشکار کا خاندانی گروہ سفر شروع کیا ۔ ضُغر کا بیٹا نتنی ایل اُس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 16 اور پھر زبولون کا خاندانی گروہ آیا ۔ حیلون کا بیٹا اِہلیاب اُس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 17 تب خیمٴہ اجتماع اُتارے گئے اور جیر سون اور مراری خاندان کے لو گ مقدّس خیمہ کو لے کر چلے ۔ اس لئے اُن خاندانوں کے لوگ قطار میں دوسرے نمبر پر تھے ۔ 18 تب اسکے بعد رُوبن کی چھا ؤنی گروہ نے اپنے جھنڈے کے ساتھ سفر شروع کیا ۔ شدّ یور کا بیٹا الیصور اس گرو ہ کا قا ئد تھا ۔ 19 اسکے بالکل بعد شمعون کا خاندانی گروہ سفر کیا صُوری شدّی کا بیٹا سلو می ایل اس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 20 اور پھر جاد کا خاندنی گروہ سفر ۔ دعو ایل کا بیٹا اِلیا سف اُس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 21 تب قہا ت خاندان کے لوگ سفر کئے وہ اُن مقدّس چیزوں کو لے جا رہے تھے جو مقدس جگہ میں تھیں ۔ نئی چھا ؤنی کے پہنچنے سے پہلے مقدس خیمہ کو لگا نے کے لئے ان سامانوں کو لا رہے تھے۔ 22 اُس کے ٹھیک بعد افرائیم کی چھا ؤنی اپنے گروہ کے مطا بق سفر شروع کئے ۔ انہوں نے اپنے جھنڈے کے ساتھ سفر کیا ۔ پہلا گروہ افرائیم کا خاندانی گروہ تھا ۔ عمّیہود کا بیٹا الیسمع اس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 23 ٹھیک اُس کے بعد منّسی کا خاندانی گروہ آیا ۔ فدا ہُصور کا بیٹا جملی ایل اُس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 24 تب بنیمین کے خاندانی گروہ نے سفر شروع کیا ۔ جد عوُنی کا بیٹا اِبدان اُس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 25 اس کے بعد دان کا خاندانی گروہ اپنے جھنڈے کے ساتھ سفر شروع کئے وہ سبھی چھا ؤنی کے پیچھے پہریدار کا ہن انجام دیئے ۔ عمیّشدی کا بیٹا الیعزر اس گروہ کا قا ئد تھا ۔ 26 اس کے ٹھیک بعد آشر کا خاندانی گروہ سفر کیا ۔ عکران کا بیٹا فجعی ایل اس گروہ کا قا ئد تھا۔ 27 تب نفتا لی کا خاندانی گروہ سفر کیا عینان کا بیٹا اخیرع اس گروہ کا قائد تھا ۔ 28 اسی طریقے سے بنی اسرا ئیل ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرتے تھے ۔ 29 موسیٰ نے رعوایل کے بیٹے حو باب مدیانی سے کہا ،( رعُو ایل موسیٰ کا سُسر تھا ۔) موسیٰ نے حو باب سے کہا ،" ہم لوگ اس ملک کا سفر کر رہے ہیں جسے خدا نے ہم لوگوں کو دینے کا وعدہ کا تھا ۔ اس لئے ہم لوگوں کے ساتھ آؤ۔ ہم لوگ تمہا رے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ۔ خداوندنے بنی اسرا ئیلیوں کو اچھی چیزیں دینے کا وعدہ کیا ہے ۔" 30 لیکن حو باب نے جواب دیا ، "نہیں ! میں تمہا رے ساتھ نہیں جا ؤں گا ۔ میں اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے پاس جا ؤں گا۔" 31 تب موسیٰ نے کہا،" ہمیں چھو ڑو مت ! تم جانتے ہو ہمیں بیابان میں کہاں خیمہ لگانا ہے ۔ تم ہما رے رہنما ہو سکتے ہو۔ 32 اگر تم ہم لوگوں کے ساتھ آتے ہو تو خداوند جو بھی اچھی چیزیں دے گا ۔ اس میں ہم تمہیں بھی حصّہ دیں گے ۔ 33 اس لئے وہ لوگ خداوند کے پہا ڑ سے تین تک سفر کئے ۔ اس تین دن کے سفر کے دوران خداوند کے معاہدہ کا مقدس صندوق چھا ؤنی لگا نے کے لئے نئی جگہ کی تلا ش میں ان لوگوں کے آگے لے جا یا جا رہا تھا ۔ 34 خداوند کا بادل ہر ایک دن اُن کے اوپر تھا ۔ جب کبھی وہ اپنی چھا ؤنی چھو ڑتے تھے تو اُنکو راستہ دکھا نے کے لئے بادل وہاں رہتا تھا ۔ 35 جب لوگ مقدس صندوق کے ساتھ سفر شروع کرتے تھے ۔ اور مقدس صندوق چھا ؤنی کے باہر لے جا یا جا تا تھا ۔ موسیٰ ہمیشہ کہتا تھا ، " اے خداوند اُٹھ ! تیرے دُشمن بکھر جا ئیں ۔ جو لوگ تیرے خلا ف ہوں تیرے سامنے سے بھاگ جا ئیں ۔" 36 اور کبھی بھی جب مقدس صندوق کو اپنی جگہ پر واپس رکھا جا تا تھا تب موسیٰ ہمیشہ یہ کہتے تھے ، " اے خداوند ! اسرائیل کے لا کھوں لوگوں میں واپس آ ۔"

Numbers 11

1 اس وقت لوگوں نے اپنی مصیبتوں کی شکا یت کی ۔ خداوند نے اُن کی شکایتیں سُنی اور غصّہ ہو گیا ۔ اس لئے اس نے چھا ؤنی کے دور افتادہ علاقے میں آ گ بھیجی اور وہ علاقہ جل گیا ۔ 2 اس لئے لوگوں نے موسیٰ کو مدد کے لئے پُکا را موسیٰ نے خداوند سے دُعا کی اور آ گ کا جلنا بند ہو گیا ۔ 3 اس لئے اس جگہ کو تبعیرہ کہا گیا۔ لوگوں نے اُس جگہ کو یہی نام دیا کیوں کہ خداوند نے اُن کے درمیان آ گ جلا دی تھی ۔ 4 اجنبی جو بنی اسرائیلیوں کے ساتھ مل گئے تھے دوسری چیزیں کھانے کی خوا ہش کرنے لگے ۔ جلد ہی بنی اسرا ئیلیوں نے پھر شکایت کرنی شروع کی ۔ لوگوں نے کہا ، " ہم گوشت کھانا چا ہتے ہیں ۔" 5 ہم لوگ مصر میں کھا ئی گئی مچھلیوں کو یاد کرتے ہیں اُن مچھلیوں کی کو ئی قیمت نہیں دینی پڑتی تھی ۔ ہم لوگوں کے پاس بہت سی ترکاریاں تھیں جیسے ککڑیاں، خربو زے ، گندنے ، پیاز اور لہسن ۔ 6 لیکن اب ہم اپنی طاقت کھو چکے ہیں۔ اُس منّ کے سوا ۔ ہم اور کچھ بھی نہیں کھا تے ۔" 7 ( منّ دھنیا کے بیج کے جیسا تھا اور درخت کے گوند جیسا تھا۔ 8 لوگ اُسے جمع کرتے تھے اور تب اسے پیس کر آٹا بنا تے تھے یا وہ اُ سے کچلنے کے لئے چٹان کا استعمال کرتے تھے تب وہ اسے برتن میں پکا تے تھے ۔ وہ اُس کے کیک بنا تے تھے ۔ کیک کا مزہ زیتون کے تیل سے پکی رو ٹی جیسا ہو تا تھا ۔ 9 ہر رات کو زمین جب شبنم سے گیلی ہو تی تھی تو منّ زمین پر گِرتا تھا ۔) 10 موسیٰ نے ہر ایک خاندان کے لوگوں کو اپنے خیموں کے دروازوں پر کھڑے شکا یت کر تے سُنا ۔ خداوند بہت غصّہ ہو ئے اس سے موسیٰ بہت پریشان ہو گئے ۔ 11 موسیٰ نے خداوند سے پو چھا ، "اے خداوند تیرے خادم مجھ پر یہ مصیبت کیوں آئی ؟ میں نے کیا کیا ہے ؟ میں نے کیا غلطی کی جو مجھے خوش کرنے میں نکا ہن ہو گیا ؟ تُو نے میرے اوپر ان سبھی لوگو ں کی جواب دہی کا بوجھ کیوں دیا ؟" 12 کیا میں ان سبھی لوگوں کا باپ ہوں ؟ کیا میں نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ تو نے مجھے انہیں اپنے بازو میں لے چلنے کو جیسا کہ دایہ اپنے بچے کو لیکر چلتی ہے اور اسے ملک میں لے جانے کو جسے تو نے ہما رے آباؤ اجداد کو دینے کا وعدہ کیا تھا کیوں کہا ؟ 13 ان تمام لوگوں کے لئے میں گوشت کہاں سے لا ؤں گا ؟ وہ لوگ شکایت کر تے ہیں کہ ' ہملوگوں کو گوشت چا ہئے !' 14 میں اکیلا ان سب لوگوں کی دیکھ بھا ل نہیں کر سکتا۔ بوجھ میری برداشت کے با ہر ہے ۔ 15 اگر تو ان لوگوں کی تکلیف کو مجھے دینا پسند کرتا ہے تو یہ بہتر ہو گا کہ تو مجھے مار ڈا ل ۔ اگر تو میرے اوپر مہربان ہے تو مجھے مار ڈال ۔ تب میری تکلیفیں ختم ہو جا ئیں گی۔" 16 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " میرے پاس اسرائیل کے ایسے ۷۰ بزرگوں کو لا ؤ جنکو تو جانتا ہے لوگوں کے قا ئد اور اہلکار ہو نے کے لئے خیمٴہ اجتماع میں آنے دو اور اپنے ساتھ کھڑا ہو نے دے ۔ 17 تب میں آؤں گا اور تم سے باتیں کروں گا اور میں تم سے کچھ روح کو لونگا اور اسے ان لوگوں کو دے دونگا ۔ تب وہ لوگوں کی دیکھ بھال کرنے میں تمہا ری مدد کریں گے ۔ اس طرح تم کو اکیلے اُنلوگوں کے لئے ذمہ دار نہیں ہو نا پڑیگا ۔ 18 " لوگوں سے کہو کل کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں ۔ کل تم لوگ گوشت کھا ؤ گے ۔ خداوند نے سُنا جب تم لوگ روئے اور شکا یت کی کہ کو ن ہم لوگوں کو گوشت دیگا ؟ ہم لوگوں کے لئے مصر اچھا تھا ۔ اب خداوند تم لوگوں کو گوشت دیگا اور تم لوگ اسے کھا ؤ گے ۔ 19 تم لوگ اسے صرف ایک دن نہیں ، دو ، پانچ ،دس یا بیس دن نہیں ؟ 20 تم لوگ وہ گوشت مہینے بھر کھا ؤ گے ۔ تملوگ وہ گوشت اس وقت تک کھا ؤ گے جب تک وہ تمہا رے نتھنوں سے نہ نکلنے لگے اور جب تک تم اس سے نفرت نہ کرنے لگو کیوں کہ تم لوگوں نے خداوند سے شکا یت کی ہے ۔ خداوند تم لوگوں میں گھومتا ہے اور تمہا ری ضرورتوں کو سمجھتا ہے ۔ لیکن تم لوگ اس کے سامنے روئے ، چلّا ئے اور شکا یت کی یہ کہتے ہو ئے کہ ہم لوگوں کو مصر چھوڑنے پر کیوں مجبور کیا گیا تھا ؟" 21 موسیٰ نے کہا ، " خداوند میرے ساتھ ۶۰۰۰۰۰ آدمی ہیں۔ اور تو کہتا ہے میں انہیں پو رے مہینے کھانے کے لئے گوشت دوں گا ۔ 22 اگر ہمیں سبھی مینڈھے اور مویشی مار نے پڑے تو بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو مہینے بھر کھانے کے لئے وہ کا فی نہیں ہو گی۔" 23 لیکن خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " خداوند کی طاقت کو کم نہ سمجھو تم دیکھو گے کہ اگر میں کہتا ہوں کہ میں کچھ کرو ں گا تو اس کو میں کر سکتا ہوں۔" 24 اس لئے موسیٰ لوگوں سے بات کرنے کے لئے باہر گئے ۔ موسیٰ نے انہیں وہ بتا یا جو خداوندنے کہا تھا ۔ تب موسیٰ نے ۷۰ بزرگ قائدین کو جمع کیا ۔ موسیٰ نے انہیں خیمہ کے چاروں طرف کھڑے رہنے کو کہا ۔ 25 تب خداوند ایک بادل میں اُترا اور اُس نے موسیٰ سے باتیں کی۔ اس نے کچھ روح موسیٰ سے لیا اور اس روح کو ۷۰ بزرگوں پر ڈال دیا ۔ جب اُن میں روح آئی تو وہ نبوت شروع کر دیئے لیکن بعد میں پھر وہ نبوت کبھی نہیں کی ۔ 26 بزرگوں میں سے دو اِلد اد اور میداد خیمہ میں نہیں گئے ۔ ان کے نام بزرگ قا ئدین کی فہرست میں تھے ۔ وہ خیمہ میں ہی رہے لیکن روُح اُن پر بھی آئی اور وہ بھی چھا ؤنی میں نبوّت کرنے لگے ۔ 27 ایک نوجوان دوڑا اور موسیٰ سے بولا اُس مرد نے کہا ، " اِلداد اور میداد خیمہ میں غیب کی باتیں کر رہے ہیں ۔" 28 لیکن نون کے بیٹے یشوع نے موسیٰ سے کہا ، " موسیٰ تمہیں ان کو روکنا چا ہئے۔"( یشوع موسیٰ کی مدد کر رہا تھا جیسا کہ وہ انکے چُنے ہو ئے جوانوں میں تھے ۔) 29 لیکن موسیٰ نے جواب دیا ، " کیا تمہیں ڈر ہے کہ لوگ سو چیں گے کہ اب میں قائد نہیں ہوں؟" میں چاہتا ہوں کہ خداوند کے سبھی لوگ غیب کی باتیں کرنے کے اہل ہو ں میں چا ہتا ہوں کہ خداوند اپنی رُوح ان تمام پر بھیجے ۔" 30 تب موسیٰ اور اسرائیل کے قا ئد چھا ؤنی میں واپس ہو گئے۔ 31 پھر خدا نے سمندر کی طرف سے زور کی آندھی چلا ئی ۔ آندھی نے اس علا قے میں بٹیروں کو پہنچا یا۔ بٹیریں چھا ؤنی کے چاروں طرف اُڑ رہے تھے۔ وہاں اتنی بٹیریں تھیں کہ زمین ڈھک گئی تھی۔ ہر سمت ایک دن کے مسافت کی دوری تک بٹیریں پھیل گئی تھیں۔ زمین پر بٹیروں کی تین فُٹ اونچی پرت جم گئی تھی ۔ 32 لوگ باہر نکلے اور سارا دن اور پو ی رات بٹیروں کو جمع کیا اور پھر پو رے اگلے دن بھی انہو ں نے بٹیریں جمع کیں۔ ہر ایک آدمی نے ۶۰ بوشل یا اس سے زیادہ بٹیریں جمع کیں۔ تب لوگوں نے بٹیروں کو اپنی چھاؤ نی کی طرف پھیلا یا ۔ 33 لوگوں نے گوشت کھانا شروع کیا ۔ لیکن خداوند نے بہت غصّہ کیا جب گوشت ابھی ان کے مُنہ میں ہی تھا اور لوگ اسے ابھی کھا کر ختم بھی نہ کئے تھے کہ اس کے پہلے ہی خداوند نے ایک بیما ری لوگوں میں پھیلا دی ۔ 34 اس لئے لوگوں نے اُس جگہ کا نام " قبروت ہتساوہ" ( شید نفسانی خواہشات کی قبر ) رکھا ۔ انہوں نے اس جگہ کو وہ نام اس لئے دیا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں انہوں نے اُن لوگوں کو دفنا یا تھا جو گوشت کھانے کی بے حد خواہش رکھتے تھے ۔ 35 قبروت ہتّا وہ سے لوگوں نے حصیرات کا سفر کئے اور وہاں ٹھہرے ۔

Numbers 12

1 میر یم اور ہا رون موسیٰ کے خلا ف بات کرنے لگے ۔ انہوں نے اس پر تنقید کی کیوں کہ اس نے ایتھو پین عورت سے شادی کی تھی ۔ 2 انہوں نے اپنے آپ میں کہا ، " کیا خداوند صرف موسی ٰ کے ذریعہ ہی لوگوں سے بات کرتا ہے ؟ کیا وہ ہم لوگوں کے ذریعے لوگوں سے بات نہیں کرتا ۔" خداوند نے یہ باتیں سُنی ۔ 3 ( موسیٰ بہت ہی خاکسار آدمی تھے وہ نہ ڈینگ ہانکتے تھے اور نہ ہی شیخی بگھار تے تھے ۔ وہ زمین کے تمام لوگوں سے زیادہ منکسر المزاج آدمی تھے ۔) 4 اس لئے خداوند اچا نک آیا اور موسیٰ ہارون اور میر یم سے بولا۔ خداوند نے کہا ، " اب تم تینوں خیمٴہ اجتماع میں آؤ۔" اس لئے موسیٰ ، ہا رون اور میر یم خیمہ میں گئے ۔ 5 تب خداوند بادل میں اُترا اور خداوند خیمہ کے دروازہ پر کھڑا ہوا ۔ خداوند نے ہا رون اور میر یم کو اپنے پاس آنے کا حکم دیا ۔ تب دو نوں اس کے قریب آئے ۔ 6 خدا نے کہا ، " میری بات سنو ۔ جب میں تم لوگوں میں نبی بھیجونگا تب میں خداوند اپنے آپ کو اس کو خواب میں دکھا ؤں گا ۔ اور میں اس سے خواب میں بات کروں گا ۔ 7 لیکن میں نے خادم موسیٰ کے ساتھ ایسا نہیں کیا ۔ وہ میرے پو رے گھر میں وفا دار ہے ۔ 8 جب میں اس سے بات کرتا ہوں تو میں اس کے رُو برو بات کرتا ہوں۔ میں جو بات کہنا چا ہتا ہوں اسے صاف صاف کہتا ہوں میں چھپے جواب وا لے خیالوں کو اس کے سامنے نہیں رکھتا ہوں۔ موسیٰ خداوند کی شکل کو دیکھ سکتا ہے ۔ اس لئے تم نے میرے خادم موسیٰ کے خِلا ف بولنے کی ہمّت کیسے کی ؟" 9 تب خداوند ان کے پاس سے گیا لیکن وہ ان سے بہت غصّہ میں تھا ۔ 10 بادل خیمہ سے اٹھا تب ہارون مُڑا اور اس نے میر یم کو دیکھا اور اس نے دیکھا کہ میریم کو چمڑے کی وبائی بیما ری ہو گئی اس کی جلد برف کی طرح سفید تھی ۔ 11 تب ہا رون نے موسیٰ سے کہا ،" براہ کرم جناب ہم سے جو بے وقوفی کا گنا ہ سرزد ہوا ہے اس کے لئے ہمیں معاف کریں۔ 12 اس کی جلد کا رنگ اس پیدا ہو تے ہو ئے بچے کی طرح جس کا چمڑا آدھا کھایا ہوا ہو تا ہے بدل نہ دے ۔" 13 اس لئے موسیٰ نے خداوند سے دُعا کی ۔ خدامہربانی کر کے اُس کو شفاء دے ۔ 14 خداوند نے موسیٰ کو جواب دیا اگر اس کا باپ اس کے مُنہ پر تھو کے تو وہ سات دن تک شرمندہ رہے گی اس لئے اس کو سات دن تک چھا ؤنی سے باہر رکھو پھر اس وقت کے بعد وہ ٹھیک ہو جا ئے گی ۔ تب وہ خیمہ میں وا پس آسکتی ہے ۔ 15 اس لئے میر یم سات دن کے لئے خیمہ سے باہر لے جا ئی گئی ۔ اور تب تک وہ وہاں سے نہیں چلے جب تک وہ پھر واپس نہ لا گئی۔ 16 اس کے بعد لوگوں نے حصیرات کو چھو ڑا اور فاران کے ریگستان کا انہوں نے سفر کیا لوگوں نے اس ریگستان میں خیمے لگا ئے۔

Numbers 13

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " کچھ آدمیوں کو ملک کنعان کی چھان بین کے لئے بھیجو ۔ یہی وہ ملک ہے جسے میں بنی اسرا ئیلیوں کو دوں گا ۔ ہر بارہ قبیلہ سے ایک قائد کو بھیجو۔" 3 اس لئے موسیٰ نے خدا وند کا حکم مانا ۔ اس نے فاران کے ریگستان سے قائدین کو بھیجا ۔ 4 اُن کے نام یہ ہیں: 5 حو ری کا بیٹا سافط شمعون کے خاندانی گروہ سے ۔ 6 یفُنہ کا بیٹا کا لِب یہوداہ کے خاندانی گروہ سے ۔ 7 یُوسف کا بیٹا اِجال ۔ اِشکا ر کے خاندانی گروہ سے ۔ 8 نون کا بیٹا ہو سیع افرا ئیم کے خاندانی گروہ سے ۔ 9 رفو کا بیٹا فلتی ۔ بنیمین کے خاندانی گروہ سے ۔ 10 سوُری کا بیٹا جدّی ایل ۔ زُ بولون کے خاندانی گروہ سے ۔ 11 سوُسی کا بیٹا جدّی ۔ یو سف کے خاندانی گروہ سے ، جو کہ منّسی کے خاندانی گروہ سے ۔ 12 جملی کا بیٹا عمّی ایل دان کے خاندانی گروہ سے ۔ 13 میکا ئیل کا بیٹا ستُور آشِر کے خاندانی گروہ سے ۔ 14 وفسی کا بیٹا نخبی نفتالی کے خاندانی گروہ سے ۔ 15 ما کی کا بیٹا جیو ایل جاد کے خاندانی گروہ سے۔ 16 یہ ان آدمیوں کے نام ہیں جنہیں موسیٰ نے ملک کو دیکھنے اور جانچ کرنے کے لئے بھیجا ۔ موسیٰ نے نون کے بیٹے یشوع کا نا م ہو سیعاہ رکھا ۔ 17 موسیٰ جب انہیں کنعان کی چھان بین کے لئے بھیج رہے تھے ۔ تب انہوں نے کہا ،" نیگیو کی وادی سے ہو کر پہا ڑی ملک میں جا ؤ ۔ 18 یہ دیکھو کہ ملک کیسا دکھا ئی دیتا ہے ۔ اور اُن لوگوں کی تفصیلات حاصل کرو جو وہا ں رہتے ہیں۔ وہ طاقتور ہیں یا کمزور ہیں ؟" وہ تھو ڑے ہیں یا زیادہ تعداد میں ہیں؟" 19 اُس ملک کے بارے میں دریافت کرو جس میں وہ رہتے ہیں کیا وہ اچھا ملک ہے یا بُرا ، کس طرح کے شہروں میں وہ رہتے ہیں ؟ کیا وہ شہر فصیلدار ہیں ؟ یا وہ غیر محفوظ گا ؤں میں رہتے ہیں۔ 20 اور ملک کے دوسری باتوں کے متعلق بھی معلومات حاصل کرو ۔ کیا زمین کسی چیز کے اُگانے کے لئے ٹھیک ہے ، کیا اُس زمین پر درخت ہیں ؟ بلکہ اس ملک سے کچھ پھل بھی لے آؤ۔" ابھی یہ انگور کی فصل کے پہلے کٹا ئی کا موسم ہے ۔ 21 تب انہوں نے ملک کی چھان بین کی ۔ وہ صین ریگستان سے رحوب تک گئے جو کہ حمات کے داخلے کے نزدیک ہے ۔ 22 وہ نیگیو سے ہو کر اس وقت تک سفر کرتے رہے جب تک وہ حبرون شہر تک نہ پہو نچے ۔ حبرون مصر میں ضعن شہر کے بسنے کے سات سال پہلے بنا تھا ۔ اخیمان ، سیِسی اور تلمی جماعت کے لوگ وہاں رہتے تھے ۔ یے لو گ عناق کی نسل کے تھے ۔ 23 تب وہ اسکال کی وادی میں گئے۔ وہاں انہوں نے انگور کے باغ سے ایک شاخ تو ڑ لی ۔ اُس شاخ پر انگور کا گچھا تھا ۔ ان میں سے دو آدمی انگور کے گچّھے کو لا ٹھی کے بیچ لٹکا کر لے گئے ۔ اس کے ساتھ کچھ انار اور انجیر بھی لا ئے۔ 24 اُس جگہ کا نام اسکال کی وادی تھا ۔ کیوں کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں بنی اسرائیلیوں نے انگور کے کچھ گچّھے کا ٹے تھے ۔ 25 اُن آدمیوں نے اس ملک کی چھان بین چالیس دن تک کی تب وہ خیمہ کو واپس آئے ۔ 26 وہ لوگ موسیٰ ہا رون اور دوسرے بنی اسرائیلیوں کے پا س قادِس گئے یہ فارا ن کے ریگستان میں تھا ۔ تب انہوں نے موسیٰ ، ہا رون اور سبھی لوگوں کو جو کچھ وہ دیکھا تھا سب کچھ سُنایا ۔ اور انہوں نے اس ملک کے پھلوں کو دکھایا ۔ 27 اُن لوگوں نے موسیٰ سے یہ کہا ، " ہم لوگ اس ملک میں گئے جہاں آپ نے ہمیں بھیجا تھا ،" وہ ملک بے حد اچھا ہے یہاں دودھ اور شہد کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور یہ اس ملک کا پھل ہے ۔ 28 لیکن وہاں جو لوگ رہتے ہیں وہ بہت طا قتور اور مضبوط ہیں ۔ ان کے شہر مضبوطی کے ساتھ محفوظ ہیں ۔ اور ہم لوگ وہاں عناق کی کچھ نسلوں کے ساتھ بھی ملے ۔ 29 عما لیقی لوگ نیگیو کی وادی میں رہتے ہیں حتی ، یبوسی اور اموری لوگ اس پہاڑ ی ملک میں رہتے ہیں۔ اور کنعانی لوگ سمندر کے کنا رے اور دریا ئے یردن کے کنا رے رہتے ہیں ۔" 30 تب کالب نے موسیٰ کے قریبی لوگوں خاموش ہو نے کو کہا ۔ کا لب نے کہا ، " ہم لوگوں کو اس ملک میں جانا چا ہئے ۔ اور اسے اپنے قبضہ میں لینا چا ہئے اور ہم لوگ اسے آسانی سے فتح کر سکتے ہیں ۔" 31 لیکن جو آدمی اس کے ساتھ گیا تھا وہ بولا ، " ہم لوگ ان لوگوں کے خلاف لڑ نہیں سکتے وہ ہم لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ طاقتور ہیں ۔" 32 انلوگوں نے اسرا ئیلیوں کو اس ملک کے بارے میں جسے وہ دیکھنے گئے تھے بُری خبر دی ۔ ان لوگوں نے کہا ، " وہ ملک جہاں ہم لوگ گئے اور چھان بین کئے ایک ایسا ملک ہے جو اپنے باشندوں کو برباد کر دیتا ہے ۔ اس ملک کے لوگ قد و قامت میں بڑے بڑے ہیں۔ 33 ہم لوگوں نے عناق کی نسلوں کو دیکھا جو کہ نفیلیم سے تھے ۔ ان لوگوں کے آگے ہملوگوں نے اپنے آپ کو ٹڈا محسوس کئے۔ انکی نگاہ میں ہم لوگ بہت کمتر تھے ۔"

Numbers 14

1 اُس رات خیمہ میں سب لوگوں نے زور سے رونا شروع کیا ۔ 2 سبھی بنی اسرائیلیوں نے ہا رون اور موسیٰ کے خلا ف پھر شکا یت کی ۔سبھی لوگ ایک ساتھ آئے اور موسیٰ اور ہا رون سے انہوں نے کہا ، " ہم لوگوں کو مصر یا ریگستان میں مرجانا چا ہئے اپنے نئے ملک میں تلوار سے مرنے کی یہ آرزو سے بہت اچھا ہو تا ۔ 3 کیا خداوند ہم لوگوں کو اس نئے ملک میں مرنے کے لئے لا یا ہے ؟ ہما ری بیویاں اور ہمارے بچے ہم سے چھین لئے جا ئیں گے ۔ اور ہم تلوار سے مار ڈالے جا ئیں گے۔ یہ ہم لوگوں کے لئے اچھا ہو گا کہ ہم لوگ مصر کو واپس جا ئیں ۔ 4 " تب لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا ، " ہم لوگوں کو دوسرا قا ئد منتخب کرنا چا ہئے اور مصر واپس جانا چا ہئے ۔" 5 تب موسیٰ اور ہا رون وہاں جمع سارے بنی اسرا ئیلیوں کے سامنے جھک گئے ۔ 6 اس ملک کی چھان بین کرنے وا لے لوگوں میں سے دو آدمی اپنے کپڑے پھا ڑ دیئے ۔ کیونکہ وہ لو گ بہت غصّہ میں تھے ۔ وہ دونوں نون کا بیٹا یشوع اور یُفنّہ کا بیٹا کا لب تھے ۔ 7 ان دو نوں نے وہاں جمع سبھی بنی اسرائیلیوں سے کہا ، " جس ملک کو ہم لوگوں نے دیکھا ہے وہ بہت اچھا ہے ۔ 8 اور اگر خدا ہم لوگوں سے خوش ہے تو وہ ہم لوگوں کو اس ملک میں لے چلے گا ۔ وہ ملک کئی اچھی چیزوں سے بھرا ہے ۔ اور خداوند اس ملک کو ہم لوگوں کو دینے کے لئے اپنی طا قت کا استعمال کریگا ۔ 9 لیکن تم کو خداوند کے خلا ف نہیں جانا چا ہئے ۔ تم کو اس ملک کے لوگوں سے ڈرنا نہیں چا ہئے ۔ تم انہیں آسانی سے شکست دے دو گے۔ ان کے پاس کو ئی حفاظت نہیں ہے ۔ انہیں محفوظ رکھنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے ۔" لیکن ہم لوگوں کے ساتھ خداوند ہے۔ اس لئے اُن لوگوں سے مت ڈرو ۔" 10 تب سبھی بنی اسرا ئیل اُن دونوں آدمیوں کو پتھروں سے مار ڈالنے کی بات سوچی۔ لیکن خداوند کا جلال خیمٴہ اجتماع میں ظا ہر ہوا اور سبھی بنی اسرا ئیل اسے دیکھ سکتے تھے ۔ 11 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " یہ لوگ اس طرح مجھ سے کب تک نفرت کرتے رہیں گے ؟ وہ ظا ہر کرتے ہیں کہ وہ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ وہ ظا ہر کرتے ہیں کہ انہیں میری قدرت پر بھروسہ نہیں ۔میں نے کئی طا قتور نشانیاں دکھا یا ۔ میں نے انکے درمیان کئی عظیم کارنا مہ کیا اس کے با وجود بھی وہ مجھ پر بھروسہ کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ 12 میں ان لوگوں پر ایک بھیانک بیماری لا ؤں گا اور انہیں تباہ کردو ں گا ۔ تب تم سے ایک قوم بنا ؤنگا وہ ان لوگوں سے زیادہ بڑی اور طا قتور ہو گی ۔" 13 تب موسیٰ نے خداوند سے کہا ، " اگر تو ایسا کرتا ہے تو مصر میں لو گ یہ سنیں گے کہ تُو نے اپنے سبھی لوگوں کو مصر سے باہر لانے کے لئے ایسا کیا ۔ 14 اور مصر کے لوگوں نے اس کے بارے میں کنعان کے لوگوں کو بتایا ہے ۔ وہ پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ تو خداوند ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ تو اپنے لوگوں کے ساتھ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ تو ہم لوگوں کے بیچ آنکھوں کے سامنے ظا ہر ہوا تھا ۔ اس ملک میں رہنے وا لے لو گ اس بادل کے بارے میں جانتے ہیں جو لوگوں کے اوپر ٹھہرتا ہے ۔ تُو نے اس بادل کا استعمال دن میں اپنے لوگوں کو راستہ دکھانے کے لئے کیا اور رات کو وہ بادل لوگوں کو راستہ دکھانے کے لئے آ گ بن جا تا ہے ۔ 15 اس لئے تجھے اب لوگوں کو مارنا نہیں چا ہئے ۔ اگر تو انہیں مارتا ہے تو سب قومیں جو تیری قدرت کے بارے میں سُن چکے ہیں کہیں گے ، 16 ' خداوند کو ان لوگوں کو اس ملک میں لے جانا ممکن نہیں تھا جس ملک کو اس نے انہیں دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ اس لئے خداوند نے انہیں ریگستان میں مار دیا ۔' 17 " اس لئے آقا ، اب تجھے اپنی طاقت دکھانی چاہئے ! تجھے اسے اسی طرح دکھانا چا ہئے جیسا دِکھا نے کے لئے تُو نے کہا ہے ۔ 18 تو نے کہا تھا خداوند آہستہ سے غصّہ میں آتا ہے ۔ خداوند محبت سے بھر پور ہے ۔ خداوند گناہ کو معاف کرتا ہے اور ان لوگوں کو بھی معاف کرتا ہے جو اُس کے خلاف بغاوت کرتے ہیں ۔ لیکن خداوند اُن لوگوں کو ضرور سزادے گا جو قصووار ہیں۔خداوند نے بچوں کو ان کے پوتوں کو ان کے پڑ پوتوں کو بھی گناہ کے لئے سزا دیتا ہے ۔ 19 اسلئے ا ن لوگوں کو اپنی عظیم محبت دکھا ۔ اُن کے گناہ کو معاف کر اُن کو اسی طرح معاف کر جس طرح تو ان کو مصر چھو ڑ نے کے وقت سے اب تک معاف کرتا رہا ہے ۔" 20 خداوند نے جوابدیا ، " میں نے لوگوں کو تمہا رے کہنے کے مطا بق معاف کردیا ہے ۔ 21 لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کیوں کہ میں ابدالآ باد ہوں۔ اور میری طاقت اس ساری زمین پر پھیلی ہو ئی ہے ۔ میں تم سے وعدہ کرو ں گا ۔ 22 اُن لوگوں میں سے کو ئی بھی آدمی جسے میں مصر سے باہر لا یا اس ملک کنعان کو نہیں دیکھے گا ۔ اُن لوگوں نے مصر میں میرے فضل اور میری بڑی نشانیوں کو دیکھا ہے ۔ اور اُن لوگوں نے ان عظیم کاموں کو دیکھا جو میں نے ریگستان میں کیا۔ لیکن انہوں نے میری مرضی کے خلا ف کیا اور د س بار میری آزمائش کی ۔ 23 میں نے انکے آباؤاجداد سے وعدہ کیا تھا ۔ میں نے انتظار کیا تھا کہ میں ان کو عظیم ملک دوں گا ۔ لیکن ان میں سے کسی بھی شخص کو جو میرے خلا ف ہو چکا ہے اس کو اس ملک میں داخل ہو نے نہیں دوں گا ۔ 24 لیکن میرا خادم کالب ان سے مختلف ہے وہ پو ری طرح میرا کہا ما نتا ہے اس لئے میں اسے اس ملک میں لے جا ؤں گا ۔ جسے اس نے پہلے دیکھا ہے اور اس کے لوگ یہ ملک حا صل کریں گے ۔ 25 عما لیقی اور کنعانی لو گ وادی میں رہ رہے ہیں اس لئے تمہا رے جانے کی کو ئی جگہ نہیں ہے ۔ کل اُس جگہ کو چھو ڑو اور ریگستان کی طرف بحراحمر سے ہو کر واپس ہو جا ؤ ۔" 26 خداوند نے موسیٰ اور ہار ون سے کہا ، 27 " یہ لوگ کب تک میرے خلاف شکا یت کرتے رہیں گے؟ میں ان لوگوں کی شکا یت اور تکلیف کو سُن چکا ہوں۔ 28 اس لئے اُن سے کہو ، " خداوند کہتا ہے کہ وہ یقیناً ان کاموں کو کر ے گا۔ 29 تم لوگوں کو اسکا سامنا کرنا ہو گا تم لوگوں کی لا شیں اس ریگستا ن میں پڑی رہینگی۔ بیس سال سے اوپر کا ہرایک آدمی جسے گِنا گیا تھا اور تم میں سے ہر وہ آدمی جو خداوند کے خلاف شکا یت کی ریگستان میں مریگا ۔۔ 30 تم لوگوں میں سے کو ئی بھی کبھی اُس ملک میں داخل نہیں ہوگا جسے میں نے تم کو دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ صرف یفنہ کا بیٹا کالب اور نون کا بیٹا یشوع اُس ملک میں دا خل ہوں گے ۔ 31 تم لوگ ڈر گئے تھے اور تم لوگوں نے شکایت کی کہ اس نئے ملک میں تمہا رے دُشمن تمہا رے بچوں کو چھین لیں گے ۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ میں اُن بچوں کو اس ملک میں لے جا ؤں گا ۔ وہ اُن چیزوں کو پو را کریں گے جس کو تم نے پورا کرنے سے انکار کیا تھا ۔ 32 جہاں تک تم لوگوں کی بات ہے تمہا رے جسم اس ریگستان میں گِر جا ئیں گے ۔ 33 " تمہا رے بچے یہاں ریگستان میں ۴۰ سال تک چرواہے کے طور پر زندگی گذاریں گے ۔ وہ تمہا رے نا فرمانی کا نتیجہ جھیلیں گے ۔ وہ اس ریگستان میں اُس وقت تک رہیں گے جب تک تم سب یہاں مر نہیں جا ؤگے اور تم سب کی لا شیں اُس ریگستان میں دفن نہ ہو جا ئیں گے۔ 34 تم لوگ اپنے گناہ کے لئے ۴۰ سال تک تکلیف اُٹھا ؤ گے۔( تم لوگوں نے اس ملک کی چھان بین میں جو چالیس دن لگا ئے اس کے ہردن کے لئے ایک سال ہو گا ) تم لوگ جانو گے کہ میرا تم لوگوں کے خِلاف ہو نا کتنا بھیانک ہے ۔ 35 " میں خداوند ہوں اور میں نے یہ کہا ہے میں وعدہ کرتا ہو ں کہ میں اُن سبھی بُرے لوگوں کے لئے یہ کرو ں گا ۔ یہ لوگ میرے خلاف ایک ساتھ آئے اس لئے وہ سبھی یہاں ریگستان میں مریں گے ۔" 36 جن لوگوں کو موسیٰ نے نئی ملک کی چھان بین کے لئے بھیجا وہ وہی تھے جو واپس آئے اور اسرا ئیلیوں کے درمیان بُری خبر پھیلا ئی اور ان لوگوں کی شکا یت کرنے کا سبب بنا ۔ 37 وہی لوگ بنی اسرائیلیوں میں پریشانی پھیلا نے کے ذمہ دار تھے ۔ اس لئے خداوند نے ایک بیما ری پیدا کرکے اُن سب کو مرجانے دیا ۔ 38 لیکن نون کا بیٹا یشوع اور یفنّہ کا بیٹا کالب اُن لوگوں میں سے تھے جنہیں اس ملک کی چھان بین کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا صرف وہی لوگ رہیں گے ۔ 39 موسیٰ نے یہ سبھی باتیں بنی اسرائیلیوں سے کہیں ۔ لوگ بہت زیادہ دُکھی ہو ئے ۔ 40 اگلے دن بہت سویرے لوگوں نے اونچے پہا ڑی ملک کی طرف بڑھنا شروع کیا ۔ لوگو ں نے کہا ، " ہم لوگوں نے گناہ کیا ہے ہم لوگوں کو دُکھ ہے کہ ہم لوگوں نے خداوند پر بھروسہ نہیں کیا ۔ ہم لوگ اب اس جگہ پر جا ئیں گے جسے خداوند نے ہم لوگوں کو دینے کا وعدہ کیا ہے ۔" 41 لیکن موسیٰ نے کہا ،"تم لوگ خداوند کے حکم کی تعمیل کیوں نہیں کر رہے ہو؟ تم لوگ کامیاب نہیں ہو سکو گے ۔ 42 اُس ملک میں داخل نہ ہو ۔ خداوند تم لوگوں کے ساتھ نہیں ہے ۔ تم لوگ آسانی سے اپنے دُشمنوں سے شکست کھا جا ؤ گے ۔ 43 عمالیقی اور کنعانی لو گ وہاں تمہا رے خلا ف لڑیں گے ۔ تم لوگ خداوند سے پلٹ گئے ہو اس لئے وہ تم لوگوں کے ساتھ نہیں ہو گا جب تم لوگ ان سے لڑو گے اور تم سبھی ان کی تلواروں سے ما رے جا ؤ گے ۔" 44 لیکن لوگوں نے موسیٰ پر بھروسہ نہیں کیا وہ لوگ اونچے پہا ڑی ملک کی طرف چلے گئے ۔ لیکن موسیٰ اور خداوند کا معاہدہ کا صندوق لوگوں کے ساتھ نہیں گیا ۔ 45 تب عما لیقی اور کنعانی لوگ جو پہا ڑی ملک میں رہتے تھے ۔ آئے اور انہوں نے بنی اسرائیلیوں پر حملہ کر دیا ۔ عمالیقی اور کنعانی لوگوں نے اُن کو آسانی سے شکست دی اور حُرمہ تک ان کا پیچھا کیا ۔

Numbers 15

1 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 2 " بنی اسرائیلیوں سے باتیں کرو اور ان سے کہو ، ' کب تم لوگ اس ملک میں داخل ہو گے جسے میں تم لوگوں کو رہنے کے لئے دے رہا ہوں ، 3 جب تم اس ملک میں پہو نچو گے ۔ تب تم خداوند کو تحفے پیش کرو گے ۔ اس سے نکلنے والی بوُ خداوند کو خوش کرنے وا لی خوشبو ہے ۔ تم اپنے بھیڑوں اور جانوروں کے جھنڈوں کا استعمال جلانے کا نذرانہ، قربانیوں ، خاص وعدوں اور رضاء کا نذرانہ اور تقریب کا نذرانہ کے لئے کرو گے ۔ 4 " اور اُس وقت جو اپنی نذر لا ئے گا ۔ اسے خداوند کو اناج کا نذرانہ بھی دینا ہو گا ۔ یہ اناج کا نذرانہ ایک کوارٹ ( ایک لیٹر ) زیتون کے تیل میں ملے ہو ئے آٹھ پیالے عمدہ آٹا ہو گا ۔ 5 ہر ایک بار جب تم ایک میمنہ جلا نے کا نذرانہ یا قربانی کے طور پر دو تو تمہیں ایک کوارٹ مئے کا نذرانہ کے طور پر تیار کرنی چاہئے ۔ 6 " اگر تم ایک مینڈھا دے رہے ہو تو تمہیں اناج کی قربانی بھی دینی ہو گی ۔ یہ اناج کی قربانی ایک چوتھا ئی لیٹر زیتون کے تیل میں ملی ہو ئی ۱۶ پیالے عمدہ آٹا ہو گا ۔ 7 اور تمہیں ایک چوتھا ئی لیٹر مئے پینے کا نذرانہ کے طور پر تیار کرنی چا ہئے ۔ اِسے خداوند کو پیش کیا جا ئے گا ۔ یہ خداوند کے لئے خوشگوار خوشبو ہے ۔ 8 " جب تم ایک بچھڑا جلانے کا نذرانہ یا قربانی کے طور پر منّت یا رضاء کا نذرانہ کو پو را کرنے کے لئے خداوند کو پیش کرو ۔ 9 تو تمہیں بچھڑے کے ساتھ اناج کی قربانی بھی لا نی چا ہئے ۔ اناج کی قربانی دو لیٹر زیتون کے تیل میں ملی ہو ئی 10 پیالے اچھے آٹے کی ہو نی چا ہئے ۔۱۰ دو لیٹر مئے پینے کا نذرانہ کے طور پر پیش کرو ۔ یہ نذرانہ تحفہ ہے اور خداوندکے لئے ایک خوشگوار خوشبو ہے ۔ 11 ہر ایک بیل یا میمنہ یا بھیڑ یا بکری کے لئے تمہیں ایسا ہی کرنا چا ہئے ۔ 12 جو جانور تم نذر کرو اُن میں سے ہر ایک کے لئے کرو ۔ 13 " اس لئے لوگ جب اپنا تحفہ پیش کرینگے تو یہ خداوند کے لئے خوشگوار خوشبو ہو گی ۔ اسرا ئیل کے ہر ایک شہری کو ویسا ہی کرنا چا ہئے جس طرح میں نے بتا یا ہے ۔ 14 اور مستقبل کے سبھی دنوں میں اگر کو ئی آدمی جو اسرائیل کے خاندان میں پیدا نہ ہو ۔ اور تمہا رے درمیان رہ رہا ہو تو اسے بھی اُن سب چیزوں کی تعمیل کرنی چا ہئے انلوگوں کو ویسا ہی کرنا ہو گا جیسا میں نے تم کو بتا یا ہے ۔ 15 اسرائیل کے خاندان میں پیدا ہو ئے لوگوں کے لئے جو اصول ہو ں گے وہی اصول اُن نئے لوگوں کے لئے بھی ہو ں گے جو تمہا رے درمیا ن رہتے ہیں ۔ یہ اُصول اب سے مستقبل میں لا گو رہیگا ۔ تم اور تمہا رے درمیان رہنے وا لے خداوند کے سامنے معزز ہو ں گے ۔ 16 اُس کا یہ مطلب کہ تمہیں ایک ہی قانون اور اصول کی تعمیل کرنی چا ہئے وہ قانون اور اصول اسرائیل کے خاندان میں پیدا ہو ئے لوگوں کے لئے اور تمہا رے بیچ رہ رہے غیر ملکیوں کے لئے ہے ۔" 17 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 18 " بنی اسرائیلیو ں سے یہ کہو جب تم اس ملک میں پہو نچو جس ملک میں میں تمہیں لے جا رہا ہوں تو 19 جب تم اس ملک کا کھا نا کھا ؤ تو کھانے کا ایک حصّہ خداوند کو نذر کرو ۔ 20 جب تم اناج جمع کرو اور اسے پیس کر آٹا بنا ؤ اور روٹی بنا نے کیلئے آٹا کو گوندھو تو اس گوندھے ہو ئے آٹے سے پہلے خداوند کو اناج کے نذرانہ کے طور پر دو گے ۔ یہ ایسا نذرانہ جو کہ کھلیان سے آتا ہے ۔ 21 یہ اصول ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اناج کو تم آٹے کی شکل میں لا تے ہو اس کی پہلی روٹی خداوند کو پیش کی جا نی چا ہئے ۔ 22 " ہو سکتا ہے کہ تم خداوند کی طرف سے موسیٰ کو دیئے گئے حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے غلطی کر جاؤ۔ 23 خداوند یہ سارے احکام موسیٰ کے ذریعے دیا ۔ یہ احکام پہلے دن ہی سے شروع ہو گئے تھے جب انہیں دیا گیاتھا۔ اور یہ مستقبل میں ساری نسل میں لا گو رہیگا ۔ 24 اس لئے اگر تم کو ئی غلطی کرتے ہو اور احکام کی تعمیل کرنا بھو ل جا تے ہو تو تم کیا کرو گے ؟ اگر یہ جماعت کی جانکاری کے بغیر ہو تا ہے تو سارے اسرائیلیوں کو ایک ساتھ جمع ہو کر ایک بچھڑا جلانے کی قربانی کے طور پر پیش کرنا چا ہئے یہ خداوند کے لئے خوشگوار خوشبو ہے ۔ بیل کے ساتھ اناج کی قربانی اور مئے کا نذرانہ ہدایت کے مطابق دینا چا ہئے ۔ اور تمہیں ایک بکرا بھی گناہ کے نذرانہ کے طور پر دینا چا ہئے ۔ 25 " اسلئے کا ہن لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے کیلئے ایسا کریگا ۔ وہ سبھی بنی اسرائیلیوں کے لئے ایسا کریگا ۔ لوگوں نے یہ نہیں سمجھا تھا کہ وہ گناہ کر رہے ہیں لیکن جب انہیں یہ معلوم ہوا تو خداوند کے پاس نذر لا ئے وہ ایک نذر اپنے گناہ کے لئے اور ایک جلانے کی قربانی کیلئے جسے آ گ میں جلا ئی جانی تھی اس طرح لوگ معاف کئے جا ئیں گے ۔ 26 اسرائیل کے سبھی لوگ اور اُن کے درمیان رہنے وا لے سبھی دوسرے لوگ معاف کردیئے جا ئیں گے ۔ وہ اس لئے معاف کئے جا ئیں گے کیوں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ بُرا کر رہے ہیں ۔ 27 " لیکن اگر ایک شخص غلطی کرتا ہے تو اسے ایک سال کی بکری کی قربانی گناہ کے نذرانے کے طور پر پیش کرنا چا ہئے ۔ 28 کاہن اسے اس آدمی کے گناہوں کے لئے خداوند کو پیش کریگا اور اُس آدمی کو معاف کر دیا جا ئے گا ۔ کیوں کہ کاہن نے اس کے لئے کفاّرہ ادا کیا ہے ۔ 29 یہ اُصول ہر اُس آدمی کیلئے ہے جو گناہ کرتا ہے لیکن جانتا نہیں کہ بُرا کیا ہے ۔یہی اُصول اسرائیل کے خاندان میں پیدا ہو ئے لوگوں کے لئے ہے اور دوسرے لوگوں کیلئے بھی جو تمہا رے درمیان رہتے ہیں۔ 30 " لیکن اگر کو ئی شخص جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے تو وہ خداوند کو رسوا کرتا ہے ۔ اس طرح کے شخص اپنے لوگوں سے الگ تھلگ کر دیا جا ئے گا ۔ یہ اسرائیل کے خاندان میں پیدا ہو ئے آدمی اور اسرائیل کے درمیان رہ رہے غیر ملکی کیلئے بھی لا گو ہوگا ۔ 31 اس طرح کا شخص خداوند کے احکام کو حقیر سمجھا ۔ اُس نے خداوند کے حکم کی تعمیل نہیں کی ہے ۔ اس طرح کے شخص کو تمہا رے گروہ سے الگ کر دیا جا ئے گا ۔ اور اسے اس کے جُرم کا ذمہ دار ٹھہرا دیا جا ئے گا ۔" 32 اُس وقت بنی اسرائیل ابھی تک ریگستان میں ہی رہتے تھے ۔ ایسا ہوا کہ ان لوگوں کو ایک آدمی سبت کے دن لکڑی جمع کرتے ہو ئے ملا ۔ 33 جن لوگوں نے اسے لکڑی جمع کرتے دیکھا وہ اسے موسیٰ اور ہا رون کے پاس لا ئے اور سبھی لوگ چا روں طرف جمع ہو گئے ۔ 34 انہوں نے اس آدمی کو وہاں رکھا کیوں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ اسے کیسے سزا دے ۔ 35 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، " اس آدمی کو مرنا چا ہئے ۔ سبھی لوگ خیمہ کے باہر اسے پتھر سے ماریں گے ۔" 36 اس لئے لوگ اسے چھا ؤنی سے باہر لے گئے اور اس کو پتھروں سے مار ڈا لا انہوں نے یہ ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا 37 خداوند نے موسیٰ سے کہا ۔ 38 " بنی اسرا ئیلیوں سے باتیں کرو اور اُن سے یہ کہو : دھاگے کے کئی ٹکڑوں کو ایک ساتھ باندھ کر انہیں اپنے لباس کے کو نے پر باندھو ۔ ایک نیلے رنگ کا دھا گا ہر ایک ایسی گچھو ں میں ڈالو تم انہیں اب سے ہمیشہ کیلئے پہنو گے ۔ 39 تم لوگ اُن گچھوں کو دیکھتے رہو گے اور خداوند کے تمام احکام کو یاد رکھو گے ۔ اور انکی تعمیل کرو گے ۔ اور تم اپنے جسم اور انکھو ں کی خواہشوں کی سبب زناکاری کی گناہو ں کی وجہ سے گمراہ نہیں ہو گے ۔ 40 تم ہمارے سبھی احکامات کو یاد رکھو گے اور اس پر عمل کرو گے۔ اور تم اپنے خدا کے لئے مقدس رہو گے ۔ 41 میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔ وہ میں ہوں جو تمہیں مصر سے باہر لا یا ۔ تا کہ میں تمہا را خدا ٹھہروں ۔ میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔

Numbers 16

1 قورح ، داتن ، ابیرام اور اون موسیٰ کے خلا ف ہو گئے ۔ قورح اِضہار کا بیٹا ، اِضہا ر قہات کا بیٹا تھا اور قہات لاوی کا بیٹا تھا ۔ اِہلیاب کے بیٹے داتن ، اور ابیرام بھا ئی تھے۔ اور اون پلت کا بیٹا تھا داتن، ابیرام او ر اون رُوبن کی نسل سے تھے ۔ 2 اُن چار آدمیوں نے اسرا ئیل کے ۲۵۰ آدمیوں کو ایک ساتھ جمع کیا اور یہ موسیٰ کے خلا ف آئے یہ ۲۵۰ بنی اسرا ئیلیوں میں معزز قائد تھے ۔ وہ لوگوں کی طرف سے چُنے گئے تھے ۔ 3 وہ ایک گروہ کی حیثیت سے موسیٰ اور ہارون کے خلا ف بات کرنے آئے اُن آدمیوں نے موسیٰ اور ہا رون سے کہا ،" ہم اُس سے متفق نہیں جو تم نے کیا ہے ۔ اسرائیلی گروہ کے تمام لوگ پاک ہیں ۔ خداوند اُن کے ساتھ ہے تم اپنے کو تمام لوگوں سے اونچی جگہ پر کیوں رکھ رہے ہو ؟ 4 جب موسیٰ نے یہ بات سُنی تو وہ زمین پر گر گئے۔ 5 تب موسیٰ نے قورح اور اس کے ساتھیوں سے کہا ، " کل صبح خداوند دکھائے گا کہ کون آدمی حقیقت میں اُس کا ہے خداوند دکھا ئے گا کہ کون آدمی حقیقت میں پاک ہے اور خداوند اسے اپنے قریب لے جا ئے گا ۔ خداوند اس آدمی کو چُنے گا اور خداوند اس آدمی کو اپنے قریب لے گا ۔ 6 اس لئے قورح تمہیں اور تمہا رے تمام ساتھیوں کو یہ کرنا چا ہئے کہ تم آتش دان لو ، 7 اس آتش دان کو کو ئلے کے آ گ سے بھرو اور پھر اس میں کل خداوند کے سامنے بخور رکھو ۔ اس آدمی کو جسے خداوندچنے گا وہی مقدس ہو گا ۔ اے لا وی کے بیٹو ! تم میں سے بس وہ کا فی ہے ۔" 8 موسیٰ نے قورح سے یہ بھی کہا ، "لاوی نسل کے لوگو میری بات سُنو ! 9 کیا یہ کا فی نہیں ہے کہ اسرا ئیل کے خدا نے تم لوگوں کو الگ اور خاص بنا یا ہے ۔ تم لوگ باقی بنی اسرائیلی سے مختلف ہو ۔ خداوند نے تمہیں اپنے قریب کیا تا کہ تم خداوند کی عبادت میں بنی اسرائیلیوں کی مدد کیلئے خداوند کے مقدس خیمہ میں خاص کام کر سکو کیا یہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے ؟ 10 خداوند نے تمہیں اور دوسرے تمام لا وی نسل کے لوگوں کو اپنے قریب لا یا ہے لیکن اب تم کا ہن بھی بننا چاہتے ہو ۔ 11 تم اور تمہا رے ساتھی ایک ساتھ ہو کر خداوند کے خلا ف میں آئے ہو ۔ کیا ہا رون نے کچھ بُرا کیا ہے ؟ نہیں تو پھر اُس کے خلاف شکایت کرنے کیوں آئے ہو ؟ "۔ 12 تب موسیٰ نے اِلیاب کے بیٹے داتن اور ابیرام کو بُلا یا لیکن دونو ں آدمیوں نے کہا ، " ہم لوگ نہیں آئیں گے ! 13 تم ہمیں اُس ملک سے باہر نکال لا ئے ہو جو اچھی چیزوں سے بھر پور تھا اور جہاں دودھ او ر شہد کی ندیاں بہتی تھیں ۔ تم ہم لوگوں کو یہاں ریگستان میں مارنے کے لئے لا ئے ہو اور اب تم دِکھانا چاہتے ہو کہ تم ہم لوگوں پر زیادہ حق بھی رکھتے ہو ۔ 14 ہم لوگ تمہا رے کہنے کو کیوں مانیں؟ تم ہم لوگوں کو اس نئے ملک میں نہیں لا ئے جہاں ہر اچھی چیزیں موجود ہو ۔ تم نے وہ زمین نہیں دی جس کا خداوند نے وعدہ کیا تھا ۔ تم نے ہم لوگوں کو کھیت یا انگور کے باغ نہیں دیئے ہیں ۔ کیا تم لوگوں کو دھوکہ دینا جا ری رکھو گے ؟ نہیں ہم لوگ تمہا رے ساتھ نہیں آئیں گے ۔" 15 اس لئے موسیٰ بہت غصّے میں آئے اس نے خداوند سے کہا ، " اُن کی نذر ہی قبول نہ کر میں نے ا ُن سے کچھ نہیں لیا ہے ۔ ایک گدھا تک نہیں اور میں نے اُن میں سے کسی کا بُرا نہیں کیا ہے ۔" 16 تب موسیٰ نے قورح سے کہا ، " تمہیں کل خدا کے سامنے کھڑا ہو نا چا ہئے ۔ ہا رون بھی تمہا رے ساتھ کھڑا ہو گا ۔ 17 تم میں سے ہر ایک کو ایک برتن لا نا چا ہئے اور اُس میں بخو ر رکھنا چا ہئے۔ یہ ۲۵۰ آتش دان قائدین کے لئے ہوں گے اور ایک برتن اپنے لئے اور ایک ہا رون کے لئے ۔ ان سارے برتن کو خداوند کے سامنے لے جا ؤ ۔ تمہیں اور ہا رون کو فردا ً فرداً اپنے برتن خداوند کے سامنے لے جانا چا ہئے ۔" 18 اس لئے ہر ایک آدمی نے ایک ایک برتن لیا اور اس میں جلتے ہو ئے بخور رکھے تب وہ خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر کھڑے ہو ئے ۔ موسیٰ اور ہا رون بھی وہاں کھڑے ہو ئے ۔ 19 قورح نے اپنے تمام ساتھیوں کو ایک ساتھ جمع کیا ۔ یہ وہ آدمی ہیں جو موسیٰ اور ہا رون کے خلا ف ہو گئے تھے ۔ قورح نے ان تمام کو خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر جمع کیا تب خداوند کا جلا ل وہاں پوری جماعت پر ظا ہر ہوا ۔ 20 خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا ، 21 " ان لوگوں سے دُور ہٹو ۔ میں اب انہیں پل بھر میں تباہ کرنا چا ہتا ہوں۔" 22 لیکن موسیٰ اور ہا رون زمین پر گِر پڑے اور چلّا ئے ، " اے خداوند ، سارے لوگوں کی روحوں کا خدا مہربانی کر کے اُس پو رے گروہ پر غصّہ نہ کر ۔ حقیقت میں ایک ہی آدمی نے گناہ کیا ہے ۔" 23 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 24 " لوگوں سے کہو وہ قورح ، داتن اور ابیرام کے خیموں سے دور ہٹ جا ئیں۔" 25 موسیٰ کھڑے ہو ئے اور داتن اور ابیرام کے پاس گئے ۔ اسرائیل کے تمام بزرگ اس کے پیچھے چلے ۔ 26 موسیٰ نے لوگوں کو خبردار کیا اُن بُرے آدمیوں کے خیموں سے دور ہٹ جا ؤ اُن کی کسی چیز کو نہ چھو نا اور اگر تم لوگ چھو ؤ گے تو اِن کے گنا ہوں کی وجہ سے تباہ ہو جا ؤگے ۔ 27 اس لئے لوگ قورح ، داتن اور ابیرام کے خیموں سے دور ہٹ گئے ۔ داتن اور ابیرام اپنے خیمے کے با ہر اپنی بیوی بچے اور چھو ٹے بچوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔ 28 تب موسیٰ نے کہا ،" میں تمہیں ثبوت دوں گا کہ خداوند نے مجھے یہ تمام چیزیں کرنے کے لئے بھیجا میں تم کو کہہ چکا ہوں میں یہ بتا ؤں گا کہ وہ تمام چیزیں میرے خیال کی نہیں ہیں۔ 29 یہ آدمی یہاں مر جا ئیں گے لیکن اگر یہ عام طریقے سے مرتے ہیں جیسا کہ عام آدمی مرتے ہیں تو یہ ظا ہر ہو گا کہ خداوند نے حقیقت میں مجھے نہیں بھیجا ۔ 30 لیکن اگر خداوند ایک نئی چیز تخلیق کرے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ یہ آدمی حقیقت میں خداوند کے خلا ف گناہ کیا ہے ۔ یہی ثبوت ہے زمین پھٹ جا ئے گی اور ان آدمیوں کو نگل لے گی ۔ وہ اپنی قبروں میں زندہ ہی جا ئیں گے اور ان کی ہر ایک چیز اُن کے ساتھ نیچے چلی جا ئے گی ۔" 31 جب موسیٰ نے اپنی باتیں کہنا ختم کیا ، کہ ان لوگوں کے پیروں کے نیچے زمین کھلی ۔ 32 یہ ایسا تھا جیسے زمین نے اپنا منہ کھو لا اور انہیں کھا گئی اور ان کے سارے خاندان ، قورح کے تمام آدمی اور ان کی سبھی چیزیں زمین میں چلی گئیں۔ 33 وہ زندے ہی قبر میں چلے گئے ان کی ہر ایک چیز ان کے ساتھ زمین میں سما گئی ۔ تب زمین اُن کے اوپر سے بند ہو گئی ۔ وہ تباہ ہو گئے اور اپنی جماعت سے غا ئب ہو گئے ۔ 34 بنی اسرا ئیلیوں نے تباہ شدہ لوگوں کا رو نا چِلّا نا سُنا اس لئے وہ چا روں طرف دو ڑ پڑے اور کہنے لگے ، "زمین ہم لوگوں کو بھی نگل جا ئے گی ۔" 35 تب خداوند سے آ گ آئی اور اس نے ۲۵۰ آدمیوں کو جو بخور نذر کر رہے تھے تباہ کر دیا ۔ 36 خداوند نے موسیٰ سے کہا ، 37 "ہا رون کے بیٹے کا ہن الیعزر سے کہو وہ آ گ میں سے بخور کے برتن کو لے لے خیمہ سے دور کے علا قے میں اُن کوئلوں کو پھیلا ئے ۔ بخور کے برتن اب بھی پاک ہیں ۔ یہ وہ برتن ہیں جو اُن آدمیوں کے ہیں جنہوں نے میرے خلا ف گنا ہ کیا تھا ۔ ان کے گناہ کی قیمت ان کی زندگی ہو ئی ۔ برتنوں کو پیٹ کر پتروں میں بدلو۔ ان دھا توں کے پتروں کا استعمال قربا ن گا ہ کو ڈھکنے کے لئے کرو ۔ وہ پاک تھے کیوں کہ انہیں خداوند کے سامنے پیش کیا گیا تھا ۔ اُن چپٹے برتنوں کو سبھی بنی اسرائیلیوں کے لئے عبرت بننے دو۔" 38 39 تب کا ہن الیعزر نے کانسے کے ان تمام برتنوں کو جمع کیا جنہیں وہ لوگ لا ئے تھے ۔ وہ سبھی آدمی جل گئے تھے لیکن برتن وہاں بچے ہو ئے تھے ۔ تب الیعزر نے کچھ آدمیوں کو برتنوں کو پیٹ کر چپٹا کرنے کے لئے کہا ۔ تب اس نے پیٹے ہو ئے دھا ت کی اس چپٹی چادر کو قربانگا ہ پر رکھا ۔ 40 اس نے اسے ویسے ہی کیا جیسا خداوندنے موسیٰ کے ذریعہ حکم دیا تھا ۔ یہ نشانی تھی جس سے بنی اسرا ئیل یاد رکھ سکیں کہ صرف ہا رون کے خاندان کے آدمی کو خداوند کے سامنے بخور نذر کرنے کا حق ہے ۔ اگر کو ئی دوسرے آدمی خداوند کے سامنے خوشبو جلا تا ہے تو وہ آدمی قورح اور اس کے ساتھیوں کی طرح ہو جا ئے گا ۔ 41 اگلے دن بنی اسرا ئیلیوں نے موسیٰ اور ہا رون کے خلا ف شکا یت کی ۔ انہوں نے کہا ، " تم نے خداوند کے لوگوں کو ما را ہے ۔" 42 موسیٰ اور ہا رون خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر کھڑے تھے ۔ لوگ اس جگہ پر موسیٰ اور ہا رون کی شکایت کرنے کے لئے جمع ہو ئے ۔ لیکن جب انہوں نے خیمٴہ اجتماع کو دیکھا تو بادل نے اسے ڈھک لیا اور وہاں خداوند کا جلا ل ظا ہر ہوا ۔ 43 تب موسیٰ اور ہا رون خیمٴہ اجتماع کے سامنے گئے ۔ 44 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ۔ 45 " ان لوگوں سے دور ہٹ جا ؤ تا کہ میں ابھی انہیں تباہ کر سکوں۔" موسیٰ اور ہا رون منہ کے بل زمین پر گرپڑے ۔ 46 تب موسیٰ نے ہا رون سے کہا ، " بخور دان لے اور قربان گاہ سے کو ئلے کی آ گ لیکر اس میں ڈال ۔ پھر اس میں بخور ڈا لو اور لوگوں کے گروہ کے پاس جلدی جا ؤ۔ اور ان لوگوں کے لئے کفارہ ادا کرو۔ کیونکہ خداوند ان پر غصّہ میں ہے۔ بیما ری شروع ہو چکی ہے ۔" 47 اس لئے ہا رون نے موسیٰ کے کہنے کے مطا بق کام کیا ۔ خوشبو اور آ گ کو لینے کے بعد وہ لوگوں کے بیچ دوڑ کر پہونچا لیکن لوگوں میں بیما ری پہلے ہی شروع ہو چکی تھی ۔ ہا رون نے لوگوں کے کفارہ ک